Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content since 04/05/26 in all areas

  1. پاکستان میں دو لوگ بڑے اطمینان سے ہیں‘ غریب اور امیر……یہ جو درمیان والے ”مڈل کلاسیئے“ ہیں صحیح بیڑا ان کا غرق ہوتاہے‘ یہ رکھ رکھاؤسے لگ بھگ امیر لگتے ہیں لیکن حالت یہ ہوتی ہے کہ گھر میں آئے روز اس وجہ سے لڑائیاں ہوتی ہے کہ گھی اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیاہمارے ہاں قابل رحم اور قابل نفرت بھی دو ہی طبقات ہیں‘ امیر اور غریب۔ ۔امیر قابل نفرت ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ ہے اور غریب قابل رحم ہے کیونکہ اس کے پاس پیسہ نہیں۔پاکستان کا بجٹ بھی انہی دو طبقات کو مدنظر رکھ کر بنایا جاتاہے‘ گورنمنٹ بھی انہی دو طبقات پر نظر رکھتی ہے۔درمیان میں جو سینڈوچ بنتا ہے وہ بیچارا مڈل کلاس ہے۔امیر لوگ اسے غریب سمجھتے ہیں اور غریب لوگ امیر۔یہ مڈل کلاسیاکون ہوتاہے؟ یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بظاہر امیروں والی ہر چیز ہوتی ہے لیکن سیکنڈ ہینڈ۔ اس کے پاس نسبتاً بہترگھر ہوتاہے لیکن کرائے کا۔ گاڑی ہوتی ہے لیکن بیس سال پرانی۔گھر میں اے سی ہوتاہے لیکن عموماً چلتا ائیر کولر ہی ہے۔کپڑے صاف ہوتے ہیں لیکن چلتے کئی کئی سال ہیں۔ گھرمیں یو پی ایس ہوتاہے لیکن اس کی بیٹری عموماً آدھا گھنٹہ ہی نکالتی ہے۔اس کے پاس اچھا موبائل بھی ہوتاہے لیکن استعمال شدہ۔اس کے گھر میں ہر ہفتے پتلے شوربے والی مُرغی بنتی ہے۔یہ اپنے بچوں کو پارک میں سیرو تفریح کے لیے لے کر جائے تو عموماً گھر سے اچھی طرح کھانا کھا کر نکلتاہے۔ اس کے پاس اے ٹی ایم کارڈ تو ہوتاہے لیکن کبھی پانچ سو سے زیادہ نکلوانے کی نہ ضرورت پڑتی ہے نہ ہمت۔یہ دن رات کوئی ایسا بزنس کرنے کے منصوبے بناتا ہے جس میں کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے۔اِس کی گاڑی صرف سردیوں میں بڑے کمال کی کولنگ کرتی ہے۔یہ جب بھی اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ جاتا ہے چھ افراد کی ساری فیملی دو برگرزمیں ہی بھگت جاتی ہے۔یہ اگرظاہرکرے کہ میرے پاس بہت پیسہ ہے تو رشتے دار ادھار مانگنے آجاتے ہیں‘ نہ بتائے تو کوئی منہ نہیں لگاتا۔ یہ اپنی اوقات سے صرف 20فیصد اونچی زندگی گذارنے کی کوشش میں پستا رہتا ہے۔ اصل میں یہ غریبوں سے بھی بدتر زندگی گذار رہا ہوتا ہے۔ اس کی ساری زندگی کمیٹیاں ڈالنے اور بھگتانے میں گذر جاتی ہے۔ پاکستان میں امیروں اور غریبوں سے کہیں زیادہ تعدادمڈل کلاسیوں کی ہے لیکن یہ کسی کھاتے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں ہر وہ بندہ مزے میں ہے جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہے یا بالکل نہیں ہے۔جس کے پاس پیسہ ہے وہ اے سی میں سوجاتاہے۔ جس کے پاس نہیں وہ کسی فٹ پاتھ پر نیند پوری کرلیتاہے۔ پیسے والا کسی سے کچھ نہیں مانگتا اور غریب ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر کھڑا ہوجاتاہے۔رگڑا اُس کو لگتاہے جس کے پاس پیسہ تو ہے لیکن صرف گذارے لائق۔غریبوں کی اکثریت کو یہ مڈل کلاسیے ہی پال رہے ہیں۔کبھی کبھی تو مجھے لگتاہے کہ سب سے زیادہ خوف خ +دا بھی اِس مڈل کلاس میں ہی پایا جاتاہے۔ یہی کلاس سب سے زیادہ خیرات کرتی ہے۔ بعض اوقات تو ان کی اپنی زندگی غریب سے بھی بدتر گذر رہی ہوتی ہے لیکن انا کے مارے یہ بیچارے کسی کو بتاتے نہیں۔آپ نے کبھی لوئر ایلیٹ کلاس یا اپر ایلیٹ کلاس کی ٹرم نہیں سنی ہوگی۔لوئر غریب یا اپر غریب بھی نہیں ہوتا صرف لوئر مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے الفاظ سننے کو ملتے ہیں۔لوئر اور اپر میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا‘ لوئر والے کے پاس موٹر سائیکل ہوتی ہے اور اپر والے کے پاس پرانے ماڈل کی کار۔نیندیں دونوں کی اڑی رہتی ہیں۔یہ عیدالاضحی پر قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود کسی اونٹ یا گائے میں حصہ ڈال لیتے ہیں۔ان کی ساری زندگی گھر کی فالتو لائٹس آف کرنے اور بل کم کرنے کے منصوبے بناتے گذر جاتی ہے۔یہ موبائل میں سو روپے والا کارڈ بھی پوری احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اور گھر والوں کو آگاہ کیا ہوتاہے کہ ایک مسڈ کال دوں تو اس کا مطلب ہے میں آرہا ہوں۔ دو مسڈ کال دوں تو مطلب ہے میں ذرا لیٹ ہوں۔یہ ایک دن کے استری کیے ہوئے کپڑے دو دن چلاتے ہیں۔یہ ہر دو گھنٹے بعد شک دور کرنے کے لیے بجلی کے میٹرکی ریڈنگ چیک کرتے رہتے ہیں۔یہ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوپاتے کہ ایک ہی مہینے میں بجلی، گیس اور پانی کے سارے بل اکٹھے ادا کرسکیں لہذا بجلی کا بل ادا کردیں تو گیس کا بل اگلے مہینے پر ڈال دیتے ہیں۔ ۔ان کی اکثریت چونکہ پڑھی لکھی بھی ہوتی ہے لہذا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتی۔ان کے پاس بیٹیوں کی شادی کرنے کے پیسے نہیں ہوتے‘اولاد کے لیے اچھی نوکری کی سفارش نہیں ہوتی اس کے باوجود یہ کسی کو دکھ میں دیکھتے ہیں تو خود بھی آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی گھر کام کرنے والی غریب ماسی چونکہ دیگرمختلف گھروں میں کام کرتی ہے اس لیے رمضان میں ہر گھر سے راشن کے نام پر لگ بھگ پچاس کلو آٹے سمیت چار پانچ ماہ کا راشن اکٹھا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن مڈل کلاسئے پریشان رہتے ہیں کہ اپنے گھر کے لیے جو پندرہ دن کا راشن لائے تھے وہ ختم ہونے کے قریب ہے اور تنخواہ ملنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ زکوٰۃ غریبوں کو جاتی ہے بھیک کے پیسے بھی کوئی غریب ہی لیتا ہے۔ فطرانہ بھی غریب کا نصیب بنتا ہے۔لیکن غریب یہ سب لے کر بھی کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا کیونکہ اس نے طے کر لیا ہے کہ چونکہ وہ غریب ہے لہذا اس پر کسی قسم کی کوئی محنت فرض نہیں اور باقی سب کو چاہیے کہ وہ اسے مل جل کر پالیں۔ بھکاری وہ واحد طبقہ ہے جو کبھی کسی کو بھیک نہیں دیتا۔آپ کسی بھکاری کو ذرا کسی کام پر لگانے کی آفر کریں آگے سے جو سننے کو ملے گا وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ لیکن مڈل کلاسیا کیا کرے؟ یہ نہ زکوٰۃ مانگتا ہے‘ نہ فطرہ نہ بھیک۔یہ صرف کڑھتا ہے، سسکتا ہے اورمرتا ہے۔
