Disable Screen Capture Jump to content
EID MUBARAK ×
URDU FUN CLUB

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content since 03/12/2024 in all areas

  1. ماہ رمضان میں فورم پالیسی جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے۔کہ ہر سال ماہ رمضان میں ہم اپنے فورم کے تمام سیکس سیکشن کو مکمل طور پر آف کر دیا کرتے ہیں۔تاکہ ماہ رمضان مکمل عقیدت اور احترام سے گزارا جا سکے۔ الہذا یکم رمضان سے چاند رات تک تمام سیکس سیکشن ہر خاص و عام کے لیئے بند رہیں گے۔ رمضان میں سیکس سے متعلق کسی بھی ٹاپک یا پوسٹ کو شیئرنہ کیا جائے ۔ اسے اپروول نہ کیا جائے گا۔اور ممبر کو وارننگ بھی دی جائے گی۔ ایڈمنسٹریٹر۔۔۔اردو فن کلب
    3 likes
  2. ملکیت شادی کی پہلی رات ہم ایک دوسرے کو دیکھ کے بڑی دیر ہنستے رہے کہ یہ ہم نے کیا کر دیا ہے لیکن ان قہقہوں کے پیچھے کی فکریں ہم دونوں کے چہروں سے عیاں تھیں۔ شادی چونکہ جلد بازی اور خاندان والوں کی ناراضگی میں ہوئی تھی سو مونہہ دکھائی کے پیسے میرے پاس نہیں تھے..۔ ایک دوست سے ادھار پکڑ کے سونے کی ایک ہلکی سی انگوٹھی اسے دی جسے اس نے یہ کہہ کے واپس کر دیا کہ میں تمہارے حالات سے واقف ہوں، جن حالات میں شادی ہوئی ہے اس سے بھی واقف ہوں، سو جب خود دلا سکو گے تب لوں گی۔!!۔ میں نے تھوڑا شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھا کہ "اچھا بتاؤ۔!۔ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے۔۔؟؟؟ میں کسی دن وہ ضرور پوری کروں گا"۔ اس نے کچھ تامل کے بعد کہا کہ " زندگی میں دو ہی خواہشات کے لئے خدا کے سامنے گڑگڑائی ہوں۔۔۔۔ ایک اپنا گھر ہو، چاہے بہت چھوٹا سا ہو لیکن اپنا ہو اور دوسرا ۔۔۔۔۔ "دوسرا۔۔؟" "دوسرا، میرے سامنے ہے ۔۔" ہم دونوں نے ایک دوسرے کا مونہہ دیکھا اور مسکرانے لگے۔!!۔ پسند کی شادی پہ عورت پہلے اپنے گھر والوں سے سنتی ہے بعد میں سسرال سے۔ وہ ساری کشتیاں جلا کے آئی تھی سو اس نے زبان سی لی۔ اب اگلی ذمہ داری میری تھی۔ ایک دوست کے توسط سے لاہور ایک کال سنٹر میں جاب مل گئی لیکن میں کبھی اپنے شہر سے نکلا نہیں تھا سو ایک انجان شہر میں جانے کے لئے مجھے تھوڑا سرمایہ درکار تھا۔ ابو سے مجھے دس ہزار ملے، اگلے ہفتے کی ٹکٹ تھی۔ رات کو میں حسابوں میں مصروف تھا تو وہ میرے پاس آئی، اس نے اپنے زور سے بند مٹھی کھولی اور میرے سامنے کر دی۔۔۔ میں نے کہا "تم فکر نہ کرو میرے پاس پیسے ہیں، یہ تم اپنے پاس ۔۔۔" "یار مجھ سے جھوٹ نہ بولا کرو، مجھے پتہ ہے نہیں ہیں" میں خاموش ہو گیا کیونکہ پیسوں کی ضرورت مجھے تھی۔ وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور کسی ماسٹر پلانر کی طرح مجھے سمجھانے لگی۔!!۔ "میں نے ایک پلان سوچا ہے" "کیا۔۔؟" "تمہاری گندم گاؤں سے آتی ہے نا۔۔؟" "ہاں" "تم ایسا کرو ان پیسوں کی گندم لے لو، گھر کے لئے بھی لینی ہے، گاؤں سے تمہیں سستی مل جائے گی۔ میری ایک دوست ہے، اس سے بات کی ہے میں نے اس کو ضرورت ہے، تم یہاں سے اٹھا کے وہاں دے دینا کچھ پیسے بچ جائیں گے" وہ بڑی اکسائٹمنٹ سے مجھے ایک بزنس پلان سمجھا رہی تھی۔ میں اس کی معصومیت پہ مسکرایا لیکن پلان برا نہیں تھا۔ پلان کامیاب رہا، یہ پلان ہم نے گھروالوں سے مخفی رہا۔ پیسے لے کے جب میں گھر آیا تو رات کو ہم چھوٹے بچوں کی طرح پیسے گن رہے تھے جیسے بچے غلہ توڑنے کے بعد گنتے ہیں حتی کہ ان کو پورا حساب ہوتا ہے۔ ہمیں فی من ساڑھے تین سو کے حساب سے چھے ہزار تین سو (6,300) منافع ہوا۔!!۔ یہ ہمارا پہلا کامیاب بزنس تھا۔ دو ہزار میں نے اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے ہاتھ پہ رکھا کیونکہ اصولی طور پہ یہ اسی کی کمائی تھی۔!!۔ اگلے ہفتے میں اسے چھوڑ کے لاہور نکل گیا۔ لاہور میرے لئے انجان تھا۔ کچھ دن دوست کے گھر رہا، بعد میں جب اپنی رہائش ڈھونڈنی پڑی تو دال روٹی کا بھاؤ پتا چلنے لگا۔ رہائش اور ماہانہ خرچوں کا حساب لگایا تو یہ میری سوچ سے تھوڑا زیادہ تھا ۔ پیچھے میری ایک منتظر بیوی بھی تھی اور ایک تنخواہ میں مجھے میرا گزارہ ہوتا مشکل نظر آ رہا تھا۔ پتہ نہیں یہ اس کی محبت تھی یا احساس ذمیداری میں نے بھی تہیہ کیا کہ کچھ نہ کچھ تو کروں گا ہی۔ اس نے اگر میرے بھروسے سب چھوڑا ہے تو اس کا بھروسہ نہیں ٹوٹنے دے سکتا۔ !!۔ میں نے اپنے کال سنٹر کے قریب کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ اتفاق سے وہاں ایک ریستوران میں مجھے نوکری مل گئی۔!!۔ ہوتا اب یہ تھا کہ صبح 7 سے شام 5 میں کال سنٹر میں تھا، وہاں سے آ کے سو جاتا تھا اور رات 12 سے صبح چھ نائٹ شفٹ پہ ریستوران۔!!۔ وہاں سے مجھے دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا جس سے میرا کافی خرچہ بچ جاتا تھا۔ کال سنٹر کی تنخواہ 15 ہزار تھی جو کمیشن ملا کے 25,26 بن جاتا تھا اور ریستوراں والے مجھے آٹھ ہزار دیتے تھے۔ اس اضافی کام کا میں نے گھر نہیں بتایا تھا ورنہ ___ (میری بیوی) مجھے کبھی یہ نہ کرنے دیتی۔!!۔ مہینے بعد گھر گیا تو بارہ ہزار اس کے ہاتھ میں رکھ دئے۔ اس نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ تیں دفعہ گنتی کی، پھر انہیں دو دفعہ چوما اور نمناک آنکھوں کے ساتھ اپنے اٹیچی کیس میں اپنا حق سمجھ کے رکھ لئے.!!۔ اس کی وہ خوشی میرے لیے کائنات کی سب سے محبوب شے تھی۔۔۔ میں اسے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا لیکن میرے وہاں کے حالات اس چیز کی اجازت نہیں دیتے تھے، اس نے بھی بردباری کی انتہا کرتے ہوئے خود ہی منع کر دیا۔!!۔ اس کی دعائیں تھیں یا اس کا رزق، دو ماہ میں مجھے ایک فرم میں نوکری مل گئی۔ یہاں میری تنخواہ چالیس ہزار تھی جو میری سوچ اور ضروریات کے حساب سے کافی زیادہ تھا۔!! محنت کی عادت تو مجھے پہلے ہی تھی سو فارغ وقت میں، میں نے ایک پیکنگ کمپنی میں نائٹ شفٹ پہ نوکری کر لی۔ یہ کام ریستوران سے کافی بہتر اور صاف ستھرا تھا اور تنخواہ بھی مناسب تھی۔ اس نوکری کا میں نے اسے نہیں بتایا کہ اس کو سرپرائز دوں گا۔ اس دفعہ میں دو ماہ بعد گھر گیا اس کی سالگرہ تھی۔!!۔ اور گھر والوں کے سامنے ہم انتہا کے میسنے تھے، ان کو کچھ نہیں بتاتے تھے۔۔۔ سالگرہ پہ ایک چھوٹا سا کیک ہم 7 لوگوں میں تقسیم ہوا۔ رات کو ہم جب کمرے میں اکیلے ہوئے تو اسے ایک ڈبہ پکڑا دیا۔ اس نے خوشی اور حیرت سے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور پوچھا "کیا ہے اس میں...؟ " "خود ہی دیکھ لو" "اوہ! اچھا میرے پاس بھی کچھ ہے" میں نے حیرت سے پوچھا "واقعی۔۔؟ کیا۔۔؟" اس نے اپنے اٹیچی کیس سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکال کے مجھے دے دیا۔!! پہلے اس نے اپنا ڈبہ کھولا تو خوشی کے مارے اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ یہ ایک اینڈرائیڈ سمارٹ فون تھا۔ اس کو فوٹو گرافی اور برانڈز سرچ کرنے کا خبط تھا جس کو وہ دوستوں کے موبائل سے کبھی کبھار پورا کر لیتی تھی۔ اس نے جلدی جلدی اسے نکالا، آن کیا اور کہا۔۔۔ "lets_take_a_selfie" اور یہ ہماری اک ساتھ پہلی باقاعدہ فوٹو تھی۔!! اب میری باری تھی، میں نے گفٹ کھولنا شروع کیا۔ یہ جی شاک کی ایک سپورٹس واچ تھی۔ اسے میری خواہشات کا بخوبی علم تھا۔ یہ کافی مہنگی تھی جس کی میں نے زندگی میں ہمیشہ بس خواہش کی تھی۔ اس کے پیسے اس نے اپنے خرچے میں سے کیسے بچائے تھے وہ میری سمجھ سے باہر تھا، اس کے تحفے کے آگے میرا تحفہ شرمندہ ہو رہا تھا۔!!۔ اس رات ہم نے اپنے "تحائف" کو خوب انجوائے کیا۔!!۔ عورتیں گھر داری کے معاملے میں بہت دور اندیش ہوتی ہیں، وہ اپنے ہمسفر کے ساتھ بچوں کے نام حتی کہ ہونے والے گھر کے پردوں اور چادروں کے ڈیزائن تک شادی سے پہلے سوچ لیتی ہیں۔ ہم نے شادی کی پہلی رات یہ وعدہ کیا تھا کہ اولاد کی طرف تب جائیں گے جب ان کو خود سے بہتر زندگی دے سکیں۔!!۔ ہماری اگلی کوشش اپنے گھر کے لئے تھی، جس کے لیے ہم دونوں ایک دوسرے سے چھپ کے کوشش کر رہے تھے۔ اس نے بھی ایک پرائیویٹ سکول آکسفورڈ میں ٹیچنگ شروع کر دی تھی اور گھر میں بھی کچھ بچے پڑھنے آ جاتے تھے۔ گھر میں اس معاملے کو لے کے کبھی کبھی گرما گرمی بھی ہو جاتی کہ بہنیں جوان ہو رہی ہیں، ان کا تمہیں خیال نہیں۔۔۔ گو کہ میں گھر میں تھوڑا خرچہ دے دیتا تھا لیکن ساس بہو کی وہی ازلی لڑائی کہ سارا خرچہ ہمارے ہاتھ میں ہو۔ ___ نے اس حوالے سے کبھی گھر بحث نہیں کی وہ اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ خود ہی امی کو دے دیتی تھی اس کا بھی حل ہم نے ایسے نکالا تھا کہ ایک دن میں گھر آیا ہوا تھا، میں نے پلان کے مطابق جان بوجھ کے اس بات پہ خوب لڑائی کی کہ ___ خرچہ گھر نہیں دے گی۔!! وہ جوان ہے، نئی بیاہی ہے سو اس کی اپنی بھی ضروریات ہیں۔ والدہ گرج برس کے چپ ہو گئیں، جب ___ کی تنخواہ آئی تو اس نے خود ہی والدہ کو تھوڑے پیسے دے دیئے کہ وہ تو کہتے رہتے ہیں۔۔ ماں زیر ہو گئیں کہ کیسی "فرمان بردار بہو" ہے جب کہ یہ پلان بھی بہو کا تھا۔!!۔ دو سال بعد آخر وہ دن آ گیا جس کے لیے اس نے ساری زندگی خواہش اور میں نے محنت کی تھی۔ یہ بھی اس کا "برتھ ڈے سرپرائز" تھا۔ شہر کے ایک پوش علاقے میں ساڑھے چار مرلے کا ایک پلاٹ۔!!۔ اس کو جب میں نے بتایا کہ یہ تمہارا ہے تو زندگی میں پہلی دفعہ میرے سامنے وہ "دھاڑیں" مار مار کے روئی، جیسے یہ سب آنسو اس نے اسی دن کے لئے بچا رکھے تھے۔ ہم کافی دیر خالی پلاٹ میں مٹی پہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے بیٹھے رہے... وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی ایک انگلی زمین پہ گھسیٹی اور کسی بچے کی طرح لکھ کے دہراتی۔ "میری ملکیت" زندگی اب ٹریک پہ آ چکی تھی۔ جس دن مجھے اس کی پریگننسی کا پتہ چلا اس دن میں پاگلوں کی طرح خوش تھا۔ ہم نے گھر کا کام، بچوں کے کپڑے اور پتہ نہیں کیا کیا پلان کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات اس کی طبیعت معمول سے زیادہ خراب ہوئی۔ میں اپنی زندگی میں سارہ کو لے کے کبھی نہیں ڈرا، اس وقت بھی نہیں جب پورے خاندان کے سامنے اکیلا کھڑا تھا۔ لیکن زندگی میں پہلی دفعہ اس کی اس حالت نے میری روح نچوڑ کے رکھ دی۔!!۔ میں اسے لے کے ہسپتال بھاگا۔ میری حالت یہ تھی کہ شرٹ پہنی تھی جس کے بٹن بند نہیں تھے اور میں ننگے پیر ہسپتال میں اس کو اٹھا کے بھاگ رہا تھا۔۔ اس کی حالت خراب تھی، ڈاکٹروں نے ایک زندگی بچانے کا آپشن دیا تھا جس کا جواب واضع تھا۔ میں وارڈ کے باہر فرش پہ گھٹنوں کے بل بیٹھا اللہ تعالیٰ سے اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔!!۔ لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا، اس نے ___ کے لیے بہتر گھر چن رکھا تھا۔ وہ ایک بیٹی کا تحفہ دے کے مجھے دغا دے گئی، اس کا تحفہ ہمیشہ کی طرح میرے سارے تحائف پہ بھاری تھا۔ میں نے اسی کے نام پر ہماری بیٹی کا نام ___ رکھا۔!!۔ آج بھی میں اپنی بیٹی کو جب اس پوش علاقے میں ایک خوبصورت پلاٹ کے پاس اس کی ماں سے ملوانے اس کی قبر پرلے جاتا ہوں تو وہ مجھ سے اکثر پوچھتی ہے کہ۔۔۔ بابا.!۔ ماما یہاں سب سے الگ کیوں رہتی ہیں___؟ میں اسے ہمیشہ ٹال دیتا ہوں ۔۔۔ میں اسے کس طرح بتاؤں کہ یہ اسی کا گھر ہے، یہ اسی کی "ملکیت" ہے جس پہ اس کے علاوہ کسی کا حق نہیں۔!۔
    3 likes
  3. زنـــــدگی راز ہـــــے تـــــو اســـــے راز رہنــــــــے دو...! اگــــر ہـــے اعــــتراض تـــو اعتـــــراض رہنـــــــے دو...!{✨🥀} پھـــــر اگـــر تمہــــارا دل کـــرے یـــــاد کـــــرنے کو...! تـــو دل کــو یــہ مـــت کـــہنا کـــــہ آج رہـــــنے دو...!{🥀✨} #Ishq_e_Darog❤️‍🩹
    2 likes
  4. جذبات سے لبریز آیک بہترین تحریر
    2 likes
  5. وہاں وہ آنکھ بجھی ہم یہاں اداس ہوئے یہ زخم بھرنے لگے تو نشاں اداس ہوئے اسے خبر ہی نہیں ہے کہ اس کے جانے سے یہ پھول اور یہ آبِ رواں اداس ہوئے تمہارے بعد کئی بار یوں ہوا ہے کہ ہم جہاں پہ بنتا نہیں تھا وہاں اداس ہوئے فضا اداس ہے لہجوں میں سوگواری ہے یہ کس کے جانے پہ اہلِ زباں اداس ہوئے کسی نے گاؤں سے جانے کی بات کیا کر دی مکین بعد میں پہلے مکاں اداس ہوئے
    1 like
  6. یاد دہانی کیلئے شکریہ
    1 like
  7. "کسی ایسے شخص سے کبھی مت ڈرو جس کے پاس لائبریری ہے اور وہ بہت ساری کتابیں پڑھتا ہے۔ تمہیں کسی ایسے شخص سے ڈرنا چاہیے جس کے پاس صرف ایک کتاب ہو اور وہ اُسے مقدس سمجھتا ہو۔ لیکن اُس نے اُسے کبھی پڑھا نہ ہو۔ فریڈرک نطشے
    1 like
  8. راولپنڈی کے راجا بازار میں ہوئی ملاقات بہت خوبصورت آنٹی سے پارٹ 2 قسط نمبر 1 تو دوستو حاضر ہوں اپنی کہانی کے نئے مرحلے کے ساتھ پہلے میں آپ سب نے پڑھا ہوگا کہ کیسے راجا بازار راولپنڈی میں دکھنے والی آنٹی کے بیڈ روم تک پہنچ کر سیکس کا پہلا تجربہ کیا۔ تو دوستو آنٹی کے ساتھ سیکس کرتے ہوئے مجھے کوئی 3 ماہ ہو چکے تھے اور ہمارے خوب مزے جاری تھے اکثر تو ہفتے کی رات میں آنٹی کے گھر ہی گزارنے لگ گیا جب آنٹی کا بیٹا آیا ہوتا تو ہمیں دوری رکھنی پڑتی ایسا تو نہیں تھا کہ ہم روز ہی سیکس کرتے لیکن ہفتے میں دو بار تو پکا تھا ہم دونوں ایک دوسرے کے لیئے ایسے تھے جیسے جوان پریمی جوڑا ایسے ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا محبت کرنا سیکس کرنا سب ہی کمال چل رہا تھا لیکن ابھی تک آنٹی کی نند کے ساتھ کوئی سین نہیں بنا تھا اسکی وجہ یہ نہیں تھی کہ (اب سے میں آنٹی کی نند کا نام ہی لکھوں گا ) آنٹی نسرین کوئی کم خوبصورت تھی وہ بھی ایک کمال جسامت کی مالک تھی البتہ رنگ آنٹی شبانہ جیسا گورا چٹا تو نا تھا لیکن سانولہ بھی نہیں تھا کیوں کہ آنٹی شبانہ ایک کشمیری عورت ہھی تو انکا رنگ گلابی سفید تھا اور آنٹی نسرین راولپنڈی کی ہی رہنے والی تھی تو پنجابی عورتوں والا سفید رنگ تھا آنٹی نسرین کی عمر بھی زیادہ نا تھی وہ صرف 35 سال کی تھی شادی جلدی ہو گئی تھی جو کہ 8 سال چلی اولاد نا ہونے کی وجہ سے چھوٹی موٹی نوک جھوک بڑے بڑے جھگڑوں میں تبدیل ہوئی اور حل طلاق نکلا اور آنٹی گھر بیٹھ گئی آنٹی شبانہ نے بتایا تھا کہ انکے گھر والوں نے دوبارہ شادی کی بہت کوشش کی لیکن آنٹی اب کسی پے اعتبار نہیں کرتی ایک ڈر سا بیٹھ گیا ان کے دل میں اور یہ بھی کہتی کے جب اولاد نہیں ہونی تو کسی کا گھر کیوں جان کے خراب کرنا اس لیئے ابھی تک بیٹھی۔ آنٹی نسرین کا قد مناسب تھا ممے 36 اور گانڈ 34 تھی پیٹ کافی قصا ہوا تھا جو آنٹی کی جسامت پے خوب جچتا تھا آنٹی کی سیسکی چال اور للچائی نظریں بہت بار بہکاتی تھی لیکن میں آنٹی شبانہ کو اس قدر اپنا ماننے لگا کے ایسا لگتا کے کسی اور کو دیکھنا بھی گناہ ہو اور سچی بات ہے دل میں کہیں تھوڑا ڈر بھی تھا حالانکہ کے آنٹی سب کچھ جانتی تھا ہم تو دروازہ بھی کم ہی بند کرتے اور آنٹی کو درشن کا موقع دیتے لیکن پھر بھی پتہ نہیں کیوں ڈر سا تھا کہ کہیں آنٹی شبانہ ناراض نا ہو جائیں میں آنٹی کو کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیئے بھی بعض آیا ہوا تھا۔ ایک رات میں آنٹی کے ساتھ خوب مستیوں کے بعد آنٹی کی باہوں میں آرام کر رہا تھا آنٹی کے مموں کو پیار سے سہلا رہا تھا اور آنٹی میرے بالوں سے کھیل رہی تھی کہ آنٹی نے سوال کیا شاہ کیا تمہارا دل نسرین کے ساتھ سیکس کرنے کو نہیں کرتا تو میں چونکہ اور پوچھا کہ آپ کیوں پوچھ رہی ایسا تو آنٹی نے کہا شاہ میں جانتی ہوں کہ نسرین ہمارے بارے میں کسی کو نہیں بتائے گی لیکن مجھے پھر بھی ڈر لگا رہتا ہے اس لیئے میں چاہتی ہوں کہ تم نسرین کو بھی خوش رکھو تاکہ ہو منہ بند رکھے اور مجھے اس پے ترس بھی آتا ہے عمر میں کم ہے مجھ سے اور شادی شدہ زندگی گزارنے کے بعد پھر سے اکیلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اس میں بھی تڑپ ہے بھوک ہے سیسکی کی کئی بار وہ تمہں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی ہے جیسے تمہیں کھا ہی جائے اور اکثر مجھے کہتی بھی کہ کتنی خوشنصیب ہو کہ ایسا لڑکا ملا جو کسی کو بھی سکون دے سکتا مجھے ایسا ہی لگتا شاہ کے وہ انتظار میں ہے کہ تم کب اسے سکون دو گے میں نے کہا آنٹی لیکن میں نے تو آپ کے علاؤہ کبھی نہیں سوچا بھی نہیں(سچ تو یہ کے آنٹی کے منہ سے آنٹی نسرین کا سن کر دل میں لڈو پھوٹنے لگ گئے اور دل کیا آج ہی آنٹی کام بنا دیں میرا اور لن سن کر ہی ڈنڈا ہو گیا جسے آنٹی شبانہ نے بھی نوٹ کیا )کے کسی سے کروں گا آنٹی ہنسی اور کہا پاگل میں تو بوڑھی ہوتی جا رہی کب تک تمہارا ساتھ دوں گی کل کو شادی بھی نہیں کرو گے تو میں نے کہا نہیں کروں گا اور آپ کہاں سے بوڑھی ہو رہی نا تو آپ کے ممے ڈھیلے نا پھدی اور چدائی تو کمال ہے آپکی ایسے تو جوان لڑکی بھی نا کرے آنٹی نے مجھے سر پے چپت لگائی اور کہا بدمعاش لڑکے انسان بنو اور چھوڑو باتیں یہ جو چھیڑ چھاڑ میں گیلی کر دی اور اپنی نئی آنٹی کا سن کر جو لوڑا کھڑا کیا نا پہلے ان دونوں کا بندوبست کرو آنٹی کی اس بات سے میں تھوڑا شرمندہ تو ہو گیا کیوں کے میں کچھ اور کہہ رہا تھا اور لن کچھ اور اس کے ساتھ ہی آنٹی نے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا ننگے تو ہم پہلے ہی تھے میں نے سیدھا آنٹی کے مموں پر حملہ کیا اور مموں کو دبانا اور چوسنا شروع کر دیا اس قدر مزے دار ممے جب سامنے ہوں تو کیسے بندہ باز آئے میں آنٹی کے مموں کو بہت بار کاٹا چبایا دبایا مسلا آنٹی کو بھی اب میرا یہ انداز بہت پسند آ گیا تھا اگر میں زرا سا پیار سے سیکس کرتا تو آنٹی کہتی وحشیوں والا سیکس کرو مجھے جس کا عادی کیا ہے اب پیار والا سیکس مزا نہیں دیتا آنٹی کے میٹھے مموں کو میں کم از کم 15 منٹوں تک مسلتا رہا آنٹی بھی آہوں اور سسکیوں کے ساتھ انجائے کرتی رہی پھر میں نے آنٹی کی گردن ہونٹ چہرہ خوب چوما چاٹا پھر نیچے آتے ہوئے پیٹ پر کچھ دیر زبان گھمائی اور ٹانگوں کے درمیان میں آ کر دونوں تھائیز کو ہاتھوں سے خوب مسلنے لگا زبان پھیرنے لگا دانتوں سے کاٹنے لگا آنٹی سسکیوں کے ساتھ اپنا ایک ہاتھ میرے بالوں میں اور دوسرے سے میری کمر پے ناخن گاڑھ رہی تھی آنٹی بھی دوران سیکس اب اتنی ہی وحشی ہو جاتی کے جتنا میں وحشیانا سیسکی کرتا اور مجھے تکلیف تو بہت ہوتی لیکن برداشت کرنا پڑتا آنٹی سیسکی آہوں میں جب میرا نام پکارتی کبھی شاہ کبھی میرا ٹھوکو کبھی میرا شہزادہ میرا مٹھا تو مجھے بہت اچھا لگتا آنٹی کی تھائیز سے کھیلنے کے بعد مجھے شرارت سوجھی اور میں نے زبان آنٹی کی پھدی کے آس پاس تو گھمانا شروع کر دی لیکن پھدی پے نا لگائی کچھ دیر تو آنٹی نے برداشت کیا پھر ایک دم ظالمانہ طریقے سے میرے بالوں سے پکڑ کر کہا شاہ تو تم ایسے نہیں مانو گے اور اپنی پھدی کو ہلا ہلا کر میرے میں پے رگڑنے لگی آنٹی کی پھدی پے جیسے ہی میرا منہ لگا ایسے آنٹی اوپر ہوئی جیسے آنٹی ابھی اٹھ کر چھت سے جا لگے گی اور زور دار آواز میں کہا شاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ ادھر چاٹو اسکو و و و و و و و میں بھی سمجھ گیا اب آنٹی کے ظلم سے بچنا ہے تو آنٹی کی خواہش پوری کرنی پڑے گی اس لیئے آنٹی کی پھدی کو مزے لے لے کر چومنے چاٹنے لگا جسے آنٹی خوب انجوائے کر رہی تھی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے بڑے بڑے ممے دبا رہی تھی اور سر ادھر ادھر مار رہی تھی کچھ دیر میں مجھے لگنے لگا کے آنٹی ابھی فارغ ہو جائیں گی تو میں نے منہ پھدی سے ہٹا لیا آنٹی نے کہا شاہ بس تھوڑی دیر اور کر لو میں نے کہا آنٹی فارغ ہونا ہی ہے تو لوڑے سے ہوں منہ سے کیوں تو آنٹی نے کہا پھر دیر نا کرو پلیز جلدی ڈالو میں آنٹی کی ٹانگوں کے درمیان آیا اور لن پھدی پے سیٹ کیا اور زور دار جھٹکا مارا جسے تو مزہ آیا ہی آنٹی نے بھی زوردار سسکی لی اور کہنے لگی ہاں شاہ ایسے ہی اور زور سے لگاؤ زورررررررررر ڈالو اور زوررررر سےےےےےےےےےے شاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ مزہ ہ ہ ہ ہ ہ۔ آ گیا شاہ ہ ہ ہ ہ۔ جھٹکے لگاؤ زورررررررررر سےۓے لگاؤ فک میییییییییییی شاہ ہ ہ ہ ہ۔ میرے پیارےےےےےے شاباششششششششش اور میں بھی اپنا پورا زور لگا لگا کر جھٹکے مار رہا تھا اور مزے کے آسمانوں میں تھا آنٹی کی چودائی کرتے اتنا وقت گزر گیا مطلب مہینوں سے چود رہا تھا لیکن ہر بار پہلے سے بھی زیادہ مزا آتا آنٹی بھی خوب انجوائے کرتی اور ہمیشہ پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ میرا ساتھ دیتی آنٹی کو چودتے ہوئے میں بھی آنٹی کو نام لے لے کر چود رہا تھا کہ لو شبانہ میری شبانہہہہہہہہ لو اپنے ٹھوکو کا لوڑا یہ ہے ہی آپکا لوڑا میری جان میں صرف آپکا اور آپ میری جان ہو میری پیاریییییییییی یہ لو لوڑاااآاااااا لو لنننننننن اور خوب مزے میں چود رہا تھا آنٹی کو ہمیں سیکس اتنا مزہ آتا ایسا کھو جاتے کے ہمیں نا احساس ہوتا اور نا پھر ڈر کے آنٹی کی نند نسرین آنٹی بھی ہیں گھر میں پھر ہم اس پوزیشن میں تھوڑا تھک گئے تو پوزیشن چینج کی اب آنٹی سائیڈ پے کروٹ لے کر لیٹی تھی اور میں نے ایک ٹانگ اٹھا کر آنٹی کی پھدی میں لن ڈال دیا آنٹی کی گاںڈ بہت بڑی تھی اور خوبصورت بھی لیکن میں نے آج تک آنٹی کی گاںڈ نہیں ماری کیوں کے مجھے ڈر تھا کہ کہیں آنٹی کو برا نا لگے اور ویسے بھی میں گانڈ دیکھنے کا شوقین زیادہ تھا مارنے کی طلب زیادہ نہیں تھے اس طرح کچھ دیر پھدی مارنے کے بعد آنٹی اچانک بہت تیزی سے تھر تھرا نے لگی اور چیخنے لگی اور ساتھ فارغ ہونے لگی جھٹکے لے لے کر فری ہوئی اور آنکھیں بند کر کے کہنے لگی شاہ پلیز بس کر دو میں نے لیکن میں تو فری نہیں ہوا آنٹی نے کہا میں کرتی ہوں نا پلیز اب بس کرو تو میں نے لن نکال لیا آنٹی اٹھی اور مجھے لٹا کر میری ٹانگوں میں آئی میرا لن پکڑا اور سہلانے لگی پھر زبان نکال کر لن چاٹنے لگی ایسے مزے سے چاٹ رہی تھی کہ بس کیا بتاؤں ہم سب نے پورن موویز میں دیکھا ہوا جب ایک ملف آنٹی ایک نوجوان لڑکے کا لوڑا منہ میں لے کر چوستی ہو دیکھ کر برداشت نہیں ہوتا اور میرے ساتھ تو ہو رہا تھا ایسا کیسے برداشت کرتا بس دو منٹ ہی برداشت ہوا اور آنٹی کو جیسے ہی سمجھ آئی آنٹی نے لن منہ سے نکالا اور زور زور سے لن ہلانے لگی اور میں جھٹکے کھاتا فارغ ہو گیا اور سکون میں آ گیا مزے دار راؤنڈ کے بعد ہم سو گئے اور آنٹی نسرین والی بات وہی کی وہی رہ گئی۔ دوسرے دن صبح اٹھا کیوں کے اتوار کا دن تھا اگر صبح صبح ہی گھر جاتا تو جواب کیا دیتا کے اتوار کے دن کو منانے کے لیئے دوستوں کے ساتھ گئے اور اتنے جلدی آ گئے اس لیئے آنٹی کے گھر ہی رہا ناشتہ کیا آنٹی نسرین اور آنٹی شبانہ کے ساتھ گپ شپ میں دن گزارا اور اکثر جب رات کو رہتا تو ایسی ہی روٹین ہوتی ہماری جب راجا بازار جانا ہوتا تو آنٹی اکیلے ہی جاتی کیوں کہ اگر میں ساتھ جاتا تو لوگوں کی نظروں میں آتا اس لیئے آنٹی کے گھر آنے جانے کا وقت میرا لیٹ نائیٹ ہی ہوتا ہماری خوب گپیں ہوتی اکثر آنٹی نسرین ہماری رات کی کہانی ہمیں سناتی مطلب مزاق مزاق میں بتاتی کے کیسے آہئیں اور سسکیاں نکلتی اور کیسے جملے نکلتے ہمارے منہ سے جسے سن کر ہم انجوائے بھی کرتے اور شرم بھی آتی آنٹی نسرین نے بہت بار ہمیں کہاں کے میرے سامنے ہے کر لیا کرو سیکس کونسا مجھے نہیں پتہ سب کچھ تو میں دیکھ چکی ہوں لیکن پتہ نہیں عجیب سی جھجھک تھی اِس لے ہم انکار کر دیتے اس سنڈے کو جب آنٹی نے نسرین آنٹی کے بارے میں پوچھا تھا تو صبح سے میری نظر بھی نسرین آنٹی کے لیئے اور طرح تھی جس کو نسرین آنٹی اور شبانہ آنٹی دونوں نے ہے نوٹ کر لیا تھا اور نسرین آنٹی نے تو شبانہ آنٹی کے کچن میں جانے کے بعد اتنا بھی کہہ دیا تھا کے شاہ آج خیر ہے نا مجھ پے کیوں گندی نظر رکھے بیٹھے ہو اور زور سے ہنس دی جس پے میں شرمندہ سا ہو گیا اور کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں اِس واقع کے کچھ دن بعد کی بعد کی بات ہے کے آنٹی شبانہ نے مجھے کال کی اور کہا کے اِس ہفتے کو میرا بیٹا آ رہا ہے اور میں نے اس کے ساتھ گاؤں جانا ہے لیکن نسرین ساتھ نہیں جا رہی کیا تم اس کے پاس رہ سکتے ہو میرے لیئے کچھ مشکل تو تھا کیوں کے اب بندہ گھر ہر سنڈے کو تو بہانہ کر کے نہیں نا جا سکتا لیکن میرے دِل میں لالچ بھی تھا کے کیا پتہ نئی آنٹی کا مزہ بھی مل ہے جائے. میں بنا سوچے ہی آنٹی کو ہاں کر دی اور پِھر سوچنے لگا گھر کیا بہانہ کروں گھر میں مجھے زیادہ پوچھتا تو کوئی نہیں تھا کیوں کے سب کو پتہ تھا آفس اور گھر کے سب کام وقت پے کرتا تھا اور کسی کو میری وجہ سے کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن پِھر بھی روز روز ایسا کرنا بھی شک میں ڈال سکتا تھا اِس لے اِس بار میں نے گھومنے کا بہانہ نہیں بنایا اور ایک کزن کے پاس لاہور جانے کا بہانہ بنایا اسے کال کر کے کہہ دیا کے میں دوستوں کے ساتھ ناراں کاغان جانا چاہتا ہوں پر ابو نہیں مان رہے تو تمھارے پاس اینے کا کہہ کر جا رہا ہوں جس پر وہ راضی ہو گیا مجھے اتنا جھوٹ بولنا پڑے گا کبھی سوچا نا تھا لیکن ایک پھدی بھی کیا کیا کرواتی ہے اِس لے بہانے کرنے ہی پڑے اور میں بےصبری سے ہفتے کا انتظار کرنے لگا جیسے کیسے کر کے ہفتے کا دن آیا میں آفس سے تھوڑا جلدی چھٹی لے کر آ گیا کیوں کے اگر لیٹ نکلتا تو گھر والو کو شک ہوتا کے اتنا دور جانا ہے اور اتنی لیٹ کیوں جا رہا ٹائم سے کیوں نہیں گیا آفس سے گھر آیا اور بائیک گھر ہے کھڑی کی اور سامان کا بیگ لے کر گھر سے نکل گیا آنٹی کو بتایا کے میں گھر کیا بہانہ بنایا اور اب کہا ہوں تو آنٹی نے کہا کے ہم لوگ تو نکل گئے گھر سے لیکن تم اتنی جلدی گھر نا جانا تھوڑا لیٹ جانا اِس لے میں ٹائم پاس کے لئے کسی ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں گھر سے یا آفس سے کوئی دیکھ نا لے تو مجھے یہی ذہن میں آیا کے ابھی پیروھائی اڈے کی طرف چلا جاؤں اگر کسی نے دیکھا بھی تو شک تو نہیں کرے گا مغرب تک کا انتظار کیا مغرب کے بعد نکلا اور سیدھا آنٹی کے گھر گیا آنٹی کے بارے میں سوچ سوچ کر ہی میرا دِل باغ باغ ہو رہا تھا اور کہی نا کہی دِل میں ڈر بھی تھا کے پتہ نہیں کچھ ایسا ویسا تو نہیں ہو گا کچھ غلط نا ہو جائے جب میں گھر پہنچا تو آنٹی دیکھ کر حیران ایسے ہوئی جیسے انہیں پتہ ہی نا ہو کے میں نے آنا ہے اور میرا بیگ دیکھ کر پوچھا کے تم کہیں جا رہے ہو کیا میں نے کہا نہیں میں تو یہی آپ کے پاس آیا رہنے تو کہنے لگی تمہاری معشوق نئے بتایا نہیں تمہیں وہ تو گاؤ چلی گئی ہیں میں نے کہا بتایا تو ہے تو کہنے لگی پِھر یہاں کا رستہ کیسے بھول گئے اس ٹائم مجھے سمجھ آیا کے یہ آنٹی شبانہ کا اپنا پلان تھا انہوں نے آنٹی کو نہیں بتایا کے میں آ رہا ہوں پِھر آنٹی نے مجھے بٹھایا اور کہا میں چائے لے کر آتی ہوں آنٹی چائے لے کر آئی اتنی دیر میں میں واشروم جا کر فریش ہو کر آیا آنٹی چائے لے کر آئی تو پوچھا یہاں آنے کے لئے بیگ کی کیا ضرورت تھی میں نے آنٹی کو ساری بات بتائی تو آنٹی نئے کہا کے اگر تم نا بھی آتے تو کونسا میں نے ناراض ہو جانا تھا میں نے کہا نہیں آنٹی آپ کو گھر میں اکیلا کیسے چھوڑتا تو کہا ہاں واقعی مجھے اکیلا گھر میں دیکھ کر کیسے چھوڑتے اور ساتھ ہے ہنس دی مجھے سمجھ تو آ گئی لیکن میں کیا بولتا کچھ دیر ہم نئے گپ شپ کی اور ٹی وی دیکھنے لگ گئے جس میں اتنا مزہ نا آیا تو آنٹی نے کہا تم بیٹھو میں كھانا لگا دیتی ہوں پِھر گپ شپ کرے گے ٹی وی دیکھنے میں تو مزہ نہیں آ رہا۔
    1 like
