Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

F khan

Previous Members
  • Joined

  • Last visited

  1. tangokhan started following F khan
  2. میں حاضر ہوں اس کام کیلئے
  3. Amias Fita started following F khan
  4. بچے ابھی سیکھ رہے ہیں جلد سب کچھ سیکھ جائیں گے رائے دینے کا بہت شکریہ
  5. قسط نمبر 5 ہمارا رزلٹ بھی آگیا تھا ہم کامیاب ہو گئے تھے اور اب ہمارے پاس موبائل فون بھی موجود تھے اور اب عروسہ کا ایک ہفتے والا وعدہ بھی پورا ہو گیا تھا تو اب ہم نے ایک رات ملنے کا پراگرام بنا لیا کہاں؟ وہیں عروسہ کے چھت والے کمرے میں ۔ اب سین یہ تھا عروسہ لیٹی ہوئی تھی سیدھی اور میں بیڈ سے نیچے کھرا اسکی چوت کی چولیں ہلا رہا تھا اور ادھر راحت عروسہ کے ممے چوس رہا تھا اورعروسہ نیچے سے راحت کا لن سہلا رہی تھی جو کہ ایک ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا میری رفتار بڑھتی جا رہی تھی اور اب مجھے لگنے لگا کہ اب میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا تو میں نے لن باہر نکال لیا اور ہاتھ سے مسلنے لگا اور پھر ایک جھٹکے سے میرا لاوا نکلا اور عروسہ کے مموں پر جا گرا اور باقی تین فوارے عروسہ کی چوت پر گرے میں اپنی منی نکال کر فارغ ہوا تو راحت کو موقع ملا جو کافی دیر سے چوت کیلئے ترس رہا تھا جو کہ آج پہلی بار ہی چودنے والا تھا چونکہ میں نے ابھی اپنا لن چوت سے نکا لا تھا اور وہ اب تک گیلی تھی اس لیے راحت نے دیر نہیں کی اور جلدی سے اپنے لن کو چوت سے چکنا کیا اور عروسہ کی گلابی اور چکنی ہوئی چوت پر رکھا اور آدھے سے زیادہ لن ایک ہی جھٹکے سے اندر اتار دیا جس سے عروسہ نے کچھ درد محسوس کیا کیونکہ آج اسکی چوت کی دوسری چدئی ہی تھی اور وہ ابھی اس سب کی عادی نہیں ہوئی تھی عروسہ نے کہا آرام سے راحت کیا کر رہے ہو میں کہیں بھاگی نہیں جا رہی اور بھر راحت مسکرایا اور اپنے لن پر دباؤ ڈالتے ہوئے باقی بچا لن بھی آرام سے عروسہ کی گلابی چوت میں غائب کر دیا اور پھر آرام سے اپنے لن کو عروسہ کی چوت میں اندر باہر کرنے لگا میں نے دیکھا کہ اب عروسہ بھی اس سب کو انجوائے کرنے لگی تھی درد کے آثار اب اسکے چہرے پر نظر نہیں آرہے تھے بلکہ اب اسکے چہرے پر سکون اور خوشی کے آثار نمایاں تھے اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور وہ سکون کے ساتھ آنکھیں بند کیے لیٹی اپنے اندر آتے جاتے لن کو محسوس کر رہی تھی اور میں تھوڑی دور بیٹھا یہ منظر دیکھتے ہوئے پھر سے گرم ہونے لگا تھا راحت اب تک عروسہ کے دونوں مموں میں ہاتھ ڈالے بیڈ سے نیچے کھڑا ایک ہی ردھم سے اسے چودے جا رہا تھاراحت کو اب دس منٹ ہونے کو تھے آج تو وہ فارغ ہی نہیں ہو رہا تھا دونوں آج بہت سکون سے انجوئے کر رہے تھے عروسہ نے بھی آج تک گانڈ میں اسطرح انجوئے نہیں کیا تھا عورت چاہے مجبوری میں یا بوائے فریند یا شوہر کو خوش رکھنے کیلئے گانڈ مروا بھی لے خوشی سے مگر یہ سچ ہے کہ اسے سکون اور مزہ چوت سے ہی ملتا ہے کیونکہ یہی اسکی فطرت ہے اور راحت بھی آج زیادہ ٹائم اسلیے لگا رہا تھا کیونکہ دونوں خوش تھے سکون میں تھے اور انجوئے کر رہے تھے جب آپ ریلیکس ہو کر سیکس کرتے ہیں تو دونوں انجوئے تو کرتے ہی ہیں ساتھ ٹائمنگ بھی بڑھ جاتی ہے تو دوستو اس دوران عروسہ ایک بار فارغ ہوئی اور جھٹکے کھانے لگی تھی اسکی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور جسم اکڑچکا تھا اور پھر ایلیکس ہونے لگی اور اب راحت نے بھی اپنا لن نکال کر اسکی گانڈ پر ٹکا دیا تھا جو کہ چوت سے بہہ کر آنے والے پانی کی وجہ سے گیلی تھی اور لن بھی ابھی چوت سے چکنا ہو کر نکلا تھا اس لیے جلد ہی وہ گانڈ کی گہرائیوں میں تھا اور پھر ایک منٹ کے بعد ہی راحت چنگھاڑتے ہوئے عروسہ کی گانڈ کو سیراب کرنے لگا اور اسکے اوپر گر پڑا تھا مجھ سے اب اور صبر نہیں ہو رہا تھا یہ سب دیکھ دیکھ کر میرا لن پھر سے پھٹنے والا ہو رہا تھا سامنے پڑی راحت کی گانڈ مجھے دعوت دے رہی تھی کہ آکر چود دو میں اٹھا اور راحت کی طرف بڑھا جو اب تک عروسہ کے اوپر لن ڈالے پڑا تھا میں نے اسے ایک طرف کیا اور سیدھا لٹا کر اپنا لن تھوک سے تر کرنے لگا اور پھر اسکی گانڈ کو بھی چکنا کیا تھوک سے اور دو جھٹکوں میں ہی لن اسکی گانڈ میں جڑ تک اتار دیا اور اسے مموں میں ہاتھ ڈال کر دھنا دھن چودنے لگا اور زور سے دھکے مارنے لگا اتنے زور سے کہ ہمارے جسم ٹکرانے کی آواز کمرے میں کونجنے لگی اور شاید باہر تک جا رہی تھی مگر رات کے اس پہر باہر کی کوئی فکر نہیں تھی میں اسی رفتار سے لگا رہا اور چونکہ میں ابھی کچھ دیر پہلے فارغ ہوا تھا اسلیے ابھی میرے پاس وقت تھا آٹھ دس منٹ کے بعد مجھے اپنی جان لن سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اور میں لن کو راحت کی گاند کی گہرائی میں اتار کر چنگھاڑتے ہوئے اپنا پانی نکالنے لگا اور پھر نڈھال ہو کر اسکے اوپر گر پڑا اور کافی دیر ایسے اسکے اوپر ہی پڑا رہا جب لن خود ہی سکڑ کر باہر آگیا تو میں بھی ایک طرف ہو کر لیٹ گیا ہم کچھ دیر ایسے ہی پڑے رہے اور پھر چار بجے راحت اور میں اپنے اپنے گھر واپس آگئے ۔ میرا دوست فیاض ہم سے سینئر تھا تو وہ اب دسویں پاس کر کے کالج جا چکا تھا مگر اسکا نمبر میرے پاس موجود تھا سکول سے واپسی پر میں نے اسے کال کی اور اسے بتایا میں جنید بات کر رہا ہوں اور میں نے موبائل لے لیا ہے یہ میرا نمبر ہے سیو کر لو اپنے پاس اور اس سے پوچھا تم سناؤ کالج کیسا جا رہا ہے اس نے کہا پوچھ مت یار کالج میں تو بہت مزے ہیں میں نے کہا وہ کیسے مجھے بھی بتاؤ اس نے کہا مل کر بتاؤں گا اس نے کہا میں گھر سے نکل رہا ہوں تم بھی آجاؤ باہر پھر مل کر باتیں کرتے ہیں اسکا گھر قریب ہی تھی میں بھی گھر سے نکل آیا اورہمارے محلے کی باہر ایک بڑا درخت تھا ہم وہاں کٹھے ہوئے اور ملنے ملانے کے بعد میں نے اس سے کہا اب بتا کیسے مزے ہیں کالج میں اس نے کیا کیا بتاؤں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی ہے وہاں اور ایسی ویسی لڑکیاں بھی نہیں لڑکیاں بھی ایسی جو خود سے لفٹ دیتی ہیں میں نے کہا کیا سچ میں اسنے کہا ہاں جب تم کالج جاؤ گے تو جان جاؤ گے پھر اسنے کہا اپنا موبائل تو دکھاؤ مجھے میں نے اسے دکھایا تو کہنے لگا اچھا موبائل ہے اس نے مجھ سے پوچھا کیا میموری کارڈ ہے اس میں میں نے کہا ہاں ہے اس نے کہا نکالو میں تمہیں ایک گفٹ دیتا ہوں تم بھی کیا یاد کرو گے میں نے اسے کارڈ نکال کر دے دیا اس نے کارڈ اپنے موبائل میں لگایا اور میرے کاڈ میں کچھ ڈال دیا اور مجھے واپس کر دیا اور کہا یہ اکیلے میں دیکھنا میں نے کہا ایسا کیا ہے اس میں اس نے کہا جب دیکھو گے تو خوش ہو جاؤ گے میں نے کہا اچھا اور پھر ہم کچھ دیر اور بیٹھے لڑکیوں اور سیکس کی باتیں کرتے رہے اور پھر میں گھر آگیا اور نہا کر فریش ہوا اور سو گیا جب سو کر اتھا تو مجھے یاد آیا کہ کارڈ میں کیا ڈال کر دیا تھا اسنے دیکھوں تو سہی میں نے اپنا موبائل اٹھایا اور دیکھنے لگادیکھتے ہی مجھے ایک شاک لگا کیونکہ یہ ننگی ویڈیوز تھیں میں نے ایک ویڈیو چلائی اور دیکھنے لگا ایک کالا مرد بالکل ننگا کھڑا تھا اور اسکے آگے ایک ننگی لڑکی بیٹھی تھی اور اس کالے کے کالے لن کو سہلا رہی تھی اس کالے کا لن اتنا بڑا اور موٹا تھا کہ مجھے اپنا لن کسی بچے کا محسوس ہو رہا تھااور پھر دیکھتے ہی دیکھتے لڑکی اس کالے کے کالے لن کو اپنی زبان نکال کر چاٹنے لگی اسکے ٹوپے سے ٹٹوں تک اور پھر ٹٹوں سے ٹوپے تک زبان پھیرتی جاتی اور پھر آخر اسکے ٹوپے کو اپنے منہ میں بھر لیا اور کسی لولی پوپ کی طرح چوسنے لگی میں دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ کس قسم کا گندہ سیکس ہے کوئی ایسی گندی چیز کو کیسے منہ میں لے سکتا ہے اور اندر سے مجھے اچھا بھی لگ رہا تھا یہ ایک نئی چیز تھی کچھ دیر تک وہ لڑکی مختلف انداز میں اس کالے کے کالے لن کو چوستی رہی کبھی چوسنے لگتی تو کبھی اپنی زبان نکال کر چاٹنے لگتی کچھ دیر بعد اس کالے نے لڑکی کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے لپ تو لپ کسس کرنے لگا اور پھر لڑکی کو لٹا کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور پھر اسکی چوت کے ہونٹ کھولے اور اپنی زبان اسکی چوت میں گھسا دی لڑکی منہ کھولے تڑپنے لگی اور اس کالے کے سر کو اپنی چوت پر دبانے لگی کبھی کالے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے داد دینے لگتی میں حیران تھا اور سوچ رہا تھا لن چوسنے تک تو ٹھیک تھا اب یہ کیا ہے یہ تو بہت گندی ہوتی ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے اور پھر لڑکی چیخنے لگی اسکا جسم اکڑنے لگا اور پھر جھٹکے کھانے لگا اب کالا اپنی انگلی چوت میں ڈال کر اندر باہر کر رہا تھا اور اپنی زبان سے چوت کے اوپر والے کسی حصے کو چھیڑ رہا تھا میں یہ سب پہلی بار دیکھ رہا تھا اسلیے بہت حیران تھا اور پھر کالا اٹھا اور اپنا کالا ناگ اس لڑکی کے بل میں گھسا دیا اور اسکی ایک ٹانگ اپنے کندھے پر رکھے اسے چودنے لگا کچھ دیر بعد لڑکی کو ڈوگی بنا کر اپنا کالا لن پیچھے سے اسکی چوت میں گھسا دیا اور چودنے لگا پانچ منٹ تک ایسے ہی چودتا رہا پھر خود لیٹ گیا اور لڑکی کو اپنے لن پر بٹھا کر چودنے لگا بلکہ لڑکی خود ہی اپنی چوت چودنے لگی ان کا ہر انداز ہی منفرد تھا ایسے چدائی کرنے کا تو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا انکی چودائی کو پچیس منٹ ہو چکے تھے جو مجھے اور بھی حیران کر رہے تھے اور پھر وہ لڑکی کے پیچھے لیٹ کر اسکی چوت چودنے لگا اور پھر تیزی آگئی اور پھر لن باہر نکال کر اپنا پانی لڑکی کی چوت پر چھوڑ دیا دوستو مجھے سب سے زیادہ کوفت اور حیرانی اس وقت ہوئی جب ایک لڑکی کو لن گا جوس اپنے منہ میں لیتے ہوئے دیکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ اسے نگل گئی ۔ میں ایک کے بعد ایک ویڈیو دیکھتا جا رہا تھا نت نئے طریقے اور حیران کر دینے والی چیزیں تھیں ان ویڈیوز میں اور مجھے ٹائم کا احساس ہی نہ ہوا کہ کب شام ہوگئی بجلی کے جانے پر جب مکمل اندھیرا چھا گیا تو مجھے احساس ہوا اور ہوش آیا میرا لن لوہے کی طرح سخت ہو چکا تھا اور آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں آج تک تو بس انگریزی فلموں میں سیکس کے تھوڑے بہت سین ہی دیکھے تھے مگر یہ تو کوئی الگ ہی دنیا تھی اور آنے والے وقت میں مجھے پتا چلا کہ پورن کہلاتی ہیں اور مجھے ان کا نشا ہو گیا اور جو کچھ آج مجھے بہت گندہ اور غلیظ لگا تھا آنے والے دنوں میں میری زندگی کا میرے سیکس کا حصہ بننے والا تھا ۔ رات کو سوتے وقت میں چند ایک ویڈیوز اور دیکھیں اور یہ دیکھتے ہوئے مجھے یہ ویڈیوز راحت اور عروسہ سے بھی شیئر کرنے کا خیال آیا تو میں نے جلدی سے دونوں کو میسج کر دیا کہ جلدی سے عروسہ کے چھت والے کمرے میں پہنچو تم دونوں کیلئے ایک سرپرائز ہےان کا اوکے آتے ہی میں بھی گھر سے نکل پڑا اس وقت رات کے ساڑے دس بج رہے تھے پانچ منٹ بعد میں کمرے میں داخل ہو رہا تھا جہاں وہ دونوں پہلے سے موجود تھے اور بہت بے چینی سے میرا انتظار کر رہے تھے میرے اندر داخل ہوتے ہی دونوں بے چینی سے میری طرف لپکے اور ایک ساتھ بولے کیا سرپرائز ہے جلدی بتاؤ میں نے دونوں کی بے چینی کو نظرانداز کرتے ہوئے اطمنان سے کہا صبر کرو بیٹھ جاؤ وہی تو دکھانے آیا ہوں دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے تھے میں نے اپنا موبائل نکالا اور ایک گندی ویڈیو چلا دی عروسہ نے دیکھتے ہی منہ دوسری طرف کر لیا کیونکہ سین ہی ایسا تھا جہاں ایک گوری لڑکی ایک گورے مرد کی گوری بالز کو اپنے منہ میں لے لے کر مزے سے چوس رہی تھی عروسہ نے کہا چھی ی ی گندے یہ کیا گند دکھا رہے ہو یہ تھا تمہارا گندہ سر پرائز یہ کہتے ہوئے وہ چور نظروں سے دیکھ بھی رہی تھی ۔ دوستو لڑکا ہو یا لڑکی سب کو یہ سب دیکھنا اچھا لگتا ہے اگر کوئی لڑکی آپکو یہ دیکھنے سے منع کر دیتی ہے تو اسکا مطلب ہے وہ یہ سب آپکے سامنے دیکھنے سے شرما رہی ہے یا آپکے سامنے دیکھنا نہیں چاہتی اور اگر اسے تنہائی میں موقع ملے تو وہ ضرور دیکھنا چاہے گی۔ میں نے کہا دیکھو نا یار میں اس وقت یہ تم دونوں کو دکھانے آیا ہوں اور تم ہو کہ نخرے دکھا رہی ہو اتنے میں راحت بولا جو اب تک بڑے غور سے یہ ویڈیو دیکھ رہا تھا کہنے لگا آکر یہ ایسی گندی چیزیں تمہارے پاس آئی کہاں سے ہیں میں نے کہا اسکو چھوڑو نہیں دیکھنا تو میں چلتا ہوں پھر تو راحت جلدی سے بولا نہیں یار بیٹھو تم تو ناراض ہی ہوگئے اس نے میرا موبائل میرے ہاتھ سے لے لیا اور دیکھنے لگا مگر عروسہ دوسری طرف منہ کر کے بیٹھی تھی میں نے کہا کیا ہوا ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو؟ کہنے لگی کچھ نہیں میں نے کہا اچھا ایسا کرتا ہوں میں تمہارے موبائل میں بلو ٹتھ کر دیتا ہوں اکیلے میں دیکھ لینا کہنے لگی گندے مجھے نہیں دیکھنا میں اسکی بات سنی ان سنی کر دی اور اسکا موبائل اٹھا یا اور راحت سے اپنا موبائل لے کر کچھ ویڈیو کلپ میں اسکے موبائل میں ٹرانسفر کرنے لگا اور موبائل راحت کو دے دیا اور وہ ویڈیو کلپ دیکھنے لگا میں کب سے یہ ویڈیوز دیکھ دیکھ کر بہت ہاٹ ہو چکا تھا اور میرے سر پر سیکس سوار تھا تو میں نے اپنی گرمی عروسہ پر نکالنے کا سوچا اور اسکے بوبز پر ہاتھ رکھ دیا اور دبانے لگا اور پھر اپنا منہ اسکے منہ پر رکھا اور اسکے نارک گلابی لپس چوسنے لگا میرا حملہ ایسا تھا کہ عروسہ اپنا ہوش کھونے لگی اور میرا ساتھ دینے لگی اس نے میرا لن شلوار کے اوپر سے پکڑ لیا اور دبانے لگی میں نے جلدی سے اسکی قمیض اتار دی اسنے بازو اوپر اٹھا کر قمیض اتارنے میں میرا ساتھ دیا وہ آج کچھ گرم لگ رہی تھی اور پھر اسکا بریزر بھی اتار دیا کیونکہ اب وہ بریزر بھی پہننے لگی تھی اسکے مموں پر کسی پیاسے کی طرح ٹوٹ پڑااوراسکے بوبز چوسنے لگا اب میں ویڈیوز دیکھ دیکھ کر بہت کچھ سیکھ چکا تھا اسنے بھی میری شلوار کھول لی تھی اور میرا کیلا باہر نکال کر سہلا رہی تھی راحت ہم دونوں سے بے خبر ویڈیوز میں کھویا ہوا تھا میں نے بھی اسکی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور اسکی چوت کو سہلانے لگا عروسہ تڑپنے لگی تھی مجھے اس پر ترس آیا اور میں الگ ہو کر اپنے کپڑے اتارنے لگاوہ میرے جھولتے ہوئے لن کو حوس بھری نظروں سے دیکھنے لگی میں خود سے فری ہو کر اسکی شلوار بھی نکال دی اب وہ لباس فطرت میں میرے سامنے بیٹھی میرا لن ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھ رہی تھی اور سہلا رہی تھی کپڑوں سے بھی ذیادہ وہ بے لباس خوب صورت لگتی تھی میں نے جلدی سے اسے لٹایا اور اسکی ٹانگیں کھول کر اسکی چوت کو چوما اوپر جہاں بال ہوتے ہیں اسکے بال ابھی بہت چھوٹے اور ریشمی تھے پھر میں نیچے اسکی رانوں پر آیا اور اسکی رانوں کا ایک ایک انچ چومتے اوپر جانے لگا اسکی چوت کے اوپر چومتا ہوا اسکی ناف پر جا پہنچا اسکی ناف کی کیا ہی بات تھی بہت ہی خوبصورت اسے چومتے ہوئے اور اسکے پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو بہت ہی ملائم اور ریشمی سا احساس ہوا جیسے وہ کسی ریشم سے بنی ہوئی ہو اور ایک بار پھر اسکے سخت ہو رہے بوبر کو اپنے تھوک سے تر کرنے لگا وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھی مجھے اس کی اس ادا پر اور بھی بہت پیار آنے لگا تھا میں اوپر جانے لگا اسکے گالوں کو چوما لپس کو چوما اور پھر ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اپنا لن سکی گیلی ہو رہی چوت پر گڑنے لگا میرا لن بھی اسکی چوت کے پانی سے چکنا ہونے لگا میں نے اسے سوراخ پر ٹکایا اور پر دباؤ ڈال دیا لن اسکے بند دروازے کو کھولتے ہوئے اندر گھسنے لگا میں اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا تھا اسکے چہرے پھر ایک لمحے کیلئے تکلیف نظر آئی پھر میرے لن کے پورا اندر گھسنے کے ساتھ ہی غائب ہو گی اور میں سکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے لن کو آرام سے حرکت دینے لگا میرے ہاتھ اسکے بوبز دبا رہے تھے اور میری آنکھیں اسکی آنکھوں سے حال پوچھ رہی تھیں پھر میں آہستہ آہستہ سے سپیڈ بڑھانے لگا اور ایک ردھم کے ساتھ اسے چودنے لگا ہمارے جسموں کے ٹکراؤ سے ایک خاص آواز پیدا ہونے لگی جس نے کمرے میں سماں باندھ لیا اس آواز سے راحت بھی چونک کر اس دنیا سے باہر کی دنیا میں آگیا وہ بھی بہت گرم ہو چکا تھا اسکی شلوار میں بنا تنبو اور تنی ہوئی چھاتیاں صاف نظرآرہی تھیں ہمیں اس حالت میں دیکھ کر وہ خود کو بھی بے لباس کرنے لگا اب مجھے دس منٹ ہوچکے تھے میرا وقت قریب آرہا تھا میں تیز ہونے لگا اور میری سانسیں شور کرنے لگیں اور جسم اکڑنے لگا جان مانو لن نے نکلنے لگی میں نے جلدی سے لن نکالا اور عروسہ کی گانڈ پر رکھ دیا جو چوت کے پانی سے گیلی ہو چکی تھی ان دس منٹوں میں عروسہ دو بار فارغ ہوئی تھی اور پھر لن گانڈ میں ڈالنے لگا ابھی گانڈ میں ڈال کر دو تین جھٹکے ہی دے تھے کہ میری بس ہو گئی میں لن کو گانڈ کی گہرائی میں پہنچا کر رک گیا اور میرے لن سے جیسے کوئی چشمہ پھوٹ پڑا ہو اتنی زیادہ منی نکل رہی تھی کہ لگ رہا تھا عروسہ کی پوری گانڈ ہی بھر جائے گی اپنی منی کا آخری قطرہ تک عروسہ کی گانڈ میں نکال کر میں پیچھے ہٹا اور لن باہر نکال لیا لن باہر آنے کے ساتھ ہی میری منی بھی بہتی ہوئی گانڈ سے باہر آرہی تھی ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے واقعی میں عروسہ کی گانڈ میری منی سے بھر چکی ہو۔ میرے پیچھے ہٹتے ہی راحت آگے بڑھا جو کہ اپنے لن کو تھوک سے پہلے ہی چکنا کر چکا تھا اور اپنی مٹھ لگا رہا تھا ، لن عروسہ کی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں جڑ تک چوت میں ڈال دیا اور بنا رکے ہی جھٹکے دینے شروع کر دیےایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ویڈیوز دیکھ کر بہت گرم ہو چکا تھا شروع سے اسکی سپیڈ بہت تیز تھی پانچ منٹ کی چودائی کے بعد ہی عروسہ تیسری بار بھی جھٹکے کھاتے ہوئے فارغ ہوگئی تھی اور نڈھال ہو گئی تھی راحت بھی اب آنے والا تھا اسکا جسم اکڑنے لگا اور اسکی رفتار بھی تیز ہوگئی اور پھر چنگھاڑتے ہوئے لن باہر نکالا راحت کا منہ سرخ ہوچکا تھا اور پھر اپنی ساری منی اسنے عروسہ کے پیٹ پر انڈیل دی اور ہانپتا ہوا بیڈ پر گر پڑا اور اپنے سانس بحال کرنے لگا عروسہ بھی تین بار فارغ ہوئی تھی نڈھال لگ رہی تھی اور بے سدھ پڑی تھی جب ہمارے حواس بحال ہوئے تو ہم گھر واپس آگئے ۔ دوستوجو ویڈیوز مجھے شروع میں عجیب اور گندی لگتی تھیں اب میں ان کا عادی ہو چکا تھا اب مجھے وہ سب اچھا لگنے لگا تھا اب میرا بھی دل کرنے لگا تھا کہ کوئی میرا بھی لن چوسے میرے بھی کوئی ٹٹے چاٹے جیسے ویڈیوز میں ہوتا ہے اب تو ویڈیو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا تھا کہ جیسے وہ گوری میرا ہی لن چوس رہی ہے اب میرا بھی عروسہ کی چوت چاٹنے کا دل کرنے لگا تھا ۔ پھر ایک دن میں نے راحت اور عروسہ کو کہا کہ کیوں نا ہم بھی وہ سب کریں جو ویڈیوز میں کرتے ہیں دونوں نہیں مانے کہنے لگے بہت گندے ہو تم مجھے یقین تھا کہ جو ویڈیوز میں نے عروسہ کے موبائل میں ڈال دی تھیں وہ سب عروسہ دیکھ چکی تھی بلکہ مجھے لگتا تھا وہ روز دیکھتی ہے کیونکہ اب وہ پہلے کہ طرح سختی سے انکار نہیں کرتی تھی اور پہلے کی طرح نہیں گندہ کام کہتی تھی اب شاید وہ اس طرف آرہی تھی آہستہ آہستہ ۔ ایک دن جب میں اور راحت چدائی کرنے لگے تو میں نے راحت سے کہا یار میرا چوپا تو لگا دو میرا بہت دل کرتا ہےاسنے کچھ سوچتے ہوئے کہا ایک شرط پر اگر تم میرا چوپا بھی لگاؤ تومیں چوپا لگوانے کیلئے اتنا ترس رہا تھا کہ میں نے ڈن کر دیا راحت بھی موویز سے کچھ نہ کچھ سیکھ ہی چکا تھا وہ میرے سامنے بیٹھ گیا اور میرا لن سہلانے لگا ۔ راحت عروسہ کی نسبت جلدی مان گیا تھا اس کام کیلئے کیونکہ انکار کرنا اور نخرے کرنا لڑکیوں کی فطرت ہوتی ہے کسی لڑکی کا چاہے جتنا بھی دل کر رہا ہو چدوانے کا وہ کہتی نہیں ہے عام طور پر وہ کوشش کرتی ہے آپ پہل کریں اگر آپ پہل کر بھی دیں تو بھی جھٹ سے نہیں مان جائے گی بلکہ پہلے انکار کرے گی نخرے دکھائے گی اور پھر مانے گی۔ خیر راحت میرے لن کو سہلاتے ہوئے اپنا منہ قریب لایا اتنا قریب کہ اسکی گرم سانسیں مجھے اپنے لن کے ٹوپے پر محسوس ہورہی تھیں پھر اسنے اپنا تھوڑا سا منہ کھولا اور میرے ٹوپے کو اپنے منہ میں لینے لگا جب اسنے میرا ٹوپا منہ میں لےلیا تو میں مزے سے پاگل ہونے لگا یہ احساس ہی الگ تھا اسکا منہ اندر سے بہت گرم لگ رہا تھا میرے ٹوپے پر اور اندر سے گیلا اور ریشمی احساس دے رہا تھا مجھے اپنے لن پر میں تو جیسے آسمانوں میں اڑ رہا تھا میرا دل کر رہا تھا راحت میرا پورا لن ہی نگل جائے مگر وہ آدھے سے ذیادہ نہیں لے پارہا تھا اور پھر وہ آرام آرام سے اسے کسی کلفی کی طرح چوسنے لگا یہ مزہ میری برداشت سے باہر ہونے لگا تھا مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ ابھی میری منی راحت کے منہ میں ہی نکل جائے گی مگر میں اپنے آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب مجھے لگا اب بس میری منی نہیں رکے گی تو میں نے جلدی سے اپنا لن راحت سے چھڑا لیا اور ایک طرف ہو کر اسے اپنی گانڈ آگے کرنے کو کہا اسنے گھٹنوں پر آتے ہوئے اپنی گانڈ میرے سامنے کر دی میں اپنا منہ اسکی گانڈ کے قریب لے گیا اور اسکی گول موری کو قریب سے دیکھنے لگا اسکی موری کھل بند ہو رہی تھی اور مجھے اپنی طرف بلا رہی تھی میں اپنے منہ کو اور قریب لے گیا اور اسکے موٹے شفاف چوتڑوں پر باری باری چوما اور پھر تھوک کا ایک بڑا سا گولا اسکی موری پر پھینکا اور اسے اچھے سے چکنا کرنے لگا ، میرا لن پہلے سے ہی راحت کی تھوک سے چکنا تھا میں نے لن پکر کر اسکی موری پر سیٹ کیا اور دباؤ ڈال دیا میرا لن اپنا راستہ بناتا ہوجڑ تک اندر جا پہنچا تو میں نے دھکے شروع کر دیے دو تین منٹ کے دھکوں نے ہی مجھے جھڑنے پر مجبور کر دیا کیونکہ راحت کے چوپوں نے مجھے پہلے ہی منزل کے قریب کر دیا تھا چنگھاڑتے ہوئے راحت کی گانڈ کو اپنی منی سے پھرنے لگا راحت بھی بار بار میرے لن کو اپنی گانڈ میں دبا رہا تھا جیسے اسے نچوڑ رہا ہو جیسے میرے لن کو اپنی گانڈ کے منہ سے چبا جانا چاہتا ہو کھا جانا چاہتا ہو۔میں نڈھال ہو کر اسکے اوپر ڈھے گیا اور اسکے ممے سہلانے لگا ۔
  6. قسط نمبر4 اسکے دو دن بعد میں عروسہ سے ملا تو اس سے پوچھا کہ اب چوت دینے کا کیا سوچا ہے اس نے کہا ہاں وہ بھی دوں گی لیکن سنا ہے پہلی بار بہت درد ہوتا ہے اور خون بھی نکلتا ہے اسطرح تو میں کنواری بھی نہیں رہوں گی اور جب میری شادی ہوگی تو میرے شوہر کو بھی تو پتا چل جائے گا نا جب خون نہیں نکلے گا۔میں نے کہا اسکی تم فکر مت کرو کیونکہ تم سے شادی تو میں ہی کروں گا اور بات رہی درد والی تو وہ ایک بار ہوگا جیسے گانڈ میں ہوا تھا برداشت کر لینا ایک بار ویسے بھی کبھی نا کبھی تو یہ کرنا ہی ہوگا تمہیں تو اب کیوں نہیں تو اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے رات کو ملتی ہوں میرے کھر پر چھت والے کمرے میں رات گیارہ بجے آجانا۔ اس کے بعد میں گھر چلا آیا لن صاحب کی تیل سے مالش کی اور رات کیلئےتیار کیا اور پھر رات ہونے کا انتظار کرنے لگا مگر وقت کو پتا نہیں آج کیا ہوگیا تھا گزرنے میں ہی نہیں آرہا تھاپھر کسی نا کسی طرح وہ وقت بھی آہی گیا رات گیارہ بجے میں عروسہ کی بتائی ہوئی جگہ پر کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا کمرے کا دروازہ آج پہلے سے ہی کھلا تھا شاید عروسہ پہلے ہی کھول گئی تھی کمرے کا جائزہ لیا تو پرانے بیڈ پر پہلے سے ہی ایک پرانا سا گدا اور تکیا موجود تھا یہ سارے انتظام آج پہلے سے ہی عروسہ کر گئی تھی شاید وہ بھی میری طرح ایک نیا تجربہ کرنے کیلئے کچھ زیادہ اکسائیٹڈ تھی یا پھر میرے اس سے شادی والی بات کی وجہ سے مجھے اپنا شوہر مان لیا تھا پتا نہیں۔ ابھی میں کھڑا ہی تھا کہ مجھے سیڑھیوں سے کسی کے اوپر آنے کی قدموں کی مخصوص آواز آئی میں سمجھ گیا کہ یہ ضرور عروسہ ہی ہوگی یہ سوچتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی کیونکہ آج میں پہلی بار ایک چوت کنواری چوت چودنے جا رہا تھا ۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا جب آپ پہلی بار ایسا کچھ کر رہے ہوتے ہیں تو دل کی دھڑکنیں بھی کچھ الجھی ہوئی ہوتی ہیں اور بندہ کچھ کنفیوز سا بھی ہوتا ہے مگر پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نارمل اور روٹیں کی ایک چیز بن جاتی ہےکچھ لوگ تو پہلی بار کچھ خوف بھی محسوس کرتے ہیں اور یہی خوف ان کی ناکامی کا سبب بھی بنتا ہے وہ ایسے کہ جناب ملنے یار بھی آیا کچھ کرنا بھی چاہا مگر یہ کیا لن صاحب تو کھڑے ہی نہیں ہو رہے بعد میں پھر یہی پہلی ملاقات والی ناکامی شرمندگی اور خوف اگلی ملاقاتوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے بہر حال بعض لوگوں میں کچھ نفسیاتی الجھنیں اور ضرورت سے ذیادہ خوف پایا جاتا ہے بعض لوگ تو لڑکی کو دیکھتے ہی کانپنے لگتے ہیں اور ٹھیک سے بات بھی نہیں کر پاتے ۔ ہم شاید کہیں اور نکل گئے ہیں کہانی کی طرف واپس آتے ہیں عروسہ اور میں آمنے سامنے کھڑے تھے اس نے آتے ہی دروازہ اندر سے لاک کر دیا تھا پھر ہم ایک دوسرے کے قریب آئے اور پھر ایک دوسرے کو بانہوں میں بھر لیا اور ایک دوسرے کی بے ترتیب ہوتے ہوئی دھڑکنوں کو محسوس کرنے لگےدونوں طرف ایک ہی حال تھا ۔پھر میں نے اسے کس کرنا شروع کیا ماتھے پر بوسا دیا نرم اور گول گالوں کو چوما اور پھر اپنے ہونٹ اسکے گلابی اور نازک ہونٹوں میں ڈال دیے کبھی اس کا نیچے والا ہونٹ چوستا اور کبھی اوپر والا اب وہ بھی میرے ہونٹ چوسنے لگی تھی اور ہم ہر قسم کا خوف اور الجھنیں بھول کر ایک دوسرے میں کھوچکے تھے اور ہماری دھڑکنیں بھی اب نارمل ہو چکی تھیں میرے ہاتھ اسکی اٹھتی جوانیوں تک کب پہنچے پتا ہی نہیں چلا اور اب وہ اپنے ہوش وحواس سے بیگانا ہوتی جا رہی تھی مجھے کس کرنا بھی بند کر چکی تھی اور میں اسکی رس بھریاں دبانے کے ساتھ ساتھ اسکی گردن پر بھی زبان پھر رہا تھا اورایک ہاتھ اس کی گانڈ کی نرمی اور گولائی ناپ رہاتھا اس ننھی کلی کو اپنے ہوش سے بیگانا کرنے کیلئے اتنا بہت تھا میں نے اسکا ہاتھ پکرا اور اپنے پھن پھیلائے ناگ پر رکھ دیا جو اپنی پوری مستی سے جھوم رہا تھا۔عروسہ کے ہاتھ کا پیار بھرا لمس پاتے ہی وہ خوشی سے اور پھولنے لگا تھا ۔ میرا ہاتھ جوکہ اسکی گانڈ پر تھا اب اسکی الاسٹک والی شلوار کے اندر جا چکا تھا اور اسکی گانڈ کی مکھن جیسی نرماہٹ کو محسوس کررہا تھا اور پھر اپنی انگلی سے اسکی گانڈ کے چھید کع چھیڑنے لگا اور عروسہ سسکاریاں نکالنے لگی کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد میں نیچے جھکا اور اسکی شلوار اسکی ٹانگوں سے نکال دی اور اسے بیڈ پر بٹھا دیااور پھر اسکی قمیض بھی پکڑ کر اوپر اٹھا دی جسے اس نے اپنی بانہیں اوپر اٹھا کر اتارنے میں مدد دی نیچے دیکھا تو اسکی چھاتیوں کی اٹھان بہت ہی پیاری لگ رہی تھی اس سے پہلے کہ میں ان پر کسی پیاسے کی طرح ٹوٹ پڑتا ایک کام کرنا باقی تھا اور وہ تھا خود کو بے لباس کرنا۔ میں نے جلدی سے اپنی قمیض اتاری اور بیڈ پر پھینک دی اور پھر عروسہ کے سامنے میرے لن کا ابھار تھا وہ بیڈ پر بیٹھی تھی اور میں اسکے سامنے کھڑا تھا اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹراؤزر پر رکھا اور اسے کہا اب سے تم باہر نکالو اور وہ اپنے نازک ہاتھوں سے میرا ٹراؤزر اتارنے لگی جیسے ہی اسنے ٹراؤزر نیچے کیا میرا لن ایک جھٹکے سے باہر آیا اور اسکے سامنے جھومنے لگا اسنے دیکھ کر حیرت سے کہا یہ تو آج پہلے سے کافی بڑا لگ رہا ہے کیا یہ اتنا بڑا میری نازک سی چوت میں چلا جائے گا؟