  2. آنگن کی چڑیاں۔ خزاں کے زرد پتون کو،جھونکے ہوا نے درختون سے ہی اتار دیا۔۔ تھی نشیمن کی روشنیان جنکو، زمانے کے تھپیڑون مین لہرا دیا۔ گھر کا سارا آنگن کیکر کے پتوں سے نہا گیا، تیزی سے دائیں بائیں ٹہلتے وجود کے قدموں میں تهوڑی لرزش آئی، دل بھی انہی زرد پتوں کی مانند کانپے جا رہا تھا۔ ارےےےمبارک ہو اس بار بیٹا ہوا ہے۔ کمرے کا دروازہ کھول کر اماں باہر نکلی، اس کی آواز میں محسوس کی جانے والی اُمڈتی خوشی تهی، حیات عالم کا وجود بے یقین آنکهیں لیے کهڑا تها۔ رنگین خوشنما چڑیوں کا ایک غول اڑا تها آسمان پر۔ سات بیٹیوں کے پیدا ہونے کے بعد بیٹا، برسوں سے صحرا میں بھٹکتے اس مسافر کو پانی کی بوندیں نصیب ہو ہی گئیں، باپ بننے کا احساس منفرد ہوتا ہے اور سات بیٹیوں کے بعد نرینہ اولاد کا ان کے آنگن میں اترنا گویا چاند ان کے گهر میں اتر آیا ہو۔ اکلوتے بیٹے کی محبت سات بیٹیوں کی محبت کو مات دے گئی دونوں ترازو میں محبت رکهی گئی۔تو بیٹے کی محبت بهاری نکلی ۔ سویرے سویرے اپنے چاند کو کاندهے پر لاد کر وہ کهیتوں میں کام کے لیے نکل جاتے ساتوں لڑکیاں دروازے کی اوٹ میں کهڑی ہو کر رشک بهری نگاہوں سے اپنے باپ کو دیکهتیں۔۔ "ہم بھی ابا کے ساتھ کهیتوں میں جائیں گی " ساتوں ہی باری باری اپنے دل کی بات اماں دادی کے سامنے اگل چکی تهیں ۔ جسے سن کرخوب قہقہہ بلند ہوا اور پھر بلند ہوتا گیا ساتوں شام کی اداسی کو آنکهوں میں لیے فلک شگاف قہقہے چارون طرف سن رہی تهیں ۔ ارےےے اب کڑیاں کهیتوں میں جائیں گی۔اور وہان اپنے ابا کا ہاتھ بٹائیں گی " دادی نے آٹا گوندتی اماں کو مخاطب کیا ان کا بھی جواباً قہقہہ ہی سننے کو ملا ۔ ارےے بیٹا کڑیوں کا کام ہوتا ہے چولہا چونکا کڑی اور منڈے کبهی برابر نہیں ہو سکتے ۔ دادی نے اب سنجیدگی کا روپ دهار لیا کیوں برابر نہیں ہو سکتے یہ بات تو ساتوں کو کبھی سمجھ مین نہیں آئی ۔ انہین ابا نے محبت نہ دی نہ دینی تهی ساتوں سارا دن آم کے درخت سے جهولا باندھ کر جھولتی رہتیں انہوں نے کئی بار دیکها دادی پهل اور مٹھائیاں بانٹتے وقت نا انصافی کرتی ہیں بهائی کا حصہ ساتوں پر حاوی ہوتا تها ایک دن ایک نے پوچھ ہی لیا دادی ہمین ہی ہر بار چیز کم کیون ملتی ہے اور بھائی کو زیادہ کیون۔؟؟ " کیونکہ وہ منڈا ہے " دادی نے وہی رٹا رٹایا جواب دیا اور ابا بھی کچھ نہ بولے ہر جگہ کڑی اور منڈے کا فرق وہ عید کا دن بهلانے والا تو ہرگز نہیں تها جب ابا اپنے لاڈلے کے لیے تین تین سوٹ بنوا کر لایا تھا اور ساتوں پهٹے پرانے کپڑوں میں نم آنکهیں لیےسبھی بچوں سے اپنی نگاہیں چرا رہی تهیں وقت پهسلتا گیا زندگی کے دن کم ہوتے گئے لیکن کڑی اور منڈے کا فرق کبهی ختم نہیں ہوا ساتوں سکول کی دیواریں کو دیکهتی رہ گئیں ۔مگرابا اور دادی نے اپنے لاڈلے کو خوب پڑهایا بار۔۔۔۔بار کی۔۔۔۔منتون ۔۔۔ترلون۔۔۔پر ۔۔۔کہا " کڑیاں بس گهر کے کام کرتی ہیں ۔۔صرف منڈے ہی پڑهتے ہیں "۔۔ابا نے سختی سے ایک دن کہ دیا ارےےے ہم کیوں نہیں پڑھ سکتیں سب سے چهوٹی والی نے منہ بسور کر کہا جواب ابا کی بجائے دادی سے سننے کو ملا تها " کڑیاں بطخوں کی طرح ہوتی ہیں نہ کبهی اڑ سکتی ہیں اور نہ کبهی اڑان بهر سکتی ہیں اور میرا منڈا تو عقاب ہے دیکهنا ایک دن لمبی اڑان بهرے گا "۔۔ پورے گهر میں زور دار قہقہہ ساتوں لڑکیوں کے روح کو گهائل کر گیا دادی نے انہیں بطخوں کے نام سے نواز دیا جو پورے گهر میں ہی مشہور ہو گیا اب تو پورے گهر میں سب کو " بطخوں کی ٹولی " کے نام سے یاد کیا جاتا راتیں رونے لگی تهیں آسمان سسک رہا تھا بس نہیں پھسلے تو انسانوں کے دل پھر ابا کو ایک بار پیسوں کی ضرورت پڑی ساتوں نے جمع شدے پرانے سکے ابا کے سامنے جا کر رکھ دیے " کڑیاں دهوکہ دے جاتی ہیں ہمیں تم لوگوں سے پیسہ نہیں لینا " بہت کوشش کی دعائیں کیں مگر ابا کے دل پہ لگا تالا نہ کهل سکا ساتوں مل کر ابا کے جوتے پالش کرتیں ان کی پگڑی رگڑ رگڑ کر خوب چمکاتیں ان کے وضو کا لوٹا ہمیشہ تیار رکهتیں بدلے میں ابا نے کبهی انہیں ایک نظر ہمدردی سے بھی نہ دیکھا ہمیشہ کہتے تھے بیٹیاں پرایا دهن ہوتی ہیں ہمارے کس کام کی اب تو عرصہ ہو گیا اب تو عادت ہو گئی پیار بهری نگاہیں ان سے اتنی ہی دور تهیں جتنا کہ چاند دور تها آنگن میں فرش پر لیٹی وہ سبھی آسمان پر چاند کو دیکھ رہی تهیں چاند انہیں دیکھ رہا تھا انہیں چاند پر رشک آیا چاند کو ان پر ترس آیا ایک ایک کر کے گهر کا آنگن خالی ہوتا گیا دادی کی بطخوں نے سفروں کے پیمان باندهنے شروع کیے ابا نے سب کے سروں پر پہلی اور آخری بار ہاتھ پهیرا اور اپنے فرائض سے دستبردار ہو گئے گهر کا آنگن سونا ہو گیا پرندے کبهی لوٹ کر نہ آئے پهر کبهی اس گهر میں بطخوں کی آوازیں نہ آئیں آم کا درخت اداس ہو گیا جهولا ٹوٹ کر زمین پر جا پڑا کسی کو فرق نہیں پڑا اور نہ پڑنا تها رونا دهونا تو اس دن ہوا جب بابا اور دادی کا لاڈلہ ائیر پورٹ پر ہاتھ ہلا کر سب کوالوداع کہہ رہا تھا جس سے دادی روئیں تو پھر روتی ہی چلی گئیں " اماں دو سال کے لئے ہی تو گیا ہے آ جائے گا واپس "۔ بابا نے دادی سے زیادہ ڈھارس اپنے دل کو دی فون پر گهنٹوں بات ہونے لگی تھی گهنٹے منٹوں میں تبدیل ہو گئے اور منٹ سکینڈوں میں " لڑکے کو پیسوں کی ضرورت ہے " دادی نے سب کو خبر سنائی اور پاس پیسے بلکل نہ تهے کیونکہ ادھار پہلے ہی بہت لے چکے تهے ساتوں بہنیں چلی آئیں ابا کا اداس چہرہ نہ دیکھ سکیں کسی نے بالی اتاری کوئی انگوٹھی دینے کے لیے تیار ہو گئی مگر ابا نے بہت غصے سے سب کو دیکها مین " بھکاری نہین ہوں اپنے منڈے کے لیے پیسے کا انتظام ہم خود کریں گے " ساتوں اداس چہرے لیے گهروں کو لوٹ گئیں ابا نے زمین بیچ دی سب کچھ ہاتھ سے جا رہا تها ایک چیز کو پانے میں ایک رشتہ بچانے میں کئی رشتے چهوٹے جا رہے تھے دو سال بیت گئے اس کے آگے کے دن بھی نہ رکے سرکتے گئے دادی دروازہ دیکهتی رہ گئیں خط آتے پرچی آتے مگر اک وہی نہیں آتا " ابا میں نے