  9. کلاؤڈ پریمیم میں اپگریڈ کے بعد آپ کو مزید 2 ناولز سیکشن کی ایکسس مل جائے گی ۔ یعنی کہ ٹوٹل 4 پریمیم سیکشن جبکہ ابھی آپ کو صرف 2 سیکشن کی ایکسس حاصل ہے ۔ مجھے اپنے رپلائی سے کنفرم کر دیں ۔ کہ آپ اپگریڈ کرنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ تاکہ آپ کی پینڈنگ ٹرانزیکشن کو اپروول یا واپس کیا جا سکے ۔ @notbad
    1 like
  10. 8 downloads

    صنم از ماہر جی ۔ مکمل ناول
    1 like
  11. دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں عنبرین حسیب عنبر دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو ،تم بھی ناں دے جاتے ہو مجھ کو کتنے رنگ نئے جیسے پہلی بار ملے ہو ،تم بھی ناں ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں مجھ میں ایسے آن بسے ہو، تم بھی ناں عشق نے یوں دونوں کو آمیز کیا اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو ،تم بھی ناں خود ہی کہو اب کیسے سنور سکتی ہوں میں آئینے میں تم ہوتے ہو ،تم بھی ناں بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو اشکوں میں بھی تم بہتے ہو، تم بھی ناں میری بند آنکھیں تم پڑھ لیتے ہو مجھ کو اتنا جان چکے ہو ،تم بھی ناں مانگ رہے ہو رخصت اور خود ہی ہاتھ میں ہاتھ لئے بیٹھے ہو، تم بھی ناں
    1 like
  12. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم احمد فراز اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شب فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فرازؔ ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم
    1 like
  13. سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اسکی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اسکو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اسکو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اسکی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اسکو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اسکی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اسکا طواف کرتی ہیں چلے تو اسکو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اسکے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کرجائیں فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
    1 like
  14. تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو کیفی اعظمی۔
    1 like
  15. کیسے بتاوْں میں تمہیں، میرے لیئے تم کون ہو تم دھڑکنوں کا گیت ہو، جیون کا تم سنگیت ہو تم زندگی، تم بندگی، تم روشنی، تم تازگی، تم ہر خوشی، تم پیار ہو، تم پریت ہو، من میت ہو آنکھوں میں تم، سانسوں میں تم آہوں میں تم، نیندوں میں تم خوابوں میں تم، تم ہو میری ہر بات میں تم ہو میرے دن رات میں تم صبح میں، تم شام میں تم سوچ میں، تم کام میں میرے لیئے پانا بھی تم، میرے لیئے کھونا بھی تم میرے لیئے ہنسنا بھی تم، میرے لیئے رونا بھی تم اور جاگنا سونا بھی تم، جاوْں کہیں، دیکھوں کہیں تم ہو وہاں تم ہو وہیں کیسے بتاوْں میں تمہیں، تم بن تو میں کچھ بھی نہیں کیسے بتاوْں میں تمھیں میرے لیے تم کون ہو یہ جو تمہارا روپ ہے، یہ زندگی کی دھوپ ہے چندن سے ترشا ہے بدن، بہتی ھے جس میں اک اگن یہ شوخیاں ،یہ مستیاں، تم کو ہواوْں سے ملیں زلفیں گھٹاوْں سے ملیں، ہونٹوں میں کلیاں کھل گئیں آنکھوں کو جھیلیں مل گئیں چہرے میں سمٹی چاندنی، آواز میں ہے راگنی شیشے کے جیسا انگ ہے، پھولوں کے جیسا رنگ ہے ندیوں کی جیسی چال ہے، کیا حسن ہے کیا حال ہے یہ جسم کی رنگینیاں، جیسے ہزاروں تتلیاں تمہارے جسم کا یہ لمس، یہ نگریاں ہیں خواب کی کیسے بتاوْں میں تمہیں، حالت دل بیتاب کی کیسے بتاوْں میں تمہیں میرے لیے تم کون ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں، میرے لیئے تم دھرم ہو، میرے لیئے ایمان ہو تم ہی عبادت ہو میری، تم ہی تو چاہت ہو میری تم ہی میرا ارمان ہو، تکتی ہوں میں ہو پل جسے، تم ہی تو وہ تصویر ہو تم ہی میری تقدیر ہو تم ہی ستارا ہو میرا، تم ہی نظارا ہو میرا کس حال میں میرے ہو تم، جیسے مجھے گھیرے ہو تم پورب میں تم، پچھم میں تم اتر میں تم، دکھن میں تم سارے میرے جیون میں تم ہر پل میں تم، ہر چھل میں تم میرے لیئے رستہ بھی تم، میرے لیئے منزل بھی تم میرے لیئے ساگر بھی تم، میرے لیئے ساحل بھی تم میں دیکھتی تو تم کو ہوں، میں سوچتی تو تم کو ہوں میں جانتی تو تم کو ہوں، میں مانتی تو تم کو ہوں تم ہی میری پہچان ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں دیوتا ہو تم میرے لیے میرے لیئے بھگوان ہو کیسے بتاوْں میں تمہیں میرے لیے تم کون ہو
    1 like
  16. @Hanjvi962 آج اس ممبر کو اپنا کلاؤڈ پریمیم اکاؤنٹ اپنے دوستوں سے شیئر کرنے کی وجہ سے فورم سے بین کر دیا گیا۔اس ممبر کے اکاؤنٹ میں موجود تمام سیئرئل ناولز کی اپڈیٹس اور پریمیم ناولز کو بھی اس کے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔اس ممبر کو 24 گھنٹوں کا وقت دیا گیا تھا ۔ تاکہ وہ اپنی غلطی مان لےاور اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے۔پہلے تو اس ممبر نے صاف انکار کیا ۔ مگر بعد میں اسے فورم کی طرف سے وائلیشن پروف کرنے پر اپنے آپ کو بے قصور گردانا۔فورم کی طرف سے اس ممبر کو تمام ثبوت سینڈ کیئے گئے۔جس پر اس ممبر نے قبول کیا کہ اس نے اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے ممبر سے شیئر کیا تھا ۔ اور معافی اور آخری موقعہ کی درخواست کی ۔ کیونکہ فورم میں اس خلاف ورزی کی کوئی معافی نہیں ۔ الہذا اس ممبر کو فورم سے لائف ٹائم بین کر دیا گیا ہے۔اس ممبر کو نیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت بھی نہیں ہے ۔ اس کے تمام اکاؤنٹ اس وائلیشن کے لنک کی وجہ سے بین ہوتے رہیں گے ۔یہ ممبر اب اس فورم کا ممبر نہیں بن سکے گا ۔ایسے لوگوں کو واقعی عزت راس نہیں آتی۔ جو ایسی اوچھی حرکتیں کرتے ہیں۔اور فورم کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کرتے ہیں۔
    1 like
  17. محبتیں خیرات ہوتی تو ہم تیرے لیے مذاروں پر بیھٹے ہوتے منت کے دھاگوں سے ملتی تو کوئ ایسا مزار نہ ہوتا جہاں میں تیری منت کا دھاگہ نہ باندھ کر نہ آتا لیکںن یہ تو اعزاز ہیں اور اعزازات تو نصیب والوں کو ملتے ہیں
    1 like
  18. دوستوں امید ہے کہ سب خیریت سے ہوں گے ۔۔لیٹ ہونے کے لیئے معذرت خواہ ہوں کچھ نیو جاب کی وجہ سے مصروفیات بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے پراپر ٹائم نہیں دے پا رہا لیکن آپ دوستوں کو تھوڑا لیٹ سہی لیکن اپڈیٹ ملے گی ضرور ۔ شکریہ گل لالا ٭٭٭٭٭٭ قسط نمبر 12 شہزاد۔۔۔۔ کیوں تمہیں پسند نہیں آیا کیا؟ ثمرین۔۔۔۔ ہاں آئی ویسے میٹھے تو تم بھی ہو شہزاد۔۔۔۔ تو پھر ایک اور ہو جائے ۔ ثمرین۔۔۔۔ ہٹ گندا بدمعاش بہت بولنے لگ گیاہے تو تیرا کچھ کرنا ہی پڑے گا شہزاد۔۔۔۔ تو کر دو نا میں بھی تو یہی چاہتا ہوں ثمرین جانی لگی جب دروازے پر پہنچی تو ایک دم واپس ہوئی ۔۔۔۔ اور شہزاد کو دھکا دے کر بیڈ پر گراکر اُس کے اُپر چھڑگئی ۔۔اور کہا ثمرین۔۔۔۔اب بول گندے کیا بول رہا تھا۔۔۔۔یہ بولتے ہی اُس نے شہزاد کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔۔۔ اور شہزاد کے ہونٹوں کو چوسنے لگی ۔۔۔۔ شہزاد بھی ساتھ دینے لگا۔۔۔۔اور دونوں دُنیا سے بے خبر ہوکر پھر سے کسنگ کے مزے میں ڈو ب گئے۔۔ثمرین چونکہ شہزاد کے اوپر چھڑ کر بیٹھی تھی یعنی اپنی دونوں ٹانگیں گھٹنوں کے بل شہزاد کے دائیں بائیں رکھ کر شہزاد پرجھکی کسنگ کر رہی تھی۔۔شہزاد کا لنڈ تو ویسے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔ اب جو اس کے ساتھ اس طرح کا سین ہوا تو ۔۔۔ اُس کے لن صاحب نے بھی ثمرین کےچوتڑوں پر دستک دینی شروع کر دی ۔۔۔۔ اور لن کی دستک محسوس کر کے ثمرین ایک لمحے کے لئے ساکت ہوگئی۔۔۔۔ لیکن پھر اُس کا پورا جسم جھنجنا اُٹھا۔۔۔ اور اُس کے چوتڑ خود بخود شہزاد کے لن پر نیچے کی طرف دبے۔۔۔۔جیسے ہی ثمرین کے چوتڑوں نے شہزاد کے لن پر دباؤ ڈالا شہزاد نے خود بخود اپنے لن کو ثمرین کے چوتڑوں میں اُس کی چوت کے اوپر سے رگڑدیا۔۔۔۔ شہزاد کے لن کی رگڑ سے ثمرین ایسے کانپی جیسے اُس کو بجلی کا جھٹکا لگا ہو۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اُس کے منہ سے شہزاد کے منہ میں سسکاری سی نکلی سسس ہمم ۔ہمم۔۔۔۔۔ اور شہزاد کو اور کس کے پکڑلیا۔۔۔۔۔ شہزاد نے بھی اپنے بازوں کیونکہ اُس کی کمر کے گرد کسے ہوئے تھے لیکن آرام سے تو اُس کے ہاتھوں نے بھی حرکت شروع کر دی ۔۔۔ اور ثمرین کی کمر سہلانے لگے ۔۔۔۔۔ شہزاد کے ذہن میں فریال کے ساتھ ہوئے سیکس کے سین فوراً تازہ ہوگئے ۔۔۔۔ جیسے فریال نے اُس کے لنڈ پر بیٹھ کر اندر لیا تھا اور اُس پر اوپر نیچے ہورہی تھی ۔۔۔ اب یہاں پر شہزاد نے وہی کام شروع کر دیا اور نیچے سے ثمرین کی چوت پر اپنے لن سے رگڑے دینے لگا ۔۔۔ ثمرین شہزاد کے لن کی رگڑیں اپنی چوت پرمحسوس کر کرے اور زیادہ شہزاد کے اوپر چپک گئی اور اُسے کے ہونٹوں کو اور زیادہ جوش سے سک کرنے لگی ۔۔۔۔ شہزاد کے ہاتھ ثمرین کی کمر پر سے ہوتے ہوئے اُس کی چوتڑوں پر پہنچے اور اُس نے ثمرین کے چوتڑوں کو دبانے اور مسلنے لگا۔۔۔۔۔ شہزاد کا ثمرین کے چوتڑوں کا مسلنہ تھا کہ ثمرین ۔۔۔۔ مزے سے اور زیادہ مدہوش ہوگئی اور اپنی چوت کو شہزاد کے لن پر خود بھی رگڑنے لگی ۔۔۔۔۔۔ شہزاد بھی مزے کے سمندر میں ۔۔۔ اور آگ اُگلتے چوت کی تپش کو محسوس کرتے ہوئے اُس کے ہاتھ اور زیادہ آوارہ ہونے لگے ۔۔۔۔۔اُس نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ثمرین کی گانڈ کے دراڑ میں پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ دونوں طرف کی گولایوں کو دبا بھی دیتا۔۔۔۔اب ثمرین کی برداشت ختم ہوچکی تھی اور اُس کا جسم کانپنے لگا ثمرین شہزاد کے ہونٹ چھوڑتے ہوئے اور کانپتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔مم مم مج مجھے کچھ ہوووورہاااااا ہےےےے۔۔۔۔۔۔ پپ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔ مم میری ی ی ی ی۔۔۔۔ جاااااان ۔۔۔نکککل رہی ہےےے۔۔۔۔۔۔ مم مم۔۔۔۔۔ اور ایسا کہتے ہی اُس کا جسم لرزا اور اُس کی چوت کا بند کھل گیا ۔۔۔۔ اور وہ جھڑنے لگی ۔۔۔۔ساتھ ساتھ اُس کا جسم جھٹکے لے رہا تھا ۔۔۔۔۔ شہزاد نے اُس کو کس کر اپنے ساتھ چپکالیا اور اُس کے چہرے کو چومنے لگا۔۔۔۔۔مکمل جھڑنے کےبعد ثمرین شہزاد کے سینے پر ڈھے گئی ۔۔۔۔ جیسے اُس کے جسم سے روح نکل گئی ہو۔۔۔۔۔ لیکن اُس کی زوردار دھڑکنیں شہزاد اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔ثمرین اتنا زیادہ جھڑچکی تھی کے اُس کی پینٹی ۔۔ اور شلوار تو بھیگی ہی بھیگی ساتھ ساتھ اُس نے شہزاد کے شلوار اور اُس کے لن کو بھی گیلا کردیا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ شہزاد کا لن اُس کی چوت سے چپکا ہوا تھا۔۔۔۔اس لیئے اُس کو بھی ثمرین کے چوت کے پانی کا احساس ہورہا تھا ۔۔۔۔ ثمرین ایسے ہی تھوڑی دیر شہزاد کے سینے پر لیٹی رہی ۔۔۔۔۔ پھر جیسے ہی اُس کو ہوش آیا کہ کیا ہوچکا ہے اُس کے ساتھ تو وہ شرم سے لال سُرخ ہوگئی ۔۔۔۔ اور شہزاد کے سینے سے اُٹھی ۔۔۔۔ شہزاد سے اپنے آپ کو چھڑایا ۔۔۔اور کہا ثمرین ۔۔۔۔۔ بدمعاش لڑکے ۔۔۔۔اور جلدی سے کمرے سے باہر جانے کے لیئے مڑگئی ۔۔۔ شہزاد۔۔۔۔ کہاں جاری ہو۔۔۔۔۔ رکو نہ ۔۔۔۔ ثمرین ۔۔۔۔۔ مم جھے کام ہے ۔۔۔۔۔ میں بعد میں آتی ہوں۔۔۔۔ کہتے ہوئے جلدی سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔ شہزاد ایسے ہی تھوڑی دیر لیٹا اپنی سانسوں کو درست کر رہا تھا ۔۔۔۔ اس کے بعد اُٹھا اور اپنی شلوار کو دیکھنے لگا ۔۔۔ جس پر ثمرین کی چوت کا پانی لگا ہوا تھا ۔۔۔ ۔۔ ابھی وہ اپنی شلوار کو دیکھ ہی رہا تھا کہ فریال مسکراتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوئی اور بولی فریال ۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو منے ۔۔؟ شہزاد ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں چاچی ۔۔ فریال ۔۔۔۔۔ تو اپنی غلطی ٹھیک کر لی تم نے۔۔۔۔؟ شہزاد۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔ تو آپ نے سب دیکھ لیا۔۔۔۔۔ آپ بہت گندی ہو فریال۔ ۔۔۔۔۔چھااااا۔۔۔ تو اب میں گندی ہو گئی ہوں۔۔۔۔ بھی کیوں ناہوں بھلا میرا کیا مقابلا اب ثمرین سے۔۔۔۔ وہ ٹھری کچھی کلی اور میں کچھ بھی نہیں اُس کے سامنے۔۔۔۔ شہزاد۔ ۔۔۔۔۔چاچی آپ ایسی باتیں کیوں کرتی ہو۔۔۔ آپ کی جگہ کوئی بھی نہیں لے سکتا فریال۔ ۔۔۔۔۔اچھا ااااا میرے منے ۔۔۔۔۔۔ویسے کیا ہواہے ۔۔۔۔ تم کیا دیکھ رہے ہو اپنی شلوار میں ۔ شہزاد۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔ بس پتہ نہیں کیسے گیلا ہوگیا ہے اور یہ کچھ چپ چپا سا ہے فریال۔۔۔۔۔ مجھے دیکھاؤ کیا ہے فریال نے آگے بڑھ کر شہزاد کے شلوار کو دیکھا ۔۔۔۔ اور ہنسے لگی ۔۔۔۔کیونکہ وہ پہچان گئی تھی کہ ثمرین کی چوت کا پانی نکل کے شہزاد کی شلوار پر لگا ہے ۔۔۔۔ شہزاد ۔۔۔۔۔ کیا ہوا چاچی آپ اس طرح کیوں ہنس ہری ہے ۔۔۔۔ ؟ فریال ۔۔۔۔۔ میں اس لیئے ہنس رہی ہوں کہ اب سمجھ میں آیا کہ ثمرین کیوں تمہارے روم سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔ کیونکہ تم نے اُس کی چوت کا پانی نکال دیا بغیر اُس کو چودے ۔۔۔ اور اپنے آپ کو صاف کرنے کے لیئے بھاگی اپنے کمرے میں ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے فریال نے شہزاد کے لن کو پکڑ لیا کیونکہ وہ ابھی تک جھٹکے کھا رہا تھا ۔۔۔۔ شلوار پر ثمرین کی چوت کا پانی لگنے کی وجہ سے شلوار شہزاد کے لن کے ٹوپے پر چپکی ہوئی تھی اور لن کا ٹوپا اپنا جلوا دکھا رہا تھا ۔۔۔۔ فریال ویسے ہی شہزاد اور ثمرین کا سین دیکھ کر گرم ہوچکی تھی ۔۔۔۔ اُوپر سے شہزاد کے لن کا جلوا دیکھ رکر اُس سے رہا نہ گیا اور شہزاد کا لن پکڑ لیا اور کہا فریال۔ ۔۔۔۔۔یہ اب بھی ایسی ہی کھڑا ہے۔۔۔۔؟کیا یہ ہر وقت ایسی ہی کھڑا رہتا ہے۔۔۔۔؟ شہزاد۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔چاچی۔۔۔۔۔ نہ کرو نا۔۔۔۔ ہممم ۔۔۔ شہزاد اب کی ثمرین کے ساتھ کی مستی سے کافی گرم ہوچکا تھا۔۔۔۔ اوپر سے جب فریال نے ڈائریکٹ اُس کا لنڈ پکڑا تو شہزاد کی بھی چونسٹھ پر لگی ۔۔۔ اور اُس نے آگے بڑھ کر فریال کو جھپی ڈال لی اور اور اُس کے چہرے پر جھک کر اُس کو چومنے لگا۔۔۔۔۔۔فریال بھی تو پہلے سے ہی گرم ہوچکی تھی اوپر سے شہزاد کے چومنے پر اُاس نے شہزاد کے ہونٹ جیسے ہی اُسکی چہرے پر چومتے ہوئے ہونٹوں کے قریب آئے اُس نے شہزاد کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں پکڑ کر کس کرنے لگی اور شہزاد بھی اُس کا ساتھ دینے لگا۔۔۔۔اور اپنے ایک ہاتھ سے فریال کے ممے کو پکڑ کر مسلنے لگا ۔۔۔۔ شہزاد کے فریال کے ممے کوپکڑکے مسلنے سے فریال ایکدم اُتاولی ہوگئی ۔۔۔ لیکن وہ ہوش میں تھی ثمرین کی طرح نوآزمودہ نہیں تھی ۔۔۔۔ اُس نے شہزاد کو چھوڑا ور اُٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔ اور واپس آکر شہزاد کے کو کس کر جھپی ڈال کر پھر سے کسنگ کرنے لگی۔ پھر فریال نے شہزاد کو دھکا دے کر بستر پر گرادیا اور اُس کے اُوپر چھڑ کر بیٹھی گئی اور شہزاد کو کس کرنے اور چومنے لگی۔۔۔۔شہزاد نے اپنی زبان فریال کے منہ میں ڈال دی جس کو فریال نے چُوسنا شروع کر دیا شہزاد نے ہاتھوں نے آوارگی شروع کر دی اور فریال کی کمر اور چوتڑوں پر پھرنے لگے ۔۔۔۔ کبھی گانڈ کی ایک سائیڈ کی پہاڑی کو دباتے کبھی دوسری سائیڈ کی پہاڑی پر قبضہ کرتے ۔۔۔۔۔پھر شہزاد نے اپنا ہاتھ فریال کے گانڈکے دراڑ میں پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔ تو فریال پر کپکپی طاری ہوگئی ۔۔۔۔ شہزاد نے اپنے ہاتھ فریال کے بغلوں میں دے کر اُس کو اپنے اوپر سے ہٹا کر سائیڈ پر لیٹایا اور اُس کی طرف کروٹ لے کر اُس کو چومتا ہوا اُس کی گردن پر آیا ایک ہاتھ سے اُس کے مموں کو مسلنے لگا ۔۔۔۔ پھر اُس کی گردن کو چومتے ہوئے اُس کے کھلے گلے پر آکے اُس کے سینے کلیویج پر اپنی زبان پھیرنے لگا۔۔اور پھر فریال کی قمیض پکڑ کر اُسے اوپر کر کے اُتارنے لگا تو فریال نے کہا فریال ۔۔۔۔۔ اتنی ہی ٹھیک ہے کوئی آگیا تو جلدی سے ٹھیک ہوجائے گی ۔۔۔ نہیں تو دیر کرنے پر کوئی اُلٹا سیدھا سمجھے گا۔۔۔۔ شہزاد ۔۔۔۔ ٹھیک ہے چاچی۔۔ اور پھر بریزر تھوڑے اُوپر کر کے مموں کو چوسنے لگا۔۔۔اور فریال سسکیاں بھرنے لگی۔۔۔۔ شہزاد بہت دل جمعی سے فریال کے مموں کو چوس رہا تھا اور کبھی اس کے انگوری نپلز کو ہونٹوں میں پکڑ کر دبادیتا اور کھینچتا ۔۔۔۔ تو پپ کی آواز سے وہ چھوٹ کر پر سے فریال کے سینے پر براجمان ہوجاتے اور اور اپنی اکڑ دکھاتے ۔۔۔۔ اور شہزار پھر سے اُن پر ٹوٹ پڑتا۔۔۔۔شہزاد کے ایسا کرنے سے فریال مانو مزے کی انتہا پر ڈھولنے لگی ۔۔۔۔۔۔ایسا ہی کرتے کرتے شہزاد نے اپنا ہاتھ فریال کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے نیچے لے جانے لگا ۔۔۔۔۔۔ فریال کے جسم میں بجلی کی لہریں سی دوڑنے لگی ۔۔۔۔ اور شہزاد ہاتھ پھیرتے پھیرتے نیچے فریال کی چوت پر لے لگے شلوار کے اُپر سے ہی وہ فریال چوت پر ہاتھ پھیرنے اور چوت کو مسلنے لگا۔۔۔۔ فریال سسکیاں لیتے ہوئے تڑپنے لگی ۔۔۔۔ اور شہزاد کو اپنے ساتھ بھیچنے لگی ۔۔۔۔۔ ادھر شہزاد مسلسل اُس کے مموں پر چپکا ہوا تھا اور اُن کو چوس رہا تھا کبھی ایک پر حملہ کرتا تو کبھی دوسرے پر ۔۔۔۔۔ فریال۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ اُففففف۔۔۔۔۔ اااااایسساااا ہی کرتےےے رہوووووو۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ وئ ی ی ی ی ۔۔۔۔ مم میرررررےےے منےےےے۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ فریال کی سسکتی جاری تھی اور تڑپ رہی تھی۔۔۔۔ شہزاد نے نیچے سرکتے ہوئے فریال کی شلوار نیچے کردی اور اپنی شلوار کا ناڑا کھولنے لگا تو فریال نے جلدی سے اپنی شلوار اپنے پیروں سے نکال کر ایکطرف کر دی اور شہزاد کا لوڑا پکڑ لیا ۔۔۔۔ شہزاد نے جیسے ہی ناڑا کھولا ۔۔۔ فریال نے اُس کی شلوار کو نیچے کسکا دیا۔۔۔۔۔۔ اور اُس کا لوڑا پکڑ کر اپنے ہاتھ اُس پر آگے پیچے کرنے لگی مٹھ مارنے والے انداز میں ۔۔۔۔۔ شہزاد کا لنڈ فل جوبن پر تھا اور جھٹکے مار رہا تھا جیسے ناگ پھن پھیلا کر جھومتا ہے ۔۔۔۔۔ اُس نے فریال کی ٹانگوں کے بیچ میں خود ایڈجسٹ کیا ۔۔۔۔ تو فریال شہزاد کے لن کو اپنی چوت پر مسلنےلگی کیونکہ اُس کی چوت پانی پانی ہوچکی تھی اور وہ شہزاد کے لن کو گیلا کر رہی تھی تاکہ اندر جاتے ہوئے اُس کو زیادہ تکلیف نہ دے ۔۔۔۔ کیونکہ سوکھا سوکھا تو اُس کی چوت کو چھیر دیتا ۔۔۔۔ اور اُس کو پتہ تھا کہ شہزاد کو اتنا نہیں پتہ وہ تو ڈالنے کی ہی کرے گا۔۔۔۔۔ اور واقعی شہزاد نے اپنے لن سے اُس کی چوت پر دھکے دینے شروع کر دیئے۔۔۔۔۔۔ تو فریال نے شہزادکو روک کر اُس کے لن کو اپنی چوت کے سوراخ پر جمایا اوراشارہ کیا کے کہ اب لگا دھکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ شہزاد نے جب دھکا مارا تو اُس کے لن کا ٹوپا چوت کی دیواروں کو چھیرتا ہوا اندر گھسا ۔۔۔۔۔ اور فریال نے درد کے مارے اپنی آنکھیں بند کر کے دوسرے ہاتھ سے اپنے منہ کو کس کر پکڑلیا۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اناڑی سے چود رہی ہے اور اور وہ شروع میں ہی اس کی پھاڑ کر رکھ دے گا۔۔۔۔ بعد میں تو ویسے ہی مزے آنے ہے لیکن شروع میں اُس کے منہ سے چیخ نہ نکلے۔۔۔۔۔۔۔شہزاد کی نظریں اپنے لوڑے اور فریال کی گلابی چوت پر جمی ہوئی تھی وہ کیونکہ آج اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا نظارہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ کہ لن کو چوت میں غائب ہوتے دیکھ کر اُس پر مدہوشی سی طاری ہورہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کا لن فریال کی چوت میں جا کر پھنس گیا تھا ۔۔۔۔ اُس نے اُس کو واپس کھینچا اور ٹوپے تک باہر نکالا اور اُس کے بعد لن اور چوت کے میلاپ کو دیکھتے ہوئے پورے جوش سے ایک زبردست دھکا لگایا لیکن فریال نے شہزاد کے لن باہر نکالتے وقت ہی آنکھیں کھول دی تھی اور اُس کی نظریں کیونکہ شہزاد کے چہرے پر ہی جمی ہوئ تھی اُس نے اپنے ہاتھ سے شہزاد کے پیٹ پر بلاک لگا دیا جس کی وجہ سے شہزاد کا زبردست دھکا اپنے پورے زور سے نہ لگ سکا لیکن پھر بھی شہزاد کا آدھے سے زیادہ لنڈ فریال کی چوت میں غائب ہوتا شہزاد نے دیکھا اور مزے کے مارے فریال پر گرپڑا ۔۔۔۔۔ اور فریال درد کے مارے تڑپ کر رہ گئی لیکن اُس نے اپنے منہ پر سختی سے جمے ہاتھ کو اور زیادہ مظبوطی سے جما دیا تھا۔۔۔۔ فریال کے سینے پر گرتے ہوئے شہزاد کی نظریں فریال کی نظروں سے ملی تو شہزاد کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ جوش و جذبات میں دیھان نہیں دے سکا ۔۔۔۔۔ اور فریال کو تکلیف دے چکاہے ۔۔۔۔کیونکہ اُس نے فریال کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو دیکھ لیئے ۔۔۔۔ شہزاد یہ دیکھ کر تڑپ گیا اور فریال کے آنسوں پر زبان پھیرنے لگا اور اُس کو چومنے لگا۔۔۔۔۔۔اور کہا شہزاد ۔۔۔۔۔۔ سوری چاچی ۔۔۔ مم مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا۔۔۔۔ فریال نے زبان سے کچھ بولے بنا آنکھیں بند کرکے اپنا سر ہلا کر اشارہ کیا کہ وہ سمجھتی ہے کہ شہزاد کو کیا ہوا ہوگا ۔۔۔۔ پہلی بار اس طرح وہ خود لنڈ کو چوت میں گھستے ہوئے دیکھ کر خود پر کنٹرول نہیں کر سکا ہوگا کیونکہ پہلے اُس نے کبھی دیکھا جو نہیں تھا۔۔۔ پھر شہزاد فریال کو نارمل کرنے میں لگ گیا پچھلی بار کی طرح۔۔۔۔ اور اُس کے مموں کو دبانا اور چومنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ شہزاد پھر سے انگوری نپلز کو چوسنے لگا اور ہونٹوں میں دبا کر کھنچنے لگا ۔۔۔۔جس سے تھوڑی ہی دیر میں فریال کو بھی مزہ آنے لگا۔۔۔۔۔۔جیسے ہی فریال کا درد ختم ہوا اس نے اپنی کمر ہلا کر اشارہ کیا ۔۔۔۔ تو شہزاد نے اس کے شارے کے ساتھ ہی آہستہ آہستہ دھکے مارنے شروع کر دیئے۔ جس سے فریال کو بھی مزہ آنے لگا ۔۔۔ اور وہ سسکنے لگی ۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔ بہت ظالم لنڈہے تیرا ۔۔۔۔ اُففف ۔۔۔مار ہی ڈالتا ہے پہلے گھسے میں ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ۔۔۔اُففف۔۔۔ ہائےےے فریال بھی اب کمر اُٹھا اُٹھا کر ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔۔۔ تو شہزاد نے بھی اپنے دگھسوں کی رفتار تیز کردی ۔۔۔۔ اور لن اور پھدی کے پچ پچ شروع ہوگئی۔۔۔۔ فریال کی پھدی پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ اور لن چوت کے چکنے پانی میں میں روانی سے اندر باہر ہورہا تھا۔۔۔۔ دھکوں کی رفتار کی تیزی میں شہزاد کا لنڈ جب جڑ تک گھستا تو سیدھا پچہ دانی کے منہ پر جا کر لگتا تو فریال پورے جان سے کانپ جاتی اور اُس کی سسکاریاں نکل جاتی ۔۔افففف۔۔۔۔ ظالم لنڈ والے ۔۔۔۔ میرے منے ۔۔۔۔ تیرے چاچا نے بھی مجھے کبھی اتنا مزہ نہیں دیا ۔۔۔۔۔ اب لگ رہا ہے کہ میں چُد رہی ہوں ۔۔۔ آہہہہ ۔۔۔ہمممم ۔۔۔۔۔ ہائےےےےے۔۔۔۔شہزاد کو تو ہو ش ہی نہیں تھا وہ تو اوپر مموں پر چپکا ہوا تھا اور ممے چوس اور دبا رہا تھا اور ادھر دھکے پہ دھکا لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔ اور لن اور چوت کے سنگم سے بجنے والے ترنم میں کھویا ہوا تھا۔۔۔۔ اُس نے فریال کے مموں کو چوس اور رگڑ کر لال سُرخ کردیا تھا۔۔۔لیکن پھر بھی اُس کا دل نہیں بھر رہا تھا۔۔۔۔ کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو اور فریال نے بھی اُسے کے سر پرہاتھ رکھ کر اپنے مموں پر دبایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ فریال کو بھی بہت مزہ آرہا تھا کیونکہ ایسی کبھی اُس کے شوہر نے بھی نہیں اُس کے ممے نہیں چوسے تھے جیسے شہزاد چوس اور چاٹ رہا تھا۔۔۔۔ فریال کی سسکیاں جاری تھی ۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ میرے منے ۔۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ چود اپنی چاچی کو ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ اُففففف۔۔۔۔ ہاااائےےےے ۔۔۔ ۔۔ میرے منے مزہ آرہا ہے ۔۔۔۔۔۔ شہزاد۔۔۔۔ ہااااااں ۔۔۔چاچی تم بب بہت آچھی ہو۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ ممم مجھے مزے کروارہی ہووووو۔۔۔۔۔۔ فریال۔۔۔۔۔ اوہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ میرے منے میں تم کو بہت مزے کرواؤں گی ۔۔۔۔۔ بس اب تیز تیز چود ۔۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ ایسے ہی ۔۔۔۔۔ اُففففف ۔۔۔۔ ہااااااااں رکھنا نہیں۔۔۔۔ ہائےےےے۔۔۔۔۔۔آہاااااں ۔۔۔۔ میں مرگئی ۔۔۔۔ اُففففف۔۔۔۔ ہائےےےے اور یہ کہتے ہی فریال نے شہزاد کو کسی وحشی کی طرح جگڑ کر اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔۔۔ اور اُس کے جسم نے جھٹکے کھانے شروع کردئے۔۔۔۔۔ شہزاد بھی پورا لنڈ اندر ڈالے اُس کے اوپر لیٹا اُس کے مموں کو چوس رہا تھا ۔۔۔۔ اور پانے لنڈ کے ارد گرد گرم گرم الاؤ سا محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ اور فریال بہت بُری جھٹکے کے کر جھڑ رہی تھی اور شہزاد اُس کو محسوس کرکے آرام سے فریال کے سینے پہ لیٹے اُس کو چومے جارہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد جب فریال فارغ ہوکر سکون میں آگئی تو شہزا د نے سراُٹھا کر چاچی کو دیکھا ۔۔۔۔چاچی بھی اُس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی اور اُس کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا ۔۔۔آنکھوں میں کسی نشئی کسی طرح لال لال ڈورے سے تیر رہے تھے۔۔۔اُس نے شہزاد کی آنکھوں میں دیکھا اور شہزاد کے ادھورے نشے کو محسوس کر کے مسکرائی اور شہزاد کا چہرہ پکڑ کر اُس کو ایک جاندار کس کی اور کہا میری جان مجھے اتنا سکون کبھی تیرے چاچو کے کے ساتھ بھی نہیں ملا اور تو نے مجھے اتنا خوش اور پرسکون کیا میری خواہشوں کو جلا دی اور مجھے چودائی کا اصل مزہ دیا ۔۔۔۔ تو کیا میں توجھے ایسے ہی ادھورا رہنے دوں گی ۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ اب میں تیری ہوں اور تیرے کو جو کچھ چاہئے ہو۔۔۔ میں دوں گی ۔۔۔۔ جب تیرا دل کرے مجھے بتانا میں ۔۔۔۔۔ہر وقت تیرے لیئے تیار رہوں گی ۔۔۔جس کے ساتھ دل کرے مجھے بتانا ۔۔۔میں تمہار ساتھ دوں گی ۔۔۔ بس مجھے نہین بھولنا۔۔ شہزاد نے چاچی کو چوما ۔۔۔۔۔ اُس کا لن بدستور چاچی کی چوت میں جھٹکے لے رہا تھا اُس نے اپنے لن کو تھوڑا باہر کھینچا ۔۔ ۔۔۔ اور پھر اندر دھکا دیا تو فریال مسکرا دی اورکہا۔ فریال۔۔۔۔ چل شروع ہوجا میری جان ۔۔۔۔۔ اور کس کس کے میری چودائی کر ۔۔۔ میری چوت کا سارا پیاسا پن ختم کردے ۔۔۔۔۔ شہزاد نے یہ سُنتے ہی چاچی کے سینے سے اُٹھا اور اُس کی ٹانگوں میں سیدھا ہوکر بیٹھا ۔۔۔۔۔ فریال نے بھی اپنی ٹانگیں پوری طرح کھول کر شہزاد کو جگہ دی ۔۔۔۔۔ شہزاد نے چاچی کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے لن کو دیکھتے ہوئے باہر نکالا ۔۔۔۔۔۔ لن چوت کے پانی میں لتڑا ہوا چمک رہا تھا ۔۔۔ اور کسی ناگ کی طرح لہرا رہا تھا ۔۔۔۔ فریال کی نظریں بھی شہزاد کے چہرے پر تھی ۔۔۔ اور شہزاد کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اُسے نے سر اُٹھا کر دیکھا کہ شہزاد اتنے غور سے کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ جب اس نے نظر دوڑائی تو دیکھا شہزاد کبھی اپنے لن کو دیکھ رہا تھا اور کبھی اُس کی چوت کو جو کہ اپنے ہی پانی میں لتڑی ہوئی چمک رہی تھی اور لن چوت کے پانی میں لتڑا چمک رہا تھا ۔۔۔۔یہ دیکھ کر اُس کا چہرہ شرم سے اور لال سُرخ ہوگیا ۔۔۔اور اُس نے شہزادکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کراُس کو پکڑ کر اپنی طرف ہلکا سا جھٹکا دے کر اشارہ کیا کہ اب ڈال بھی دو اور کتنا ترساؤ گے ۔۔۔۔۔ شہزاد چاچی کا اشارہ سمجھ کر اپنے لن کو پکڑا اور لن کا ٹوپہ چاچی کی چوت پر رکھ کر ہلکا سا دبایا ۔۔۔ ٹوپہ پچ کی آواز سے اندر چلا گیا شہزاد کے چہرے پر کسی بچے کی طرح خوشی چمکی۔۔۔ اُس نے پرھ سے اپنے لنڈ کو باہر نکالا اور دوبارہ سے ایسا کیا ۔۔۔۔ اور جب تیسری دفعہ اُس نے اپنے لنڈ کا ٹوپہ فریال کی پھدی میں گھسایا تو فریال اور برداشت نہ کرسکی فریال نے اپنی ٹانگیں شہزاد کے کمر کے گرد لپیٹی اور اپنی ٹانگوں کے زور پر شہزاد کو اپنی طرف دھکا دیا تو شہزاد کا لن کچھ شہزاد کے ہلکے دھکے سے اور کچھ فریال کے دبانے سے پچ کے آواز کے ساتھ آدھا اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔ فریال کے اس جگڑن سے شہزاد سمجھ گیا کہ چاچی کیا چاہتی ہے ۔۔۔ اُس نے چاچی کے دونوں طرف اپنے ہاتھ جمائے ۔۔۔۔۔۔اور اپنے لن کو پیچھے کھینچا ٹوپے تک اور ایک جانداار دھکا مارا۔ آہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ ظالم ۔۔۔۔۔تیرا گھسا پورا اندر تک ہلا دیتا ہے ۔۔۔۔ ایسے ہی کر۔۔۔۔۔ فریال شہزاد کے دھکے پر سسسکتے ہوئے بولی۔۔۔ کیونکہ اُس کی چوت پھر سے تیار ہوچکی تھی اور ہلکا ہلکا پنی چوڑنے لگی تھی شہزاد نے یہ سُننا تھا کہ دوبارہ سے لن کو ٹوپے تک کھینچا اور ایک اور جاندار گھسا مارا ۔۔۔۔۔ اس کے بعدشہزاد شروع ہوگیا ۔۔۔۔ دے دھنا دھن ۔۔۔۔ دے دھنا دھن ۔۔۔۔۔ پچ پچ ۔۔۔ تھپ تھپ ۔۔۔۔ پچ پچ ۔۔۔ تھپ تھپ۔۔۔ پچ پچ ۔۔۔ تھپ تھپ۔۔۔ پچ پچ ۔۔۔ تھپ تھپ۔۔۔ پچ پچ ۔۔۔ تھپ تھپ کمرے میں ایک ترنگ کے ساتھ لنڈ اور چوت کے ملاپ کا میوزک بجنے لگا۔۔۔۔۔ اور ساتھ ساتھ فریال کی سسکیاں اور شہزاد کے مزے سے ہلکی آوازیں اُس میں جدت پیدا کرنے لگی۔۔۔پانچ سے سات منٹ کی لگا تار زبردست چدائی کے بعد فریال ایک دفعہ پھر سے جھڑنے کو تیار ہوچکی تھی ۔ فریال۔۔۔۔ آہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ سسسس۔۔۔ ہمم ہممم ۔۔۔۔آہہہہ۔۔۔تت تیز تیز کرووووو۔۔۔۔ ممم۔۔۔آہہہہ ہ ہ۔۔۔اُفففف۔۔۔۔ شہزاد کو بھی اپنا لن پھولتا ہوا محسوس ہوا اُسے بھی لگ رہا تھا کہ اُس کے جسم سے جیسے شررارے دوڑنے لگے ہیں اُس کی سپیڈ خود بخود تیز سے تیز تر اور گھسے ایک سے بڑھ کر ایک جاندار لگنے لگے ۔۔۔۔۔ ادھر فریال نے اُس کو جھگڑا اپنی ٹانگوں اور بازوں میں اور جھٹکے کھاتے ہوئے جھڑنے لگی ۔۔۔ اپنے لن کو اور کود فریال کے کی چوت اور باہوں کے شکنجے میں پھنسا ہوا محسوس کرتے ہوئے شہزاد کوایسا لگا جیسے اُس کے جسم سے لن کے راست اُس کی جان ہی نکلنےلگ گئی ہو۔۔۔۔اور وہ بھی بےسود ہوکر فریال کے سینے پر ڈھے گیا ۔۔۔۔ اور اُس کا لن فریال کی پیاسی چوت کو سیراب کرنے لگ گیا۔۔۔۔اور فریال شہزد کے لن کا پانی اپنی چوت میں محسوس کرکے مدہوشی کے سمندر میں ڈھوبنے لگی۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔ دعاؤں میں یاد رکھیں
