Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Shazia Ali

Junior Writers
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Shazia Ali

  1. ڈنر سے پہلے میز پر رات کی پلیٹ رکھی ہے اور بارش کا پیالہ اور ہم دونوں ایک برقی چاند کی لو میں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
  2. ڈنر سے پہلے یسریٰ وصال ڈنر سے پہلے میز پر رات کی پلیٹ رکھی ہے اور بارش کا پیالہ اور ہم دونوں ایک برقی چاند کی لو میں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو پی رہے ہیں
  3. سینے سے ناف تک میرے دیکھ ذرا ، سب نشان تیرے ہیں یسریٰ وصال
  4. ہوا کو لکھنا جو آ گیا ہے ہَوا کو لکھنا جو آ گیا ہے اب اُس کی مرضی کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے بہار کو انتظار لکھ دے سفر کی خواہش کو واہموں کے عذاب سے ہمکنار لکھ دے وفا کے رستوں پہ چلنے والوں کی قسمتوں میں غبار لکھ دے ہَوا کو لکھنا جو آ گیا ہے ہَوا کی مرضی کہ وصل کے موسم میں ہجر کو حصہ دار لکھ دے محبتوں میں گزرنے والی رُتوں کو ناپائیدار لکھ دے شجر کو کم سایہ دار لکھ دے ہَوا کو لکھنا سکھانے والو ہَوا کو لکھنا جو آگیا ہے ۔۔ نوشی گیلانی
  5. سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اس کی سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کو ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئنہ تمثال ہے جبیں اس کی جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشم تصوّر سے دشت امکاں میں پلنگ زاویئے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہرواں تمنّا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں احمد فراز
  6. غزل کیوں نہ ہم عہد رفاقت کو بھلانے لگ جائیں شاید اس زخم کو بھرنے میں زمانے لگ جائیں نہیں ایسا بھی کہ اک عمر کی قربت کے نشے ایک دو روز کی رنجش سے ٹھکانے لگ جائیں یہی ناصح جو ہمیں تجھ سے نہ ملنے کو کہیں تجھ کو دیکھیں تو تجھے دیکھنے آنے لگ جائیں ہم کہ ہیں لذت آزار کے مارے ہوئے لوگ چارہ گر آئیں تو زخموں کو چھپانے لگ جائیں ربط کے سینکڑوں حیلے ہیں محبت نہ سہی ہم ترے ساتھ کسی اور بہانے لگ جائیں ساقیا مسجد و مکتب تو نہیں مے خانہ دیکھنا پھر بھی غلط لوگ نہ آنے لگ جائیں قرب اچھا ہے مگر اتنی بھی شدت سے نہ مل یہ نہ ہو تجھ کو مرے روگ پرانے لگ جائیں اب فراز آؤ چلیں اپنے قبیلے کی طرف شاعری ترک کریں بوجھ اٹھانے لگ جائیں (احمد فراز)
  7. انتہائی رومانوی سی شاعری (معذرت کے ساتھ) سبز مدّھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلتی گرم سانسوں کی مہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر،آنچل بھی کُچھ ڈھلکا ہُوا گرمی رخسار سے دہکی ہُوئی ٹھنڈی ہوا نرم زُلفوں سے مُلائم اُنگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی لمحے کا عکس ریشمیں باہوں میں چُوڑی کی کبھی مدّہم کھنک شرمگیں لہجوں میں دھیرے سے کبھی چاہت کی بات دو دلوں کی دھڑکنوں میں گونجتی اِک صدا کانپتے ہونٹوں پہ تھی صرف اِک دُعا کاش یہ لمحے ٹھہر جائیں ،ذرا پروین شاکر
  8. نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقیں کامل نہیں ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پر بڑا ،اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شاید "میرا دل ہے نشانے پر" لبوں سے کچھ نہیں کہتا ,نگاہ سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں"مجھ سے محبت ہے" پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
  9. بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے پروین شاکر
