Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 11/03/24 in all areas

  1. ماہ رمضان میں فورم پالیسی جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے۔کہ ہر سال ماہ رمضان میں ہم اپنے فورم کے تمام سیکس سیکشن کو مکمل طور پر آف کر دیا کرتے ہیں۔تاکہ ماہ رمضان مکمل عقیدت اور احترام سے گزارا جا سکے۔ الہذا یکم رمضان سے چاند رات تک تمام سیکس سیکشن ہر خاص و عام کے لیئے بند رہیں گے۔ رمضان میں سیکس سے متعلق کسی بھی ٹاپک یا پوسٹ کو شیئرنہ کیا جائے ۔ اسے اپروول نہ کیا جائے گا۔اور ممبر کو وارننگ بھی دی جائے گی۔ ایڈمنسٹریٹر۔۔۔اردو فن کلب
  2. دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں عنبرین حسیب عنبر دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو ،تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو ،تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو، تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو ،تم بھی ناں خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتی ہوں میں آئینے میں تم ہوتے ہو ،تم بھی ناں بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو اشکوں میں بھی تم بہتے ہو، تم بھی ناں میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتے ہو مجھ کو اتنا جان چکے ہو ،تم بھی ناں مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو، تم بھی ناں
  3. بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں ساحر لدھیانوی بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں بھول سکتا ہے بھلا کون یہ پیاری آنکھیں رنگ میں ڈوبی ہوئی نیند سے بھاری آنکھیں مری ہر سوچ نے ہر سانس نے چاہا ہے تمہیں جب سے دیکھا ہے تمہیں تب سے سراہا ہے تمہیں بس گئی ہیں مری آنکھوں میں تمہاری آنکھیں تم جو نظروں کو اٹھاؤ تو ستارے جھک جائیں تم جو پلکوں کو جھکاؤ تو زمانے رک جائیں کیوں نہ بن جائیں ان آنکھوں کی پجاری آنکھیں جاگتی راتوں کو سپنوں کا خزانہ مل جائے تم جو مل جاؤ تو جینے کا بہانہ مل جائے اپنی قسمت پہ کریں ناز ہماری آنکھیں
  4. کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے ساحر لدھیانوی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ تو نہیں ترا غم تیری جستجو بھی نہیں گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں زمانے بھر کے دکھوں کو لگا چکا ہوں گلے گزر رہا ہوں کچھ انجانی رہ گزاروں سے مہیب سائے مری سمت بڑھتے آتے ہیں حیات و موت کے پر ہول خارزاروں سے نہ کوئی جادۂ منزل نہ روشنی کا سراغ بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری انہی خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھو کر میں جانتا ہوں مری ہم نفس مگر یوں ہی کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
  5. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم حبیب جالب یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
  6. ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں فرخ جعفری ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں فرخؔ کہیں نہ سن کے کرے وہ بھی ان سنی کہتے ہیں اس سے اس لئے درد نہاں نہیں
  7. ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں فرخ جعفری ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے پر کیا کریں کہ پاۓ سخن درمیاں نہیں اچھا تو ایک پل کے لئے ہی اٹھا کے دیکھ اے آسماں جو بار امانت گراں نہیں خود ہم میں تاب دید نہیں ہے یہ اور بات رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں فرخؔ کہیں نہ سن کے کرے وہ بھی ان سنی کہتے ہیں اس سے اس لئے درد نہاں نہیں
  8. ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں ساغر صدیقی ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں میرے نغمات کو انداز نوا یاد نہیں میں نے پلکوں سے در یار پہ دستک دی ہے میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں میں نے جن کے لیے راہوں میں بچھایا تھا لہو ہم سے کہتے ہیں وہی عہد وفا یاد نہیں کیسے بھر آئیں سر شام کسی کی آنکھیں کیسے تھرائی چراغوں کی ضیا یاد نہیں صرف دھندلائے ستاروں کی چمک دیکھی ہے کب ہوا کون ہوا کس سے خفا یاد نہیں زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
  9. سُنا ہے زہرا نگاہ سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سُنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچّے چھوڑ کر کوّے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سُنا ہے گھونسلے سے کوئی بچّہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سُنا ہےکسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں کوئی طوفان آ جائے، کوئی پُل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری ، سانپ ، چیتا اور بکری ساتھ ہوتے ہیں سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خداوندا، جلیل و معتبر دانا و بینا، منصف و اکبر میرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی دستور نافذ کر سُنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
  10. نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقیں کامل نہیں ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پر بڑا ،اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شاید "میرا دل ہے نشانے پر" لبوں سے کچھ نہیں کہتا ,نگاہ سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں"مجھ سے محبت ہے" پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
  11. مر تو جانا ہی ہے ایک دن تم مل جاؤ تو تھوڑا جی لیں گے...