یہ کہتے ہوئے وہ میرے لن کو اپنے نازک ہاتھ میں لے کر بہت ہی پیار بھرے انداز میں سہلانے لگی۔مجھ سے اب اور برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اسے جلدی ہے بیڈ پر لٹایا اور اس کی رس پھریوں سے رس کشید کرنے لگا اور پھر میں دس منٹ تک انہیں ہی چوستا رہا میری پیاس تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی عروسہ نیچے سے میرے لن کی مٹھ لگا رہی تھی سہلا رہی تھی ۔ اب میں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور اس کے بوبز سے نیچے کا سفر شروع کیا اور اسکی ناف کو چومتے ہوئے اسکی چوت تک آیا جہاں ابھی بال اپنی جڑیں ہی ڈال رہے تھے وہاں تھوڑی دیر چومنے کے بعد میں نے اسکی چوت کے لب جدا کیے اور اندر کا منظر دیکھنے لگا چوت گیلی ہو چکی تھی بالکل چھوٹی سی چوت تھی اب میں نے اپنے لن کو تھوک سے اچھے سے چکنا کیا اور پھر کچھ تھوک چوت میں بھی ڈال دیا اور لن کو چوت کے سوراخ پر رکھا دباؤ ڈال دیا لن پھسل کر اوپر نکل گیا تھا میں نے لن کو ایک بار پھر سے سوراخ پر رکھا اور جھٹکا دیا ٹوپا اندر جا گھسا تھا اور ساتھ میں عروسہ کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی تھی عروسہ کی سیل ٹوٹ چکی تھی وہ درد سے بلبلا اٹھی تھی اور مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے نکالنے کا کہہ رہی تھی مگر اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا میں نے ایک جھٹکا اور مارا اور لن تنگ چوت کو چیرتا ہوا آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا اور میں عروسہ کے اوپر لیٹ گیا وہ نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں اسے ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ بس ہوگیا جو درد ہونا تھا ہو گیا لن اندر جا چکا ہے اب سب ٹھیک ہوجائے گا جیسے ہی اس نے مزاحمت کرنی بند کی میں نے لن کو حرکت دینی شروع کر دی اس سے وہ ایک بار پھر سے درد محسوس کرنے لگی تھی مگر اب مجھے رکنا نہیں تھا میرا لن خون سے سرخ اندر باہر ہو رہا تھا ابھی چار پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ مجھے اپنے جسم میں ہلچل محسوس ہونے لگی میں نے رفتار بڑھا دی اور پھر میرا لاوا لن کو چیرتا ہوا اسکی چوت میں جانے لگا تو میں نے لن کو گہرائی میں پہنچا کر روک دیا اور عروسہ کو شدت جذبات سے چومنے لگا دومنٹ تک میں عروسہ کے اوپر ہی پڑا رہا اس کے بعد اسنے مجھے دھکا دے کر ایک طرف پھینکا اور مجھے تھپڑ مارنے لگی کتنے بے رحم ہوتم میں درد سے تڑپ رہی تھی اور تم پھر بھی لگے رہے میں کہیں بھاگی تو نہیں جا رہی تھی ،میں نے کہا اچھا سوری اب تو ہو گیا نا اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔کیا ٹھیک ہو جائے گا اب اور تم نے اپنا لاوا بھی میری چوت میں ڈال دیا اور کہہ رہے ہو سب ٹھیک ہو جائے گا کچھ ہوگیا تو پھر ؟؟؟سوری یار کنٹرول ہی نہیں ہوا اچھا فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگاپھر اندر نہیں ڈالوں گا اپنی منی اب معاف کردو اسکے بعد وہ مشکل سے مانی اور پھر ہم کافی دیر تک وہاں لیٹ کر ایک دوسرے کے جسموں سے کھیلتے ہوئے باتیں کرتے رہے اور پھر چار بجے میں گھر آگیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا مگر آج نیند کا نام ونشان تک نہ تھا وہی لمحے بار بار میری آنکھوں کے آگے کسی فلم کی طرح چلنے لگتے اور کبھی لگتا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ پھر پتا نہیں کب مجھے نیند آگئی اور پھر میری آنکھ راحت کے جگانے سے کھلی وہ مجھے جھنجھوڑ کر جگا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کیا ہوا اب تک کیوں سو رہے ہو دن کے گیارہ بج رہے ہیں تمہاری امی بھی تمہیں دوبار جگا چکی ہیں مگر تم جاگ ہی نہیں رہے میں نے کہا کچھ نہیں یار رات نیند نہیں آرہی تھی صبح جا کر آنکھ لگی ہے راحت بھی معاملہ کچھ کچھ سمجھ چکا تھا کہنے لگا نیند نہیں آرہی تھی یا ساری رات عروسہ کی بجاتے رہے ہو میں مسکرانے لگا اور وہ غصے ہونے لگا اور کہنے لگا اکیلے ہی چلے گئے رات مجھے بھی ساتھ لے جاتے پھر میرا لن پکڑ کر دباتے ہوئے کہنے لگا میرا حصہ بھی تم اسی پر لٹا آئے ہو یہ دیکھو اس میں تو زرا بھی جان نہیں ہے بالکل ہی خالی کر آئے ہو میں نے مسکراتے ہوئے کہا ارے بدھو یہ بھی بھلا کبھی خالی ہوتا ہے اپنی چکنی گانڈ کے درشن کروا پھر دیکھ کیسے اس میں جان آتی ہے ۔ایسے ہی باتیں کرتے میں اٹھا اور واشروم میں چلا گیا اور فریش ہو کر باہر آگیا میرے باہر آتے ہی راحت پھر سے شروع ہو گیا کہنے لگا اچھا یہ بتا کتنی باری گانڈ ماری رات عروسہ کی میں نے کہا اس بار گانڈ نہیں ماری اسکی چوت کا افتتاح کر آیا ہوں وہ اور ناراض ہونے لگا کہنے لگا اسکی گانڈ بھی تم نے مجھ سے پہلے مار لی تھی اور اب چوت بھی مجھ سے پہلے لے لی اسکی میرے لیے کچھ نہیں چھوڑتے تم اور پہلے میں نے تم دونوں کو کرتے دیکھ لیا تھا تو بتایا ورنہ اکیلے ہی مزے کرتے رہتے تم مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتے اور نا وہ عروسہ کرتی ہے وہ سچ میں اکھڑنے لگا تھا میں نے اسے گلے سے لگا لیا اور کہا ایسے مت کہو تم اچھے سے جانتے ہو تم جان ہو ہم دونوں کی اسلیے تو تمہیں بھی سارے مزے ساتھ کرواتے ہیں کبھی منع نہیں کرتے ہو کچھ ٹھنڈا ہو گیا تھا میں نے کہا چلو اب ناشتہ کر لوں تو عروسہ کے پاس چلتے ہیں ۔ کچھ دیر بعد ہم عروسہ کے پاس بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے راحت اسے چھیڑ رہا تھا کہہ رہا تھا سنا ہے رات کسی ظالم نے تمہاری پھاڑ کر رکھ دی ہے عروسہ مسکرا رہی تھی اور کہنے لگی ہاں اب تک دکھ رہی ہے میری اور سوجی ہوئی ہے راحت کہنے لگا ویسے ٹھیک ہوا ہے تمہارے ساتھ تم بھی تو انہیں ظالموں کے ساتھ ہی خوش رہتی ہو انہی کو موقع دیتی ہوعروسہ نے کہا کیا تمہیں نہیں دیتی تو پھر راحت کچھ شرمندہ ہو گیا اور خاموش ہو گیا اب میں نے عروسہ سے کہا اب آگے کب کا پراگرام ہے اب اس(راحت) کا بھی منہ بند کرنا پڑے گا اسے بھی دینی پڑے گی عروسہ کہنے لگی میری جو حالت تم نے کی ہے اب ایک ہفتہ تو سوچنا بھی مت میں نے کہا یار ایک ہفتہ؟ ایک ہفتہ کیسے گزاروں گا میں ایک ہفتہ تو بہت ہوتا ہے اور ایک ہفتے تک ہمارے رزلٹ بھی آنے والے ہیں اس نے کہا اچھا رزلٹ کے بعد سیلیبریٹ کرتے ہیں پھر اس کے بعد ہمارا پروگرام رزلٹ کے بعد کا پکا ہو گیا اور ہم واپس آگئے مگر یہ پروگرام عروسہ کے ساتھ طے ہوا تھا راحت کے ساتھ تو نہیں مجھے یہ ایک ہفتہ راحت کی بجا کر گزارنا تھا۔میں نے واپسی پر راحت سے کہا ایک ہفتہ تک عروسہ ہمارے ساتھ شامل نہیں ہو سکے گی اس نے میری طرف دیکھا اور کہا کیا مطلب میں نے کہا اگر ایک ہفتہ ہم اکیلے ہی انجوائے کریں؟راحت نے کہا ہاں یار یہ ٹھیک رہے گا مجھ سے بھی اب اتنے دن صبر نہیں ہوتا تو میں نے اس سے پوچھا تو پھر کیا پروگرام ہے اس نے کہا کل رات آجانا میرے گھر چھت پر جب نو بجے ایک گھنٹہ بجلی جاتی ہے میں نے کہا چلو ڈن ہو گیا۔ پروگرام کے مطابق اگلے دن میں راحت کے گھر پر تھا وہ میرے آگے جھکا کھڑا تھا اور میں اسکے پیچھے کھڑا تھا ہم دونوں کا نچلا دھڑ ننگا تھا مگر ہم نے سارے کپڑے نہیں اتارے تھے میں نے تھوک اسکی گانڈ پر لگائی اور پھر اپنے لن کو بھی تھوک سے چکنا کیا اور اندھیرے میں اپنا لن اسکی گانڈ کی دراڑ سے گزارتا ہوا اپنا ٹوپا اسکے نرم سوراخ پر رکھا اور دباؤ بڑھا دیا راحت کی گانڈ کی گرمی نے مجھےآدھا لن اندر ہونے کا احساس دلایامگر میرا آدھا لن اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہی چھپ جاتا تھا اور اسکے چوتڑ میرے جسم سے ٹکرا جاتے تھے پورا لن اندر نہیں جا رہا تھا میں اتنا ہی اندر باہر کرنے لگا اسکی موٹی اور نرم گانڈ میں میرا لن بہت مزے میں تھا مگر میں سارا اندر کرنا چاہتا تھا میں نے راحت سے مزید جھکنے کو کہا وہ اپنے گھٹنوں پر آگیا اور اسکی گانڈ پوری طرح کھل کر سامنے آگئی اور پھر کیا تھا لن سارا اندر جا گھسا تھا میں وہیں ٹھہر گیا پورا اندر کر کے اور اسکی گانڈ کی گرمی اور نرمی کو محسوس کرنے لگا راحت بار بار گانڈ کو لن کے گرد دبا رہا تھا میں ایک ہاتھ آگے لے گر گیا اور اسکے ممے دبانے لگا اور دوسرے ہاتھ سے اسکی مٹھ مارنے لگا راحت ڈبل مزے میں تھا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد میں اپنے لن کو اسکی گانڈ میں حرکت دینی شروع کی اور ایک ردھم کے ساتھ اسکی گانڈ بجانے لگا میرا اگلا حصہ اسکی گانڈ سے ٹکرانے سے ایک خاص آواز آنے لگی تھی جیسے جیسے میرے دھکے اسکی گانڈ میں جاری تھے ویسے ویسے ہی میرے ہاتھ کی حرکت اسکے لن پر بڑھ رہی تھی پانچ منٹ بعد ہی میرے لن میں بھونچال سا آنے لگا اور میرے دھکے راحت کی گانڈ میں تیز ہوگئے اور اسکے لن پر میرے ہاتھ کی حرکت بھی اور پھر چند دھکوں کے بعد ہی میری منی راحت کی گانڈ کو راحت پہنچانے لگی اور ادھر میں نے راحت کا لن اپنے ہاتھ میں پوری قوت سے دبایا اسکے ساتھ ہی راحت گا لن بھی خوشی سے پھولنے لگا اور منی کا سیلاب میرے ہاتھ میں بہنے لگا راحت ڈبل مزے سے چنگھاڑنے لگا اور زور زور سے ہانپتے ہوئے نیچے لیٹتا چلا گیا اور سکے ساتھ میں بھی اسکے اوپر لیٹتا چلا گیا اور ہم دونوں اس وقت تک ایسے ہی پڑے رہے جب تک میرا لن سکڑ کر راحت کی گانڈ سے باہر نہیں نکل آیا تھا لن باہر آنے کے بعد میں اٹھا اور اپنا لن اور ہاتھ صاف کرنے کیلئے کوئی چیز دیکھنے لگا تو راحت نے کہا کیا ہوا کیا تلاش کر رہے ہو میں نے کہا یہ سب صاف کرنے کیلئے کچھ تلاش کر رہا ہوں تو راحت نے اپنا رومال نکالا اور کہنے لگا آؤ میں صاف کر دیتا ہوں اور پھر وہ میرے ہاتھ پر لگی اپنی منی صاف کرنے لگا اور اس کے بعد میرا لن بھی صاف کر دیا اور پھر میں واپس گھر آگیا گھر آنے کے بعد سیدھا واشروم گیا نہایا خود کو صاف کیا اور پھر سو گیا اور سوتے ہی نیند آگئی تھی کیونکہ میں سکون میں تھا اور تھک بھی گیا تھا ۔ پھر اسکے بعد کافی دن ہمیں کچھ کرنے کا موقع ہی نہیں ملا اور پھر ہمارے رزلٹ کا دن بھی آگیا جس میں ہم تینوں اچھے نمبروں سے پاس ہوگئے تھے عروسہ نے کلاس میں ٹاپ کیا تھا اسکے بعد راحت کے اور میرے نمبر تھے اور اب ہم گھر والوں وعدہ کے مطابق اپنے لیے سمارٹ فون کا مطالبہ کر سکتے تھے آپ تو جانتے ہی ہیں فون کا سیکس کا بہت گہرا تعلق بن چکا ہے موبائل فون ہوتا ہے تو انٹرنیٹ ہوتا ہے اور انٹرنیٹ ہوتا ہے تو پورن موویز ہوتی ہیں دیکھنے کو بہت سی سیکسی سٹوریز کی ویب سائیٹ پہنچ میں ہوتی ہیں جیسے اردو فن کلب ہے جس سے بہت ذیادہ سیکس کو جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا ہے اب تک تو ہم سادہ سا سیکس اور چدائی ہی کر رہے تھے مگر اب موبائل فون ملنے کے بعد ہمارے سیکس میں بہت کچھ نیا اور مزیدار آنے والا تھا۔ اور پھراگلے دن ہی ہمارے امتحان میں اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے تحفے کے طور پر ہمیں فون دلا دیے گئے اور اب ہم بہت خوش تھے یہاں سے ہمارا سیکس اصل سیکس یا پورن جیسا سیکس بننے والا تھا ۔ دوستو یہ ایک چھوٹی سی اپڈیٹ تھی امید ہے پسند آئے گی اپڈیٹ لیٹ ہونے کیلئے معذرت کرتا ہوں اب کوشش ہوگی کہ جیسے تیسے بھی تھوڑا بہت اپڈیٹ دیتا رہوں۔
  7. کیسے ہیں دوستو امید ہے خیریت سے ہوں گے۔سب سے پہلے میں اپنے تمام دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب کہانی اپڈیٹ کرنا شروع کریں گے رمضان سے پہلے میں نے جو اپڈیٹ پوسٹ کی وہ بیس دن تک پینڈنگ رہی ایڈمن صاحب شاید مصروف ہوں گے کہانی کی اپڈیٹ پوسٹ نہیں ہو رہی تھی پھر اس کے بعد رمضان المبارک کا مہینہ آگیا تھا اب اپڈیٹ پر پھر سے کام شروع کرتے ہیں۔ آپ‌کے اتنا زیادہ پیار اور انتظار کا اور کہانی پسند کرنے کا بہت شکریہ
