-
محبّت تم سے نفرت ہے - دکھ بھری شاعری
عشق سے عشق کی روداد نا پوچھے کوئی عشق کی عشق سے روداد نا پوچھے کوئی اشک آنکھوں میں اٹھا کر وہ گرا دیتا ہے جب بھی پوچھا ہے کہ انجام محبّت کیا ہے دل بناتا ہے وہ پھر دل کو مٹا دیتا ہے محبّت کی کہانی میں کہاں یہ موڑ آتے ہیں کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں تمہارا نام لے لے کر تڑپنا کیا... سلگنا کیا محبّت تم جو ہو جاؤ تو ملنا کیا ... بچھڑنا کیا یہ کیا ...کہ تم بناتی ہو بنا کر تم مٹاتی ہو جگر کا خون پیتی ہو دلوں کا ماس کھاتی ہو یہی ہیں چونچلے تیرے جو محفل چھوڑ جاتے ہیں کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں چلو ہم پاس رکھ لیں گے تیری باتیں... تیری یادیں محبّت تیرے صدقے میں یہی ملتی ہیں سوغاتیں ہنسیں گے دل سے مل کر ہم گلے دل کو لگائیں گے تجھے ہم یاد کر لیں گے تجھے ہم بھول جائیں گے چلو منزل سے پہلے ہم یہ رستہ موڑ جاتے ہیں کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں وہی دل توڑ جاتے ہیں
-
Shazia Ali started following محبّت تم سے نفرت ہے - دکھ بھری شاعری
-
shaguftazaidi started following Shazia Ali
-
Noorrii started following Shazia Ali
-
Ahsan28 started following Shazia Ali
-
Shazia Ali started following ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے -----نوشی گیلانی , ڈنر سے پہلے ---یسریٰ وصال , ڈنر سے پہلے ---یسریٰ وصال and 1 other
-
ڈنر سے پہلے ---یسریٰ وصال
ڈنر سے پہلے میز پر رات کی پلیٹ رکھی ہے اور بارش کا پیالہ اور ہم دونوں ایک برقی چاند کی لو میں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
-
ڈنر سے پہلے ---یسریٰ وصال
ڈنر سے پہلے یسریٰ وصال ڈنر سے پہلے میز پر رات کی پلیٹ رکھی ہے اور بارش کا پیالہ اور ہم دونوں ایک برقی چاند کی لو میں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
-
سینے سے ناف تک ---یسریٰ وصال
سینے سے ناف تک میرے دیکھ ذرا ، سب نشان تیرے ہیں یسریٰ وصال
-
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے -----نوشی گیلانی
ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے ہَوا کو لکھنا جو آ گیا ہے اب اُس کی مرضی کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے بہار کو انتظار لکھ دے سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے وفا کے رستوں پہ چلنے والوں کی قسمتوں میں غبار لکھ دے ہَوا کو لکھنا جو آ گیا ہے ہَوا کی مرضی کہ وصل کے موسم میں ہجر کو حصہ دار لکھ دے محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے شجر کو کم سایہ دار لکھ دے ہَوا کو لکھنا سکھانے والو ہَوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔ نوشی گیلانی
-
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم تصوّر سے دشت امکاں میں پلنگ زاویئے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہرواں تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
-
(کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں...(غزل
غزل کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں اب فراز آؤ چلیں اپنے قبیلے کی طرف شاعری ترک کریں بوجھ اٹھانے لگ جائیں (احمد فراز)
-
انتہائی رومانوی سی شاعری (معذرت کے ساتھ)
انتہائی رومانوی سی شاعری (معذرت کے ساتھ) سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّہم کھنک شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا کانپتے ہونٹوں پہ تھی صرف اِک دُعا کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا پروین شاکر
-
اے چاند یہاں نہ نکلا کر
Shazia Ali changed their profile photo
- نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے .......پروین شاکر
بہت خوب بہت اچھا شعر ہے جی- نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے .......پروین شاکر
نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقیں کامل نہیں ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پر بڑا ،اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شاید "میرا دل ہے نشانے پر" لبوں سے کچھ نہیں کہتا ,نگاہ سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں"مجھ سے محبت ہے" پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر- بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے
بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے پروین شاکر- خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم ، جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لیئے ہونا ضروری ہے کہ تم ایک دن جدائی کے لیئے تیار ہو جاؤ بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو بس اب ایسا کرو تم ، سایہ دیوار ہو جاؤ ابھی پڑھنے کے دن ہیں ، لکھ بھی لینا حال دل اپنا مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ پروین شاکر- خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا
کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی پروین شاکر- نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے
نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقین کامل نہیں لیکن ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر، کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پہ بڑا اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شائد، میرا دل ہے نشانے پر لبوں سے کچھ نہیں کہتا، نظر سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں ،مجھ سے محبّت ہے پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں ، وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر