-
KingOfSex started following dangeroush
-
Gujjar*123 started following dangeroush
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر 12 تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو کمرے میں کومل داخل ہوئی۔ کومل کی عمر تقریبا22/23سال ہے اور ہماری فیکٹری کے منیجر کی بیٹی ہے کومل چھوٹی ماں کی کافی اچھی دوست ہے۔ اور اکثر چھوٹی ماں پاس آتی رہتی ہے۔ کومل واقع ہی کومل تھی تیز دودھیا رنگ جس میں ہلکاسا گلابی پن پتلے ہونٹ لمبی گردن قد اس کا تقریبا5فٹ 4انچ کے پاس ہوگا مموں کا سائز 36تھا اور پتلی کمر کے نیچے ہلکی سی باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ۔ تھوڑی ماڈرن تھی اور پڑھی لکھی تھی کل ملا کر دیکھنے کی چیز تھی اس وقت اس نے ایک ڈارک گرین کلر کی شلور قیض پہن رکھی تھی۔ اس بار تو چھوٹی ماں نے سچ میں سراپرائس کردیا۔ اس کو دیکھتے ہی میرے جسم میں ہل چل ہونے لگ پڑی تھی۔ کومل آہستہ سے آگے آئی اور ہلکی سی آواز میں بولی مجھے سدرہ(چھوٹی ماں) نے بھیجا ہے۔ میں بولا بیٹھ جاؤ تو وہ بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ کومل لڑکی ہے پہل کبھی نہیں کرے گی یہ بات مجھے ناز نے اچھی طرح سمجھا دی تھی۔میں نے پوچھا کیا حال ہے اور آج کل کیا کررہی ہو بولی کہ آج کل فارغ ہوں اور اب آپ کا آفس جوائن کروں گی۔میں نے بولا اچھی بات ہے۔ میں نے اس سے پوچھا صرف ایک سوال کروں گا بس کہ کیا تم اپنی مرضی سے آئی ہو میرے روم میں یا کوئی زبردستی ہوئی ہے تم کے ساتھ کسی قسم کا لالچ دیا گیا ہے۔سچ بتانا باقی میں سنھبال لوں گا۔ ایک بار تو اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا پھر آہستہ سے بولی ایسی کوئی بات نہیں میں کسی لالچ میں نہیں آئی سدرہ نے مجھے بولا تو میں اس کو منع نہیں کرپائی۔اس کی اور میری دوستی ہی ایسی ہے۔میں بولا ٹھیک تم کو کسی قسم کا کوئی اعتراض تو نہیں بولی نہیں میں اپنی مرضی سے آپ کے روم میں آئی ہوں۔ میں کنفرم کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں سردار تھا ہر قدم پھونک کر رکھنا تھا ویسے چھوٹی ماں نے سب چھان پھٹک کر ہی بھیجا ہوگالیکن میں پھر بھی کوئی رسک نہ لینا چاہتا تھا۔ میں بولا پھر اتنی دور کیوں بیٹھی ہوپھر وہ اٹھی اور میرے پاس آگئی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اوراس کا ہاتھ پکڑ لیا بیڈ سے اٹھا کر کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا وہ میرے گلے لگ گئی میں نے اس کے منہ کو پکڑا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پررکھ دیے جس کے لیے مجھے تھوڑا سر نیچے کرنا پڑا کیونکہ اس کا قد چھوٹا تھا اس کے ہونٹ کمال کے تھے نرم و نازک وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی اور میرے ہونٹو ں کو کسی ایکپرٹ کی طرح زور زور سے چوس رہی تھی میں نے اس کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیے اور کسنگ جاری رکھی کوئی بھی ہونٹ چھوڑنے کو تیا رنہ تھا۔ آخر جب سانس پھولنے لگی تواس نے ہونٹ الگ کرلیے ایسی کسنگ کا مزا تو ناز نے بھی نہیں دیا تھا۔ میں نے اس کی قمیض پکڑی اور اتاردی ساتھ ہی برا بھی اتار دی اس کے 36سائز کے ممے اچھل کر باہر آگئے جیسے کسی نے زبردستی قید میں رکھا تھا اس کے ممے بڑے نرم تھے جیسے روئی ہو اس پر ہلکے پنکش نپل تھے جو مٹر کے دانے کے جتنے تھے۔ میں نے کومل کو اٹھاکر بیڈپر پھینکا اپنی شرٹ اتار کر اس پر سوار ہوگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا ایک ہاتھ سے مسلتا اور دوسے کو منہ میں بھرتا جتنا ہوتا اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں میں نے 15منٹ اس کے ممے چوس چوس کر اور ہلکے ہلکے کاٹ کر لال کردیے تھے ان پر ہلکے ہلکے نشان تھے کاٹنے کے میرا دل نہیں بھر رہا تھا اس کے ممے تھے ہی ایسے پھر میں نیچے آنا شروع ہوا اس کے پیٹ پر چومنا شروع کردیا اور ناف میں زبان گھسا کر جب چاٹا مارا تو اس کا جسم اکڑا اور اس نے پانی چھوڑ دیا شاہد یہ اس کا ویک پوائنٹ تھا۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ بولی مزا آگیا ایسا مزا پہلی بار آیا ہے اس کا مطلب تھاکہ کومل کنواری نہ تھی پہلے بھی چدوا چکی ہے تب ہی شاہد چھوٹی ماں کے بولنے پر مان گئی تھی۔ بولی اب میری باری ہے تم کو مزا دینے کی مجھے دھکا دے دیا میں لیٹ گیا۔ وہ میرے اوپر آگئی اور میرے ہونٹ چوسنے لگ پڑی پھر میرے سینہ کو چوسنا شروع کردیا میں نپلز پر زبان پھیری تو میری تو جیسے مزے سے جان ہی نکلنے والی ہوگئی پھر وہ نیچے آئی ابھی تک اس نے میرے لن کو نہیں پکڑا تھا اب اس نے میرا لن کو ٹراؤزر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا لیکن جیسے ہی پکڑا حیرانی سے فوراً چھوڑ دیا اور جلدی سے ٹراؤزر نیچے کیا تو میرا لن پھنکاراتا باہر آیا اس نے پہلے تو ہاتھ میں پکڑا اور زور سے دبایا کہ شاہد اصلی نہیں ہے پھر اس کے منہ سے نکلا اتنا بڑا اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی اس کو میرا لوڑا بہت پسند آیا ہے۔اس نے فوراً میرے لن پر تھوک پھینکا اس پر مل دیا پھر اس کو منہ میں بھر لیا جتنا ہوسکتا تھا اور اس کو چوسنا شروع کردیا موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زبان سے رگڑ تو نہ لگاپائی لیکن اس نے ایسا چوسا کہ مزے سے میرے آنکھیں بند ہوگئی اور منہ سے سسکاریا ں اور مزے کے مارے آوازیں نکل رہی تھیں وہ کبھی میرا لن منہ میں ڈال کر چوستی کبھی ہاتھ چلاتی کبھی میرے ٹٹوں کو چوستی۔ مجھے لگا یہ ناز تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں لگتا ہے اس کا کام ہی چدوانا ہے۔ لن چوس چوس کر جب تھک گئی تومیرالن منہ نکالااور بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے میرا منہ تھک گیا ہے میں بولا پچپن کی محنت ہے اس کے ساتھ ہی میں نے اس کے پکڑ کر لٹا لیا ا ور اس پر ٹوٹ پڑا ہونٹ چوسے پھر اس کے مموں کو کچھ دیر چوسا پھر اس کی شلوار اتار ی اس نے گانڈ اٹھا کر شلوار کو پاؤں سے نکالا۔ اس کی پھدی بالکل صاف تھی جیسے ابھی صاف کرکے آئی ہواس کی پھدی سے مست قسم کی خوشبو آرہی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھی پھدی پرٹوٹ پڑا اور ایک انگلی اس کی پھدی میں داخل کر کے آگے پیچھے کرنے لگا اور ساتھ میں اس کا دانہ چوسنے لگا تو اس کی آواز سسکیوں کی جگہ چیخوں میں بدل گئی اس کو بہت مزا آرہا تھا میرا یہ وار وہ سہ نہ پائی اور جلدہی پانی چھوڑ دیا جو میں نے پی لیا پہلی بار جب ناز کا پانی پیا تھا تو عجیب سا لگا تھا اب کومل کا پیا ہے تو بہت مزا آیا اس کی پھدی کو چاٹ کر صاف کردیا۔کومل بولی میں تو تم کو مزے کروانے آیا تھی تم نے مجھے ہی مست کردیا ہے میں نے بولا اصلی مزا تو ااب آئے گا اور اپنا لن اس کے منہ کی طرف کردیا اس نے منہ میں لیا اور تھوڑا ساچوسا پھر اس پر تھوک پھینک دیا پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آیا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر لیں بولی آہستہ کرنا اتنا بڑا کبھی نہیں لیا میں نے۔ میں نے لن اس کی پھدی پر رکھا اور پھیرا تو اس کی سسکی نکل گئی بولی اب ڈال دو انتظار نہیں ہورہا۔ میں نے بھی لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہلکا دھکا مارا جس سے میرا لن تین انچ تک اندر چلا گیا ا س کی ہلکی سی چیخ نکل گئی میں رک گیا پھر ایک دھکا مار اتو میرا آدھا لن اس کے اندر چلا گیا اس نے ایک زور دار چیخ ماری میں رک گیا اور اس کے اوپر جھگ گیا اور اس کے مموں کو منہ میں بھر لیا چوسنے لگ پڑا تھوڑی دیر بعد اس نے گانڈ ہلائی تو میں نے بھی آہستہ سے باہر نکال کر ہلکے دھکے لگانے شروع کردیے سپیڈ سلو رکھی۔اس کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں اس کی پھدی ناز کی پھدی سے ٹائٹ تھی لیکن اتنی ٹائٹ نہ تھی اب کومل بھی میراساتھ دے رہی تھی میں نے آدھے لن سے ہی چدائی جاری رکھی 10منٹ کے بعد اس کے جسم نے اکڑنا شروع کیا میں نے اس کے ہونٹو ں کو منہ میں بھر لیا اس کے اوپر لیٹ گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں نے لن سارا باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رکھی اور ایک زور دار دھکا مارا جس سے میرا سارا لن اس کے اندر جڑ تک گھس گیا اس نے زور سے چیخ ماری جو کہ میرے منہ میں ہی رہ گئی اس نے جھٹکے کھانے شروع کردیے۔ میں اس کے اوپر لیٹا رہا کومل کی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے اس کے آنسو کو چاٹ کر صاف کیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد کومل نارمل ہوگئی میں نے آہستہ سے لن باہر نکالا اور اندر ڈال دیا جس سے کومل کی سسکاری نکل گئی۔ کومل بولی میری جان نکال دی تم نے کوئی ایسا بھی کوئی کرتا ہے میں بولا کیا کرتا پورا تو ڈالنا ہی تھا۔ بولی تو آرام سے ڈالتے نہ میں نے کہا اب سارا چلا گیا ہے بولی سچ میں بولا ہاں بولی مجھے یقین نہیں ہورہا میں نے کہا چیک کرلو اس نے ہاتھ نیچے لے جا کر دیکھا بولی واہ میں اب آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کردیے تھے۔ کومل بولی آہستہ اف آرام سے کرو پھر بولنے لگ پڑی مزا آرہا ہے تیز کرو میں نے بھی رفتار بڑھا دی جتنا ہوسکتا تھا اتنی تیزی سے دھکے لگانے لگ پڑا اس کی سسکیاں بلند ہوچکی تھیں پھراس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا میرے لن پر گرم گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نے دھکے جاری رکھے تو کومل نے چیخنا شروع کردیا۔ لیکن میں نہ رکا میری رفتا ر طوفانی ہوچکی تھی کومل نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کوقابو رکھا اور دھکے جاری رکھے پھر آخری جھٹکا مارا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ میرے لن سے پچکاریاں نکل نکل کر اس کے پھدی کو بھر رہیں تھیں جب آخری قطرہ نکل گیا تو میں اس کے اوپر اٹھ گیا تو پھدی سے اس کااور میرا پانی اور تھوڑی سی لالی نکل نکل کر نیچھے گر رہی تھی۔ اور اس کی پھدی کھل بند ہو رہی تھی۔ میں سائیڈ لیٹ گیا سانس بحال کیا اٹھا اور کومل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھو ں جاری تھے میں جلدی اٹھا فریج سے جوس نکال اور اس کی طرف بڑھا اور اس کو اٹھا کر پلایا اور اس کو سوری بولا تو بولی تم نے مجھے زندگی کا مزا دے دیا سوری کیوں بول رہے ہو بول مجھے تو بہت مزا آیا ایسی چدائی کبھی زندگی میں نہیں ہوئی میں بولا تو تم رو کیو رہی ہو بولی انسان ہوں درد تو ہوتی ہے تم نے تو میرا اندر ہلا کررکھ دیا ہے بہت درد ہوا لیکن اس درد میں جو مزا ملا اس کو کبھی نہیں بھولوں گی تم کی جو تعریف سنی ہے اس سے بڑھ کر پایا میں بولا ہیں میری تعریف کس نے کر دی بولی سدرہ نے کی ہے میں بولا انہوں نے کب دیکھا بولی ان کو ناز نے بتایا تھا تم کے لن کے بارے تم کے سٹیمنے کے بارے میں تم کی چدائی کے بارے میں جب سدرہ نے مجھے سے بتایا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ان کے سامنے خواہش کی تم سے چدنے کی میر ی ان کی دوستی ایسی ہے کہ وہ منع نہ کرسکیں۔ مجھے اب معلوم ہوا اصل بات کیا تھی خیر میں نے بھی جوس پیا۔ میں نے بولا چلو دوسرا روانڈ سٹارٹ کرتے ہیں بولی نہیں ابھی کچھ دیر رک جاؤ تم کو برداشت کرنا اتنا آسان بھی نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔ وہ اٹھی اور لنگڑاتی ہوئی باتھ روم گئی فریش ہونے پھر میں گیا واش روم وہ نہا رہی تھی میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کو اپنی طرف پلٹ کر کسنگ کرنا شروع کردی وہ بھی میر ا ساتھ دینے لگ پڑی پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا اس نے سسکنا شروع کردیا پھر میں نے اس کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف سے کیا جو کہ کھڑا ہوچکا تھا اور جھٹکے لگارہا تھا میں کموڈ پر بیٹھ گیا تو کومل نے لن منہ لیا اور چوسنا شروع کردیا اس کا چوپاکمال کا تھا مجھے بہت مزا آرہا تھا میں نے اس کے منہ میں دھکے لگانے شروع کردیے جس سے اس کی رال بہ رہی تھی اور اس کے منہ سے گھو گھو کی آواز نکل رہی تھی۔ میں نے لن اس کی منہ میں دبایا جتنا جاسکتا تھا اور روک لیا دو چار سیکنڈ روکا پھر نکالا تو اس کی کھانسی نکل گئی میں رک گیا پھر اس کو میں نے گھوڑی بنا دیا کومل کموڈ پکڑ کر جھگ گئی میں نے لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک جاندار دھکا مارا میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی پھدی میں چلا گیا اس منہ سے چیخ نکلی میں نے ساتھ ہی دوسرا دھکا مارا میرا پوا لن اس کے اندر تھا پھر میں نے تیز رفتار دھکے لگانے شروع کردیے اس کی چیخے نکل رہی تھی میں نے کوئی پرواہ نہ کی پھر مجھے لن پر گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نہیں رکا وہ نیچے گرنی لگی میں نے اسے کو پلٹا کر گود میں اٹھا لیا اور لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اور اس کو چودتا چودتا کمرے میں لے گیا اس کوبیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھدی میں ہی رکھا اور چودنا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد پھر اس کا پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا میں نے لن نکال لیا لن پہلے ہی اس کے پانی سے چکنا ہوچکا تھا میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور ایک زور سے دھکا مار اجتنی میری جان سے لن اس کی گانڈ چیرتا ہوا جڑ تک گھس گیا اس نے ایسی چیخ ماری کے بس میں اور لیٹ گئی نے اس کو قابو کر لیا اور اس کو چودنا نہ چوڑا وہ نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن مجھے پتہ لگ چکا تھا اس کو رف چدائی پسند تھی اس لیے میں رکا نہیں اس کو چودتا رہا وہ چیختی رہی کہ میری پھدی مار لو گانڈسے نکال لو تم کا بہت بڑا ہے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور گانڈ مارتا رہا پھر کچھ دیر گزری تو کومل کو بھی گانڈ مروانے میں مزا آنے لگ پڑا اور اس نے بھی گانڈ کو اٹھا نا شروع کردیا لیکن کچھ دیر بعد پھر پانی نکال چکی تھی 45منٹ ہو چکے تھے گانڈ مارتے ہوئے کومل نیچے دم سادھے لیٹی پڑی تھی اور سسک رہی تھی پھر مجھے بھی اپنا وقت قریب محسوس ہوا میں نے بھی رفتا ر طوفانی کرتے ہوئے دھکے لگانا شروع کردیا 5منٹ بعد میرے لن نے اس کی گانڈ بھرنا شروع کردی جب لن خالی ہوا تو اس کے اوپر سے اترا میں اس وقت پسینے سے بھیگ چکا تھا حالانکہ کے ائیر کنڈیشن چل رہا تھا جیسے ہی لن اس کی گانڈ سے نکلا تو پھک کی آواز آئی اور اس کی گانڈ میں بڑا ہول بنا ہوا تھا اور میرا مال اور خون اس کی گانڈ سے باہر نکل نکل کر نیچے بیڈ پر گررہے تھے۔ پھر میں اٹھا اس کو اٹھا کر واش روم لے گیا خود بھی نہایا اس کو بھی صاف کیا کومل ابھی تک کچھ نہ بولی تھی پھر اس کو صوفے پر بیٹھا کیونکہ بیڈ پر اس کا اور میرے مال سے شیٹ بھری ہوئی تھی میں نے فریج کھو لا اور ایک ملک شیک نکال جگ اور دو گلاس لیے اور کومل کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا گلاس میں جوس ڈال کر اس کو دیا اس نے خاموشی سے پی لیا میں بولا سوری یار لگتا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن تم کی مست گانڈ دیکھی تو نہیں رہا گیا بولی کوئی بات نہیں جب تم سے چدنے کا شوق ہوا ہے تو گانڈ مروانے سے کیا ڈرنا میرا پورا جسم درد کررہا ہے لیکن جو مزا آیا و ہ بیان سے باہر ہے میں سوچ رہا تھا عجب پاگل لڑکی ہے اتنی بری طرح چدی ہے پھر بھی اس کو مزا آیا پھر مجھے ناز کی باز یاد آئی لڑکی جتنا زبردست چدے گی اتنا ہی اس کو مزا آئے گا۔ بولی اب تو تم کی غلا م بن چکی ہوں کبھی کبھی مجھے بھی خیرات دے دیا کرنا میں بولا کیسی بات کرتی ہوجو مزا تم نے مجھے دیا ہے وہ میں بھلا بھول سکتان ہوں اور تم جیسا نشیلا جسم بھلا میں بھول سکتا ہوں بولی اب دوستی پکی میں نے بولا ابھی بھی کوئی گجائش ہے پکی دوستی بولی بس پھر دیکھتے جاؤ یہ دوست تم کے لیے کیا کیا کرتی ہے میں بولا اچھا جی۔ اسی طرح کی باتیں چلتی رہی پھر بولی میں چلتی ہوں صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو جم جانے کا ٹائم ہوگیا تھا وہ اٹھی اور لڑکھڑا کر گرپڑی بولی بہت ہی ظالم ہو بے حال کردیا لیکن مزا آیامیں نے ایسی چودائی تو خوابوں میں بھی نہیں سوچی تھی۔جیسے تیسے کر کے باہر نکل گئی میں بھی اٹھ کر جم چلا گیا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر11 ان کے گھر پہنچا جیسے ہی گیٹ پر گاڑی کا ہارن دیا تو چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا میں گاڑی سیدھے اندر لے گیا۔ ان کا گھر بھی ایک بڑی حویلی پر مشتمل ہے ایک طرف لان ہے ایک طرف کمرے بنے ہوئے ہیں جن کے سامنے بڑا سا برآمدہ ہے اور باقی اپر منزل پر بھی کافی کمرے ہیں پچھلی طرف نوکروں کے کوارٹر بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔ چچی مسرت ایک ہاؤس وائف ہیں ان کی عمر 42سال ہے وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں گاؤں کی ہی ہیں لیکن گاؤں کی ہونے کی وجہ سے بہت ہی سلم سمارٹ ہیں لیکن جو سب سے خاص بات ان میں ہے وہ ہے ان کے ممے۔ ہماری پوری فیملی میں سب سے بڑے ممے ان کے ہیں 42تو ہونگے ہی۔ اور یہی خاص ان کی بیٹیوں میں بھی ہے ہیں وہ بھی سب سلم سمارٹ لیکن ان تینوں کے ممے بھی اپنی ماں کی طرح بڑے بڑے ہیں لیکن وہ بھی چچی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں۔ بڑی بیٹی نوشین اس کی عمر 22سال ہے وہ بھی اپنی امی طرح خوبصورت اور سلم سمارٹ ہیں لیکن ماں کے بعد مموں میں اس کا نمبر بھی دوسرا ہی آتا ہے۔ اس نے ابھی حال ہی میں گریجویشن مکمل کیا ہے آج کل وہ گھر میں ہوتی ہیں تھوڑی سیریس ٹائپ کی ہیں۔پھر ان کی بیٹی شہناز اس کی عمر 21سال ہے اس نے بھی گریجویشن مکمل کرلیا ہے اور وہ انوشے کے ساتھ آج ہی ہاسٹل سے واپس آئی ہے وہ بھی سلم ہیں لیکن اس کی گانڈ اور ممے اتنے ہی بڑے ہیں جو کہ اس کی کمر کو ایک کمان کی شکل دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ چلتی پھرتی آئٹم بم لگتی ہے لیکن اس کی سب سے خاص بات اس کے چہرے کی مصومیت تھی ایسا لگتا تھا کہ چھوٹی سی بچی ہے لیکن ممے اور گانڈ یکھ کر لگتا ہے کہ پوری مکمل عورت ہے۔ یہ بھی تھوڑی سریس ٹائپ ہیں۔ پھر ان کی بیٹی عظمیٰ ہے اس کی عمر 17سال ہے اب سوچ رہے ہوں گے بڑی بہنوں میں ایک سال کا فرق چھوٹی بہن میں اتنا فرق تو ان کے دو بیٹے ہوئے تھے لیکن وہ دونون زندہ نہ رہ پائے پیدا ہوتے ہوئے فوت ہوگئے تھے نوشین ابھی پڑھ رہی ہے سیکنڈ ائیر میں اس کا جسم اور عائشہ کا جسم تقریباً ایک جیسا ہے۔ لیکن اس کے ممے عائشہ کے مموں سے بڑے ہیں یہ تو باتوں کی مشین ہے اور چلبلی ہے۔ پھر بیٹا علی ہے جو کہ 14سال کا ہے۔ اس نے ابھی میٹرک پاس کیا ہے۔اگر وہ میری عمر کا ہوتا تو مقابلہ میں حصہ لیتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ میں گاڑی سے اتر کر باہر نکلا تو پوری فیملی میں استقبال میں کھڑی تھی میں سب سے پہلے چچا سے ملا انہوں نے مجھے گلے لگایا پھر چچی سے ملا تو انہوں نے بھی گلے لگایا اور پیا ر کیا ان کے بڑے ممے میرے سینے میں دھنس گئے تھے میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا پھرعظمیٰ سے ملا وہ چچی کے بعد کھڑی تھی تو بولی آخر ہمیں ہی آپ کو اپنے گھر دعوت دے بلوانا پڑا ادھر آنا تو شاہد آپ کی شان کے خلاف ہے۔میں ہنس پڑا بولا نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کو پتہ ہی ہے کہ میں یہا ں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا ہوا تھا پھر آتے ہی مقابلے شروع ہوگئے ابھی ہی فری ہوا ہوں بولی مقابلے تو پچھلے ہفتہ ختم ہو گئے تھے اور آپ سردار بھی بن گئے لیکن آپ نے ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا میں بولا بس مصروف تھا اب لگاتا رہوں گا اتنے میں نوشین بولی بس بھی کرو باتونی مشین ہم سے بھی ملنےدو وہ بولی میں کوئی اتنا زیادہ بولتی ہوں میں بولا نہیں نہیں بس ایک بار شروع ہوجاؤ تو نان سٹاپ لگی رہتی ہو اس نے منہ پھلالیا سب ہنس پڑے پھر نوشین سے ملا اس نے ہاتھ ہی ملایا پھر شہناز سے ملا اس نے بھی شیک ہی کیا۔ لاسٹ میں علی تھا اس کے گلے ملا اس کا حال چال پوچھا۔ پھر سب اندر چلنے لگے تو میں گاڑی کی طرف آیا چچا بولے یہیں سے واپس جانا ہے کیا میں بولا نہیں ایک منٹ بس آیا پھر میں نے ان کی فیملی کے لیے جو گفٹ لیے تھے وہ اٹھائے اور ان کے پیچھے چل پڑا سب سے پیچھے شہناز تھی اس کی گانڈ سب سے بڑی لگ رہی تھی لیکن وہ بھی چچی کی گانڈ کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھی لگتا ہے چچی صرف گانڈ ہی مرواتی ہے صبح شام۔ خیر سب اندر داخل ہوئے ایک ہا ل ٹائپ کمرہ تھا سب وہاں بیٹھ گئے صوفوں پر چچی کچن میں چلی گئی دیکھنے کہ کھانا تیار ہے کہ نہیں میں نے سب کے لیے گفٹ نکالے او ر دے دیے۔ سب نے تھینک کہا سب کے لیے گولڈ کی چین تھی چچی آئی اس کو بھی دے دی۔علی کے لیے نیو پلے سٹیشن لایا تھا۔ انکل کے لیے میں پسٹل لایا تھا تو علی بولا میرے لیے بھی پسٹل لانا تھا میں بولا ٹھیک ہے اگلی بار آپ کو بھی پسٹل دوں گا۔ سب کو سوٹ بھی دیے۔ چچی بولی ان سب کی کیا ضرورت تھی میں بولا تو آپ نے مجھے گفٹ دیے اس کی کیا ضرورت تھی ویسے بھی میرا بھی اتنا ہی حق ہے آپ پر جتنا آپ کا مجھ پر ہے۔ پھر میں نے شہناز کو اس کے پیپر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا بہت اچھے ہوئے ہیں۔ خیر ویسے ہی باتین چلتی رہی پھر کھانا لگ کیا۔سب نے کھانا کھایا پھر سب بیٹھ کر گپیں مارتے رہے چچی بولی بیٹا اب تو تم سردار بن گئے ہو پڑھائی بھی پوری ہوگئی ہے شادی کب کر رہے ہو میں بولا ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔اور نہ ہی کوئی لڑکی ہے جس سے کروں چچی بولی تم ہاں تو کرو لڑکیاں تو لائن میں لگ کر تم سے شادی کریں گی کو ن ہے جو تم سے شادی نہ کرنا چاہے گامیں بولا ابھی تو کوئی لڑکی بھی نہیں ہے جب ہوئی تو دیکھوں گا بولی کیسی لڑکی چاہیے میں بولا بالکل آپ جیسی جب میں یہ بول رہاتھاتو میری نظریں ا س وقت ان کے مموں پر چلی گئی جس کو انہوں نے دیکھ لیا تھا چچی بولی اچھا میرے جیسی کیوں تم تو سردار ہو پڑھے لکھے ہو۔ اور بہت خوبصورت ہو تم کو تو پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کرنی چاہیے میں بولا جو زیادہ پڑھ لکھ جاتی ہے وہ خاوند کی خدمت نہیں کرتی آپ جیسی ہوگی میری خدمت تو کرے گی تو چچی بولی کون سی خدمت کروانی ہے تمہارے نوکر نوکرانیاں تھوڑے ہیں کیا میں بولا نہیں جو بھی میرا کام ہوگا اس کو خود کرنا پڑے گا۔ بولی اچھا میں بولا کوئی ہے ایسی آپ کی نظر میں ہو جو آپ کی طرح خوبصورت بھی ہو اور خدمت کرنا بھی جانتی ہو۔ آپ نے تو چچا سے شادی کرلی ورنہ آپ سے کرلیتا میں تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ تو سب ہنس پڑے چچا بولے یار کہیں میری بیوی نہ بھگا کر لے جانا میں بولا نہیں ایسا نہیں کرتا یہ تو میری پیاری چچی ہیں بس ان کے جیسی لڑکی ہونی چاہیے۔ عظمی بولی میں انکی کاپی ہوں مجھ سے شادی کرلو تو سب ہنس پڑے میں بھی ہنس پڑا میں بولا اچھا تو تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو بولی ہاں کرلو میں بولا میں نے چچی جیسی بولا ہے چچی کے الٹ باتونی مشین نہیں تو منہ پھلا لیا بولی نہیں کرنی تو نہ سہی سب ہنس پڑے۔ اسی طرح ہنسی مذاق چلتا رہا پھر اجازت چاہی اور دوبارہ جلدی آنے کا وعدہ کر کے چل پڑا اور چچی کو بولا میرے لیے پھر کوئی لڑکی ڈھونڈ رکھو جلدی اگلی باری آؤں گا تو لڑکی سے ملوں گانہ ملے تو پھر آپ کو ہی لے جاؤں گا۔ اور وہاں سے بھاگ گیا۔ پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور چل پڑا گھر کی طرف لیکن گاڑی میں بیٹھا تو صبح والا واقعہ یاد آگیا کہ عائشہ اور نور کا سامنا کیسے کروں گا۔ پھر سوچا ان کے پاؤں میں بیٹھ جاؤ ں گا پھر وہ جو سزاد یں گیں بھگت لوں گا۔ واپس پہنچا حال میں ہی سب بیٹھے تھے اور میری واپسی کا انتظا کر رہے تھے سب کو سلام کیا اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا تو عائشہ اور نور اٹھ کھڑی ہوئیں کہ نیند آرہی ہے روم میں جاتی ہیں امی بولی چلی جاتی ہو بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر تو وہ بولی نہیں نیند بہت زور کی آئی ہے پھر اٹھ کر چلی گئیں امی بولی صبح تو بہت خوش تھیں جب سے واپس آئیں ہیں مارکیٹ سے توپریشان ہیں۔چھوٹی ماں بولی جب میں افی کے کمرے میں گئی تھی تو یہ بھی بہت پریشان لگ رہا تھا تو امی بولی کیا بات ہوئی تھی تم لوگوں میں۔ میں بولا کچھ بھی نہیں بس اتنی بات ہوئی کہ وہ بریسلٹ سیم نہیں ملے جو نمرہ کو لے کر دیا تھا۔تومنہ پھلا لیا۔ امی بولی کوئی بات نہیں میں ان کو سمجھا دوں گی میں بو لا کوئی بات نہیں میں ان کو منا لوں گا۔ امی بولی ٹھیک ہے نمو بولی میں اپنا بریسلٹ ان کے جیسا لے لیتی ہوں یہ میں امی کو دے دیتی ہوں اس نے اتار کر امی کو دے دیا۔ میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا فریش ہوا پھر نور اور عائشہ کے کمرے کی طرف چلاگیا۔ ناک کیا تو اند ر سے آواز آئی آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو دونوں بیڈ پر بیٹھی تھیں رات کا سوٹ پہن چکی تھی۔ سفیدکلر کی سلیو لیس شرٹ اور کھلاسفید ہی ٹراؤزر۔ مجھے دیکھتے ہی نور نے غصے سے دیکھا کیوں آئے ہو ہمارے کمرے میں ہمارے ساتھ زبردستی کرنے آئے ہو کیا۔ میں بولا میں تم لوگوں کو مجرم ہوں صرف اتنا کہوں کا کہ میں نے اپنا خنجر نکال لیا اور سر جھکا کر ان کے سامنے بیٹھ کر خنجر ان کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا خنجر ہے یہ انصاف کا خنجر ہے۔ میں تم کا مجرم ہوں تم کو حق ہے کہ میری جان لے لو۔ جان لینے سے پہلے اتنا جان لو کے میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا جو بھی ہوا انجانے میں ہوا پر میں اپنی غلطی ہی کہوں گا تو نور نے خنجر پکڑ لیا اور میری طرف آئی اور گردن پر خنجر دیا میرے آنسو زمین پر گر رہے تھے میں رو رہا تھا۔ اتنے میں عائشہ آئی اور اس نے نور سے خنجر پکڑ لیا اور بولی کیا کرنے لگی ہو یہ میرا مجرم ہے تم کا نہیں میں نے اس کو معاف کردیا۔ اور اس نے مجھے اٹھا کر گلے لگا لیا اور خود بھی رو پڑی میں اس کے گلے لگ کر زور زور سے رو پڑا اور معافی مانگنے لگا۔ تھوڑی دیر تک عائشہ نے مجھے چپ کروایا اور مجھے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی اور بیڈ پر بیٹھا دیا۔ بولی بھائی میں نے معاف کردیا میں جانتی ہوں کہ آپ کی غلطی نہیں ہے میں پچپن سے آپ کو جانتی ہوں وہ ماحول کا اثر تھا کہ ایسا ہوگیا جو بھی ہونا تھا ہو گیا میں نے آپ کو معاف کردیا۔ میں نے بول شکریہ میری بہن میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ نور بھی ہمارے پاس آگئی اور بیٹھ گئی میں نے اس سے پھر معافی مانگی اور عائشہ سے خنجر لے کر نور کے ہاتھ میں دیا کہ آپ کو حق ہے میری جان لے سکتی ہو میں اُف تک نہیں کروں گا۔ لیکن اس نے خنجر پھینک دیا اور میرے گلے لگ گئی کہ یہ میں کیا کرنے لگی تھی اپنے ہی بھائی کو اور سب کے سردار کو مارنے لگی تھی۔ میں بولا میں نے غلطی کی ہے تم سزا ہی دے رہی تھی اور ٹھیک ہی دے رہی تھی۔ پھر اس کو بھی چپ کروایا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی نور بولی کتنے واہ حیات لوگ ہیں اس طرح کھلے عام ایسے کام کرتے ہیں میں بولا ہاں یہ بات تو ہے ان کو زرا شرم نہیں آئی کہ سب کے سامنے وہ کام کررہے تھے۔ خیر میں بولا کہ غلطی میں نے کی ہے تو سزا تو بنتی ہے تم لوگوں نے معاف کردیا ہے لیکن اس کی سزا تو ہے کل تم کو شہر لے جاؤں گا اور گھماؤں گا۔ تو وہ دونوں خوش ہوگئی میں بولا کیا کروں اب کوئی گرل فرینڈ تو ہے نہیں تم لوگوں کو ہی گھماؤں گا تو نور بولی مجھے گرل فرینڈ بنا لو میں بولا نہ بابا نا سنا ہے گرل فر ینڈبہت خرچہ کرواتی ہیں مجھے ضرورت نہیں تو سب ہنس پڑے۔ بولی نہیں کرواتی خرچہ میں بولا مجھے گرل فرینڈ چاہیے مصوم سے تم تو مجھے ہی مارنے پے تلی تھی اور ہنس دیا بولی ماروں گی میرے بھائی ہو۔غلطی کرو گے تو سزا دوں گی نہ میں بولا دو میں نے کب روکا تھا۔ خود ہی رک گئی۔ بولی اب کوئی ایسی غلطی کرو گے تو پھر سزا دوں گی میں بولا ایسی غلطی کیا مطلب میں ایسی غلطی دوبارہ کروں گا۔ بولی نہیں میرا مطلب ہے غلطی کرو گے تو سزا دو ں گی۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے کہا کل تیار رہنا اور ان کے روم سے چلا گیا۔ اپنے رو م میں آکر فریش ہوا اور اپنے گفٹ کا انتظار کر نے لگا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر9۔ میں تھوڑی دیر کے لیے سو گیا پھر اٹھ کر فریش ہوا اور نیچے آگیا وہاں نور اور عائشہ بیٹھی ہوئیں تھیں مجھے دیکھتے ہی بولی بھائی آپ تو ہر وقت نمرہ کے ساتھ ہی رہتے ہو میں بولا اب تو اتنا عرصہ ہوگیا اس کے ساتھ وقت نہیں گزارہ بس مقابلے کی تیاری کرتا رہا اب سب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ بولی آپ نے نمرہ کو بریسلٹ دیا ہمیں بھی چاہیے۔ میں بولا جب بولو لے جاؤ گا۔ اتنے میں امی آگئی وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئی میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا بولی کبھی اپنے ماں کو بھی وقت دیا کرو میں بلا امی سارا وقت آپ کا ہی تو ہے پھر میں ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تو میرا پاؤں عائشہ پٹ کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا نہ تو عائشہ نے نوٹس لیا نہ میں نے لیکن اس کا جسم گرم تھا اور پٹ اتنا نرم تھا کہ کیا بتاؤں پاؤں اندر دھنس رہا تھا عائشہ تھوری سی فربہ جسم کی مالک ہے مطلب نہ اتناجسم بھاری نہ پتلا درمیانہ جسم اور درمیانہ قد تھا ہم بہن بھائیوں کے قد میں سے سے کم قد اس کا ہی تھالیکن ایک با ت تو پتہ چل گئی تھی عائشہ کا جسم بہت نرم ہے۔ امی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں ان کا سینہ میرے منہ کے اوپر تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی شہوت نہ تھی۔ بلکہ مجھے ان کی گود میں سکون مل رہا تھا امی بولی اب تم کی دعوتیں شروع ہوں گے کئی خاندان تم کو سرادر بننے کی وجہ سے دعوت پر بلائیں گے تاکہ ان سے جان پہچان ہو سکے سب سے پہلی دعوت تم کے چچا کی طرف سے ہے کل شام ان کے گھر تم کی دعوت ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے امی چلا جاؤں گا۔اسی طرح ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر ابو بھی آگئے وہ فیکٹری میں گئے ہوئے تھے ہماری ایک فیکٹر ی میں مشینوں کے پرزے بنتے تھے اور ایک فیکٹر ی میں فیکٹری میں پلاسٹک کا سامان تیار ہوتا تھا۔اور ایک ہماری کنسٹریکشن کمپنی تھی اور کئی پلازے تھے جن کے لیے ابو نے ایک مین ہیڈ آفس بنایا ہوا تھا باقی سب میں منیجر تھے جو کہ پورے کام کو کنٹرول کرتے تھے پھر ہیڈ آفس آکر ابو کو ساری ڈیٹیل اور حساب وغیرہ چیک کرواتے تھے ابو بھی اکثر فیکٹر ی اور کمپنی میں پلازہ چکر لگاتے اور چیک کرتے رہتے وہاں کا سارا نظام الگ تھا اور یہاں کا سارانظام الگ تھا۔ میں بھی اب سوچ رہا تھا آفس جانا شروع کردوں اور ساتھ ساتھ کام سمجھتا رہوں اور ابو کا ہاتھ بٹاؤں پہلے تو مقابلے کی تیاری میں رہا اب میں بھی آفس جانا چاہتا تھا۔ میں نے یہی بات ابو سے بولی تو ابو بولے بیٹا تم کا اپنا تو آفس ہے جب چاہو آجاؤ لیکن بچپن سے تیاری کررہے ہو مقابلے کی اور پندرہ ماہ پہاڑوں میں رہے ہو اب تم سردار ہو تو کچھ عرصہ اس کا پھل کھاؤ پھر آفس بھی آجانا میں بولا جی ابو ٹھیک ہے لیکن میں چاہتا ہوں اب آفس جانا شروع کردوں باقی یہ سب تو چلتا ہی رہے گا میں کون سا ہر وقت آفس میں رہوں گا۔ بولے ٹھیک ہے جیسے مرضی کرویار پھرکھانہ لگ گیا اور پھر سب نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔میں اپنے روم میں جانے کی بجائے عائشہ اور نور کے روم میں چلا گیا حالانکہ بہت کمرے تھے حویلی میں لیکن وہ دونوں اپنا روم شیئر کرتی تھیں۔ میں نے ناک کیا تو نو ر آپی کی آواز آئی آجاؤ میں اندر چلاگیا مجھے دیکھ کر نور بولی واہ واہ آج دن کدھر سے چڑھا ہے جناب سردار آفتا ب خان ہمارے کمرے میں آئے ہیں میں ہنس دیا کہ اگر برا لگا تو واپس چلا جاتا ہوں تو عائشہ بولی ہماری تو ہمیشہ سے خواہش تھی کہ تم ہمارے بھی اتنے ہی بھائی بنو لیکن تم تو اس نموکے ساتھ چپکے رہتے ہو جیسے وہ ہی تمہاری بہن ہو میں نے بولا اب آپ کا سارا گلا دور کردوں گاروزانہ حاضری دیا کروں گا بولی پتا ہے دن کے بعد پھر بھول جاؤ گے میں بولا پکا وعدہ اب آپ کے پاس روزانہ آیا کروں گا عائشہ بولی دیکھتے ہیں پھر نور بولی نمو کو بریسلٹ لے کردیا ہے ہمیں کب لے کر دو گے میں بولا صبح چلتے ہیں آپ کو بھی لے کر دوں گا صبح تیار رہنا عائشہ بولی کوئی ضرورت نہیں مانگ کر لینے کی خود سے تو دیا نہیں میں بولا اس کے ساتھ گیا تھا اس کو پسند آگیا تو لے دیا او ر کوئی بات نہیں آپ کو صبح لے دوں گا۔عائشہ بولی ٹھیک ہے پھر صبح ہم تیار رہیں میں بولا جی پھر عائشہ بولی کہ خالی بریسلٹ ہی دلواؤگے میں بولا جو تم کا دل کرے لے لینا نور بولی یہ ہوئی نہ بات صبح تم کی جیب تو خالی میں بولا سب تم کا ہی تو ہے۔اسی طرح نوک جھوک چلتی رہی آخر کاران کا موڈ بہت اچھا ہوگیا پھر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا اور سوگیا پہلے سوچا ناز کو بلوا لوں پھر سوچا آج ریسٹ کرتا ہوں پھر سوگیا۔ صبح روٹین کے مطابق جم گیا وغیرہ سے فارغ ہو کر گھر واپس آیا اور کمرے میں چلاگیا اتنے میں نمو بلانے آئی کے ناشتہ کرلو میں بولا آتا ہوں فریش ہو کر پھر نمو بولی رات نور اور عائشہ کے کمرے کے کیا کرنے گئے تھے میں بولا کیا نہیں جاسکتا نمو بولی جاسکتے ہولیکن کبھی گئے نہیں ہو میں بولا یہی تو ان کا گلہ تھا کہ میں ان کے پاس جاتا نہیں ہر وقت تم سے چپکا رہتا ہوں تو نمو بولی مجھ سے کب چپکے رہتے ہو آج کل تو پتہ نہیں کدھر گم رہتے ہو میں بولابکواس نہ کرو ابھی کل ہی تو تم کو لے کر شہر گیا تھا اور اتنا ہنگامہ ہوا بولی پتہ پتہ ہے بس کرو میں بولا اچھا یار اب سب کو ٹائم دیا کروں گا پھر ہم نیچے آگئے تو سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے ہم نے ناشتہ کیا ابو کسی کام سے چلے گئے ابھی تک ابو نے ہی میرا زیادہ کام سنھبالہ ہوا تھا کوئی بڑا کام ہوتا جس پر میرے فیصلہ یا دستخط کی ضرورت ہوتی تو لے لیتے لیکن جمعہ والا دن جو پنچایت ہوتی اس کی سربراہی مجھے ہی کرنی تھی۔خیر ناشتے کے بعد میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا تو چھوٹی ماں تیار کررہی تھی کہیں جانے کی میں بولا کہا جارہی ہو تو وہ بولی کہ آج انوشے کو لینے ہوسٹل جارہی ہوں اس کی پڑھائی مکمل ہوگئی ہے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ میری بہن جو چھوٹی ماں سے تھی وہ ہاسٹل میں تھی اس کے پیپر ہورہے تھے فائنل اس وجہ سے وہ جشن کے موقع پر نہ آسکی اب اس کے پیپر ختم ہوگئے تو وہ آرہی تھی۔میں بولا میں چلوں بولی خان جی ساتھ جارہے ہیں تم نے آنا ہے تو تم بھی آجاؤ میں بولا جب ابو جارہے ہیں بولی کیوں میں بولا ویسے ہی بولی ٹھیک ہے۔ ویسے بھی مجھے آج نور اور عائشہ کے ساتھ بازار جانا ہے۔ انہوں سرکھایا ہوا ہے نہ گیا تو وہ بہت ناراض ہوگیں چھوٹی ماں بولی اچھی بات ہے تم ہران کو ٹائم ہی نہیں دیتے جب بھی وقت ملتا ہے اپنی نمو کے پاس گھس جاتے ہو میں بولا بس جڑوا ں ہیں اور بچپن سے ایک ساتھ ہی رہے پڑھے اور بڑے ہوئے وہ مجھے سمجھتی ہے میں اس کو اس لیے زیادہ وقت اس کے ساتھ ہی گزارتا ہوں چھوٹی ماں بولی کسی اور کے ساتھ وقت گزارو گے تو اس کو سمجھو گے میں بولا اب میں نے نور اور عائشہ سے وعدہ کرلیا ہے روزانہ ان کو ٹائم دوں گا بلکہ سب کو برابر ٹائم دوں گا پہلے تو ویسے بس ٹریننگ میں ہی ٹائم گزرتا رہا ہے۔ چھوٹی ماں بو لی ٹھیک ہے۔ میں بولا آپ کے گفٹ کا انتظار ہے بولی لگتا ہے ناز سے دل بھر گیا ہے جو گفٹ کے انتظار میں ہو میں بولا نہیں ایسی بات نہیں لیکن جب سے آپ نے بولا ہے تو تجسس ہے اس لیے بس اور کوئی بات نہیں تو چھوٹی ماں بولی مجھ سے اب کیسی شرم لگتا ہے ناز نے ٹھیک طرح سے شرم نہیں اتار ی میں بولا اترجائے گی جلد وقت تو لگتا ہے نابولی ٹھیک ہے جلد ہی پیش کرتی ہوں میں بولا کیا بولی جس کا تم کو بے صبر ی سے انتظار ہے اور ہنس دی۔ میں باہر آیا تو نور اور عائشہ کھڑی تھیں اور میری طرف دیکھ رہی تھیں میں بولا چلو تیار ہو جاؤ پھر چلتے ہیں تو وہ دونوں خوش ہوگئیں عائشہ جو کہ باتونی تھی بولی ہمیں تو لگتا تھا کہ صبح ہوتے ہی رات کا وعدہ بھول گئے ہوگے میں بولا ایسانہیں ہوگا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا۔ پھر وہ دونوں جلدی جلدی کمرے میں چلی گئیں کے کہیں شاہد میں مقر نہ جاؤ ں میں بھی اپنے کمرے میں آگیا اور تیار ہونے لگ پڑا۔ میں نے ایک بلیک جینز اور سکائی بلیو شرٹ پہنی گاؤں میں زیادہ تر میں شلوار قمیض ہی پہنتا تھا لیکن شہر جاتے ہوئے پینٹ شرٹ یا اس قسم کا لباس پہنتا تھا۔اتنے میں نمو میرے کمرے میں آئی اور بولی جارہے ہو آج تو بڑا سج دھج کر جارہے ہو کسی گرل فرینڈ کو تو ٹائم نہیں دیا میں تھوڑا سے سیڈ سا منہ بنا کر بولا میری ایسی قسمت کہا 22سال کا ہوگیا ہوں سردار بن گیا ہوں لیکن ایک بھی گرل فرینڈ نہیں نہ ہی کوئی دوست ہے۔ تمہیں بھی اچھی طرح پتہ ہے۔ تو میرے پاس آئی اور بولی کیا میں تم کی دوست نہیں ہو میں بولا ہو لیکن میری گرل فرینڈ تو نہیں ہے نا جس کے ساتھ میں گھومو پھرو اور انجوائے کروں۔ تو میرے ساتھ گھوم لیا کرو میں دوست ہوں اور گرل بھی ہوں تو تم کی گرل فرینڈ بھی ہوئی نا میں بولا یا ر تم فرینڈ ہو لیکن گرل فرینڈ تو نہیں بن سکتی نا جیسے گرل فرینڈ ہوتی ہے ایسا تو نہیں کرسکتی یہ بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر رہا تھا اس نے کچھ دیر آنکھوں میں دیکھا پھر نظریں جھکا لیں۔ پھر وہ بنا کچھ بولے چلی گئی۔ قسط نمبر 10 میں نیچے آیا اور نور اور عائشہ کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر گزری تو دونوں نیچے آئیں دونوں نے ایک جیسے کپڑے پہنے تھے ہلکے پیلے کلر کے اور اس پرسفید پھول تھے لان کے سوٹ تھے اور پر سفید ڈوپٹہ تھا۔ میں نے باہر گاڑی نکالی تو گارڈ بھی گاڑی نکالنے لگے میں نے ان کو روک دیا بولا جب میں پرسنل کام سے جارہا ہوں تو ساتھ نہیں آنا اگر کسی دورے پر یا کسی اور کام پر جاؤں تو ساتھ آنا وہ سمجھ گئے۔وہ باہر آئیں تو گاڑی کو دیکھ کر بولیں نہیں بائیک پر چلتے ہیں میں بولا تین لوگ ہیں بائیک پر کیسے جائیں گے بولی ہمیں تو بائیک پر جانا ہے میں بولا ٹھیک ہے پھر بائیک نکالی تو پہلے عائشہ بیٹھی پھر نور بیٹھ گئی بائیک پر تین لوگ بیٹھے تھے تو اس لیے عائشہ مجھ سے چپک گئی اس کے نرم نرم ممے مجھے اپنی پیٹھ پر محسوس ہورہے تھے میرے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگ پڑی میں نے سارا دھیان سٹرک پر لگایا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرلیا۔ لیکن عائشہ شاہد مجھے کنٹرول کرنے نہیں دے رہی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے اور جس سے میں گرم ہورہا تھا اور ساتھ ہی اس نے دونوں ہاتھ میرے پیٹ سے گزار کر مجھے پکڑ لیا تھا ایک جگہ کھڈا لگا تو وہ پوری میرے ساتھ چپک گئی اور واپس نہ ہوئی۔ خیر جیسے تیسے کر کے ہم شہر پہنچے پھر شاپنگ مال میں گئے وہاں انہوں نے اپنے لیے بریسلٹ لیے پھر کپڑے بھی خریدے میں نے انوشے کے لیے بھی بریسلٹ لے لیا آج وہ بھی واپس آرہی تھی پھر آج چچا کی طرف بھی دعوت تھی توان کے لیے کچھ گفٹ لیے اور پھر وہاں سے نکلے تو ایک ہوٹل سے کھانا کھایا ہم بہت انجوائے کررہے تھے پھر نور نے ضد کی کے ہم نے فلم دیکھنی ہے میں بولا نہیں اچھا نہیں لگتا اس کیساتھ عائشہ بھی بولنے لگ پڑی مجبوراً مجھے ماننی پڑی بولا کون سی فلم دیکھنی ہے اس وقت ہالی ووڈ کی ایک ہارر فلم لگی تھی رونگ ٹرن بولی یہ دیکھنی ہے میں بولا خوفناک ہے ڈر جاؤ گی بولیں یہی دیکھنی ہے میں بولا ٹھیک ہے کیونکہ میں بھی کبھی سنیما نہیں آیا مجھے بھی تجسس تھا پہلی بار فلم دیکھنے کا سنیما دیکھنے کا۔ٹکٹ خریدے اورکچھ سنیک خریدے پھر اندر داخل ہوگئے ابھی فلم سٹارٹ نہیں ہوئی تھی اس لیے اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں کئی کپل بیٹھے تھے ہم بھی ایک جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے ایک طرف نور بیٹھ گئی ایک طرف عائشہ ان کے درمیان میں میں بیٹھ گیا لیکن اتنا زیادہ رش نہ تھا فلم شروع ہوئی تو فل اندھیرا ہوگیا فلم بہت ہی خوفناک تھی شروع ہوتے ہی ایک ڈراؤنا سین آیا تو دونوں نے مجھے پکڑ لیا اور انکھیں بند کرلیں میں نے بولا کیا ہوا دیکھو فلم اب بڑا شوق تھا ہارر فلم دیکھنے کا دونوں چپ رہی پھرفلم دیکھنے لگ پڑی لیکن مجھے نہ چھوڑا۔اور ہارر فلم ہو ہالی ووڈ کی اور اس میں بولڈ سین نا ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بولڈ سین آیا میں ترچھی نظر سے ان کی طرف دیکھا تو دونوں بہت غور سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہی مجھ پر نظر پڑی نظر جھکا لیں۔ ہمارے آگئے ایک لائن چھوڑ کر ایک کپل بیٹھا تھا وہ اپنے کام میں لگ گیا دونوں کسنگ کررہے تھے اور ٹھیک ہمارے سامنے تھے دونوں دنیا سے بے خبر لگے پڑے تھے اور ایک کپل سائیڈ میں تھا وہ بھی سٹارٹ کرچکے تھے۔ لائیو شو دیکھ کر میرا تو دماغ خراب ہونا شروع ہوگیا اور میرا لن کھڑا ہونا شروع ہوگیا اب لڑکی نیچے منہ جھکا چکی تھی اورلڑکا اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا تھا مطلب لڑکی لڑکے کا لن چوس رہی تھی جب میں نے ترچھی نظر سے نور او ر عائشہ کو دیکھا تو وہ دونوں بھی ان کو ہی دیکھ رہی تھیں۔میری حالت خراب تھی میرے پینٹ میں تمبو بن چکا تھا اگر انڈر ویئر نہ ڈالا ہوتا تو بالکل صاف نظر آتا۔ اب لڑکی لڑکے کے آگے اگلی سیٹ پر جھک چکی تھی اور لڑکا چدائی شروع کرچکا تھا۔ میں پسینہ پسینہ ہورہا تھا حالانکہ حال ایئر کنڈیشن تھاان دونوں کی طرف نظرڈالی تو ان کی حالت بھی کچھ ایسی تھی۔ لڑکی کی سسکیوں کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی حالانکہ فلم کا شور بھی تھا اب فلم پر دھیان کہاں تھا اب تو ان کی طرف ہی سارا دھیان تھا اب میرا بس نہیں چل رہا تھا دل کررہا تھا کہ بس لڑکے کو ہٹا کر میں چڑھ جاؤں لڑکی پر۔ سچوئیشن ایسی تھی کہ دوسگی بہنیں ساتھ تھیں اور سامنے لائیو شو چل رہا تھا کیابتاؤں کیا حالت ہو رہی تھی۔مجھے پتہ نہیں چلا میرا ہاتھ کب عائشہ کی طرف رینگ گیا اور اس کی ٹانگ پر رکھ دیا اور پھیرنا شروع کردیا میرا سارا دھیان اس لائیوشو کی طرف تھا اور میں ہاتھ عائشہ کی ٹانگوں پر پھیر رہا تھا اور میرا ہاتھ عائشہ کی پھدی پر شلوار کے اوپر سے ہی لگا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کسی گرم گیلی بھٹی پر ہاتھ رکھ دیا ہوامجھے جھٹکا لگا کہ میرا ہاتھ کہاں ہے میں نے جب عائشہ کی طرف دیکھا تو اس کی نظریں مجھ پر تھیں اور میرا ہاتھ اس کی پھدی والی جگہ پر شلوار کے اوپر تھا میں نے فوراً ہاتھ اٹھالیا دوسری طر ف دیکھا تو نور بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میرا سر جھک گیا اور آنکھوں سے آنسو آنے لگ پڑے زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا لیکن جو کام آج ہوا تھا اس نے رولادیا میں ایسا تو نہیں تھا اب مجھے لائیو شو کا کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ میرا لن بیٹھ چکا تھا ایسے کے جیسے ساتھ ہو ہی نہیں زندگی میں پہلی بار ایسی غلطی ہوئی تھی کہ اپنی سگی بہن کی اس جگہ پر ہاتھ رکھ بیٹھا تھا اور دوسرے بہن نے دیکھ لیا تھا میری نظریں اٹھ ہی نہیں پارہی تھی مجھے ہوش نہیں تھا کب فلم کا ہاف ٹائم ہوا اور لائٹس آن ہوئیں۔ ہم تینوں خاموشی سے باہر آئے تو نور بولی بس اب چلتے ہیں اور فلم نہیں دیکھنی اس کی آواز میں غصہ تھا میں نے بولا ٹھیک ہے لیکن ایک بار بھی عائشہ کی طرف یا نور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ جلدی سے بائیک نکالی اور بیٹھ گیا۔ میرے پیچھے اس بار نور بیٹھی تھی پھر عائشہ بیٹھی ہمارے پاس کافی شاپر تھے کچھ میں نے آگے ٹانگ لیے تھے اور کچھ ان دونوں نے پکڑ لیے تھے۔ میں نے جیسے تیسے بائیک چلاکر جلدی سے گھر پہنچایا۔ اس بار بائیک بہت تیز چلائی جب بھی بریک لگتی تو نور مجھ سے چپک جاتی۔اس نے ممے مجھے اپنی کمر پر محسوس ہوتے لیکن اس بار سیدھا گھر جاکر بریک لگائی اور سیدھا اپنے کمرے میں آگیا تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو انوشے آگئی میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور وہ بھاگتی ہوئی میرے گلے لگ گئی اس نے مجھے مبارک باد دی۔ میں نے اس کے پیپروں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا کے بہت اچھے ہوگئے ہیں پھر وہ چلی گئی میں نیچے نہیں جارہا تھا کیونکہ مجھ سے عائشہ سے نظر نہیں ملائی جاتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد چھوٹی ماں آئی میں نے ان کا حال پوچھا پھر وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور مجھ سے سفر کی باتیں کرنے لگی لیکن میں گم سم تھا انہوں نے بھی محسوس کرلیا اور بولی کیا بات ہے صبح تو بہت چہک رہے تھے میں نے بولا کچھ نہیں سفرسے آیاہوں انہوں نے شاپنگ کروا کروا کر تھکا دیا بولی بات کچھ اور ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو مت بتاؤ اب میں کیابتاتا کہ چھوٹی بہن کی پھدی پر ہاتھ مارتا رہا ہوں میں نے بولا کچھ نہیں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا تو فریش ہوجاؤں گا بولی ٹھیک ہے لگتا ہے میرے گفٹ کا زیادہ ہی شدت سے انتظار ہے جو تم کو کچھ بھی اور اچھا نہیں لگ رہا میں بولا ایسا کچھ نہیں بس تھکاوٹ ہے بولی اچھا آج رات تم کی تھکاوٹ اتار دے گی میں بولا کو ن بولی سرپرائس ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے جی جاتے ہوئے بولی تھوڑا آرام سے ابھی چھوٹی عمر کی ہے۔ چھوٹی عمر کاسن کر میرے نیچے ہل چل ہونے لگ پڑی اور میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ ابھی کیا کرکے آرہا ہوں۔ پھر نمو آئی کمرے میں بولی ہوگئی تم لوگوں کی شاپنگ میں بولا ہوگئی ہے اس کے لیے بھی ایک سوٹ لایا تھا اس کو دے دیا تو وہ میرے گلے لگ گئی اور شکریہ بولا لیکن آج اس میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہوتی تھی جب میں اس لیے کچھ لاتا تھا شاہد صبح والی بات کی وجہ سے۔ پھر وہ چلی گئی۔ شام تک میں روم میں ہی رہا کیونکہ عائشہ اور نور کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی لیکن جو کام ہوا ہے اس کے لیے معافی تو مانگنی ہے پھر چاہے وہ معاف کریں یا نہ لیکن ابھی مجھے دعوت پر جانا تھا اس لیے جلدی سے تیار ہوا اور چچا کے گاؤں کی طرف چل دیا ان کی طرف دعوت تھیں ان کا گاؤں ساتھ ہی ہے۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر8۔ گھر پر سب ناشتے کی ٹیبل پر تھے چھوٹی ماں بھی تھی ان کی اور میری نظرے ملی تو دونوں کی ہلکی سے سمائل نکل گئی سب نے مل کر ناشتا کیا میں اٹھنے لگا تو نمو بولی کے افی مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے میں بولاابھی پروسوں ہی تو تم کی دوست کی برتھ ڈے پارٹی تھی اب کو ن سی دوست ہے تو نمو بولی دوسری دوست ہے میں بولا ٹھیک ہے جاتے ہیں۔ اور امی بولی بیٹا اب وہ سردار ہے کیا تم اس کے ساتھ گھومتی رہوگی اب اس کو کئی کام ہوں گے تو میں بولا امی کوئی بات نہیں میں دنیا کے لیے سردار ہوں لیکن آپ سب کے لیے میں افی ہی ہوں میں باہر نکلا گاڑی کی بجائے بائیک نکالی کیونکہ مجھے بائیک زیادہ پسند تھی اور نمو نے مجھے بائیک ہی گفٹ دی تھی اب پہلی بار اس کے ساتھی اسی کی گفٹ دی ہو ئی بائیک پر جارہے تھے۔ نمو نے ایک جامنی کلر کا سوٹ پہنا تھا نیچے ہیل والی جوتی تھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ راستے میں ایک جگہ سڑک ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے جمپ لگ رہے تھے تو نمو میرے ساتھ چپک گئی اس کے نرم نرم ممے مجھے اپنی کمر پر محسوس ہو رہے جس سے میرے ہوش گم ہو رہے تھے کسی نہ کسی طرح خو دکو قابو کر کے بائیک چلارہا تھاسوچ رہا تھا گاڑی لے آتا خیر ہم شہر پہنچے ایک مال میں گئے وہاں سے گفٹ پسند کیے ایک بریسلٹ مجھے پسند آیا جو میں نے نمو کو لے کر دیا ایک بریسلٹ میں نے چھوٹی ماما کے لیے خریدا لیکن نمو سے نظر بچا کر۔پھر باہر نکلے سٹرک کے کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جس سے برگر کھانے لگے انہوں نے ندی کے کنارے کرسیاں لگا کر جگہ بنائی ہوئی کافی خوبصورت لوکیشن بنائی گئی تھی مجھے واش روم آیا میں واش روم کی طرف گیا جب واپس آیا تو تین لڑکے نمو کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھے اس سے بد تمیزی کر رہے تھے۔ میں چلتا ہوا ان کے پاس گیا تو نمو ان سے کہہ رہی تھی اگر اپنی جان پیاری ہے تو یہاں سے جلدی چلے جاؤ اگر وہ آگیا تو تم کا بھاگنا ناممکن ہوجائے گا۔ اتنے میں میں ان کے سرپر پہنچ گیا انہوں نے چونک کر مجھے دیکھا میری باڈی وغیرہ دیکھ کر پہلے تو رک گئے پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ بولے اچھا تو یہ ہے جس کی وجہ سے اچھل رہی ہے ان میں سے ایک نے بولا چل نکل یہاں سے دو دن بعد آکر اسے اسی جگہ سے لے جانا اب یہ بلبل ہمارے پاس رہے گی ہماری خدمت کرے گی میں نے کہا یا چھوڑو اس کے میں تم کے ساتھ چلتا ہوں جو خدمت بولو گے کردوں گا وہ سب ہنسنے لگ پڑے بولے لڑکا بھی چالولگتا ہے اس کو بھی لے چلتے ہیں میں نے نمو کو آنکھ ماری کیوں کہ میں یہاں اتنی پیاری جگہ پر کوئی توڑ پھوڑ نہیں چاہتا تھا وہ بھی میری بات سمجھ گئی باہر ان کی جیپ کھڑی تھی تھے ہم ان کی جیپ میں پچھلی طرف بیٹھ گئے ان میں سے دو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھ گئے ایک ڈرائیو کرنے لگا جو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھا تھا اس نے نمو کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو میں بولا یہاں نہیں یار جو بھی کریں گے منزل پر پہنچ کر یں گے وہ بولے بڑا بہترین مال لیے پھر رہے ہو ہمارے ساتھ رہو عیش کروا دیں گے اور پیسے بھی کما لوگے میں ہنس دیاوہ ایک کوٹھی کے سامنے رکے ایک جو ہمارے ساتھ بیٹھا تھا نیچے اترا گیٹ کا تالا کھولا اس کا مطلب تھا کہ ان تینوں کے علاوہ یہاں کوئی نہیں تھا۔ ہم اندر آگئے اس نے گیٹ بند کر دیا اندر حال میں پہنچے تو انہوں نے اے سی آن کیا نمو بالکل میرے ساتھ لگ کر کھڑی تھی اس کو پتہ تھا اب ان تینو ں کا کیا حال ہونے والا تھا۔ ان میں سے ایک نمو کے قریب آنے لگا تو میں بولا دوستو پہلے میری باری پھر اس کی مجھے زرا جلدی ہے یار صبر نہیں ہورہا۔ جیسے ہی ان می سے ایک میرے قریب آیا میں نے اس کو گھوم کر کک لگائی اور وہ اڑتا ہوا صوفہ پر گرا صوفہ الٹ گیا میں بولاکیا ہوا یار اتنی چڑھا لی کیا جوکھڑا بھی نہیں ہوا جارہا دوسرا میرے قریب آیا تو اس کو بھی کک لگائی وہ بھی اس کے اوپر گرا جو پہلے گرا تھا اب اٹھ رہاتھا یہ بھی اس کے اوپر گرادونو ں گر پڑے تیسرا آیا میں نے اس کا بھی یہی حال کیا وہ بھی ان کے اوپر پھر میں نے تینوں کو خوب پھینٹی لگائی میرے پاؤں میں گر کر معافی مانگنے لگتا میں ا س کو لاتوں سے مارتا پانچ منٹ کے اندر تینوں ادھ مرے ہوگئے پھر میں نے خنجر نکال لیا کیونکہ اس کی دھار کو میں نے ابھی تک آزمایا نہیں تھا وہ تینوں تھر تھر کامنے لگے اور معافیاں مانگنے لگے۔ میں نے بولا تم ایسے ہی شریف لوگوں کو تنگ کرتے ہوگے آج تم ہمارے ساتھ بھی یہی کرنے لگے تھے میں نے ایک کے چہرے پر خنجر سے لکیر بنائی تو وہ تڑپنے لگا۔میں نے اسی طرح میں نے دونوں کے ساتھی بھی یہی کیا پھر میں نے نمو کو بولا جاؤ ان کی جیپ میں بیٹھو زرا واپس بھی تو جانا ہے۔ وہ چلی گئی تو میں نے خنجر سے ایک ایک ہاتھ تینوں کا کاٹ دیا وہ چیخنے لگے میں بولا شور مت کروں مجھے پتہ ہے یہ ساؤنڈ پروف ہے میں نے دیکھ لیا تھا تم یہاں اسی لیے لائے تھے کوئی ہماری آواز نہ سن سکے تم نے میری بہن کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تھی میں نے تمہارے ہاتھ ہی کاٹ دیے کہ دوبارہ اگر تم نے دوبارہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تم کے ساتھ اس سے بھی برا حال ہوگا پھر ایک کے جسم سے خنجر کا پھل صاف کیادوبارہ میان میں ڈال لیا جو کہ میری پنڈلی سے بندھی تھی پھر وہاں دروازہ بند کر کے نکل گیا مجھے آتا دیکھ کر نمو نے گاڑی سٹارٹ کی ہوٹل سے تھوڑا پیچھے انکی جیپ روکی جہاں پہلے تھی وہاں سے بائیک نکالی اور نکل گئے نمواب میرے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے نمو بولی تم نے ان کے ساتھ کیا کیا میرے باہر آنے کے بعد میں بولا کچھ نہیں صر ف یہ بولا کسی کو نہ چھیڑنا اس نے بولا افی کیا میں تم کو نہیں جانتی میں بولا بے شک جا کر دیکھ لو وہ چپ ہوگئی میں بولا وہاں کیا ہوا تھا جب میں واش رو م گیا تھا بولی تم گئے تو تھوڑی دیر بعد مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پاس آگئے اور تنگ کرنے لگے میں بولا تم تو ان کو بھگانے کے چکر میں تھی وہ بولی مجھے پتہ تھا تم نے دیکھ لیا تو ان کی خیر نہیں تو میں بولا تو نہ کرتا ایسا کیا بولی اچھا لگا تم نے ان کو مجھ سے بد تمیزی کی سزا دی۔ اور مجھ سے چپک گئی اس کے ممے میری کمر میں دھنس گئے اس نے مجھے پیچھے سے گلے لگالیا پھر گھر پہنچے نمونے اپنا بریسلٹ دیکھایا جو میں نے دلوایا تھا تو نور اور عائشہ بولی ہاں نمرہ تمہاری سگی بہن ہے ہم تو جیسے ہے ہی نہیں میں بولا ایسی بات نہیں آپ کو بھی دلوا دوں گا بولی ہمیں تھوڑی لے کر جاؤ گے تم اپنی لاڈلی کو ہی لے کر جاؤ گے میں بولا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو سب کو لے کر گیا اور شاپنگ کروائی نور آپی بولی اس کو بھی تو کروائی تھی میں نے بولا اچھا بابا ناراض نہ ہو میں تم کو بھی لے جاؤں گا اپنی پسند کا لے لینا جو بھی لینا ہوا۔ پھر کھانہ کھایا اور اپنے روم میں آگیاتھوڑی دیر دروازے پرناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو چھوٹی ماں اندر آگئی اور میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی اس وقت انہوں نے ایک سفید کلر کا سوٹ پہنا تھا جس میں ان کی نیلی برا وا ضح محسوس ہورہی تھی ان کا بھاری سینہ ان کا ڈوپٹہ بھی نہ چھپا پارہا تھا وہ میرے قریب بیٹھی تو ان کی جسم کی خوشبو مجھے محسوس ہونے لگ پڑی جیسے تازہ کھلے گلاب کی ہو۔میں نے بولا کیسی ہیں بولی بہت اچھی بولی رات کیسی گزری میں بولابہت مست گزری چھوٹی ماں بولی تم کو تو مست گزری لیکن تم نے ناز بیچاری کی چال ہی بگاڑ دی میں بولا میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں کیا چال بگاڑوں گا بولی اس میں کسی نے کیا سیکھنا یہ تو قدرت خود سیکھا دیتی ہے پھر میں نے سائیڈ ٹیبل سے وہ بریسلٹ نکالااور ان کو دیا اور کہا کہ یہ ہماری دوستی کے نام بولی تو خود پہنا دوانہوں نے ہاتھ آگے کیا میں نے بریسلٹ پہنا دیا بولی اب دوست نے تحفہ دیا ہے مجھے بھی دوست کو کوئی تحفہ دینا پڑے گامیں بولا آپ نے دیا تو ہے ناز والا بولی وہ تحفہ خان جی کی طرف سے تھا اور وہ ویسے بھی بس تم کا اناڑی پن ختم کرنے کے لیے تھا اب میری طرف سے تحفہ ہوگا وہ زرا سپیشل ہوگا میں یہ بات سن کر چونگ گیا مطلب کوئی لڑکی ملنے والی تھی تحفے میں یہ سن کر میرا لن نے انگڑائی لینی شروع کردی۔میں بولا اچھا جی پھر کب مل رہا ہے تحفہ بولی زرا صبر کرو مل جائے گااور ہنس پڑی پھر اٹھ کر جانے لگی اور کہا آرام کرو میں نے بولا اب آپ کے تحفہ کے انتظار رہے گا بولی جلدی ملے گا پھر واپس جانے لگی تو ان کی گانڈ پر نظر پڑی جو کہ باہر کو نکلی ہوئی تھی پتلی کمر کے نیچے بڑی گانڈ کیا لگ رہی تھی کپڑوں سے اوپر سے دروازے پر پہنچ کر پیچھے دیکھا تو میری نظر اپنی گانڈ پر پا کر بولی بدمعاش یہ مال تم کا نہیں ہے خان جی کا ہے اور باہر چلی گئی میں ہنس پڑا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر7:۔ تھوڑی دیر بعد پھر دروازے پر دستک ہوئی اور ناز اندر آگئی آج تو وہ شعلہ جان بنی ہوئی تھی شاہد خصوصی تیار ی کر کے آئی تھے جیسے اس کی سہاگ رات ہے ہلکا سا ریڈ فٹنگ والا سوٹ پہنا تھا جس میں اس کے جسم کا خاص کٹاؤ واضح نظر آرہے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ابھی ممے اور گانڈ باہر نکلی آئے گی۔ میں نے بولا کیا بات ہے بولی چھوٹی بی بی نے بھیجا ہے کہ آپ نے بلایا ہے ساتھ ہنس رہی تھی۔ میں نے بولا تم کو ابو نے میرے لیے بولا تھا بولی نہیں مجھے چھوٹی بی بی نے بولا تھا تو میں بول تم نے کہا تھا کہ بڑے سردار نے بھیجا ہے بولی کہ بی بی نے بولا تھا ایسا کرنے کو میں بولا اچھا ٹھیک ہے وہ کمرے میں آئی ہی تھی کہ میرا لوڑے نے حرکت شروع کردی تھی۔ میں نے اس کو پکڑ کر بازوؤں میں کس لیااور اس کے گانڈ سے پکڑ کر اٹھا لیا اور کسنگ شروع کرلی آج اس کی کسنگ میں جنون تھا میں بھی پیچھے کہا رہنے والا تھا میں بھی اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا جب اس کا سانس بہت زیادہ پھول گیا تو اس نے ہونٹ الگ کیے میں نے اس کو نیچے اتارا اور اس کی قمیض کو پکڑ کر اتار دیا اور ساتھی ہی برا بھی اتار دی اور اس کے خربوزے سائز مموں پرٹوٹ پڑا اس نے سسکنا شروع کردیا۔ میں کبھی اس کے مموں کو چوستا کبھی کاٹتا کبھی پکڑ کر مسلتا وہ فل مزے میں سسکیاں لے رہی تھی۔میں نے اسکوبیڈ پر گرایا اور اس کے اوپر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹو ٹ پڑا کسنگ کرتا پورے منہ پر چاٹ لیا اور دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسل رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لوڑے کو ٹراؤزر کے اوپر سے پکڑ لیا اور مسلنے لگ پڑی جس سے میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا وہ میرے نیچے پڑی ایک چھوئی موئی سے لڑکی لگ رہی تھی حالانکہ اس کے عمر 35سال تھی وہ پوری مست رانڈ تھی میں نے زبان اس کی ناف میں ڈالی تو وہ مچل گئی میں نے اس کی ناف کو پورا بھر دیا پھر میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے تنگ پاجامہ کو پکڑ کر اتار دیا تو اس کی پانی سے بھر ی پھدی میرے سامنے آگئی میں نے پہلے تو ایک انگلی اس کی پھدی کے درمیان میں پھیری جو کہ پوری گیلی ہوگئی اس کو منہ میں لے کر چوسا پھر اس کی پھدی پرٹوٹ پڑا پتہ نہیں کیا تھا میرا دل کررہا تھا کہ پھدی کو کھاجاؤں اس کا ذائقہ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ہلکا سالٹی سا میں جیسے جیسے اس کی پھدی کے دانے کو چوستا وہ مچلتی اور زورز زور سے سسکتی پھر اچانک اپنی دونو ں ٹانگیں اوپر کو اٹھا دیں جس سے اس کی پھدی کا منہ میرے منہ سے سٹ گیاپھر ایک فوراہ نکلا جو سیدے میرے منہ میں گیا اور باقی میرے چہرے پر پھر وہ پرسکون ہوگئی تھوڑی دیربعد بولی اب تم ماسٹر بنتے جارہے ہو میں بول ٹیچر ایسی ہو تو بندہ ماسٹر بن جاتا ہے پھر میں نے اپنا ٹراؤزر اتار ا تو وہ بھی بھوکی کتیا کی طر ح میرے لن پر ٹوٹ پڑی او ر جتنا ہوسکتا تھا چوسنے لگ پڑی میں آرام سے بیڈ پر لیٹ گیااور مزے کی وادیوں میں گم ہوگیا کچھ دیر بعد اس نے میرے لن پر کافی سارا تھوک پھینکا اور میرے اوپر آگئی پہلے کسنگ کرتی رہی پھر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا اور اس پر آہستہ آہستہ بیٹھتی گئی جب میرا آدھا لن اندر چلا گیا تو رک گئی پھر اوپر نیچے ہونے لگ پڑی اور آہستہ آہستہ لن اندرلیتی رہی پھر تھوڑا سا جب رہ گیا تو ایک جھٹکا مارا جس سے سارا اس کے اندر تھا آج اس نے خو د ہی میرا سارا لوڑا اپنے اند ر اتار لیا تھا مجھے اس کی گرم پھدی محسوس ہو رہی تھی جب اس کی گرم اور لیسدار پھدی کی رگڑ میرے لن پر لگتی تو میری مزے کے مارے سسکاری نکل جاتی اس کے آواز میں جوش بڑھتا جارہا تھا پھر مجھے لن پر گیلا پن محسوس ہوا اور وہ میرے اوپر چیختی ہوئی لیٹ گئی کچھ دیر بعد میں نے اس کو بازوؤں میں کسا اور گھمایا تو اب میں اس کے اوپر تھا اور وہ میرے نیچے تھی میں نے دھکے لگانے سٹارٹ کردیے میں نے سپیڈ سلو رکھی کچھ دیر بعد اس نے بھی گانڈ کو میری طرف کرنا شروع کردیا میں نے سپیڈ بڑھا دی اس نے سسکنا شروع کردیا آرام سے کرو ہاں مزا آرہا ہے زور سے کرو میں بھی فل سپیڈ میں دھکے لگا رہا تھا اب میں طوفانی دھکے لگا رہا تھا اس نے چیخنا شروع کردیا ہائے مر گئی روکو میں نہیں رکا پھر اس نے پانی چھوڑ دیا وہ اب بے جان ہوگئی میں نے اس کو پکڑ کر گھمایا اور اس کی کانڈ پر تھوک پھینکا اور لن کی ٹوپی اوپر رکھی تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا مجھ میں زیادہ جان نہیں بچی میں نے ایک دھکا مارا تو میرا آدھا لن اس کے اندر تھا پھر دوسرا اور تیسرا دھکا مارا تو اس کے منہ سے چیخ نکلی میں نے اب بنا رکے اس کے گانڈ کا بھرتا بنانا شروع کردیا تھا اور آہستہ آہستہ میں بھی منزل کی طرف آرہا تھا اب وہ بس برداشت کررہی تھی کہ کسی طرح میں فارغ ہوں اس کی شدید درد ہورہا تھا اور وہ درد سے چیخ رہی تھی میں نے اب اس کی گانڈ کو پکڑ کر او ر رفتار تیز کردی پھر مجھے اپنی جان لن میں جاتی ہوئی محسوس ہوئی اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی گانڈ میں جھٹکے کھانے شروع کردیا نیچے جب میرا گرم پانی اس کی گانڈ میں گیا تو وہ پھر ایک بار فارغ ہوگئی۔ میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور لمبے سانس لینے لگ پڑا وہ نیچے ایسے پڑی تھی کہ جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔ میں نے اس کی گانڈ سے لن نکالا تو پھک کی آواز آئی اس کی گانڈ کا سوراخ کافی کھلا ہوا تھا پھر آہستہ ااہستہ بند ہو رہا تھا میرا لن ابھی بھی سیمی حالت میں تھا میں ایسے ہی ننگا فریج تک گیا ملک شیک پیا اور ایک گلاس اس کو دیا بولی میری جان نکال دی ہے میں نے بولا نہیں نکلتی تم کی جان آج تک کوئی مرا ہے اس سے بولی تم نے مجھے ضروری مار کے چھوڑ نا ہے مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میرا سارا اندر زخمی ہوگیا ہے ایک تو تم کا اتنا بڑا ہے اور دوسرا تم فارغ ہی نہیں ہوتے بڑے سردار بھی جوانی میں ایسے ہی تھے میں اس کی یہ بات سن کے حیران ہوگیا بولا کیا مطلب بولی تم اپنے ابو کی جوانی کی کاپی ہو وہ بھی ایسے ہی تھے جب انہوں نے پہلی بار کیا تھا تو ایسی ہی حالت ہوئی تھی میری تم تو ان سے بھی ایک ہاتھ آگے ہومیں بولا کیا تم ابو کے ساتھ بھی وہ بولی بہت سے راز ہیں اس حویلی کے یہ بھی میرے منہ سے نکل گیا۔ ابھی وہ اور میں ننگے ہی تھے اور میرے لن سے پھر سے انکڑائی لی اس نے دیکھا تو بولی کیوں مجھے مارنے پے تلے ہوئے ہو میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی نہ بابا نہ پہلی بار تم نے اتنا ٹائم لگایا دوسرے بار تو تم مارکے ہی دم لو گے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور اس کو پکڑ کر گرا دیا اور اس سے کسنگ شروع کردی ساتھ ممے مسلنے لگا اور پھر میں نے لن کو اس کے 38سائز کے ممو ں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے منہ کھول لیا میرا لن اس کے چکنے مموں کی لکیر سے رگڑ کھا کر اس کے منہ کی طرف جاتا جس کو وہ اپنے منہ میں لیتی پھر نے اس کو گھوڑی بنا دیا اور لن اس کی پھدی کے منہ پر رکھا جس سے پانی بہ رہا تھا ایک جاندار دھکا مارا اس کی چیخ نکل گئی میں نے پروا ہ نہ کرتے ہوئے دوسرا دھکا مارا سارااندر کردیا بولی آرام سے کرو کیوں میرا اندر پھاڑنا ہے میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی جس میں جاتا ہے اس کو پتہ لگتا ہے کہ کچھ ہوتا ہے یا نہیں میں نے شروع سے ہی رفتار تیز رکھی میری سٹیمنا والی ٹریننگ کام آرہی تھی میں کبھی اس کی پھدی میں ڈالتا کبھی گانڈ میں وہ بہت بری طرح تھک چکی تھی اور چیخ رہی تھی اس دوران وہ کئی بار فارغ ہوئی مجھے اس کو چودتے ہوئے 70منٹ ہوچکے تھے اس کے تینوں سوراخ میں نے باری باری چودے منہ کو بھی چودا اورآخر کار اس کی گانڈ میں فارغ ہوگیا اور لیٹ گیا اور ایسے ہی نیند کی وادیوں میں چلا گیا صبح دروازہ زور زور سے بجا یہ پہلی بار تھا کہ کوئی اٹھانے آیا ہو ورنہ میں خود اٹھ جاتا تھا اٹھ کر دیکھا تو ایسے ہی ننگا پڑا تھا اور ساتھ میں ناز بھی ایسے ہی بے سد ھ پڑی تھی میں نے پوچھا کون ہے تو چھوٹی ماں کی آواز آئی دروازہ کھولو میں ہوں میں نے جلدی سے چادر ناز پر ڈالی اور خود ٹراؤزرپہن کر دروازہ کھولا بولی کیا بات ہے آج جم نہیں گئے میں بولا تھوڑی طبیعت خراب ہے بولی ایسا کبھی نہیں ہوا تم کی طبیعت خراب بھی ہو تو تم جاتے ہو پھر اندر آئی اور بولی مجھے پتہ وہ ناز ابھی تک یہیں خان جی اٹھ کر گئے تو میں بھی اٹھ جاتی ہوں آج تم نہیں نکلے تو مجھے لگا تم کو اٹھا دوں کوئی اور نہ اٹھ جائے بولی لگتا ہے رات بھر نہیں سوئے میں بولا سوگیا تھا بس آج نیند سخت آئی چھوٹی ماں بولی آئے گی رات بھر جو اس بیچاری کا ستیاناس کیا ہوگا اتنے میں ناز بھی اٹھ بیٹھی اور جب بیڈ سے اٹھنے لگی تو گر پڑی چھوٹی ماں نے سنھبالہ بولی لگتا ہے اس کی اچھی خاطر مداری کی ہے تم نے میں ہنس دیا ناز کو بولی جلدی چلو کوئی اور اٹھ گیا تو غضب ہوجائیگا۔ ناز کپڑے پہن رہی تھی تو میرا لن ٹراؤزر میں تمبو بننا شروع ہوگیا جس کو چھوٹی ماں نے بھی محسوس کرلیا میں جلدی سے گھوم گیا ناز کو بولی جلدی چلو یہ نہ ہو پھر اندر ہی رہنا پڑے اور ہنس پڑی ناز بھی جلدی سے گدم باہر کی طرف بڑھائے میں جلدی سے جم کی طرف گیا ابو بولے کیا بات ہے آج لیٹ آئے میں بولا بس زرا طبیعت خراب تھی بولے آرام کرلینا تھا اب تم سردار ہو اب تم ایک دن ناجم آؤ تو کچھ نہیں ہوگا میں بولا نہیں اب تو بچپن کی عادت ہے رہا نہیں جاتا بولے یہ بات تو ہے خیر اسی طرح جم ختم کی اور گھر کی طرف چل پڑا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
welcome dosto ab yahan kahani post hu GI thanks to admin
-
عشق دیندا ہے رولا
dosto intezar Ki gharian khatam ap sb ke pyar or request se admin sb ne mujhe kahani post kerne Ki ijazat de di he ab yahan kahani post hu GI admin humin aik private form dain ge Janan per ap sb ye kahani Perh sake ge thanks for supporting Me
-
عشق دیندا ہے رولا
dosto mai to yahan kahani post Kerne KO tyar hu ager admin ijazat de to
-
chaudhry.6 started following dangeroush
-
عشق دیندا ہے رولا
sorry Dosto mujhe pata ni tha yahan incest not allowed he mai kahani adhi se ziada likh Chuka hu ju ke tsreeban 300 episode PR mushtamil he is liye is KO change ni kr sakta ye story incest b he adulrty or action with suspenc b he to is forum PR post ni kr Sako ga anjane mai hui Bhool KO ap Sab maf Karin ge ab mai kisi or forum PR upload kro ga thanks
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر6۔ جم پہنچا ابو پہلے سے موجود تھے اور ایکسرسائز کر ررہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور بولے تم کا چہرہ رات کا حال بیاں کررہا ہے میں ہنس کیا کہ آپ کی ہی کرم نوازی ہے بولے کیسا لگا میرا تحفہ میں بولا بہت اچھا بولے ہاں اب تو مرد بن گئے ہو میں ہنس دیا پھر ہم نے ساتھ ہی نشانہ بازی کی پریکٹس کی اور گھر چلے گئے ناشتے پر سب بیٹھے تھے سب نے ناشتہ کیا میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا ناک کیا بولی آجاؤ میں اندر داخل ہوا وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیڈ کے بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں میں نے سلام کیا انہوں نے لان کا فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا اور تنگ پاجامہ تھا لیکن آج عجیب بات ہوئی پہلے جب میں ان کمرے میں آتا تھا تو وہ ڈوپٹہ پہن لیتی تھیں آج ان کا ڈوپٹہ اُترا ہوا تھا میرے نظر سیدھے ان کے سینے پر پڑی تو دھیان دیا کہ ان کی چھاتی بہت بھاری ہے کم سے کم 38تو ہوگی پہلے کبھی ایسا خیال ہی نہ آیا تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا ناز کا اثر تھا یا شاہد پہلے ایسا کچھ کیا نہ تھا خیر انہوں نے بھی میری نظروں کا پیچھا کیا کہ میری نظریں کہا ں ہیں لیکن کچھ کہا نہیں بس مسکرا دی۔ بولی خیر ہے آج صبح ہی میرے پاس آگئے پہلے تو کبھی نہیں آئے میں بولا کیوں نہیں آسکتا چھوٹی ماں بولی آسکتے ہوپہلے تم نمرہ کے پاس جاتے ہو پھر کہیں اور میں بولا آج وہ گھر پر نہیں ہے سہلیوں کے ساتھ باہر گئی ہے۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میری نظر ناجانے کیوں بار بار ان کے بھاری سینہ پر جاتی کئی بار انہوں نے محسوس کیا بولی لگتا ہے لڑکا اب جوان ہوگیا ہے میں شرمندہ سا ہو کر منہ نیچے کرلیا اور کچھ نہ بولا وہ ہنس پڑی میرے ٹراؤزر میں بھی حرکت شروع ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ دیکھ لیتی وہاں سے رخصت لے لی۔وہاں سے نکلا تو نور اور عائشہ باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا وہ چپ ہوگئی ناجانے کیا بات تھیں ان سے حال چال پوچھی اور پھر بیٹھک میں چلاگیا جو حویلی کے ساتھ تھی وہاں پر ایک مسئلہ آیا ہوا تھا ایک گاؤں کی لڑکی کو دوسرے گاؤں کے لڑکے نے بھگا لیا تھا کچھ دن اس کے ساتھ رہا پھر اس کو چھوڑ دیا اور شادئی نہ کی جس کی وجہ سے دونوں گاؤں میں کافی تناؤ تھا یہ میرا پہلا معاملا تھا ابوبھی میرے ساتھی ہی تھے ان کو کئی فیصلہ کرتے دیکھا تھا آج میں نے فیصلہ کرنا تھا خیر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکے کا نام زمان خان تھا اور لڑکی کا نام پلوشے تھا لڑکا بھی ٹھیک تھا لیکن لڑکی تو کمال تھی پانچ فٹ قد تھا بھاری سینہ سرخ و سفید رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ جو کہ ڈوپٹہ میں بھی گانڈ اور سینہ محسوس ہورہا تھا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے تو اس کے والد نے بولنا شروع کیا تو میں نے بولا آپ سے جب پوچھا جائے تو بولیں میں نے آواز زرا سخت رکھ جس سے آواز گونجی لڑکا بولا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں یہ بھی مجھ سے پیار کرتی تھی ہم بھاگ گئے وہاں ایک دوست کے گھر رہے تو ایک ہفتہ بعد دیکھا تو یہ میرے دوست کے ساتھ ناجائز حالت میں تھی پیار کا دعویٰ یہ مجھ سے کرتی ہے اور بھاگی میرے ساتھ سو میرے دوست کے ساتھ رہی تھی۔ میں نے بولا تم نے اس سے شادی کی تو وہ بولا کرنی تھی اس لیے تو بھاگایا تھا تو میں بولا کی کیوں نہیں۔تو بولا جب کسی اور کیساتھ سورہی تھی تو کیوں کرتا۔ میں بولا ایک ہفتہ کیا کرتے رہے ہو۔ وہ چپ پھر میں نے لڑکی سے پوچھا ہاں تم بولو وہ بولی سردار صاحب میں اس سے پیار کرتی تھی اور پیار میں ہی اپنے ماں پاب کی عزت کی پرواہ کیے اس کے ساتھ چلی گئی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا مجھ سے شادی نہ کی لیکن باقی سب کرتا رہا۔ جب وہ یہ بول رہی تھی تو میری اور اس کی نظریں ٹکرائی تھی میں نے بہت بار کہا شادی کرلو اس نے کہا کر لیں گے مجھے اس کی نیت میں شعبہ پتہ لگ گیا کہ یہ صرف مجھے استعمال کرے گا اور کہیں بیچ جائے گا۔ تو میں نے اس کے دوست کے ساتھ سیٹنگ کر لی اور وہاں نے جانے کا پلان بنا لیا لیکن جب میں اس کی قیمت ادا کررہی تھی تو یہ اوپر سے آگیا پھر ان دونوں نے مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا میں وہاں کسی طرح بھاگ نکلی گاؤں والے بھی ہماری تلاش میں تھے بس میں بیٹھنے لگی تو گاؤں کے لوگ بھی اڈے پر کھڑے تھے جو ٹھونڈ رہے تھے انہوں نے دیکھ لیا اور پکڑ لیا پھر انہوں نے زمان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر یہ گاؤں لے آئے۔وہ چپ ہوگئی۔ میں نے لڑکی کو بولا کہ ایک ہفتہ میں تم کا پیار اتر گیا اور تم نے ایک ہفتہ میں شادی کیوں نہ کی۔ تم دونوں ایک ہفتہ تک شادی کے بغیر رہے تم کی سزا تو یہ ہے کہ تم کو سنسار کردیا جائے لیکن میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔ کیا تم دونوں شادی کرنے کو تیارہو لڑکا بولا میں نہیں کروں گا یہ میرے دوست کے ساتھ سوتی رہی ہے میں بولا تو تم کیا کرتے رہے ہولڑکی بولی میں تیار ہوں جی۔ میں بولا زمان خان کو گنجا کر کے منہ کا لا کر کے گدے پر بیٹھا کر گاؤں گھمایا جائے اور بچوں کو اس کو پتھر مارنے کو بولا جائے۔ اور پلوشے جرم میں تم بھی برابر کی شریک ہو اس لیے تم کو چالیس ہنٹر لگائے جائیں۔ اور پھر چالیس روز تک آٹے والی چکی چلاؤ گی۔ (ہاتھ والی چکی جس سے آٹا پیستے ہیں)دونوں کو سزا سناتے ہی میں اٹھ گیا۔ کیونکہ کہ سزا پر عمل تو لشکر نے کروانا تھا جو میرے گارڈ وغیرہ کہہ لیں۔وہاں سے فارغ ہو کر میں گاڑی میں بیٹھا اور تمام گاؤں کی سیر کرنے نکل گیا مختلف گاؤں میں گھومتا رہا جہاں بھی جاتا سردار زندہ باد نے نعرے لگنے لگ جاتے۔حویلی واپس آیا کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے ناز کھانہ سرو کروا رہی تھی۔ جب وہ جارہی تھی لنگڑا کر چل رہی تھی امی بولی پتہ نہیں ناز کو کیا ہو ا صبح سیٹرھیوں سے گر گئی او ر چوٹ لگوا بیٹھی میں نے بولا بھی ریسٹ کرے لیکن بولی سارا دن ریسٹ کیا اب کام کروں گی۔ ناز کی جیسے ہی نظر ملی تو ہلکی سے سمائل پاس کی میں بھی مسکرا دیا یہ سب چھوٹی ماں دیکھ رہی تھی۔ میری ان سے نظر ملی تو میں شرمندہ ہوگیا اور نظریں جھکا لیں۔ پھر جلدی جلدی کھا نا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا نمرہ بھی میرے پیچھے آگئی صبح سے وہ بھی باہر تھی سہیلیوں کے ساتھ اب گھر آئی تھی اس نے ایک تنگ چوڑی دار پاجامہ اور لانگ شرٹ پھولوں والی پہنی تھی کاسنی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا دوستوں بتا دوں کہ نمو کا قد پانچ فٹ اورچار انچ ہے ممے اتنے بڑے نہیں ہیں 32کے ہونگے لک پتلا سا ہے اور سفید رنگ ہلکا کلابی پن ہے لمبے بال ہیں گانڈتھوڑی باہر کو نکلی ہوئی جس کی وجہ سے کمر میں خم سا لگتا ہے چلتی پھرتی بوم ہے تھوڑی دیر پہلے بولی کیسا رہا آج کا دن میں بولا اچھا گزرا میں نے اس سے پوچھا تم کا کیسا گزرا بولی اچھا گزرا کافی عرصہ بعد سب دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک دوست کی سالگرہ تھی تو سب وہاں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے بولا آج تم نے کیا کیا میں بولا کچھ نہیں گھومتا رہا اور آج ایک فیصلہ کیا پھر میں نے سب بتایا بولی کتنے ظالم ہو لڑکی کو اتنی سخت سزا دی ایک تو بیچاری کی عزت لوٹی گئی میں بولا گئی کیوں تھی بولا جب پیار ہوتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا میں نے بولا تم کو پیار کا بڑا پتہ ہے کہیں کیا تو نہیں تو پہلے تو تھوڑا گبھرا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو پھر بولی میں نے کس سے کرنا ہے تم نے کبھی کسی کو میرے ساتھ دیکھا ہے میں بولا میں تو سوا سال یہاں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا تھا ہوسکتا ہے کسی کے ساتھ ہو گیا بولی ماروں گی ایسی بات بولی میں بولا کیوں پیار کرنا جرم ہے بولی جرم ہی ہے آج ایک پیار کرنے والی کو خود ہی سزادے کر آرہے ہو میں بولا میں بولا جب تم پیار کروں گی تو تم کو سزا نہیں دوں گا بس مجھے بتا دینا اس کو تمارا بنادوں گابولی یاد رکھنا جس پر میں ہاتھ رکھوں گی اس کو میرا بنا دو گے میں بولا ہاں۔ پھر بولی یہ ناز کا کیا چکر ہے آج تمیں غور رہی تھی میں تھوڑا سا گھبرا گیا بولا مجھے کیا پتہ بولی تم نے مجھے گارڈ بنایا ہے اپنا یاد رکھنا میں بولا یا ہے۔ اتنے میں میرے نظر اس کے کھلے گلے پر پڑی تو اس کی مموں کی لکیر نظر آرہی تھی میرے جسم میں چنونٹیاں دوڑنے لگ پڑی حالانکہ کئی بار اس کو ایسے دیکھا تھا لیکن اب میری نظر شاہد بدل چکی تھی مجھے ہر لڑکی میں ناز نظر آنے لگ پڑی تھی دل میں سوچا کاش ناز کے ساتھ رات نہ گزارتا تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔ خیر پھر وہ چلی گئی جاتے وقت اس کی گانڈمٹک رہی تھی اور میں سونے کے لیے لیٹ گیا۔ تو دروازہ پر ناک ہوئی میں بولا آجاؤ تو دروازے پر چھوٹی ماں تھیں۔ وہ آگئی اور میرے بیڈ پر میرے ساتھ بیٹھ گئی۔بولی کیسے ہو میں بولا ٹھیک ہوں بولی ناز کیسی لگی میرے تو ایک بار سانس ہی خشک ہوگیا میں بولا جی کیا مطلب بولی زیادہ نہ بنو یہ جو اس کی حالت ہے نہ سیٹرھی سے نہیں گری تمہاری وجہ سے ہے میری تو آنکھوں کے آگے اندھیراسا چھا گیا میری حالت ایسی ہو گئی جیسے جان ہی نا ہو وہ ہنس پڑی بولی بدھو میں سب جانتی ہوں اور خان جی کو میں نے ہی ناز کا تم کے لیے بولا تھا چھوٹی اور بڑی امی ابو کو خان جی ہی بولیتں ہیں۔وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپاتے انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ناز کا نام بولا کہ وہ ایک تو عرصہ سے ہمارے گھر میں ہے اور وہ راز ہی رکھے گی اور تم کو پسند بھی آئے گی۔ میں اب ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا وہ بولی ادھر میری طرف دیکھو صبح تو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مجھے میں جھینپ گیا بولی یاد رکھنا عورت پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جان جاتی ہے مرد کی نگاہ کیسی ہے بولی مجھ سے کیوں شرما رہے ہو میں تم کی چھوٹی ماں ہو میں نے ہی تم کا پالا یاد کرو میں بولا جی آپ نے ہی پالا ہے لیکن بس وہ بولی بس کیا میں بولا آپ سے ایسی بات کرتے اچھا نہیں لگتا بولی دیکھتے اچھا لگتا ہے۔میرا رنگ سرخ ہوگیا میں سردار تھا لیکن ان کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا بولی فکر نہ کرویہ راز۔راز ہی رہے گا۔ اگر دوبارہ بھی طلب ہو تو اس کو بلا لینا منع نہیں کرے گی میں بولا مجھے ضرورت نہیں ہنس پڑی بولی تم کی ضرورت تو میں جان چکی ہوں ایک رات گزارنے کے بعد تم کی نظریں اب بھٹکنے لگ پڑی ہیں بولی تھوڑا احتیاط کروں اور جیسے مرضی عیش کرو تم نے بہت محنت کی ہے اب پھل کھانے کا وقت ہے۔ مجھے دوست بنا لو فائدہ میں رہو گے میں بولا جی آپ کو کیسے دوست بنا لوں آ پ ایک تو مجھ سے بڑی ہیں اوپر سے ہمارا رشتہ ایسا ہے بولی میں تم کی چھوٹی ماں ہوں میں نے تم کو پالاآج سے ہم دوست ہیں دوسری بات دوستی میں رشتہ داری یا عمرنہیں دیکھی جاتی دوستی دیکھی جاتی ہے میں نے ہاتھ آگے کیا انہوں نے بھی کیا اور ہمارے ہاتھ مل گئے بولی یاد رکھنا دوستی کو میں بولا جی بولی دوستی کا مطلب پتہ ہے نا میں بولا جی بولی کہ جو بھی ہو مجھ سے مت چھپانا میں تم کا ہرطرح سے ساتھ دوں گی۔ پھر پوچھا ناز کیسی لگی میں چپ رہا بولی اب تو ہم دوست ہیں میں نے دھیرے سے بولا اچھی لگی بولی کھل سے بولا نا کیسی لگی مجھ سے مت شرماؤ میں بولا بہت مست تھی بولی ہاں یہ ہوئی نہ بات۔ بولی کچھ بھی چاہیے تو مجھے بولنا میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر وہ جانے لگی دروازے کے ساتھ جا کر بولی میں ناز کو بھیجتی ہوں کہ تم کی تھکان اتارے اور ہنس کر باہر چلی گئی۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر6۔ جم پہنچا ابو پہلے سے موجود تھے اور ایکسرسائز کر ررہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور بولے تم کا چہرہ رات کا حال بیاں کررہا ہے میں ہنس کیا کہ آپ کی ہی کرم نوازی ہے بولے کیسا لگا میرا تحفہ میں بولا بہت اچھا بولے ہاں اب تو مرد بن گئے ہو میں ہنس دیا پھر ہم نے ساتھ ہی نشانہ بازی کی پریکٹس کی اور گھر چلے گئے ناشتے پر سب بیٹھے تھے سب نے ناشتہ کیا میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا ناک کیا بولی آجاؤ میں اندر داخل ہوا وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیڈ کے بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں میں نے سلام کیا انہوں نے لان کا فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا اور تنگ پاجامہ تھا لیکن آج عجیب بات ہوئی پہلے جب میں ان کمرے میں آتا تھا تو وہ ڈوپٹہ پہن لیتی تھیں آج ان کا ڈوپٹہ اُترا ہوا تھا میرے نظر سیدھے ان کے سینے پر پڑی تو دھیان دیا کہ ان کی چھاتی بہت بھاری ہے کم سے کم 38تو ہوگی پہلے کبھی ایسا خیال ہی نہ آیا تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا ناز کا اثر تھا یا شاہد پہلے ایسا کچھ کیا نہ تھا خیر انہوں نے بھی میری نظروں کا پیچھا کیا کہ میری نظریں کہا ں ہیں لیکن کچھ کہا نہیں بس مسکرا دی۔ بولی خیر ہے آج صبح ہی میرے پاس آگئے پہلے تو کبھی نہیں آئے میں بولا کیوں نہیں آسکتا چھوٹی ماں بولی آسکتے ہوپہلے تم نمرہ کے پاس جاتے ہو پھر کہیں اور میں بولا آج وہ گھر پر نہیں ہے سہلیوں کے ساتھ باہر گئی ہے۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میری نظر ناجانے کیوں بار بار ان کے بھاری سینہ پر جاتی کئی بار انہوں نے محسوس کیا بولی لگتا ہے لڑکا اب جوان ہوگیا ہے میں شرمندہ سا ہو کر منہ نیچے کرلیا اور کچھ نہ بولا وہ ہنس پڑی میرے ٹراؤزر میں بھی حرکت شروع ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ دیکھ لیتی وہاں سے رخصت لے لی۔وہاں سے نکلا تو نور اور عائشہ باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا وہ چپ ہوگئی ناجانے کیا بات تھیں ان سے حال چال پوچھی اور پھر بیٹھک میں چلاگیا جو حویلی کے ساتھ تھی وہاں پر ایک مسئلہ آیا ہوا تھا ایک گاؤں کی لڑکی کو دوسرے گاؤں کے لڑکے نے بھگا لیا تھا کچھ دن اس کے ساتھ رہا پھر اس کو چھوڑ دیا اور شادئی نہ کی جس کی وجہ سے دونوں گاؤں میں کافی تناؤ تھا یہ میرا پہلا معاملا تھا ابوبھی میرے ساتھی ہی تھے ان کو کئی فیصلہ کرتے دیکھا تھا آج میں نے فیصلہ کرنا تھا خیر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکے کا نام زمان خان تھا اور لڑکی کا نام پلوشے تھا لڑکا بھی ٹھیک تھا لیکن لڑکی تو کمال تھی پانچ فٹ قد تھا بھاری سینہ سرخ و سفید رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ جو کہ ڈوپٹہ میں بھی گانڈ اور سینہ محسوس ہورہا تھا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے تو اس کے والد نے بولنا شروع کیا تو میں نے بولا آپ سے جب پوچھا جائے تو بولیں میں نے آواز زرا سخت رکھ جس سے آواز گونجی لڑکا بولا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں یہ بھی مجھ سے پیار کرتی تھی ہم بھاگ گئے وہاں ایک دوست کے گھر رہے تو ایک ہفتہ بعد دیکھا تو یہ میرے دوست کے ساتھ ناجائز حالت میں تھی پیار کا دعویٰ یہ مجھ سے کرتی ہے اور بھاگی میرے ساتھ سو میرے دوست کے ساتھ رہی تھی۔ میں نے بولا تم نے اس سے شادی کی تو وہ بولا کرنی تھی اس لیے تو بھاگایا تھا تو میں بولا کی کیوں نہیں۔تو بولا جب کسی اور کیساتھ سورہی تھی تو کیوں کرتا۔ میں بولا ایک ہفتہ کیا کرتے رہے ہو۔ وہ چپ پھر میں نے لڑکی سے پوچھا ہاں تم بولو وہ بولی سردار صاحب میں اس سے پیار کرتی تھی اور پیار میں ہی اپنے ماں پاب کی عزت کی پرواہ کیے اس کے ساتھ چلی گئی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا مجھ سے شادی نہ کی لیکن باقی سب کرتا رہا۔ جب وہ یہ بول رہی تھی تو میری اور اس کی نظریں ٹکرائی تھی میں نے بہت بار کہا شادی کرلو اس نے کہا کر لیں گے مجھے اس کی نیت میں شعبہ پتہ لگ گیا کہ یہ صرف مجھے استعمال کرے گا اور کہیں بیچ جائے گا۔ تو میں نے اس کے دوست کے ساتھ سیٹنگ کر لی اور وہاں نے جانے کا پلان بنا لیا لیکن جب میں اس کی قیمت ادا کررہی تھی تو یہ اوپر سے آگیا پھر ان دونوں نے مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا میں وہاں کسی طرح بھاگ نکلی گاؤں والے بھی ہماری تلاش میں تھے بس میں بیٹھنے لگی تو گاؤں کے لوگ بھی اڈے پر کھڑے تھے جو ٹھونڈ رہے تھے انہوں نے دیکھ لیا اور پکڑ لیا پھر انہوں نے زمان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر یہ گاؤں لے آئے۔وہ چپ ہوگئی۔ میں نے لڑکی کو بولا کہ ایک ہفتہ میں تم کا پیار اتر گیا اور تم نے ایک ہفتہ میں شادی کیوں نہ کی۔ تم دونوں ایک ہفتہ تک شادی کے بغیر رہے تم کی سزا تو یہ ہے کہ تم کو سنسار کردیا جائے لیکن میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔ کیا تم دونوں شادی کرنے کو تیارہو لڑکا بولا میں نہیں کروں گا یہ میرے دوست کے ساتھ سوتی رہی ہے میں بولا تو تم کیا کرتے رہے ہولڑکی بولی میں تیار ہوں جی۔ میں بولا زمان خان کو گنجا کر کے منہ کا لا کر کے گدے پر بیٹھا کر گاؤں گھمایا جائے اور بچوں کو اس کو پتھر مارنے کو بولا جائے۔ اور پلوشے جرم میں تم بھی برابر کی شریک ہو اس لیے تم کو چالیس ہنٹر لگائے جائیں۔ اور پھر چالیس روز تک آٹے والی چکی چلاؤ گی۔ (ہاتھ والی چکی جس سے آٹا پیستے ہیں)دونوں کو سزا سناتے ہی میں اٹھ گیا۔ کیونکہ کہ سزا پر عمل تو لشکر نے کروانا تھا جو میرے گارڈ وغیرہ کہہ لیں۔وہاں سے فارغ ہو کر میں گاڑی میں بیٹھا اور تمام گاؤں کی سیر کرنے نکل گیا مختلف گاؤں میں گھومتا رہا جہاں بھی جاتا سردار زندہ باد نے نعرے لگنے لگ جاتے۔حویلی واپس آیا کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے ناز کھانہ سرو کروا رہی تھی۔ جب وہ جارہی تھی لنگڑا کر چل رہی تھی امی بولی پتہ نہیں ناز کو کیا ہو ا صبح سیٹرھیوں سے گر گئی او ر چوٹ لگوا بیٹھی میں نے بولا بھی ریسٹ کرے لیکن بولی سارا دن ریسٹ کیا اب کام کروں گی۔ ناز کی جیسے ہی نظر ملی تو ہلکی سے سمائل پاس کی میں بھی مسکرا دیا یہ سب چھوٹی ماں دیکھ رہی تھی۔ میری ان سے نظر ملی تو میں شرمندہ ہوگیا اور نظریں جھکا لیں۔ پھر جلدی جلدی کھا نا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا نمرہ بھی میرے پیچھے آگئی صبح سے وہ بھی باہر تھی سہیلیوں کے ساتھ اب گھر آئی تھی اس نے ایک تنگ چوڑی دار پاجامہ اور لانگ شرٹ پھولوں والی پہنی تھی کاسنی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا دوستوں بتا دوں کہ نمو کا قد پانچ فٹ اورچار انچ ہے ممے اتنے بڑے نہیں ہیں 32کے ہونگے لک پتلا سا ہے اور سفید رنگ ہلکا کلابی پن ہے لمبے بال ہیں گانڈتھوڑی باہر کو نکلی ہوئی جس کی وجہ سے کمر میں خم سا لگتا ہے چلتی پھرتی بوم ہے تھوڑی دیر پہلے بولی کیسا رہا آج کا دن میں بولا اچھا گزرا میں نے اس سے پوچھا تم کا کیسا گزرا بولی اچھا گزرا کافی عرصہ بعد سب دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک دوست کی سالگرہ تھی تو سب وہاں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے بولا آج تم نے کیا کیا میں بولا کچھ نہیں گھومتا رہا اور آج ایک فیصلہ کیا پھر میں نے سب بتایا بولی کتنے ظالم ہو لڑکی کو اتنی سخت سزا دی ایک تو بیچاری کی عزت لوٹی گئی میں بولا گئی کیوں تھی بولا جب پیار ہوتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا میں نے بولا تم کو پیار کا بڑا پتہ ہے کہیں کیا تو نہیں تو پہلے تو تھوڑا گبھرا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو پھر بولی میں نے کس سے کرنا ہے تم نے کبھی کسی کو میرے ساتھ دیکھا ہے میں بولا میں تو سوا سال یہاں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا تھا ہوسکتا ہے کسی کے ساتھ ہو گیا بولی ماروں گی ایسی بات بولی میں بولا کیوں پیار کرنا جرم ہے بولی جرم ہی ہے آج ایک پیار کرنے والی کو خود ہی سزادے کر آرہے ہو میں بولا میں بولا جب تم پیار کروں گی تو تم کو سزا نہیں دوں گا بس مجھے بتا دینا اس کو تمارا بنادوں گابولی یاد رکھنا جس پر میں ہاتھ رکھوں گی اس کو میرا بنا دو گے میں بولا ہاں۔ پھر بولی یہ ناز کا کیا چکر ہے آج تمیں غور رہی تھی میں تھوڑا سا گھبرا گیا بولا مجھے کیا پتہ بولی تم نے مجھے گارڈ بنایا ہے اپنا یاد رکھنا میں بولا یا ہے۔ اتنے میں میرے نظر اس کے کھلے گلے پر پڑی تو اس کی مموں کی لکیر نظر آرہی تھی میرے جسم میں چنونٹیاں دوڑنے لگ پڑی حالانکہ کئی بار اس کو ایسے دیکھا تھا لیکن اب میری نظر شاہد بدل چکی تھی مجھے ہر لڑکی میں ناز نظر آنے لگ پڑی تھی دل میں سوچا کاش ناز کے ساتھ رات نہ گزارتا تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔ خیر پھر وہ چلی گئی جاتے وقت اس کی گانڈمٹک رہی تھی اور میں سونے کے لیے لیٹ گیا۔ تو دروازہ پر ناک ہوئی میں بولا آجاؤ تو دروازے پر چھوٹی ماں تھیں۔ وہ آگئی اور میرے بیڈ پر میرے ساتھ بیٹھ گئی۔بولی کیسے ہو میں بولا ٹھیک ہوں بولی ناز کیسی لگی میرے تو ایک بار سانس ہی خشک ہوگیا میں بولا جی کیا مطلب بولی زیادہ نہ بنو یہ جو اس کی حالت ہے نہ سیٹرھی سے نہیں گری تمہاری وجہ سے ہے میری تو آنکھوں کے آگے اندھیراسا چھا گیا میری حالت ایسی ہو گئی جیسے جان ہی نا ہو وہ ہنس پڑی بولی بدھو میں سب جانتی ہوں اور خان جی کو میں نے ہی ناز کا تم کے لیے بولا تھا چھوٹی اور بڑی امی ابو کو خان جی ہی بولیتں ہیں۔وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپاتے انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ناز کا نام بولا کہ وہ ایک تو عرصہ سے ہمارے گھر میں ہے اور وہ راز ہی رکھے گی اور تم کو پسند بھی آئے گی۔ میں اب ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا وہ بولی ادھر میری طرف دیکھو صبح تو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مجھے میں جھینپ گیا بولی یاد رکھنا عورت پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جان جاتی ہے مرد کی نگاہ کیسی ہے بولی مجھ سے کیوں شرما رہے ہو میں تم کی چھوٹی ماں ہو میں نے ہی تم کا پالا یاد کرو میں بولا جی آپ نے ہی پالا ہے لیکن بس وہ بولی بس کیا میں بولا آپ سے ایسی بات کرتے اچھا نہیں لگتا بولی دیکھتے اچھا لگتا ہے۔میرا رنگ سرخ ہوگیا میں سردار تھا لیکن ان کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا بولی فکر نہ کرویہ راز۔راز ہی رہے گا۔ اگر دوبارہ بھی طلب ہو تو اس کو بلا لینا منع نہیں کرے گی میں بولا مجھے ضرورت نہیں ہنس پڑی بولی تم کی ضرورت تو میں جان چکی ہوں ایک رات گزارنے کے بعد تم کی نظریں اب بھٹکنے لگ پڑی ہیں بولی تھوڑا احتیاط کروں اور جیسے مرضی عیش کرو تم نے بہت محنت کی ہے اب پھل کھانے کا وقت ہے۔ مجھے دوست بنا لو فائدہ میں رہو گے میں بولا جی آپ کو کیسے دوست بنا لوں آ پ ایک تو مجھ سے بڑی ہیں اوپر سے ہمارا رشتہ ایسا ہے بولی میں تم کی چھوٹی ماں ہوں میں نے تم کو پالاآج سے ہم دوست ہیں دوسری بات دوستی میں رشتہ داری یا عمرنہیں دیکھی جاتی دوستی دیکھی جاتی ہے میں نے ہاتھ آگے کیا انہوں نے بھی کیا اور ہمارے ہاتھ مل گئے بولی یاد رکھنا دوستی کو میں بولا جی بولی دوستی کا مطلب پتہ ہے نا میں بولا جی بولی کہ جو بھی ہو مجھ سے مت چھپانا میں تم کا ہرطرح سے ساتھ دوں گی۔ پھر پوچھا ناز کیسی لگی میں چپ رہا بولی اب تو ہم دوست ہیں میں نے دھیرے سے بولا اچھی لگی بولی کھل سے بولا نا کیسی لگی مجھ سے مت شرماؤ میں بولا بہت مست تھی بولی ہاں یہ ہوئی نہ بات۔ بولی کچھ بھی چاہیے تو مجھے بولنا میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر وہ جانے لگی دروازے کے ساتھ جا کر بولی میں ناز کو بھیجتی ہوں کہ تم کی تھکان اتارے اور ہنس کر باہر چلی گئی۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر5:۔ ناز نے بستر سے اٹھنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑی میں نے اُٹھ کر اسے سنبھالہ اور کمرے کے اٹیچ واش روم تک لے گیا کیونکہ میرا گاڑھا مال اس کے پورے جسم پر تھا کیونکہ اس نے پینے کی کافی کوشش کی لیکن سارا نہ پی سکی تو باقی اس کے جسم پر مموں پر، پیٹ پر گرا۔ تھوڑی دیر بعد ناز لنگڑاتی ہوئی باتھ سے ننگی ہی باہر آئی اور اپنے کپڑے اٹھا کر پہننے لگی بولی آج کے لیے اتنی تعلیم بہت ہے تم نے میرا برا حال کردیا آج تو پہلی بار تھا پتہ نہیں تم کے ہاتھ کوئی لڑکی لگی تو اس کی کیا حالت ہو گی اس کو دیکھ کر میرا لن پھر سے کھڑا ہونے لگا جس کو دیکھ کر ناز بولی یہ تو پھر کھڑا ہوگیا اب شیر کے منہ خون لگ گیا ہے یہ کہاں سکون سے رہنے والا ہے لیکن اب مجھ میں اتنی جان نہیں بچی باقی تعلیم کل دوں گی اور ویسے بھی صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو صبح کے چار بج رہے تھے اور رات تقریباً 12بجے ناز آئی تھی۔خیر صبح اٹھا اور جم گیا وہاں پر ابو پہلے ہی موجود تھے بولے کیسی رہی رات میں نے سرجھکا لیا تو ابو بولے تم کی شرم نہیں اتاری اس نے میں بولا ایسی بات نہیں آپ میرے ابو ہیں اس لیے آپ سے ایسی بات کرتے ہوئے عجیب لگ رہا ہے تو بولے ہم دوست بھی تو ہیں نا اس لیے تو دوست نے تحفہ دیا ہے تم کی جیت کا پھر ہم ہنسنے لگے جم سے فارغ ہو کر میں نے یوگا کیا اور پھر سٹیمنا بڑھانے والی مشقیں کیں پھر جسم پر مالش کی اور آج لن پر تیل لگاتے ہی کھڑا ہوگیا پہلے کبھی کبھی ایسا ہوتا لیکن آج تو تیل لگتے ہی لن تیر کی طرح سیدھا ہوگیا خیر میں نے ایسے ہی واش روم گیا نہایا اور ایک فارمل شلوار قمیض پہن کر باہر ناشتے کی ٹیبل پر اگیا نہانے سے لن میں سختی ختم ہو گئی سب ناشتے میں موجود تھے۔