  12. انشا جي اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جي کو لگانا کيا وحشي کو سکوں سےکيا مطلب، جوگي کا نگر ميں ٹھکانا کيا اس وقت کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہي سوچو تو سہي جس جھولي ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولي کا پھيلانا کيا شب بيتي، چاند بھي ڈوب چلا، زنجير پڑي دروازے پہ کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجني سے کرو گے بہانا کيا پھر ہجر کي لمبي رات مياں، سنجوگ کي تو يہي ايک گھڑي جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا اس حسن کے سچے موتي کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بَن ميں نہ جا بسرام کرے ديوانوں کي سي نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا
  13. ابن انشا کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا کچھ نے کہا يہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تيرا ہم بھي وہيں موجود تھے ہم سے بھي سب پوچھا کيے ہم ہنس دئيے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تيرا اس شہر ميں کس سے مليں، ہم سے چھوٹيں محفليں ہر شخص تيرا نام لے، ہر شخص ديوانہ تيرا دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکر ٹک گئے الطاف کي بارش تيري، اکرام کا دريا تيرا ہم پر يہ سختي کي نظر ہم ہيں فقير رہگزر رستہ کبھي روکا تيرا دامن کبھي تھاما تيرا ہاں ہاں تري صورت حسين ليکن تو ايسا بھي نہيں اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کيا کيا تيرا بے درد سنني ہوتو چل کہتا ہے کيا اچھي غزل عاشق تيرا، رسوا تيرا، شاعر تيرا، انشا تيرا
  14. پروین شاکر کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
  15. پروین شاکر وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
  16. پروین شاکر کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے تجھ پہ گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
  17. چلو چھوڑو محسن نقوی چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش! غبار‌ ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ چلو چھوڑو کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا مجھے احساس ہی کب تھا کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی چلو چھوڑو وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں چلو چھوڑو سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے چلو چھوڑو مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو مرے خوابوں کو مرنے دو نئی تصویر دیکھو پھر نیا مکتوب لکھو پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو مرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو مری یادوں سے کچے رابطے توڑو چلو چھوڑو محبت جھوٹ ہے عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
  18. تھک جاؤ گی محسن نقوی پاگل آنکھوں والی لڑکی اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی کانچ سے نازک خواب تمہارے ٹوٹ گئے تو پچھتاؤ گی سوچ کا سارا اجلا کندن ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم کھل جائے گا تم کیا جانو خواب سفر کی دھوپ کے تیشے خواب ادھوری رات کا دوزخ خواب خیالوں کا پچھتاوا خوابوں کی منزل رسوائی خوابوں کا حاصل تنہائی تم کیا جانو مہنگے خواب خریدنا ہوں تو آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یا رشتے بھولنا پڑتے ہیں اندیشوں کی ریت نہ پھانکو پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو تھک جاؤ گی
  19. مجھے اب ڈر نہیں لگتا محسن نقوی کسی کے دور جانے سے تعلق ٹوٹ جانے سے کسی کے مان جانے سے کسی کے روٹھ جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو آزمانے سے کسی کے آزمانے سے کسی کو یاد رکھنے سے کسی کو بھول جانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کو چھوڑ دینے سے کسی کے چھوڑ جانے سے نا شمع کو جلانے سے نا شمع کو بجھانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا اکیلے مسکرانے سے کبھی آنسو بہانے سے نا اس سارے زمانے سے حقیقت سے فسانے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا کسی کی نارسائی سے کسی کی پارسائی سے کسی کی بے وفائی سے کسی دکھ انتہائی سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا نا تو اس پار رہنے سے نا تو اس پار رہنے سے نا اپنی زندگانی سے نا اک دن موت آنے سے مجھے اب ڈر نہیں لگتا
  20. ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا محسن نقوی ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا وہ جدا ہوتے ہوئے کچھ پھول باسی دے گیا نوچ کر شاخوں کے تن سے خشک پتوں کا لباس زرد موسم بانجھ رت کو بے لباسی دے گیا صبح کے تارے مری پہلی دعا تیرے لیے تو دل بے صبر کو تسکیں ذرا سی دے گیا لوگ ملبوں میں دبے سائے بھی دفنانے لگے زلزلہ اہل زمیں کو بد حواسی دے گیا تند جھونکے کی رگوں میں گھول کر اپنا دھواں اک دیا اندھی ہوا کو خود شناسی دے گیا لے گیا محسنؔ وہ مجھ سے ابر بنتا آسماں اس کے بدلے میں زمیں صدیوں کی پیاسی دے گیا
  21. یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی محسن نقوی یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
  22. چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن امجد اسلام امجد چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
  23. تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ احمد فراز تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دم بہ دم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو کرۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
  24. جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے احمد فراز جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے کیا کیا پھول کانٹوں میں پروئے ہوں گے وہ سفینے جنہیں طوفاں نہ ملے ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے کیا عجب ہے وہ ملے بھی ہوں فرازؔ ہم کسی دھیان میں کھوئے ہوں گے
  25. مت پوچھ کیا گزرتی ہی دل پر، جب جدا یار ہوتے ہیں۔ آنسو تیر ںن کر ، جگر سے پار ہوتے ہیں
  26. ہزار رونقیں چاہے چار جانِب ہوں تیری کمی نے تو رہنا ہے قائم و دائم
  27. کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے
  28. زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔
  29. مانا کہ تیری چوت کے لائق نہیں ہوں میں تو میرا لنڈ دیکھ میرا اعتماد دیکھ
  30. زبردست جناب۔۔کیا بات ہے۔ واقعی میں نے بھی نظم اپنی نوجوانی کے اوائل میں سنی تھی۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.