  10. یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہو جاؤ وہیں سے لوٹ جانا تم ، جہاں بے زار ہو جاؤ ملاقاتوں میں وقفہ اس لیئے ہونا ضروری ہے کہ تم ایک دن جدائی کے لیئے تیار ہو جاؤ بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہو جاؤ بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو بس اب ایسا کرو تم ، سایہ دیوار ہو جاؤ ابھی پڑھنے کے دن ہیں ، لکھ بھی لینا حال دل اپنا مگر لکھنا تبھی جب لائق اظہار ہو جاؤ پروین شاکر
  11. کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں میرے چہرے پہ تیرا نام نہ پڑھ لے کوئی پروین شاکر
  12. نگاہوں کے تصادم سے عجب تکرار کرتا ہے یقین کامل نہیں لیکن ،گماں ہے پیار کرتا ہے لرز جاتی ہوں میں یہ سوچ کر، کہیں کافر نہ ہو جاؤں دل اس کی پوجا پہ بڑا اصرار کرتا ہے اسے معلوم ہے شائد، میرا دل ہے نشانے پر لبوں سے کچھ نہیں کہتا، نظر سے وار کرتا ہے میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں ،مجھ سے محبّت ہے پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں ، وہ جب اظہار کرتا ہے پروین شاکر
  13. @hitman @Ramshaz ایک بہت ہی دلچسپ میسج ملا . نظم کے پہلے شعر پر اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز انھوں نے لکھا " آپ کو بستر پہ نیم دراز ہونے کا تصوّر ہی مجھے جنسی طور پر مشتعل کر دیتا ہے . اسی سوچ میں خود لذّتی کی انتہا پا لیتا ہوں" ہی ہی ہی اب بھلا اس کا میں کیا جواب دوں ؟ چلیں جی اگر مجھے بستر پر نیم دراز دیکھنے کا تصّور آپ کو جنسی لذّت دیتا ہے تو بہت ہی اچھی بات ہے بس مجھے بتا دیا کریں کہ کب کب نہانا ہے مجھے ؟ ہی ہی ہی امی جان کی موجودگی میں کہانی لکھنے کا وقت نکالنا بہت ہی مشکل ہو رہا ہے جیسے ہی انکی واپسی ہوتی ہے ، کہانی کا تسلسل شروع ہو جائے گا خوش رہیں
  14. خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا؟ آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟ میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں ’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا! اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی مَیں نے پُوچھا کہ سنو آئے تھے وہ کیسے تھے؟ مُجھ کو پُوچھا تھا؟ مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟ اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنس دی اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا پروین شاکر
  15. شکوہ نہ کر--- گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے ---یہاں غم کے مارے تڑپتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر خزاں اس گلستان میں آتی رہی ہے ---ہوا سوکھے پتے اڑاتی رہی ہے یہاں پھول کھل کے ---بہاروں سے مل کے بچھڑتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر یہاں تیرے اشکوں کی قیمت نہیں ہے ---رحم کرنا دنیا کی عادت نہیں ہے کسی نے نہ دیکھا ---یہاں خون کے آنسو ڈھلکتے رہے شکوہ نہ کر---گلہ نہ کر یہاں کا ہے دستور خاموش رہنا ---جو گزری ہے دل پہ ---کسی سے نہ کہنا یہ دن کاٹ ہنس کے ---یہاں لوگ بس کے اجڑتے رہے شکوہ نہ کرگلہ نہ کر
  16. اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے میں نے کہا تجھے عشق ہو یہ خدا کرے کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں تیری آنکھیں پر نم رہا کریں تو اس کی باتیں کیا کرے تو اس کی باتیں سنا کرے تجھے عشق کی وہ جھڑی لگے تو ملن کی ہر پل دعا کرے تو گلی گلی میں پھرا کرے تو نگر نگر میں صدا کرے تجھے عشق کا پھر یقین ہو اسے تسبیوں میں پڑھا کرے میں کہوں کہ عشق ڈھونگ ہے تو نہیں نہیں کی صدا کرے پروین شاکر

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.