یہیں پہ ہی ویاہ کر لیا ہے " ایک خط میں اس نے لکها امیدیں دم توڑ گئیں دادی کا دل اس سے زیادہ کام نہ کر سکا اور بند ہو گیا دادی کے موت کے کچھ دن بعد اماں بھی سب سے رخصتی لے گئیں ابا گهر کے آنگن میں تنہا رہ گئے وقت نے انہیں بوڑھا کر دیا آنکهیں بنجر ہو گئیں چمن اجڑ چکا تها اب تو برسوں بہت گئے بیٹیاں آتیں دو چار لمحے باپ کو حوصلہ دیتیں اور شوہروں کے ڈر سے پلٹ جاتیں وہ دن دسمبر کا تها سردی سے درخت بھی کانپ رہے تھے ابا چار پائی پر پڑے صدیوں کے مریض معلوم ہوئے اپنا ماضی ایک فلم کی طرح آنکهوں کے سامنے چلتا ہوا دکهائی دیا ان کی پگڑی برسوں سے نہیں دهلی وضو کا لوٹا پهر کبهی تیار نہ ملا ساتوں بطخوں کے گھر سے چلے جانے سے رت ہی بدل گیا پھراچانک اندهیرےمیں روشنی آئی وہ ساتوں چلی آئیں ایک نے پگڑی دهو دی دوسری دوا کهلانے لگی ابا نے ساتوں کی آنکھوں میں دیکها جن میں پوشیدہ سا ایک شکوہ تها انہوں نے کبهی شکوہ کیا نہ عمر بھر کے کسی فعل کو جتایا پهر بھی ابا کی بوڑھی آنکهوں نے سب پڑھ لیا "۔ ابا ہم تو پرایا دهن ہیں آپ کا اپنا دهن کہاں ہے " ابا چارپائی پر لیٹے تهے ساتوں پاس بیٹهی تهیں ابا نے سب کے سر پر ہاتھ رکها ان کی آنکهیں رونے لگیں " دیکها ابا کڑیاں کبهی دهوکہ نہیں دیتیں ہمیشہ منڈے ہی دهوکہ دے جاتے ہیں " عقاب ہمیشہ اڑ جاتے ہیں بطخیں گهر میں ہی رہ گئیں ابا پهوٹ پهوٹ کر رو پڑے مجهے' اولڈ ایج ہوم ' میں ڈال دو وہ ساتوں سے نگاہیں چراتے ہوئے لرزتے ہونٹوں سے بولے آم کے زرد پتے آنگن میں آن گرے ساتوں کانپ اٹهیں وہ بیٹے ہوتے ہیں جو والدین کو ' اولڈ ایج ہوم ' میں پهینک آتے ہیں بیٹیاں کبهی ایسا نہیں کر سکتیں اگر والدین کو اپنے پاس رکهنے کا اختیار حوا کی بیٹیوں کو دیا جاتا تو دنیا میں کوئی ایک بھی ' اولڈ ایج ہوم ' نہیں ہوتا ۔ وہ نظریں چرا گئے نظریں ملانے کے قابل ہی نہیں رہے تهے " یوں تو مجهے اپنی محبت کے زیرِ بار نہ کرو " ساری زندگی ریت کا ایک ڈهیر بن گیا پروردگار کی دی ہوئی رحمتوں کی قدر نہ کر سکا نفرت کرتے وقت یہ بھی بهول گیا۔ پروردیگار نے جنت بھی تو عورت کے قدموں میں رکھ دی محبت کا قرض بڑا تها بہت بڑا وہ اس بوجھ تلے دب گئے سانس تهم گئی دل کی دهڑکن مزید کام نہیں کر سکی سات بطخوں کی چیخوں سے محلہ گونج اٹها آسمان رو رہا تھا آم کے درخت سے آنسو ٹپکنے لگے سب کی آنکهوں میں آنسو تهے لیکن سفید چادر میں ملبوس وہ لاش مسکرا رہا تھا اگر دنیا میں بیٹیاں نہ ہوتیں تو باپوں کے جنازے سناٹوں میں اٹهتے اور ان کے قبروں پر فاتحہ پڑهنے والے کہیں نہیں ہوتے " ہمیشہ عقاب اڑ جاتے ہیں بطخیں آنگن میں ہی رہ جاتی ہیں " ختم شدہ
  3. میں فورم کا شکر گزار ہوں کہ فورم نے مجھے اس قابل سمجھا ۔اور میری کاوشوں کو سراہ کر نئے رائٹرز کو امید بخشی ۔
  4. Hi, I am fatima from pakistan and I am new member here. Please suggest me some good stories
  5. shazia.baig2000@yahoo.com I am waitinig your words

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.