    1 like
  19. امید ہے سب دوست خیریت سے ہونگے۔ پیش خدمت ہے نئی قسط احساس پیار کا قسط نمبر 11 ثمرین۔ اچھا تم ایسا کرنا جب ہم دونوں اکیلے ہوں تب تم مجھے ثمرین کہا کرو۔۔۔۔۔ اور جب گھر والے پاس ہوں تو مجھے دیدی کہہ دیا کرو۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے ۔۔۔۔ شہزاد۔ ٹھیک ہے دیدی ثمرین۔ پھر سے دیدی ابھی تو ہم اکیلے ہیں نا۔۔۔۔ تم مجھ میرے نام سے بولو شہزاد۔ اوکے ۔۔۔ثمرین دیدی ثمرین۔ پھر سے؟۔۔۔۔۔ شہزاد۔ اچھا بابا ۔۔۔۔۔میں مذاق کر رہا تھا۔۔۔اب نہیں کہتا شہزاد اور ثمرین اب بھیایک دوسرے کے گلے ہی لگےہوئے تھے۔۔۔ اتنے میں فریال اندر داخل ہوگئی فریال۔ اوئے تم دونوں کیا کر رہو ثمرین۔ کچھ نہیں چاچی۔۔۔۔ اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی کہ اس نے میری سہیلی کی بہت مدد کی ہے فریال۔ آہ ہاں ۔۔۔ایسا ہوتا ہے شکریہ ادا کرنا ۔۔۔۔۔ہاہاہا ثمرین۔ (شرما کر) چاچی آپ غلط سمجھ رہی ہیں فریال۔ میں تو مذاق کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے پتا ہے میری بیٹی ایسا ویسا کچھ نہیں کر سکتی آگر تو شہزاد کے ساتھ کر بھی لے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔فریال ہنستے ہوئے اور شہزاد کو دیکھتے ہوئے شرارتی انداز میں بولی۔۔۔تو شہزاد کے جسم میں بھی چھونٹیاں دوڑنے لگی۔ ثمرین۔ چاچی آپ پھر شروع ہو گئی فریال۔ تو اس میں ایسا غلط کیاہے۔۔۔۔؟ شہزاد ہے ہی اتنا اچھا تو نیت تو پھسل ہی جاتی ہے (او ر دل میں بولی) اوزر اتنا بڑا ہے چوت ہی پھٹ جاتی ہے ثمرین۔۔۔چاچی ۔۔؟ کیا سوچنے لگ گئی۔۔۔؟ فریال۔ کچھ نہیں بس ایسے ہی شہزاد۔ آپ دونوں تو آپس میں ہی شروع ہو گئی ہم بھی ہیں یہاں پر۔۔۔۔۔ شہزاد مستی بھرے انداز میں بولا فریال۔ ثمرین ۔۔دیکھو یہ کچھ زیاد ہی نہیں بولنے لگا ہے۔۔۔۔ ثمرین۔ ہاہاہاہا ۔۔۔۔ہاں چاچی اس کا کچھ کرناہی پڑے گا۔ فریال۔ تو کردو نا۔۔۔۔۔ کس انتظار میں ہو؟۔۔۔۔۔ فریال شہزاد کی طرف شرارتی انداز میں دیکھتے ہوئے بولی ثمرین۔ کیا کروں چاچی۔۔۔۔؟ فریال۔ میرا مطلب ہے اس کے کان کھینچو اور اس کی پینٹی لگاؤ۔۔۔۔زرا اسے بھی تو پتا چلے۔۔۔۔ شہزاد۔ اب میں نے کیا کیا ہے؟ فریال۔ زیادہ ہوشیار نا بنو۔۔۔۔ مجھے سب پتہ ہے تمہارا۔۔۔۔۔ شہزاد بلکل چپ ہو گیا تھا شہزاد کو اب ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔ کہ کہیں چاچی نے ماہم کے ساتھ دیکھ تو نہیں لیا اُسے۔۔۔ اور کہیں چاچی اسی بات پر ناراض تو نہیں ۔۔۔۔۔ کیونکہ اس نے دیکھا تھا ۔۔۔کہ عورت کو دوسرتی عورت سے حسد ہوتی ہے اور اس پر اُس کا غصہ اتنا آتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر جائے کم ہے ۔۔۔۔۔ کہیں اسطرح سب کچھ ہی نہ ختم ہوجائے اور گھر بار میں عزت نیلام ہوجائے۔۔ ثمرین کپڑے بدلنے کا بول کر کمرے سے چلی گئی۔۔۔۔ اور فریال شہزاد سے پوچھ فریال۔ ویسے شہزاد تم ماہم کے ساتھ اتنی دیر تک کیا کر رہے تھے ۔۔۔؟ شہزاد۔۔۔۔ کک کک کچھ نہیں چاچی۔۔۔۔۔۔ مم میں تو پیسے دینے گیا تھا وہ باتیں کرنے لگی نہیں لے رہی تھی۔۔۔فریال کے اس اچانک سوال سے شہزاد گڑبڑا کر بولا فریال۔ تم اتنا گھبرا کیوں رہےہو۔۔۔۔؟ شہزاد۔ ۔۔۔(ماتے سے پسینا پونچتے ہوئے)۔۔۔۔ نہیں میں تو نہیں گھبرارہا۔۔۔ فریال۔ تو مجھے بتاؤ کیا کررہے تھے ۔۔۔۔ ماہم کے ساتھ ماہم کے روم میں شہزاد۔ کچھ نہیں بس ایسی ہی کھڑا تھا۔ فریال۔ اچھا تو تم منہ میں منہ ڈال کر ایسے ہی کھڑے تھے۔۔۔۔۔؟ فریال کی بات سُن کرشہزاد کی صحیح معنوں میں پھٹ کر ہاتھ میں آگئی ۔۔۔۔۔ وہ سمجھ گیا کہ اُ س نے جوبھی کچھ ماہم کے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔۔ وہ سب چاچی نے دیکھ لیا ہے ۔۔۔۔ اب پتانہیں چاچی کیا کرے گی اوراگر اس نے کسی کو بول دیا تو کیا ہوگا ۔۔۔۔۔شہزاد کے پسینے چھوٹنے لگے شہزاد۔۔وہ وہ وہ ۔۔۔ می می میں ۔۔۔۔۔۔ فریال۔ وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ کیا لگا رکھا ہے یہ کہو کہ کس کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔ شرارتی انداز میں اور شہزاد کے چہرے کا اُڑتا ہوا رنگ دیکھتے ہوئے ہنسنے لگی شہزاد بھی دیکھ کر حیران ہوگیاکہ یہ کیا ہو رہا ہے اس کے ساتھ جو کچھ وہ سوچ رہا تھا ۔۔۔۔ یہاں تو لگتا ہے کہ بات اس کے بلکل اُلٹ ہے پھر فریال شہزاد کےبلکل قریب آئی اتنے قیرب کے دونوں کے جسم کے کپڑے ایک دوسرے کے ساتھ ٹچ ہورہے تھے ۔۔۔۔۔۔اور بولی۔ فریال۔ کیا تم مجھے اپنا دوست نہیں مانتے۔۔۔۔؟۔۔ جو مجھ سے چھپا رہے ہو مجھے تو خوشی ہوئی تمہارے ایسا کرنے سے ۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ماہم کو بھی سہارے کی ضروت ہے۔۔۔۔ کسی کے ساتھ کی۔۔۔۔۔اور تم نے ایسا کر کے میرے دل میں اورجگہ بنا لی ۔۔۔۔میری طرف سے کوئی ڈر اور گھبرانے کی ضرورت نہیں کوئی بھی بات ہو مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔ میں ہردم ۔۔۔ ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔۔ شہزاد۔ مطلب چاچی آپ کو کوئی ااعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔ اور آپ خوش ہیں۔۔۔۔۔ سوری مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔میں نے اس لیئے نہیں بتایا کہ آپ غصہ کریں گی۔۔۔۔ اب سے میں آپ کو بتاؤں گا ہر وہ بات جو چاہے خاص ہو چاہے نہ ہو۔۔۔۔ مجھ سے بس ناراض نہ ہونا میں آپ کو ناراض نہیں دیکھ سکتا ۔ فریال ہنستے ہوئے شرارتی انداز میں بولی ۔ مطلب تم اس سے بھی آگے کچھ اور کروگے۔۔۔؟ شہزاد۔ ہاں وہ تو اب ہو گا ہی کیونکہ آپ سے اجازت جو مل گئی ہے۔۔۔۔۔ اب میں کہاں رکنے والا ہوں۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ فریال کچھ اور بولتی ۔۔۔۔شہزاد نے اس کو پکڑا سیدھااس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔۔۔۔۔ فریال تھوڑی شاک ہوئی اس کو شہزاد سے ایسی توقع نہیں تھی کہ وہ اس طرح بے دھڑک اُس کو پکڑکر کس کرے گا۔۔۔۔۔ اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی ۔۔۔۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد فریال نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اب شہزاد اوپر والا والا ہونٹ چوس رہا تھا اورفریال نیچے والا ہونٹ کچھ دیر بعد جب شہزاد الگ ہوا ۔۔حالانکہ اس کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔ تو فریال نے کہا ۔۔۔۔۔تم توبہت تیز نکل رہے ہو۔۔۔۔ پہلے تو اتنے تیز نہیں تھے۔ شہزاد۔یاروں دوستوں کی باتوں سے کچھ کچھ تو پتہ تھا لیکن ایسا نہیں پتہ تھاجیسا آپ نے سیکھایا میری پیاری چاچی جان۔۔۔۔۔ اور جب آتنی قتال حسینہ سامنے ہو تو کس سے صبر ہوتا ہے میری پیاری چاچی جی اورفریال چاچی کے گال کھنچ لیے آہاااا۔۔۔ سس سس ۔۔۔شہزاد سدھر جا نہیں تو مار کھائے گا۔۔۔۔ فریال یہ کہتے ہوئے باہر چلی گئی کیونکہ اُس کے جسم میں طلب بڑھنے لگی تھی اور اس وقت کچھ بھی کرنا خود کو اور شہزاد کو خطرے میں ڈالنے والی بات تھی کیونکہ سب گھر والے جاگ رہے تھے اور کوئی بھی کسی بھی وقت آسکتا تھا۔۔۔۔ اور باہر چلی گئی شہزاد بھی ہنستا ہوا بیڈپر لیٹ گیا آرام کرنے کے لیے۔۔۔۔ لیکن وہ خود اپنے آپ پر حیران تھا کہ یہ اس کو کیا ہوتا جارہا ہے وہ اس طرح تو نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ صرف ایک رات کے چاچی کے پیار نے اُس کی کایا ہی پلٹ دی اب ۔۔۔۔۔۔ باتوں کا تیز اور حاضر جواب تو وہ پہلے سے تھا ۔۔۔۔ لیکن اب اُس کی خوداعتماری بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ۔۔۔۔۔ ہاہم کے ساتھ بھی اُس نے آسرا نہیں کیا تھا بلکے خود بھی بڑھ چھڑ کر اس کے ساتھ بولڈ ہونے میں پیش پیش رہا ۔۔۔۔۔۔ اور اب بھی چاچی کے ساتھ اُس نے خود بڑھ کرچاچی کو پکڑ کر کس کیا تھا۔۔۔۔ اسکواپنے آپ میں ایک ایسا بدلاؤ محسوس ہورہا تھا کہ اس کو ڈر بھی لگنے لگا کہ کہیں وہ اپنے اس طرزعمل سے کوئی ایسا کام اس سے نہ ہوجائے جس کی وجہ سے وہ بعد میں پچتائے ۔۔۔۔۔ اس نے سوچا کہ اُس کو مختاط رہنے کی ضرورت ہے اور آئندہ وقت اور حالات دیکھ کر کرنا ہے جو بھی کرنا ہو۔۔۔۔۔ ادھر فریال بھی شہزاد کے روم سے نکل کر یہی کچھ سوچ رہی تھی۔۔۔۔ کہ شہزاد کو تو صرف اشارہ چاہئے تھا ۔۔۔۔۔ اور وہ ابھی آسرا بھی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔ بچ رہنا پڑے گا شہزاد سے اب اور موقع دیکھ کر اُس کے ساتھ انکھ مٹکا کرنا پڑے گا ۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آجائے گی۔ رات سب نہیں مل کر کھانا کھایا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر کھانے کی ٹیبل پر ہی گب شپ ہوئی اس کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے سونے۔۔۔۔ اسد آج گھرپر تھا اسی لیئے فریال بھی اس کے پاس ہی سوئی ۔۔۔۔۔ثمرین بھی دودھ دینے آئی شہزاد کو لیکن دونوں میں کچھ خاص بات نہیں ہوئی۔ صبح صبح شہزاد کی آنکھ کھل گئی کیونکہ رات کو وہ بھی ٹائم سے سوگیا تھا ۔۔۔۔شہزاد اٹھ کر واش روم گیا واش روم سی فارغ ہو کر ایک ٹریک سوٹ پہنا پھر باہر نکل گیاورزش کرنے کے لیئے کیونکہ یہ اس کا معمول تھا اور اگر کبھی اس سے رہ جاتا تو سارا دن اُس کا سُستی میں گزرتا تھا ۔۔۔ اس لیئے وہ پابندی سے اپنی ایکسرسائز کر تا تھا ۔۔۔ شہزاد گھر سے نکل کر چل دیا۔۔۔۔۔گھر کے پاس کی ایک سڑک پر جس کے ایک سائیڈ پر سفیدے کے درخت تھے اور دوسری طرف چھوٹے چھوٹے پودوں اور پھولوں کے پودے تھے ۔۔۔ شہزاد کا ہاتھ اب کافی بہتر تھا ایک چھوٹی سی پٹی لگی ہوئی تھی اور ماہم کی دی ہوئی دوا کی وجہ سے اس کا درد نہ ہونے کے برابر تھا۔ شہزاد چلتے چلتے اپنے علاقے کے ایک پارک میں آیا جو کافی بڑا پارک تھا ۔۔۔۔جس میں بچوں کے لیے جھولے اور تقریباً ہر گیم کے لیے اس میں گراؤنڈ بنے ہوئے تھے۔۔۔۔ اور ایک باڈی بلڈنگ جیم بھی تھا لیکن ابھی شہزاداس حال میں نہیں تھا کہ جیم میں ایکسرسائز کرسکے۔۔ شہزاد نے کافی دیر واک کیا اور ہلکی پھلکی ایکسرسائزکی کہ جس سے اُس کے بازو کو تکلیف نہ ہو۔پھر گھر کی طرف چل دیا ۔۔۔گھر پہنچا تو سامنے فرزانہ جی باوارچی خانے میں سے نکل رہی تھی۔۔۔ ہاتھ میں دودھ کاگلاس لیا ہوا تھا۔۔۔شہزاد پر نظر پڑتے ہی اُس کی بلائیں لینے لگی ۔۔۔ اور کہا فرزانہ۔ آ گیا میرا مُنا کیسی طبیعت ہے اب تیری ۔۔۔؟آج تو نا جاتا ۔۔۔ابھی تو تمہاری طبعت بھی ٹھیک نہیں ہوئی ہے اور تم ایکسرسائز کرنے نکل گئے شہزاد۔ میں بلکل ٹھیک ہوں بڑی اماں۔۔۔۔ مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔۔ جب آپ سب لوگ میرا خیال رکھنے کے لیے ہیں تو مجھے کچھ بھی نہیں ہو سکتا فرزانہ۔ اوپروالے کرے کہ تجھے کبھی کچھ ناہو۔۔۔ تم تو ہمارے گھر کی جان ہو۔۔۔۔تم تو سب سے اچھے بچے ہو پیچے سی فریال آ رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔ فریال۔ (دل ہی دل میں ) یہ ابھی بچہ ہے اور لنڈ گھوڑے کا لگوایا ہوا ہے۔۔۔جب ڈالے گا تو جان ہی نکل دے گا۔ فرزانہ۔ تمہارے کیوں دانت نکل رہے ہیں ۔۔۔۔ ؟ ہمیں دیکھ کر؟ فریال۔ کچھ نہیں باجی میں تو ایسے ہی ہنس رہی تھی آپ لوگوں کا پیار دیکھ کر فرزانہ۔ کیوں تمہیں کوئی مسلہ ہے ہمارے پیار کرنے سے فریال کچھ سوچتی ہوئی پھر ہنس دی اور بولی۔۔۔۔ مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے باجی۔۔۔ آپ تو ہماری بڑی باجی ہو بلکے ہماری جان ہو شہزاد۔ آپ لوگ باتیں کریں میں فریش ہو کر آتا ہو شہزاد فریش ہوکر ناشتہ کرنے کے بعد پھر اپنی پڑھائی کرنے بیٹھ گیا۔۔۔۔ تھوڑی دیربعد ثمرین بھی آگئی ۔۔۔۔۔کچھ دیر پڑھائی کرنے کے بعد شہزاد آرام کرنے کے لیے لیٹ گیااور اُس کی آنکھ لگ گئی پھر 1 بجے کھانا کھانے کے لیےجب فریال شہزاد کے کمرے میں آئی تو اُس نے دیکھا کہ شہزاد سویا ہوا ہے ۔۔۔۔ شہزاد کو سویا ہوا دیکھ کر فریال کو اُس پر بہت پیار آیا ۔۔۔۔ اُس نے جا کر شہزاد کے ہونٹوں پر ایک نرم گرم سی کس کرکے شہزاد کو جگایا ۔۔۔۔۔ شہزاد بھی ایک انوکھے احساس کے ساتھ جاگا اور اور جب اُس کی نظر فریال چاچی پر پڑی توپیار بھری مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر خود بخود پھیل گئی۔۔۔اور ایک انگڑائی لے کر اُٹھا۔۔۔ اور چاچی کو گلے لگالیا۔۔۔ فریال ۔۔۔۔ زیادہ پیار نہیں جتا ابھی اور جا کر فریش ہواورنیچے کھانے پر پہنچ۔ شہزاد مسکراتے ہوئے واشروم میں چلا گیا فریش ہونے اور فریال ہنستے ہوئے شہزاد کے کمرے سے نکل کر نیچے چلی گئی ۔۔۔۔۔ شہزاد فریش ہوکر نیچے کھانے کی ٹیبل پر آیا جہاں فرزانہ جی ، اعظم خان صاحب ، رمشاء جی، ساجد خان اور ثمرین کے ساتھ فریال بیٹی ہوئی کھانا کھا رہی تھی کھانا کھاتے ہوئے شہزاد کو شرارت سوجی۔۔۔فریال کو تنگ کرنے کے لیے۔۔۔ کیونکہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔ تو شہزاد نے اپنا پاؤں اگے بڑھا کر فریال کے پاؤں کے ساتھ چیڑخانی شروع کر دی ۔۔۔اس نےاپنے پاؤ ں کے انگوٹھے کے ساتھ فریال کے پاؤں سے لے کراُس کی پنڈلیوں تک پیھرنا شروع کر دیا۔۔۔۔نیچے سے اوپر۔۔۔ اور پھر اوپر سے نیچے ۔۔۔۔ فریال کے جسم کو ایک ہلکا سا جھٹکا لگا ۔۔۔ اور اُس نے شہزاد کی طرف دیکھا جو سرجھکائے کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن اُس کا چہرہ واضع چغلی کھا رہا تھا کہ وہ شرارت کے موڈ میں ہے ۔۔۔۔ فریال سے کھانا نہیں کھایا جارہا تھا بلکہ اُس کے جسم میں چونٹیوں نے ڈیرہ ڈال دیا۔۔۔ اور اُ س کا جسم گرم ہونے لگا ۔۔۔۔۔ کیونکہ ساجد خان نے بھی ابھی تک اُس کے ساتھ سیکس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ صرف وہی شہزاد کے ساتھ چودائی کے بعد ساجد خان آگیا اگلی رات لیکن تھکن ہونے کی وجہ سے ابھی تک اُس نے اپنی بیوی کو ٹچ بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔شہزاد کی شرارت سے فریال مدہوش ہونے لگی ۔۔۔۔۔اتنے میں ثمرین پانی لینے کے لیئے اُٹھی تو شہزاد نے اپنی پیر پیچے کر لیئے ۔۔۔ثمرین پانی پی کر واپس بیٹھی تو اُس نے اپنی ٹانگیں سیدھی کر لی تھکن اُتارنے کے لیئے ۔۔۔۔ثمرین کے بیٹھنے کے بعد شہزاد نے پھر سے اپنی شرارت شروع کی لیکن اس بار فریال کے بجائے ثمرین کے پاؤں اُس کے آگے آئے۔۔۔۔شہزاد نے جیسے ہی اُس کے پاؤں پر اپنے پاؤں کی انگلیاں پھیری تو ثمرین کو ایک جھٹکا لگا اور وہ سُن ہوگئی ۔۔۔۔شہزاد کے پاؤں کی اُنگلیاں مسسل اُس کے پیروں پر اُوپر کی طرف آہستہ آہستہ سے حرکت کر رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی شہزاد کی انگلیاں ثمرین کے گھٹنوں تک پہنچی تو ثمرین اس بار لرز اُٹھی اور اُس کے منہ سےہلکی سسکاری سی نکل گئی جس کو فریال محسوس کیا۔۔۔۔ شہزاد فریال کو دیکھ رہا تھا لیکن اب فریال اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔شہزاد ایسے ہی اپنی مستی میں فریال سمجھ کرکرتا رہا۔۔۔۔ ثمرین کی سے آنکھ بند ہو گئی ۔۔۔۔کھانے کی چمچ نیچے گر گئی۔۔۔۔شہزاد تھوڑی دیر تک ایسے ہی کرتا رہا جس سے اُس کے پیر بھی تک گئے تو اُس نے اپنے پیر پیچے کیئے۔۔۔۔۔شہزاد کے پیر ہٹانے سے ثمرین کو راہت ملی اور اُس کے منہ سے ایک ٹھنڈی سانس خارج ہوئ۔۔۔۔ فریال کی کیونکہ دونوں پر توجہ تھی اسی لیئے وہ ثمرین کی ٹھنڈی سانس سے سمجھ گئی کہ شہزاد نے اپنے پیر پیچے کر لیئے ہیں اسی لیئے ثمرین تھوڑی ریلیکس ہوگئی۔۔۔۔۔ فریال۔ کیا ہوا ثمرین۔۔۔؟ ثمرین۔ کک ۔۔۔کچھ نہیں چاچی یہ کہتے ہوئے جلدی سے ثمرین اٹھ کر واش روم چلی گئی شہزاد نےبھی کھانا ختم کیا تو اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔ شہزاد اپنا کمرہ گیا ہی تھا کے پیچے سے فریال آ گئی فریال۔ توجے شرم نہیں آتی مجھے ایسے تنگ کرتے ہوئے۔۔۔۔وہ بھی سب کے سامنے؟ شہزاد۔ مجھےتو شرم نہیں آتی۔۔۔۔۔بلکہ مجھےتو مزہ آرہا تھا۔ فریال۔ اچھا تو ایسی بات ہے۔۔۔۔ اب تو نے میرے اندر کی آگ بھڑکادی ہے ۔۔۔۔۔۔ تو ٹھیک ہوجا پھر توجھے بتاتی ہوں کہ کیسے مزہ آتا ہے اور کیسے مزہ لیا جاتا ہے ۔۔۔ شہزاد۔ تو ابھی آجاؤ نا ۔۔۔۔ اور مجھے بتاؤ۔۔۔۔ کیسے مزہ لیتے اور دیتے ہیں؟ فریال۔ ویسے شہزاد تم بہت تیز ہو گئے ہواور اتنی تیزی بھی اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ ابھی میں تمہیں چھوڑ رہی ہوں۔۔۔۔ ایک بار تم ٹھیک ہو جاؤ پھر دیکھتی ہوں تمہیں۔۔۔۔ ویسے ایک بات تمہیں بتاؤں تمہاری یہ جو مستی ہے چٹکی میں نکل جانی ہے شہزاد۔ کون سی بات؟ فریال۔ وہ جو تم کھانے کے کمرے میں مستی کر رہے تھے نا۔۔۔۔۔وہ میرا پیر نہیں ثمرین کاپیر تھا شہزاد۔ ( چونک کر ) نہیں آپ مذاق کر رہی ہیں میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے آپ صرف مجھے ستانے کے لیئے ایسا بول رہی ہیں فریال۔ میں کوئی تم کو نہیں ستا رہی۔۔۔۔ تم ثمرین سے پوچھ لینا۔۔۔۔ وہ خود بتا دے گی کہ تم اُس کے ساتھ چیڑخانی کر رہے تھے ۔۔۔۔۔فریال ہنستے ہوئے بولی شہزاد۔ اب میں کیا کروں۔۔۔۔۔؟ اب میں ثمرین باجی کا سامنا کیسے کرونگا۔۔۔۔؟ فریال۔ پہلے تو بڑے سمارٹ بن رہے تھے۔۔۔۔ اب نکل گئی ہوا ۔۔۔اب بھی کہو مجھے شرم نہیں مزہ آتا ہے بولو۔۔۔۔۔۔ شہزاد۔ پلیز چاچی ایک بار بچا لو آگے سے ایسی غلطی نہیں کروں گا۔۔۔۔ پلیز پلیزمیری پیاری چاچی ثمرین۔ کون سی غلطی کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔۔۔۔۔؟ ثمرین کے ایسے اچانک آنے سے شہزاد ڈار گیا۔۔۔۔ اورشہزاد کا رنگ پیلاپڑتے دیکھ کر فریال ہنسنے لگی فریال۔ شہزاد ہی کہہ رہا ہے کہ اس سے کوئی غلطی ہوئی ہے اسی سے پوچھو۔۔۔۔۔فریال کی ہنسی نہیں رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ ثمرین۔ ہاں شہزاد تم بتاؤ کیا غلطی ہوئی ہے تم سے جس کے لیئے چاچی سے سفارشیں لگ رہی ہے ۔۔۔؟ فریال۔(شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے ) اچھا تم لوگ باتیں کرو میں تھوڑی دیئر میں آتی ہوں۔۔۔ مجھے تھوڑاسا کام ہے باورچی خانے میں وہ نمٹادوں ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اور ہنستے ہوئے فریال کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔ ثمرین۔ ہان تو مسٹر شہزاد کیا غلطی ہوئی ہے تم سے؟ شہزاد۔ نہیں ثمرین ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔میں تو ایسے ہی چاچی سے کہہ رہا تھا ثمرین۔ مطلب تم سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔؟ شہزاد۔ غلطی تو ہوئی ہے۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ جو کھانے کی میز پر میرا پیر۔۔۔۔۔۔۔ ثمرین نے جلدی سے شہزاد کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔ اور بولی۔ ثمرین۔ ۔۔نہیں تم ایسا نہیں بولو۔۔۔ کہ تم نہیں کوئی غلطی کی ہے۔۔۔۔ میں تو تمہاری ہی ہوں۔۔۔ میری تو یہ زندگی بھی تمہاری ہی امانت ہے۔۔۔۔تمہیں کسی بات پر بھی کچھ نہیں کہوں گی ۔۔۔جو تمہارا دل کرے ۔۔۔۔میں کبھی منع نہیں کروں گی اور نہ ہی ناراض ہونگی ۔۔۔بس تم مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہونا ۔۔۔۔۔ نہیں تو میں مرجاؤں گی۔۔۔۔۔۔ شہزاد۔ ثمرین میں نے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔۔۔۔۔ آپ مجھ سے بڑی ہو۔۔۔۔ اور میری اپنی ہو۔۔۔۔۔یہ سب میرا فرض تھا۔۔۔۔ اگر آپ ایسے ہی سوچتیٓ رہیں۔۔۔۔ تو میں آپ سے آئندہ بات نہیں کرونگا۔۔۔۔ ثمرین۔ اچھا بابا ۔۔۔۔دوبارہ نہیں کہوں گی ۔۔۔۔ کان پکڑ کر سوری کہتی ہوں۔۔۔ مجھے معافی مل سکتی ہے؟ ثمرین نے اتنے پیار سے یہ سب کہا ۔۔۔۔ کہ شہزاد نے بے اختیار اُسے گلے لگا لیا ثمرین۔ ایک بات اور تم نے کوئی غلطی نہیں کی ۔۔۔۔۔میرا بھی دل کرتا ہے کوئی مجھ سے پیار کرے۔۔۔ میرے جذبات کو سمجھے۔۔۔۔۔جس پر میں اعتبار کر سکوں۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے تمہارے اور میرے رشتے کی کوئی منزل نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔۔ لیکن ہم ایک دوسرے کو پیار تو کرسکتے ہیں۔۔ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کے کام آسکتے ہیں ۔۔۔۔۔ایک دوسرے کے دکھ درد ۔۔۔ ایکدوسرے کے دل کی باتیں سمجھنے کی کوشش تو کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ ایک دوسرے کا سہارا تو بن سکتے ہیں ۔۔۔۔ کیا ہم ایسا نہیں کرسکتے شہزاد بولو مجھے جواب دو۔۔۔۔۔ میرا بھی دل ہے ۔۔۔۔ میری بھی خواہشیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن مجھے ڈر لگتا ہے باہر کی دُنیا سے اور جو میرے ساتھ ہوا ہے اس سے تو میں اب بہت ہی زیادہ گھٹن کا شکار ہوں ۔۔۔ جب بھی یاد آتا ہے ۔۔۔۔ میری سانسیں رکنے لگتی ہیں اور میرا جسم مردہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ میں کیا کروں شہزاد ۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیسے خود کو نارمل رکھوں اپنے گھر والوں کے لیئے ۔۔۔۔ بس ایک تم ہو جس کو میں نے اپنی زندگی مان لیا ہے ۔۔۔۔۔ اور میں نے کئی دفع کھل کر تمہیں کہا ہے ۔۔۔۔ اب میری برداشت ختم ہوری ہے ۔۔۔۔ مجھے تمہارے سہارے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔میں خود کو بھولنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ میں گم ہونا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ اور میں اکیلے یہ سب نہیں کرسکتی۔۔۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔ مجھے شہزاد تم چاہئے ہو۔۔۔۔ بس نہیں تو میں گھٹ گھٹ کر مرجاؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔ ثمرین شہزاد کے گلے لگے یہ سب کہہ رہی تھی اور زاروقطار رورہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اور شہزاد اُس کو گلے لگائے سُن کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ اورثمرین کی باتیں سُن رہا تھا ۔۔۔۔ اُس کے جذبات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔ اور اس کی باتیں سُن کر شہزاد پر ایک لرزا طاری تھا ۔۔۔۔۔ اُس کو آج پتہ چلا کہ ایک ہنستی ہوئی پیاری سی لڑکی کے دل میں کیا جذبات ہیں ۔۔۔۔ اور کیا اُس کی خواہشیں ہیں ۔۔۔۔ اور کتنا درد ہے اُس کے دل میں جو وہ دُنیا سے چھپائے پرتی ہے ۔۔۔ پھر ثمرین شہزادسے الگ ہوئی۔۔۔ ثمرین تھوڑی دیر چپ چاپ کھڑی رہی کہ شائد شہزاد کچھ کہے ۔۔۔۔لیکن جب شہزاد نے کچھ نہیں کہا وہ صرف اُس کے چہرے کو ہی دیکھے جارہا تھا اُس کی آنکھوں میں بھی آنسوں کی نمی تھی ۔۔۔تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد جب وہ مڑ کر جانے لگی تو پیچے سے شہزاد نے ثمرین کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف کھنچتا ہوا سیدھاثمرین کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا اور اُس کے بالوں پر ہونٹ رکھ دیئے اور پراُس کے ماتھےپر چوما۔۔۔۔ اس کے بعد اُس نے پاگلوں کی طرح ثمرین کو چومنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ کبھی ماتھے پر۔۔۔۔ کچھی گالوں پر۔۔۔۔ کبھی اُس کی آنکھوں پر ۔۔۔۔ کبھی اُس کی گردن پر ۔۔۔۔ اُس کی ناک پر جو رونے کی وجہ سے لال سُرخ ہوچکی تھی ۔۔ اور اُس کو گلے لگائے ہوئے بے خودی میں بولے جارہا تھا شہزاد۔۔۔۔ثمرین میں تمہارا ہوں جب جس وقت تم کو میری ضرورت ہوبے دھڑک میرے پاس آؤ۔۔۔۔ میں تمہارے سارے غم ۔۔۔۔ دور کردوں گا تمہاری ہر ضرورت کو پوری کروں گا۔۔۔۔ میرا وعدہ ہے تم سے اپنی زندگی کی آخری سانس تک میں تمہارا ہوں تم جو کہو گی میں کروں گا۔۔۔ تم جیسا بولوں گی مجھے پاؤگی ۔۔۔۔ میں تم کو اتنا پیار دوں گا کہ تم اپنے سارے دُکھ درد بھول جاؤ گی ۔۔۔ میں تم کو کبھی دُکھی نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ میں تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔۔ میں تمہار ا ہوں آج سے ابھی سے میں تمہارا ساتھی ہوں ۔۔۔۔ تم میری ہو۔۔۔۔ اور میں تمہارا ہوں۔۔۔۔ تمہیں کوئی بھی بات کرنی ہو مجھ سے کرو میں ۔۔۔ میں تم سے کروں گا ۔۔۔ مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاؤ اور نہ میں چھپاؤں گا۔۔۔۔تم بس رونا نہیں ۔۔۔۔ تم دُکھی نہیں ہونا ۔۔۔۔ مجھے کہنا ۔۔۔۔ میں تمہارے سارے دُکھ درد سمیٹھ لوں گا۔۔۔ ۔ شہزاد یہ کہتے ہوئے بے تحاشہ ثمرین کو چوم رہا تھا اُس کے پورے چہرے کے پور پور کو اُس کے ہونٹوں نے چوما ۔۔۔ثمرین کے ہونٹوں کو بھی شہزاد چومتا رہا۔۔۔۔۔۔ شہزاد کے اس طرح بے تحاشہ چومنے سے ثمرین کے کا جسم ایسے لرز رہا تھا جیسے کیس زلزلے کی زد میں آیا ہوا ہو۔۔اُس کی آنکھیں بند تھی اور اُس کے جسم میں ٹھنڈی میٹھی لہریں سی اُٹھ رہی تھی ۔۔وہ اُس نے بھی اپنے دونوں ہاتھ شہزادکے گرد گھما کر اُس کو اپنے ساتھ چپکا لیا۔۔۔۔ اور پھر ایک دفع جیسے ہی شہزاد ثمرین کے چہرے کو چومتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر آیا تو ثمرین نے خودکا ر طریقے سے اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر پکڑلیا۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی اُس نے شہزاد کے ہونٹوں کو پکڑا اپنے ہونٹوں میں شہزاد ساکت ہوگیا ۔۔۔صرف چند سیکنڈ۔۔۔ اُس کے بعد اُس نے ثمرین کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا اور تھوڑی دیر ثمرین خاموشی سے اپن ہونٹ چوساتی رہی ۔۔۔۔ اس کے بعد اُس نے بھی ساتھ دینا شروع کردیا ۔۔۔ اور دونوں ڈیپ کسنگ کرنے لگے ۔۔۔۔ دونوں کسی اور ہی دُنیا میں پہنچ گئے ۔۔۔۔ اُن کو ہوش ہی نہیں رہا کہ کوئی آبھی سکتا ہے کمرے میں کیونکہ کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔۔۔ اور فریال چاچی بھی کہہ کر گئی تھی کہ میں کام ختم کر کے آتی ہوں۔۔۔۔۔ جب دونوں کی سانسیں اُکھڑنے لگی تو اُنہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور دونوں نے بےاختیار نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔ کیونکہ کسنگ کے دوران شہزاد کا لن فل جوبن پر کھڑا ثمرین کی رانی کے دروازے پر دستک دیتا رہا تھا اور ثمرین شہزاد کے لن کو واضع طور پر محسوس کرتی رہی تھی ۔۔۔ اور اپنی رانی کو اُس پر چپکاتی اور رگڑتی رہی تھی ۔۔۔۔ اس کی رانی فل گیلی ہوچکی تھی اور شہزاد کا لن بھی اتنی دیر سے کھڑے اوردستک دیتے دیتے درد کرنے لگا تھا۔۔۔ شہزاد کے جیسے ہی سانسیں تھوڑی درست ہوئی تواُس نے ثمرین کی طرف دیکھا ۔۔۔ ثمرین جذبات کی شدت سے لال سُرخ ہوچکی تھی اور اُس کی پلکیں اور ہونٹ لرز رہے تھے ۔۔۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اور شہزاد اس منظر کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ ثمرین کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا شہزاد ۔۔۔ آہا ثمرین تم تو بہت میٹھی بہت پیاری ہو۔۔۔ میرا تو دل نہیں نہیں بھر رہا تھا۔۔۔ دل کرتا ہے کہ دوبارا سے پکڑلوں ثمرین ۔۔۔(شرماتے ہوئے) تم بہت گندے ہوجو ایسی باتیں کر رہے ہو جاری ہے
    1 like
  20. اپڈیٹ 2 میں ایک طویل سانس لے کر چپ ہو رہا۔ اس اثنا میں ویٹر چائے سرو کر چکا تھا۔ پھر ذرا دیر میں ڈرائیور بھی آگیا۔ صبا نے میرا شکریہ ادا کیا اور اپنی خراب کار کی چابیاں ڈرائیور کے حوالے کر کے اپنے پاپا کی کار میں روانہ ہوگئی میں ڈھیلے ڈھالے قدموں سے اپنی جیپ کی طرف بڑھ گیا۔ صبا سے اس مختصر ملاقات نے مجھے کافی مایوس کیا تھا۔ مگر میں ابھی نا امید نہ ہوا۔۔۔۔۔ اس دن لیفٹینٹ ذیشان نے مجھ سے گھر فون پر رابطہ کیا۔ " کیا ہوا کیپٹین صاحب ... کیا صبا سے ملاقات ہوئی یا ابھی تک صرف سوچا ہی جا رہا ہے؟" "ہاں یار! ہوئی تھی ملاقات میری """" اچھا۔ اس کے لہجہ میں غیر یقینی تھی۔ تو پھر کیسی رہی ملاقات؟" " کچھ خاص نتیجہ نہ نکلا میں نے کہا ۔ لیکن مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صبا کچھ نہ کچھ جانتی ہے؟" " تم نے کیسے اندازہ لگایا؟" "اس کے اچانک گفتگو قطع کرنے سے...." "ہوں" اس نے پر سوچ ہنکاری بھری۔ ایک اور کوشش ٹرائے آگین ٹرائے.. "میرا خیال ہے. وہ کچھ بتانا نہیں چاہتی وہ چڑ جائے گی۔" "اگر ایسا ہے تو پھر کیپٹن صاحب سمجھ لینا کہ دال میں کچھ کالا ہے" "یار... ذیشان ! مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ دونوں باپ بیٹی سلطان جہانزیب جیسے خبیث آدمی کے سامنے مجبور ہوں .... میں نے کہا...۔ "آف کورس" ... ذیشان بلا تامل بولا۔ اور مجبوری بھی ایسی کہ وہ کسی سے شیئر بھی کرنا نہ چاہتے ہوں۔“ "ایگز یکٹلی کو ریکٹ "...۔ میں نے کہا۔ "ویسے میرے ذہن میں خیال یہ تھا کہ کہیں سلطان جہانزیب نے صبا کے باپ سیٹھ اصغر کو بھی تو نہیں اپنے ساتھ ملالیا ہاں ایسا ممکن ہو سکتا ہے تو کیا صبا کو بھی معلوم نہ ہوگا۔" میں نے کسی خیال کے تحت کہا۔ "May be"... وہ بولا۔ "میرا خیال ہے. ہمیں خود ان دونوں پر نظر رکھنا ہوگی۔" "سیٹھ اصغر اور سلطان جہانزیب پر ؟" میں نے پوچھا۔ "ہاں" یار میں چاہتا ہوں صبا کی . جمشید سے منگنی یا پھر کم از کم نکاح سے پہلے پہلے جہانزیب کا اصل چہرہ آشکارا ہو جائے "میں نے دانت بھینچ کر کہا۔.. " لو.... یہ کام اتنا آسمان اور ترنت ہونے والا ہوتا تو اب تک ہو چکا ہوتا "وہ بولا۔ "یار تم میری مدد کرنے یا ہمت بندھانے کے بجائے مجھے بے حوصلہ کیوں کر رہے ہو؟" میں نے زچ ہو کر کہا۔ ... وہ مسکراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔"بڈی ! میں تو حقیقت بیان کر رہا تھا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں حکم کرو" ." ہاں یہ ہوئی نا بات" میں نے خوش ہو کر کہا۔ ۔۔۔ "تم ایک کام کرو صبا اور جمشید کو ٹریس کرنے کی کوشش کرو۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں کس حد تک ذہنی و دلی ہم آہنگی ہے۔" "اس سے کیا پتہ چلاؤ گے" ذیشان نے پوچھا۔۔۔۔ "میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا صبا کی جمشید سے کسی حد تک انڈرسٹینڈنگ ہے۔ تم نے بغور ان دونوں کے باہم انداز و اطوار اور میل جول پر نظر رکھنا ہوگی۔" " اور حکم ذیشان دوستانہ سعادت مندی سے بولا۔۔۔۔ " "بس یارا... یہ مہربانی کردو" "ارے مہربانی کیسی یہ تو میرا فرض ہے. بلکہ یہ تو ہر عام شہری کا فرض ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم اپنے دل میں ہمہ وقت رکھے۔" "ویری گڈ... ذیشان !" میں جذبات سے لبریز ہو کر خوشی سے بولا۔۔۔۔"میں نے بھی یہ پختہ عزم کر رکھا ہے کہ ... سلطان جہانزیب کا چہرہ بے نقاب کر کے ہی رہوں گا۔ میں نے عزم مصم کے ساتھ رہا۔" "وطن کا یہ ادنی خادم تمہارا یار غار تمہارے ساتھ ہے۔...." ذیشان نے کہا۔" مگر پھر دوسرے ہی لمحے ذرا سنجیدگی سے بولا۔ "یار عمران ! ذرا محتاط رہنا۔ تم تو جانتے ہو گے کہ یہ سلطان جہانزیب کتنا خطر ناک آدمی ہے.میجر افتخار کا حشر تمہارے سامنے ہے۔ آج تک اس کا پتہ نہ چل سکا۔" " ہاں میں جانتا ہوں۔" میں نے کہا اور پھر بائے کہہ کر رابطہ منقطع کر دیا۔۔۔۔ سلطان جہانزیب گلبرگ کے علاقے میں رہتا تھا۔ وہاں اس کی عالیشان کوٹھی تھی۔ میں اپنی اس مہم میں دو باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہتا تھا۔ نمبر ایک کہ اپنی مخصوص آرمی جیپ کا استعمال اس فہم کی حد تک قطعا نہ کروں نمبر دو اصل چہرے کے بجائے ریڈی میڈ میک اپ میں اس مہم کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کروں۔ مہم کا آغاز ... میں نے رات سے کیا۔ اپنے کمرے میں میں نے با قاعدہ ایک ریڈی میڈ میک اپ کٹ تیار کی ۔ اس کے بعد چہرے پر ہلکی پھلکی لیپا پوتی کرنے کے بعد میں نے اپنا پستول سنبھالا اور رات کے دس بجے گلبرگ کے علاقہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ میرے ہمراہ اقبال عرف بالا بھی تھا۔ ایک بس کے ذریعے ہم گلبرگ پہنچے۔ پھر پیدل ہی آگے بڑھ گئے۔ پھر اپنے مطلوبہ بلاک والے راستے پر چلتے ہوئے میں سلطان جہانزیب کی عالی شان کوٹھی کے سامنے سے گزرنے لگا۔ اندر وسیع لان سے جھانکتے بلند و بالا سفیدے اور یوکلپٹس کے درخت صاف نظر آ رہے تھے۔ آہنی گیٹ کے دونوں طرف سنگ مرمر کے چوکور ستونوں پر دودھیا گلوب روشن تھے ۔ گیٹ کے باہر بائیں طرف گارڈز کیبین نظر آ رہا تھا۔ خشت ارغواں سے بنی ہوئی یہ کوٹھی صرف ایک منزلہ تھی مگر اس کا رقبہ خاصا وسیع تھا۔ کوٹھی پر ویرانی کا راج تھا میں اور بالا بظاہر عام راہگیروں کی طرح چلتے ہوئے سامنے سے گزرے۔ پھر ہم نے ایک طواف کوٹھی کے گرد کیا اور ایک قریبی چائے خانے میں جابیٹھے۔ میں نے رسٹ واچ میں وقت دیکھا اور بالے سے بولا۔ "بالے تم گھر جاؤ۔ اماں اور بہن اکیلے ہیں۔ میں شاید صبح منہ اندھیرے ہی پہنچوں " وہ متردد ہوتے ہوئے بولا۔ "عمران صاحب ! آپ اکیلے ؟" "ہاں تم جاؤ ۔ باقی کا کام میرے اکیلے کا ہے۔ مگر تم نے سلطان جہانزیب کی کوٹھی کا اتہ پتہ اور محل وقوع تو اچھی طرح ذہن نشین کر ہی لیا ہو گا ؟" ہاں صاحب! آپ بے فکر رہیں۔ کیا میں صبح تڑکے آؤں؟" وہ بولا۔ ۔۔۔۔ "اس کی ضرورت نہیں۔ اب تم جاؤ" میں نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔ وہ جانے کیلئے اٹھنے لگا تو میں نے کہا۔ "سنو." جمی صاحب؟“ وہ رک گیا۔۔۔۔ "اماں اور بہن کو میرے بارے میں کچھ نہ بتانا۔ میں بیٹھک والے دوازے سے اندر داخل ہو جاؤں گا مگر تم اتنا کام کرتلنا گھر پہنچتے ہی دروازے کے ساتھ بیٹھک والے دروازے کی کنڈی اندر سے کھول دینا اور باہر سے تالا لگا دینا ڈوپلی کیٹ چابی میرے پاس موجود ہے۔ میں اس بیٹھک کے راستے اندر داخل ہو جاؤں" "ٹھیک ہے صاحب ... ! میں ایسا ہی کروں گا۔ پر صاحب ! اپنا خیال رکھنا" " ہاں تم بے فکر رہو "میں نے ہولے سے مسکرا کر کہا۔ وہ چلا گیا۔ میں وقت گزاری کیلئے ادھر ادھر مٹر گشت کرنے لگا۔ ایک سٹریٹ لیمپ کے قریب میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نظر ڈالی بارہ بج کر چالیس منٹ کا وقت تھا۔ میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی طرف بڑھ گیا۔ سردی زوروں پر تھی ۔ لاہور کی سردیاں ویسے بھی کڑاکے دار پڑتی ہیں مگر میں نے اس سردی سے بچاؤ کا اہتمام کر رکھا تھا۔ اونی سویٹر تو میں نے پہن ہی رکھا تھا۔ اوپر سے گرم کوٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ گردن کے گرد مفلر بھی لپیٹ رکھا تھا۔ ذرا ہی دیر بعد میں سلطان جہانزیب کی کوٹھی کے سامنے سے گزر رہا تھا۔۔۔ اب میرا ارادہ کوٹھی کے عقب سے کسی طرح اندر داخل ہونے کا تھا۔ میں نے یہاں کا رخ کرنے سے قبل ذیشان سے معلومات لے رکھی تھی۔ کوٹھی کے اندر مکینوں کی زیادہ تعداد نہ تھی۔ سلطان جہانزیب اس کی بیوی ایک بیوہ بہن شہلا اور بیٹا جمشید کل چار مکین تھے۔ سلطان جہانزیب کی کوٹھی میں نقب لگانے کا میرا مقصد اس کے کمروں کی مفصل تلاشی لینا تھا۔ میری ہیڈ کوارٹر کے ریکارڈ روم سے حاصل کی ہوئی معلومات کے مطابق اس کوٹھی میں ایک بیسمنٹ بھی تھا۔ در حقیقت میں اس تہہ خانے کو تلاش کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ میں کوٹھی کے گیٹ کے سامنے سے گزرتا ہوا جیسے ہی کوٹھی کی شمالی دیوار کے متوازی مڑا تو اچانک سامنے سے آتی ہوئی کار کی تیز ہیڈ لائٹس مجھ پر پڑیں میں سر جھکائے راستے کے کنارے چلتا چلا گیا۔ جب کار میرے قریب سے گزری تو میں نے دزدیدہ نظروں سے کار کی طرف دیکھا اور کار سوار کو پہچان کر بری طرح ٹھٹک گیا۔ مگر رکا نہیں چہ جائیکہ کار سوار عقب نما آئینے میں سے اچانک رکتا ہوا نہ دیکھ لے کار میں صبا کا باپ سیٹھ اصغر سوار تھا۔ اور وہ خود ہی کار ڈرائیو کر رہا تھا۔ پھر جیسے ہی کار سلطان جہانزیب کی کوٹھی کی جانب مڑی تو میں الٹے قدموں واپس ہوا ... اریب قریب کا علاقہ سنسان ہونے کی وجہ سے میں نے کارنر کی دیوار کی آڑ لے کر کوٹھی کے گیٹ کی طرف جھانکا تو سیٹھ اصغر کی کار اندر داخل ہو رہی تھی۔ یہ اس وقت یہاں کیا کرنے آیا تھا؟ میرے ذہن میں سوالیہ نشان ابھرا .... میں واپس پلٹا اور کوٹھی کی عقبی دیوار کی طرف آ گیا۔ یہاں ذرا رک کر پہلے میں نے گردو پیش میں نظر دوڑائی ٹھٹھرتی ہوئی رات خاموش تھی اور کوئی ذی نفس نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں نے بغور کوٹھی کی عقبی دیوار کا جائزہ لیا. بیشتر کوٹھیوں اور بنگلوں پر ٹھٹھرتی ہوئی ویرانی مسلط تھی۔ کوٹھی کی دیوار میں بارہ فٹ سے زیادہ بلند نہ تھیں مگر اوپر کے سرے پر خم دار اپنی بریکٹ نصب تھی۔ جن پر خار دار تاریں مسلک تھیں۔ اب میں ٹیلی فون کے اس کھمبے کو دیکھ رہا تھا۔ جسے میں پہلے ہی تاڑ چکا تھا۔ میں نے اس کے ذریعے کوٹھی کی دیوار پھاندنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ لہذا میں ذرا تیز روی سے چلتا ہوا مذکورہ پول کی طرف آیا۔ احتیاطاً ایک بار پھر گرد و پیش میں نظریں دوڑانے کے بعد میں نے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو با ہم مسلا اور ... پول سے چپک کر اوپر چڑھنا شروع کر دیا۔ یہ پول دیوار سے چند فٹ کے فاصلے کی دوری پر تھا۔ میں نے پول سے لپٹ کر اپنا توازن برقرار کیا اور سپرنگ کی طرح اچھل کر کوٹھی کی دیوار کے سرے پر لگی بریکٹوں کو پکڑ لیا۔ مگر اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور دیوار سے نیچے لٹک کر رہ گیا۔ بڑی مشکل کے ساتھ میں نے اپنی بے ترتیب سانسوں پر قابو پاتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو سمیٹا اور خود کو آہنی بریکٹوں کے درمیان پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ باؤنڈری وال تھی جس سے تقریبا پانچ فٹ کی دوری پر کوٹھی کی دیوار نظر آ رہی تھی ۔ جہاں سے ٹینٹڈ گلاسز کی دو عدد کھڑکیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں جو بند تھیں۔ میں نے نیچے جھانکا نیچے گلیار سا بنا ہوا تھا۔ اور وہاں پودوں کی قطاریں نظر آ رہی تھیں۔ اس وقت کوٹھی پر خاموش کا راج تھا۔ میں نے خود کو فولادی خاردار تاروں سے بچاتے ہوئے نیچے گلیارے میں چھلانگ لگا دی۔ گھنے پودوں کی کیاریوں میں ہلکی سی دھپ کی آواز سے میں گرا اور خاصی دیر تک سن گن لینے کی غرض سے وہیں دم سادھے پڑا رہا۔ آرمی ٹریننگ کے دوران سخت تربیت میرے کام آرہی تھی ... بہر طور... اچھی طرح سے اپنے گرد و پیش کی سن گن لینے کے بعد میں دبے پاؤں بڑھنے لگا۔ گلیارا باؤنڈری وال کے متوازی دائیں جانب گھوم رہا تھا۔ میں بھی چلتا ہوا مذکورہ سمت میں گھوم گیا۔ اب میں کوٹھی کی مرکزی دیوار کی جانب کھڑا تھا۔ یہاں بھی کمروں کی بند ٹنٹڈ گلاس کی کھڑکیاں نظر آ رہی تھیں۔ میں پھر بھی احتیاط کے پیش نظر جھکا جھکا آگے بڑھنے لگا چند قدم چلنے کے بعد میں ایک کھڑکی کے قریب پہنچ کر رک گیا۔ اس کھڑکی کے اندر سے مجھے روشنی کی ہلکی کرنیں پھوٹتی نظر آ رہی تھیں ... اور مدھم باتوں کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ میں نے ذرا سید ھے کھڑے ہو کر درز سے آنکھ چپکا دی مگر دوسری طرف جھولتے دبیز پردوں کی وجہ سے میں اندر کمرے کا منظر دیکھنے سے قاصر رہا تھا۔ البتہ کان لگا کر میں اندر ہونے والی گفتگو با آسانی سن سکتا تھا۔ میں نے سر دست اسی کو غنیمت جاتا اور بغور سننے لگا۔ رات کے ٹھڑے ہوئے سناٹے میں مجھے اندر ہونے والی گفتگو صاف سنائی دے رہی تھی۔ "سلطان جہانزیب ... میں نے تمہاری بات مان لی۔ اب تم بھی اپنا وعدہ پورا کرو " یہ سیٹھ اصغر کی آواز تھی۔ اس کے لہجے میں ایک طرح کی التجا تھی۔ جس نے مجھے چونکا دیا تھا۔ "ہاں سیٹھ اصغر ! مجھے اپنا وعدہ یاد ہے تم نے میرے لاڈلے بیٹے جمشید کی دیرینہ آرزو پوری کر دی اب میں بھی اپنا وعدہ ضرور پورا کروں گا۔ مگر....." وہ اچانک کچھ کہتے کہتے رکا تو مجھے سیٹھ اصغر کی بے چین سی آواز سنائی دی۔ "اگر مگر کیا ؟ سلطان؟" "ارے یار تم فکر کیوں کرتے ہو؟ شادی تو ہو جانے دو "سلطان جہانزیب کی مکارانہ ہنستی ہوئی آواز ابھری۔۔۔۔ لیکن تم نے تو کہا تھا کہ منگنی کا اعلان ہوتے ہی... """ "ہاں ہاں مجھے یاد ہے مگر سیٹھ اصغر منگنی کا کیا بھروسہ؟ کیا خبر اپنا کام نکلتے ہی تم منگنی توڑ دو" "یار یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں بیٹی کا باپ ہوں ۔ بھلا ایسا میں کیسے کر سکتا ہوں ؟" تم ایک بیٹی کے باپ ہو مگر مال دار باپ ہو اور دولت بڑے بڑے عیب چھپا دیتی ہے۔" چند ثانیے خاموشی چھائی رہی۔ میرا دل سینے میں زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا تھا کہ سیٹھ اصغر نے یقینا اپنی کسی ذاتی یا کاروباری مجبوری کے تحت ہی اپنی حور پری جیسی معصوم بیٹی صبا کی منگنی جمشید جیسے لنگور سے کرنے کا اعلان کیا تھا وہ مجبوری کیا ہے؟ میں یہ جاننے کیلئے بے چین ہو گیا۔۔۔۔ "دیکھو سلطان اب تم وعدہ خلافی کر رہے ہو ؟"چند ثانیوں کی پر سوچ خاموشی کے بعد سیٹھ اصغر کی معاندانہ سی آواز ابھری۔ "کیسی وعدہ خلافی ؟ تم بدگمان ہو رہے ہو؟" سلطان جہانزیب نے مکاری سے کہا۔ "تو پھر اپنا وعدہ پورا کرو تم نہیں جانتے میں کسی قدر ذہنی اذیت اور انجانے خوف کا شکار ہوں۔ میرا سب کچھ ڈوب جائے گا ۔ اور میری پھول سی بیٹی در بدر ہو جائے گی۔ میرے سوا اس کا کوئی دنیا میں نہیں ہے۔ اسی لئے تو میں نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ کم از کم میری بیٹی تمہارے پاس سکھی تو رہے گی۔" سیٹھ اصغر کا لہجہ اب رندھ گیا تھا۔۔۔۔ ادھر میرے اندر بری طرح پکڑ دھکڑ جاری تھی۔ "یار تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ میرے ساتھ مل جاؤ۔ چھوڑو یہ چھوٹی موٹی سمگلنگ اس میں رسک اور خطرات بھی بہت ہیں اور پیسہ بھی کم میرے ساتھ تم کروڑوں میں کھیلو گے" مکار سلطان جہانزیب نے پینترا بدلا۔۔۔۔۔ "نہیں یار تمہارا کام مجھ سے زیادہ خطرے والا ہے تمہارے پیچھے تو ویسے بھی انٹر سروسز کے خفیہ اہلکار لگے ہوئے ہیں۔۔۔"سیٹھ اصغر کی گھبرائی ہوئی آواز ابھری اور میری کنپٹیاں سنسنانے لگیں۔ سیٹھ اصغر کے جواب پر سلطان جہانزیب نے ہلکا سا استہزائیہ قہقہہ لگایا۔ وہ پر غرور لہجے میں بولا۔۔۔۔"سیٹھ اصغر تم مجھے معمولی آدمی سمجھتے ہو؟ میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تم نے دیکھا نہیں کہ میں نے کس طرح ایک میجر کا کورٹ مارشل کروا ڈالا۔ اس کے بعد سے کسی کی اب تک مجھ پر آنکھ اٹھانے کی بھی جرات نہ ہو سکی۔" اس کے نخوت بھرے لہجے کی گفتگو نے مجھے سرتاپا لاوا بنا دیا تھا۔۔۔۔ "یار چھوڑو اس بات کو میرے کام کی بات کرو بہت دیر ہو گئی ہے۔ گھر میں صبا اکیلی ہے" اصغر خان نے پدرانہ محبت سے کہا۔۔۔۔ "اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ اور مجھے تاریخ دے دو... نکاح کے بعد تمہارا کام ہو جائے گا۔۔۔۔" سلطان جہانزیب نے کہا تو دوسرے بھی لمحے سیٹھ اصغر کی پر طیش آواز ابھری۔ "سلطان پہلے تمہیں اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا" "مجھے تم ؟ اوہ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں" جوابا سلطان جہانزیب کی رعونت آمیز آواز پھر ابھری۔ "جاؤ پھر جو کرنا ہے کرو توڑ دومنگنی میں بھی تمہیں کوڑی کوڑی کا محتاج کر دوں گا۔ تمہاری بیٹی کو تمہارے عالی شان "سارنگ ہاؤس" سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ پھر میں اسے آیا نوکرانی بنا لوں گا .... جو میرے بیٹے کی دل بستگی کا سامان بھی پیدا کرتی رہے گی ۔" "سلطان" سیٹھ اصغر کی غیظ آلود چیخ ابھری۔ "چیخنے کی ضرورت نہیں ہے سیٹھ اصغر اپنی اوقات کو پہچانو ۔ اس وقت تم میری چہار دیواری میں کھڑے ہو ۔ ایسا نہ ہو تمہارا نشان تک نہ ملے "سلطان جہانزیب کی بھی درشت آواز ابھری۔ "ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں معافی چاہتا ہوں" سیٹھ اصغر کی پژمردہ سی آواز ابھری۔ اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔ صبا کے متعلق ناپاک لفظوں کے استعمال نے مجھے آگ بگولا کر دیا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اسی وقت کھڑکی کا شیشہ توڑ کر اندر داخل ہو جاؤں اور سلطان جہانزیب جیسے غدار وطن اور رذیل کتے کی گردن مروڑ ڈالوں لیکن میں نے بمشکل اپنے اندر کے ابال پر قابو پایا اور مزید چند ثانیے سن گن لینے کی کوشش کرتا رہا مگر اندر بدستور خاموشی طاری رہنے پر میں اندر داخل ہونے کے بارے میں سوچنے لگا۔ کھڑکیوں کے ذریعے اندر داخل ہونا ناممکن تھا۔ کیوں کہ شیشہ سرکنے کے باوجود اندر آہنی گرلیں لگی ہوئی تھیں۔ میں نے آگے قدم بڑھا دیئے میرا اراده . بیرونی حصے سے ٹیرس پر کودنے کا تھا لیکن ابھی میں چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اچانک مجھے اپنے عقب میں خوفناک غراہٹ سنائی دی۔ میں چونک کر پلٹا تو میرے اوسان خطا ہو گئے سامنے مدھم روشنی میں مجھے لمبا قد آور اور خوفناک بلڈ ہاؤنڈ کتا نظر آیا۔وہ اپنی چمکتی ہوئی خونخوار آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کے ہانپتے ہوئے آدھ کھلے تھوتھنے سے زبان باہر کو پلپا رہی تھی۔ جہاں سے شکاری دانتوں کی خوفناک جھلک صاف نمایاں تھی۔ ابھی میں سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ ایک اور درندے کی خونخوار خراٹے دار غراہٹ مجھے اپنے عقب میں سنائی دی میں چونک کر پلٹا اور میرا سانس جیسے سینے میں اٹک کر رہ گیا۔ اور ایک لمحے کو تو دہشت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں میرے سامنے وہ قد اور خوفناک بلڈ ساؤنڈ کتا تھا جبکہ میرے عقب میں ایک خونخوار چیتا ان دونوں خونخوار جانوروں کے درمیان میں خود کو پا کر بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ چیتا اپنے خوفناک جبڑے پھاڑے تیز نوکیلے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا اپنی پچھلی ٹانگوں پر ذرا سمٹ گیا۔ وہ مجھ پر جست لگانے کے لئے پر تول رہا تھا۔ میں سردی کے باوجود پسینے میں نہا گیا۔ میں بہت خطرناک اور جان لیوا حد تک نازک پوزیشن میں تھا۔ چشم زدن میں میں نے اپنے مقتل پڑتے حواسوں پر قابو پانے کی کوشش کی. ادھر جیسے ہی میں نے کوٹ کی جیب میں پستول نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا چیتے نے ایک زبر دست چنگھاڑ مار کر مجھ پر چھلانگ لگا دی۔ میں یک دم نیچے بیٹھ گیا۔ چیتا میرے اوپر سے ہوتا ہوا ... کتے پر جاپڑا اب آر یا پار کچھ بھی کرنا تھا۔ ورنہ یہ دونوں خونخوار درندے مجھے چیر پھاڑ کر رکھ دیتے۔ مجھے پستول نکالنے کا موقع مل چکا تھا۔ چنانچہ میں نے بجلی کی سی پھرتی کے ساتھ اوپر تلے تین فائر جھونک مارے ایک گولی تو بلڈ ہاؤنڈ کتے کے چہرے پر کی تھی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا تھا جبکہ باقی دو گولیاں چیتے کی گردن میں پیوست ہو گئیں تھیں۔ اس نے ایک خوفناک چنگھاڑ ماری اور زخمی ہونے کے باوجود مجھ پر جست لگانے کیلئے پر تولے میں نے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان والی پیشانی کے نازک ترین حصے کا نشانہ لیا اور یکے بعد دیگرے دو گولیاں داغ ڈالیں... میری پستول کی نال نے دھماکے کے ساتھ دو شعلے اگلے اور چیتا وہی ڈھیر ہو گیا۔ اس اثنا میں مجھے عقب میں متعدد دوڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔ میں پلٹا اور خونخوار درندوں کی لاشیں پھلانگتا ہوا اندھا دھند دوڑ پڑا۔ دفعتا عقب سے مجھے رکنے کا درشت حکم دیا گیا مگر میں نے پلٹ کر گولی داغ دی. اگلے ہی لمحے مجھے پر گولیوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی. میں نے گولیوں کی مہیب زد سے خود کو بچانے کی خاطر ... زمین پر گرا دیا۔ اور ساتھ ہی کمانڈوز ٹرینگ کے دوران حاصل کی ہوئی تربیت سے کام لیتے ہوئے میں نے بالنگ جست لگائی اور اپنے وجود کو بائیں جانب کے گلیارے کی طرف اچھالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور دیوار کی آڑ ملتے ہی میں نے ... انتہائی تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے لمبی ہائی جمپ لگائی تو سیدھا باؤنڈری وال کی منڈیر پر جا پہنچا ۔ آہنی بریکٹوں پر نصب خاردار باڑھ نے میری کھال چھیل کر رکھ دی۔ اسی وقت دوبارہ مجھ پر کوٹھی کے مسلح گارڈز نے برسٹ فائر کر ڈالے مگر میں تو چھلاوہ بنا ہوا تھا۔ سنسناتا ہوا لہو پارے کی مثل میری رگوں میں تیزی سے گردش کر رہا تھا۔ گولیاں باؤنڈری وال میں زنازٹ کی آواز سے پیوست ہونے لگیں .... چند گولیاں آہنی بریکٹوں سے اچٹ کر زن سے میرے چہرے کے بالکل قریب سے گزری تھیں کہ مجھے ان کی آتشین جھپک چہرے پر صاف محسوس ہوئی تھی شکر تھا کہ میں ابھی تک گولیوں کی خوفناک زد سے بچا ہوا تھا ۔ میں نے پھر ایک لمحے کی بھی دیر نہ لگائی تھی۔ اچھل کر دیوار کی دوسری طرف کو گیا ۔ اور نیچے کودتے ہی میں ناک کی سیدھ میں دوڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔
    1 like
  21. فاسٹ ۔۔ بٹ ۔۔۔ ۔دل کو چھو کے اپنا بنا گئی یہ تحریر ۔۔ شاندار ۔۔۔
    1 like
  22. واہ تحریم جی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ایسے انمول رشتے آج کل صرف پڑھنے کو ملتے ھیں نبھانے والے قبروں میں سوئے ھوئے ہیں زبردست تحریر
    1 like
  23. بھٹی صاحب ہم بھی آپ کے انتظار میں آنکھیں بچھائے بیٹھے ہیں اپڈیٹ کا دیدار کرا دیں تو مہربانی ہوگی
    1 like
  24. واہ بھٹی صاحب کافی عرصے کے بعد آپ کو فورم پر دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی دیکھتے ہیں کہ حب الوطنی اور عشق کی بازی میں جیت کس کی ہوتی ھے اپڈیٹ کا انتظار رہے گا
    1 like
  25. اپڈیٹ1 وہ ایک سرد اور کہر آلود رات تھی جب میں اپنی ملٹری انٹیلی جنس کی جب میں "سارنگ ہاؤس پہنچا تھا۔ میرے ساتھ میری والدہ اور چھوٹی بہن سلطانہ بھی تھیں۔ سارنگ ہاؤس وسیع و عریض رقبے پر پھیلی ہوئی ایک پرشکوہ اور عظیم الشان کو ٹھی تھی جو لاہور کے ایک بہت بڑے تاجر سیٹھ اصغر خان کی ملکیت تھی۔ کوٹھی میں اس وقت خاصی گہما گہمی نظر آتی تھی۔ پوری کوٹھی بقعہ نور بنی ہوئی تھی اور کسی نوخیز دلہن کی طرح سجی ہوئی تھی۔ رنگ برنگے برقی قمقے گارڈن کی باڑ سے لے کر دیوار کی منڈھیروں پر وسیع و عریض لان کے خوشنما پودوں اور بل کھاتے بیل بوٹوں کی ہم رکابی میں جگمگا رہے تھے۔ کوٹھی کے اندر باہر متعدد نئے ماڈل کی چہچہاتی کاریں، پیجارو، لینڈ کروزر اور ڈبل کیبین انٹر کولر گاڑیاں کھڑی نظر آرہی تھیں جو اپنے مالکوں کی امارت کا بین ثبوت پیش کر رہی تھیں ۔ کوٹھی کی درون و بیرون سج دھج سے عیاں ہوتا تھا کہ یہاں کسی پر تکلف تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ سیٹھ اصغر خان کی اکلوتی بیٹی صبا خان کی برتھ ڈے پارٹی منائی جارہی تھی۔ صبا خان میری چھوٹی بہن سلطانہ کی کلاس فیلو اور عزیز ترین سہیلی تھی۔ ہمارا آبائی گاؤں شاہینوں کے شہر سرگودھا کے نواح میں واقع تھا جہاں میں نے بچپن اور جوانی کا اولین دور اپنی والدہ اور بہن سلطانہ کے ساتھ ایک حویلی نما گھر میں گزارہ تھا۔ وہ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا۔ میرے چاچا فاروق احمد اور تایا اخلاق احمد تھے۔میرے ابو نو از احمد اور ان سب کی اولادیں مل جل کر رہتے تھے۔ ہماری مشترکہ زمینیں بھی تھیں۔ مجھے فوج میں بھرتی ہونے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ اس وقت میرے ابو حیات تھے۔ در حقیقت وہ مجھے ایک اعلی آرمی آفیسر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جو کبھی خود ان کا اپنا دیرینہ خواب ہوا کرتا تھا۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ والدین اپنی نا تمام آرزوؤں کی تکمیل اپنی اولاد کی صورت میں دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ میرا قد کاٹھ اچھا تھا اور پھر ابو نے مجھے زمینداری میں لگانے کے بجائے اچھی تعلیم دلوائی تھی۔ یہ بات میرے تایا اور چاچا کو اچھی نہ لگی۔ کیوں کہ ان کی کسی اولاد نے چار پانچ جماعتوں سے زیادہ تعلیم حاصل نہ کی تھی اور کھیتی باڑی میں لگ گئے تھے۔ زمینیں بھی ہماری کچھ اتنی زیادہ نہ تھیں، بس اس قدر تھیں کہ تین خاندانوں کی کفالت بآسانی ہو جاتی تھی۔ بہر طور... چاچا اور تایا ہم سے اس بات پر خار کھانے لگے... یوں انہوں نے ہمیں زمین کی آمدنی سے بھی حصہ کم دینا شروع کر دیا۔ میرے ابو ایک امن پسند شریف اور فراخ دل انسان تھے۔ انہوں نے بھائیوں سے جھگڑنا مناسب نہ سمجھا اور اسی پر شاکر رہے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ مجھے آرمی میں کمیشن مل گیا اور میں میں پر ٹرینینگ کیلئے چلا گیا۔ ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد جب میں کیپٹن کی وردی پہنے اپنے گاؤں میں داخل ہوا تو لوگوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پورے گاؤں میں نہ کسی نے اتنی تعلیم حاصل کی تھی اور نہ ہی کوئی اتنے بڑے رینک تک پہنچا تھا۔ میرے ابا کی تو حالت خوشی کے مارے دیدنی ہو رہی تھی۔ ان کا تو جیسے دیرینہ خواب پورا ہو چکا تھا۔ گاؤں کے لوگ مبارکباد دینے کیلئے آنے لگے۔ گاؤں میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ چچا فاروق اور تایا اخلاق احمد کو ذرا بھی خوشی نہ ہوئی تھی۔ بلکہ الٹا وہ میری کامیابی پر جل بھن گئے تھے۔ جھوٹے منہ سے بھی انہوں نے ہم سے خوشی کا اظہار تک نہ کیا۔ مجھے ان کے مخاصمانہ رویوں پر دکھ ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے پتہ چلا کہ میرے چاچا اور تایا نے کن کن حیلے بہانوں سے میرے گھر والوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابا تو بالکل ہی بیمار پڑ گئے۔ وہ تو جیسے مجھے دیکھنے کی آس میں جی رہے تھے۔ ہماری ٹریننگ بہت سخت ہوتی تھی چٹھی بھی مہینوں بعد ملتی تھی اور وہ بھی چند دنوں کیلئے۔ پھر انہی دنوں ابا کا انتقال ہو گیا تو میرا اپنے چاچا تایا بلکہ گاؤں سے ہی دل اٹھ گیا۔ میں نے یوں کیا کہ اپنے حصے کی زمینوں پر لعنت بھیجی اور اپنی والدہ اور بہن کو لے کر ہمیشہ کیلئے لاہور آ گیا۔ یہاں میری سرکاری رہائش گاہ تھی۔ اقبال گوندل المعروف بالا میرے بچپن کا دوست تھا۔ میری غیر موجودگی میں وہی میرے بوڑھے ماں باپ کے کام آیا کرتا تھا۔ وہ مجھ سے رابطے میں رہتا تھا۔ بے چارے کا دنیا میں کوئی نہ تھا۔ اقبال گوندل عرف بالے کو میں ایک سچا دوست ہی کہوں گا کیونکہ میں نے آج تک اسے ملازم کی حیثیت سے نہیں دیکھا تھا۔ اس کا چوں کہ دنیا میں کوئی نہ تھا ما سوائے اس کے دو چار ابن الوقت عزیز رشتے داروں کے... اس لئے میں اسے بھی اپنے ساتھ لاہور میں لے آیا تھا۔ میں بات کر رہا تھا۔ سیٹھ اصغر خان کی بیٹی صبا خان کی سالگرہ کی۔ جس کا انعقاد اس وقت بڑی شان و شوکت کے ساتھ سارنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ جیسا کہ مذکور ہوا... صبا میری چھوٹی بہن سلطانہ کی سہیلی تھی اور اس نے اسے فیملی سمیت اپنی سالگرہ میں شرکت کرنے پر اصرار کیا تھا۔ یوں بھی میں سلطانہ کو تنہا جانے نہ دیتا۔ نہ ہی وہ خود ہی جاتی۔ میں اس وقت وردی میں نہیں تھا حالانکہ سلطانہ نے تو اصرار کیا تھا کہ میں اپنی دردی میں ہی ان کے ساتھ جاؤں تا کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے ویر کا تعارف کرواتی۔ مگر .... ایسا میں نے دانستہ نہیں کیا تھا۔ سلطانہ نے تحائف خرید رکھے تھے جو اقبال گوندل عرف بالے نے اٹھا رکھے تھے ۔ ہم سب جیپ سے اتر کر گیٹ کی طرف بڑھے. باوردی گارڈز نے احتراما جھک کر راستہ دیا۔ ہم چکنی روش پر چلتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ لان کی طرف سے آنے والی نوع بنوع گل بوٹوں کی گلنار نے دماغ ترو تازہ کر دیا۔ سامنے محرابی چبوترے پر ساگوان کی لکڑی کا دروازہ تھا جہاں فلورا کے سنگ مرمر کے گملے رکھے تھے۔ ایک باوردی خدمت گار نے وہ بھاری بھر کم دروازہ احترام سے کھولا۔ ہم تینوں اندر داخل ہو گئے۔ موسم سرما کی وجہ سے اندر ہی میں تقریب اور مہمانوں کی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ درمیان میں بڑی مستطیل میز تھی (یا پھر تین چار میزوں کو جوڑ کر اس پر بیش قیمت میز پوش چڑھا دیئے گئے تھے ) درمیان میں گنبد نما گول کیک دھرا تھا جس پر موم بتیاں نصب تھیں۔ میں نے ان کی تعداد گن کر صبا کی عمر کا تعین کیا۔ یعنی اٹھارہ برس تقریب ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ دائیں بائیں صوفوں پر سوٹڈ بوٹڈ مرد اور جھلملاتے سرسراتے لباسوں میں خواتین، بیش قیمت جیولری سے لدی خواتین اور دوپٹوں سے بے نیاز کمر لچکاتی ہرنی جیسی چال چلتی قہقے لگاتی نازنین تھیں، سلطانہ نے والدہ اور میرا تعارف کروایا۔ ساتھ مرد لدی پھندی ہاتھوں میں کاک ٹیل کے گلاس تھا مے باتوں میں مشغول تھے۔ ہائی سلطانہ ؟ اچانک ہمارے دائیں جانب ایک کھنکتی آواز ابھری۔ یہ صبا تھی نرم و نازک سندر اور چنچل صبا جو ہوا کے عطر بیز جھونکے کی طرح میرے قریب سے گزر کر سلطانہ سے لپٹ گئی۔ سلطانہ نے اسے وش کیا اور پھر ہاؤ کیوٹ ! آپ ہی اس کے وہ بھائی ہیں جو کیپٹن میں ... یہ بہت شیخیاں بھگارتی تھی آپ کی ... صبا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ اس کی موتیوں کی لڑی جیسے ہموار دانتوں کی قطار کی لمحاتی جھنک ابھری۔ پھر وہ سلطانہ اور والدہ کو لئے اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ کی طرف چلی گئی۔ اسی اثنا میں ایک درمیانے قدوقامت کا قدرے بھاری بھر کم شخص میری طرف آیا۔ "میرا نام سیٹھ اصغر خان ہے۔ اس نے تعبیر آواز میں مجھ سے کہا اور مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔ نائس ٹومیٹ یو۔" میں نے مسکرا کر کہا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ " کم آن انجوائے یور سیلف " وہ یہ کہہ کر دوبارہ اپنے دوستوں کی ٹولی سے جا ملا .. وہ لارنس کے گرے سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس نے جیسے خانہ پری کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک باوردی ویٹر ہاتھ میں لئے میری طرف آیا۔ میں نے کاک ٹیل کی بجائے .. ...ھوس کا گلاس اٹھالیا۔ بالا بھی میرے ساتھ تھا۔ ہم دونوں ایک کونے میں کھڑے ہو گئے۔ ہیلو کیپٹن صاحب اچانک ایک آواز پر میں نے چونک کر گردن موڑی۔ ارے ذیشان ..... تم یہاں دوسرے ہی لمحے میں اپنے دوست کو دیکھ کر گرم جوش آواز میں بولا۔ یہ ذیشان ملک تھا۔ سیالکوٹ کے بیس کیمپ میں ٹریننگ کے دوران وہ میرے ساتھ تھا۔ رینک اگرچہ اس کا لیفٹیننٹ کا تھا مگر ہم دونوں خوب گہرے دوست تھے۔ بہرطور ہم نے گرمجوشی کے ساتھ معانقہ اور بعد میں مصافحہ کیا۔ پھر میں نے ہولے سے بنتے ہوئے کہا۔ اوئے... یہ کیپٹن صاحب کا لاحقہ لگانا ضروری تھا؟ صرف عمران کہنا کافی نہ تھا۔؟" نو نیور سینٹر ! از سینئر وہ خالص آرمی قواعد کے مطابق اٹینشن ہوکر بولا۔ یہ کیمپ نہیں ہے. یہاں ہم صرف دوست ہیں۔ میں نے مصنوعی غصے سے گھور کر کہا۔ "اچھا یہ بتاؤ تمہاری اتنے بھاری بھرکم سیٹھ کی بیٹی سے کس طرح دوستی ہوئی جو اس کی سالگرہ میں چلے آئے۔" " نہیں یار.... میری تو دونوں باپ بیٹی سے رسمی سی بھی علیک سلیک نہیں ہے۔“ وہ بولا۔ "میں تو اپنی بہن نادره......" اوہ میں نے اس کی بات کائی تو گویا تم بھی میری طرح ہو۔" پھر اس اتفاق پر ہم دونوں ہی مسکرا اٹھے۔ اس کے بعد میں نے بالے کا تعارف کروایا اور ادھر ادھر کی باتوں میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران نجانے کیوں میری نظریں نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار صبا کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ وہ واقعی مجھے بہت اچھی لگی تھی۔ بالکل شہزادیوں جیسی معصومیت تھی اس میں رنگ روپ بھی پھولوں ساتھا۔ اے مسٹر ڈونٹ لک ہر شی از گوئنگ ٹو بی انگیجڈ سون ... ذیشان ( لیفٹیننٹ) نے آخرکار تا ڑ لیا تھا مگر اس کی بات پر میرے دل کو ایک گھونسہ لگا۔ کیا واقعی صبا کی منگنی ہونے والی ہے مگر مجھے جیسے یقین نہ آیا۔ اوہ تو گویا کیپٹن صاحب محترمہ کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھے۔" وہ شرارت سے بولا تو میں بے اختیار چھینپی سی ہنسی کے ساتھ بولا۔۔۔۔نہیں یار ایسی بات تو نہیں ہے" وہ دیکھو وہ ہے اس کا ہونے والا منگیتر ذیشان نے ہلکے سےاشارہ کیا۔۔۔۔۔۔ میں نے مذکورہ سمت دیکھا تو میرا منہ بے اختیار کھلے کا کھلا رہ گیا۔ حیران ہو گئے ناں ... صبا جیسی حور کے اس لنگور جیسے ہونے والے منگیتر کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔وہ بولا۔۔۔۔۔ واقعی اگر یہ لنگور نما شخص... صبا جیسی حسین و جمیل پری وش کا منگیتر ہوتا تو میرے لئے افسوس کا ہی مقام تھا۔ انتہائی دبلا پتلا رنگت بھی سانولی سر کے بال بھی عنقریب فارغ البالی کا اعلان کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ آنکھیں بھی چندی چندی کی قد بھی ہلکا تھا۔ اگر صبا ہیل والی اونچی سینڈل پہن کر اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تو اس لنگور کا قد بھی اس کے مقابل دب کر رہ جاتا۔ یار کیا۔۔۔" صبا یا اس کا باپ اندھے تھے جو " وشش۔۔۔۔ آہستہ بولو ورنہ بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے والا شعر ہم پر صادق آ جائے گا ۔۔۔۔ میرے ہولناک تبصرے پر ذیشان نے سرگوشیانہ کہا۔۔۔۔ صد افسوس ہے یار! یہاں بھی سیٹھ نے باپ بن کر نہ سوچا ضرور اپنے کسی کا روباری مفاد کی خاطر ہی اس لنگور کو اپنا داماد بنانے کا فیصلہ کیا ہوگا ؟میں نے متاسفانہ لہجے میں کہا۔ ۔۔۔ "ابھی تمہیں یہ نہیں پتہ کہ یہ لنگور ہے کس کا بیٹا ؟ پھر تو تم اپنا سر ہی پیٹ ڈالو گے " ذیشان نے جیسے مزید انکشاف کرنے کے سے انداز میں کہا۔ تو بتاؤ؟ میں نے جیسے سانس روک کر پوچھا۔۔۔۔ " سلطان جہانزیب خان معروف صنعتکار" اس نے بتایا۔ کیا ؟ بے اختیار میرے منہ سے غیر یقینی انداز میں نکلا تھا۔ روشن ہو گئے چودہ طبق ؟" یار یہ سلطان جہانزیب وہی تو نہیں جو۔۔۔ بس بس پھر کوئی ہولناک تبصرہ نہ کر دینا۔۔۔۔ سیٹھ اصغر کے سمدھی کے بارے میں ورنہ وہ میری بات کاٹ کر بولا اور دانستہ اپنا جملہ بھی ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔ میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔صنعت کار سلطان جہانزیب کچھ اچھی شہرت کا آدمی نہ تھا۔ اس کی یہ مشکوک شہرت اگرچہ انٹیلی جنس کی حد تک ہی تھی مگر بہر حال مستند اور مصدقہ تھی لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔۔۔۔ وہ بے پناہ اثر و رسوخ کا بھی مالک تھا اور خطرناک بھی تھا۔ اسے ذرا بھی بھنک پڑ جاتی کہ کوئی اس کے پیچھے لگا ہوا ہے تو وہ اسے خاموشی کے ساتھ مروا ڈالتا تھا یا پھر ہمیشہ کیلئے غائب۔۔۔۔۔" پھر ذیشان ہی کی نشاندہی پر وہ مجھے ایک طرف کھڑا نظر آ گیا۔ کالے کوے جیسی سیاہ رنگت سر بالکل گنجا ... دراز قد اور عمر میں وہ اپنے ہونے والے سدھی ... سیٹھ اصغر خان جتنا ہی تھا۔ یعنی پینتالیس، پچاس کے پیٹے میں ۔ مجھے جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ سلطان جہانزیب کے لنگور نما بیٹے کا نام جمشید تھا۔ وہ اس وقت صبا کا دم چھلا بنا نظر آ رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد کیک کاٹنے کی رسم ادا کی گئی اور پھر ساتھ ہی سیٹھ اصغر نے اپنی بیٹی صبا کی جمشید کے ساتھ عنقریب منگنی کا بھی اعلان کر دیا۔۔۔۔ جانے کیوں مجھے یوں لگا جیسے سیٹھ اصغر نے اپنی معصوم اور پری پیکر بیٹی کو سولی چڑھانے کا اعلان کیا ہو۔۔۔۔ میں بے اختیار ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔ تقریب کا انتقام ہوا ۔ ہم لوگ لوٹ آئے .... جانے کیوں میرا دل اداس اداس سا ہو کر رہ گیا تھا۔ سارے راستے میں خاموش رہا تھا۔ اپنی سرکاری رہائش گاہ پہنچ کر میں نے اماں اور بہن کو اتارا اور جیپ گیراج میں کھڑی کر کے اندر آ گیا۔ سالگرہ کی تقریب میں اچھی خاصی ریفریشمنٹ کر چکے تھے اس لئے کھانا کھانے کو جی نہ چاہا تھا۔ میری تو ویسے بھی بھوک اٹھ چکی تھی ۔ وہاں بھی میں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ میں اپنے کمرے میں آکر بستر پر دراز ہو گیا۔ مگر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار صبا کا معصوم اور حسین چہرہ میرے سامنے رقصاں ہو رہا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ سیٹھ اصغر یا اس کی بیٹی صبا سے جا کر .... سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتا دوں کہ وہ درحقیقت ایک غدار وطن تھا۔ دیگر اشیاء کی سمگلنگ کی آڑ میں وہ بعض اہم ملکی رازوں سے پڑوسی ملک کو آگاہ کرنے کی مذموم کوششیں کرتا رہتا تھا۔ مگر انٹیلی جنس کی اس کی انڈر گراؤنڈ مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نگاہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر بار نا کام رہا تھا۔ مگر ابھی تک ثبوت کی عدم فراہمی کی وجہ سے اس پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا تھا۔ اس کے جن گرگوں اور کار پردازوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں سے چند نے تو اپنی جان ختم کر ڈالی تھی جو باقی بچے تھے وہ اپنے چیف" کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے قاصر تھے کیوں کہ انہوں نے اب تک سات پردوں میں چھپے چیف کی آواز ہی سنی تھی ... مگر صورت نہیں دیکھی تھی۔ ایک میجر رینک کے اعلی آرمی آفیسر نے حب الوطنی کے جذبہ سے مغلوب ہو کر سلطان جہانزیب پر بغیر کسی ثبوت کے ڈائریکٹ ایکشن لینے کی کوشش کی تو الٹا اس بے چارے کا کورٹ مارشل ہو گیا تھا۔ پہلے اس بے چارے کی وردی اتری ... پھر بعد میں اس کا بالکل پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں گیا۔ آرمی قوانین بہت سخت ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا آدمی بھی اس سے ذرا بھی روگردانی کرتا ہے تو وہ اس کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے نہیں چوکتے کیوں کہ مذکورہ میجر کی اس کارروائی سے دشمن مزید محتاط ہو گیا تھا۔ اور پھر آرمی کی بدنامی الگ ... بہرطور .... اس کے بعد سے سلطان جہانزیب کی طرف سے دوبارہ ...کسی ملک دشمن کارروائی کی ذرا بھی بھنک نہ ملی۔ پھر اس دوران کچھ افسران کے تبادلے ہوئے... اور یہ بات آئی گئی ہو گئی مگر بہرحال ... آرمی انٹیلی جنس کی نظروں میں سلطان جہانزیب کو ریڈ پرسن“ قرار دے دیا گیا تھا۔ مگر سول حلقوں کے ساتھ ساتھ اس کی بعض سر بر آوردہ شخصیات تک بھی رسائی تھی۔ بہر طور... میں نے وہ ساری رات بے چینی سے کروٹیں بدل بدل کر گزار دی۔ اگلے دن میں سیدھا ذیشان کے پاس گیا۔ وہ گھر پر ہی تھا۔ وہ بھی میری طرح چھٹیاں منا رہا تھا۔ ہم چوں کہ اب آفیسروں کے رینک میں آچکے تھے اس لئے اس بار ہمیں خاصی طویل مدت کی چھٹیاں نصیب ہوئی تھیں۔۔۔۔ یار ذیشان! میں سیٹھ اصغر سے ایک ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے دبے دبے جوش سے کہا۔۔۔ کس سلسلے میں؟ ذیشان نے بغور میرے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔ میں اسے سلطان جہانزیب کی اصلیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ میں نے بلا تعویض و تشخیص کہا۔۔۔ " ہوں تو گویا اب تم اس کے بیٹے جمشید کے رقیب رو سیاہ کا کردار ادا کرنا چاہتے ہو۔"وہ جیسے میرے دل کا چور پڑھتے ہوئے بولا۔ " کچھ بھی ہو... میں ایک بار سیٹھ اصغر سے ضرور ملنا چاہتا ہوں ... اور تم دل ہار رہے ہو۔ نہیں یار یہ بات نہیں میں نے جھلا کر کہا۔ میں سمجھ رہا ہوں ذیشان نے مجھے مزید بولنے کا موقع نہ دیا۔ " کیا خبر سیٹھ اصغر خان کو پہلے ہی سے علم ہو پھر تم کیا کرو گے؟ الٹا تمہارے گلے مصیبت پڑ جائے گی ... سلطان جہانزیب کے خونخوار کار پرداز ہاتھ دھو کر تمہاری جان کے درپے ہو جائیں گے۔“ "تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔“ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔۔۔۔ ذیشان چند ثانئے پر سوچ خاموشی کے بعد بولا۔ مجھے تمہارے ساتھ جانے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن میرا مشورہ تو یہی ہے کہ .... اگر ہم سیٹھ اصغر خان سے ملنے کے بجائے اس کی بیٹی صبا سے ملیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔۔۔۔ میں نے اس کی بات پر چند ٹانئے سوچ کر کہا۔ "اس کا کیا فائدہ ؟ حکم تو اس کے باپ کا ہی چلے گا۔“ "ہر گز نہیں۔صبا اس کی اکلوتی اولاد ہے۔ وہ اس پر اپنی مرضی ہرگز نہیں مسلط کر سکتا " "تو پھر اس لنگور نما شخص سے شادی پر وہ کیسے راضی ہوگئی" میں نے کہا۔۔۔۔ ہاں یہ تو سوچنے والی بات ہے۔ ذیشان بولا۔ ” مجھے واقعی حیرت ہے کہ آخر اس نے اس لنگور نما شخص سے شادی کرنے کی حامی کس طرح بھری ... مجھے تو کسی اور ہی چکر کی بو آ رہی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ صرف اور صرف صباہی بتا سکتی ہے۔ اس لئے میرا تمہیں مشورہ یہی ہے کہ تم تنہا صبا سے ایک ملاقات کرنے کی کوشش کرو اور اسے اعتماد میں بھی لینے کی کوشش کرو۔" میں نے اس کی بات پر ایک گہری ہنکاری خارج کرتے ہوئے پر سوچ انداز میں سر کو جنبش دی. ایک آرمی آفیسر کی حیثیت ہے تو میرے اندر جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ہی لیکن ایک عام پاکستانی ہونے پر بھی مجھے اپنے وطن کی مٹی سے عشق تھا۔ اور فخر کرتا تھا کہ میرا خمیر جیالوں کی سرزمین سے ہی گندھا ہوا تھا۔ جنہیں اپنی سرزمین، وطن کی آن بان اور شان پر بے دریغ اور پروانہ وار قربان ہونے پر ہمیشہ سے فخر محسوس ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں یہی چاہتا تھا کہ صبا جیسی معصوم صورت لڑکی تباہ ہونے سے بچ جائے ورنہ تو میرا اس سے کسی قسم کا کوئی بھی جذباتی لگاؤ نہ تھا۔ صرف اس حد تک کہ ... خوشنما پھولوں کا حق دید میں بھی رکھتا تھا۔۔ بہر طور... میں نے ایک روز صبا سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ میں چاہتا تو اپنی بہن سلطانہ کی معرفت اس سے ملاقات کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔ مگر حسن اتفاق کہ مجھے یہ موقع میسر آ ہی گیا۔۔۔۔ وہ گلابی جاڑوں کی ایک دو پہر تھی۔ میں اپنے دوست ذیشان سے مل کر گھر کی طرف لوٹ رہا تھا۔ ایک چورا ہے سے موڑ کاٹ کر میں نے اپنی جیپ کو فل ایکسیلیٹر دیا مگر دوسرے ہی لمحے مجھے فوراً بریک پر پاؤں رکھنا پڑ گئے تھے۔ وجہ اس کی تھی جسے میں نے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ کے قریب اپنی کار کے باہر پریشان کھڑے پایا .... غالبا اس کی کار میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ ون وے تھا۔ چنانچہ میں اپنے ہاتھ پر رہتے ہوئے جیپ ریورس کرتا ہوا چوراہے پر آیا۔ دوسری طرف سروس روڈ تھی۔ میں وہاں سے گزرتا ہوا... صبا کے قریب جا پہنچا اور جیپ سے اتر کر فوراً اس کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے اچانک دیکھ کر پہچان نہیں پائے گی . بھلا سالگرہ کی تقریب میں پہلی بار اور وہ بھی سرسری سی ملاقات میں کون کسے یاد رکھتا ہے؟ مگر اس وقت مجھے خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا جب مجھے قریب آتا دیکھ کر صبا کے قبیح چہرے پر شناسائی کے آثار ابھرے تھے اور وہ دھیرے سے مسکرائی۔ آپ شاید مجھے پہچان گئیں۔ چلیں پھر بھی میں اپنا تعارف کرائے دیتا ہوں میں در حقیقت" جی میں آپ کو پہچان گئی ہوں آپ کیپٹن عمران صاحب ہیں۔ میری بہت عزیز سہیلی سلطانہ کے بڑے بھائی وہ میری بات کاٹ کر مسکراتے ہوئے بولی۔ اور میں نے بھی جو ابا ہلکی مسکراہٹ سے کہا۔صرف .. عمران صاحب ۔ خیر میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ آپ کو یوں کھڑے پاکر کشاں کشاں ادھر چلا آیا۔ شاید آپ کی کار .....میں نے آخر میں دانستہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تو وہ بولی۔۔۔ ہاں پتہ نہیں کیا خرابی ہو گئی ہے۔ ویسے میں نے گھر موبائل پر اطلاع دے دی ہے پاپا کا ڈرائیور آنے ہی والا ہو گا۔۔۔ " کیا آپ کے ساتھ ڈرائیور نہ تھا۔؟" "نہیں میں کار عموماً خود ہی ڈرائیو کرتی ہوں۔ اپنی سہیلی کے ہاں گئی تھی ... واپس لوٹ رہی تھی کہ نہ جانے کیا ہوا چلتے چلتے جھٹکے مارنے لگی " اوہ اچھا میں ذرا خرابی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں . میں نے شستہ مسکراہٹ سے کہا اور کار کا بونٹ اٹھا کر اس پر جھک گیا۔ خرابی معمولی نہ تھی کسی مکینک کو دکھائے بغیر دور نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس لئے میں نے اچانک اس سے کہا۔ اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو جب تک آپ کا ڈرائیور نہ آ جائے ہم وہ سامنے والے ریسٹورنٹ میں چل کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مکینک بھی ساتھ ہی ہے جیسے ہی آپ کا ڈرائیور آئے گا میں اسے کار مکینک تک پہنچانے کا کہہ دوں گا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے راضی ہو گئی۔ "ہم دونوں ریسٹورنٹ میں آ کر ایسے کونے پر اچھی میز کرسیوں پر براجمان ہو گئے جہاں سے سڑک پر کھڑی کا رصاف نظر آتی تھی ۔" میں نے چائے کے آرڈر کے ساتھ کچھ اسنیکس بھی منگوانے چاہئے مگر صبا نے معذرت کرتے ہوئے صرف چائے پر اکتفا کیا۔ اور سنائیں آپ کیسی ہیں؟ میں نے اپنے دل کی بے طرح دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں۔ آپ کی سروس کیسی چل رہی۔۔۔۔ ایک دم فرسٹ کلاس میں نے کہا۔ پھر میں نے ہولے سے کھنکار کر اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور مزید بولا۔ "صبا صاحبہ ! درحقیقت میں آپ سے ایک بہت اہم بات کرنا چاہتا تھا۔ اور موقع کی تلاش میں تھا۔ پتہ نہیں آپ اسے کہیں میرے عامیانہ رویے پر محمول نہ کریں مگر مجبوراً بھی کچھ اہم باتیں کرنے کیلئے بسا اوقات ایسے عمومی سہاروں کی ضرورت پڑتی ہے۔" وہ میری بات پر کھلکھلا کر ہنس دی۔ "ارے .. عمران صاحب ! آپ تو واقعی بہت سنجیدہ نظر آنے لگے....خیر میں سن رہی ہوں " میں نے کہا۔ صبا صاحبہ شاید آپ کو برا لگے لیکن کیا آپ مجھے یہ بتائیں گی کہ آپ کے پاپا سیٹھ اصغر صاحب ... سلطان جہانزیب کو کب سے جانتے ہیں ... میری بات پر وہ قدرے چونک کر میرا چہرہ تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں پہلے ایکا ایکی اداسی کی ایک رمق سی ابھری۔ پھر جب وہ ہولے سے مسکرا کر بولی تو مجھے اس کی مسکراہٹ .... بے تاثر ہی محسوس ہوئی۔ " کچھ زیادہ پرانی جان پہچان تو نہیں مگر بہر حال جتنی بھی ہے.....بہت مضبوط ہے..." اس تھوڑے عرصے میں اچانک ہونے والی مضبوط دوستی کی کوئی خاص وجہ یا میرا مطلب ہے. کوئی کاروباری مجبوری میں نے اس کی سرمگیں آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ تو اس بار وہ یوں آنکھیں پھیلا کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی جیسے میں نے کوئی انہونی کہہ ڈالی ہو۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ اپنے مخصوص کھلنڈرے پن والی ہنسی کے ساتھ بولی۔ "ارے واہ عمران صاحب آپ تو غضب کے قیافہ شناس ہیں۔ آپ کو کیسے علم ہوا کہ میرے پپا نے کسی کار باری مجبوری کی وجہ سے انکل سلطان کے ساتھ تھوڑے عرصے میں گہری دوستی بنالی ہے؟" "یہ قیافہ شناسی نہیں ہے. صبا صاحبہ ! بلکہ حقیقت ہے کہ سلطان جہانزیب کی شخصیت ملک دشمن عناصر کے حوالے سے مشکوک ہے۔“ محض افواہ ہے۔ وہ پہلی بار متانت سے بولی۔ میں نے کہا۔ "کیا آپ وہ کاروباری مجبوری بتائیں گی کہ...." عمران صاحب ! میرا خیال ہے. اتنا ہی کافی ہے۔ اس نے اچانک کہا۔
    1 like
  26. حسینہ چاچی پہلی قسط میرا نام آفتاب خان ھے۔ ہم ایک افغان پشتون خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے مرد لمبے تڑنگےاور خواتین خوش شکل وخوبرو ہیں، ھمارا خاندان ہندوستان میں بنگلور میں 50 کی دہائی سے آباد ہے۔ میرے دادا نے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی فوج کے لیے نازیوں کے خلاف لڑنے کے بعد ایک حوالدار کے طور پر ہندوستانی فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ میرے دادا ایک وحشی نڈر انسان تھے جیسا کہ میں نے ایک ڈبے میں رکھی تصویروں میں دیکھا ہے جس میں میرے والد کی تمام پرانی یادیں موجود ہیں۔ مشہور ہے کہ اس نے بہت سی گھوڑیوں اور عورتوں کو اپنی گھوڑ سواری کے کارناموں سے اپنے تابع کر ڈالا اگر آپ کو میرا مطلب سمجھ میں آئے۔ بڑھاپے نے کبھی اس کا ساتھ نہیں پکڑا کیونکہ وہ 40 کی دہائی کے آخر میں مر گیا تھا اس وقت بھی وہ ایک غیر معمولی مردانہ قوت رکھنے والا آدمی تھا جس کا دوسرا ایک سال کا بیٹا میری دوسری نانی کے ساتھ تھا جو اس وقت 19 سال کی تھیں۔ میرے والد اس وقت 30 سال کی عمر میں سب سے بڑے تھے اور 2 ماؤں، 1 بھائی اور ایک بیوی اور ایک بیٹے کا پورا سوگوار خاندان اپنی بقا کے لیے اچانک ان پر منحصر ہو گیا۔ میرے والد میری سب سے بڑی نانی کی طرح ایک مہربان اور مہربان مزاج کے ساتھ دبلے پتلے تھے۔ انہوں نے افغان خشک میوہ جات اور اونی اشیاء درآمد کرنے اور بھارت میں فروخت کرنے کے اپنے کاروبار میں سخت محنت کی۔ اور ہمیں مقامی ہندوستانی رسم و رواج اور اس کی ثقافت کا احترام کرنے اور اپنانے کی ترغیب دی۔ ان کی دور اندیشی کی باعث کاروبار میں ترقی ہوئی اور 2000 کی دہائی کے اوائل تک ہمارا شمار جنوبی ہندوستان کے ایک خوشحال کاروباری خاندانوں میں ہوتا تھا جس میں ہمارے اپنے ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسپورٹ چینلز، آؤٹ لیٹ اور کافی کچھ اور بھی تھا۔ موجودہ وقت تک، میری دونوں نانیاں انتقال کر چکی ہیں، اور میرے والد کی برونکائٹس ہونے کی وجہ سے صحت ٹھیک نہیں رہی تھی اور وہ اپنا زیادہ تر وقت گھر کے اندر گزارتے ہیں جہاں میری ماں ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ میں، آفتاب ، نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے اور میرے والد کے بستر پر ہونے کے بعد ان کے کاروبار میں شامل ہو گئا اور اب میں ہی کاروبار چلا رہا ہوں۔ میرے چچا بہت پہلے لڑکپن میں اپنے بورڈنگ اسکول سے بھاگ گئے تھے اور ہم نے ان کے بارے میں دوبارہ تب سنا، جب وہ آج سے 1 سال پہلے واپس آئے تو وہ ایک شکست زدہ آدمی تھے جس کے ساتھ ایک جوان خوبصورت بیوی تھی۔ میرے والد، اپنے بھائ اور میرے چاچا کو اپنے کاروبار میں نہیں لانا چاہتے تھے لیکن میں نے اصرار کیا انہیں منا لیئا اور چونکہ اب میں خاندان کا پہلے سے طے شدہ سربراہ تھا،اسلئے یہ بات کافی حد تک ایک طے شدہ سودا تھا۔ میں نے اپنے چاچا روشن سے پوچھا کہ اتنے سالوں میں کیا ہوا اور مختصراً اس نے سکول میں اپنے نشے کی لت بتا دی اور چونکہ اسے پڑھائی میں کبھی دلچسپی نہیں تھی اس لیے اس کے پاس ڈھاکہ بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ (بنگلہ دیش میں)۔ اس نے ایک مقامی مڈل مین سے کچھ کاروبار کرنے کے لیے قرض لینے کی کوشش کی جو شروع میں کامیاب ہو گیا اور پھر اس نے اپنے نوکر کی بیٹی سے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے پیار کر کے شادی کر لی۔ اس کے منشیات کے مسئلے نے اس کے کاروبار اور ذاتی زندگی کو جھنجٹ میں گھیر لیا اور جب اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ بچا تو وہ ہمارے پاس واپس آگیا۔ مجھے اپنے چچا سے کوئ خاص انس نہیں تھا ، کیونکہ میں نے اپنے بچپن میں اس کے ساتھ زیادہ وقت کبھی نہیں گزارا تھا (یاد رہے وہ بورڈنگ اسکول میں تھا) اور وہ مجھ سے صرف 5 سال بڑا تھا۔ اسے ایک بڑے بھائی جیسا ہونا چاہیے تھا ، لیکن وہ بھاگ گیا۔ تاہم پھر بھی وہ میرے خاندان کا حصہ تھا۔ کبھی دنیا اس طرح سے کام نہیں کرتی ہیں جس طرح ہم چاہتے ہیں اور شائد اسی میں خدا کی بہتری تھی۔ میری چاچی حسینہ، ہائے وہ کیا مدھر چاند کا ٹکڑا ہے۔ وہ میرے چچا سے 10 سال چھوٹی ہے، جس کی وجہ سے وہ مجھ سے 5 سال چھوٹی ہے۔ اس لیے اسے چاچی کہنا شروع میں عجیب لگتا تھا۔ جب میں نے پہلی بار اس پر نگاہ ڈالی تو اُس نے مجھے ایک پُرجوش مسکراہٹ دی اور اس مسکراہٹ کو میں اپنی قبر میں لے جاؤں گا۔ میں اپنے لنڈ کو اٹھتے ہوئے محسوس کر سکتا تھا، جب اس نے میری طرف دیکھا۔ اس نے صرف ایک سیکنڈ کے لیے نیچے دیکھا اور مجھے یقین ہے کہ میرا تمبواسے دور سے دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے انہیں بنگلور میں ہمارے مرکزی اسٹور کی بالائی منزل پر ملحقہ کمرے میں شفٹ ہونے کو کہا، جہاں پر، میں نے جب سے کاروبار کی دیکھ بھال شروع کی تھی، اپنے لیے مرکزی سویٹ روم پر قبضہ کر لیا تھا۔ میرے کمرے میں ایک بڑا ڈبل بیڈ تھا جس میں پرانی روایتی شیشم کی لکڑی تھی، جو بڑے کمرے کے بیچ میں فرش بورڈ کے سمیک پر لگا ہوا تھا۔ میرے دائیں طرف بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں، جو السور جھیل اور اس کی سرسبز و شادابیوں کو دیکھ رہی ہیں۔ میرے بائیں طرف کسی بھی مہمان کے لیے ایک 3 سیٹ والا صوفہ تھا جو کام کے اوقات کے بعد مجھ سے مل سکتے ہے۔ ، بیڈروم میں 65 انچ کا ٹی وی اور ساؤنڈ سسٹم بھی موجود تھا کیوں کہ میں ایک بہت بڑا فلمی شوقین تھا اور میں نے زیادہ تر راتیں ہر قسم کی شہوت انگیز فلمیں دیکھنے میں گزاری تھیں۔ اس کے بالکل پیچھے اٹیچ باتھ روم تھا جس کا اپنا جاکوزی باتھ ٹب اور ساؤنڈ سسٹم تھا میری ذاتی تفریح کے لیے ایک خوبصورت 40 انچ کے ٹی وی بھی موجود دیوار پر تھا۔ باتھ تھا۔ میں نے اپنے چچا کو کاروبار کے ایک کھیپ کے راستے کے لیے لاجسٹکس کا چارج دینے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا۔ اسے دلچسپی تھی، جیسا کہ میں نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ ایسی جگہوں پر جانا چاہتا تھا جہاں وہ اپنی بیوی اور میری چاچی کی نظروں سے دور منشیات میں ملوث ہو سکتا ہے۔ کام کی وجہ سے اسے اکثر ہفتوں کے لیے بنگلور سے باہر لے جایا جاتا تھا اور چونکہ میں اکاؤنٹنگ اور مینجمنٹ کے شعبے میں زیادہ تھا، اس لیے مجھے شہر میں ہی رہنا تھا۔ قدرتی طور پر ہر وقت چاچی حسینہ کے ساتھ رہنے اور ان کے ایک دوستانہ دلکش عورت ہونے کے وجہ سے، ہم ایک دوسرے کے کافی قریب ہو گئے تھے۔ وہ اکثر اچھی زندگی گزارنے کے اپنے خواب کی بات کرتی تھی جس کی وجہ سے وہ روشن سے شادی کرنے پر راضی ہوئ تھی۔ اسے اس کی نشے کی لت کے بارے میں بہت کم معلوم تھا اور یہ عادت ان کی زندگی میں کیا تباہی مچا دے گا ابھی نہیں معلوم تھا۔ کچھ دنوں کی گپ شپ کے بعد وہ کچھ پوچھنے کے بہانے شاید اکیلےپن اور بوریت دور کرنے کیلئے میرے کمرے میں آنے لگی اور رات کے آخری پہر تک گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ اس کے جیسی دلکش عورت کے قرب کی وجہ سے میرا بھی دل لگا رہتا تھا۔ ایسی ہی ایک شام جب وہ صوفے پر تھی اور میں اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا تھا، میرے منہ سے بے سوچے سمجھے نکل گیا "آپ کی شادی شدہ زندگی کیسی ہے چاچی؟" اس کا چہرہ ایک دم بدل گیا اور بے ساختگی میں اس نے مجھے تھپڑ مار دیا۔ میں ذلت و ندامت سے سرخ ہو گیا۔ اسے میری شرمندگی کا احساس ہو گیا اور اس نے فوراً معافی مانگ لی۔ شائید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اور اس کے شوہر کے سر پر چھت بھی تھی اور روزگاربھی جس کی وجہ صرف میں تھا۔ کہنے لگی مجھے معاف کردو میں ہمیشہ تمہاری شکر گزار رہوں گی اور دوبارہ کبھی یہ غلطی نہیں دہراوں گی۔ پھر وہ میرے اور قریب آئی اور سرگوشی کی "تمھارا چاچا اسے کھڑا نہیں کر سکتا..." میں اس انکشاف پر حیران رہ گیا اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا جواب دوں۔ میرے سامنے ایک لمبی گردن اور گول مکھڑے کے ساتھ گلاب کی پلکوں کے جیسے نازک رسدار موٹے ہونٹوں والی شائد دنیا کی سب سے خوبصورت عورت تھی،اس کے کالے لمبے بال کمر تک آتے ہوئے اس کی گول مٹول پشت کی چمیاں لیتے تھے۔ لمبے پتلے صراحی دار سنگ مرمر کے بدن کے پر کم از کم چھتیس انچ کے مموں کا جوڑا، جتنے بڑے کا تصور کیا جا سکتا ہے، قیامت خیزبل کھاتے کولہے جو اس کی فربہ ٹانگوں سے ملتےاور پیارے چھوٹے پیروں کا ایک جوڑا پر ختم ہوتا ہوا بدن جسے خدا نے دودھیا مکھنی جلد سے نوازا ہوا تھا جو کہ ماربل کو روتے ہوئے شرم سے جھکائے اور ایسی بھر پور عورت رات بھر جاگتی رہی بغیر جنسی سکون کے....! ناممکن" میں بڑبڑایا اور اس نے کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی جنسی ضروریات پوری کرنے کیلئے کبھی موم بتی اور کبھی کوئ لمبی سبزی کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ اوراس کے علاوہ اکیلا پن دور کرنے کیلئے، تم ہر طرح سے میری مدد کرنے کے لیے موجود ہو، آفتاب؟" شاید یہی وجہ تھی کہ اس دن سے میں نے اسے ایک نئی روشنی میں دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ یقینا، میری پیاری چاچی، آپ جب چاہیں آ سکتے میں آپ کی خدمت میں پیش ہوں، آپ کی جو بھی ضرورت ہو سکتی ہے، میں پورا کروں گا۔ اس نے یہ جان کر سر ہلایا اور میرے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔ میں اپنے سینے پر اس کے مموں کی گرمی محسوس کر سکتا تھا اور اس کے سخت نپلز ریشمی لباس میں سے چھب چھب کرمجھے آگ میں جھونک رہے تھے۔ میں اپنے کھڑے ہوتے شیطان کو اپنی ٹانگوں کے درمیان دبائے رکھنے کی پوری کوشش کر رہا تھا اور اپنے پتلون کے اژدھے کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے ادھر اؤدھر حرکت کرتا رہا۔ "کیا میں آپ کو تنگ کر رہی ہوں" اس نے نم آنکھوں سے پوچھا اور میں نے اپنے لن کی طرف دیکھا اور کہا "نہیں نہیں... سب ٹھیک ہے چاچی۔ اسکی آنکھوں نے ایک دم میری نگاہوں کا تعقب کیا میری پینٹ کے تمبو کو تاڑ کرچونک کر بولی اوہ، میں بہت معذرت خواہ ہوں، میں نے ایسا کیا ... مجھے کبھی معلوم نہیں تھا کہ آپ مجھے پسند کرتے ہیں ..." اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ کھڑی ہو گئی اور چلی جا رہی تھی جب میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔ "میں ایک مرد ہوں... آپ کو اپنی زندگی میں ایک ایسے مرد کی ضرورت ہے جو آپ کو ہر طرح سے خوش رکھے جس طرح آپ خواہش کریں اور چاہیں، کیا آپ چاچی نہیں؟" میں تم میں تمہارے اندر کی وہ عورت جگا دوں گا جیسے خدا کی نظر میں ہونی چاہیئے جس نے تمہارا جسم اتنا پیار اور خوبصورتی سے بھرا ہے..." میں نے اپنے آپ کو سوچا اور اپنی لمبی انگلیاں اس کی گردن پر پھیریں۔ وہ کانپ گئی اور اس کی پیشانی پر ٹھنڈا پسینہ آگیا۔ میں نے مسکرا کر اس کا ہاتھ چوم لیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی "جب بھی کہو چاچی حسینہ"۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ اس کے جسم نے مجھے اس طرح جواب دیا کہ وہ مزید چھپا نہیں سکتی تھی۔ وہ اپنی رانوں کو ایک ساتھ دبا رہی تھی اور اپنے ہونٹوں کو کاٹ رہی تھی اور اپنی مٹھی بھینچ رہی تھی۔ وہ میرا ممنوعہ پھل تھا...میرے آخری خوابوں کی چدائی...میں اس کی سیکس کو سونگھ سکتا تھا۔ وہ تقریبًا بھاگتے ہوئے میرے کمرے سے نکل گئ۔... اس واقعے کہ کچھ دن بعد، اگست کی ایک ابر آلود صبح جب میں نے اپنی روزانہ کی صبح کی تیسری مٹھ سے فارغ ہوکر غسل کیا تھا اور اپنے ترکش تولیہ میں تھا، دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے کھولا تو چاچی حسینہ وہیں کھڑی تھیں جن کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔ میں نے اسے اندر آنے کو کہا، اسے صوفے پر بٹھایا، اسے تھوڑا سا پانی دیا اور اسے آرام کرنے کو کہا اور پھر پوچھا کیا بات ہے۔ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ میرے جسم کو جھنجھوڑ کر دیکھ رہی ہے اور جب بھی میں اس کی طرف متوجہ ہوتا تو وہ نظریں ہٹا لیتی۔ ایک گھونٹ پینے کے بعد اس نے بتایا کہ وہ پچھلے دو دنوں سے چچا سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ان کا فون بند تھا۔ وہ کچھ برا سوچ رہی تھی اور چاہتی ہے کہ میں اسے تلاش کروں۔ میں نے اسے کہا کہ پریشان نہ ہو کیونکہ کام اسے سامان کی ترسیل کے لیے دور دراز علاقوں میں لے جاتا ہے اور بعض اوقات موبائل نیٹ ورک اچھا نہیں ہوتا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ وہ ایک گھنٹے میں اس کا ٹھکانہ تلاش کر کے اسے مطلع کر دوں گا۔ اس نے میرا بے حد شکریہ ادا کیا اور دوسری بار میں نے وہی دلکش مسکراہٹ دیکھی جس نے میرے نچلے علاقوں کے لیے پھر سے معاملات کو مزید خراب کر دیا۔ " ایی ماں" اس کے منہ سے ایک دم نکلا (عام طور پر بنگالی خواتین کہتی ہیں جب وہ حیران ہوتی ہیں... تقریباً ترجمہ اوہ ماں!) اس نے تولیے میں میرے بڑے تمبو کی طرف دیکھا، جان کر ہنسی اور اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا لیا۔ میں بے وقوفانہ طور پر وہاں کھڑا رہا اور کندھے اچکا کر اس سے کہا کہ اسے مزید خراب نہ کریں۔ (آخر میں میں ایک شاندار ریشمی چمڑی والی عورت کے قریب ایک مرد تھا اور یہ فطری عمل ہے)۔ کیا میں نے اسے اتنا بڑا کر دیا؟" اس نے تولیے کے نیچے سے میرے ہمیشہ کے سخت رہنے والے پیکج پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پوچھا جس پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا "آپ کو وہ پسند ہے جو آپ دیکھ رہی ہیں ؟"" چاچی اپنی بڑی بھوری رنگ کی آنکھوں سے میری طرف متوجہ ہوئی اور آنکھ ماری "یہ تم نے مجھے کب دکھایا؟" میرے لن کو اس وقت تقریباً دل کا دورہ پڑا تھا جب میری چاچی نے اپنےگرم ملائم ہاتھ سے تولیے کے اندر ٹٹولتے ہوئے ایک دم سے اس کو تھام لیا۔ "اللہ جان لے لیگا یہ!" ... یہ کسی لڑکی کو مار سکتا ہے۔ اب تک اس کا ہاتھ میرے تولیے کے اندر تھا اور میرا لنڈ اور ٹینس بال کے سائز کے ٹٹوں کو پیار کر رہا تھا جس نے شکر ہے کہ صبح کا کوٹہ اسی وقت پھینک دیا تھا۔ اس کا ہاتھ میرے پریکم سے نم تھا اور اس نے اسے اپنی ناک کے قریب لایا اور گہری سونگھ لی۔ ’’تمہاری بیوی بہت خوش قسمت عورت ہوگی میرے پیارے بھتیجے‘‘۔ وہ اچانک اپنے ہوش میں آئی اور عملی طور پر دروازے کی طرف بھاگی اور جب وہ باہر تھی "پلیز آج میرے شوہر کے بارے میں پوچھنا مت بھولنا" وہ اپنے کمرے میں گئی اور دروازہ بند کیا۔ میں کچھ بھی کہنے کے لیے بہت پریشان تھا اور میرے 11 انچ کے لنڈ سے بہت تنگ تھا کہ میں عملی طور پر سوچ سکوں۔ میں اپنے بستر پر گر گیا اور خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ ایک بار جب میں مہذب ہوا، میں نے کپڑے پہنا، اس کے دروازے پر آیا اور ابھی دستک دینے ہی والا تھا کہ میں نے اپنا نام پکارتے ہوا سنا... "اففف آفتاب اوہ... مجھے اپنے اس فولادی لنڈ کے ساتھ نہ چھیڑو... اوہ... اففف... میرے چوت تمھارے لنڈ کے لئے ٹپک رہ ہے میری جان، میری چوت کو پوری رات ٹشوپیپر کی طرح اپنے بڑے لنڈ کو صاف کرنے کے لئے استعمال کرو ... جہاں بھی جدھر بھی جیسے بھی تم چاہتے ہو ... اپنے لنڈ کے ساتھ میری چوت میں داخل ہوجاؤ ... مجھ میں اتنی بار چھوٹو کہ میری چوت بھرجائے.مجھے ساری رات رنڈی کی طرح چودو میری چوت کو کھا لو جب تک میں چھوٹ نہیں جاتی... مجھےکسی اور مرد کے قابل نہ چھوڑو... اففف... اوہ..." اور پھر ایک چیخ چیخ کے ساتھ جو لڑاکا طیارے کو شرمندہ کر سکتی تھی، وہ عروج پر پہنچ گئی۔ میں نے گھر سے چپ چپیتے نکلنے کا کیا اور اس دن ایک دور گودام میں چلا گیا، صرف اس تازہ صورتحال سے دور رہنے کے لیے۔ میں نے اپنے آپ کو لاگ بکس میں مصروف رکھا اور اپنے چچا کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ٹرانسپورٹ والوں کو چند کالیں کیں اور پتہ چلا کہ وہ جس ٹرک میں تھے وہ ایک آنے والی لاری سے ٹکرا گیا ہے۔ ڈرائیور اور چچا روشن کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں مقامی ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور ہمارے خلاف پولیس مقدمہ درج کر لیا گیا۔ میں نے اپنے وکلاء کو بلایا اور انہیں کیس کی ہدایت کی اور ان سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ مقامی پولیس والوں کو اچھی تنخواہ دی جائے تاکہ معاملے کو میڈیا سے دور رکھا جا سکے۔ میں نے والد کو فون کیا اور انہیں یہ خبریں سنائیں اور بعد میں، میں نے اپنی ماں سے کچھ باتیں کیں۔ زیادہ تر بچوں کے برعکس، میں کبھی بھی اپنے والدین میں سے کسی کے بہت قریب نہیں تھا اور جب سے مجھے یاد ہے ہمیشہ اپنے آپ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے بعد میں مدد کی کیونکہ میں ایک بہت آزاد آدمی بن گیا ہوں اور بغیر کسی جذباتی سامان کے اپنے فیصلے خود کرتا ہوں۔ میں اپنے کام میں اتنا مگن تھا کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ میں نے ناشتہ اور دوپہر کا کھانا دونوں ہی چھوڑ دیے ہیں۔ جب میں نے اپنا فون دیکھا تو تقریباً 4 بج چکے تھے۔ میری چاچی کی 3 مس کالز اور 2 میسجز تھے جو اس طرح پڑھے تھے... "میں درزی کے پاس جا رہی ہوں اور شام تک واپس آ جاؤں گی اور ہم اپنے گھر پر اکٹھے کھانا کھا سکتے ہیں... میں تم سے محبت کرتی ہوں آفتاب..." صبح 11 بجے۔ اور پھر ایک اور میسج جو ابھی ہی آیا تھا۔ "میں نے آپ تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن آپ نے نہیں اٹھایا... باہر بارش ہو رہی ہے اور میں ایم جی روڈ کے قریب ہوں۔ کیا آپ مجھے کام سے واپس آتے وقت پک کر سکتے ہیں؟ آپ کی یاد آتی ہے!" تب میں نے محسوس کیا کہ باہر اندھیرا تھا اور طوفانی ہوا چل رہی تھی جیسا کہ مون سون کے دوران بنگلور میں عام موسم ہوتا ہے اور جلد ہی ایک اندھیری طوفانی رات ہوگی۔ ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی۔ میں نے اسے واپس میسج کیا " بلکل کروں گا... چاچی حسینہ" میں نے اپنے گودام کی چابیاں جمع کیں اور کارکنوں سے کہا کہ وہ گھر جائیں اس سے پہلے کہ خراب ٹریفک میں پھنس جائیں۔ میں تقریباً راستے میں ہی تھا کہ فون دوبارہ بجنے لگا۔ چاچی کی کال تھی۔ اس نے مجھے اپنے مقام کی ہدایت کی اور میں وہاں پہنچ گیا۔ جب میں اس کے پاس پہنچا، مسلسل بارش طوفان میں تبدیل ہو چکی تھی اور ٹریفک تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ چاچی حسینہ ایک دکان کے شیڈ کے نیچے کھڑی تھیں، اپنے سر کے گرد "دوپٹہ" نما رنگین اسکارف جیسا کہ کندھے سے کندھے تک پہنا جاتا ہے اپنے سر کے گرد لپیٹے ہوئے بھیگ رہی تھی۔ اس کے بڑے بڑے گیلے ممے پھسلن سے ڈول رہے تھے جب وہ گاڑی کے دروازے کی طرف بھاگی اور اندر داخل ہونے کے لیے جھکی اور میں دیکھ سکتا تھا کہ نرم سفید دودھیا ممے ایک دوسرے کے خلاف پانی کی بوندوں کے ساتھ مسلے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے دماغ کو ہٹانے کی کوشش کی اور تمام کاروباری کاموں کو یاد کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں میں سوچ سکتا تھا تاکہ اپنے ہمیشہ سخت ہوتے ہوئے لنڈ کو قابو میں رکھ سکوں۔ ٓٓٓٓٓجاری ہےٓٓٓٓٓٓٓ
    1 like
  27. بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے پروین شاکر
    1 like
  28. نوراں کنجری..... دسمبر کے اوائل کی بات ہے جب محکمہ اوقاف نے زبردستی میری تعیناتی شیخو پورےکے امیر محلے کی جامعہ مسجد سے ہیرا منڈی لاہور کی ایک پرانی مسجد میں کر دی. وجہ یہ تھی کے میں نے قریبی علاقے کے ایک کونسلر کی مسجد کے لاوڈ سپیکر پے تعریف کرنے سے انکار کر دیا تھا. شومئی قسمت کے وہ کونسلر محکمہ اوقاف کے ایک بڑے افسرکا بھتیجا تھا. نتیجتاً میں لاہور شہر کے بدنام ترین علاقے میں تعینات ہو چکا تھا. بیشک کہنے کو میں مسجد کا امام جا رہا تھا مگر علاقے کا بدنام ہونا اپنی جگہ. جو سنتا تھا ہنستا تھا یا پھر اظھار افسوس کرتا تھا محکمے کے ایک کلرک نے تو حد ہی کر دی. تنخواہ کا ایک معاملہ حل کرانے اس کے پاس گیا تو میری پوسٹنگ کا سن کے ایک آنکھ دبا کر بولا، .قبلہ مولوی صاحب، آپ کی تو گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں.’ میں تو گویا زمین میں چھ فٹ نیچے گڑ گیا’ پھر الله بھلا کرے میری بیوی کا جس نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کہ امامت ہی توہے، کسی بھی مسجد میں سہی. اور میرا کیا ہے؟ میں تو ویسے بھی گھر سے نکلنا پسند نہیں کرتی. پردے کا کوئی مسلہ نہیں ہوگا. اور پھر ہمارے کونسے کوئی بچے ہیں کے ان کے بگڑنے کا ڈر ہو۔ بیوی کی بات سن کر تھوڑا دل کو اطمینان ھوا اور ہم نے سامان باندھنا شروع کیا. بچوں کا ذکر چھڑ ہی گیا تو یہ بتاتا چلوں کے شادی کے بائیس سال گزرنے کے باوجود الله نے ہمیں اولاد جیسی نعمت سے محروم ہی رکھنا مناسب سمجھا تھا. خیر اب تو شکوہ شکایت بھی چھوڑ چکے تھے دونوں میاں بیوی. جب کسی کا بچہ دیکھ کر دل دکھتا تھا تو میں یاد الہی میں دل لگا لیتا اور وہ بھلی مانس کسی کونے کھدرے میں منہ دے کر کچھ آنسو بہا لیتی۔ سامان باندھ کر ہم دونوں میاں بیوی نے الله کا نام لیا اور لاہورجانے کے لئے ایک پرائیویٹ بس میں سوار ہوگئے. بادامی باغ اڈے پے اترے اور ہیرا منڈی جانے کے لئے سواری کی تلاش شروع کی. ایک تانگے والے نے مجھے پتا بتانے پر اوپر سے نیچے تلک دیکھا اور پھر برقع میں ملبوس عورت ساتھ دیکھ کر چالیس روپے کے عیوض لے جانے کی حامی بھری. تانگہ چلا تو کوچبان نے میری ناقص معلومات میں اضافہ یہ کیہ کر کیا کہ ‘میاں جی، جہاں آپ کو جانا ہے، اسے ہیرا منڈی نہیں، ٹبی گلی کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ میں ہم پوہنچ گئے. دوپہر کا وقت تھا. شاید بازار کھلنے کا وقت نہیں تھا. دیکھنے میں تو عام سا محلہ تھا. وہ ہی ٹوٹی پھوٹی گلیاں، میلے کرتوں کےغلیظ دامن سے ناک پونچھتے ننگ دھڑنگ بچے، نالیوں میں کالا پانی اور کوڑے کے ڈھیروں پے مڈلاتی بےحساب مکھیاں. سبزیوں پھلوں کے ٹھیلے والے اور ان سے بحث کرتی کھڑکیوں سے آدھی باہرلٹکتی عورتیں. فرق تھا تو صرف اتنا کے پان سگریٹ اور پھول والوں کی دکانیں کچھ زیادہ تھیں. دوکانیں تو بند تھیں مگر ان کے نۓ پرانے بورڈ اصل کاروبار کی خبر دے رہے تھے۔ مسجد کے سامنے تانگہ کیا رکا، مانو محلے والوں کی عید ہوگیی. پتہ نہیں کن کن کونے کھدروں سے بچے اور عورتیں نکل کر جمع ہونے لگیں. ملی جلی آوازوں نے آسمان سر پے اٹھا لیا. ‘ابے نیا مولوی ہے’ ‘بیوی بھی ساتھ ہے. پچھلے والے سے تو بہتر ہی ہوگا’ ‘کیا پتہ لگتا ہے بہن، مرد کا کیا اعتبار؟’ ‘ہاں ہاں سہی کہتی ہے تو. داڑھی والا مرد تو اور بھی خطرناک’ عجیب طوفان بدتمیز تھا. مکالموں اور فقروں سے یہ معلوم پڑتا تھا کے جیسے طوائفوں کے محلے میں مولوی نہیں، شرفاء کے محلے میں کوئی طوائف وارد ہوئی ہو. اس سے پہلے کے میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوتا، خدا خوش رکھے غلام شببر کو جو ‘مولوی صاحب’ ‘مولوی صاحب’ کرتا دوڑا آیا اور ہجوم کو وہاں سے بھگا دیا. پتہ چلا کے مسجد کا خادم ہے اور عرصہ پچیس سال سے اپنے فرائض منصبی نہایت محنت اور دیانت داری سے ادا کر رہا تھا. بھائی طبیعت خوش ہوگیی اس سے مل کے. دبلا پتلا پکّی عمر کا مرد. لمبی سفید داڑھی. صاف ستھرا سفید پاجامہ کرتا، کندھے پے چار خانے والا سرخ و سفید انگوچھا. پیشانی پے محراب کا کالا نشان، سر پے سفید ٹوپی اور نیچی نگاہیں. سادہ اور نیک آدمی اور منہ پے شکایت کا ایک لفظ نہیں. بوڑھا آدمی تھا مگر کمال کا حوصلہ و ہمّت رکھتا تھا۔ سامان سمبھالتے اور گھر کو ٹھیک کرتے ہفتہ دس دن لگ گئے. گھر کیا تھا. دو کمروں کا کوارٹر تھا مسجد سے متصل. ایک چھوٹا سا باورچی خانہ، ایک اس سے بھی چھوٹا غسل خانہ اور بیت الخلا اور ایک ننھا منا سا صحن. بہرحال ہم میاں بیوی کو بڑا گھر کس لئے چاہیے تھا. بہت تھا ہمارے لئے. بس ارد گرد کی عمارتیں اونچی ہونے کی وجہ سے تاریکی بہت تھی. دن بارہ بجے بھی شام کا سا دھندلکا چھایا رہتا تھا. گھر ٹھیک کرنے میں غلام شببر نے بہت ہاتھ بٹایا. صفائی کرنے سے دیواریں چونا کرنے تک. تھوڑا کریدنے پے پتا چلا کے یہاں آنے والے ہر امام مسجد کے ساتھ غلام شبّیرگھر کا کام بھی کرتا تھا. بس تنخواہ کے نام پے غریب دو وقت کا کھانا مانگتا تھا اور رات کو مسجد ہی میں سوتا تھا. یوں اس کو رہنے کی جگہ مل جاتی تھی اور مسجد کی حفاظت بھی ہوجاتی تھی ایک بات جب سے میں آیا تھا، دماغ میں کھٹک رہی تھی. سو ایک دن غلام شببر سے پوچھ ہی لیا ‘میاں یہ بتاؤ کے پچھلے امام مسجد کے ساتھ کیا ماجرا گزرا؟’ وہ تھوڑا ہچکچایا اور پھر ایک طرف لے گیا کے بیگم کے کان میں آواز نہ پڑے میاں جی اب کیا بتاؤں آپ کو؟ جوان آدمی تھے اور غیر شادی شدہ بھی. محلے میں بھلا حسن کی کیا کمی ہے. بس دل آ گیا ایک لڑکی پے. لڑکی کے دلال بھلا کہاں جانے دیتے تھے سونے کی چڑیا کو. پہلے تو انہوں نے مولانا کو سمجھنے بجھانے کی کوشش کی. پھر ڈرایا دھمکایا. لیکن مولانا نہیں مانے. ایک رات لڑکی کو بھگا لے جانے کی کوشش کی. بادامی باغ اڈے پر ہی پکڑے گئے. ظالموں نے اتنا مارا پیٹا کے مولانا جان سے گئے’. غلام شبّیر نے نہایت افسوس کے ساتھ ساری کہانی سنائی پولیس وغیرہ؟ قاتل پکڑے نہیں گئے؟’ میں نے گھبرا کر پوچھا’ غلام شبّیر ہنسنے لگا. ‘کمال کرتے ہیں آپ بھی میاں جی. پولیس بھلا ان لوگوں کے چکروں میں کہاں پڑتی ہے. بس اپنا بھتہ وصول کیا اور غائب. اور ویسے بھی کوتوال صاحب خود اس لڑکی کے عاشقوں میں شامل تھے لاحول ولا قوّت الا باللہ…..کہاں اس جہنم میں پھنس گئے.’ میں یہ سب سن کر سخت پریشان ہوا’ آپ کیوں فکر کرتے ہیں میاں جی؟ بس چپ کر کے نماز پڑھیں اور پڑھاہیں. دن کے وقت کچھ بچے آ جایا کریں گے. ان کو قران پڑھا دیں. باقی بس اپنے کام سے کام رکھیں گے تو کوئی تنگ نہیں کرتا یہاں. بلکہ مسجد کا امام اچھا ہو تو گناہوں کی اس بستی میں لوگ صرف عزت کرتے ہیں.’ غلام شبّیر نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوے بتایا تو میری جان میں جان آئی انہی شروع کے ایام میں ایک واقعیہ ہوا. پہلے دن ہی دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو دروازے پے کسی نے دستک دی. غلام شبّیر نے جا کے دروازہ کھولا اور پھر ایک کھانے کی ڈھکی طشتری لے کے اندر آ گیا. میری سوالیہ نگاہوں کے جواب میں کہنے لگا ‘نوراں نے کھانا بھجوایا ہے. پڑوس میں رہتی ہے’ میں کچھ نا بولا اور نا ہی مجھے کوئی شک گزرا. سوچا ہوگی کوئی الله کی بندی. اور پھر امام مسجد کے گھر کا چولھا تو ویسے بھی کم ہی جلتا ہے. بہرحال جب اگلے دو دن بھی یہ ہی معمول رہا تومیں نے سوچا کے یہ کون ہے جو بغیر کوئی احسان جتاے احسان کیے جا رہی ہے.عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں ہی تھا جب غلام شبّیر کو آواز دے کے بلایا اور پوچھا ‘میاں غلام شبّیر یہ نوراں کہاں رہتی ہے؟ میں چاہتا ہوں میری گھر والی جا کر اس کا شکریہ ادا کرآے’ غلام شبّیر کے تو اوسان خطا ہو گئے یہ سن کر. ‘ میاں جی ، بی بی نہیں جا سکتی جی وہاں میں نے حیرانی سے مزید استفسار کیا تو گویا غلام شبّیر نے پہاڑ ہی توڑ دیا میرے سر پے ‘ میاں جی ، اس کا پورا نام تو پتا نہیں کیا ہے مگر سب اس کو نوراں کنجری کے نام سے جانتے ہیں. پیشہ کرتی ہے جی’ ‘پیشہ کرتی ہے؟ یعنی طوائف ہے؟ اور تم ہمیں اس کے ہاتھ کا کھلاتے رہے ہو؟ استغفراللہ! استغفراللہ’ غلام شبّیر کچھ شرمسار ہوا میرا غصّہ دیکھ کر. تھوڑی دیر بعد ہمّت کر کے بولا: میاں جی یہاں تو سب ایسے ہی لوگ رہتے ہیں. ان کے ہاتھ کا نہیں کھاییں گے تو مستقل چولھا جلانا پڑے گا جو آپ کی تنخواہ میں ممکن نہیں یہ سن کر میرا غصّہ اور تیز ہوگیا. ‘ہم شریف لوگ ہیں غلام شبّیر، بھوکے مر جایئں گے مگر طوائف کے گھر کا نہیں کھاییں گے میرے تیور دیکھ کر غلام شبّیر کچھ نہ بولا مگر اس دن کے بعد سےنوراں کنجری کے گھر سے کھانا کبھی نا آیا جس مسجد کا میں امام تھا، عجیب بات یہ تھی کے اس کا کوئی نام نہیں تھا. بس ٹبی مسجد کے نام سے مشهور تھی. ایک دن میں نے غلام شبّیر سے پوچھا کے “میاں نام کیا ہے اس مسجد کا؟” وہ ہنس کر بولا، “میاں جی الله کے گھر کا کیا نام رکھنا؟” پھر بھی؟ کوئی تو نام ہوگا. سب مسجدوں کا ہوتا ہے.” میں کچھ کھسیانا ہو کے بولا’ بس میاں جی بہت نام رکھے. جس فرقے کا مولوی آتاہے، پچھلا نام تبدیل کر کے نیا رکھ دیتا ہے.آپ ہی کوئی اچھا سا رکھ دیں.” وہ سر کھجاتا ہوا بولا. میں سوچ میں پڑ گیا. گناہوں کی اس بستی میں اس واحد مسجد کا کیا نام رکھا جائے؟ “کیا نام رکھا جائے مسجد کا؟ ہاں موتی مسجد ٹھیک رہے گا. گناہوں کے کیچڑ میں چمکتا پاک صاف موتی.” دل ہی دل میں میں نے مسجد کے نام کا فیصلہ کیا اور اپنی پسند کو داد دیتا اندر کی جانب بڑھ گیا جہاں بیوی کھانا لگاے میری منتظر تھی اب بات ہوجاے قرآن پڑھنے والے بچوں کی. تعداد میں گیارہ تھے اور سب کے سب لڑکے. ملی جلی عمروں کے پانچ سے گیارہ بارہ سال کی عمر کے. تھوڑے شرارتی ضرور تھے مگر اچھے بچے تھے.نہا دھو کے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کے آتے تھے. دو گھنٹے سپارہ پڑھتے تھے اور پھر باہر گلی میں کھیلنے نکل جاتے. کون تھے کس کی اولاد تھے؟ نہ میں نے کبھی پوچھا نا کسی نے بتایا. لیکن پھر ایک دن غضب ہوگیا. قرآن پڑھنے والے بچوں میں ایک بچہ نبیل نام کا تھا. یوں تو اس میں کوئی خاص بات نا تھی. لیکن بس تھوڑا زیادہ شرارتی تھا. تلاوت میں دل نہیں لگتا تھا. بس آگے پیچھے ہلتا رہتا اور کھیلنے کے انتظار میں لگا رہتا. میں بھی درگزر سے کام لیتا کے چلو بچہ ہے.لیکن ایک دن ضبط کا دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا. اس دن صبح ہی سے میرے سر میں ایک عجیب درد تھا. غلام شبّیر سے مالش کرائی، پیناڈول کی دو گولیاں بھی کھایئں مگر درد زور آور بیل کی مانند سر میں چنگھاڑتا رہا. درد کے باوجود اور غلام شبّیر کے بہت منع کرنے پر بھی میں نے بچوں کا ناغہ نہیں کیا. نبیل بھی اس دن معمول سے کچھ زیادہ ہی شرارتیں کر رہا تھا. کبھی ایک کو چھیڑ کبھی دوسرے کو. جب اس کی حرکتیں حد سے بڑھ گیئں تو یکایک میرے دماغ پر غصّے کا بھوت سوار ہوگیا اور میں نے پاس رکھی لکڑی کی رحل اٹھا کر نبیل کے دے ماری. میں نے نشانہ تو کمر کا لیا تھا مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کے رحل بچے کی پیشانی پر جا لگی خون بہتا دیکھ کر مجھے میرے سر کا درد بھول گیا اور میں نے گھبرا کر غلام شببر کو آواز دی. وہ غریب بھاگتا ہوا آیا اور بچے کو اٹھا کے پاس والے ڈاکٹر کے کلینک پر لے گیا. خدا کا شکر ہوا کے چوٹ گہری نہیں لگی تھی. مرہم پٹی سے کام چل گیا اور ٹانکے نا لگے. خیر باقی بچوں کو فارغ کر کے مسجد کے دروازے پے پوہنچا ہی تھا کے چادر میں لپٹی ایک عورت نے مجھے آواز دے کر روک لیا. میں نے دیکھا کے وہ عورت دہلیزپۓ کھڑی مسجد کے دروازے سے لپٹی رو رہی تھی چالیس پینتالیس کا سن ہوگا. معمولی شکل و صورت. سانولا رنگ اور چہرے پے پرانی چیچک کے گہرے داغ. آنسوؤں میں ڈوبی آنکھیں اور گالوں پر بہتا کالا سرما. زیور کے نام پے کانوں میں لٹکتی سونے کی ہلکی سی بالیاں اور ناک میں چمکتا سستا سرخ نگ کا لونگ. چادر بھی سستی مگر صاف ستھری اور پاؤں میں ہوائی چپپل .کیا بات ہے بی بی؟ کون ہو تم؟” میں نے حیرانگی سے اس سے پوچھا’ .میں نوراں ہوں مولوی صاحب.” اس نے چادر کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا’ نوراں؟ نوراں کنجری؟” میرے تو گویا پاؤں تلے زمین ہی نکل گیئ. میں نے ادھر ادھر غلام شبّیر کی تلاش میں نظریں دوڑائیں مگر وہ تو نبیل کی مرہم پٹی کرا کے اور اس کو اس کے گھر چھوڑنے کے بہانے نجانے کہاں غایب تھا جی. نوراں کنجری!” اس نے نظریں جھکاے اپنے نام کا اقرار کیا. مجھے کچھ دیر کے لئے اپنے منہ سے نکلنے والی اس کے گالی جیسی عرفیت پے شرمدگی ہوئی مگر پھر خیال آیا کے وہ طوائف تھی اور اپنی بری شہرت کی زمہ دار. شرمندگی اس کو ہونی چاہیے تھی، مجھے نہیں. پھر اچانک مجھے احساس ہوا کے میری موتی جیسی مسجد میں اس طوائف کا نا پاک وجود کسی غلاظت سے کم نہیں تھا باہر نکل کے کھڑی ہو. مسجد کو گندا نا کر بی بی”، میں نے نفرت سے باہر گلی کی جانب اشارہ کیا. اس نے کچھ اس حیرانگی سے آنکھ اٹھا کے میری طرف دیکھا کے جیسے اسے مجھ سے اس رویے کی امید نا ہو. ڈبڈبائی آنکھوں میں ایک لمحے کے لئے کسی انکہی فریاد کی لو بھڑکی. لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے آنسوؤں کے پانی میں احتجاج کے ارادے کو غرق کیا اور بغیر کوئی اور بات کئے چلی گی. میں نے بھی نا روکا کے پتا نہیں کس ارادے سے آیئ تھی. اتنی دیر میں غلام شبّیر بھی پوھنچ گیا .