نور آپی بولی افی تم ٹریٹ کب دے رہے ہو میں بولا آپی جب آپ بولوں عائشہ بولی تم تو ہروقت نمرہ کے ساتھ رہتے ہو ہم تو جیسے تم کی بہنیں ہی نہ ہو وہ ایک تم کی بہن ہو میں بولا ایسا نہیں آپ بھی میری اتنی ہی بہنیں ہو تو عائشہ بولی آج کا پورا دن ہمارا تم سرداربن گئے ہو لیکن گھر میں ہمارے وہی افی ہو میں بولا ڈن چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں کافی عرصہ ہوگیا کہیں گھومے ہوئے ٹریننگ کی وجہ سے کہیں گھومنے نہیں جاسکے۔ ابھی ہم یہ بات کرہی رہے تھے کہ پتہ نہیں جو ملازمہ کھانہ ٹیبل پر رکھ رہی تھی سلپ ہوئی اور اس کا ہاتھ پانی کے بھرے ہوئے جگ پر پڑا اور سارا پانی چھوٹی ماں پر گر گیا پانی گرنے کی وجہ سے چھوٹی ماں کے سارے کپڑے گیلے ہوگئے اور ان کی بھاری مموں پر کالی برا واضح نظر آنے لگ پڑی میرے نظر جیسے ہی ان کے گیلے جسم پر پڑی تو میرے لن نے سر اٹھانہ شروع کردیا وہ بھی مجھے بتائے بغیر میں چور نظروں سے چھوٹی ماں کے گیلے جسم کو دیکھی جارہا تھا کہ اچانک ہمارے نظریں ٹکرائی میں نے فوراً نظر جھکا لی نیچے دیکھا تو لن تمبو بنا ہوا تھا۔ مجھے بہت سخت شرم آئی کہ وہ میری چھوٹی ماں ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو لیکن پہلے ایسا کبھی خیال کیا بھی نہیں لیکن کل رات ناز کے ساتھ گزاری رات نے میری دنیا ہی بدل دی تھی جو چیز مجھے سے 22سال دور رہی اب اچانک ملنے پر مجھے پر قابو نہ رہا تھا میں نے خود کو بہت کوسا کہ وہ میری چھوٹی ماں ہیں ایک بار پھر نظر اٹھائی تو چھوٹی ماں مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگیا اور بیڈ پر لیٹ گیا کہ چھوٹی ماں میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوں گی۔ خیر تھوڑی دیر گزری تو نور آپی اور عائشہ آگئی میں نور کو آپی بولتا لیکن عائشہ کو عائشہ ہی بولتا اور نمرہ کو تو نمو بولتا تھا لیکن گھر میں سب مجھے افی کہتے تھے۔ ہم نے اسلام آبا د جانے کا پروگرام بنایا جو کہ ہمارے گاؤں سے 70کلو میٹر دور تھا سب کو تیار ہونے کا بول کرخود بھی تیار ہوگیا لیکن میں نے ایک پنڈلی میں وہ ٹاٹینیم والا خنجر جو ابو نے دیا تھا اور دوسری میں پسٹل جو شر خان کے والد نے دیا تھاباند ھ لیا۔ یہ اب میری زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ میں نے گاڑی نکالی تو گارڈبھی گاڑیاں نکالنے لگے مجھے ڈرائیو کرنے کا شوق تھا اس لیے میں اپنی گاڑی خود چلاتا تھا میں نے گارڈ کو رکنے کو بولا تو جو گارڈ کا انچارج تھا بولا صاحب ہمیں ہماری ذمہ داری پوری کرنے دیں اب آپ سردار ہیں میں نے بولا میں اپنے پرائیوٹ کام سے جارہا ہوں فیملی کے ساتھ اس لیے گارڈ کی ضرورت نہیں لیکن وہ بولا بڑے صاحب نے خاص حکم جاری کیا ہے کہ اب آپ کو اکیلے کہیں جانے نہ دیں میں بولا میں سردار ہوں تم کا میں حکم دیتا ہوں کہ رک جاؤ وہ سب واپس چلے گئے میں نے پراڈو نکالی جو کہ چاچو نے گفٹ کی تھی اتنے میں سب بہنیں آگئیں نور، عائشہ، اور نوشے، نمرہ لیکن ساتھ چھوٹی ماں بھی تھیں جنہوں نے ایک ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھیں انہوں نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا بڑی امی اتنی پرھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ بہت پڑھی لکھی اور ماڈرن تھیں سوٹ انہوں نے فٹنگ والا پہنا ہوا تھا۔ جن کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں نیچے ہل چل ہونے لگی میں نے جلدی سے سامنے کی طرف دیکھنا شروع کرددیا باقی سب پیچھے بیٹھ گئے اور چھوٹی ماں آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی انکے جسم سے گوچی پرفیوم کی خوشبوآرہی تھی خیر ہم نکلے میں نے درمیانی سپیڈ ہی رکھی کیونکہ اتنی جلدی تو تھی نہیں ایک گھنٹے تک ہم شہر پہنچے وہاں سارا دن ہلہ گلہ کیامیں سردار تھا لیکن تھا تو میں بھی ابھی جوان ہوا خیر سب نے شاپنگ کی جو کہ اسلام آباد کے ایک بڑے مال سے کی جو کہ ہمارا ہی تھامینجر نے خود سامان گاڑی میں رکھوایا پھر ایک ریسٹورینٹ میں کھانا کھایا ہم سب نے بہت انجوائے کیا لیکن جب بھی میری اور چھوٹی امی کی نظریں ملتی تو میری ڈھرکن تیز ہوجاتی پتہ نہیں کیابات تھی رات کا اثر تھا یا ان کے دیکھنے کا یا ان کے جسم کا حالانکہ میں نمرہ سے جتنا فری تھا اس کو کبھی ایسی نظر سے نہیں دیکھا یا دوسری کسی لڑکی کو ایسی انظر سے نہیں دیکھا۔ جب کھانہ کھارہے تھے تو مجھے صبح والا منظر بار باریاد آرہا تھا۔ میری نظر بار بار چھوٹی امی کی طرف جارہی تھی۔جب بھی چھوٹی امی سے میری نظر ملتی تو میری نظریں جھک جاتی۔ خیر ہم واپس آگئے اور میں اپنے کمرے میں اگیا۔جب کے سب اپنی اپنی شاپنگ دیکھ رہی تھیں۔ کچھ مہمان آئے مبارک باد ینے اور کچھ شکایت لے کر آئے جس کو میں نے سنا جتنی بھی شکایتں ہوتی سن کر جمعہ والے دن شام کے وقت ان کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ یہ وہ فیصلہ جات ہوتے جو گاؤں کے سربراہ نہ کرسکتے یا کوئی بڑا مسئلہ ہوتا۔ رات کھانا کھایا پھر کمرے میں جم میں جا کر واک کرنا میری روٹین میں شامل تھیں پھر میں روم میں آگیا آج صبح سے میں نے ناز کو نہیں دیکھا تھا۔ حالانکہ وہ ہیڈ تھی خیر میں نے نہا کر سونے کے لیے لیٹا تھا کہ دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو ناز آگئی اور دروازہ بندکرتے ہوئے میرے پا س آگئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی آج تو قیامت بن کر آئی تھی بہت ہی ٹائیٹ فٹنگ والا سوٹ پہناتھا جس سے اس کے ابھار واقع ہورہے تھے۔ اس کو دیکھتے ہی میرے لن میں حرکت ہوئی۔ ناز بولی آج تم کی باقی تعلیم پوری کروں گی میں ہنس دیا میں بے بولا آج سارادن نظر نہیں آئی بولی کل جو حالت تم نے میری کی تھی توکیسے نظر آتی سارادن آرام کیا بخار رہا اب بھی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن تم کے کو تعلیم دینے کی ذمہ داری میری ہے تو میں آگئی میں بولا کوئی بات نہیں تم کل آجانا بولی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ بڑے صاحب نے اتنے لوگوں میں مجھے چنا اور آپ کا کنوارہ پن مجھے ملاپھر بولی آج جو کل میں نے سکھایا تھا تم کرو مجھے پتہ چلے کہ تم کتنا سیکھ چکے ہو میں فوراً اٹھا اور اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگادیا اور کسنگ کرنا شروع کردی اور ساتھ ہی ہاتھ اس کی باہر کی نکلی ہوئی گانڈ پر رکھدیااور زور سے کسنگ کرنے لگے کبھی اوپر والے ہونٹ کو چوستا کبھی نیچے والے کو وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی پھر میں نے اس کی قیمض کو پکڑا کر اوپر اٹھانا شروع کردیا تو انے بازو اوپر کردیے میر اقد لمبا تھا اس لیے میں نے قیمیض پکڑ کر باہر نکالنے لگا لیکن قمیض بہت ٹائیٹ تھی اس کے مموں پر اٹک گئی لیکن میں نے زور لگا کر گلے سے نکال لی اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ پھر میں اس کے 38سائز کے مموں پر ٹوٹ میں نے برا کو بھی اتار دیااور اس کے مموں کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ ناز نے بھی سسکنا شروع کردیا میرا لن پورا کھڑا ہو کر اس کے پیٹ پر لگ رہا تھا کیونکہ میرا قداس سے لمبا تھا۔ میں نے پکڑ اس کو گھمایا اور اس کی کمر اور کندھوں کو چومنا شروع کردیا اس نے ہاتھ میرے لن پر رکھ لیا اور ٹراؤز ر کے اوپر سے ہی آگے پیچھے کرنا شروع کردیا میں نے اس کی شلوار بھی اتاردی اور اس کے پاؤں سے نکال دی اب وہ پوری ننگی تھی میں نے بھی اپنے کپڑے اتارے اور اس کو لے کر بیڈ پر آگیا اور اس کے اوپر لیٹ کر چومنا شروع کردیا پھر مموں کو پکڑ کر چوستا کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو پھر میں نیچے آگیا اور اس کی پھدی پر زبان پھیر ی پھر اس کو چوسنا شروع کردیا جس سے وہ بار بار اچھل جاتی پھر اس کی سسکیاں بلند ہوگئی پھر ایک بار اچھلی و ساخت ہوگئی اس کی پھدی نے گرم گرم پانی بہانا شروع کردیا جو میں نے پی لیا اس کو سانس لینے دیا پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا وہ پھر سے گرم ہوگئی میں نے اپنے لن کو اس کے منہ کے قریب کیا جو اس نے منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کردیا آج اس نے ٹوپی پوری منہ میں لے لی تھی اور اس کو چوم رہی تھی زبانی کی نوک سے سوراخ میں داخل کررہی تھی میں مزے کی بلندیوں پر تھا پھر جب براداشت نہ ہوا تو میں نے اس کو بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی پھدی پر لن کی ٹوپی پھیر جو کہ لیس دار مادے سے چکنی ہوگئی کچھ پہلے ہی اس کے تھوک سے چکنی تھی میں نے اس کی پھدی پر لن رکھا تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا فکر نہ کرو آج میں تم کو زرا بھی درد نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے ایک گھسا ہلکا مارا میرے لن کی ٹوپی اندرگھس گئی اس کے منہ سے لمبی سی سسکاری نکلی میں نے پھر ایک گھسا مارا تو میرا آدھا لن اند ر گھس گیا اس کے منہ سے چیخ نکلی میں وہیں رک گیا اور اس کے مموں کو چوسنے لگا اور کسنگ کرنے لگا اور آہستہ آہستہ لن اتنا ہی اند ر باہر کرنے لگا اس کو بھی جو ش آنے لگا اور وہ بھی مزے سے انجوائے کرنے لگی بولی تیز کرو میں نے سپیڈ بڑھا دی اور تیزی سے اندر باہر کرنے لگا اس کے بڑے خربوزے سائز کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے جس سے میر ا جوش بڑھ رہا تھا پھر اس کا جسم اکڑنے لگا اور میں نے اپنے لن پر گرم گرم پانی محسوس کیا تو لن اندر پوری روانی سے چلنے لگا میں نے باہر نکا ل کر زور سے گھسا مار ا تو میرا پورا لن ناز کے اند ر تھا اوراس کے پیٹ کے اندر کسی چیز سے ٹکرایا ناز نے زور سے چیخ ماری لیکن میں رکا نہیں اسی سپیڈ سے لگا رہا اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تو میں رک گیا اور باہر نکا ل لیا اور اس کے منہ کے قریب لن کیا اس نے فوراً منہ میں بھر لیا اور چوسنا شروع کردیا پھر میں اس کے برابر لیٹ گیا تو ناز بولی تم تو اب کافی ماہر ہوچکے ہو آج سب تم نے کیا میں ہنس دیا کہ استا د اتنی اچھی ہو تو کیسے نا سیکھتا میں پھر اس کے اوپر آگیا ایک ہی گھسے میں آدھے سے زیادہ اس کے اندر کردیا اور دوسرے گھسے میں سارا اند ر وہ زور سے چیخی بولی تم میری جان لے کر رہو گے تم کا میرے اند ر کسی چیز سے ٹکراتا ہے مجھے بہت در د ہوتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا اس کو پھر جوش آنے لگا میں نے سپیڈبڑھا دی میں زور سے دھکے لگانے لگا۔ اس نے چیخنا شروع کردیا میں نے پرواہ نہ کی پھر اس کا جسم اکڑ گیا اور وہ فارغ ہوگئی لیکن میں ابھی فارغ نہ ہوا تھا میں نے دھکے جاری رکھے اور تیزی سے دھکے مارتا رہا وہ چیختی رہی مجھے اس پر ترس آگیا میں رک گیا مجھے خود پر کنٹرول تھا۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی میں نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پیااور اس کو پیار سے سہلایا تھوڑی دیر بعد بولی اب آخری راستہ بچا ہے منہ کا بھی استعمال سیکھ لیا اور پھدی کا بھی اب گانڈ کی باری ہے گانڈکا نام سن کر میرے لن نے جھٹکا گیا کیونکہ اس کی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی تھی اور پٹھانوں میں گانڈ نہ ماری جائے یہ تو ہونہیں سکتا۔ وہ بولی بات تو مرنے والی ہے لیکن کیا کروں بڑے صاحب سے وعدہ کیا ہے کہ اب مروں یا جیوں بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا ٹھیک ہے پھر اس نے بولا تیل اُٹھا لاؤ میں سائیڈ ٹیبل پر پڑا تیل اٹھایا اور اپنے لن پر لگایا جو کہ پھدی کے پانی سے پہلے ہی گیلاتھا پھر اس الٹی ہو کر لیٹ گئی اور پھدی کے نیچے تکیہ رکھ لیا جس سے اس کی گانڈ واضح ہوگئی اس کی گانڈ کا سوراخ ہلکا براؤن تھا میں نے سائیڈ پر چوما اورپھر اس کی گانڈ میں تیل لگایا اور انگلی سے تیل اند ر کیا اور انگلی داخل کی تو چکنی انگلی آرام سے داخل ہوگئی جس کا مطلب تھا اس کی گانڈ کافی لوز تھی میں نے اچھی طرح تیل لگایا پھر میں نے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کی سوراخ رکھی اور ایک ہلکا سا کھسا مارا جس سے میرے لن کی ٹوپی اندر چلی گئی اس کے منہ سے سسکی نکلی پھر دوسرا گھسا مارا تو آدھا لن اندر گھس کیا اس نے ہلکی سی چیخ ماری لیکن کوئی خاص حرکت نہ کی میں نے یہ دیکھتے ہوئے ایک جاندار گھسا مارا میرا سارا لن اس کے گانڈ میں گھس گیااس نے زور سے چیخ ماری لیکن اس کو اتنا در د نہ ہوا اور میرا لن آرام سے اندر جانے لگا اور میں زور سے دھکے لگانے لگا وہ بھی اپنی گانڈ کو پورا میرے لن کی طرف کرتی لگتا ہے پھدی سے زیادہ اس کی گانڈ بجی ہے میں نے بھی جان دار گھسے مارنے شروع کردیا اور اس کو گھوڑی بنا لیا اور اس کی کمر سے پکڑ کر اس کی گانڈ مارنے لگا اور وہ بھی جوش میں مروانے لگی لگتا ہے پھدی سے زیادہ گانڈ شوق سے مرواتی ہے۔ آخر کار مجھے اپنے لن میں پورے جسم کی جان محسوس ہوئی اور میں اس کی گانڈ میں فارغ ہونے لگا ساتھ ہی اس کا جسم بھی اکڑا اور وہ بھی فارغ ہو گئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور وہ میرے نیچے میرے لن سے منی اس کے اندر خارج ہورہی تھی پھر میں سائیڈ پر ہوا تو لن پھک کی آواز سے باہر نکلااور میرا مال اس کی گانڈ سے بہنے لگا۔ اس کے جسم میں جان ہی نہ بچی تھی میں اٹھا اس کو پانی پلایا اور واش روم لے گیا اور صاف کیا کپڑے پہنائے اس کو جوس کا گلاس دیا فریج سے نکا ل کر میرے کمرے میں چھوٹی فریج تھی جس میں فروٹ اور جوس اور پانی وغیرہ ہوتا میرا اس طرح اس کا خیال کرنا اچھا لگا اس کو میں نے ناز کو بولا تم پہلی عورت ہو جو میری لائف میں آئی اور مجھے مرد بنایا میرا کنوارہ پن ختم کیا میں تم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس نے مجھے چوم لیا بولی میں تم کی خادم ہوں جب بولا حاضر ہو جاؤں گی۔ پھر ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے جب گھڑی نے 5بجائے تو وہ جانے لگی بولی اب تم عورت کے جسم سے آشنا ہوچکے ہو اور تم کے نیچے ایک بار جو آگئی وہ پاگل ہوجائے گی عورتوں کو ظالم مرد زیادہ پسند آتے ہیں تم تو جان نکال دیتے ہو میں نہایا اور کپڑے پہنے اور جم میں چلا گیا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
قسط نمبر2:۔ دوستوں یہاں سے کہانی سکپ کرتا ہوں سیدھے وہاں چلتے ہیں جہا ں میری ٹریننگ ختم ہوئی اور میں گھر جانے کے لیے تیار تھا۔ میرے استاد کرنل صاحب نے ایک نصیحت کی تھی کہ دماغ کو ٹھنڈا رکھوگے کبھی بھی ہارو گے نہیں جہاں تم نے جلد بازی اور گرم دماغ سے کام لیا وہاں تم ہار جاؤگے باقی تم اب ہر طرح تیار ہو۔ ان پندہ ماہ میں میرا گھر والوں سے کوئی رابطہ نہ تھا کیوں کہ ہم جنگلات میں ٹریننگ کرتے تھے۔ میں کبھی اپنی بہن نمرہ سے اور باقی سب سے اتناعرصہ جدا نہ رہا تھا لیکن روزانہ ٹریننگ 20گھنٹوں کی ٹریننگ نے مجھے سب کچھ بھلا رکھا تھا لیکن جیسے ہی میں گاڑی میں بیٹھا تو سب کی یا د آئی وہ ماں کا اپنے ہاتھ سے کھانہ کھیلانا، چھوٹی ماں کی گود میں سر رکھنا، نمرہ کے ساتھ مستی کرنا سب یا د آنا شروع ہوگیا۔ جب گھر پہنچا تو وہاں جشن کا سماں تھا سب گھر والے اکھٹے تھے اور کچھ رشتہ دار بھی تھے۔میں سب سے ملا لیکن مجھے نمرہ نظر نہ آئی میری بے چین نظریں نمرہ کو ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن وہ نظر نہ آئی میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جب سے تم گئے ہو وہ بیمار رہنے لگی ہے اپنے کمرہ میں ہوگی میں وہاں بھاگا نمر ہ کے کمرہ میں وہا ں دیکھا تو نمرہ لیٹی پڑی تھی لیکن وہ نمرہ نہ تھی جس کو میں یہاں چھوڑ گیا تھا بہت بیمار لگ رہی تھی اور جیسے میں کمرہ میں گیا تو نمرہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی میں تڑپ گیا میری جان مجھ سے بات نہ کرے ایسا تو کبھی نہ تھا میں بھاگ کر اس کے پاس گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے صرف اتنا کہا کہ افی تم مجھے کیوں چھوڑ گئے تھے پھر ہم دونوں رونے لگ پڑے میں نے اس کو کھینچ کر گلے لگایا اور کافی دیر اس کو اپنے آپ سے چپکائے رکھا پھر باقی گھر والے بھی آگئے تو چھوٹی امی نے کہا کہ تم کے جانے کا اتنا اثر لیا کہ اتنا بیمار ہوگئی چل پھر بھی نہ سکتی ہے میں نے بولا اب میں آگیا ہوں نہ اب یہ ٹھیک ہوجائے گی جلد ہی۔ پھر سب کو دھیان آیا کہ میرے میں کتنا چینج آگیا ہے ان پندہ ماہ میں میرا قد تو پہلے ہی 6فٹ تھا اور باڈی مضبوط تھی لیکن اب میرے باڈی کی الگ ہی لک تھی بھرا جسم 6پیک مضبوط بازو اور لمبی مضبو ط ٹانگیں سرخ و سفید رنگ لمبے اور گھنے بال جو کہ ایک خاص ترتیب میں تھے۔ اس وقت میں ٹراؤز ر میں تھا۔ اور فٹنگ والی شرٹ پہن رکھی تھی جو کہ میری باڈی سے چپک رہی تھی جس وجہ سے میری باڈی نمایا ں لگ رہی تھی اور الگ ہی لک دے رہی تھی۔ امی نے بولا میرا بیٹابہت پیارا لگ رہا کسی کی نظر نہ لگے۔پھر رات کو جشن منایا گیا نیاز بانٹی گئی اور صدقے کے بکرے ذیبہ کیے گیے۔ اب مقابلہ کا دن قریب آرہا تھا تو میرا زیادہ تر وقت ٹریننگ میں ہی گزرتا تھا اب نمرہ پہلے سے بہت بہتر ہوگئی تھی اس کے چہرہ پر زندگی کی رونک لوٹ آئی تھی جب میں ٹریننگ سے فری ہوتا تو زیادہ وقت ہم ساتھ گزارتے آخر وہ دن بھی آگیا جس کا لوگ 25سالوں سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر ایک بڑے میدان میں انتظام کیا گیا اور انتظام سابقہ سربراہ کی طرف سے ہوتا جو نیا سربراہ ہوتا اس پر اپنی دستار رکھ کر اس کو سارے اختیار سونپتا۔سب سے پہلے جو لوگ اہل تھے ان کی چھانٹی کی گئی جو کہ کیوں بڑے خاندانوں کے لوگ ہی حصہ لے سکتے تھے اور ان کی عمر اور باقی سب چیزوں کی پڑیا ل کی گئی تو مقابلے پر 51امیدوار بنے۔ اب ان کے درمیان تین مقابلہ جات ہونے تھے 1۔ نشانہ بازی 2۔ تیراکی 3۔لڑائی۔ مقابلے شروع ہوچکے تھے سب سے پہلے نشانہ بازی کا مقابلہ ہوا جس میں پہلے نمبر پر آیا تھا میری بچپن سے ہوئی ٹریننگ اور ماہر استاتذہ بہت کام آیا۔ دو سرا مقابلہ تیراکی کا ہوا جس میں تیسری نمبر پر آیا پہلے ان مقابلوں کا مقصد تھا کہ آخری مقابلہ میں کم امیدوار ہوں اب 20 امیدوار رہ گئے تھے جن کے درمیان مقابلہ ہونا باقی تھا ایک سابقہ سربراہ کا بیٹا شیر خان بھی تھا جو کہ تیراکی میں پہلے نمبر پر اور نشانہ بازی میں دوسرے نمبرپرآیا تھا اور وہ بھی اچھا اور طاقتور امیدوار تھا۔ ا سکے اور میرے نمبروں میں 2نمبر کا فرق تھا۔ پھر دوسرے دن مقابلہ شروع ہوئے اور میں جیتتا رہا اب آخری مقابلہ میرا اورشیر خان کا تھا جو کہ دوسرے دن ہونا تھا۔ گھر واپس آیا تو سب نے بہت مبارک دی نمرہ میرے گلے لگی۔ سب بہت خوش تھے۔ میرے جسم پر کافی ضربات آئیں تھیں کیونکہ مقابل بھی پتہ نہیں کیسی کیسی تیار ی کے ساتھ آئے تھے۔ لیکن مجھے ان ضربات کا کوئی اثر نہ تھا میرا جسم پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔ اگر یہ ضربات کسی دوسرے کو لگتی تو وہ شاہد زندہ بھی نہ رہتا۔ لیکن مجھے اتنا مسئلہ نہ تھا۔ میں سونے چلاگیا صبح اُٹھا نماز پڑھی اور اپنے لیے دعا کی۔ اور سکون سے مقابلہ کی تیاری کرنے لگ پڑا کیونکہ کچھ دیر میں مقابلہ تھا۔ میرا حریف بھی بہت طاقتور تھا گھر میں سب سے ملا اور دعا لی سب نے بولا کہ ہم تب تک دعا کریں گیں جب تک تم جیت نہیں جاتے میری سب بہنیں اور دونوں مائیں تھیں۔ ہم جلوس کی شکل میں میدان میں گئے اور میں نے سجدے میں گر کر د عا کی میرے ابو نے کہا بیٹا آج مجھے یہ خوشی دے دے پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ میں کہا ابومیں اپنی پوری کوشش کروں گاابو بولے کوشش نہیں تم نے جیتنا ہے میں تم کا مقابلہ نہیں دیکھوں گامجھے جیت کا ڈھول سننا ہے۔ (یہ روایت تھی کہ جس خاندان کا امیدار جیتتا اس کی ایک خاص دھن بجائی جاتی) پھر میں اور شیر خان مقابلہ میں اُترے وہ واقع شیر خان تھالیکن میں نے بھی بتادیا کہ میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں شروع شروع میں تو لوگوں میں جوش خروش رہا لیکن ہمارے لڑائی لمبی ہوتی گئی۔ ہمیں لڑتے ہوئے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ لیکن آخر شیر خان غصہ میں آگیا اور یہی اس کی غلطی تھی آخر مجھے موقع مل ہی گیا اس نے مجھے راؤنڈ ہاوس کک ماری لیکن میں پہلے ہی پہلو کے بل ہوگیا میں نے اس کو گھوم کر نی لاک لگایا جو کہ میرا سپیشل تھا اس سے موت تو چھڑا سکتی تھی لیکن اور کوئی نہیں شیر خان نے بہت کوشش کی لیکن آخر کا ر اس کو ہار ماننا پڑی اور میں جیت گیا پہلے تو سب پر سکتہ ہوگیا کیونکہ شاہد کسی کو امید نہیں تھی کہ شیر خان ہارے گا۔ لیکن میں جیت گیا اور سجدے میں گرگیا اور رو رو کر شکر ادا کیا ادھر بہت شور و غل تھا آواز سنائی نہ دے رہی تھی فائرنگ آتش بازی ڈھول پتہ نہیں ابونے کیا کیا انتظام کیا ہوا تھا سب نے مجھے کندھوں پر اُٹھالیا اور میرے ارد گرد گھیرا ڈال کر ناچنے لگ گئے۔ آج رات میری دستار بندی تھی اور جشن تھا میں جلوس کی شکل میں حویلی پہنچے ہمار ا ڈیرہ جس کو ہمارے علاقہ میں بیٹھک بولتے ہیں گھر سے ساتھ ہی ہے اور تین کنال پر مشتمل ہے جس میں گھاس کے تین لان ہیں اور کئی کمرے ہیں مہمانوں کے لیے اور بیٹھنے کے لیے چھتریاں لگی ہوئی ہیں اور کرسیاں بنی ہوئی ہیں درمیان میں جگہ خالی ہے۔ وہاں پر ڈھول پر ناچ ہو رہا تھا فائرنگ ہورہی تھی ہر طرف جشن کا ماحول تھا میں کچھ دیر کے لیے رخصت لے کر حویلی گیا اور جیسے ہی حویلی داخل ہوا سب میری طرف دوڑے آئے اور مجھ سے لپٹ گئے سب نے بہت بہت مبارک باد دی۔ قسط نمبر3:۔ رات اسی بڑے میدان میں سب جمع تھے اور جشن کا سماں تھا مجھے کسی طرح دلہے کی طرح سجایا گیا تھا مطلب بہت بہترین لباس خوچی پٹھانوں کا خاص لباس ہے پہنایا گیا اور تیار کیا گیا۔ بہت بڑا مجمع تھا کیونکہ 25گاؤں کے لوگ اکٹھے تھے۔ پھر میری دستا ر بندی شروع ہوئی اور سابقہ سربروہوں نے میرے والد سے دستار لے کر میرے سر بر رکھی اور جیسے ہی رکھے بہت شور ہوا بہت فائرنگ ہوئی۔ پھر بڑے خاندانوں نے تحائف دیے۔ میرے والد نے ایک بہت ہی خوبصورت خنجر جس کی دستہ سونے کا اور میٹل پلاٹینم تھا جس سے لوہے کو بھی کات سکتے ہیں اور اس کی دھار اتنی تیز تھی کہ گلے پر رکھنے کی دیر ہے گلہ الگ۔ اور سابقہ سردار نے ایک بہت ہی خوبصورت پسٹل دیا جو کہ اس نے شیر خان کے لیے رکھا تھا لیکن جیت میں گیا تو اس نے کہا کہ یہ تحفہ سردار کے لیے رکھا تھا اب آپ سردار ہیں تو تحفہ آپ کا ہوا۔ اسی طرح رات تک تقریب جاری ہی اور جشن رہا ناچ گانا چلتا رہا اور بہت سے رقاسائیں ناچتی رہی۔ آخر کار میں اپنے ابو کے ساتھ واپس حویلی آگیا کیونکہ تین دن سے مقابلہ جات کی وجہ سے تھگ گیا تھا اور شیر خان کے ساتھ مقابلہ نے تھکا دیا تھا وہ واقع شیر تھا۔ لیکن میں بھی شیر کی سواری کر ہی ڈالی۔ جیسے ہی حویلی داخل ہوا وہاں کا ماحول بھی جشن کا تھا سب رشتہ دار عورتیں ناچ گا رہی تھی اور جشن چل رہا تھا۔ وہاں پر بھی مجھے بیٹھایا گیا اور سیپشل رقس پیش کیا گیا۔ پھر سب نے مجھے تحفے دیے۔ میرے چچا نے مجھے پراڈو کی چابی دی۔ میری امی نے مجھے ایک لاکٹ دیا جس میں ہیروں سے۔۔۔۔لکھا تھا جو میں نے چوم کر گلے میں ڈال لیا۔ چھوٹی امی نے مجھے آئی فون دیا۔ نور آپی نے مجھے ایک لیپ ٹاپ دیا۔ عائشہ نے مجھے ایک گولڈ واچ گفٹ کی۔ نمرہ نے مجھے ایک ہیوی بائیک کی چابی دی۔ آخر کار میں تھک ہا ر کر تین بجے کمرے میں پہنچا ا ور سوگیا۔ صبح اٹھا اورصرف دو گھنٹے ہی سو پایا تھا کیونکہ بچپن سے عادت تھی جلدی اٹھنے کی پھر جم میں گیا کیونکہ اس کے بغیر تو ایک دن بھی نہیں رہا جاتا اب بچپن کی عادت ہے پھر اب میں سردار بن گیا تھا تو اپنے آپ کو فٹ رکھتا اور بھی ضروری تھا بچپن سے ابو اور میں مل کر ہی اٹھتے اور جم جاتے پھر شوٹنگ پریکٹس کرتے ہیں پھر سوئمنگ کرتے اور پھر گھر جاتے۔ آج بھی یہی کیا۔ میرے ابو مجھ سے بہت خوش تھے۔ کیونکہ ان کا خواب میں نے پورا کردیا تھا۔ ابو نے کہا کہ آج سے تم اپنی مرضی کی زندگی جیو ہر پابندی ختم ہے جو قسم دی ہوئی تھی وہ بھی ختم اب تم ہرقسم کی پابند ی سے آزاد ہو جیسے چاہو مرضی کرو۔ آج رات ایک تحفہ میری طرف سے ہے سردار بننے کی خوشی میں اور وہ تم کو وہ تعلیم دے گی جس سے تم عورت سے کبھی مات نہیں کھاؤ گے میں نے سرجھکا لیا اور وہ ہنس پڑے بولے اسی لیے یہ تعلیم ضروری ہے کہ تم عورت سے بھی آشنا ہوجاؤ۔ خیر ناشتے کی ٹیبل سب موجود تھے اور سب ہی مجھ سے ٹریٹ مانگ رہے تھے۔ تو میں نے بولا آپ لوگ پروگرام بنا لو جہاں بولوگے لے چلوں گا۔ دوستوں ایک بات اور بتاتاچلوں کے شروع میں سٹوری کی ٹیمپو تیز رکھی ہے تاکہ بیگ گراؤنڈ آپ کی سمجھ میں آجائے اب سٹوری نارمل چلے گی۔ دن میں بیٹھک میں ہی رہا جوہ کے گھر سے ساتھ ہی ہے وہاں سارا دن مہمان آتے رہے اور مبارک با د دیتے رہے جن میں اس علاقہ کے ایم این اے، وزیر، اور پولیس آفسران بھی شامل تھے کیونکہ میں اب سردار تھا اور 25گاؤں کا سربراہ تھا جن کی آباد 15سے 20لاکھ تھی جو میرے ایک اشارے پر کچھ پر کر سکتے تھے۔ خیر رات ہوگئی میں حویلی واپس آگیا اور کھانے کی ٹیبل پر سب میرا انتظار کرر ہے تھے ہم سب نے کھانہ کھایا اور اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ میں ابھی کمرے میں ہی پہنچا تھا کہ نمرہ میرے کمرے میں آگئی وہ ایسے ہی آجاتی تھی کبھی ناک نہیں کرتی تھی۔ بولی افی تم جب سے آئے ہو میرے ساتھ وقت نہیں گزار رہے میں نے کہا یا ایسی کوئی بات نہیں تم کے سامنے ہی ہے کہ جب سے آیا ہوں مجھے وقت ہی نہیں ملا اب وقت ہی وقت ہے تم کے ساتھ ہی گزاروں گا۔ بولی افی اب تو تم پر لاکھوں لڑکیاں مرے گی میں نے بولا کیوں میں زہر ہوں جو مجھ پر مریں گے وہ ہنس پڑی اور بولی نہیں یار اب تم سردار ہو اور ویسے بھی تم بہادر،خوبصورت او ر ایک آئیڈئل بن چکے ہو تو لڑکیاں تم پر مریں گی ہی میں نے کہا اور تم نے کون سے لڑکیوں کو میرے پاس آنے دینا ہے جیسے پہلے نہیں آنے دیا کیا مجھے پتہ نہیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لڑکیوں کو تم میرے پاس نہیں آنے دیتی تھی تو نمو نے کچھ نہ کہا اور ہنس دی بولی اب تم کہاں رکو گے وہ تو تم ابو کی قسم کی وجہ سے روکے ہوئے تھے میں نے بولا اب میرا بنتا بھی ہے اتنے سال تو انتظار کیا محنت کی اور پھل کھانے کی باری ہے بولی افی کہیں پھل کھاتے کھاتے مجھ سے دور تو نہیں ہوجاؤ گے میں نے بولا یا کیسی باتیں کرتی ہو ایسا ہوسکتا ہے کہ تم سے دور ہوجاؤں بولی میں تو بہن ہوں اب تم مجھے کہاں گھاس ڈالو گے کہاں وقت دو گے ا ب تو رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگو گے میں نے بولا نمو تم مجھے ایسا سمجھتی ہو بولی نہیں میں تم کو بچپن سے جانتی ہوں تم ایسے نہیں ہو لیکن تم کو آج کل کی لڑکیوں کا پتہ نہیں ہے وہ ایسے گھماتی ہیں کہ پتہ بھی نہیں چلتا میں نے بولا تو تم میری گارڈ ہو نا مجھے کس کا ڈر میں سب گاؤں کا گارڈ اور کھوالا ہوں تم میری گارڈ ہو تو نمو ہنس پڑی پھر بولی اچھا میں چلتی ہوں رات بہت ہوگئی ہے اب تم اچھے بچوں کی طرح سوجاؤ میں بھی جاتی ہوں اور ہاں گارڈ والی بات یاد رکھنا تم نے ہی مجھے اپنا گارڈ بنایا ہے میں نے بولا یاد رہے گا قسط نمبر4:۔ وہ چلی گئی اور میں سونے کی تیاری کرنے لگا تھوڑی دیر بعد میرے کمرے میں گلناز آئی وہ ہماری ہیڈ ملازمہ ہے مطلب گھر میں جتنی بھی عورتیں اور لڑکیا ں ملازم ہیں ان کی ہیڈ تھی اور سب کی کنٹرولر تھی اس کی عمر تقریباً35سال تھی لیکن لگتی وہ 25کی تھی بھرا بھرا جسم لمبا قد بھاری سینہ باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ پتلی کمر غرض کے چلتا پھرتا آئٹم بمب تھی۔بولی چھوٹے صاحب مجھے بڑے صاحب نے آپ کی خدمت کے لیے بھیجا ہے۔تو میں بولا کون سی خدمت اس وقت تم نے کرنی ہے میں تو اب سونے لگا تھا وہ جی وہ صاحب نے بولا آپ کو تعلیم دینی ہے میں بولا اچھا تو تم میری ٹیچر ہو جو مجھے عورت کی تعلیم دے گی وہ بولی جی مجھے بڑے صاحب نے ڈیوٹی دی ہے کہ میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں اور آپ کو مرد بناؤں میں نے بولا کیا میں مرد نہیں ہوں بولی آپ مرد ہو لیکن لڑکے ہو مرد تو میں آج کی رات آپ کو بناؤں گی میں بولا ٹھیک ہے مجھے بتاؤ میں کیا کروں پھر میں بولا تم کو کیسے پتہ کہ میں ابھی تک لڑ کا ہوں مرد نہیں بنا کنوارہ ہوں بولی میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ایک تو آپ کو قسم دی گئی تھی دوسرا آپ کی نظروں میں کبھی بھی حوس نہیں دیکھی حالانکہ گھر میں ایک سے ایک ملازمہ ہیں اور گاؤں کی لڑلیاں بھی ایک سے ایک ہیں لیکن آپ کے بارے میں کبھی کسی نے نہیں بولا ابھی میں جس حالت میں کھڑی ہوں کوئی دوسرا ہوتا تو مجھے آتے ہی مجھ پر ٹوٹ پڑتا واقع ہی میں نے کبھی کچھ نہیں کیا صرف ٹریننگ پر دھیان ہی دیا تھا کبھی کسی کو اس نظر سے نہیں دیکھا نہ خیال آیا اور وہ اس وقت فل آئٹم بنی کھڑی تھی اس نے سلک کا فل فٹنگ والا جوڑا پہنا تھا جس سے اس کے جسم کے تمام حصے نمایاں تھے ایک ایک کٹ واضح نظر آرہا تھالیکن میں نے دھیان ہی نہیں دیا میں اس کو دیکھ رہا تھا تو گلناز بولی میں آپ کو سب کچھ سکھاؤں گی آپ کو اتنا ماہر بنادوں گی کہ آپ عورت کے دل کی ہربات آپ جان سکتے ہیں اس کی خواہش کیا ہے کیسے پوری کرسکتے ہیں وہ آپ سے کیا چاہتی ہے آپ کیسے جان سکتے ہیں۔ عورت کو سکون کیسے دیا جاتا اور کیسے تڑپایا جاتا ہے کیسے اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ گلناز کو میں اب ناز لکھوں گا کیوں کہ ہم اسے ناز ہی کہتے تھے۔ میں شرمانے لگ گیا کیونکہ پہلی بار کسی عورت سے ایسی باتیں سن رہا تھا تو ناز بولی تم کی یہی شرم تو اُتارنی ہے بولی جس نی کی شرم اس کے پھوٹے کرم شرمانا نہیں اگر تم شرماؤ کے کچھ بھی نہیں کرپاؤ گے لڑکیاں اس کو پسند کرتی ہیں جو شرماتا نہیں شرمانا تو لڑکیوں کا کام ہے اور صاحب جی آپ شرمانے لگے میں نے بولا تم اب میری ٹیچر ہو مجھے صاحب جی مت بولو تم مجھے افی کہہ سکتی ہو۔ ہم م م م کیا بولی فریش ہونا ہے یا ہوچکے ہو میں بولا ہوچکا ہوں۔ بولی آؤ تم کو عورت سے روشنا س کراؤں اور تم کو مرد بناؤں میں جھجھک رہا تھا اس نے میرا ہاتھ پکڑا تو میرے جسم میں کرنٹ دوڑنا شروع ہوگیا یہ نہیں کہ پہلی بار کسی عورت یا لڑکی نے ہاتھ پکڑا تھا امی نے نمرہ نے چھوٹی ماں نے کئی بار پکڑا ان کے گلے بھی لگا پر یہ کچھ اور ہی تھا ناز بولی لگتا ہے مجھے پہل کرنی پڑے گی اور تم کی شرم اُتانی پڑے گی میں بولا جی صرف اتنا ہی کہہ پایا۔ اس نے مجھے گلے لگا یا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میرے جسم میں سنسنی شروع ہوچکی تھی ایسا پہلی بار ہو رہا تھا اس نے میرے گالوں کو چومنا شروع کردیا میرے پورے منہ کو چومنا شروع کردیا میں اس وقت لوز ٹراؤزر میں تھا اور بنیان پہنی ہوئی تھی کیوکہ رات کا میرا یہی لباس تھااس نے میرے میرے سینے پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا بولی واہ کیا سینہ ہے کمال کی باڈی ہے میں حیران تھا کہ اس کا قد پانچ فٹ سے کچھ اوپر ہے اور وہ میرے برابر کیسے ہے نیچے دیکھا تھا تو وہ چھوٹی ٹولی پر کھڑی تھی کیونکہ میرا قدچھ فٹ تین انچ تھا۔ اس نے میری بنیان اتارنا شروع کردی اور میری بنیان اتار دی اب میں صرف ٹراؤزرمیں تھا میں نے بھی آہستہ سے ہاتھ اس کے کمر پر رکھ لیے اور پھیرنا شروع کردیے جیسے ہی ہاتھی اس کی کمر پر لگے تو اس نے مجھے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ میرے ہاتھ اس نے پکڑ کر اپنی باہر کو نکلی ہوئی گانڈپر رکھ دیے او ر میرے سنیے اور بازؤوں کو چومنا شروع کردیا پھر اس نے میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی لیکن کچھ دیر بعد میں بھی اس کا ساتھ دینا ناز میرے نیچے والے ہونٹوں کو چوسنا شروع کرچکی تھی اور میں نے اس کے اوپر والے ہونٹوں کو چومنا شروع کردیا اور میں نے ناز کی گانڈ پر پکڑ سخت کرد ی میرے ہاتھ اب لوہا بن چکے تھے تو ناز نے میرے ہونٹ چھوڑے اور بولی افی آرام سے تم کے ہاتھ بہت سخت ہیں آرام سے اور پیار سے دباؤ میں نے بولا سوری سب پہلی دفعہ ہے نا تو تھوڑا مسئلہ تو گا بولی کوئی بات نہیں سب سیکھ جاؤ گے۔ میں نے پکڑ اب ڈھیلی کر دی تھی۔ اور آرام سے ناز کی گانڈ مسل رہا تھا نیچے میرا لن اب سر اٹھا رہا تھا ناز نے میرے سینے سے ہوتے ہوئے نیچے میرے پیٹ کی طرف آنا شروع کردیا اور اور میرے پیٹ کو چومنا شروع کردیا تھا اور اپنے ہاتھ میری گانڈ پر رکھے ہوئے تھے مجھے یہ سب بہت عجیب لگ ر ہا تھا سب پہلی بار ہورہا تھا۔ ناز نے میرے ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے تو ایکدم مجھے کرنٹ لگا پہلی بار تھا کسی عورت کے سینہ پر ہاتھ رکھ رہا تھا۔ میں نے ناز کے سینے کو مسلنا شروع کردیا اور پھر ناز کی قمیض کو اتارنا شروع کردیا لیکن وہ بہت تنگ تھی اس کے مموں کے پاس آکر پھنس گئی تو ناز بولی روکو میں خود اُتارتی ہوں اس طرح پھاڑ دو گے میں واپس کیسے جاؤں گی تو میں رک گیا ناز نے قمیض سے پہلے ایک مما نکالا اور پھر دو سرا نکالااور قمیض کو سرسے باہر نکالا اور قمیض اتار دی جیسے ہی میری نظر اس کے سینہ پر مموں پر پڑی تو ایکدم ساخت ہوگیا اس نے بلیک کلر کی برا پہنی تھی اور اس میں سے اس کے 38سائز کے ممے جو کہ سائز مجھے اس نے بعد میں بتایا تھا باہر آنے کو بیتاب تھے میں فوراً کسی چھوٹے بچے کی طرح ان پر جھپٹ پڑا اور ہاتھوں سے مسلنا شروع کردیا اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنا شروع ہوگئی بولی آرام سے میں کہیں بھاگی تو نہیں جارہی تم کے ہاتھ بھی بہت سخت ہیں اس طرح تو کوئی لڑکی تم کے ساتھ راضی نہیں ہوگی پیار سے کرو عورت کو جتنا مزا دو گے اتنی ہی تمہارے غلام بنے گی اس کو درد دو گے تو وہ تم سے دور بھاگے گی میں بولا پہلی بار ہے اس لیے شاہد ایسا ہوا آئندہ احتیاط کروں گا بولی میں تم کی ٹیچر ہوں میں تم کو سکھانا چاہتی ہوں اس لیے بار بار ٹوک رہی ہوں تاکہ تم ایکس پرٹ بن جاؤ۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسلنا شروع کردیا لیکن اب کی بار آرام سے اور پیار سے بولی ان سے کھیلو گے میں بولا ہاں تو اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر برا کی ہک کھول دی اور ممے اچھل کر باہر آگئے میں ان کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور مسلناشروع کردیا اس کے منہ سے سکاریاں نکلنا شروع ہوچکی تھیں ڈر گیا شاہد کے در د ہورہا ہے ہاتھ ہٹالیے تونا ز بولی ہاتھ کیوں ہٹالیے بولا تم کو درد ہورہا تھابولی یہ درد نہیں یہی تو مزا ہے جب عورتوں کو مزا آتا ہے تو منہ سے ایسی ہی آوازیں نکالتی تھیں۔دوستوں مجھے پتہ نہ تھا کیونکہ نہ تو کبھی چودائی کی تھی نہ دیکھی تھی۔پھر میں نے دوبارہ ناز کے خربوزے سائز مموں کو مسلنا شروع کردیا کبھی ایک پکڑتا کبھی دوسرا پکڑتا اور مسلتا میں ناز کے مموں میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ نیچے میرا لن فل کھڑا تھا میں اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا میرے ٹراؤزر کے سامنے بڑا سا تمبو بنا ہوا تھا جب ناز نے ہاتھ نیچے لے جا کر میرے لن پر ہاتھ رکھا تو ایک بار تو پیچھے ہٹ کر میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے ٹراؤزر نیچے کر کے ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا میر ا لن فل کھڑا تھا اور پتھر بنا ہوا تھا اور اوپر نیچے جھٹکے کھا رہا تھا ناز کی آنکھو ں میں عجیب سی چمک تھی چہرہ سرخ ہو رہا تھا اس نے بازو جب میرے لن کے ساتھ لگایا ناپنے کے لیے تو اس کی بازو میں اورمیرے لن میں اور اس کے بازو میں کوئی فرق نہ تھا میرا لن تقریباً11انچ لمبا اور 4انچ موٹا تھا بولی اتنا بڑا کیسے ہوگیا پھر چونکی اور بولی ہاں جس تیل سے تم کی جسم کی مالش ہوتی تھی اس نے اس کی نشوونما اچھی کی ہے بچپن سے جو تیل کی مالش ہوتی تھی پورے جسم پر ہوتی تھی لن پر بھی ہوتی تھی اپنے ہاتھ کو میرے لن پر آگے پیچھے کیا تو میں پاگل ہونے والا ہوگیا تھا عجیب سا مزا تھا جو پہلے کبھی نہیں آیا تھا بولی یہ تو میرا کباڑا کر دے گا میرے ہاتھ ابھی اس کے مموں پر ہی تھے بولی ان سے کھیلوں جتنا کھیلو گے عورت کو اتنا مزا آئے گا ان کو چوسو،ہلکے ہلکے کاٹو میں نے ایسا ہی کرنا شروع کردیا اس کا ہاتھ میرے لن پر آگے پیچھے ہورہا تھا اور میں اس کے مموں کو چوس رہا تھا بولی میں تھک گئی ہوں بیڈ پر چلتے ہیں تو ہم بیڈ پر آگئے میں فل ننگا تھا اس نے پاجامہ پہنا ہوا تھا اوپر سے ننگی تھی وہ لیٹ گئی اورمجھے اپنے اوپر آنے کا اشارہ کیا میں پھر اوپر آگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا لیکن پیار سے کبھی ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کرتا کبھی چوستا کبھی کاٹتا اور ناز مزے سے سسکتی اور عجیب عجیب آوازیں نکالتی پھر اچانک اس کی سسکیوں میں اور آوزوں میں تیزی آتی گئی پھر ایک بار اچھلی اور پرسکون ہوتی گئی میں ایسے ہی اس کے مموں سے کھیل رہا تھا لیکن وہ ایسے پڑی تھی جیسے مردہ پڑے ہوتے ہیں بولی رک جاؤمیں نے پوچھا کیا ہوا بولی میں فارغ ہوچکی ہوں تم نے میرے مموں ایسا کھیلا کے برداشت نہ کرسکی سب سمجھ جاؤ گے اور سیکھ جاؤ گے۔ جیسے تم لڑکے فارغ ہوتے ہو ویسے ہی عورتیں بھی فارغ ہوتی ہیں جس سے سکون حاصل ہوتا ہے عورت فارغ نہ ہو یا مرد فارغ نہ ہو تو کیسا سکون اسی سکون کے لیے تو دنیا مرتی ہے۔ اب مجھے میرے لن میں جو کہ کافی دیر سے اکڑا ہوا تھا درد ہونا شروع ہوچکی تھی میں نے ناز کو بتایا تو بولی اب میں اس کا علاج کرتی ہوں پھر اُٹھ کر مجھے بولا لیٹ جاؤ میں حکم مانتے ہوئے لیٹ گیا اس نے پہلے تو میرے لن پر تھوک پھینکا پھر ہاتھ سے میرے لن پر ملا پھر میرے لن کو چوم لیا جب ناز نے چوما تو مجھے کرنٹ لگا اور میرے منہ سے سسکاری نکلی پھر اس نے میرے ٹوپے کو منہ میں لینے کی کوشش کی کیونکہ میرا لن موٹا ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں صرف ٹوپا بھی پورا نہ جاسکا لیکن میرے لیے یہ مزا نیا تھا ناز بولی ہر لڑکی منہ میں نہیں لیتی میں تو تم کو ہر مزے سے روشناس کروانا چاہتی ہوں یہ میری خوش قسمتی ہے کہ سردار کو میں مرد بناؤ گی اور اس کا کنوارہ پن ختم کروں گی پھر اس نے پورا منہ کھول کر جتنا ہوسکتا تھا منہ میں لے کر آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کیونکہ چوس تو سکتی نہیں تھی موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھر تھوڑی دیر منہ میں لینے کے بعد اٹھی اور شلوار اتاردی اور پوری ننگی ہوگئی زندگی میں پہلی بار میں نے ایک عورت کو پورا ننگا دیکھا تھا میری عجیب حالت تھی لن تھا کہ جھٹکے پر جھٹکے لے رہا تھا بولی کیا دیکھ رہے ہو میں بولا پہلی بار کسی کو ننگا دیکھا ہے اس نے بولا آؤ میں تم کو دوسرے جہاں کی سیر کراؤں تم نے عورت کا اوپر والا جسم تو دیکھ لیا اور سیر کر لی اب نیچے والی سیر بھی کراؤں جس کے لیے دنیا پاگل ہے اور جس سے دنیا بڑھی ہے اور قائم ہے۔ اس کی پھدی کلین شو تھی ہلکی سے پنکش تھی لیکن اس کے ہونٹ تھوڑے کھلے تھے بولی ویسے یہ تم سے زیادتی ہے کہ تم کنوارے ہو اور میں کنواری نہیں ہوں لیکن ایک بات یاد رکھنا کنواری لڑکی سے جو کچھ کرنا ہے تم نے کرنا ہے لیکن چدی ہوئی تم کو مزادے گی اور لے گی اور میری عمر کی پکی عورت تم کو اصل مزا دے گی۔ ویسے تم کے ہتھیار کے حساب سے تو تم کو تقریباً سب ہی کنواری لگیں گیں۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر اپنی پھدی پر رکھ لیے بولی جس طرح سے میرے مموں سے کھیلے ہو اسی طرح اس سے بھی کھیلو پھر اس میں گھوڑا دڑاؤ۔ پھر میں نے ناز کی پھدی پر ہاتھ رکھا تو میرے ہاتھ پر سفید اور گاڑھا لیس دار پانی لگ گیا جو کہ ناز نے بتایا تھا کہ یہ عورت کا پانی ہوتا ہے پھر میں نے اس کی پھدی میں ایک انگلی پھیری تو اس نے سسکاری بھر ی میری انگلی اس کے پھدی کے پانی سے تر ہوچکی تھی میں انگلی پھر رہا تھا کہ میری انگلی نے ایک سوراخ پایا اور میں نے دباؤ ڈالا تو اند ر چلی گئی ناز بولی کیس لگا میں بولا انکوکھا مزا ہے یہ تو پھر بولی اب تم بھی مجھے پیار کروں جیسے میں نے کیا ہے اپنے منہ سے تمارے ہتھیار پر مجھے کوفت ہوئی لیکن مجھے سب سیکھنا تھا تو زبان نکال کر میں نے پھدی کو چوما اور سونگھا تو عجیب سی خوشبو آئی پھر زبان جیسے ہی ناز کی پھدی سے ٹچ ہوئی تو ناز ایک دم سسکی اور مجھے ضائقہ نمکین سالگا اور عجیب سا لگا پھر میں نے برابر زبان چلانا شروع کردی جیسے جیسے ناز بتاتی گئی وہ بے خود سی ہوگئی تھی پھر کچھ دیر بعد اس کا جسم اکڑ گیا میں اب سمجھ گیا تھا کہ پھر فارغ ہوگئی ہے لیکن میں نے اس کی پھدی کو چاٹنا جاری رکھا کیوں کہ میری استاد نے مجھے ابھی تک نہیں روکا تھا جب فری ہوئی تو فوارا میرے منہ میں گیا جو میں پی گیا اب مجھے اچھا لگ رہا تھا میں نے نا ز سے بولا یا ر میرے اس میں بہت درد ہو رہی ہے بولی کس میں میں آہستہ سے بولا لن میں بولی شرمانا چھوڑ دو تو کامیاب رہو گے میں بولا آہستہ آہستہ اتار دوں گا آج پہلی بار ہے تم جیسی استا د ملی ہے تو جلد ہی سب سیکھ جاؤں گا۔ بولی فکر نہ کروں تم کو اتنا ماہر کردوں گی کہ تم ایک ماہر کھلاڑی بن جاؤ گے جیسے کہ تم دوسری چیزوں میں ہو۔ تو بولا میرے لن میں درد ہوگئی ہے۔ بولی اس کا قصور نہیں ہے تم اتنی دیر سے ہارڈ ہو مطلب تم کا اتنی دیر سے کھڑا ہے تو ددر تو کرے گا اب تم کا گھوڑا سواری کرنے چاہتا ہے تاکہ اپنی منزل پر پہنچ جائے آؤ تم کو سواری کرواؤں۔ بولی کوئی آئل ہے میں نے بولاہاں ناریل کا تیل پڑا ہے بولی لے آؤ میں گیا اور تیل لے آیا اس نے بولا اچھی طرح سے اپنے لن پر لگاؤ میں نے لگا لیا اور پھر بولی تم نیچے لیٹ جاؤ تم اناڑی ہو کہیں مجھے مار ہی نہ دو جیسا تم کا ہتھیار ہے۔ میں لیٹ گیا اور وہ میرے اوپر آگئی پھر میرے ہونٹ کو چوسنا شروع کردیا او ر میرے لن کو پکڑ کر اپنی گیلی پھدی کے منہ پر رکھ لیا اور اس پر پھیرنے لگی مجھے بہت مزا آرہا تھا میں ہواؤں میں اُڑ رہا تھا ایسا مزا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ پھر مجھے محسوس ہوا کہ میرا لن کسی تنگ جگہ میں جا رہا ہے میں نے ناز کے منہ سے سی سی سی سنی بولی بہت موٹا ہے لیکن وہ بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی تھوڑا تھوڑا کر کے میرا آدھا لن اپنی پھدی میں ڈال لیا اور رک گئی پھر اوپر ہوئی اور پھر نیچے آئی جب نیچے آئی تو میں نے نیچے سے جھٹکا مارا جھٹکا زور کا تھا اس کی اور میری چیخ ایک ساتھ نکلی لیکن ناز کی چیخ اتنی زور دار تھی کہ میں ڈر گیا تھا اگر میرا کمرہ ساؤنڈ پروف نہ ہوتا تو شاہد پورے علاقہ میں اس کی چیخ سنی جاتی مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ میرا لن کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہوا ہے۔ ناز میرے اوپرلیٹی ہانپ رہی تھی اور میرا پورا لن ناز کی پھدی میں گھس چکا تھا۔ کچھ دیر بعد ناز نازمل ہوئی اور غصے سے میری طرف دیکھامیں شرمندہ سا منہ بنا کر نیچے کرلیا۔ میں نے بولا ناز سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے اتنا مزا آیا تھا کہ جوش میں آکر جھکا مار بیٹھا ناز بولی شکر کرو کوئی جوان لڑکی نہیں تھی ورنہ اس کا کام تمام ہوجاتا۔ میں بہت شرمندہ تھا کہ واقع مجھ سے غلطی ہوئی۔ ناز بولی تم کا ہتھیار بہت موٹا اور لمبا ہے اگر تم ایسے کسی کے ساتھ کرو گے تو کوئی بھی تم کو دوبارہ ہاتھ نہیں لگانے دے گی۔میں نے دوبارہ معافی مانگی ناز نے بولا کوئی بات نہیں مجھے ہی بتانا چاہیے تھا کہ جھٹکا نہ مارنا تم کے لیے تو یہ سب نیا تھا۔ میرا لن اب ناز کی پھدی میں بری طرح غصہ ہوا تھا ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی گرم بھٹی میں ہے اور کسی نے بہت سختی سے بھینچا ہو اہے۔ اب ناز نے بڑے آرام سے آہستہ آہستہ باہر نکالا ساتھ سی سی کرتی جارہی تھی بولی تم نے میری بینڈ بجادی ہے جب میرا لن باہر نکلا تو اس پر خون لگا ہوا تھا بولی دیکھ لو میرے ساتھ تم نے کیا کیا ہے۔ میں خاموش رہا پھر اس نے مجھ کو کس کی کہتی کوئی بات نہیں معاف کیا خیر اس نے پھر سے تیل لگایا اور اوپر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ پورا اندر لے لیا ساتھ میں کسنگ جاری رکھی بولی میرے مموں سے کھیلو اس طرح مجھے درد کم ہوگا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے ناز کے خربوزے سائز کے مموں سے کھلینا شروع کردیا۔ اب ناز اوپر نیچے ہوتی رہی آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے پانی کی وجہ سے اور آئل کی وجہ سے پھدی میں جگہ بن گئی تھی اب وہ پورا لن اند ر لیتی اور پھر ٹوپی اندر کھ کر باقی باہر نکالتی پھر اند ر لیتی اس کا سانس پھول رہا تھا اور میں مزے کی گہرائیوں میں تھا۔ پھر مجھے ناز کی پھدی کا گرم گرم پانی اپنے لن کے ساتھ محسوس ہواور ناز میرے اوپر گر گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی کچھ دیر بعد بولی کیسا لگا میں بولا ایس لگ رہاتھا کہ آسمانوں پر اُ ڑ رہا ہوں بولی میں تین بار فارغ ہو چکی ہوں لیکن ابھی تک تم کا ایک بار بھی نہیں ہو ا اسے کیا پتہ تھا تمام مقابلے میں نے سٹیمنے کی وجہ سے جیتے تھے پھر وہ نیچے لیٹ گئی بولی اوپر آؤ میں اس کو پکڑا میرا لن اس کی پھدی کے اندر ہی رہا اور میں گھوم گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں اس کے اوپر بولی اب آہستہ آہستہ گھسے مارو میں نے سلوسپیڈ میں گھسے مارنے شروع کردیے جب میں ا سکے اند ر کرتا تو اس کی سسکی نکل جاتی اب وہ جوش میں آگئی او ر بولی تیز دھکے مارو میں نے سپیڈ تیز کردی اس نے ٹانگے اٹھا کر میرے کندھوں پر رکھ دی میں نے ٹانگوں کو پکڑلیا اور سپیڈ سے دھکے مارنے لگ پڑا جب میں دھکا مارتا تو وہ اپنی گانڈ پیچھے کرتی جس سے دھک دھک کی آواز آتی اب میں طوفانی دھکے مارنے شروع کردیے تھے تو ناز نے چیخنا شروع کردیا لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی اسکوپوری طرح قابو کر کے دھکامارتا جارہا تھا اچانک ناز کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا اور گرم گرم پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا۔ لیکن میں نے اسی رفتار سے چودائی جاری رکھی۔ ناز اب بے جان ہوگئی تھی اور شاہد بے ہوش ہوگئی تھی جب ناز بے ہوش ہوئی تو میں نے لن باہر نکال لیا اور ٹیبل پر پڑے پانی سے چھنٹے مارے تو ناز کو ہوش آیا اور جیسے ہی میرے لن پر نظر پڑی تو سہم گئی بولی شاہد میری زندگی کی آخری رات ہے تم مجھے جان سے مار کر چھوڑو گے میں نے بولا میں نے کیا کیا ہے بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے جیسے میں ہورہی ہوں میں نے بولا مجھے کیا پتہ بولی تم کا کتنا سٹمینا ہے میں نے کہا پہلی بار ہے مجھے کیا پتہ بولی کچھ محسوس ہورہا میں نے کہا ہونے لگتا ہے لیکن تم روک دیتی ہو۔ بولی اب جو بھی ہو جب تک فارغ نہ ہو رکنا نہیں میں نے کہا تم بے ہوش ہوگئی تھی تو میں ڈر گیا تھا بولی مجھے کچھ نہیں ہوتا زیادہ سے زیادہ بے ہوش ہی ہوں گی میں بولا ٹھیک ہے پھر وہ گھوڑی بنی میں اس کے پیچھے آگیا اور اپنا لن اس کے پھدی کے منہ پر رکھا جو کہ اب سوج چکی تھی اور ایک جاندار دھکا مارا تو ناز چیخ پڑی پھر میں لگاتار دھکے پر دھکا رتا رہا اور آخر کار مجھے میری جان لن کی طرف آتی محسوس ہوئی میں نے ناز کو بولا مجھے کچھ ہورہا ہے ناز بولی تم قریب آرہے ہو لگے رہو میں پورے زور سے دھکے لگارہا تھا پھر مجھے ناز کی پھدی کا پانی محسوس ہوا ساتھ مجھے بھی محسو س ہوا تو ناز نے جلدی سے پلٹی کھائی اور منہ کر کے بیٹھ گئی بولی میرے منہ پر فارغ ہونا پہلا پانی میں پینا چاہتی ہوں پھر میرے لن سے پہلی فوار نکلی جو کہ سدھے اس کے منہ پرپڑی پھر تو برسات شروع ہوگئی جو کہ ناز کے جسم کو بھیگو گئی اور میں جب آخری قطرہ بھی نکل گیا تو وہی بیڈ پر گر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگ پڑا۔
-
عشق دیندا ہے رولا
اسلام و علیکم دوستو ں میرا نام آفتاب خان ہے اور میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میں نے بہت سے سٹوری پڑھی ہیں اور کئی سالوں سے پڑھ رہا ہوں تو سوچا کیوں نہ میں بھی کوشش کروں تو دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے اس لیے کوئی غلطی ہوجائے تو درگزر کرئیے گا یہ پوری سچی تو نہیں کہہ سکتے لیکن اکثر کافی کچھ سچ بھی ہے سٹوری لازمی مکمل ہوگی اور ہفتے میں دو یا تین اقساط پوسٹ کروں گا۔ قسط نمبر1:۔ اب آتا ہوں سٹوری پر سب سے پہلے تعارف کروا دوں جیسا کہ آپ کو بتایا کہ میں پنجاب کے ایک گاؤں نور پور سے تعلق رکھتا ہوں میرے والد نام عثمان خان ہے ا ن کی عمر تقریباً47سال ہے صحت مند اور ہٹے کٹے اور مضبوط جسم کے مالک ہیں ہیں اور وہ ایک بڑے زمیندار ہیں گاؤں کی تقریباً تین حصے زمین کے مالک میرے والد ہیں اور ساتھ ہی فلور ملز اور کئی کاروبار کے مالک ہیں میری ماں صائمہ جن کی عمر 40سال ہے ایک گھریلو عورت ہیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہیں لیکن ایک بڑے زمیندار گھرانے کی ہیں حالانکہ گھر میں کئی نوکر اور نوکرانیاں ہونے کے باوجود خود سب کچھ سنبھالتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بالکل صحت مندسمارٹ اور ایکٹو ہیں۔سدرہ میرے والد کی دوسر ی بیوی اور ہماری چھوٹی ماں ہیں جن کی عمر 35سال ہے وہ شہر کی پڑھی لکھی تعلیم یافتہ اور ایک بڑے گھر کی ہیں اور ان سے میری ایک بہن نوشے ہے جو کہ 19سال کی ہے۔نورمیری بڑی بہن جن کی عمر22سال ہے انہوں نے انگلش میں ماسٹر کیا ہے وہ ایک سنجیدہ ٹائپ لڑکی ہیں زیادہ شور شرابہ ان کو پسند نہیں۔ پھر میری بہن عائشہ جن کی عمر20سال ہے وہ ابھی کیمسٹری میں ماسٹر کررہی ہے وہ شوخ چنچل اور باتونی ہیں ان کی باتیں ختم نہیں ہوتی ہیں۔ پھر میری بہن نمرہ جس کی عمر18سال ہے اور میں ہم دونوں جڑواں ہیں اور بچپن سے ہی بہت قریب رہے ہیں میری سب سے زیادہ نمرہ سے ہی بنی ہے ہم دونوں اب ایک ہی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہے تھے ہم نے ایک ہی سکول سے اور ایک ہی کالج سے میٹرک اور انٹر کیا تھا تقریباً ہمارا وقت ساتھ ہی گزرتا جن کو معلوم نہ ہوتا ان کو یہی لگتا ہے ہم کپل ہیں ہماری کبھی لڑائی نہ ہوئی تھی۔ میں نمرہ کو پیار سے نمو کہتا اور وہ اِفی۔ ہمارا سارے گھر میں بہت پیار تھا حالانکہ ابو نے دوسری شادی کی تھی لیکن پھر بھی ہمارے گھر میں کبھی کسی بات پرلڑائی نہیں ہوئی کیونکہ چھوٹی ماں میرے ابو کے ایک دوست کی بیٹی تھی وہ بہت بیمار تھے جاتے وقت ان سے وہ نکاح کر گئے تھے پہلے ہمیں تھوڑی مشکل ہوئی پھر چھوٹی ماں کے پیار نے سب کو ہی پیار کرنے پر مجبور کردیا وہ ہم پر سب سے زیادہ جان دیتی تھیں۔ہم سب خوش تھے سب ایک دوسرے کو بہت خیال رکھتے تھے اور میں اکلوتا لڑکا تھا گھر میں اس لیے میری تو ہربات فوراً پوری کی جاتی لیکن میں نے کبھی بھی بے جا فرمائش نہیں کی تھی یہ ہمارا گھر تھا۔ اور میرا ایک ہی چچا تھا سلیمان جو کہ ساتھ والے گاؤں میں رہتے تھے ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔ ہمارا گھر 8کنال کی حویلی پر مشتمل ہے جس میں 40کمرے ہیں دس کمرے ایک ہی قطار میں ان کے آگئے برآمدہ۔ پھر ایک طرف ٹی لاؤنچ، سوئمنگ پول، کچن، باتھ سب آگے تھے باقی دس کمرے دوسرے منزل پر اور دس کمرے تیسری منزل پر تھے جن میں جو ماسٹر روم تھے ان کے ساتھ اٹیچ باتھ تھے ایک بڑی جم اور شوٹنگ جم بھی تھی جہاں پر ہر روز میں اور میرے ابو ٹریننگ کرتے تھے۔ اور میرے استاد مجھے ٹریننگ دیتے تھے۔ باقی کمرے ملازموں کے لیے ایک طرف بنے تھے جن میں اکثر میں پوری فیملی رہتی اور عورتیں اور مرد رہتے تھے۔جو پکے ملازمین تھے باقی کے گاؤں سے آتے تھے۔ ہمارے گاؤں کی صدیوں سے ایک پرانی روایت تھی کہ ہر 25سال بعدعلاقہ کی سربراہی نئے سربراہ کو سونپ دی جاتی جس میں تقریباً25گاؤں آتے تھے اور اس کے لیے باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا۔ تمام بڑے خاندان اس میں حصہ لیتے اور جو جیت جاتا وہ اگلے 25سال کے لیے ان تمام گاؤں کے سربراہ بن جاتے تھے ہرگاؤں کا ایک چھوٹا سربراہ ہوتا لیکن ان سب کے اوپر ایک بڑا سربراہ ہوتا جس کا فیصلہ آخری سمجھا جاتا۔ مقابلے میں حصہ لینے کے لیے تین شرائط پر ہونا لازمی تھا چونکہ پٹھانوں کا علاقہ تھا تو اس لیے 1۔ عمر زیادہ سے زیادہ 25سال ۔2۔ جسمانی لڑائی میں ماہر ہو 3۔ نشانہ بازی میں ماہر ہو۔ 4۔ تیراکی میں ماہر ہو۔ مقابلہ اس لیے کروایا جاتا کہ سربراہ کو طاقت ور ہونا چاہیے اگر خود اپنی حفاظت نہیں کرسکتا تو سربراہی کیسے سنبھالے گا۔ یہ سب آپ کو بتانے کا مقصد آپ سٹوری کو آسانی سے سمجھ سکیں میرے والد اس وقت سربراہ تھے اور ان کی خواہش تھی کے اگلاسربراہ میں بنوں تو اس لیے چھوٹے ہوتے ہی انہوں نے اس کی تیاری شروع کروا دی صبح نماز کے بعد فوراً میدان میں جاتا جہاں پر چار اُستاد تھے جن میں دو لڑائی کے ماہر تھے اور دو نشانہ بازی کے اُستاد تھے جنہوں نے باقاعدہ باہر کے کئی ملکوں سے ٹریننگ کی تھی دو گھنٹے ان کے ساتھ گزارتا پھر ایک خاص تیل کی مالش کرتا جو کہ خاص کر میرے لیے تیار کروایا گیا تھا جس سے میرا جسم مضبوط ہو اور نشوو نما اچھی ہو اور ہرقسم کی چھوٹ براداشت ہوسکے۔ کیونکہ بچپن سے ہی تیاری کررہا تھا اس لیے لڑائی میں، تیراکی میں اور ہرقسم کے نشانے میں ماہر ہوچکا تھا خالی ہاتھ یا ہتھیار کے ساتھ کسی بھی مشکل حالات میں لڑ سکتا تھامیں بہت محنت کرتا لیکن میرے والد پھر بھی مطمئن نہ تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم کو بہترین ہونا چاہیے مقابلہ میں ایک سے ایک ماہر ہوگا کیونکہ ہر ماہ ابو میری گارکردگی چیک کرنے کے لیے مجھ سے مقابلہ کرتے لیکن میں ان سے کبھی جیت نہ پاتا وہ آج بھی ماہر تھے کیونکہ وہ ہرروز مشق کرتے تھے اب بھی انہوں نے میری خاص نگرانی یہ رکھی کہ میں لڑکیوں کی طرف نہ دھیان دوں انہوں نے کہا تھا کہ ایک بار تم مقابلہ جیت جاؤ پھر جو چاہے کرنا تب تک انہوں نے مجھے ایک قسم میں باندھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے ایک دوست سے بات کی جو کہ آرمی میں کرنل ریٹائر تھے اور انہوں نے کئی ملکوں میں اپنا اور ملک کا نام روشن کیا تھا مقابلہ میں ایک سال اور تین ماہ تھے مطلب 15ماہ تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا اور ٹریننگ کرواؤن گا یہاں پر گھر میں رہ کر یہ ٹھیک طرح سے ٹریننگ نہ ہو سکے گی۔ جب گھر سے رخصت ہو رہا تھا تو سب سے زیادہ نمر ہ روئی میں نے اس کو تسلیاں دیں اور کہا کہ میں جلد آجاؤں گا۔ باقی سب کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے لیکن ابو نے کہا کہ بہادر لوگ نہیں روتے۔ پھر وہاں سے روانہ ہوگئے اور گلگت بلقستان کی وادیوں میں چلے گئے اور پھر میری ٹریننگ شروع ہوئی کرنل صاحب نے مجھے کہا کہ لڑائی یا کسی بھی معاملہ میں سب سے اہم چیز ہوتی ہے سٹیمنا ہوتا ہے جتنا سٹیمنا اتنا انسان طاقتور ہوتا ہے تم سٹیمنا اچھا ہے لیکن بہترین ہونا چاہیے تم گھنٹوں تک لڑو تب بھی تم کو تھکنا نہیں چاہیے تم گھنٹو ں بھاگوں تم کو تھکنا نہیں چاہیے باقی تم بچپن سے ٹریننگ کرتے آرہے ہو تم سب میں بہترین ہو لیکن میں تم کا سٹیمنا بڑھانے کی ٹریننگ دوں گا۔ پھر انہوں نے سخت ٹریننگ سے گزارہ مجھے ٹریننگ کا مطلب سمجھ آیا کہ پاکستانی آرمی کیسی ٹریننگ کرتی ہے نشانہ بازی میں تو میں بچپن سے ماہر تھا ہرقسم کا ہتھیار چلانا اور نشانہ لگانا سنائپر گن تک میں نے ٹریننگ کی تھی۔ اب میرا اتنا سٹیمنا تھا کہ گھنٹوں لڑ سکتا تھا گھنٹوں بھاگ سکتا ہے گھنٹو تیر سکتا تھا۔ ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرسکتا تھا۔اگر مجھ سے زیادہ کوئی طاقتور ہو تو کیسے لڑسکتے ہیں اس کی توانائی اس کے خلاف استعمال کرنا ہر چیز سیکھتا گیا۔کرنل صاحب نے مجھے یوگا بھی سکھایا جو کہ میری توانائی کو بہت آگے لے گیا۔ لیکن ایک چیز بتاتا چلوں کے دوستوں میں تھا انسان ہی کسی قسم کا سپرپاور ہیرو نہ تھا۔ لیکن اب میں اتنا ماہر تھا کہ کئی لوگوں سے کئی گھنٹے لڑ سکتا تھا دو ہزار میٹر تک ٹھیک نشانہ لگا سکتا تھا۔تیس منٹ سانس روک سکتا تھا۔ میرا جسم اتنا مضبو ط ہوچکا تھا کہ بڑی سے بڑی چوٹ کو برداشت کرسکتا تھا۔
dangeroush
Active Members
-
Joined
-
Last visited