Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

AnjoCow

Cloud Premium
  • Joined

  • Last visited

  1. DEVILSDJ started following AnjoCow
  2. djd3vils started following AnjoCow
  3. اگر کسی کے پاس مکمل کہانی ہو تو پوسٹ کریں۔
  4. تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے لہریں بھی ہوئیں مستانی سی تیری زلفوں کو چھو کر آج ہوئی خاموش ہوا دیوانی سی۔ یہ روپ کا کُندن دہکا ہوا یہ جسم کا چندن مہکا ہوا الزام نا دینا پھر مجھکو ہو جائے اگر نادانی سی بکھرا ہوا کاجل آنکھوں میں طوفان کی ہلچل سانسوں میں یہ نرم لبوں کی خاموشی سی پلکوں میں چھُپی حیرانی سی شاعر: (کلیم عثمانی) فلم: احساس
  5. یہ ریشمی زلفیں یہ شربتی آنکھیں انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی یہ ریشمی زلفیں یہ شربتی آنکھیں جو یہ آنکھیں شرم سے جھک جائیں گی ساری باتیں یہیں بس رُک جائیں گی چپ رہنا یہ افسانہ کوئی ان کو نہ بتلانا کہ انہیں دیکھ کر پی رہے ہیں سبھی یہ ریشمی زلفیں یہ شربتی آنکھیں انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی زلفیں مغرور اتنی ہو جائیں گی دل کو تڑپائیں گی جی کو ترسائیں گی یہ کر دیں گی دیوانہ کوئی ان کو نہ بتلانا کہ انہیں دیکھ جی رہے ہیں سبھی یہ ریشمی زلفیں یہ شربتی آنکھیں انہیں دیکھ کر جی رہے ہیں سبھی
  6. کیا واقعی عورت میں سات شہوتیں ہوتی ہیں؟ یہ کہاوت مشہور ہے کہ "عورت سات خواہشات کی ماں ہوتی ہے"، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کو مرد سے زیادہ جنسی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ عورت کے لیے یہ ایک جذباتی اور نفسیاتی تجربہ ہوتا ہے، جو محبت، توجہ اور اپنائیت سے مکمل ہوتا ہے۔ اگر شوہر چاہتا ہے کہ اس کی بیوی خوش ہو اور دونوں کا رشتہ مزید خوبصورت بنے، تو اُسے ان سات خوبصورت جذبات کا خیال رکھنا چاہیے: 1. محبت بھری سرگوشیاں نرم الفاظ اور دل سے نکلی باتیں عورت کے دل کو چھو جاتی ہیں۔ 2. لمس کی لطافت نرمی سے چھونا، ہاتھ پکڑنا یا ماتھے پر بوسہ دینا اس کے دل میں محبت جگاتا ہے۔ 3. گہری نظر کی کشش بیوی کو غور سے دیکھنا اور اس کی خوبصورتی کی تعریف کرنا اسے خاص محسوس کرواتا ہے۔ 4. محبت بھرا بوسہ لبوں کا لمس تعلق میں جذبات اور قربت پیدا کرتا ہے۔ 5. گلے لگنے کی اپنائیت محبت بھرا گلے ملنا تحفظ اور سکون کا احساس دیتا ہے۔ 6. خوشبو کی مہک پرفیوم یا جسم کی قدرتی خوشبو عورت کی کشش میں اضافہ کرتی ہے۔ 7. مکمل توجہ اور احساس جب شوہر وقت دیتا ہے، توجہ دیتا ہے اور بیوی کے جذبات کو اہمیت دیتا ہے تو قربت کا لمحہ یادگار بن جاتا ہے۔ یاد رکھیں: شادی صرف جسمانی تعلق کا نام نہیں، بلکہ ایک جذباتی فن ہے، جہاں دل سے دل جُڑتے ہیں
  7. آپ قاری ہیں یا مصنف؟ آپ مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر ہیں؟
  8. میں فورم میں کچھ مدد کر سکتا ہوں۔ براہ کرم مجھے آپریٹنگ عمل سے آگاہ کریں۔ میں عام طور پر انگریزی میں لکھتا ہوں پھر اردو میں ترجمہ کرتا ہوں۔
  9. پیارے آصف، میں آپ کی کہانی لکھنے کے لیے تیار تھا کہ آپ ان جوڑے سے دوبارہ کیسے ملے۔ آپ کا دو شوہر اور دو بیویوں کے ساتھ جنسی تعلق۔ لیکن فورم کے قارئین اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
  10. آصف کی واپسی۔ میں نے حال ہی میں اس فورم پر کہانیاں پڑھنا شروع کی ہیں۔ ایک پرانی کہانی میں نے اس میں پڑھی تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس کہانی کے آخری حصے میں میں ایک کردار تھا۔ یہ تقریباً 12 سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اس واقعے کے بعد میں 7 سال پہلے ان سے دوبارہ ملا، تب سے ہم دوست ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ انہوں نے ہماری ماضی کی جنسی کہانی لکھی تھی۔ میرا نام آصف نہیں، یہ نام انہی نے دیا تھا۔ اگر مجھے اجازت ہو تو میں اپنا تجربہ لکھنے کا آغاز کروں گا۔ پچھلے 7 سالوں سے میں نے دونوں جوڑوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا۔