  8. قسط نمبر3 اگلے دن راحت سکول میں ملا اور کہنے لگا یار میں بھی اب عروسہ کی گانڈ مارنا چاہتا ہوں کیا وہ مجھے مارنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں کل دیکھا نہیں تھا کہ وہ تیرا لن ہاتھ میں لے کر خوش تھی تو اپنی گانڈ میں کیوں نہیں لے گی بس تو ہمت کر کل میں دیر سے آؤں گا سٹڈی روم میں تیرے پاس موقع ہوگا ۔ ویسے میں نے کہہ تو دیا تھا راحت کو عروسہ کی گانڈ مارنے کا مگر مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے علاوہ کوئی اور عروسہ کی گانڈ مارے لیکن جتنا پیار میں عروسہ سے کرتا تھا اتنا ہی راحت سے بھی کرتا تھا اس لیے یہ سب سہہ لیا تھا کیونکہ پیار محبت قربانی مانگتے ہیں اور راحت بھی تو عروسہ سے میرے جتنا ہی پیار کرتا تھا وہ الگ بات تھی کہ وہ ایک ہیجڑا تھا جذبات جنس یا عیب تو نہیں دیکھتے نہ میں نے سوچ لیا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ پیار کریں گے اور ایک دوسرے سے کبھی الگ نہیں ہوں گے۔ اگلے دن راحت سٹڈی روم میں سب سے پہلے پہنچا تھا میں جان بوجھ کر دیر سے گیا تھا راحت کے بعد عروسہ روم میں آئی تھی کچھ دیر بعد میں بھی رام میں چلا گیا تھا جب میں وہاں پہنچا تو روم لاک تھامیں نے کھڑکی سے دیکھنے کی کوشش کی مگر کچھ نظر نا آیا تو میں روم کی دوسری طرف والی کھڑکی کی طرف چلا گیا اور وہاں سے اندر جھانکنے کی کوشش کرنے لگا کچھ دیر کی کوشش کے بعد مجھے ایک جگہ مل گئی تھی جہاں سے میں اندر جھانک سکتا تھا جب میں نے اندر دیکھا تو وہاں کا منظر میرا ہوش اڑانے والا تھا کھڑکی کی طرف راحت کی پیٹھ تھی اور عروسہ کی گانڈ بھی اسی طرف تھی راحت کا اور عروسہ کا نیچے والا دھڑ بالکل ننگا تھا اور راحت کا لن ٹٹوں تک عروسی کی گانڈ میں تھا اورراحت اندر باہر کر رہا تھا جس سے اس کا لن باہر اندر ہوتا مجھے صاف نظرآرہا تھا اور راحت کے ٹٹے عروسہ کی چوت سے ٹکرا رہے تھے راحت فل گہرائی تک لن اتار رہا تھا یا مجھ سے مروائی گانڈ کا بدلہ وہ عروسہ سے لے رہا تھا ۔ یہ منظر دیکھ کر میرا لن بھی پھٹنے والا ہو رہا تھا اور مجھے پینٹ میں تکلیف محسوس ہونے لگی تھی تو میں نے بھی زپ کھول کر سے باہر نکال لیا تھا اور ایک ہاتھ سے مٹھ لگانے لگا تھا جیسے جیسے راحت کی سپیڈ بڑھ رہی تھی میرے ہاتھ کی حرکت بھی تیز ہوتی جا رہی تھی مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے عروسہ کی گانڈ راحت نہیں میں مار رہا ہوں مجھے اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں آتا جاتا محسوس ہو رہا تھا ادھر راحت کا وقت قریب آرہا تھا اور ادھر میرا بھی ہم دونوں کی حرکت تیز ہو گئی تھی ہم دونوں ایک ہی وقت میں عروسہ کی گانڈ مار رہے تھے راحت حقیقت میں اور میں خیالوں میں اور پھر میرا لاوا پھٹ پڑا اور میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے لمبی دھاریں چھوڑنے لگا اور ادھر راحت اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں خالی کر رہا تھا اور رک چکا تھا اور میں اب پیچھے ہٹ کر کھڑا تھا اور اپنا لن صاف کر کے پینٹ میں ڈال رہا تھا اور پھر کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا تو میں میں بھی کمرے کے سامنے آیا اور اندر چلا گیا۔جب اندر پہنچا تو دونوں فریش ہو چکے تھے اور آرام سے بیٹھے پڑھ رہے تھے راحت نے میری طرف دیکھا تو میں نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا کیسا رہا اس نے آگے سے اپنے ہونٹوں پر زبان پھر کر بہت مزہ آنے والا اشارہ دیا۔ اور پھر کیا تھا اگلے دن اسی جگہ کھڑا میں راحت کی گانڈ میں جھٹکے مار رہا تھا اور اسے کہہ رہا تھا کہ ایسے ہی گہرائی تک ڈال رہے تھے نا تم عروسہ کی گانڈ میں راحت نے کراہتے ہوئے کہا مطلب تم سب دیکھ رہے تھے میں نے کہا ہاں اور صرف دیکھ ہی نہیں رہا تھافل انجوائے کرتے ہوئے اپنی مٹھ بھی لگا رہا تھا ایسامنظر تھا کہ میں خود پر قابو ہی نہیں رکھ سکا تھااور تمہارے ساتھ میں نے بھی اپنا لاوا نکال دیا تھا یہ کہتے ہوئے میں پھر سے راحت کی گانڈ میں راحت پہنچا رہا تھا اور میرا لن راحت کی گانڈ کو ایک بار پھر سے کل والے سین کو یاد کرتے ہوئے اپنی منی سے بھر رہا تھا اور نیچے سے میرے ہاتھ نے راحت کے لن کو بھی منی چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا اور ہم دونوں ایک ساتھ مدہوشی کے عالم میں جاچکے تھے۔ اس کے بعد میں کبھی راحت کو چود رہا ہوتا اور کبھی عروسہ کو اور کبھی راحت عروسہ کی گانڈ مار رہا ہوتا۔ایک دن یوں ہواکہ جب راحت عروسہ کی گانڈ مار رہا تھا تو میں نے جب روم میں دروازے سے اندر جھانکنے کیلئے دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ کھلتا چلا گیا وہ بند نہیں تھا آج وہ دروازہ بند کرنا بھول گئے تھے میں نے تھوڑا سا دروازہ کھولا اور اندر کا منظر دیکھنے لگا عروسہ اندر بیڈ پر اوندھے منہ پڑی تھی اور راحت پیچھے کھڑا اسے چود رہا تھا میری طرف اسکی پیٹھ تھی اور اسکی ہلتی ہوئی گانڈ مجھے بغاوت کرنے پر اکسا رہی تھی یہ منظر دیکھ کر میرا لن کسی ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا جب مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے اندر جانے کا فیصلہ کیا اور آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر گھس گیا اور پھر دروازے کو کنڈی کر دیااور پھر اپنے کپڑے اتارنے لگا اور ننگا ہو کر ان لوگوں کی طرف بڑھنے لگا اور جاتے ہوئے میں اپنے لن کو تھوک سے تر کر چکا تھا اور جب میں ان کے قریب پہنچا تو راحت چونک کر رک گیا اور مڑ کر پیچھے دیکھنے لگا میں نے اسے آنکھ ماری اور کہا لگے رہو یہ میں ہوں ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے اس کے پیچھے جا کر تھوک اپنے ہاتھ پر گرایا اور اس کی گانڈ کے سوراخ پر مل دیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتا یا کچھ بولتا میں نے لن اسکی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں آدھا اندر کر دیا اس جھٹکے سے عروسہ بھی ہل کر رہ گئی تھی کہنے لگی یہ کیا کر رہے ہو تم دونوں میں نے کہا کچھ نہیں یار بس راحت کو پیار کر رہا ہوں زراسا اور اس کے ساتھ ہی ایک اور جھٹکا دیا اور اپنا پورا لن راحت کی گرم گرم گانڈ میں اتار دیا اس جھٹکے سے عروسہ کی گانڈ میں بھی جھٹکا لگا اور وہ آگے گرتے گرتے بچی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ عروسہ بیڈ پر اوندھے منہ پڑی تھی جس کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھیں اس کے پیچھے راحت کھڑا تھا جس کا لن عروسہ کی گانڈ میں تھا اور اس کے پیچھے میں اپنا لن روحت کی گانڈ میں ڈالے کھڑا تھااس سب میں راحت ڈبل مزہ لے رہا تھا اب راحت اندر باہر کرنا بھول چکا تھا میں راحت کی گانڈ میں فل زور کے جھٹکے دے رہا تھا جب میں راحت کی گانڈ میں جھٹکا مارتا تو راحت کا لن عروسہ کی گانڈ میں جھٹکا کھاتا اس طرح سے آج پہلی بار ہمارا گروپ سیکس یا تھری سم شروع ہوچکا تھا ۔ راحت چونکہ پہلے سے عروسہ کی گانڈ مارنے کو لگا ہوا تھا اور پیچھے سے میں بھی اسکی گانڈ کو راحت پہنچا رہا تھا اس لیے وہ ڈبل مزے میں تھا اور وہ یہ مزہ زیادہ دیر تک برداشت نہ کر سکا اور پانچ منٹ بعد ہی چنگھاڑتے ہوئے تیز تیز سانس لینے لگا میں سمجھ چکا تھا کہ راحت چھوٹنے لگا ہے اس لیے میں نے اور زور سے جھٹکے اسکی گانڈ میں دینے شروع کر دے اور وہ ہانپتے ہوئے عروسہ پر گرنے لگا تو پیچھے سے میں نے اسے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور دھنا دھن اسکی گانڈ میں جھٹکے دینے لگا اسکا لن ابھی تک عروسی کی گاند میں میرے جھٹکوں کی وجہ سے ہل رہا تھااور سکڑتا بھی جا رہا تھا جسکی وجہ سے سارا مواد عروسہ کی گاند سے بہہ کر بار آنے لگا تھا کچھ راحت کے لن کو لگا ہوا تھا اور کچھ بہہ کر نیچے عروسہ کی چوت کی طرف جا رہا تھا یہ منظر دیکھ کر میں بھی زیادہ دیر تک برداشت نہ کر پایا اور میری جان لگا لن سے نکلنے لگی ہے اور میں اور تیز ہو گیا اور چنگھاڑتے ہوئے اپنا لاوا راحت کی پیاری سی گانڈ میں بھرنے لگا میری سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں اور میں اور راحت عروسہ کے اوپر گر پڑے تھے اتنا وزن اس نازک کلی پر آنے کی وجہ سے وہ روندی جانے لگی اور کہنے لگی مجھے اٹھنے دو نکلنے دو مجھے تو راحت نے مجھے اپنے اوپر سے ہٹایا اور اس کے اوپر سے اٹھ گیا میں ابھی تک بیڈ پر ویسے پڑا تھا سروسہ نے جلدی سے اپنی گانڈ اور چوت صاف کی اور کپڑے پہنتے ہوئے واشروم کی طرف چلی گئی جب وہ واپس آئی تو میں اور راحت بھی باری باری جا کر صاف کر آئے تھے آج ہمارا سٹڈی ٹائم سارا چودائی میں گزر گیا تھا راحت دبل مزہ لے کر بہت پرسکون لگ رہا تھا اور بہت خوش بھی مگر عروسہ زیادہ خوش نظر نہیں آرہی تھی کیونکہ وہ اس سب سے ڈسٹرب ہو گئی تھی اور جب ہم سکے اوپر گرے تھے تو وہ بیچاری ہم دونوں کے نیچے روندی گئی تھی بہر حال مجھے آج بہت زیادہ مزہ آیا تھا اور آج ایک نیا تجربہ بھی ہوا تھا۔ اگلے دن ہم سکول کے بعد واپس آتے ہوئے وہاں زیرِتعمیر عمارت میں چلے گئے تھے جہاں میں نے پہلی بار عروسہ کی گانڈ ماری تھی وہاں جانے کے بعد میں نے راحت کو پکڑ لیا میں اسکی گانڈ مارنا چاہتا تھا لیکن عروسہ نے مجھے پکڑ لیا کہنے لگی آج میرے ساتھ کرو میں نے کہا ٹھیک ہے اپنی شلوار اسنے پہلے ہی اتار دی تھی میں نے اسکی قمیض بھی اوپر کر دی تھی اور برا تو وہ ابھی تک پہنتی ہی نہیں تھی میں اسکے بوبز چوسنے لگا اور ساتھ ہی ہاتھ میں اسکے جسم اور پیٹھ پر پھیر رہا تھا راحت کو پتا نہیں کیا ہوا اس نے اپنی زپ کھولی اور لن باہر نکال کر عروسہ کے پیچھے آگیا اور تھوک لگا کر عروسہ کی گانڈ میں ڈالنے لگااب حالت یہ تھی کہ آگے سے میں عروسہ کے بوبر چوس رہا تھا اور پیچھے سے راحت نے اپنا لن عروسہ کی گانڈ میں ڈالا ہوا تھا میں نے بھی اپنی زپ کھولی اور اپنا لن باہر نکال لیا اور عروسہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا اور عروسہ میری مٹھ لگانے لگی میں اسکے بوبر چوس رہا تھا اور اسکے جسم پر ہاتھ بھی پھیر رہا تھا اور ساتھ راحت اسکی گانڈ بھی بجا رہا تھا ہم تینوں ہی مزے سے چور ہو رہے تھے مگر اب کی بار ڈبل مزہ عروسہ لے رہی تھی کچھ دیر عروسہ کے بوبز چوسنے کے بعد میں بھی بے قابو ہو گیا اور راحت کے پیچھے چلا گیا لن کو تھوک سے لتھیڑا اور راحت کی گانڈ پر بھی تھوکا اور لن کو اندر کا راستہ دکھایا ٹوپا اندر جاتے ہی میرے لن پر گانڈ کی تنگی اور اندر گی گرمی گا احساس ہوا میں رکا نہیں اور آرام آرام سے دباؤ ڈالتے پورالن تنگ گانڈ میں اتار دیا اور رک کر گانڈ کی تنگی کا مزہ لینے لگا راحت چونکہ سیدھا کھڑا تھا اس لیے آج اسکی گانڈ پہلے کی نسبت زیادہ تنگ لگ رہی تھی اور اسکے حرکت میں ہونے کی وجہ سے میرے لن کو بار بار بھینچ رہی تھی دبا رہی تھی اور مجھے ایسامزہ مل رہا تھا جو میں بتا نہیں سکتا اور لن کو حرکت دینے کا میرا دل بالکل بھی نہیں کر رہا تھا اور میں اس مزے کو اپنی روح تک محسوس کرنا چاہتا تھا اور کر بھی رہا تھا ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ راحت کی سپیڈ بڑھنے لگی اور وہ چنگھاڑنے لگا اور اسکی سانسیں تیز ہونے لگیں۔یہ اشارہ تھا کہ راحت آنے والا تھا میں نے لن اسکی گانڈ سے نکال لیا یہ الگ بات تھی کہ میرا نکالنے کا بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا مگر میں راحت کو آرام سے فارغ ہونے کا موقع دینا چاہتا تھا اور پھر وہ سارا عروسہ کے اندر ڈال کر رک گیا اور اپنا لاوا عروسہ کی گانڈ میں بھرتے ہوئے مزے کی انتہا کو چھونے لگااور نڈھال ہو کر عروسہ پر گر گیا اور پھر کچھ دیر بعد جب حواس بحال ہوئے تو لن نکال کر پیچھے ہٹ گیا عروسہ اٹھنے ہی لگی تھی کہ میں نے کہا ایسے رہو ابھی اور آگے بڑھ کر اپنا ٹوپا اسکی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک زوردار جھٹکا دیا اسکی گانڈ چونکہ راحت کے مال سے بھری ہوئی تھی اس لیے بنا گیلا کیے ہی لن ڈال دیا تھا اور ایک ہی جھٹکے میں جڑ تک گانڈ میں چلا گیا تھا اندر زیادہ پھسلن ہونے کی وجہ سے مزہ بھی زیادہ آرہا تھا ۔ دوستو تنگ اور خشک جگہ کا اپنا مزہ ہوتا ہے مگر زیادہ پھسلن اور گیلی چوت اور گانڈ کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے بالکل وہی مزہ میں محسوس کر رہا تھا اور مل جھٹکے دے رہا تھا آج ٹوپے تک باہر لاتا اور پھر ایک زور کا جھٹکا دیتا اور جڑ تک اندر پہنچا دیتا آج جس گہرائی تک میرا لن جا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا آج سے پہلے کبھی وہاں تک نہیں پہنچا تھا۔میرے جھٹکے اتنی شدت اختیار کر گئے تھے کی عروسہ آگے کو گرنے لگتی اور ساتھ تھپ تھپ کی مخصوص جسم ٹکرانے کی آواز بھی پیدا ہو رہی تھی اور ساتھ عروسہ بھی کہتی کہ آرام سے کرو ، میں نے عروسہ کع گرنے سے بچانے کیلئے اپنے ہاتھ مضبوطی سے اسکی کمر پر جما لیے اور اسے کمر سے مضبوطی سے پکر کر جھٹکوں کی مشین چلا دی راحت آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہا تھا کہ یہ آج مجھے کیا ہو گیا ہے تقریباًپانچ منٹ تک نان سٹپ جھٹکوں کے بعد میں اپنی منزل کی طرف روانہ تھا میری غراہٹ کے ساتھ ساتھ میری سانسیں بھی اکھڑنے لگیں مگر میں رکا نہیں اور اسی سپیڈ سے جھٹکے جاری رکھے اور میرے لن سے فوارے چھوٹنے لگے مگر میں پھر بھی اسی سپیڈ سے لگا رہا اور جب تک لن ڈھیلا نہیں ہو گیا میں رکا نہیں عروسہ گی گانڈ اور چوت میری اور راحت کی منی سے پھر گئے تھے اور میرا لن اور آس پاس ٹانگوں تک چھینٹے اڑ کر لگ گئے تھے جب میں لن باہر نکالا تو عروسہ کی سفید گانڈ لال سرخ ہو رہی تھی اور اسکے سوراخ سے اب تک گاڑھا مواد بہہ کر باہر آرہا تھا ۔بالکل سفید سفید بہت ہی گاڑھا مواد۔ اسکے بعد ہم نے اپنے آپ کو صاف کیا کپڑے درست کیے بال ٹھیک کیے اپنا حلیہ درست کیا اور گھر کی طرف چل پڑے ۔ اسکے بعد دوتین منتھ تک ہم ایک ساتھ سیکس نہ کر سکے وجہ تھی ہمارے امتحان ہمارے نہم جماعت کے پیپر نزدیک آچکے تھے اور ہم بہت مصروف ہو گئے تھے مگر پھر بھی ہفتہ میں ایک آدھ بار میں عروسہ کی یا راحت کی جو بھی میسر ہوتا گانڈ مار لیا کرتا تھا اور راحت بھی کبھی کبھار عروسہ کے ساتھ سیکس کر لیتا تھا مگر ہمارے درمیان گرپ سیکس نہیں ہو پایا تھا اور ہم نہم جماعت میں اچھے نمبر لینے کیلئے بھرپور محنت کر رہے تھے ۔اگر ہم اچھے نمبروں سے پاس ہو جاتے تو ہمارے گھروالوں نے ہمیں سمارٹ فون دلانے کا وعدہ کر رکھا تھا جس کا مطلب تھا دہم کلاس کے آغاز سے ہمارے پاس اپنا اپنا سمارٹ فون ہونا تھا جس کی ہمیں بہت خواہش تھی۔ اور پھر وہ دو ماہ گزرتے پتا ہی نہ چلا اور پھر ہمارے امتحانات شروع ہو گئے اور ہم سب کچھ بھول کر امتحانات میں مصروف ہوگئے اور پھر کچھ دن بعد ہمارے امتحانات بھی ختم ہوگئے اور ہمارا رزلٹ آنے میں ابھی ایک مہینہ تھا اور تب تک ہمیں بہت انجوائے کرنا تھا ۔ امتحانات ختم ہونے کے اگلے دن ہی ہم نے خوشی منانے اور انجوائے کرنے کا پروگرام بنا لیا تھا جو کچھ یوں تھا کہ ہم رات کو عروسہ کے گھر چھت والے کمرے میں جائیں گے اور عروسہ بھی وہیں آجائے گی پراگرام رات دس بجے کے بعد کا بنا تھا مطلب جب سب سو جائیں گے اور پھر ہم رات دس بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ اور پھر جیسے ہی دس بجے میں اپنی چھت سے راحت کے گھر کی چھت پر پہنچ گیا وہاں راحت پہلے سے موجود تھا اور میرا انتظار کر رہا تھا اور پھر ہم دونوں وہاں سے عروسہ کے گھر کی چھت پر جا پہنچے عروسہ ابھی تک نہیں آئی تھی ہم اسکا انتظار کرنے لگے کیونکہ وہ کمرہ لاک ہوتا تھا اور وہ عروسہ نے آکر کھولنا تھا ابھی راحت کہنے ہی لگا تھا کہ عروسہ ابھی تک نہیں آئی کہ اتنے میں ہمیں سیڑھیوں سے قدموں کی آواز سنائی دی ہم جلدی سے کمرے کی آڑ لے کر کھڑے ہو گئے اور اتنے میں ہمیں ایک سایا سا اوپر آتا دکھائی دیا جب قریب آیا تو وہ تو عروسہ ہی تھی اسے دیکھتے ہی ہم جلدی سے نکل کر اس کے سامنے آگے اس نے ہمیں دیکھا اور پوچھا تم لوگ آگئے راحت نے کہا ہاں کب کے تمہارا انتظار کر رہے تھے جلدی سے کمرے کا لاک کھولوعروسہ نے جلدی سے کمرے کا لاک کھول دیا اور ہم اندر چلے گئے۔ دوستو میں آپکو بتاتا چلوں کہ اس کمرے میں عروسہ کے گھر کا پرانا فرنیچر اور کاٹھ کباڑ پڑا ہوتا تھا اس لیے اس کمرے میں کوئی نہیں آتا تھا کمرے کو تین اطراف سے ونڈو تھے جن میں شیشے لگے تھے اور اوپر روشن دان بھی تھے جن سے چاند کی اور باہر کی لائٹس کی کافی روشنی آتی رہتی تھی اس کمرے میں ایک پرانا سنگل بیڈ بھی پڑا ہوا تھا ۔اندر آنے کے بعد ہم نے اندر سے کنڈی کر دی اور ایک پرانی چادر بیڈ پر بچھا دی وہ اس لیے کہ آج کی رات ہمارا یہ پروگرام لمبا چلنے والا تھا ۔ میں نے عروسہ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اپنے اپنے سینے سے لگا لیا اور اسے چومنے لگا میرے ساتھ اسکے ننھے پستانوں پر گشت کرنے لگے میں نے چومتے ہوئے منہ اسکے کان کے پاس لا کر کہا آج اپنی پیاری سی گانڈ کے ساتھ اپنی چوت بھی چودنے دینا ۔تو وہ کہنے لگی نہیں آج نہیں پھر کبھی سہی سنا ہے پہلی بار چوت میں بہت درد ہوتا ہے اور خون بھی آتا ہے میں آج درد نہیں انجوائے کرنا چاہتی ہوں میں نے کہا اچھا جیسے تمہاری مرضی۔ اتنی دیر میں دیکھا تو راحت اپنے پورے کپڑے اتار چکا تھا اور اب عروسہ کی شلوار اتارنے کو لگا تھا اسکی شلوار اتارنے کے بعد وہ عروسہ کی قمیض بھی اتارنے لگا میں نے عروسہ کو اسکے پاس جانے دیا اور میں الگ ہو کر خود کو بے لباس کرنے لگا جب تک میں نے خود کو بے لباس کیا اتنی دیر میں عروسہ بھی لباس سے آزاد ہو چکی تھی اب ہم تینوں لباس فطرت میں آچکے تھے راحت آج عروسہ کا دودھ پینے جسم کو چومنے میں لگا تھا اور اسکے ہاتھ عروسہ کی گانڈ کی دراڑ میں تھے اور وہ باری باری عروسہ کے نرم چوتڑوں کو اپنے ہاتھ میں بھر رہا تھا اور میں کھڑا سوچ رہا تھا پہلے میں کس کے پیچھے جاؤں راحت کے یا عروسہ کے عروسہ آج قیامت لگ رہی تھی دودھ جیسا سفید شفاف بدن گلابی درمیانے لپس درمیانہ قد اور اس پر تیس یا بتیس کے بوبز نیچے چونتیس کی گانڈ جو میں نے مار مار کر اتنی بڑی کر دی تھی پتلی کمر گالوں پر جوانی کی لالی اور جسم پر کوئی بھی بال نہیں تھا ایسی لڑکی تو صرف سوچی ہی جا سکتی ہے اس کے سامنے راحت بھی کم نہیں لگ رہا تھا راحت کا قد تھوڑا بڑا تھا یعنی میرے جتنا اسکے بوبز اور گانڈ عروسہ سے کچھ کم تھی یا قد لمبا ہونے اور کمر عروسہ سے کچھ زیادہ ہونے کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا مگر میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ پہل عروسہ سے کروں یا راحت سے اور پھر میرا دل پہلے عروسہ پر مہربان ہوا اور میں اس کے پیچھے چلا گیا اور اسکی پیٹھ کو چومنے لگا اور گردن سے چومتے ہوئے نیچے کی طرف آنے لگا اور پھر اسکے موٹے نرم اور پیارے کولہوں پر آگیا راحت آگے سے اسکے بوبز چوسنے میں لگا تھا اور میں پیچھے سے اسکے چوتڑ چومنے اور چاٹنے میں لگا تھا جب میں نے اسکے چوتڑوں کا ایک ایک انچ چوم لیا تو اپنا منہ اسکے گلابی پیارے سوراخ کے قریب لے گیا اتنا قریب کہ میری گرم سانسیں اسکے چھوٹے سے سوراخ پر پڑنے لگیں اور عروسہ کو اس سے کرنٹ سا لگنے لگا اور وہ مچلنے لگی میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکے چوتڑوں کو کھولا ہوا تھا اور پھر منہ قریب کر کے سوراخ پر آرام سے تھوک دیا اور اسے سوراخ کے سرکل پر ملنے لگا اور پھر باہر سے اچھی طرح لگا کر انگلی سے اندر بھی ڈل دیا اور کچھ اندر سے بھی چکنا کر دیا اور پھر باری تھی اپنا لن چکنا کرنے کی اس پر بھی اچھے سے کافی سارا تھک مل کر جڑ تک تھوک سے لتھیڑ دیا اور پھر اپنا ٹوپا سوراخ پر رکھا اور تھوڑا دباؤ ڈالا تو سوراخ کا تنگ دائرہ پھیلنے لگا اور ٹوپا اندر جانے لگا صرف ٹوپا اسکے تنگ سوراخ میں پھنسا کر میں ٹھہر گیا اور اسکی گانڈ کی اپنے ٹوپے پر گرپ محسوس کرنے لگا میرا باقی کا آدھا لن سکے چوتڑوں میں چھپ گیا تھا کچھ دیر یہیں رکنے کے بعد میں لن کو آرام آرام سے پھر سے آگے بڑھانے لگا اسکے تنگ سوراخ کی گرفت اپنے لن پر محسوس کرتے ہوئے لیکن سارا اندر نہیں جا پا رہا تھا کیونکہ اس طرح سیدھا کھڑے ہوئے اسکے چوٹر بیچ میں آرہے تھے میں نے راحت سے کہا اب بس کر دو اور ہٹ جاؤ عروسہ کو تھوڑا جھکنے دو وہ اسے چھوڑ کر میری طرف آگیا تو میں نے عروسہ کا اگلا دھڑ بیڈ پر جھکا کر لٹا دیا اب اسکے چوتڑ کھل گئے تھے اور پورا لن گھسانا آسان ہو گیا تھا جب میں نے سارا اندر پہنچا دیاتو وہیں ٹھہر گیا اور اسکی گانڈ کے تنگ دائرے گی گرفت اپنے لن پر محسوس کرنے لگا اور عروسہ سے کہا اور دباؤ اس نے دبایا تو ایسے لگا میرا لن جڑ والی جگہ سے کسی شکنجے میں ہے اور وہ شکنجہ میرے لن کو اس جگہ سے کاٹ ڈالے گااور پھر کچھ دیر ایسے مزہ لینے اور محسوس کرنے کے بعد میں حرکت دینے لگا راحت میرے قریب کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا اور پھر اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میرے پیچھے سے میری گانڈ کے نیچے سے گزار کر میرے ٹٹوں کو ہاتھ میں لے لیا اور سہلانے لگا جس سے مجھے ایک میٹھی سی گدگدی سی ہونے لگی اور ڈبل مزہ آنے لگا اس لیے میں زیادہ دیر تک برداشت نہ کر پایا ابھی مجھے دوتین منٹ ہی ہوئے تھے کی لن سے میری جان نکلنے لگی اور میں تیز سانسیں لیتے ہوئے چنگھاڑنے لگا اور میرا لن اس تنگ شکنجے میں پچکاریاں مارنے لگا اور چار پانچ پچکاریاں مارنے کے بعد خالی ہو کر ڈھیلا ہونے لگا اورپھر سکڑ کر خود ہی باہر آگیا اور میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنے حواس بحال کرنے لگا ۔ اب راحت جو کب سے تیار کھڑا تھا اور انتظار میں تھا کہ کب اسے موقع ملے وہ آگے بڑھا اور اپنا ٹوپا میری منی سے تر سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈل دیا لن اندر جانے لگا اور جب پورا اندر چلا گیا تو وہ رکا نہیں بلکہ دھنا دھن جھٹکے شروع کر دیے وہ شاید کافی دیر سے کنٹرول کر رہا تھا مگر اب اس کیلئے مشکل تھا خود کو کنٹرول کرنا پانچ منٹ لگا تار جھٹکے مارنے کے بعد وہ سپیڈ بڑھانے لگا اور اب فل سپیڈ سے جھٹکے دے رہا تھا جس سے اسکے چھوٹے چھوٹے ممے بھی بانس کر رہے تھے مجھے یہ منظر پھر سے گرما رہا تھا اور میرے لن میں زندگی بھر رہا تھا اورویسے بھی ہمیں کچھ کیے ہوئے بہت دن ہوگئے تھے کچھ دیر مزید جھٹکے مارنے کے بعد اسکی سانسیں اکھڑنے لگیں اور جھٹکے کھاتے ہوئے فارغ ہونے لگا اس نے عروسہ کی گانڈ اپنے گرم لاوے سے بھر دی تھی اور اسکے اوپر گر پڑا تھا ۔ کچھ دیر بعد اسکے حوس بحال ہوئے تو وہ سیدھا ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا عروسہ اٹھی اور اپنی گانڈ کو بیڈ کی چادر سے صاف کرنے لگی ۔میرا لن تب تک کسی ڈنڈے کی طرح سخت ہو چکا تھا میں اٹھا اور جا کر راحت کی ٹانگوں کے درمیان گھس گیا اور اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز چوسنے لگا کچھ دیر اسکے بوبز چوسنے کے بعد میں اسکی گانڈ کی طرف آیا اور اسے اچھی طرح سے چکنا کرنے لگا اچھی طرح سے اسے گیلا اور نرم کرنے کے بعد اپنے ٹوپے پر تھوک لگایا اور اسکی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھیں اور لن کو اسکے ہول پر سیٹ کیا اور ایک زور کا دھکا لگایا آدھا لن تنگ سوراخ میں جا چکا تھا اور پھر میں رکا نہیں جب تک اپنے لن کو سکی منزل تک پہنچا نہیں لیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم تنگ بھٹی میں جا پڑا ہو جو ابھی جل جائے گا ۔ اور پھر آرام سے حرکت دینے لگا ٹوپے تک باہر کھینچتا اور پھر آرام سے سارا تنگ سوراخ میں بھر دیتا عروسہ جو ہمارے ساتھ بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی میں نے اسے کہا کہ وہ راحت کے ممے چوسے اس نے اپنا رخ راحت کے مموں کی طرف کیا اور ان کو چوسنے لگی دوسری طرف رخ کرنے سے اسکی گانڈ میرے بالکل سےمنے آگئی تھی اور میں راحت کی گانڈ مارتے ہوئے عروسہ کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر اپنا انگوٹھا اسکی گانڈ کے سوراخ پھر پھیرنے اسکا مساج کرنے لگا اور راحت کی گانڈ بالکل نارمل انداز میں چود رہا تھا عروسہ اسکے ممے چوس رہی تھی کیا منظر تھا راحت تو ڈبل مزے میں تھا اس وقت اور پھر میں نے لن راحت کی گانڈ سے نکالا اور عروسہ کی گانڈ میں ڈال دیا اور دھکوں کی مشین چلا دی چونکہ میں ابھی کچھ دیر پہلے فارغ ہوا تھا اس لے میرے فارغ ہونے کا ابھی امکان نہیں تھا دومنٹ تک عروسہ کی گانڈ کی دھلائی کرنے کے بعد میں نے لن نکال کر ایک بار پھر سے راحت کی گانڈ میں ڈال دیا اور دھنا دھن بجانے لگا عروسہ کبھی راحت کے ممے چوستی تو کبھی راحت اسکے ممے چوستا ساتھ میں راحت کے لن کی مٹھ بھی لگانے لگا جو اب کھڑا ہونے لگا تھا اس میں پھر سے جان پڑنے لگی تھی میں اسی طرح لگا ہوا تھا کبھی عروسہ کی گانڈ میں اور کبھی راحت کی گاند میں مجھے دس منٹ ہو چکے تھے اور اب میں آنے ہی والا تھا اس وقت میرا لن عروسہ کی گانڈ میں تھا میں نے جلدی سے اپنا لن اسکی گانڈ سے نکال کر راحت کی گاند میں ڈالا اور دھکوں کی مشین چلا دی اور پھر جب میرا لن لاوا اگنے لگا تو میں نے اسے راحت کی گاند کی گہرائی میں پہنچا کر روک دیا میرے ہاتھ کی سپیڈ راحت کے لن پر بھی بڑھ گئی تھی وہ بھی تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ اپنا پانی چھوڑنے لگا اور پھر ہم تینوں نڈھال ہو کر بیڈ پر گر پڑے ۔ آدھی سے زیادہ رات گزر چکی تھے رات کے چار بجنے والے تھے جب ہم تینوں ننگے بیڈ پر پڑے تھے پھر ہم اٹھے اپنے اپنے کپڑے پہنے اور پھر میں نے ان دونوں سے پوچھا کیوں دوستو مزہ آیا دونوں یک زبان بولے ہاں بہت زیادہ اور پھر مجھ سے دونوں چمٹ گئے کچھ دیر تک ہم تینوں ہی ایک ساتھ چمٹے رہے اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے میں گھر آیا اور آکر اپنے بستر پر گر پڑا اور عروسہ کے بارے میں سوچنے لگا وہ اب اپنی چوت دینے کیلئے بھی مان گئی تھی اب مجھے چوت کا مزہ لینا تھا اب مجھے ایک کنواری چوت چودنی تھی یہی سب سوچتے ہوئے پتا نہیں کب میری آنکھ لگ گئی اور میں نیند کی دنیا میں چلا گیا۔
  9. السلام علیکم! تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ توقع سے بھی بڑھ کر رسپانس مل رہا ہے ،یہی رائٹر کو لکھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور مزید لکھنے اور اچھا لکھنے پر مجبور کرتا ہے، سب دوستوں کا کہانی کو پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ یہ کسی بھی فورم پر میری اپنی پہلی کہانی ہےمیجر صاحب میری اپنی کہانی نہیں تھی وہ رومن اردو سے اردو میں ٹائپ کی تھی۔میری پہلی ہی کہانی پر اس طرح کا رسپانس ملنا میرے لیے حوصلہ افزا ہے۔ باقی میں کچھ سلو چل رہا ہوں اس بات کا ادراک ہے مجھے مگر مجھے امید ہے آپ لوگ اس بات کو درگزر کر دیں گے اس کی کچھ وجوہات ہیں ایک تو میں بالکل نیا لکھنے والا ہوں جیسے آپکو بتایا ہے یہ میری پہلی کہانی ہے اب اندازہ ہوا ہے کہانی تخلیق کرنا اور اسے انجام تک پہنچانا بہت ہی مشکل کام ہے۔ دوسری بات یہ کی بہت ہی زیادہ مصروفیات ہوتی ہیں ایک مڈل کلاس بندے کی مصروفیات اور سٹرگل کا تو آپ سب کو ہی اندازہ ہو گاپھر بھی وقت نکال کر کوشش کر لیتا ہوں باقی فیصلہ آپکی عدالت میں ہے۔
  10. قسط نمبر 2 میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی کو نہیں بتاتا ۔ مجھے بھی بہت مزہ آتا ہے تم دونوں کو یہ سب کرتے دیکھ کر ۔اچھا جی بڑے مزے لے رہے ہو چھپ چھپ کر ۔راحت نے کہا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے میں نے کہا ہاں ہاں کہو اس نے کہا مجھے بھی تمہارے ساتھ وہ سب کرنا ہے میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے توقع نہیں تھی کہ راحت مجھ سے یہ بات کہےگا میں ہنسنے لگا کہا تمہارا کیا مطلب ہے تم میری گانڈ مارنا چاہتے ہو ؟راحت بھی شرماتے ہوئے ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں بلکہ میں تو تم سے مروانا چاہتا ہوں۔ میں حیران ہوا کہ یہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے میں نے کہا میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو اس نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا میرا بھی دل کرتا ہے مزہ لینے کا عروسہ کی طرح پھر ایک آنکھ دبا کر کہنے لگا اگر مارنے بھی دو گے تو مزہ ہی آجائے گا میں نے کہا تو تو جان ہے اپنی تیرے لیے تو یہ قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے نہیں لگتا عروسہ کے ہوتے ہوئے مجھے یہ قربانی دینی پڑے گی میری بات سن کر خوشی سے چہکتے ہوئے کہنے لگا کیا سچ میں عروسہ مجھے بھی کرنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں وہ تم سے تو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہےاگر مجھے کرنے دے سکتی ہے تو تمہیں کیوں نہیں اچھا وہ بھی دیکھ لیں گے مگر ہمارا پروگرام کب ہے پھر ؟ میں نے کہا جب کہو میری جان اس نے کہا ٹھیک ہے آج میں سٹڈی روم میں عروسہ سے جلدی آجاؤں گا تو ہم کر لیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے ۔یہ باتیں کرتے ہوئے میرا لن کھڑا ہونے لگا تھا اور میری شلوار میں تمبو بننے لگا تھا کہ میں نے جلدی سے واشروم کا رخ کیا اور جا کر پیشاب کیا تو لن کا تناؤ ختم ہوا( یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ پیشاب کرنے سے لن کا تناؤ ختم ہو جاتا ہے) اب مجھے سٹڈی ٹائم کا انتظار تھا۔ آخر کار وقت ہوا اور راحت میرے گھر آگیا اور کہنے لگا چلو اوپر سٹڈی روم میں چلتے ہیں ہم دونوں اوپر آگئے عروسہ کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھاہم روم میں آگئے اور آتے ہی اندر سے دروازہ بند کر لیا اور میں راحت کے پاس چلا گیا ہم بیڈ پر بیٹھ گئے مگر راحت کچھ نہیں کر رہا تھا شرما رہا تھا میں نے کہا اب کیوں شرما رہے ہو پہلے کہتے ہوئے تو ایسے نہیں شرمائے اس نے کہا وہ بات نہیں ہے دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے شروع کریں میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھتے ہوئے کہا ایسے۔ اسے اور مجھے بھی ایک کرنٹ سا لگا کیونکہ وہ پہلی بار کوئی لن ہاتھ میں پکڑ رہا تھا اور میرے لن کو بھی پہلی بار پکڑ رہا تھا مجھے بھی عجیب سا مزہ آیا تھا وہ میرے لن کی لمبائی موٹائی چیک کر رہا تھا ہاتھ میں لیکر اور کہنے لگا یہ تو کافی بڑا ہے مجھے تو بہت درد دے گامیں نے اس کے لن کو پکڑ لیا اور کہا یہ کونسا چھوٹا ہے یہ بھی میرے جتنا تو ہے اور کہا شروع میں تو کچھ درد ہوتا ہی ہے مزے کیلئے کچھ درد تکلیف تو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا اگر عروسہ برداشت کر سکتی ہے تو تم بھی کر لو گے راحت کے بارے بتا دوں اسکے ہاتھوں میں بہت ملائمت تھی جیسے کسی لڑکی کے ہاتھ ہوں گورا رنگ تھا گلابی درمیانے ہونٹ تھے اس کے قد میرے برابر تھا یعنی پانچ فٹ کے لگ بھگ اور سمارٹ جسم تھا میں نے کہا دیر نہیں کرتے چلو کپڑے اتارو اس نےکہا سارے میں نے کہا ہاں اس نے کہا نہیں سارے نہیں کوئی آسکتا ہے مجھے اسکی بات ٹھیک لگی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے صرف شلوار نیچے کر لو اتنے میں میں اپنی پینٹ کی زپ کھول کر لن باہر نکال چکا تھا انڈرویئر تو پہنتے نہیں تھے ابھی تک ہم لوگ جیسے ہی اس نے شلوار نیچے کی میں نے کہا بیڈ کی طرف منہ کرو جیسے ہی اس نے بیڈ کی طرف منہ کیا میں نے اسے کھڑے کھڑے ہی بیڈ پر جھکا دیا اب اسکا اگلا دھڑ بیڈ پر لیٹا تھا اور ٹانگیں نیچے تھیں اور اسکی گاند میرے لن کے سامنے ۔ دوستو آپ یقین نہیں کریں گے بالکل سفید اور ملائم سی گانڈ تھی سوراخ کے گرد تھوڑی گلابی نظر آرہی تھی بالکل جیسے گلابی ہونٹ تھے اس کے آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دنیا جہان بھول جاتا ہوں کیونکہ ایسی گانڈ تو ہر کسی کا ڈریم ہوتی ہے اگر اسے ڈریم گانڈ کہا جائے تو بے جا نا ہوگا اس حوالے سے میں بہت لکی تھا ایک لڑکی کی اتنی پیاری گانڈ مل رہی تھی اور اب یہ گانڈ جس نے لڑکیوں لڑکوں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں اپنا انگوٹھاآرام سے اس کے ملائم سوراخ پر پھیرنے لگا میں تو پاگل ہو نے لگا تھا ساتھ راحت کو بھی مزہ آرہا تھا کیونکہ وہ جھٹکے لینے لگتا اور ساتھ سی سی کی آوازیں بھی نکالنے لگتا خیر میں نے ہوش سنبھالا اور اصل کام کی طرف بڑھنے لگا۔ میں نے تھوک ہاتھ پر ڈال کر سوراخ پر ملا اور پھر اور تھوک اپنے ٹوپے سے لے کر لن کے اینڈ تک سارے لن پر لگایا اور ٹھوپا سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ مساج کرنے لگا اور کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد دباؤ بڑھانے لگا ٹائیٹ سوراخ کھلنے لگا اور میرے ٹوپے کو اندر آنے کی جگہ دینے لگا ٹوپے سے کچھ آگے تک اندر جا چکا تھا جب راحت کی بس ہو گئی اور مجھے روکنے لگا کہ بس درد بہت ہو رہا ہے میں ایک لمحہ وہیں رکا اور پھر لن تنگ گانڈ سے کھینچ کر نکال لیااور پھر بہت سارا تھوک سوراخ میں ڈالا اور ایک بار پھر گانڈ کا سفر شروع کیا اس بار کچھ زیادہ کامیابی ملی اور آدھا اند پہنچانے میں کامیاب رہا اور وہیں رک کر راحت کا لن ہاتھ میں لیا اور دبانے لگا اور پھر باہر نکال لیا اور ایک بار پھر تھوک گانڈ اور لن کو لگا کر چکنا کیا اور لن کع اپنی منزل کی طرف روانہ کیا اور اس بار راحت کی تکلیف کی پروا کیے بغیر پورا اندر پہنچا کر دم لیا اور پھر سے اس کے لن کو پکر کر اسکے اوپر لیٹ گیا ۔ انسان اپنا پہلا مزہ نہیں بھولتا کیونکہ اس جیسا مزہ انسان کو پھر کبھی نہیں ملتا جو مجھے عروسہ سے ملا تھا مگر راحت والا مزہ تنگ نرم سوراخ اور اتنی خوبصورت گانڈ یہ بھی کوئی بھولنے والی چیز نہیں تھی۔ کچھ دیر ایسے راحت کے لن کو ہاتھ میں دبانے اور اوپر لیٹے رہنے کے بعد میں پیچھے ہٹا اور لن ایک بار پھر کھینچ کر باہر نکال لیا اور گانڈ اور لن تھوک سے اچھی طرح تر کرنے کے بعد ایک بار پھر لن کو اندر کا راستہ دکھایا جو کہ اب کسی حد تک آرام سے اندر چلا گیا مگر میں اب رکنے کے موڈ میں نہیں تھا ایک تو وقت بہت ہو گیا تھا اور دوسرااب مجھ سے اور برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور میں اندر باہر کرنے لگا مگر آرام سے دومنٹ تک ایسے کرنے کے بعد راحت کی گانڈ کی پہلی آبپاشی ہونے کا وقت ہوا اور اس بنجر زمین کو میں کے سیراب کر دیا میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے مجھے مزے کی وادیوں میں لے جا رہا تھا اور میری چنگھاڑ کے ساتھ ساتھ میری آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔اور میں اس کے اوپر گر گیا اور ایک منٹ بعد پیچھے ہٹ گیا اور اپنا مرجھایا ہوا لن کاغذ سے صاف کیا اور اسے زپ سے اندر کر کے زپ بند کر لی اور راحت نے بھی اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے۔اب عروسہ کے آنے کا ٹائم ہونے والا تھا اس لیے ہم نے جلدی سے دروازہ کھولا اور پڑھنے والا ماحول بنا لیا ۔ اب مجھے عروسہ کے بجائے راحت کا انتظار ہوتااور میرا دل کرتا میں روز اسکی پیاری گانڈ ماروں یہ بات نہیں تھی کہ عروسہ کی گانڈ میں کوئی کمی تھی نہیں بلکہ نئی چیر انسان کو کچھ دن زیادہ بھاتی ہے اس سے اگلے دن بھی راحت جلدی آگیا تھا اور ہم بیڈ پر برابر میں بیٹھ گئے تھے اور ایک دوسرے کے لن سے کھیل رہے تھے راحت کا لن بھی جسامت میں میرے لن جتنا تھا اور بہت زیادہ خوبصورت تھا بالکل سفید رنگ کا اور اسکا ٹوپا گلابی تھا اور اس کے لن کے ارد گرد بالوں کا نشان تک نہ تھا جبکہ میرے لن پر اب ہلکے سے بال آنے لگے تھے لن سے کھیلتے کھیلتے میں نے راحت کو کہا کیا تمہیں اس میں مزہ آرہا ہےاس نے کہا ہاں تھوڑا آرہا ہے میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت تیز کر دی کیونکہ مجھے پتا تھا اس طرح کرنے سے مزہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ میں مٹھ مارنے کا تجربہ بھی کر چکا تھا۔ اور پھر ویسے ہی ہوا کچھ ہی دیر میں راحت آپے سے باہر ہونے لگا اور میرا ہاتھ پکڑنے لگا اور مجھے روکنے لگا اور کہنے لگا رک جاؤ مجھے کچھ ہو رہا ہےمگر میں رکا نہیں ، راحت نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا میں نے کہا یہ کیا راحت اصل مزہ تو اب شروع ہی ہوا تھا اور تم نے مجھے روک دیا اس نے کہا یہ کیسا مزہ ہے پاگل مجھے کچھ ہو رہا تھا میری جان نکلنے لگی تھی ۔میں نے کہا ایک دن سمجھ جاؤ گے خیر اب جلدی سے کپڑے اتارو میں نے جلدی سے اپنی شلوار اتار کر پھینک دی تھی اس نے بھی اتار دی اور بیڈ پر لیٹتے ہوئے گانڈ میری طرف کر دی کل والی پوزیشن میں مجھے اس پر بہت پیار آرہا تھا میں اسکی گانڈ کو چومنے لگا اسکی کمر پر پیار کیا اسکے چوتڑوں پر پیار کیا اس نے بعد تھوک اسکی گانڈ کے سوراخ پر ڈالی اور پھر اپنے لن کو تھوک سے تر کرنے لگا پھر ٹوپا سوراخ پر رکھا تنگ سوراخ پر اور جھٹکا دیا راحت کی ہلکی چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا اور آدھا لن تنگ گانڈ میں جا چکا تھا جو کہ بری طرح سے تنگ سوراخ میں جکڑا ہوا تھا جیسے میرے لن کو درمیان سے کاٹ دے گامیں نے اسے واپس کھینچا پھنس کر باہر آرہا تھا میں اور بہت سارا تھوک اسکے سوراخ اور اپنے لن پر لگایا اور تنگ سوراخ پر رکھ کر ایک دھکا لگایا اب آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا راحت نے کہا آرام سے درد ہوتا ہے میں نے اسکی نہیں سنی اور ایک اور دھکا لگایا اور سارا لن اسکے تنگ سوراخ میں غائب کر دیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم شکنجے میں جکڑا گیا ہو مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک منٹ ایسے ہی رکا رہا اس کے لن کی مٹھ مارتا رہا اس کے بعد اندر باہر کرنا شروع کیا میرا لن مشکل سے آجا رہا تھا ابھی مجھے ایک منٹ ہی ہوا تھا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ دوستو جب بندہ نیا نیا جوان ہوتا ہے اور اس کام میں پڑتا ہے تو اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا نیا نیا مزے سے آشنا ہوتا ہے تو اس منزل کو بھی جلد پہنچنا چاہتا ہے ٹائمنگ کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس جلد سے جلد وہ منی نکال کر مزے کی انتہا کو پہنچنا چاہتا ہے اسی طرح مجھے بھی جب لگا میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا تو اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز کرنے لگا اور پھر آخر کار میں مزے کی اس انتہا کو پہنچ گیا جس کا خواہاں تھااور میرا لن راحت کی گاند کو راحت پہنچانے لگا اور تین چار پچکاریوں میں اپنی ساری منی اسکی تنگ اور خوبصورت گانڈ میں انڈیل دی اور میں راحت کے اوپر گر کر چنگھاڑتے ہوئے ہانپنے لگا کچھ دیر ایسے ہی پڑا رہا جب حواس بحال ہوئے تو اٹھا اور لن باہر کھینچا اور نکال کر صاف کیا اور اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور اسکے ساتھ ہی راحت نے بھی اپنی شلوار پہن لی اور ہم سٹڈی کرنے لگے راحت نے پوچھا مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت زیادہ اور تمہیں ؟ اس نے کہا پہلے تو درد ہوتا تھا مگر اب درد نہیں ہوا تھوڑا مزہ آیا ہے۔ پھر عروسہ بھی آگئی اور ہم سٹڈی کرنے لگے سٹڈی کرنے کے بعد راحت تو چلا گیا مگر عروسہ بیٹھی رہی راحت کے جانے کے بعد کہنے لگی یہ راحت آجکل کچھ جلدی نہیں آنے لگ گیا کتنے دن سے ہمیں موقع بھی نہیں مل رہا ،کیا خیال ہے مزہ کریں یہ کہہ کر اسنے میرا لن پکڑ لیا اور دبانے لگی میرا لن بھی اسکے ہاتھ کا لمس پاتے ہی آدھ کھڑا ہوچکا تھا مگر میں نے کہا آج نہیں یار کافی ٹائم ہوگیا ہے کوئی آبھی سکتا ہے عروسہ نے کہا تو پھر کب میں نے کہا کل دیکھتے ہیں۔ اگلے دن میں سکول چلا گیا اور آدھی چھٹی کے ٹائم میں فیاض کے پاس چلا گیا جو میرے ان چند دوستوں میں سے تھا جن سے مجھے سیکس کے بارے جاننے اور سیکھنے کو ملتا تھا ہم آٹھویں جماعت میں تھے وہ ہم سے ایک جماعت آگے یعنی نہویں یا جماعت نہم میں تھا اسکا قد میرے جتنا تھا مگر وہ کافی عمر کا لگتا تھا کیونکہ اسکی داڑھی اور مونچھ بہت حد تک آچکی تھی اور وہ سیکس کے معاملے میں کافی تجربہ کار تھا۔ میں نے اس سے کہا کیسے ہو دوست سناؤ آج کل کس لڑکی کی گانڈ مار رہے ہو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا تم پاگل ہو کیا لڑکیوں کی تو چوت مارتے ہیں گانڈ تیرے جیسے لونڈوں کی ماری جاتی ہے مجھے برا لگا کہ اس نے میرے بارے یہ بات کیوں کی میں اٹھ کر آنے لگا تو اس نے کہا ناراض کیوں ہو رہے ہو میں سچ بتا رہا ہوں اور میں نے ایک مثال دی ہے تیری مار نہیں رہا میں چل بیٹھ جا مذاق کر رہا ہوں میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا لڑکیوں کی چوت مارتے ہیں گانڈ نہیں پاگل مگر ایک بات یاد رکھ چوت صرف اس لڑکی کی مارتے ہیں جو جوان ہو جوابھی جوان نہ ہو اسکی چوت نہیں مارنی چاہیے۔ میں نے کیا یہ کیسے پتا چلے گا کونسی جوان ہے کونسی نہیں ؟ اس نے کہا تم بالکل بدھو ہو دیکھو جو لڑکی جوان ہوتی ہے اسکی چھاتیاں اگ آتی ہیں اور اسکو ماہواری آنے لگتی ہے میں نےحیران ہو کر پوچھا یہ ماہواری کیا ہوتی ہے اس نے مجھے جو بتایا اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے اس نے کیا ہر مہینے لڑکیوں کی چوت سے خون جیسا کچھ نکلتا ہے اس کو ماہواری یا مینسز کہتے ہیں میں حیران ہوا اور پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے اس نے کہا اس کا مطلب ہوتا ہے لڑکی جوان ہے اور اس میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آگئی ہے میں نے کہا تو کیا ہر لڑکی کو ماہواری آتی ہے اس نے کہا ہاں ہر جون لڑکی کو آتی ہے مگر جب بچہ پیٹ میں بنتا ہے تو ماہواری رک جاتی ہے ۔یہ سب باتیں میرے لیے نئی اور حیران کن تھیں آدھی چھٹی کو چند منٹ رہ گئے تھے اس لیے میں انہیں سوچوں میں گم واپس آگیا اور سوچ رہا تھا کیا عروسہ کو بھی ماہواری آتی ہوگی پھر سوچا آج پوچھ لوں گااور پھر چھٹی تک میں انہیں باتوں کی ادھیڑ بن میں لگا رہا۔ چھٹی کے بعد ہم گھر آگئے اور پھر مجھے انتظار تھا کہ کب عروسہ آئے اور میں اس سے پوچھوں اور پھر عروسہ اور راحت ایک ساتھ آگئے اور مجھے کچھ کرنے اور پوچھنے کا موقع ہی نا ملا سٹڈی کرتے ہوئے میں نے عروسہ کے کان میں کہا رات کو میں تمہارے چھت والے کمرے میں آؤں گا نو بجے اور پھر رات کو میں اپنی چھت سے راحت کی چھت پر اور پھر وہاں سے عروسہ کی چھت والے کمرے میں چلا گیا ابھی وہاں گیا ہی تھا کہ عروسہ بھی آگئی ہم کمرے میں چلے گئے اور لائٹ بند کر دی مگر کمرے میں پھر بھی دیکھنے لائق روشنی تھی کیونکہ باہر سے محلہ روشن تھا اور باہر کی روشنی کمرے کو بھی کچھ نہ کچھ روشن کر رہی تھی میں جاتے ہی اسے بانہوں میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز دبانے لگا اور پھر ہاتھ نیچے لے جا کر نرم اور موٹی گاند دبانے لگا اسکی گانڈ پہلے سے زیادہ موٹی لگ رہی تھی مطلب کمر سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی میں نے جلدی سے اسکی شلوار نیچے کردی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر آگے چوت پر لے آیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے اور سوراخ چیک کرنے لگا عروسہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی خیر تو ہے آج یہاں کیا کرنے لگے ہو میں نے کہا ایک بات تو بتاؤ تمہیں ماہواری آتی ہے ؟ وہ حیران ہوئی اور کہنے لگی تمہیں کیسے پتا چلا ابھی کچھ دن پہلے آئی ہے پہلی دفعہ میں نے کہا تو ٹھیک ہے پھر آج میں یہاں لن ڈالوں گا میں نے چوت میں انگلی گھساتے ہوئے کہا وہ گھبرا گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کیا کہنے لگی نہیں نہیں یہاں نہیں میں نے بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں اب اپنی قمیض بھی اتار دو اس نے کہا نہیں شلوار اتاری ہوئی ہے ایسے کر لو جیسے پہلے کرتے ہو میں نے کہا نہیں سارے اتارو آج اور میں نے اسکی قمیض پکر کر اوپر کرنی چاہی تو اس نے بھی ساتھ دیا اور اتار دی پھر میں اسکے بدن کو چومنے لگا اور وہاں سے اسکے بوبز پر آگیا اور بوبز چوسنے اور چومنے لگا ساتھ ساتھ اسکی گانڈ میں بھی ہاتھ پھیر رہا تھا پھر کچھ دیر بوبز چوسنے کے بعد اسے کہا جھک جاؤ وہ ڈوگی سٹائل میں آگئی تو میں اسکی گاند کا اور کمر کو چومنے لگا اور پھر اپنا منہ سوراخ کے قریب لا کر اس پر تھوک پھینکا اور انگلی سے اچھے سے لگا دیا اور پھر تھوک سے اپنے لن کو چکنا کیا اور گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا اور پھر ایک ہلکا سا جھٹکا مارا ٹوپے سے کچھ زیادہ اندر تھا پھر لن نکال کر اور تھوک لگایا اور پھر سارا ہی اندر کر دیا نرم اور گرم گانڈ میں اور پھر سارا اندر کر کے وہیں رک گیا اور پھر اسکی پیٹھ چومنے لگا اور نیچے ہاتھ لے جا کر اسکے بوبز دبانے لگا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد لن کو حرکت دینی شروع کر دی اور پھر درمیانی سپیڈ سے اندر باہر کرنے لگا ساتھ ہی ساتھ اسکے بوبز بھی دبا رہا تھا ایک دو منٹ اندر باہر کرنے کے بعد لن باہر نکالتا اور تھوک لگا کر پھر ڈال دیتا آج مجھے پانچ منٹ ہو چکے تھے اندر باہر کرتے ہوئے اور اب میں لذت کی انتہا کو جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا اور کچھ دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میری جان لن سے نکلنے لگی ہے اور میرا لن اور سخت ہو کر پھول گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور پھر لن کو گانڈ کی گہرائی میں روک کر فارغ ہونے لگا میرا لن جھٹکے کھا کھا کر منی کی پچکاریاں مار ریا تھا اور میں چنگھاڑتے ہوئے اسکے اوپر پڑا تیز سانسیں لے رہا تھا اور لگ رہا تھا آج عروسہ کو بھی بہت مزہ آیا ہے کیونکہ وہ اپنی گانڈ کو بھی لن کے گرد مزید کس رہی تھی دبا رہی تھی بھینچ رہی تھی نچوڑ رہی تھی ۔ ساری منی نکل جانے اور حواس بحال ہونے کے بعد میں اس کے اوپر سے اترا اور وہاں پڑے پرانے کپڑے سے اپنا لن صاف کرنے لگا اور اتنے میں عروسہ نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے اور پھر وہ نیچے چلی گئی اور میں واپس اپنے گھر آگیا ۔ تو دوستو وقت گزر رہا تھا اور میں کبھی عروسہ کی اور کبھی راحت کی گانڈ مار رہا تھا یہ سب کرتے مجھے اب دو تین مہینے ہو چکے تھے اب میرا لن بھی لمبائی اور موٹائی میں کچھ بڑھ چکا تھا اور اب راحت کی گانڈ بھی کچھ موٹی ہوکر مٹکنے لگی تھی اور اسکے بوبز بھی کچھ بڑھ رہے تھے مگر اتنے نہیں تھے کہ کپڑوں میں واضع نظر آتے مجھے اس کے بوبز کا اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک رات اسے چودتے ہوئے سارے کپڑے اتارنے کا کہا میں اسکے بوبز دیکھ کر حیران ہوا اسکے بوبز عروسہ جتنے بڑے تو نہیں تھے مگر کافی ہوگئے تھے اس نے اپنا حلیہ چونکہ لڑکوں والا رکھا تھا اس لیے دیکھنے والوں کو زیادہ محسوس نہیں ہوتے تھے اور اسکا لن بھی میرے لن کی طرح بڑھ رہا تھا ۔ اور میں سکول میں اپنے اس کمینے دوست فیاض سے بہت کچھ سیکھ رہا تھا جان رہا تھا اور وہ سب کچھ راحت اور عروسہ پر آزما رہا تھا ایسے سمجھ لو کہ میں پڑھنے اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی کر رہا تھا اور پھر ایک دن عروسہ نے بھی مجھے راحت کو چودتے ہوئے دیکھ لیا۔شاید وہ ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی جب میں فارغ ہو گیا اور لن راحت کی گانڈ سے نکال لیا وہ ایک دم سے کھڑکی سے ظاہر ہوئی کھڑکی ایسے بند تھی کنڈی کرنا ہم بھول گئے تھے ، اس نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے ۔ہم دونوں چونک گئے کھڑکی کی طرف دیکھاتو عروسہ کھڑی مسکرا رہی تھی میرا لن مرجھا چکا تھا مگر راحت کا لن اب بھی نیم کھڑا تھا وہ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی راحت کو اور اس کے لن کو میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور جا کر دروازہ کھولا تو وہ اندر آگئی ۔کہنے لگی کب سے چل رہا ہے یہ سب زیادہ ٹائم نہیں ہوا زیادہ ٹائم نہیں ہواعروسہ نے مسکرا کر راحت کی طرف دیکھا راحت شرما رہا تھا اس سے عروسہ نے راحت سے کہا تم کب سے گانڈو بن گئے ہو میں تو تمہیں معصوم اور شرمیلا سمجھتی تھی راحت نےفٹ سے کہا جب سے تمہیں گانڈ مروتے ہوئے دیکھا تب سے میں بھی بن گیا عروسہ کو نہیں پتا تھا کہ راحت سب جانتا ہے وہ یہ سن کر چونک پڑی اور گھبرا گئی میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں راحت شروع سے سب جانتا ہے اور ہمارا ہم راز ہے کسی کو نہیں بتائے گاتب عروسہ نارمل ہوئی اور پھر ہم سٹڈی کرنے لگے ۔ اب ہمیں ایک دوسرے کا کوئی ڈر یا پردہ نہیں تھا ہم جو چاہتے کھل کر کر سکتے تھے اب ہم تینوں ایک دوسرے کے ہم راز بن چکے تھے۔ اب میں جب چاہتا راحت کی موجودگی میں عروسہ کو چود سکتا تھا یا عروسہ کی موجودگی میں راحت کی لے سکتا تھا اب سٹڈی کرتے کرتے عروسہ راحت کی موجودگی میں میرا لن بھی پکڑ لیتی تھی اور اس سے کھیل لیتی تھی اور میں اسکے بوبز دبا لیتا تھا یا میں اور راحت ایک دوسرے سے لن بھی لڑا لیتے تھے یا ایک دوسرے کی مٹھ لگا لیتے تھے یا ایک دوسرے سے لن کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے کہ کس کا خوبصورت سے یا کس کا بڑا ہے کس کا زیادہ موٹا ہے ۔میں نے ایک بات محسوس کی کہ جب عروسہ میرا لن پکڑتی دباتی یا اس سے کھیلتی تو راحت کو برا محسوس ہوتا یا وہ جیلس ہوتا تھا پتا نہیں ۔ ایک دن جب عروسہ میرے لن کو باہر نکال کر اس سے کھیل رہی تھی تو اچانک ہی راحت نے بھی اپنا لن باہر نکال لیا اور ہمارے پاس آکر کہنے لگا یہ کیا تم بس ایک لن سے ہی چمٹی رہتی ہو یہ دیکھو میرا اس سے زیادہ خوبصورت ہے یہ لو اسے پکڑو عروسہ نے اسکا لن بھی پکڑ لیا اب پوزیشن یہ تھی کہ درمیان میں عروسہ بیٹھی تھی ایک طرف راحت اپنا سانپ نکالے بیٹھا تھا اور اس کے دوسری طرف میں اور عروسہ کا ایک ہاتھ ا سکے ناگ پر تھا اور ایک ہاتھ میرے۔اسی وقت مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے راحت سے کیا تم اصل مزہ لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تو پھر میری طرف آجاؤوہ دوسری طرف آگیا اب میں درمیان میں تھا ایک طرف راحت تھا اور دوسری طرف عروسہ تھی میں نے راحت کو لن سے پکڑ کر کہا بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا تو میں نے تھوک اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور اسے راحت کے لن پر مل دیا اور اسکی مٹھ لگانے لگا میں بار بار ہاتھ کو گیلا کرتا جاتا اور اپنے ہاتھ کی حرکت کو تیز کرتا جاتا دوتین منٹ ہی ہوئے تھے ہی راحت کی حالت خراب ہونے لگی اس نے کہا بس کر مجھے کچھ ہو رہا ہے مگر میں لگا رہا عروسہ ہنس رہی تھی اسے پتا تھا کہ راحت کو کیا ہو رہا ہے میں نے راحت سے کہا یہی تو اصل مزہ ہوتا ہے یہ کہہ کر میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت بڑھا دی ابھی چند بار ہی ہاتھ کو حرکت دی تھی کہ راحت کا لن جھٹکے کھاتے ہوئے اپنا پانی چھوڑنے لگا اسکا پانی آج پہلی بار نکلا تھا وہ حیران ہو رہا تھا بانی نکلنے کے بعد اسے سکون سا آگیا میں نے کہا کیوں آیا نہ مزہ اس نے کہا ہاں یار بہت زیادہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ اصل مزہ کیا ہوتا ہے۔
  11. اسی فورم پر موجود ہے سرچ کر لیں
  12. بہت بہت شکریہ تمام دوستوں کا‌۔
  13. قسط نمبر1 ‮‬طوفانی ہواؤں کے شور میں ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی کسی سے محبت ہوئی ؟ وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ، محبتوں کے جلو میں ، میں پیدا ہوا تھا اور انہی کے درمیان مروں گا۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی ۔ اس نے کہا ، جس محلے میں اس نے ہوش سنبھالا، وہاں کے لوگ غیر معمولی طور پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے۔ ساتھ جڑے گھروں میں رہنے والے ہم تین بچّے ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ میں جنیدجمال ، عروسہ محبوب اور تیسری یا تیسرا راحت شمیم ۔ راحت ہیجڑا تھا ۔ جب وہ پیدا ہوا تو ڈاکٹروں کو لگا وہ مکمل لڑکا نہیں ہے۔( لڑکا اس لیے کہا کہ اس طرح کے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو جن میں لڑکیوں والے خواص ذیادہ پائے جاتے ہیں اتنے کہ کوئی بہت قریبی بھی یہ فرق نہیں کر پائے گا کہ وہ کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے اور دوسرے وہ جن میں لڑکوں والے خاص زیادہ پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک صحت مند لن بھی ہوتا ہے بچپن میں تو بالکل ہی پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کوئی تیسری مخلوق ہے البتہ جونی میں اس میں کچھ لڑکیوں والے خواص آ جاتے ہیں) تو راحت بھی ایسا ہی تھا مطلب لڑکا ذیادہ تھا اور اور لن والا ہیجڑا تھا ۔اور لن بھی کمال صحت مند تھا۔ بچپن میں جب ہم ساتھ کھیلا کرتے تو ہمیں مردوزن کی تفریق کا بھی علم نہ تھا۔ ہم تینوں بہت اچھے ماں باپ کی اولاد تھے ۔میں اور عروسہ ہم عمر تھے۔ راحت ہم سے 2برس چھوٹا تھا۔ جب راحت پیدا ہوا تو میرے اور عروسہ کے والدین نے یہ فیصلہ کیا کہ نئے مہمان کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا جائے گا کہ اس میں کوئی کمی ہے ۔ اپنے اس عہد پر وہ قائم رہے ۔ مجھے اور عروسہ کو خاص طور پر راحت سے مانوس کرایا گیا ۔ ہم دونوں کا ہاتھ پکڑ کر اس نے چلنا سیکھا۔ سکول میں کوئی بچّہ اسے چھیڑتا تو ہم دونوں اس کا دفاع کرتے ۔ ان دنوں دنیا کی ہر خوشی ہمیں میسر تھی لیکن کب تک؟ ایک روز ہمیں بڑا ہونا تھا۔ زمانے کے تلخ حقائق سے نبرد آزماہونا تھا ۔ بچپن کب ختم ہوا اور کب لڑکپن آیا اور پھر کب جونی کی بہار آئی پتا ہی نہ چلا راحت شمیم ایک بے حد سلجھا ہوااور بے حد خوبصورت بندہ تھا ۔ اس کی شخصیت میں نفاست تھی ۔ شروع سے اس نے لڑکوں کے کپڑے پہننا پسند کیے۔ وہ لڑکوں ہی کی طرح بات کرتا ۔ تیسری جنس کے اکثر لوگوں کے برعکس وہ لچکتا نہ ٹھمکتا ۔۱پنے لیے وہ مذکر کا صیغہ استعمال کرتا ۔جوں جوں ہم بڑے ہوتے گئے دنیا اور جنسی کشش کے راز ہم پر کھلتے گئے اور ہم تینوں ایک دوسرے میں وہ جنسی کشش محسوس کرنے لگے جو کہ ایک فطری تقاضا تھااور پھر اس ڈگر میں آگے بڑھنے لگے۔میرے اور عروسہ کے درمیان یہ اٹریکشن تو نیچرل تھی ہم لڑکا لڑکی تھے مگر راحت بھی عروسہ میں دلچسپی لینے لگا تھا اور میرے بغیر بھی نہیں رہ سکتا تھا۔وہ اکثر عروسہ کی طرف وارفتگی سے دیکھتا ہوا پایا جاتا اور جب میں دیکھ لیتا تو وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر شرما جاتا۔تیرہ چودہ برس کی عمر میں جب لڑکپن اور نوجوانی کازمانہ شروع ہوا تو آہستہ آہستہ میرے اور عروسہ کےجسم میں فطرتی تبدیلیاں آگیں اور ہمارے جسمانی خدوخال واضع ہوگے یعنی لڑکے اور لڑکی کی طرح جیسے عام طور پر ہوتا ہے کہ لرکی میں نزاکت آجاتی ہے اور اس کے بوبز اگتے ہیں اور سینہ ابھر آتا ہے اور لڑکے میں داڑھی مونچھ اگنے لگتی ہے ۔مگر راحت تو اور بھی غضب ہو گیا تھا سفید بے داغ ملائم چہرہ درمیانے گلابی ہونٹ درمیانہ قد سمارٹ جسم اور چھوٹی چھاتیاں جو وہ لڑکوں والے کھلے اور ڈھیلے کپڑوں میں چھپائے رکھتا اور دیکھنے والوں کو پتا نہ چلتا کہ وہ ایک ہیجڑا ہے آپ کے لڑکا یا لڑکی دکھنے میں قدرتی جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آپ کے حلیے کا بڑا گہرا عمل دخل ہوتا ہےاور وہ تو بال بھی لڑکوں کی طرح بنواتا تھا اور کپڑے جوتے سب کچھ لڑکوں کی طرح استعمال کرتا عروسہ پابندی سے دوپٹہ لینے لگی ۔ راحت پر ایسی کوئی پابندی عائد نہ تھی ۔ آدھا وقت وہ میری معیت میں گزارتا اور باقی آدھا عروسہ کے ساتھ ۔راحت کو تصاویر بنانے کا شوق تھا ۔ہر وقت وہ عروسہ اور میرے ساتھ تصاویر بناتا رہتا۔ ہم تینوں کے موبائل ان تصاویر سے بھر ے پڑے تھے ۔ وقت گزرتا گیا۔اور پھر ہم تینوں کے درمیان سیکس اور لزت کا وہ جنسی کھیل شروع ہوا جس نے شاید کبھی ختم ہی نہیں ہونا تھا۔ سیکس کا کھیل تو ہمارے درمیان لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا کیونکہ سکولوں میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں اور سیکس کے بارے میں باتیں کرتے ہی رہتے ہیں اور ساتھ دوسرے سننے والے بچوں کا بھی اس طرف رجحان ہو جاتا ہے اور جب سیکس کرنے کا دل کرتا ہے تو ہمیں ہمارے قریب رہنے والے لڑکیاں لونڈے ہی ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں میری نظر بھی عروسہ پر جا ٹکی اور میں اس کے جسم کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے لگا تھا جیسے اس کے چھوٹے چھوٹے نپلز کو کھینچ دینا اور اس کی موٹی اور نرم گاند کی دراڑ میں انگلی گھسا دینا اس چھیڑ چھاڑ سے بظاہر تو وہ غصہ کرتی تھی لیکن وہ اسے انجوائے بھی کرتی تھی اس کا اندازا مجھے اس بات سے ہوا کہ جب میں اس کی گاند میں انگلی کرتا تھا تو کبھی کبھی وہ انجان بنی رہتی تھی جیسے اسے پتا ہی نہ ہو پھر ایک دن ایسا ہوا اس دن راحت سکول نہیں آیا تھا ہم چھٹی کے بعد گھر واپس آرہے تھے ہمارے راستے میں ایک زیر تعمیر عمارت آتی تھی جس پر کسی وجہ سے کام روک دیا گیا تھا میں نے عروسہ سے کہا چلو وہاں چلتے ہیں اور ہم کھیلتے کھیلتے وہاں چلے گئے وہاں ہم بھاگنے دوڑنے لگے اتنے میں عروسہ کو وہ سیڑھیاں نظر آگیں جو نیچے تہہ خانے میں جا رہی تھیں عروسہ نے مجھے آواز دی یہاں آنا یہ دیکھو یہ سیڑھیاں نیچے جا رہی ہیں میں بھی وہاں جا پہنچا ۔