کون تھی میاں جی؟ کیا چاہتی تھی؟” غالباً اس نے عورت کو تو دیکھا تھا مگر دور سے شکل نہیں پہچان پایا’ نوراں کنجری تھی. پتا نہیں کیوں آی تھی؟ مگر میں نے بھی وہ ڈانٹ پلائی کے آیندہ اس پاک جگہ کا رخ نہیں کرے گی.” میں نے داد طلب نظروں سے غلام شبّیر کی طرف دیکھا مگر اس کے چہرے پر ستائش کی جگہ افسوس نے ڈیرے ڈال رکھے تھے وہ بیچاری دکھوں کی ماری اپنے بچے کا گلہ کرنے آی تھی میاں جی. نبیل کی ماں ہے . بچے کی چوٹ برداشت نہیں کر سکی. اور آپ نے اس غریب کو ڈانٹ دیا.” غلام شبّیر نے نوراں کی وکالت کرتے ہوئے کہا تو نبیل نوراں کا بیٹا ہے.ایسی حرکتیں کرے گا تو سزا تو ملے گی. جیسی ماں ویسا بیٹا”. میں نے اپنی شرمندگی کو بیہودگی سے چھپانے کی کوشش کی. ایک لمحے کو خیال بھی آیا کے بچہ تو معصوم ہے اور پھر میں نے زیادتی بھی کی تھی. مگر پھر اپنے استاد ہونےکا خیال آیا تو سوچا کے بچے کی بھلائی کے لئے ہی تو مارا ہے. کیا ہوا. اور پھر ایک طوائف کو کیا حق حاصل کے مسجد کے امام سے شکایت کر سکے .کتنے بچے ہیں نوراں کے؟” میں نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی’ مسجد میں پڑھنے والے سب بچے نوراں کے ہیں میاں جی. اس کے علاوہ ایک گود کا بچہ بھی ہے. بس اس محلے میں صرف نوراں اپنے بچوں کو مسجد بھیجتی ہے. باقی سب لوگوں کے بچے تو آوارہ پھرتے ہیں.” غلام شبّیر کی آواز میں پھر نوراں کی وکالت گونج رہی تھی. میں نے بھنا کر جواب دینے کا ارادہ کیا ہی تھا کے کوتوال صاحب کی گاڑی سامنے آ کر رکی. خود تو پتا نہیں کیسا آدمی تھا مگر بیوی بہت نیک تھی. ہر دوسرے تیسرے روز ختم کے نام پر کچھ نہ کچھ میٹھا بھجوا دیتی تھی. اس دن بھی کوتوال کا اردلی جلیبیاں دینے آیا تھا. گرما گرم جلیبیوں کی اشتہا انگیز مہک نے میرا سارا غصہ ٹھنڈا کر دیا اور نوراں کنجری کی بات آیی گیی ہوگیی یہ نبیل کو مار پڑنے کے کچھ دنوں بعد کا ذکر ہے. عشاء پڑھا کے میں غلام شبّیر سے ایک شرعیی معاملے پر بحث میں الجھ گیا تو گھر جاتے کافی دیر ہوگیی. مسجد سے باہر نکلے تو بازار کی رونق شروع تھی. بالکونیوں پر جھلملاتے پردے لہرا رہے تھے اور کوٹھوں سے ہارمونیم کے سر اور طبلوں کی تھاپ کی آواز ہر سو گونج رہی تھی. پان سگریٹ اور پھولوں کی دکانوں پر بھی دھیرے دھیرے رش بڑھ رہا تھا. اچانک میری نظر نوراں کے گھر کے دروازے پرجا پڑی. وہ باہر ہی کھڑی تھی اور ہر آتے جاتے مرد سے ٹھٹھے مار مار کر گپپیں لگا رہی تھی. آج تو اس کا روپ ہی دوسرا تھا. گلابی رنگ کا چست سوٹ، پاؤں میں سرخ گرگابی، ننگے سر پے اونچا جوڑا، جوڑے میں پروۓ موتیے کے پھول، میک اپ سے لدا چہرہ، گہری شوخ لپ سٹک، آنکھوں میں مسکارا اور مسکارے کی اوٹ سے جھانکتی ننگی دعوت لاحول ولا قوت اللہ باللہ” میں نے طنزیہ نگاہوں سے غلام شبّیر کی جانب دیکھا. آخر وہ نوراں کا وکیل جو تھا’ چھوڑئیے میاں جی. عورت غریب ہے اور دنیا بڑی ظالم.” اس نے گویا بات کو ٹالنے کی کوشش کی. مگر میں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والا نہیں تھا یہ بتاؤ میاں، جب اس کے گاہک آتے ہیں تو کیا بچوں کے سامنے ہی…………………….؟” میں نے معنی خیز انداز میں اپنا سوال ادھورا ہی چھوڑ دیا میاں جی، ایک تو اس کے بچے صبح اسکول جاتے ہیں اور اس لئے رات کو جلدی سو جاتے ہیں. دوسرا، مہمانوں کے لئے باہر صحن میں کمرہ الگ رکھا ہے.” غلام شبّیر نے ناگوار سے لہجے میں جواب دیا استغفراللہ! استغفراللہ!”. میں نے گفتگو کا سلسلہ وہیں ختم کرنا مناسب سمجھا کیوں کے مجھے احساس ہو چکا تھا کے غلام شبّیر کے لہجے سے جھانکتی ناگواری کا رخ نوراں کی جانب نہیں تھا اس کے بعد نوراں کا ذکر میرے سامنے تب ہوا جن دنوں میں اپنے اور زوجہ کے لئے حج بیت الله کی غرض سے کاغذات بنوا رہا تھا. اس غریب کی بڑی خواہش تھی کے وہ اور میں الله اور اس کے نبی پاک کی خدمت میں پیش ہوں اور اولاد کی دعا کریں. میرا بھی من تھا کے کسی بہانے سے مکّے مدینے کی زیارت ہوجاے. نام کے ساتھ حاجی لگا ہو تو شاید محکمے والے کسی اچھی جگہ تبدیلی کر دیں. زوجہ کا ایک بھانجا انہیں دنوں وزارت مذہبی امور میں کلرک تھا. اس کی وساطت سے درخواست کی قبولی کی کامل امید تھی. کاغذات فائل میں اکٹھے کیے ہی تھے کے غلام شبّیر ہاتھ میں کچھ اور کاغذات اٹھاے پوھنچ گیا .میاں جی………ایک کام تھا آپ سے. اجازت دیں تو عرض کروں.” اس نے ہچکچاتے کہا’ ہاں ہاں میاں، کیوں نہیں. کیا بات ہے؟” میں نے داڑھی کے بالوں میں انگلیوں سے کنھگی کرتے ہوئے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا میاں جی، آپ کی تو وزارت میں واقفیت ہے. ایک اور حج کی درخواست بھی جمع کرا دیں.” اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذات میری جانب بڑھاے دیکھو میاں غلام شبّیر، تم اچھی طرح جانتے ہو کے میں گھر بار تمہارے ذمے چھوڑ کر جا رہا ہوں. اور پھر تمہارے پاس حج کے لئے پیسے کہاں سے آے؟” میں نے کچھ برہمی سے پوچھا .نہیں نہیں میاں جی. آپ غلط سمجھے. یہ میری درخواست نہیں ہے. نوراں کی ہے.” اس نے سہم کر کہا’ کیا؟ میاں ہوش میں تو ہو؟ نوراں کنجری اب مکّے مدینے جائے گی؟ اور وہ بھی اپنے ناپاک پیشے کی رقم سے؟ توبہ توبہ.” میرے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گیی یہ واہیات بات سن کر میاں جی. طوائف ہے پر مسلمان بھی تو ہے. اور وہ تو الله کا گھر ہے. وہ جس کو بلانا چاہے بلا لے. اس کے لئے سب ایک برابر”. اپنی طرف سے غلام شبّیر نے بڑی گہری بات کی اچھا؟ الله جس کو بلانا چاہے بلا لے؟ واہ میاں واہ. تو پھر میں درخواست کیوں جمع کراؤں؟ نوراں سے کہو سیدھا الله تعالیٰ کو ہی بھیج دے”. میں نے غصّے سے کہا اور اندر کمرے میں چلا گیا زوجہ کا بھانجا بر خوردار نکلا اور الله کے فضل و کرم سے میری اور زوجہ کی درخواست قبول ہو گیئ. ٹکٹ کے پیسے کم پڑے تو اسی بھلی لوک کے جہیز کے زیور کام آ گئے. الله کا نام لے کر ہم روانہ ہوگئے. احرام باندھا تو گویا عمر بھر کے گناہ اتار کے ایک طرف رکھ دیے. الله کا گھر دیکھا اور نظر بھر کے دیکھا. فرائض پورے کرتے کرتے رمی کا دن آ گیا. بہت رش تھا. ہزاروں لاکھوں لوگ. ایک ٹھاٹھیں مارتا سفید رنگ کا سمندر. گرمی بھی بہت تھی. میرا تو دم گھٹنا شروع ہوگیا. زوجہ بیچاری کی حالت بھی غیر ہوتی جا رہی تھی. اوپر سے غضب کچھ یہ ہوا کے میرے ہاتھ سے اس غریب کا ہاتھ چھوٹ گیا. ہاتھ کیا چھوٹا، لوگوں کا ایک ریلا مجھے رگیدتا ھوا پتا نہیں کہاں سے کہاں لے گیا. عجب حالات تھے. کسی کو دوسرے کا خیال نہیں تھا. ہر کوئی بس اپنی جان بچانے کے چکّر میں تھا. میں نے بھی لاکھ اپنے آپ کو سمبھالنے کی کوشش کی مگر پیر رپٹ ہی گیا. میں نیچے کیا گرا، ایک عذاب نازل ہوگیا. ایک نے میرے پیٹ پر پیر رکھا تو دوسرے نے میرے سر کو پتھر سمجھ کر ٹھوکر ماری. موت میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگی. میں نے کلمہ پڑھا اور آنکھیں بںد کی ہی تھیں کے کسی الله کے بندے نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور مجھے سہارا دے کر کھڑا کر دیا میں نے سانس درست کی اور اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کی طرف نگاہ کی. مانو ایک لمحے کے لئے تو بجلی ہی گر پڑی. کیا دیکھتا ہوں کے میرا ہاتھ مضبوطی سے تھامے نوراں کنجری کھڑی مسکرا رہی تھی. ‘یہ ناپاک عورت یہاں کیسے آ گیی؟ اس کی حج کی درخواست کس نے اور کب منظور کی؟’ میں نے ہاتھ چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر کہاں صاحب. ایک آہنی گرفت تھی. میں نہیں چھڑا سکا. وہ مجھے اپنے پیچھے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گیی. اس طرف کچھ عورتیں اکٹھی تھی. اچانک میری نظر زوجہ پر پڑی جس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بیتاب نگاہوں سے مجمع ٹٹول رہی تھی. ہماری نظریں ملیں تو سب کلفت بھول گیی. میں دوڑ کر اس تک پہنچا اور آنسو پونچھے .کہاں چلے گئے تھے آپ؟ کچھ ہوجاتا تو؟’ پریشانی سے الفاظ اس کے گلے میں اٹک رہے تھے’ بس کیا بتاؤں آج مرتے مرتے بچا ہوں. جانے کون سی نیکی کام آ گیی. میں تو پاؤں تلے روندا جا چکا ہوتا اگر نوراں نہیں بچاتی.’ میں نے اس کو تسلی دیتے ہوئے کہا .نوراں؟ ہماری پڑوسن نوراں؟ وہ یہاں کہاں آ گی؟ آپ نے کسی اور کو دیکھا ہوگا’. اس نے حیرانگی سے کہا’ ارے نہیں. نوراں ہی تھی’. میں نے ادھر ادھر نوراں کی تلاش میں نظریں دوڑایئں مگر وہ تو نجانے کب کی جا چکی تھی. بعد میں بھی اس کو بہت ڈھونڈا مگر اتنے جمے غفیر میں کہاں کوئی ملتا ہے خدا خدا کر کے حج پورا ھوا اور ہم دونوں میاں بیوی وطن واپس روانہ ہوے. لاہور ائیرپورٹ پر غلام شببر پھولوں کے ہاروں سمیت استقبال کو آیا ہوا تھا بہت مبارک باجی. بہت مبارک میاں جی. بلکہ اب تو میں آپ کو حاجی صاحب کہوں گا.’ اس نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو مبارک دی تو میری گردن حاجی صاحب کا لقب سن کراکڑ گیی. میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوے اس کے کندھے پے تھپکی دی اور سامان اٹھانے کا اشارہ کیا ٹیکسی میں بیٹھے. میں نے مسجد اور گھر کی خیریت دریافت کی تو نوراں کا خیال آ گیا. .میاں غلام شببر، نوراں کی سناؤ’. میرا اشارہ اس کی حج کی درخواست کے بارے میں تھا’ .اس بیچاری کی کیا سناؤں میاں جی؟ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا؟’ اس نے حیرانگی سے میری جانب دیکھا’ .بس ملاقات ہوئی تھی مکّے شریف میں.’ میں نے اس کے لہجے میں چھپی اداسی کو اپنی غلط فہمی سمجھا’ مکّے شریف میں ملاقات ہوئی تھی؟ مزاق نا کریں میاں جی. نوراں تو آپ کے جانے کے اگلے ہی دن قتل ہوگیی تھی.’ اس نے گویا میرے سر پر بم پھوڑا .,قتل ہوگیی تھی؟’ میں نے اچھنبے سے پوچھا’ جی میاں جی. بیچاری نے حج کے لئے پیسے جوڑ رکھے تھے. اس رات کوئی گاہک آیا اور پیسوں کے پیچھے قتل کر دیا غریب کو. ہمیں توصبح کو پتا چلا جب اس کے بچوں نے اس کی لاش دیکھی. شور مچایا تو سب اکٹھے ہوئے. پولیس والے بھی پہنچ گئے اور اس کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے لے گئے. ابھی کل ہی میں مردہ خانے سے میّت لے کے آیا ہوں. آج صبح ہی تدفین کی اس کی.’ غلام شببر کی آواز آنسوں میں بھیگ رہی تھی .قاتل کا کچھ پتا چلا؟’ میں ابھی بھی حیرانگی کی گرفت میں تھا.’ پولیس کے پاس اتنا وقت کہاں میاں جی کے طوائفوں کے قاتلوں کو ڈھونڈہے. اس بیچاری کی تو نمازجنازہ میں بھی بس تین افراد تھے: میں اور دو گورکن.’ اس نے افسوس سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا .اور اس کے بچے؟ ان کا کیا بنا؟’ میں نے اپنی آنکھوں میں امڈ تی نمی پونچھتے ہوئے دریافت کیا’کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو زیادہ تر اسے راتوں رات اٹھا کر کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دیا جاتا ہے. وہ سب ایسے ہی بچے تھے. نوراں سب جانتی تھی کے کس کے ہاں بچہ ہونے والا ہے. بس لڑکا ہوتا تو اٹھا کر اپنے گھر لے آ تی. کہنے کو تو طوائف تھی میاں جی مگر میں گواہ ہوں. غریب جتنا بھی کماتی بچوں پے خرچ کر دیتی. بس تھوڑے بہت الگ کر کے حج پے جانے کے لئے جمع کر رکھے تھے. وہ بھی اس کا قاتل لوٹ کر لے گیا یہ بتاؤ غلام شببر، جب میں نے اس کی درخواست جمع کرانے سے انکار کیا تو اس نے کیا کہا؟’ مجھ پے حقیقتوں کے در کھلنا شروع ہو چکے تھے بس میاں جی، کیا کہتی بیچاری. آنکھوں میں آنسو آ گئے. آسمان کی جانب ہاتھ اٹھاے اور کہنے لگی کے بس تو ہی اس کنجری کو بلاے تو بلا لے’. مجھ پر تو پوچھو گھڑوں پانی پڑ گیا. تاسف کی ایک آندھی چل رہی تھی. ہوا کے دوش میری خطائیں اڑرہی تھیں. گناہوں کی مٹی چل رہی تھی اور میری آنکھیں اندھیائی جا رہی تھیں آپ کیوں روتے ہیں میاں جی؟ آپ تو ناپاک کہتے تھے اس کو.’ غلام شبّیر نے حیرانگی سے میری آنسوں سے تر داڑھی دیکھتے ہوئے کہا کیا کہوں غلام شببر کے کیوں روتا ہوں. وہ ناپاک نہیں تھی. ناپاک تو ہم ہیں جو دوسروں کی ناپاکی کا فیصلہ کرتے پھرتے ہیں. نوراں تو الله کی بندی تھی. الله نے اپنے گھر بلا لیا.’ میری ندامت بھری ہچکیاں بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں اور غلام شببر نا سمجھتے ہوئے مجھے تسّلی دیتا رہا ٹیکسی محلے میں داخل ہوئی اور مسجد کے سامنے کھڑی ہوگیی. اترا ہی تھا کے نوراں کے دروازے پے نظر پڑی. ایک ہجوم اکٹھا تھا وہاں ‘کیا بات ہے غلام شببر؟ لوگ اب کیوں اکٹھے ہیں؟’ میاں جی میرے خیال میں پولیس والے ایدھی سنٹر والوں کو لے کے آے ہیں. وہ ہی لوگ بچوں کو لے جاییں گے. ان غریبوں کی کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے.’ غلام شببر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا میں نے زوجہ کا ہاتھ پکڑا اور غلام شببر کو پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے نوراں کے دروازے کی جانب بڑھ گیا .کہاں چلے میاں جی؟’ غلام شببر نے حیرانگی سے پوچھا’ نوراں کے بچوں کو لینے جا رہا ہوں. آج سے وہ میرے بچے ہیں. اور ہاں مسجد کا نام میں نے سوچ لیا ہے. آج سے اس کا نام نور مسجد ہوگا
    1 like
  29. کیا آپ نئے سال کے لیئے تیار ہیں؟ اردو فن کلب سال 2022 میں اپنے فورم پر کچھ تبدیلیوں کا ارادہ رکھتا ہے۔حالانکہ یہ تبدیلیاں فورم کی ٹریفک میں کمی کا باعث بھی بن سکتی ہیں ۔جو کہ کوئی فورم بھی نہیں چاہے گا۔ مگر ہمیں کبھی بھی اس کی پرواہ نہیں رہی ۔ اردو فن کلب نے ہمیشہ ہی تعداد کی بجائے صرف معیار کو اہمیت دی ہے ۔ہماری یہ تبدیلیاں فورم کی سروس کو مزید بہترین بنائیں گی ۔ اور تمام ممبرز کو موجودہ سروس سے نئی سروس میں کافی فرق محسوس ہو گا۔ ان تبدیلیوں میں کچھ پابندیاں اور بہت سی نئی سہولیات شامل ہیں ۔ان تمام پابندیوں اور سہولتوں کا ذکر اسی تھریڈ میں کیا جائے گا۔ امید کرتے ہیں یہ فورم پر ایک اچھا اضاٖفہ ثابت ہو گا۔ فاسٹ ڈیڈیکیٹ سرورز اس بار ہم نے بجائے وی پی ایس سرورز کے فورم کی موجودہ ٹریفک کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیڈیکیٹ کلاؤڈ سرورز کا انتخاب کیا ہے ۔ یہ کیونکہ مہنگے ہوتے ہیں۔جس وجہ سے ہمارے اخراجات میں 200 پرسنٹ اضافہ ہوا ہے ۔ یعنی جو ہوسٹنگ ہم 35 ڈالر ماہانہ پر حاصل کرتے تھے اب ہمیں 73 ڈالر ماہانہ میں کاسٹ کرے گی ۔جبکہ مزید اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔جو کہ ہم مینج کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔اس سروس سے تمام ممبرز کے لیئے ایک پریمیم اور فاسٹ براؤزنگ مہیا کی جائے گی ۔جس سے فوری پیج لوڈنگ اور کم انٹرنیٹ والے یوزرز کو بھی بہتر سروس مل پائے گی۔اور فورم میں اچھا اضافہ ثابت ہو گی۔ ای میل سروس سابقہ ای میل سروس سے اکثر ممبرز کو یہ شکایت رہی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت ان کو فوری ای میل رسیو نہیں ہوتیں ۔ اور ان کی رجسٹریشن نا مکمل رہ جاتی ہے ۔ کچھ ممبرز پاسورڈ ریکور کرتے وقت ای میل کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں ۔ اس میں ای میل سروس سے زیادہ لمٹ کا قصور ہے ۔ کیونکہ سابقہ سرور پر ہمیں ہوسٹنگ رولز کو فالو کرنا پڑتا تھا اور ان پر اسپیم ای میلز کو روکنے کے لیئے مختلف لمٹ لگی ہوتی ہیں ۔ تو اس لمٹ کے ختم ہونے کے بعد ممبرز کو ای میلز تاخیر سے ملنے لگتی ہیں۔کیونکہ فورم میں ای میل کا استعما ل ۔ فورم نوٹیفیکیشن۔ اطلاعات۔۔ رجسٹریشن ۔ خریداری کی انوائس ۔ پاسورڈ ریکور ۔ اور اکاؤنٹ ویری فیکیشن جیسے معاملات میں کیا جاتا ہے۔ایک نارمل ویب ہوسٹنگ میں یہ سروس فری میں مل جاتی ہے۔البتہ اس میں بے شمار لمٹس بھی ہوتی ہیں۔جبکہ ڈیڈیکیٹڈ سرور میں ای میل کی سروس شامل ہی نہیں ہوتی ۔ڈیڈیکیٹ کلاؤڈ سرورز پر فورم کو شفٹ کرنے کے بعد ہمیں ای میل سروس کی ضرورت بھی تھی ۔الہذا یہاں ایک بار پھر ہم نے ادائیگی کرتے ہوئے ایک اچھی ای میل سروس کا انتخاب کیا ہے تاکہ کسی بھی ممبر کو فوری ای میل مل سکے ۔یہاں ہمیں ای میل کی تعداد کے حساب سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ موجودہ ای میل پیکج 25 ڈالر /15000 ماہانہ ای میلز ہم نے سلیکٹ کیا ہے ۔ جسے بعد میں اگر ضرورت محسوس ہوئی ۔تو اپگریڈ کر لیا جائے گا۔ممبرز کے لیئے ای میل کا کوئیک رسپانس ایک اچھا تاثر ہو گا۔ نیو اکاؤنٹ رجسٹریشن نئے سال میں ہم فورم پر رجسٹریشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ نئے ممبرز پر پیڈ رجسٹریشن لاگو کر دی جائے ۔ اور نیا ممبر اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کرتے وقت ادائیگی کر کے رجسٹر ہو ۔ مگر اس سے ایسے ممبرز جو ایک سادہ رجسٹریشن کرنا بھی بہت مشکل کام سمجھتے ہیں۔وہ ممبرز اس طریقہ کار کو نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ نئے سال سے طریقہ کار یہ ہو گا کہ فری رجسٹریشن موجودہ نظام کی طرح ہی دستیاب ہوگی۔ البتہ نئے ممبرز کو اپنی فری رجسٹریشن مکمل کرنے پر فورم کے کچھ خاص فری سیکشن تک رسائی حاصل نہ ہو گی ۔ جس کے لیئے نئے ممبرز کو رجسٹریشن کی فیس ادا کر کے اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ کروانا ہو گا۔اپگریڈ کے وقت ممبر اپنی ای میل اور موبائل نمبر کی تصدیق بھی ویری فیکیشن کوڈ کے ذریعے کرے گا۔رجسٹریشن فیس ہم نے صرف 2 ڈالر رکھنے کا ارادہ کیا ہے ۔ اور وہ بھی ماہانہ نہیں ہو گی ۔ بلکہ صرف ایک بار ہی ادا کرنا ہو گی ۔اور آپ کا اکاؤنٹ لائف ٹائم کے لیئے رجسٹرڈ ہو جائے گا ۔ یہ پابندی ان ممبرز کی وجہ سے ہے جو کہ فورم میں ہمہ وقت انتشار پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں اور فورم کا ماحول خراب کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا ۔کیونکہ ان کا اکاؤنٹ بین ہونے پر وہ نئے اکاؤنٹ سے بھی رجسٹر کر سکتے ہیں۔اب وہ پیڈ رجسٹریشن کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکیں گے۔پہلے سے موجود تمام فری اکاؤنٹ ممبرز کو ایک ماہ کا مفت ٹرائل بونس دیا جائے گا۔اور ایک ماہ بعد ان کا اکاؤنٹ بھی عارضی طور پر معطل ہو جائے گا۔ جسے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کے بعد ایکٹو یا اپگریڈ کروایا جا سکے کا۔یہ اپگریڈ ایکٹویشن فیس صرف فری سیکشن کے لیئے ہو گی اور ان میں کسی قسم کا کوئی پریمیم سیکشن یا ناول شامل نہ ہو گا۔ پریمیم سسٹم پہلے کی طرح ہی فائل سسٹم ہو گا ۔اور کسی بھی فائل کی ادائیگی کرنے پر وہ فائل یا قسط ممبر کے پرائیویٹ کلاؤڈ اکاؤنٹ میں ایڈ ہو جائے گی۔جسے پریمیم ممبرز اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ اکاؤنٹ میں پڑھ سکیں گے۔ نوٹ ! کلاؤڈ پریمیم اور کلاؤڈ پلاٹینم کے ممبران کو رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ان کا اکاؤنٹ فعال رہے گا۔ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس والے ممبرز نئے سال میں ہم بہت سے ممبرز کو فورم سےرخصت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ایسے تمام ممبران جو ایک سے زیادہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے ڈبل اکاؤنٹ کے بارے میں انتظامیہ کو خود سےنہیں بتایا۔جبکہ انتظامیہ ان ممبران سے مکمل باخبر ہے۔ ان ممبرز کو بین کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔جو کہ ان ممبرز کے لیئے بھی سرپرائز ہو گا ۔ جو انتظامیہ کو غافل سمجھتے ہیں۔ان ممبران میں پریمیم ممبران بھی شامل ہوں گے ۔ کیونکہ وہ بھی رولز کی خلاف ورزی میں شامل ہیں ۔اگر اب بھی ایسے ممبران اپنا اکاؤنٹ بین ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کے لیئے یہ آخری موقعہ ہے ۔ اپنے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات نیچے دئیے گئی ای میل پر سینڈ کر کے ایکسٹرا اکاؤنٹ کلوز کروا کر اپنا ایک اکاؤنٹ ایکٹو کروا لیں ۔بعد میں کوئی اعتراض قبول نہ ہو گا۔ verify@urdufunclub.org ایڈز فری براؤزنگ فورم میں ایڈز فری براؤزنگ کے لیئے ایک ایڈ آن شامل کیا گیا ہے ۔ جس کی قیمت ہم نے نہایت ہی مناسب رکھی ہے ۔ ممبرز 2 ڈالر ماہانہ یا 20 ڈالر سالانہ ادا کر کے ایڈ فری براؤزنگ حاصل کر سکتے ہیں ۔یہ آپشن کسی ممبر پر لاگو نہیں کیا جا رہا ۔ جو ممبران ایڈز کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ مینج کر سکتے ہیں ان کو یہ سہولت خریدنے کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ جو ممبران ایڈ فری براؤزنگ چاہتے ہیں وہ اسے حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایڈز کمپنی فورم ممبرز کا کیشے اور براؤزنگ ڈیٹا کلکٹ کر کے ہی ممبرز کو اپنی ایڈز شو کرتے ہیں ۔ جس سے ممبرز کی پرائیویسی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ممبرز کی پرائیویسی ہماری اولین ترجیح ہے۔ہماری کوشش ہے کہ پریمیم ممبرز کو ایڈز نیٹ ورک سے الگ رکھا جائے ۔تاکہ ممبرز کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔ پروفائل انفارمیشن نئے سال سے ممبرز اپنی پروفائل میں اپنا ای میل اور فون نمبر خود سے تبدیل نہ کر سکیں گے ۔ بوقت ضرورت یہ صرف سپورٹ ٹیم کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکے گا ۔ ایسے تمام ممبران جن کی پروفائل میں ای میل اور موبائل نمبر درست نہیں ہیں وہ اپنے ای میل اور موبائل نمبرز نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کر کے درست کر لیں ۔ نئے سال میں تمام ای میلز اور موبائل نمبرز کو او ٹی پی کوڈ بھیج کر کنفرم بھی کیا جائے گا۔اور ایسے تمام ممبران جن کے ای میلز اور موبائل نمبرز درست نہ ہوں گےان کے اکاؤنٹ بین کر دئیے جائیں گے ۔ اور کوئی عذر قبول نہ ہو گا۔ ای میل کی تبدیلی کے لیئے کلک کریں فون نمبر کی تبدیلی کے لیئے کلک کریں ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) نئے سال میں ہم فورم کا لاگ ان سسٹم میں تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ جس میں ہر ممبر کو لاگ ان کرنے پر اس کے موبائل نمبر پر ایک کوڈ ایس ایم ایس سے رسیو ہو گا ۔ جسے فورم پر درج کر کے ہی لاگ ان ہوا جا سکے گا ۔ اور یہ ایس ایم ایس کوڈ ممبر کی پروفائل میں موجود فون نمبر پر ہی سینڈ ہو گا ۔ جن ممبرز کا فون نمبر درست ہو گا وہ با آسانی لاگ ان کر سکیں گے ۔ اور جو ممبرز غلط یا فیک فون نمبر استعمال کر رہے ہوں گے ۔ وہ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان نہیں ہو سکیں گے ۔ اس سسٹم کو ون ٹائم پاسورڈ یا او ٹی پی بھی کہتے ہیں ۔ نئے سال میں ممبر کی پروفائل میں ای میل اور فون نمبر کی تبدیلی کے چارجز 2 ڈالر / فی تبدیلی ہوں گے ۔ جب کہ ابھی اسے فری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گڈ بائے سائیلنٹ ممبرز بہت سے ممبران کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم گزشتہ اتنے سال سے سائلنٹ ممبرز ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے ممبرز جان لیں کہ وہ فورم پر مزید سائلنٹ نہیں رہ سکیں گے ۔ تمام ممبران کو 30دن کے دوران کم از کم 5 کمنٹس لازمی کرنا ہوں گے ۔ جو اپروول بھی ہو چکے ہوں۔ ورنہ ایسے تمام ممبران جو 30 دن میں 5 کمنٹس نہیں کریں گے ۔ ان کے لیئے آٹو میٹک کچھ فری سیکشن بند ہو جائیں گے ۔ اور جب ان ممبرز کی کمنٹس کی طے شدہ تعداد پوسٹ ہوگی تب وہ سیکشن کچھ ٹائم بعدآٹو میٹک اوپن ہو جائیں گے۔ایسے میں کوئی ممبر فورم پر سائلنٹ نہیں رہ سکے گا ۔ یہ ایک خودکار نظام ہو گا ۔ جو فورم پر ممبرز کو آٹو میٹک مینج کرے گا۔یہ پابندی پریمیم سیکشن پر نہ ہو گی ۔ اور پریمیم ممبران اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ کو جب چاہے وزٹ کر سکیں گے۔ نوٹ ! کلاؤڈ پریمیم اور کلاؤڈ پلاٹینم کے ممبران پر ماہانہ پوسٹنگ کی شرط نہ ہو گی۔ان کا اکاؤنٹ فعال رہے گا۔ کمنٹس اپروول سیٹ اپ نئے سال میں ایسے تمام کمنٹس جو کہ رومن اردو پر مشتمل ہوں گے۔بے شک وہ معیاری کمنٹس ہی کیوں نہ ہوں ان کو اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ اور ایسے تمام کمنٹس جو کہ چند مخصوص الفاظ جیسا کہ ۔ اپڈیٹ ، نائیس ، گڈ ، اور ان جیسےکسی بھی فضول الفاظ پر مشتمل ہوں گے۔ یا آپ کے کمنٹ میں کسی قسم کی تصویر شامل ہوئی ۔ ان کو بھی اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ ان کمنٹس کو ڈائریکٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا ۔ اردو الفاظ پر مشتمل معیاری کمنٹس کو ہی اپروول کیا جائے گا ۔ یہاں تمام ممبرز ایک بات نوٹ کر لیں ۔ آپ کا کمنٹ کتنا ہی اچھا اور معیاری کیوں نہ ہو ۔ اگر آپ کہانی کی اپڈیٹ کی تصاویر کو کوٹ کر کے کمنٹ کریں گے جس سے اپڈیٹ کی امیج آپ کی پوسٹ میں شامل ہوں ایسا کمنٹ اپروول نہیں ہو گا ۔ اسے ڈائریکٹ ڈیلیٹ کیا جائے گا رومن اردو سٹوریز سیکشن تمام ممبرز جانتے ہیں کہ چند سٹوریز کو چھوڑ کر فری میں پوسٹ ہونے والی باقی سب سٹوریز کاپی پیسٹ ہوتی ہیں ۔ اسی طرح رومن اردو میں پوسٹ ہونے والی سٹوریز بھی کاپی پیسٹ ہوتی ہیں ۔ کیونکہ یہ فری ہوتی ہیں۔ اور رائٹر کو ادائیگی نہیں کی جاتی ۔ تو رائٹر کا جب تک دل کرتا ہے وہ پوسٹ کرتا ہے اور پھر وہ اسے اپڈیٹ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر یہ اکثر نا مکمل ہی رہتی ہیں۔ اردو فن کلب نے نئے سال سے اپنے رومن اردو سٹوریز سیکشن کو فریز کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ موجودہ تمام رومن سٹوریز اور رومن سیکشن تمام ممبرز کے لیئے بدستور دستیاب رہیں گے اور ان کو وزٹ کیا جا سکے گا ۔ نئے سال سے ان سیکشن میں نئی سٹوری ایڈ کرنے کا آپشن ختم کر دیا جائے گا۔ اور پہلے سے موجود سٹوریز ہی اپڈیٹ ہو سکیں گی۔جو سٹوریز مکمل ہو چکی ہیں ۔ وہ موجود رہیں گی اور جو نامکمل ہیں ان کو مکمل کی کوشش کی جائے گی ۔اور جو مکمل نہ ہو سکیں ان کو جلد ہی فورم سے ہٹا دیا جائے گا۔ پرائیوٹ کلاؤڈ پریمیم پرائیویٹ کلاؤڈ سسٹم کو ہم نے ایس ڈی ڈی سٹوریج سے تبدیل کر کے این وی ایم ای سٹوریج (مستحکم میموری ایکسپریس) پر اپگریڈ کر دیا ہے ۔ جو کہ موجودہ لیٹسٹ ٹیکنالوجی ہے ۔ جس سے آپ کا پرائیویٹ کلاؤڈ بہت ہی فاسٹ ورک کرے گا اور بہت ہی بہترین سروس مہیا ہو گی۔ اور کم اسپیڈ انٹرنیٹ والے ممبرز بھی اسے انجوائے کر سکیں گے۔ نئے سال سے تمام خریداری کو پرائیویٹ کلاؤڈ پریمیم میں ہی شامل کیا جا سکے گا۔ کلاؤڈ بیسک رکھنے والے ممبرز نئی خریداری کو اپنے کلاؤڈ اکاؤنٹ میں شامل نہیں کر سکیں گے۔ اگر وہ مزید خریداری کرنا چاہیں تو ان کو اپنا اکاؤنٹ کلاؤڈ پریمیم پر اپگریڈ کرنا ہو گا ۔ جو کہ صرف 10 ڈالر میں اپگریڈ کروایا جا سکے گا۔ اگر وہ اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ نہ کرنا چاہیں تو بھی پہلے سے موجود ان کی خریداری بغیر کسی اضافی چارجز کے ان کے اکاؤنٹ میں لائف ٹائم کے لیے موجود رہے گی ۔ وہ صرف نئی خریداری نہ کر سکیں گے۔ جبکہ پہلے سے خریدی گئی تمام خریداری کو وہ با آسانی پڑھ سکیں گے۔ یہ تمام سہولیات اور پابندیاں آپ سب ممبرز کی بہتری کے لیئے ہیں ۔ ان سے ہم ایک مختصر اور اچھی کمیونٹی بنائیں گے ۔ ہمیں 20000 ممبران کی بجائے صرف 1000 ممبران کی کمیونٹی قبول ہے مگر ہم تعداد کے لیئے معیار پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔نئے سال میں جو ممبران ان سب رولز کے ساتھ فورم پر رہنا چاہیں گے تو ہم ان سب کو خو ش آمدید کہیں گے ۔ اور باقی ممبران جو ان رولز سے اختلاف رکھتے ہیں ان کو بخوشی الوداع کریں گے۔ ایڈمنسٹریٹر ۔۔۔اردو فن کلب
    1 like
  30. رگوں میں درد کا دریا ہے موجزن، ہمارے جسم پر لہجوں کے نیل ہیں۔!!