  11. ایڈمن سے گزارش ہے کہ اس کہانی کو سمیٹنے کے لیے کسی اور رائٹر کو دیں۔ کسی بھی معقول بات پر اسے ختم کریں
  12. یہ ایک مختصر کہانی تھی۔ تین کردار شاید اکثر لطف اندوز ہوتے رہے ہوں گے۔ میں مختصر کہانی لکھنے والا ہوں۔
  13. حوریہ نے دیکھا گلاس ڈور سے کوئی ھے جو باہر سے ان کو کرنے آرہا ھے تو اس نے نیہا کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کئیے گھوڑی بنی ھوئی تھی اور اسکی چوت کا گلابی سوراخ ڈور کی طرف تھا اور ایک دم ڈور کھلا تو حور نے دیکھا شاہد روم میں آ گئیا دراصل شاہد کو میسج پر حوریا سب کچھ بتا چکی تھی حوریہ نے اشارے سے نیہا کو چپ رہنے کا اشارہ کیا وہ پرے ہٹ گئ اور شاہد نے پاؤں کے بل بیٹھ کر حور کے چوتڑ پر اپنا ہاتھ رکھا اور اسکی چوت کے گیلے پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنا شروع کردیا شاہد کی زبان کا لمس پاکر نیہاکو کرنٹ سا لگا تو اس نے پیچھے ہاتھ مار کر دیکھا تو اسکے ہاتھوں میں شاہد کے چھوٹے چھوٹے بال آ گئے وہ جھٹ سے کھڑی ھو گئ نیہا جیسے ھی کھڑی ھوئی اسکو برہنہ حالت میں دیکھ شاہد کا لنڈ کھڑا ھوگیا اسکی پینٹ میں ہلچل سی پیدا ھو گئ بھابھی تم نیہا بولی تم کب آۓ اور حوریہ تم نے بتایا نہیں کہ شاہد آ گئیا ھے شاہد باہر جانے لگا تو حور نے نیہا کے کان میں کہا اب موقع ھے ایسا پرفارم کرو کہ شاہد کو سب سچ ھی لگے کہ تم بہت مجبور ھو کر کر رہی نیہا بولی وہی تو میں کر رھی ھوں تم تماشہ دیکھو شاہد کمرے سے باہر جا چکا تھا حوریہ ننگی بھاگتی ھوئی گئ اور بولی کدھر جارھے ھو نیہا کی باتوں کا برا مت مانو الٹا ھم آج اسکو اپنے مشن میں شامل کر لیتے ھیں یہی تو مو قع ھے حوریہ نے دونوں طرف تیر چلا دیا شاہد نے نیہا کا پتلا گورا وجود دیکھ کر کہا لگتا ھے آج بادل کھل کر برسیں گے تو نیہا بولی آج برسات بھی دیکھنی ھے اور رفتار بھی حوریہ نے شاہد کی پینٹ کی زپ کھولتے ھوۓ کہا آج میدان خالی ھے نوابزادے تم اپنے گھوڑے کھل کر دوڑاؤ حوریہ نے شاہد کے لنڈ پر اپنے لب رکھ دئیے اور اسے چوسنے لگی شاہد نے بھی اس جشن کا آغازکرتے ھوۓ اپنے ھونٹ نیہا کے ھونٹوں سے ملا دئیے حور نے شاہد کے سپاڑے پر اپنے لب تنگ کر دئیے اور شاہد سرور میں ڈوب گیا اچانک نیہا شاہد سے لب ہٹاکر اسے غور سے دیکھنے لگی شاید اسکا ناٹک کرنے کا موڈ تھا نوابزادہ شاھد نے اس کا بدن بغیر کپڑوں کے دیکھا تو اس کے اندر کی جوانی شور مچانے لگی اور کیوں نہ مچاتی نیہا سنجرانی تھی ہی اتنی پیاری 24 سالہ خوبرو ،32سائز کے چھاتیوں اور گلابی چوت کے ساتھ کسی بھی مرد کو اپنے آگ کے کنویں جیسی چوت میں پانی بہانے پر مجبور کر سکتی تھی ۔شاہد نے پہلے اس کے مموں کو دبا کے چوسنا شروع کیا تو نیہا سنجرانی کو اس کے پاگل پن پر پیار آنے لگا اس نے.شاہد کو سر کے بالوں سے پکڑا تو نوابزادہ شاھد اس کے ابھرے ہوئے پستانوں کو اور ذیادہ برباد کرنے لگا وہ کبھی .نیہا سنجرانی کو دیکھتا کبھی مموں کو چوستا اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کیا چوسے اور کہاں کہاں سے چوسے وہ اس کے گرم جسم کو برداشت نہیں کرپا رہا تھا اس کے نظروں میں عجیب سی لالچ تھی وہ لالچی نطروں سے .نیہا سنجرانی کے پستانوں کو دیکھ کے چوس رہا تھا نیہا اس کی نظروں کو سمجھ رہی تھی اس لئے جب وہ اس کی طرف دیکھتا تو .نیہا ہلکا سا مسکرادیتی اور .شاہد اس کی اس ادا سے متاثر ہوکر اس کے بٹن دار پستانوں کو چماٹ لگا کے اور زیادہ چوسنے لگتا۔ قریب 20 منٹ تک وہ اس کے پستانوں پر حملہ آور ہوتا رہا اتنے ٹائم میں کسی بھی مرد کی پیاسی عورت جس کو اپنے شوہر کے ہتھیار سے کبھی خوشی نہ ملی ہو گرم ہوجاتی ہے اور .