ہم یہاں پہلے بھی ایک دو بار آچکے تھے مگر یہاں کوئی تہہ خانہ بھی ہے یہ ہمیں معلوم نہیں تھا خیر ہم نیچے اتر گئے وہاں نیچے گئے تو مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے آج انگلی کے بجائے اپنا لن اسکی گاند کی دراڑ میں پھنسا دیا اور اسے پیچھے سے بانہوں میں بھر لیا ۔ عروسہ نے کہا یہ کیا کر رہے ہو گندے؟؟میں نےکہاکچھ نہیں پیار کر رہا ہوں تمہیں۔عروسہ نے کہاپیارایسے تھوڑی ہوتا ہے؟میں نے کہا تو اور کیسے ہوتا ہے ؟؟؟عروسہ چھوڑو بتاتی ہوں۔ میں نے اس کا گال گیلا کرتے ہوئے کہا ایسے ہی بتا دو۔ یہ کہہ کر میں اس کے اگتے بوبز پر ہاتھ لگانے لگا اب شاید عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا تھا کیونکہ وہ اب بات نہیں کر رہی تھی اور اس کی سانسیں تیز ہوگئی تھیں ۔میں نے پوچھا اچھا لگ رہا ہے تمہیں وہ خاموش رہی میں نے اسے کہا اپنی شلوار زرا نیچے کرو پھر دیکھو کتنا مزہ آتا ہے جلدی سے بولی نہیں نہیں یہ نہیں کرنا میں نے کہا یہ کرنا ہی ہے پلیز پھر وہ خاموش ہو گئی شاید سوچ رہی تھی کرنا چاہیے یا نہیں میں نے اسے سوچنے کا وقت نہ دیا اور خود ہی اسکی شلوار نیچے کھینچ دی اور ایک ہاتھ سے اسے اپنے ساتھ لگائے رکھااور پھر اپنی زپ بھی کھول دی اور ننگا لن اس کی نرم اور گرم گانڈ کی دراڑ میں گھسا دیا ۔ کیا بتاؤں دوستو اس پہلی بار والی اس دراڑ میں وہ مزہ تھا جو آج تک مجھے کسی چوت اور گانڈ میں بھی نہیں ملاکچھ دیر ایسے رہنے کے بعد میں نے اسے کہا تھوڑا سا جھک جاؤ ۔ اس نے کہا نہیں کافی دیر ہو گئی ہے اب واپس چلتے ہیں پلیز میں نے کہا کچھ دیر اور ٹھہرنے سے کچھ نہیں ہوگا میں نے خود اسے تھوڑا جھکانے کی کوشش کی تو وہ جھک گئی بس معمولی سا میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا پہلی بار موقع ملا تھا میں نے جلدی سے تھوک لگائی ٹوپے کو سوراخ کا اندازا لگا کر ٹوپا سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈالنے لگا مگر جا نہیں رہا تھا اندرنیچے کو سلپ کر رہا تھا پھر میں نے پکڑ کر سوراخ پر رکھا اور بنا چھوڑے دھکا لگایا مگر بیچ میں میرا ہاتھ اور اس کے موٹے چوتڑ ہونے کی وجہ سے کامیابی نہ ملی ۔پھر اسے کہا کہ مزید جھک جائے جیسے گھوڑی بنتے ہیں ویسے ہونے کو کہا پہلے تو اس نے انکار کیا اور کہا جو کرنا ہے ایسے ہی جلدی سے کرو ہمیں دیر ہو رہی ہے میں نے کہا یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ ایسے نہیں ہو رہا جلدی کرنے کیلئے تمہیں مزید جھکنا ہوگا پھر وہ جھک گئی بالکل اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل ہوگئی دوستو کیا نظارہ تھا کیا گانڈ تھی صاف شفاف بالکل کنواری چھوٹا سا براؤن سا سوراخ تھا بہت ہی ٹائٹ خیر میں نے سوراخ اور ٹوپے پر مزید تھوک لگائی لن کو سوراخ پر اکھا اور زور کا دھکا لگا دیا عروسہ کی زوردار چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا۔ اس وقت میرا لن چار انچ کا تھا جو کہ ایک انچ تک اندر جا چکا تھا اور عروسہ تڑپ رہی تھی اور میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں نے اسے کمر سے دونوں ہاتھوں سے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔اب مجھے باقی کا لن بھی اندر ڈالنا تھا ۔عروسہ چیخ رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی بہت درد ہورہا ہے پلیز باہر نکالو اور مجھ پر سارا اندر ڈالنے کی دھن سوار تھی پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا میں نے ایک اور دھکا دیا اور تقریباً سارا ہی اندر پہنچا دیا ۔ گانڈ اندر سے بہت گرم اور بہت زیادہ ٹائیٹ تھی میرا لن جیسےجکڑ لیا گیا ہو اور پھر میں ہلے بنا ایسے ہی کافی دیر ڈال کے کھڑا رہا اور آہستہ آہستہ عروسہ کے درد میں کمی آنے لگی اور مجھے بھی کچھ ہوش آنے لگا ہمیں کافی دیر ہو چکی تھی جب ہوش آیا تو پتا چلا پھر میں نے لن نکال کیا کیونکہ پہلی بار تھا ذیادہ پتا نہیں تھا کہ اصل مزہ کچھ اور ہوتا ہے اور پھر ہم کپڑے ٹھیک کر کے گھر کی طرف چل پڑے۔ گھر جاتے ہوئے وہ مجھ سے ناراض دکھائی دے رہی تھی کہنے لگی بہت برے ہو تم ۔ میرا زرا احساس نہیں کیا تمہیں پتا ہے کتنا درد ہوا مجھے پھاڑ دی تم نے میری اپنا اتنا بڑا گھسا دیا ۔میں نے اسے چھیڑنے کیلئے کہا کتنا بڑا ؟؟ کہنے لگی مجھے کیا پتا میرے بازو جتنا ہی ہوگا جتنا درد ہوا ہے مجھے۔میں نے اس سے کیا اچھا بابا سوری اب ایسے منہ تو نا بناؤ۔ایسے ہنسی مذاق کرتے ہم گھر آگئے۔پھر کافی دن تک ہم کچھ نہ کر سکے ایک تو راحت ساتھ ہوتا تھا اوپر سے عروسی بھی درد سے ڈر گئی تھی اب مجھے کچھ کرنے نہیں دے رہی تھی۔میں اسے راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔اسے یقین دلاتا رہا کہ اب نہیں کرونگا درد پھر ایک دن وہ نیم رضا مند ہو گئی اور کہنے لگی اچھا کبھی موقع ملا تو کر لینا۔اب میں اس انتظار میں تھا کہ کبھی راحت چھٹی کرے تو میں موقع سے فائیدہ اٹھاؤں اور آخر کار وہ وقت بھی آگیا ۔ میں سارا دن بے چین رہا کہ کب چھٹی ہو اور ہم اس جگہ جائیں۔پھر چھٹی کا ٹائم بھی ہوگیااور ہم اسی جگہ چلے گئے اس دن میں سب کچھ تسلی سے اور آرام سکون سے کرنا چاہتا تھا۔تہہ خانے میں جاتے ہی میں نے عروسہ کو گلے لگا لیا اور اسے چومنے لگا پھر لپ ٹو لپ کس کیا اس کےلپ چوسے اس کے ننھے ننھے بوبز دبائے اور پھر میرے ہاتھ وہاں جا پہنچے جو مجھے چاہیے تھی گانڈ پر ہاتھ پھیرتا اور دباتا رہا۔اور پھر اسکی شلوار نیچے کر دی اور ننگی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا جس سے عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا اسے کرنٹ سا لگتا میرے ہاتھ پھیرنے سےاور پھر اسے دوسری طرف منہ کر کے جھکنے کو کہا اور وہ جھک گئی اور پھر میرا کام شروع ہوا میں نے کافی سارا تھوک اس کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر لگایا اور انگلی سے اندر کرنے لگا جب سوراخ اچھی طرح چکنا ہو گیا تو لن تو بھی بہت سا تھوک لگا کر اچھے سے چکنا کر دیا سارے لن کو چکنا کرنے کے بعد ٹوپے پر اور تھوک لگایا اور سوراخ پر رکھ دیا اس سے ہم دونوں کو ایک کرنٹ سا لگا اور پھر دباؤ ڈال دیاٹوپا اندر جانے لگا ابھی آدھا بھی نہیں گیا تھا کہ عروسہ کہنے لگی درد ہو رہا ہے میں وہیں رک گیا اور پھر باہر نکال لیا اور پھر سوراخ کو تھوک سے بھر دیا اور اور لن کو بھی اور پھر ڈالنا شروع کیااب آدھے سے زیادہ اندر چلا گیا تھا ایک انچ رہتا تھا میں نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا عروسہ کو درد ہو رہا تھا مگر اتنا زیادہ نہیں جو برداشت نہ کر سکتی پورا لن ٹائیٹ اور نرم گرم گاند میں ڈال کر میں وہیں رک گیا پانچ منٹ ایسے ہی رکا رہا اور جب عروسہ بالکل نارمل ہوگئی تو ہلانا شروع کیا ۔(اب مجھے سکول کے لڑکوں سے کچھ پتا چل گیا تھا کہ لن ڈالنے کے بعد جھٹکے لگائے جاتے ہیں) ایک دو منٹ میں ہی میرے ٹوپے میں عجیب سرور سا ہونے لگا جو آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ میرے لن میں کیا ہو رہا ہے جب برداشت سے باہر ہونے لگا تو میں نے لن نکال لیا ۔ عروسہ نے کہا بس ہوگیا میں نے کہا ہوں ہو گیا اور ہم کپڑے پہن کر گھر کی طرف چل پڑے ۔ میں راستے میں سوچ رہا تھا کہ لن میں کیسا سرور ہورہا تھا جیسے جان نکل جائے گی۔ اتنے میں عروسہ کی آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے نکالا وہ کہہ رہی تھی کیا سوچ رہے ہو میں نے چونکتے ہوئے کہا کچھ نہیں پھر وہ کہنے لگی تمہیں مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت اور تمہیں اس نے کہا بس تھوڑا سا کیونکہ پہلے درد ہو رہا تھابعد میں تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگاتھا۔اتنے میں ہمارا گھر آگیا اور ہم اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ رات کو جب میں اپنے بستر پر لیٹا اس بارے سوچ رہا تھا جیسے ہی میں نے آنکھیں بند کیں اور لن کو مٹھی میں پکڑا مجھے وہی مجھے وہی منظر اور مزہ یاد آنے لگا اور میں آہستہ آہستہ اپنے لن کو مسلنے لگا اور کچھ دیر میں میرے لن میں پھر وہی سرور سا محسوس ہونے لگا جیسے عروسہ کی گانڈ میں اندر باہر کرتے محسوس ہونے لگااور ایسے لگنے لگا جیسے میری جان میرے لن سے نکل جائے گی اور عجیب سا محسوس ہونے لگا میں سوچنے لگا کہ یہ کیا ہے ایسا کیوں ہونے لگتا ہے مجھے کچھ سمجھ نا آیا تو میں سوچتے سوچتے سو گیا۔ اب مجھے ہر وقت عروسہ کی گانڈ میں لن ڈالے رکھنے کا دل کرتا تھا مگر راحت کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نہ تو ہمیں سکول میں کوئی موقع ملتا نہ راستے میں اور نہ ہی گھر پر کیونکہ میں اور عروسہ جب بھی ساتھ ہوتے تھے راحت بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ایسے کچھ دن گزر گئے اور میں سکول کے لڑکوں سے سیکس کی باتیں بھی سنتا رہا اور مجھے پتا چل گیا یہ سرور لن میں کیوں ہوتا ہے اور مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے اب میں باتھ روم میں جب بھی نہانے جاتا تھا تو اپنے لن سے ضرور کھیلتا اور مٹھ مارنے لگتا ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ میرے لن میں پھر سے وہی کیفیت ہونے لگی مگر اس بار میں نے مسلنا بند نہیں کیا اور لگاتارمسلتا رہا اور اچانک میرے لن سے ایک فوارہ سا نکلا اور لن جھٹکے کھاتے ہوئے فوارے چھوڑنے لگا اور اس کے بعد سکون سا آگیا اب مجھے پتا چلا کہ اصل مزہ تو یہ ہوتا ہے مگر میرے لن سے وہ گاڑھی چیز کیا نکلی تھی یقیناً پیشاب تو نہیں تھا پھر مجھے لگا یہی منی ہوگی جس بارے میں لڑکے بات کر رہے تھے کہ لن سے منی نکلتی ہے تو بہت زیادہ مزہ آتا ہے اسکا مطلب یہ تھا کہ میرے لن میں منی بننا شروع ہو چکی تھی اور آج پہلی بار نکلی بھی تھی اور میں جوان ہو رہا تھا۔اس مجھے عروسہ سے اصل مزہ حاصل کرنا تھا اور میں موقہ کی تلاش میں تھا اور پھر آخر کار ایک دن موقع مل ہی گیا ۔ میں اور عروسہ ہماری چھت پر بنے کمرے میں پڑھ رہے تھے راحت ابھی تک نہیں آیا تھا یہ ہمارا معمول تھا کہ ہم ساتھ مل کر پڑھتے تھے اس کمرے میں اور ہوم ورک کرتے تھے ۔ میں نے موقہ کا فائیدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور عروسہ سے کہا مجھے کچھ کرنا ہے عروسہ نے کہا کیا میں نے کہا وہی جو ہم اکیلے میں کرتے ہیں راحت نہیں ہے مجھے جلدی سے کر لینے دو اس نے کہا نہیں راحت کسی بھی وقت آسکتا ہے میں نے کہا پلیز کرنے دو اتنے دن ہوگئے ہیں موقہ ہی نہیں مل رہا تھااس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے اگر راحت آگیا تو؟؟؟ میں نے کہا جلدی سے کر لیتا ہوں میں جلدی سے اٹھا اور دروازہ بند کر لیا اور عروسہ سے کہا جلدی سے شلوار اتارو اس نے اتار دی میں دروازہ بند کر کے مڑا تو اپنی شلوار بھی اتار دی اور آتے ہی ایک بڑا سا تھوک کا گولا عروسہ کی گاند کے سوراخ پر پھینکا اور پھر لن کو بھی گیلا کیا اور سوراخ پر رکھ دیا اور زور سے جھٹکا دیا آدھا لن تو اندر چلا گیا ساتھ ہی عروسہ کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی میں رکا نہیں اور ایک اور جھٹکا دیا اور لن اینڈ تک عروسہ کی تنگ گانڈ میں اتار دیا اور پھر جلدی سے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد میرے لن میں وہی جانا پہچانا سا سرور ہونے لگا اس بار میں نہیں رکا اس بار مجھے پورا مزہ لینا تھا اور اپنی منی سے عروسہ کی گانڈ کو سیراب کرنا تھا کچھ دیر جھٹکے مارنے کے بعد مجھے لگا کہ جیسے میری جان لن سے نکل رہی ہو لن منی چھوڑتے ہوئے عروسہ کی گانڈ میں اپنی پہلی برسات کرنے لگا اس مزے نے تو مجھے پاگل ہی کر دیا میں نڈھال ہوکر عروسہ کے اوپر گر گیا اور تیز تیز سانس لینے لگا عروسہ نے مجھےہلکے سے جنید پکارا تو مجھے ہوش سا آیا میں نے ہوں کیا تو اس نے کہا اگر ہوگیا ہے تو چھوڑ دو مجھے کوئی آجائے گا میں آہستہ سے پیچھے ہٹا اور لن نکال لیا اس نے جلدی سے شلوار اوپر کر لی اور میں نے بھی اور جا کر دروازہ کھول دیا دیکھا تو راحت بھی باہر موجود تھا ایک دم سے میرا رنگ اڑ گیا مجھے لگا کہ میری چوری پکڑی گئی ہےلیکن اس نے کچھ نہیں کہا نارمل کھڑا رہا تو میری جان میں جان آئی اور لگا کہ اسے کچھ پتا نہیں چلا میں نے کہا آؤ راحت ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھےآؤ ہوم ورک کریں اور ہم جلدی سے اندر آگئےاور پھر سٹڈی کرنے لگےاور پھر ہمارا یہ معمول بن گیا ہم راحت سے جلدی آتے اور اس کے آنے سے پہلے اپنی پیاس بجھا لیتےآخر یہ سب کب تک چھپا رہتا ہے راحت کو بھی آخر پتا چل گیا پتا نہیں وہ کب سے ہمیں یہ سب کرتا دیکھ رہا تھا اور ہمیں پتا تک نہیں تھا۔ ایک دن اچانک راحت نے مجھے آدھی چھٹی کے ٹائم کہا کہ مجھے سب پتا ہے جو عروسہ اور تم کرتے ہو چھپ چھپ کر میں حیران ہو گیا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ اس کو کیسے پتا ہے ۔میں نے کہا کیا کرتے ہیں اور تمہیں یہ سب کیسے پتا ہے؟اس نے کہا میں روز دیکھتا ہوں چھپ کر تم جو گندہ کام کرتے ۔ اب اس سے کوئی جھوٹ بولنے کا یا چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اس لیے میں نے اسے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
  14. دوستو میجر صاحب کے بعد میری دوسری کہانی "لڑے لڑکی اور ہیجڑے کی محبت" پیش خدمت ہے امید ہے پسند آئے گی اپنی رائے اور تجاویز ضرور دیجیے گا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.