    1 like
  31. یہ عجیب فصلِ فراق ہے کہ نہ لب پہ حرفِ طلب کوئی نہ اداسیوں کا سبب کوئی نہ ہجومِ درد کے شوق میں کوئی زخم اب کے ہرا ہُوا نہ کماں بدست عدو ہُوا نہ ملامتِ صفِ دُشمناں نہ یہ دل کسی سے خفا ہُوا کوئی تار اپنے لباس کا نہ ہَوا نے ہم سے طلب کیا سرِ راہگزرِ وفا بڑھی نہ دیا جلانے کی آرزو پے چارہ غمِ دو جہاں نہ مسیح کوئی نہ چارہ گر نہ کسی خیال کی جستجُو نہ خلش کسی کے وصال کی نہ تھکن رہ ماہ و سال کی نہ دماغ رنجِ بُتاں نہ تلاش لشکرِ ناصحاں وہی ایک رنگ ہے شوق کا وہی ایک رسم ہے شہر کی نہ نظر میں خوف ہے رات کا نہ فضا میں دن کا ہراس ہے پے عرضِ حال ہے سخن وراں وہی ہم سخن ہے رفیقِ جاں وہی ہم سخن جسے دل کہیں وہ تو یوں بھی کب کا اُداس ہے۔
    1 like
  32. #جنسی_کہانی #وطن_کا_سپاہی #پہلا_حصہ رات کے 3 بج رہے تھے اور شاہ فیصل کالونی سے ایک 2006 ماڈل کرولا کار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمع شاپنگ سینٹر کے سامنےسے ہوتی ہوئی شاہراِہ فیصل فلایئی اور کراس کرنے کے بعد شاہراِہ فیصل پر چلی گئی۔ شاہراِہ فیصل پر آتے ہی گاڑی کی سپیڈ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ ڈرائیور شاید بہت جلدی میں تھا رات کے 3 بجے اگرچہ سڑک بالکل سنسان نہیں تھی، کسی حد تک ٹریفک موجود تھی شاہراہ پر مگر کالے رنگ کی یہ کروال گاڑی اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر جا رہی تھی۔ ڈرائیور انتہائی مہارت کے ساتھ دوسری گاڑیوں سے بچاتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ راشد مہناس روڈ کو جانے والے ٹرن کے قریب ڈرائیور کو ٹرانسمیٹر پر ایک کال موصول ہوئی جسمیں اسے ایک ہنڈا اکارڈ گاڑی کے بارے میں اطلاع دی گئی جو کچھ ہی دیر پہلے اسی جگہ سے گزری تھی۔ ہنڈا اکارڈ کی سپیڈ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی اور اسکو اس جگہ سے گزرے کوئی 5 سے 10 منٹ ہو چکے تھے۔ یہ معلومات ملتے ہی ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی کیونکہ وہ جلد از جلد ہنڈا اکارڈ گاڑی کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ نرسری فلائی اور کراس کرنے کے بعد گورا قبرستان کے قریب کرولا کے ڈرائیور کو دور سرخ لائٽ نظر آنا شروع ہوئی جو شاید کسی کار کی بیک الئٹس ہی تھیں۔ اسکو دیکھ کر کروال کے ڈرائیور نے اپنی رفتا میں کمی کی اور اب 150 کی بجائے 100 کی رفتار کے ساتھ اس گاڑی کے پیچھے جانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں یہ فاصلہ اور کم ہوگیا اور اب کرولا کا ڈرائیور اپنی رفتار کو 90 کلومیٹر فی گھنٹہ پر لے آیا۔ سامنے جانے والی کار ہنڈا اکارڈ ہی تھی جسکا پیچھا کرنا تھا۔ اور اس میں موجود شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھیں۔ ہنڈا اکارڈ میں کوئی اور نہیں بلکہ انڈین آرمی کا کرنل اور بدناِم زمانہ تنظیم راء کا خاص ایجینٹ کرنل ِوشال سنگھ تھا جو اپنے خاص مشن پر پچھلے کافی دنوں سے کراچی میں موجود تھا۔ پاکستان کی خفیہ ایجینسی بھی کافی دنوں سے کرنل وشال کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی مگر وہ ابھی تک یہ سمجھنے میں ناکام تھے کہ آخر کرنل وشال پاکستان میں کس مقصد سے آیا ہے اور آیا کہ وہ اب تک اپنے مشن میں کامیاب ہو سکا ہے یا نہیں اس بارے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ابھی تک کچھ معلوم نہ کر سکی تھی۔ میجر دانش گو کہ ایک ہونہار جوان تھا جس نے پاکستان آرمی میں کم عمری میں ہی بہت نام بنایا تھا مگر اب وہ آئی ایس آئی کا بھی سپیشل ایجنٹ تھا۔ آئی ایس آئی اپنے خاص کاموں کے لیے اکثر میجر دانش کا ہی انتخاب کرتی تھی اور آج بھی رات کے 3 بجے میجر دانش کو خاص طور پر کرنل ِوشال سنگھ کا پیچھا کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ میجر دانش اپنی تیز ڈرائیونگ کے لیے پہلے ہی مشہور تھا اور آج بھی اس نے طوفانی رفتار سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے باالآخر ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈ نکاال تھا۔ اب میجر دانش اگلی کار سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے مسلسل اسکے پیچھے جا رہا تھا۔ روڈ بالکل سیدھا تھا، ہنڈا اکاڑ شاہراِہ فیصل کو چھوڑ کر کلب روڈ سے ہوتی ہوئی اب مولوی تمیز الدین روڈ پر 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے جا رہی تھی۔ مولوی تمیز الدین روڈ سے بحریہ کمپلیکس اور پھر وہاں سے گاڑی نے اچانک ایک موڑ لیا اور سیدھی کراچی پورٹ کی طرف جانے لگی۔ یہ عام گزرگاہ نہیں تھی۔ یہاں پر پولیس اور رینجرز کی طرف سے خاص طور پر چیکنگ کی جاتی تھی۔ میجر دانش نے دیکھا کہ ہنڈا اکارڈ آگے آنے والی چیک پوسٹ پر کچھ دیر کے لیے رکی ہے۔ یہاں پر رینجرز ہر آنے والی گاڑی کو خصوصی طور پر چیک کرتے تھے۔ میجر دانش نے بھی گاڑی آہستہ رفتار سے چلنے دی۔ جب میجر دانش کی گاڑی آگے کھڑی ہنڈا اکارڑ کے بالکل قریب پہنچ گئی تو میجر دانش نے دیکھا رینجر اہلکار نے ہنڈا اکارڈ میں موجود پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کو سلیوٹ کیا اور ڈرائیور کو ایک کارڈ پکڑا دیا۔ اسکے ساتھ ہی ہنڈا اکارڈ آگے چلی گئی۔ میجر دانش کی گاڑی کو بھی رینجرز اہلکار نے چیکنگ کے لیے روکا تو میجر نے اپنا کارڈ رینجر اہلکار کو دکھایا۔ اہلکار نے وہ کارڈ ساتھ بیٹھے اپنے افسر کو دیا جس نے کارڈ کو خصوصی طور پر چیک کرنے کے بعد میجر دانش کو بھی آگے جانے کی اجازت دی اور اہلکار نے میجر دانش کو سلیوٹ مار کر کارڈ واپس کر دیا۔ میجر دانش نے سلیوٹ مارنے والے شخص سے پوچھا کہ اگلی گاڑی میں کون تھا تو اسنے بتایا کہ اگلی گاڑی میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون موجود تھے جو کسی اہم کام سے بندر گاہ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میجر دانش کو فکر الحق ہوگئی۔ کیونکہ اگلی گاڑی میں تو کرنل وشال موجود تھا۔ اور وہ انتہائی مہارت کے ساتھ رینجرز اہلکار کو دھوکا دیکر ایک پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں کراچی پورٹ پہنچ چکا تھا اور رینجر اہلکار اسکو پہچاننے میں ناکام رہے تھے۔ یہ سنتے ہی میجر دانش نے اپنی گاڑی چلای اور ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دور جا کر میجر دانش کو ہنڈا اکارڈ مل گئی۔ اسکی لائٹس بند ہو چکی تھیں۔ میجر دانش نے اپنی گاڑی دور کھڑی کی اور پیدل ہی ہنڈا اکارڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ میجر دانش اس وقت اپنی یونیفارم کی بجائے شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ وہ بہت ہی احتیاط کے ساتھ ہنڈا اکارڈ کی طرف جا رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کرنل وشال راء کا سب سے خطرناک ایجینٹ ہے اور اپن کام میں ماہر ہے۔ وہ آج تک اپنے کسی بھی مشن میں ناکام واپس نہیں لوٹا تھا۔ اور آئی ایس آئی جانتی تھی کہ اس بار بھی کرنل وشال ہو نہ ہو کسی خطرناک مشن پر ہی پاکستان میں موجود ہے۔ مگر اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر میں میجر دانش ہنڈا اکارڈ کے قریب پہنچ چکا تھا اسکو دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ گاڑی میں کرنل موجود نہیں۔ وہ گاڑی کے قریب پہنچا تو اکارڈ کا ڈرائیور ابھی تک گاڑی میں موجود تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر چاک و چوبند بیٹھا تھا۔ میجر دانش نے ڈرائیور سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑے ہو اور یہ کس کی گاڑی ہے؟ تو ڈرائیور نے بتایا کہ لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب تشریف لائے ہیں انہیں یہاں کوئی کام ہے۔ یہ کہ کر ڈرائیور دوبارہ اپنی مستی میں گاڑی میں لگے گانے سننے لگا اور میجر دانش انتہائی احتیاط کے ساتھ مگر بہت ہی لا ابالی طریقے سے آگے بڑھنے لگا۔ 32 سالہ میجر دانش اپنے چاروں طرف کے حاالت سے اچھی طرح باخبر تھا، اسکی چھٹی حس اسکو آنے والے خطرے کے بارے میں بھی بتا رہی تھی مگر وہ بظاہر نارمل انداز میں چلتا جا رہا تھا۔ کچھ دور اسکو پاکستانی یونیفارم میں ایک آرمی آفیسر نظر آیا جو ایک ہی لمحے میں غائب ہوگیا۔ میجر دانش نے سوچا ہو نہ ہو یہ کرنل وشال سنگھ ہی ہوگا۔ جو اس وقت تمام سیکورٹی کو چکمہ دیکر پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں انتہائی حساس علاقے میں موجود ہے۔ جس وہ شخص جاتا نظر آیا تھا اور ایک دم سے غائب ہوگیا تھا وہیں س ے ایک گاڑی نکلی جو اب بندر گاہ سے ہوتی ہوئی کیماڑی کی طرف جا رہی تھی۔ میجر دانش نے بھی فورا واپسی اختیار کی اور بھاگتا ہوا اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھا اور اسی طرف چل پڑا جہاں دوسری گاڑی جا رہی تھی۔ کیماڑی جیٹی پہنچ کر میجر دانش کو وہی گاڑی دوبارہ نظر آئی مگر اس وقت اس میں کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔ میجر دانش فورا وہاں سے بھاگتا ہوا اس سائیڈ پر گیا جہاں پر بوٹس موجود ہوتی ہیں۔ وہاں سے میجر دانش کو پتا لگا کہ ہارون صاحب، جو کہ اصل میں کرنل وشال تھا، ایک بوٹ پر سوار ہوچکے ہیں جو ابھی منوڑا بیچ کی طرف جائے گی۔ میجر دانش بھی سیکورٹی اہلکار سے نظر بچا کر اس بڑی سی بوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد بوٹ دوسری سائیڈ پر پہنچ چکی تھی اور کرنل وشال اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بوٹ سے اتر گیا۔ موقع دیکھ کر میجر دانش بھی بوٹ سے نیچے اترا۔ نیچے اتر کر میجر دانش نے دیکھا کہ کرنل وشال کے لیے ایک کالے رنگ کی پجارو کھڑی ہے۔ کرنل وشال اپنے 2 ساتھیوں کے ساتھ پجارو پر سوار ہوا اور کچھ ساتھی واپس اسی بوٹ کی طرف جانے لگے۔ میجر دانش سمجھ گیا تھا کہ اب انکا رخ منوڑا بیچ کی طرف ہی ہوگا جہاں سے بڑے بڑے جہاز سمندری راستے سے دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف روانہ ہوتے تھے۔ عام طور پر سمندری جہاز کے ذریعے بڑے بڑے سمگلر سفر کرتے ہیں اور میجر دانش کے ذہن میں پہال خیال یہی آیا کہ کرنل وشال کسی قیمتی چیز کی سمگلنگ میں انوالو ہے، مگر اگلے ہی لمحے میجر دانش نے اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا کہ سمگلنگ کے لیے راء جیسی ایجنسی کبھی بھی کام نہیں کرے گی۔ ایسا کام تو چھوٹے موٹے سمگلرز کے ذریعے کروایا جا سکتا ہے، کرنل وشال کا اس معاملے میں شامل ہونا کسی بڑے خطرے کی طرف اشارہ تھا۔ کالے رنگ کی پجارو یہاں سے جا چکی تھی، اور میجر دانش اب پیدل ہی منوڑا بیچ کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش بھاگتا ہوا یہ سارا راستہ طے کر رہا تھا۔ پجارو سڑک کے راستے جا رہی تھی جبکہ میجر دانش شارٹ کٹ استعمال کرتا ہوا اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہو رہی تھی اور اب بغیر لائٹس کے بھی کافی حد تک نگاہ کام کرنے لگی تھی۔ آدھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد میجر دانش کے پھیپھڑے جواب دینے لگے تھے۔ اسکا سانس دھوکنی کی طرح چل رہا تھا اب اس میں مزید بھاگنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر ایک انجانا خوف اسکو رکنے نہیں دے رہا تھا۔ کرنل وشال آخر پاکستان کہاں سے؟؟؟ یہ وط ِن عزیز کا ایسا کونسا راز لے کر جا رہا تھا ؟ آنے والے خطرے کا سوچ سوچ کر میجر دانش کا حوصلہ اور بڑھ رہا تھا اور وہ بغیر رکے مسلسل بھاگتا جا رہا تھا۔ آخر کا ر میجر دانش کو دور ایک جہاز دکھائی دیا۔ جو روانگی کے لیے تیار تھا۔ لیکن یہاں سے ابھی بھی ایک کلومیٹر کا سفر طے کرنا باقی تھا جو میجر دانش نے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی طے کیا۔ راستے ِمں کچھ دیر کے لیے اپنے آپکو لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچانے کے لیے میجر دانش کسی چیز کی اوٹ لے کر رک بھی جاتا تاکہ وہ کرنل وشال کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔ جب میجر دانش جہاز کے بالکل قریب پہنچ گیا تو وہاں سے جہاز تک جانا میجر دانش کے لیے نا ممکن ہوگیا تھا۔ میجر دانش نے ایک بار سوچا کہ وہ یہاں موجود تمام سیکورٹی اہلکارز کو بتا دے کہ یہ پاکستانی یونیفارم میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب نہیں بلکہ راء کا ایجینٹ کرنل وشال ہے مگر پھر اس خیال کو بھی میجر دانش نے ترک کردیا، مبادا سیکورٹی اہلکار بھی بھیس بدل کر آئے ہوں اور حقیقت میں وہ بھی راء کے ہی ایجینٹ ہوں یا پھر راء نے انکو بھاری رقم کے عوض خرید لیا ہو۔ ایسی صورت میں میجر دانش خود خطرے میں پھنس سکتا تھا۔ جو راستہ جہاز کے ڈیک کی طرف جاتا تھا وہاں پر 10 کے قریب مسلح افراد موجود تھے اور ایسی صورت میں ان سے پنگا لینے کا مطلب تھا آبیل مجھے مار۔ اگر عام حاالت میں 10 مسلح افراد سے لڑنا ہوتا تو میجر دانش ایک لمحے کو بھی نا سوچتا، مگر یہاں مسئلہ ان سے لڑنے کا نہیں بلکہ کرنل وشال کو پکڑنے کا تھا۔ جو یقنیا پاکستان سے کوئی قیمتی راز چرا کر دشمن ملک جا رہا تھا۔ آخر کار میجر دانش نے دوسرا راستہ اختیار کیا، جہاز کے ڈیک کی جانب جانے کی بجائے میجر دانش نے خاموشی سے ایک سائیڈ پر پڑی لائف ٽیوب اٹھائی اور سمندر کے پانی میں اتر گیا۔ گو کہ میجر دانش بہت اچھا تیراک بھی تھا مگر وہ بغیر آواز پیدا کیے جہاز تک پہنچنا چاہتا تھا جسکے لیے لائفف ٹیوب کا استعمال ہی بہترین طریقہ کار تھا۔ ٹیوب کی مدد سے میجر دانش سمندری پانی میں موجود بنائے گئے عارضی راستے کے نیچے ہو لیا۔ یہاں پانی کی گہرائی تو زیادہ نہیں ہوتی مگر ایک عام تیراک کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس پانی میں اتر سکے۔ لکڑی کےپھٹوں کی مدد سے بنائے گئے راستے استعمال کیے جاتے ہیں اور میجر دانش انہی پھٹوں کے نیچے نیچے جہاز کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز کے انتہائی قریب پہنچ کر میجر دانش بہت چوکنا ہوگیا کیونکہ اسکے عین اوپر مسلح افراد موجود تھے جو آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ میجر دانش نے انکی باتیں سننے کی کوشش کی مگر صحیح طور پر سمجھ نہیں پایا۔ یہاں پر میجر دانش کی چھوٹی سی غلطی بھی پانی میں آواز پیدا کر کے اوپر کھڑے مسلح افراد کو چوکنا کر سکتی تھی اس لیے میجر دانش بہت ہی احتیات کے ساتھ جہاز کے بالکل قریب پہنچا۔ جہاز اب چلنے کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔ اور اس پر سوار ہونا ناممکن تھا جبکہ میجر دانش واپس بھی نہیں جا سکتا تھا۔ میجر دانش نے فورا ہی اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو اسے خوش قسمتی سے ایک چھوٹا پائپ پانی پر تیرتا ہوا مل گیا۔ سمندری حدود میں عموما بہت سا فضلہ اور گندا سامان موجود ہوتا ہے، پاکستان میں صفائی کا ناقص انتظام ہونے کی وجہ سے پانی نا صرف بہت زیادہ گدال ہوتا ہے بلکہ اس میں بہت سا کٹھ کباڑ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہی چیز آج میجر دانش کے کام آئی اور اسے ایک پائپ مل گیا۔ میجر دانش جہاز کے بالکل قریب تھا، جیسے ہی جہاز چلنے لگا اور اسکے حفاظتی بند توڑے گئے تو پانی میں بہت زیادہ شور پیدا ہوا جو کہ معمول کی بات تھی، اسی شور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میجر دانش نے ایک ڈبکی لگائی اور پانی کے نیچے جا کر جہاز کے ساتھ ایک سپورٹ کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ میجر دانش نے اپنا سانس روک رکھا تھا ۔ سپیشل ٹریننگ کی وجہ سے میجر دانش کم سے کم 3 منٹ تک با آسانی پانی میں اپنا سانس روک سکتا تھا۔ اور ان 3 منٹوں میں جہاز ان مسلح افراد سے کافی دور پہنچ چکا تھا۔ جب میجر دانش کو مزید سانس روکنے میں دشواری کا سامنا ہونے لگا تو اس نے پائپ کا سہارا لیا۔ پائپ پانی کی سطح سے کچھ اوپر باہر نکال لیا اور نیچے سے اپنے منہ کو لگا لیا۔ جس سے میجر دانش کو اب سانس لینے میں آسانی ہو رہی تھی۔ مگر پانی میں جود کیمیکلز اور دوسرے گندے فضلے میجر دانش کے جسم پر بہت برا اثر ڈال رہے تھے۔
    1 like
  33. Hlo guys mjhy sexxx chat mn bht mza ata h specially jb bht sary larky sex chat kren mery sath Main bht grm ho jati hn jo jo larka interested hai plz come
    1 like
  34. تنگ آغوش میں آباد کروں گا تجھ کو ہوں بہت شاد کہ ناشاد کروں گا تجھ کو فکر ایجاد میں گم ہوں مجھے غافل نہ سمجھ اپنے انداز پر ایجاد کروں گا تجھ کو نشہ ہے راہ کی دوری کا کہ ہم راہ ہے تو جانے کس شہر میں آباد کروں گا تجھ کو میری بانہوں میں بہکنے کی سزا بھی سن لے اب بہت دیر میں آزاد کروں گا تجھ کو میں کہ رہتا ہوں بصد ناز گریزاں تجھ سے تو نہ ہوگا تو بہت یاد کروں گا تجھ کو جون ایلیا
    1 like
  35. آپ خواب مین صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔ سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔ کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔ انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔ پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔ کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔ A nut for a jar of tuna ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ایک ہی بات ہے۔ ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔ جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہو اتھا۔ کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی اوور تھنکنگ کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں۔۔ آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔۔۔تھینکس ٹو یو یور برین۔۔۔ Thankx to your brain نوے فیصد لوگ اس وقت ڈر جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے "کچھ پوچھوں آپ سے" Can I Ask you a question
    1 like
  36. نیلی وہیل مچھلی کی زبان کا سائز اور وزن ایک بھرپور جوان ،تندرست و توانا افریقن ہاتھی کے وزن اور سائز کے برابر ہوتا ہے
    1 like
  37. ہومر اور سقراط کا شمار دنیا کے عظیم ترین فلسفیوں میں ہوتا تھا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ان دونوں عظیم فلفسیوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک لائن تک نہیں لکھی کیوں کہ یہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
    1 like
  38. بس کہ دشمن ہوئی ہے جاں کی چوت دھت تری عاشقی کی ماں کی چوت میں نے جھانکا جو غسل خانے میں کیا ہتھیلی سے اس نے ڈھانکی چوت اسد اللہ خاں کا حصہ جھانٹ اور تجمل حسین خاں کی چوت آج کل جمع ہے کراچی میں کیا بتاؤں کہاں کہاں کی چوت مت کرو ذکر فرج بنگالہ پہلے دیکھو یہاں وہاں کی چوت بعد میں دیجے راز دل اس کو لیجیے پہلے راز داں کی چوت حکمتیں اس کی دیکھ اے غافل ہے ہر اک شاخ گل پہ ٹانکی چوت
    1 like
  39. وہ منگل رات سہانی تھی وہ پیا سے چدنے والی تھی کوئی بہن کا لوڑا چود گیا اور چوت میں مکھن چھوڑ گیا ٹوں روں روں جُورُو باجے بین بین اور ایک کے نیچے تین تین پھر سارے بولے مستی میں اب چوت ملی ہے سستی میں ٹوں روں روں وہ راجہ بولا دوحے کا میرا لنڈ بنا ہے لوہے کا وہ رانی بولی چین کی میری چوت بنی ہے ٹین کی ٹوں روں روں نہ ہاتھی سے نہ گھوڑے سے تو چدے گی میرے لوڑے سے وہ چود کے بولا بائے بائے وہ چد کے بولی ہائے ہائے ٹوں روں روں آڈیو ملاحظہ ہو
    1 like
  40. ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن رس بھرے رس داررسیلے جوبن جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا اور اے دوست !!! اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی لیکن اے دوست اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور پیشاب کی دھار مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو آڈیو ملاحظہ ہو
    1 like
  41. کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سرِ بازار کسی لڑکی نے غالب کو نامرد اور بے اولاد ہونے کا طعنہ دیا جس پر غالب کا ردّعمل تھا کون کہتا ہے کہ غالب کا کھڑا نہیں ہوتا سربازار جو نہ دوں تا غالب نہ کہیو
    1 like
  42. thanks all members update hazir hai :)
    1 like
  43. Guru ji hats off for you... bohot he aala chal rahi hai aap ki tahreer bohot acha laga perh ker or rongty b khary hue ..... very very very nice plot and writing tactics .... dear lajawab ker dia very nice...... jaldi jaldi post kerin na next part....
    1 like
  44. awesome Guru ji..! apki is type ki threer per dali khushi hoti hai beiktyar apki tareef kerne ko dil kerta hai...!
    1 like
  45. Capt Bilal Zafar Shaheed (SSG) uniform he was wearing at da tym of shahadat... sorry 4 watermark q k agar main isy remove karta to pic ki original look nai aani thi
    1 like
  46. :p عامر اسکو بات بات پر طعنے دیتا ،کوستا، گالیاں دیتا ۔ عامر کی ایمن سے نفرت اور دوری جیسے جیسے بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے جم کی مہربانیاں اور بونسیز ایمن کے لئے بڑھتے جا رہے تھے۔ کھبی کھبی تو وہ بھی عامر کے رویے سے اتنا اکتا جاتی اور مایوس ہو کر سوچتی کہ عامر کو چھوڑ کر واقعی جم سے شادی کر لے جو اسکی خاطر اپنا مذہب تک چھوڑنے کو تیار تھا ۔ اتنی بری زندگی سے وہ بھی اب اکتا رہی تھی اور اسکے دل میں جم کے لئے جیسے روزانہ کچھ نا کچھ جگہ بننے لگی تھی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭ آہستہ آہستہ اسکا دل جم کے لئے جیسے ہموار ہونے لگا تھا ۔ کافی حد تک وہ اپنے آپ کو منانے میں کامیاب ہو تی جا رہی تھی حالانکہ وہ عامر سے بہت محبت کرتی تھی مگر اسکو علم ہو چکا تھا بد نصیبی نے انکے گھر کا رستہ دیکھ لیا تھا اور انکی زندگی میں وقت کا پہیہ الٹا گھوم چکا تھا۔ عامر کے اب زندگی کو دوبارہ سے شروع نہیں کیا جا سکتا تھا تاوقتیکہ کوئی معجزہ نا ہو جاتا اور خود عامر اسکے ساتھ ملکر دوبارہ ایسی کوئی کوشش کرتا مگر وہ تو خود اب راتوں کو بھی گھر سے باہر رہنے لگا تھا۔ پتہ نہیں کہاں جاتا تھا۔ کچھ بتاتا بھی تو نہیں تھا۔ اگر وہ پوچھنے کی کوشش کرتی تو مغلظات کا طوفان ابل پڑتا ۔اس لئے وہ ڈر کے مارے خاموش ہی رہتی۔ ٭٭٭٭٭٭٭ ان دونوں کے درمیان اسی کشمکش میں دو سال بیت گئے تھے۔ پورے دن میں چند ضروری جملوں کا تبادلہ بھی ہوتے ہوتے اب نا ہونے کے برابر رہ گیا تھا اسی دوران میں ملک میں بری طرح ریسیشن کا دور پیدا ہونے لگا تھا۔ انکے آفس سے بھی دو سو لوگ نکالے جا چکے تھے مگر اتفاق سے ان تینوں کا نمبر ابھی تک نہیں آیا تھا ۔ ملکی معشیت تیزی سے گرتی جارہی تھی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوتے جا رہے تھے۔ حکومت لوگوں کے گھر چھین چھین کر انکو سڑکوں پر لا رہی تھی۔ غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ پورا ملک ناامیدی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں کوئی بھی اپنی جاب کھونا منظور نہیں کر سکتا تھا۔ کسی نا کسی طرح یہ تینوں اپنی جگہ پر جاب کر رہے تھے۔ ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ اب انکے ڈیپارٹمنٹ کی باری بھی آ گء ہے اور ایمن یا جم میں سے کسی ایک کو جاب سے جانا پڑے گا۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو "لے آف" کیا جانے والا تھا آنے والے مہینے کے آخری فرائڈے کو اور ان میں سے ایک کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر چلے جانا تھا۔ ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ جم اور ایمن میں سے کون جائے گا۔ دونوں کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ تمام بڑے آفیسیرز کی اہم میٹینگ ہونے والی تھی جس میں وہ دونوں کی خدمات کا جائزہ لے کر کسی ایک کو گھر بھیجنے والے تھے۔ اس فیصلے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا اور یہ وقت دونوں کے لئے بہت بھاری تھا۔ ان دنوں جم کا موڈ بھی کچھ بگڑا بگڑا تھا اور وہ ایمن کے آفس کے چکر بھی نہیں لگا رہا تھا۔ جب بھی دیکھو کسی نا کسی باس کے ساتھ آفس میں بند مذاکرات کر رہا ہوتا۔ دو تین بار ایمن نے خود اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جم نے رکھائی سے جواب دیا۔ ایمن کو تو یقین نہیں آتا تھا کہاں وہ اسکی ایک نظر کا طالب اور کہاں یہ انتہائی روکھا پھیکا سا بندہ ؟ خوف کے مارے ایمن کی حالت تو ایسی ہو چکی تھی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ عامر سے تو ویسے بھی چند لفظوں کا ناطہ رہ گیا تھا پہلے بھی اور اب تو وہ بھی نہیں رہا تھا مگر جم؟ وہ تو کسی حد تک اسکے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدگی سے غور کرنے لگی تھی۔ لیکن اب اس وقت عامر اور جم میں سے کوئی بھی اسکا سہارا بنتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ جائے تو جائے کہاں؟ پاکستان میں تو ویسے بھی اس کا کوئی خاندان نہیں تھا۔ امی ابا کے بچپن میں مر جانے کے بعد غریب ماموں ممانی نے پالا تھا اور جیسے تیسے رخصت کر کے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ وہ وآپس انکے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭
    1 like
×
×
  • Create New...