نیہا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس کے شادی کو 4 سال ہوگیئے تھے لیکن اس کے شوہر.بہرام حسن کے ناکارا لنڈ کے پانی سے اس کی چوت کی زمین ابھی تک سرسبز نہیں ہوسکی تھی 4 سال کی چودائی کے باوجود بھی وہ بنجر تھی اس نے اپنے شوہر کا بہت علاج کروایا بہت حکیموں کے پاس اس کو لیکر گئی جس طرح ہر عورت اولاد چاہتی ہے اسی طرح .نیہا بھی چاہتی تھی کہ اس کا گود بھر جائے وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلے ان کو اپنی چھاتیوں کا دودھ پلائیں لیکن ان سب کے لئے اسے کسی ایسے مرد کی ضرورت تھی جو اس کی چوت کو اپنے لنڈ کی سفید دھار سے بھر دے جو اس کی چوت کی بنجر چوت کو سرسبز کرنے کا باعث بنے جبکہ دوسری طرف اس کا اپنا شوہر. صرف نام کا ہی مرد تھا باقی اس میں مردوں والی کوئی خوبی نہیں تھی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ اپنی بیوی کے بیضے تک اپنا پانی پہنچا سکے۔ اس امید پر اپنے ناکارا شوہر کے آگے ٹانگے کھول کر لیٹی رہی کہ کسی نہ کسی دن تو اس کا پانی میری چوت کی انتہا تک پہنچ کر ٹھہر ہی جائے گا لیکن وہ غلط تھی اس کے شوہر میں یہ خوبی ہی نہیں تھی کہ وہ اولاد پیدا کر سکے آخرکار تنگ آکر اس نے غیر ارادی طور پر کسی ایسے قابل بھروسہ مرد کو تلاش کرنا شروع کی جو اس کو صاحب اولاد بناسکے اس نے اپنے شوہر سے علیحدگی کا سوچا اور اس سلسلے میں اس نے نوابزادہ شاھد سے مدد طلب کی..نیہا چونکہ اس کے شوہر کا لنگوٹیا یار تھا اور ان لوگوں کے پرسنل لائف سے کافی حد تک با خبر بھی تھا۔ اس لیئے نیہا نے نوابزادہ شاھد کو سارا قصہ بیان کیا کہ تیرے دوست سے اب مجھے کوئی امید نہیں ہے اور میں مزید اس کو اپنی جوانی روندھنے نہیں دے سکتی اس لئے میرے پاس ایک ہی آپشن بچا ہے شاہد یہ سن کر کافی دیر تک سوچتا رہا پھر اچانک بولا " اگر تم نے اس کو چھوڑا تو کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گی اور تمہیں تو پتہ ہے وہ کتنا جذباتی ہے کہی وہ مایوس ہوکر اپنی زندگی ہی ختم نہ کردے" نیہا نے.نوابزادہ شاھد کی بات سن کر حیرانی سے کہا " یعنی تم چاہتے ہو کہ میں اس کی خوشی کے لئے اپنی خوشیاں داو پہ لگاو؟ " " نہیں نہیں میرا ہرگز یہ مطلب نہیں تمہیں پورا حق ہے مرد سے خوشی حاصل کرنے کا" نوابزادہ شاھد نے فورا اس کے خیال کی تردید کردی۔ " پھر اس مسئلے کا حل کیا ہےشاہد ؟ تم ہی بتاو میں کیا کروں؟ " نیہانے شاہد کو سوچو میں گم دیکھ کر سوال کیا۔ " میرے خیال میں ہمیں کچھ ایسا کرنا چاہئے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے" نوابزادہ شاھد نے گہری سانس لے کر کہا۔ " کیا مطلب؟ شاہد نے ایک اور سوال کیا تو .شاہد اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا۔ " اگر تمہیں گھر کی دال نہیں پسند تو باہر کی بریانی کھالوں" " کیا مطلب گھر کی دال نہیں پسند تو باہر کے بریانی کھالوں؟،، پتہ نہیں نیہا واقعی نہیں سمجھی تھی یا سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی لیکن .شاہد کے اتنے سمجھانے کے باوجود بھی نہیں سمجھی تو .شاہد کو غصہ آگیا اور اس نے نیہا کی آنکھوں میں دیکھ کے کہا۔ " یار اگر میرا دوست un fitہے تو کسی اور مرد سے" "کیا؟؟؟" شاہد نے ابھی جملہ پورا کرنے ہی والا تھا کہ نیہا نے اس کی بات بیچ میں کاٹ دی۔ " ہاں اب یہی ایک راستہ بچا ہے ۔ میں اپنے دوست کو مرتا نہیں دیکھ سکتا" لیکن یہ تو گناہ بھی ہے اور اس کے ساتھ دھوکا بھی ہے " " دیکھو..نیہااگر دھوکا دینے سے اس کی زندگی بچ سکتی ہے تو دھوکا دینے میں کوئی برائی نہیں" نوابزادہ شاھد وہ بات تو میں سمجھ گئی لیکن اس دھوکے میں میرا ساتھ کون دیگا؟؟" " میں" " تم؟؟" " ہاں نیہا میں مانتا ہوں یہ گناہ بھی ہے اور دھوکا بھی لیکن بات کا دوسرا رخ بھی تو دیکھو اس ایک گناہ سے میرا دوست بھی واپس جینے لگے گا تم صاحب اولاد بھی ہوجاوگی اور تمہیں جسمانی خوشی بھی ملی گی۔ بولو کیا تم تیار ہو؟" شاہد کی باتیں سن کر اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھی اس کا سارا جسم پسینوں سے شرابور ہوچکا تھا.شاہد اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اس نے .شاہد کے سوال کے جواب میں بس اثبات میں سر ہلانا ہی مناسب سمجھا اور اٹھ کر اپنے بیڈ روم میں چلی گئی۔.شاہد اس کے پیچھے کمرے میں گیا اور کہا ابھی بہرام بھائی کا فون ایا وہ پہنچنے ھی والے ھیں اور " میں کل 10 بجے آوں گا گھر پر ہی رہنا حور بولی دھیان سے پکڑے نہ جانا تو شاہد بولا میڈم ھے نہ سب سنبھال لینگی" یہ کہہ کر شاہد واپس چلا گیا۔ اس کے بعد .نیہارات بھر سوچتی رہی کہ آیا میں ٹھیک کرنے جا رہی ہو یا غلط؟ وہ خود سے یہی سوال کر رہی تھی اور بار بار کر رہی تھی لیکن آخر کار اس نے اپنے آپ کو شاھد کے لئیے تیار کرلیا۔ اس نے سوچا کہ میں کیوں ساری زندگی اس بےکار مرد سے اپنا جسم نوچواوں میں کیوں ناں اپنا جسم ایسے مرد کے حوالے کروں جس کے لنڈ سے نکلی سفید دودھ کی دھار میرے چوت کی زمین کو سرسبز کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اگلی صبح کا سورج اس کی زندگی میں خوشیاں لے کر طلوع ہوا وہ آج جتنی خوش اور پر امید تھی اتنی خوشی اسے اپنی شادی کے 4 سالوں میں کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔ اس نے اپنے شوہر بہرام کو ناشتہ کروا کے آفس بھیجا اور اس کے جاتے ہی نوابزادہ شاھد کو کال کر کے اس کے جانے کی اطلاع دی اور پھر اپنے کمرے میں جاکے اپنی الماری کھول کر اپنا پسندیدہ شوخ رنگ کا سوٹ نکال کر پہنا اس کو ایسا لگ رہا تھا جیسے آج ہی اس کی شادی ہوئی ہو وہ تھی تو شادی شدہ لیکن اس کا جوان جسم ابھی بھی مرد کے مضبوط ہتھیار کے مزے سے محروم تھی اور جبکہ آج اس کی اس محرومی کو نوابزادہ شاھد ختم کرنے والا تھا تو وہ.شاہد کے لئے بالکل ویسے ہی تیار ہوئی جیسے کوئی کنواری لڑکی اپنے شوہر سے پہلی بار ملنے کے وقت ہوتی ہے۔ آج وہ دلہن سے بھی پیاری لگ رہی تھی اس کے اپر کو اٹھی ہوئی چھاتیاں، نشیلی آنکھیں ، اس کے ہونٹوں کی لالی اور اس کی باہر نکلی ہوئی نرم و ملائم گانڈ جو اس شوخ کلر کے تنگ شلوار میں مزید شوخ اور نکلی ہوئی لگ رہی تھی کسی بھی شریف مرد کا لنڈ کھڑا کرواسکتی تھی۔ خیر وہ تیار ہوکر شاہد کی منتطر ہی تھی کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی وہ سمجھ گئی کہ شاہد ہی ہوگا اس لیئے وہ دروازہ کھولنے چلی گئی دروازہ کھولا تو باہر شاہد کھڑا تھا اس نے .نیہا کو دیکھا تو وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں ہی کھوگیا تھا کہ اتنے میں نیہا نے کہا" اندر آجاو.شاہد کوئی دیکھ لے گا" وہ خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت میں اندر آگیا اورنیہا نے دروازہ مقفل کردیا۔ کچھ دیر تو وہ دونوں یونہی ایک دوسرے کو تکتے رہے پھر .نیہا نے چائے کا پوچھا تو .شاہد نے " نہیں میں پی کر آیا ہوں " کہہ کر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔.نیہا اب شرما رہی تھی لیکن .شاہد شرم و حیا گھر ہی چھوڑ کر آیا تھا اور اس نے .نیہا سے بھی کہا " دیکھو ہم جو بھی کر رہے ہے اس میں ہم سب کا بھلا ہے۔ اور تم مجھ پر بھروسہ رکھوں یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے گا۔ اگر تم اب بھی مطمئن نہیں تو بے شک کہہ دو میں چلا جاوں گا" نیہا نے یہ سن کر اس کے شلوار میں کھڑے ڈنڈے کی طرف اشارا کر کے اسے چیڑنے کے لیئے کہا " تم تو گھر سے ہی کھڑا کر کے آئے ہو اب واپس جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ سن کر دونوں مسکرانے لگے۔ اتنے غموں اور دکھوں کے بعد آخر کار آج اسے وہ قابل مرد مل ہی گیا تھا جو اس کے بدن کو آگ لگانے کے بعد اپنے جسم کے پانی سے بجھا بھی سکتا تھا ۔وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوئے ہوئے تھے نہ کسی کا ڈر تھا نہ کسی کی فکر بس دونوں اپنے مستی میں مست تھے .نوابزادہ شاھدسے اپنے سخت پستان چسوا چسوا کر ڈھیلے کر چکی تو .شاہد کو کہنے لگی " سوتن میری سہیلی نوابزادہ شاہد میرے چوت پر بھی نظر کرم کیجئے ناں " یہ کہہ کر اس نے شاہد کو آنکھ ماری تو اس کے منہ پر ہلکا سا چماٹ مار کر اس کے ٹانگوں کے بیچ میں اپنا منہ رکھ کر اس کے گلابی چوت کو چاٹنے لگا تو نیہا نے آہیں بھرنے لگی " آہ آہ آہ ہ ہ آہ شاہد آہ چاٹ ناں آہ" نیہا اپنی آہوں سے .شاہد کے جذبات کو مزید منتشر کر رہی تھی وہ مسلسل اس کی چوت میں زبان ڈالے اس کی چوت کا مزہ لے رہا تھا کیونکہ وہ بھی ایک غیر شادی شدہ مرد تھا اس نے بھی کبھی چوت کا نمکین پانی نہیں تھا چکا اس لئے آج اس کے چوت کا پانی ایسے چوس رہا تھا جیسے کہ تربوز سے رس چوستے ہے۔ " آہ شاہد آہ آہ آہ مزہ آرہا ہے آہ" مسلسل آہیں بھر رہی تھی اور اب تو .شاہد نے اس کے چوت میں اپنی ایک انگلی بھی ڈال دی تھی۔ جس سے نیہا کے نازک اندام میں ہلچل مچ گئی اس نےبالوں سے پکڑا اور اپنی چوت کے اپر اس کے کا منہ رکھوایا " آہ .شاہد چاٹو آہ آہ جان چاٹتے رہو پلیز آہ " وہ پاگل ہوگئی تھی اور اس کی یہی باتیں سن کر .شاہد بھی پاگل ہوچکا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو بھڑکا رہے تھے شاہد کو تو کچھ بھی ہوش نہیں تھا آخر اس نے اپنے اپر ایسا مرد مسلط کیا تھا جس نے کبھی چوت دیکھا ہی نہیں تھا اس لئے آج وہ نیہا کا گرم گلابی چوت اور نرم و ملائم گانڈ دیکھ کر اپنا بھرسوں کا بھوک مٹھا رہا تھا۔ تقریبا 10 منٹ تک وہ اسی طرح اس کے چوت کو مکھی کی طرح چوستا اور کتے کی طرح چاٹتا رہا وہ تو مزید بھی چاٹنا چاہتا تھا لیکن نیہا کی ہمت جواب دے گئی اس کی آہوں ں میں کافی تیزی آگئی تھی نیہا کی اہ اہ کی صدائیں کمرے سے باہر تک سنی جا سکتی تھی لیکن گھر میں کوئی تھا جو نہیں اس لئے وہ کھل کر چیخ رہی تھی اور دنیا کو بتانا چاہتی تھی کہ اج وہ اپنا حق سود سمیت وصول کر رہی ہے ۔ جیسے جیسے نیہا کی آہیں بڑھتی گئی ویسے ویسے بھی اپنی مردانہ بھاری آواز میں غرانے لگا۔ " آہ .نیہاآہ ہ ہ ہ آہ آہ میری جان آہ مر جاوں گی آج آہ آہ .شاہد میں آہ آہ میرا پانی آہ آہ میرا پانی آرہا ہے آہ چاٹو چاٹ میرے راجہ آہ" یہ سب کہہ کر حرین اپنی چوت اچھال اچھال کر چٹوانے لگی۔ .نیہا آہیں بھر رہی تھی اور .شاہد غرا رہا تھا دونوں کی آوازیں فضاء میں کافی بھلی لگ رہی تھی دونوں خود سے بے خبر ایک دوسرے کو خوشی دے رہے تھے کہ اتنے میں حرین کے چوت سے گرم نمکین پانی کا فوارہ پھوٹ پڑا پانی اتنے سپڈ کے ساتھ نکلا کہ شاہد کے چہرے پر یوں جا کر لگا جیسے کسی نے غبارے میں پانی بھر کر اس کے منہ پہ مارا ہو۔ پانی کے ساتھ ہی .نیہاکی آہیں ختم ہوگئی تھی اس کے اندر کی آگ ختم تو نہیں ہوئی لیکن اس میں کمی ضرور آگئی تھی. شاہد کے رخساروں پر اپنا پانی دیکھ کر وہ اس پر صدقے واری جارہی تھی اس نے اٹھ کر شاہد کو گلے لگایا اور اس کو لٹاکر اس کے جسم سے بہتے پسینے پر زبان لگا لگا کر اپنے اندر کی آگ کو مزید بڑکانے لگی تھی وہ .شاہدکے کمر اور سینے سے ہوکر نیچے اس کے تن سے کھڑے 8 انچ کے سانولے رنگ کے لنڈ تک آگئی۔ اس کے بعد اس نے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لے کر شاہد کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں سے دبایا تو شاہد کو شرم سی محسوس ہوئی لیکن پھر جیسے ہی وہ .شاہد کا ہتھیار ہاتھ سے مسل کے منہ میں لینے لگی.شاہد کی غرانے کی آوازیں کمرے میں پھیلنی شروع ہوئی"آآآ چوسو چوسو میری جان شٹ آہ چوس نا.نوابزادہ شاھدکا 8 انچ کا لنڈ .نیہا کے منہ میں تھا اور .شاہد غرانے لگاتا .شاہد نے اس کو بہت اشارے کیئے کہ اب چوڑ دو مجھے لیکن .نیہاتھی جو اس کے گولیوں کو پکڑے اس کا لنڈ منہ میں گھسائی جارہی تھی۔ وہ منظر بہت پیارا تھا۔ جب چوستے چوستے . نیہاسنجرانی کے منہ کا تھوک جھاگ بن کر اس کے منہ سے نکلتا ہوا لنڈ سے ہوکر نیچھے ٹھٹھوں پر جاکے لگتا اور پھر بیڈ شیٹ میں جذب ہوجاتا۔ تقریبا 15 منٹ .نوابزادہ شاھد کا لنڈ اسی طرح اس کے منہ میں گھستا اس کے بعد جب وہ دوبارہ گرم ہوگئ.... نوابزادہ شاھدنے نیہا کی ٹانگیں اٹھاکر درمیان میں اپنا ٹوپہ رکھا اور اپنے جسم میں بھرپور قوت بھر کر ایک زوردار جھٹکا دیا جس سے حرین کی چیخ نکلی شائد پہلی دفعہ اس کے چوت کی انتہائی اختتامی دیوار سے کسی کا لنڈ ٹکرایا تھا۔ نیہا پر عجیب کیفیت طاری تھی اس بار دونوں ہی چیخ رہے تھے . شاہدمسلسل اس کے چوت میں اپنا ڈنڈا گھسیڑ رہا تھا تقریبا 20 منٹ تک وہ کو مسلسل چودتا رہا اور آخر کار نوابزادہ شاھد کے جھٹکوں میں مزید تیزی آئی اور تیزی کے ساتھ ہی اس نے اپنے لنڈ کے مردانہ سپرم کے فوارے سے .نیہا کی بنجر چوت کو سیراب کردیا۔ وہ بے دم ہوکر اس پر گرپڑا اور .نیہانوابزادہ شاھد کے بالوں میں ہاتھ پیر کر پیار کرنے لگی۔ نیہاشاہد اور اپنے دوست کا گھر برباد ہونے سے بچانے کے لئے ہر حد تک جانے کی قسم کھائی تھی نیہا شاہد کے بالوں میں اپنی فنگر کی کنگھی کرتی ھوئے کہا ھم تمہارے ساتھ تھری سم کرنا چاہتی ہیں اج رات تم تیار رہنا شاہد بولا
  14. تازہ اور نئے پھل کی اگر عادت لگ جائے تو بے موسمی اور پرانے پھل اپنی کشش کھو دیتے ہیں
  15. جنید کبتک گانڈ مروانے کے مزے محروم رہے گا ؟
  16. . کافی سال پہلے کی بات ہے مجھے بینک جانا تھا یاسر کے ابو نے سعودی عرب سے پیسے بھیجے تھے وہ لینے جانا تھا. میں بینک پہنچی تو کافی رش تھا تو میں بینک میں میری ایک عورت جسکی عمر 35 سال کے قریب تھی اس سے میری ہیلو ہائے ہونے لگی تاکہ وقت بھی گزر سکے.اسکا نام لبنی تھا اور وہ بینک کے پاس ہی میں رہتی تھی. میں اور لبنی راولپنڈی سکستھ روڈ سے پیسے لے کر نکلی تو لبنی نے مجھے چائے کا اصرار کیا اور مجھے اپنے گھر چلنے کا کہا میں نے بہت کہا پھر سہی مگر لبنی بولی اب تم میری سہیلی ہو اب چلنا ہو گا اور لبنی میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر کی طرف چلنے لگی 5 منٹ کے بعد لبنی کا گھر آگیا. لبنی نے مجھے اپنے کمرے میں اے سی ان کر کہ بٹھا دیا اور پیپسی لے کر آئی اور پھر ہم باتیں کرنی لگیں. لبنی :- نسرین کتنا وقت ہوا شادی کو تمہاری؟ میں :- 12سال ہو گئے ہیں لبنی :- بچے کتنے ہیں میں :- تین بچے ہیں. لبنی :- شوہر کہاں ہوتا ہے؟ میں نے کہا سعودی عرب ہوتا ہے. لبنی بولی میرا شوہر امریکہ ہوتا ہے میری ایک بیٹی ہے. لبنی ایک میچور پڑھی لکھی عورت تھی اور خوبصورت بھی تھی. لبنی بولی نسرین بہن کیسے شوہر کے بنا رہ لیتی ہو؟ میں نے کہا بس رہنا تو پڑتا ہے صبر کر لیتی ہوں لبنی بولی میرا بھی یہ حال ہے انگلی سے کام چلاتی ہوں مجھے لبنی کے منہ سے یہ بات سن کر تھوڑا عجیب لگا تو میں بولی چلتی ہوں دیر ہو رہی ہے تو لبنی بولی ابھی دس بج رہے ہیں بچے دو بچے آئیں گئے تب تک رک جاؤ پھر چلی جانا. میں لبنی کے اصرار پر مان گئی. لبنی بولی نسرین تم بھی میری طرح انگلی سے کام چلاتی ہو؟ میں نے کہا لبنی یہ کیسا سوال ہے تو بولی بتا دو شرم کیسی یہاں بس ہم دو ہی تو ہیں تو میں نے کہا ہاں انگلی سے ہی کام چلاتی ہوں. لبنی :-ہفتے میں کتنی بار فنگرنگ کرتی میں نے کہا تقریباً ہر دوسرے دن کرتی ہوں. لبنی بولی میں تو فنگرنگ نہیں کرتی اب میرے شوہر نے امریکہ دو ہفتے پہلے ربڑ کا لن بھیجا ہے میں نے کہا وہ کیسا ہوتا ہے. لبنی بولی رک نسرین دکھاتی ہوں لبنی نے ایک الماری کھولی اور ایک کالے شاپنگ بیگ سے ربڑ کا بڑا سا لن نکال لیا میں بہت حیران تھی کیونکہ میں نے تو یہ پہلی بار دیکھا تھا. لبنی نے مجھے ہاتھ میں دیا تو میں نے شرماتے ہوئے پکڑا تو لبنی بولی نسرین اصل لن کا مزا لے چکی ہو اسکو پکڑتے کیوں شرما رہی ہو. میں نے اس ربڑ کے لن کو پکڑ کر چیک کرنے لگی جو دس انچ کے قریب ہو گا. میری پھدی گیلی ہونے لگی تھی میں نے لبنی سے پوچھا تم یہ پورا اندر لیتی ہو تو لبنی مسکراتے ہوئے بولی تقریباً پورا ہی لیتی ہوں. لبنی بولی نسرین تیرا شوہر باہر ہوتا ہے کبھی تجھے تیرے شوہر کے علاوہ کسی نے چودا ہے سچ بتانا میں نے کہا آفر بہت نے کی ہے لیکن میں نہیں مانی لبنی بولی کیوں اگر کوئی رازداری سے دوستی رکھنا چاہے تو رکھ لینی چاہیے وہ بولی میرا ایک بوائے فرینڈ ھے ایک جوان ھے تو دوسرا تیس سال کا ھےتم کہو تو ایک بار ان سے چدوا لو میں شرما گئ تو وہ بولی میں اپنے ہمسائی کے شوہر سے پھدی چدواتی ہوں اور کسی کو کچھ خبر نہیں ہوتی جس دن وہ نہ گھر آسکتا ہو تو اس ربڑ کے لن سے گزرا چلا لیتی ہوں. ربڑ کا لن ابھی میرے ہاتھ میں تھا اور میں اسکو دیکھ رہی تھی تو لبنی آٹھ کر میرے پاس اگی اور بولی نسرین میں کمرے سے چلی جاتی ہوں تم چاہو تو اس کو اپنی پھدی میں ڈال کر مزا لے سکتی ہو میں نے لبنی کی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا سچ میں میرا دل کر رہا ہے اسکو چیک کرنے کا مگر چھوڑو پھر کبھی سہی لبنی بولی شرمانا چھوڑو اور ٹرائی کرو یہ کہتے ہوئے لبنی نے کہا چلو میں اپنے کپڑے اتار دیتی ہوں تاکہ تمہاری شرم اتر جائے اور لبنی کچھ سیکنڈ کے بعد میرے سامنے بلکل ننگی تھی. اب میں نے اپنی شلوار کا ناڑہ کھول دیا اور شلوار اتار کر صوفے پر ٹانگیں کھول کر بیٹھ گئی اور ربڑ کے لن کو اپنی پھدی کے سوراخ پر رگڑنے لگی. لبنی بولی نسرین قمیض بھی اتار دے اور پھر لبنی نے میری قمیض اتار دی اور میرا سفید برا بھی اتار دیا.اب لبنی میرے جسم کو غور سے دیکھنے لگی اور میری پھدی پر ہاتھ رکھ کر چیک کرتے بولی نسرین لگتا نہیں تو تین بچوں کی ماں ہے. تیرا جسم اچھا ہے سیکسی ہے. کوئی بھی مرد تیری پھدی چودنے کو تیار ہو جائے گا. آجکل مرد گھریلو شادی شدہ عورتوں کی پھدی چودنا زیادہ پسند کرتے ہیں. اب میں نے ربڑ کا لن اپنی پھدی میں لینا شروع کیا تو لبنی بولی نسرین رک اس پر جیل لگا لے اور جیل لگانے کے بعد میں نے ربڑ کے لن کو اپنی پھدی میں ڈال دیا اور اندر باہر کرنے لگی. لبنی مجھے دیکھ کر گرم ہو گئی اور میرے ممے چوسنے لگی اور میں پھدی میں ربڑ کا لن پورا لینے کی کوشش کر رہی تھی. اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا اور دو مرد داخل ھوئے ایک جوان لڑکا تھا تو دوسرا کوئی چالیس سال کا مرد تھا ایک کانام گلباز تھا اور لڑکے کا نام شاھد تھا وہ جب کمرے میں داخل ہو ئے تو میں ڈر گئی اور لبنی سے پوچھا یہ کون ہیں تو لبنی مسکراتے ہوئے بولی نسرین یہ میرے دوست ہیں اور آج سے تیرے بھی رونے کا اب کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ کہتے ہوئے اس مرد گل باز نے نے اپنا 7 انچ کا لن میرے ہونٹوں پر رکھ دیا اور مجھے بولا چل نسرین لن چوس دوسری طرف لبنی کو کہا اسکی ویڈیو بنا تاکہ کل کو پولیس کے پاس نہ جا سکے. میں نے کہا میں تمہاری بات مانتی ہوں لیکن ویڈیو نہ بناؤ مگر وہ نہیں مانے اور لن اس شخص نے لن میرے منہ میں ڈال دیا. میں لن کو چوس رہی تھی اور دوسرا لڑکا شاھد میری ٹانگیں کھول کر زمین پر بیٹھ کر میری پھدی چاٹ رہا تھا. میں مزے سے لن چوس رہی تھی کیونکہ اب مجھے مزا آریا تھا. اب دوسرا شخص جو میری پھدی چاٹ رہا تھا اٹھا اور اس نے لن میرے منہ میں ڈال دیا اور میں لن چوسنے لگی پہلا شخص اب میری پھدی کو بیٹھ کر چاٹنے لگا. میں مزے سے لن چوس رہی تھی اور زندگی میں پہلی بار میرے ساتھ ایسا ہو رہا تھا کہ دو مردوں نے مجھے پکڑ رکھا تھا. اب وہ دونوں مرد کھڑے ہوئے اور مجھے دونوں نے اپنے درمیان کھڑا کر دیا اور دونوں میرے چوتر، پھدی اور مموں کو دباتے مزا لینے لگے. میرا لن دونوں کے لن پر تھے.لبنی بولی نسرین پہلی واری کس کو دینا پسند کروگی تو میں نے اس نوجوان لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ھوئے کہا پہلے نیا پھل کھا لیتے ہیں پھر بعد میں دوسرا لبنی بولی تم بھی نہ گھاٹے کا سودا نہیں کرتی چلو تم کر لو اس سے ویسے بھی یہ مجھے کئی بار چود چکا ھے بہت سپیڈ ھے اس کی میں نے مسکراتے ھوئے کہا جی میں سہہ لوں گی اب اس لڑکے نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا اور میری ٹانگیں کھول دی اور لبنی کو کہا اچھے سے ویڈیو بنانا اور ساتھ ہی 8 انچ کا لن میری پھدی میں رکھ کر زور سے گھسا مارا اور اسکا لن میری پھدی میں گھس گیا تھا جبکہ دوسرا مرد گل باز جس نے اپنا لن میرے منہ میں ڈال دیا اور میں لن چوسنے لگی. پہلا لڑکا شاید کھلاڑی تھا وہ اپنے 8 انچ کے لوڑے سے مسلسل میری پھدی چود رہا تھا اور مجھے پھدی چدوا کر مزا آریا تھا. اب شاھد نے لن نکال کر میرے منہ میں ڈال دیا اور دوسرا مرد جسکا نام گل باز تھا اس نے میری پھدی میں اپنا 6 انچ کا لن گھسا کر چودنا شروع کر دیا. اس نے میری ایک ٹانگ اٹھا دی اور لبنی سے بولا اب اس گشتی کی ویڈیو بنا اور میری پھدی میں لن اندر باہر کرنے لگا. گل بولا گشتی اب اپنی پھدی چدوانے آئے گی نا تو میں نے شاھد کا لن چوستے ہوئے کہا ہاں ضرور آؤں گئ اب مجھے تم دونوں کی لت لگ جائیگی شاھد کو میری پھدی چودتے جوش چڑھ گیا تھا اور اس نے زور زور سے میری پھدی میں جھٹکے مارنے شروع کر دیے اور کچھ منٹوں بعد میری پھدی میں اپنی منی چھوڑ دی اور لن میری پھدی میں سے نکال کر میری پھدی کو چاٹ کر صاف کرنے لگا میں نے شاھد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے پوزیشن سنبھالنے کا بولا اب شاھد نے میری دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری پھدی میں اپنا 8 انچ لمبا لن ڈال دیا اور میری دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری پھدی چودنے لگا اب لبنی گل باز کا لن چوس رہی تھی اور گل میری پھدی کی چدائی کی ویڈیو بنا رہا تھا. شاھد مجھے زور زور سے میری چوت چود رہا تھا ااااہ ششششش شاھد مممم مم میں مررر گئی اااہ ففف فک می ہارڈ میں مزے سے سسکیاں لیتے چدوا رہی تھی اور کہہ رہی تھی چودو اور زور سے چودو میری پھدی آہ اف بہت مزا ہے شاھد تمہارے موٹے لمبے لوڑے میں میرے شوہر سے بڑا لن ہے تمہارا آہ بہت مزا آریا ہے اب چدوانے آیا کروں گی. شاھد میری چدائی تیز رفتاری سے پورے جوش سے کرنے لگا اور پھر میں نے اپنی پھدی کے اندر گرم لاوہ نکلنے محسوس کیا میں سسکنے لگی اااہ فک می مجھے پریگنٹ کر دیں ااااہ ججج جانو میری پھدی میں شاھد کے لن نے منی نکال دی تھی اور شاھد کے لن سے نکلتی منی کی پچکاریاں مجھے اپنی بچہ دانی میں لگتی محسوس ہو رہی تھی. میری پھدی کو سکون مل گیا تھا اب شاھد نے لن میرے پھدی سے نکال کر میرے منہ میں ڈال دیا اور میں نے چوس کر صاف کر دیا. اس دن گل باز اور شاھد نے میری 3 بار پھدی ماری اور میری اور لبنی کی ایک ساتھ گھوڑی بنا کر گانڈ بھی چود دی تھی. اس دن کے بعد میں جب لبنی بلاتی تو مجھے چدوانے جانا پڑتا کیونکہ اس کے پاس میری ویڈیو تھی اور سچ کہوں تو مجھے چدوا کر اچھا لگا تھا. دوستو میں اج بھی میں شاھداور گل باز کے لن نہیں بھولی لبنی امریکہ ہوتی ہے اور اکثر بات ہوتی ہے. میری ویڈیو بعد میں مجھے پتہ چلا لبنی نے سیکس سائٹ پر آپ لوڈ کر دی تھی. جب میں نے دیکھی تو مجھے اچھا لگنے لگا میں نے اپنے خوبصورت بچے کو جنم دیا اور یوں یاسر کی ماں ایک بار پھر سہاگن بن گئی اب ہماری شام سویرے موجیں ہی موجیں تھیں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.