Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 19/02/22 in Posts

  1. قسط نمبر1 ‮‬طوفانی ہواؤں کے شور میں ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی کسی سے محبت ہوئی ؟ وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ، محبتوں کے جلو میں ، میں پیدا ہوا تھا اور انہی کے درمیان مروں گا۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬ اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی ۔ اس نے کہا ، جس محلے میں اس نے ہوش سنبھالا، وہاں کے لوگ غیر معمولی طور پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے۔ ساتھ جڑے گھروں میں رہنے والے ہم تین بچّے ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ میں جنیدجمال ، عروسہ محبوب اور تیسری یا تیسرا راحت شمیم ۔ راحت ہیجڑا تھا ۔ جب وہ پیدا ہوا تو ڈاکٹروں کو لگا وہ مکمل لڑکا نہیں ہے۔( لڑکا اس لیے کہا کہ اس طرح کے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو جن میں لڑکیوں والے خواص ذیادہ پائے جاتے ہیں اتنے کہ کوئی بہت قریبی بھی یہ فرق نہیں کر پائے گا کہ وہ کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے اور دوسرے وہ جن میں لڑکوں والے خاص زیادہ پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک صحت مند لن بھی ہوتا ہے بچپن میں تو بالکل ہی پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کوئی تیسری مخلوق ہے البتہ جونی میں اس میں کچھ لڑکیوں والے خواص آ جاتے ہیں) تو راحت بھی ایسا ہی تھا مطلب لڑکا ذیادہ تھا اور اور لن والا ہیجڑا تھا ۔اور لن بھی کمال صحت مند تھا۔ بچپن میں جب ہم ساتھ کھیلا کرتے تو ہمیں مردوزن کی تفریق کا بھی علم نہ تھا۔ ہم تینوں بہت اچھے ماں باپ کی اولاد تھے ۔میں اور عروسہ ہم عمر تھے۔ راحت ہم سے 2برس چھوٹا تھا۔ جب راحت پیدا ہوا تو میرے اور عروسہ کے والدین نے یہ فیصلہ کیا کہ نئے مہمان کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا جائے گا کہ اس میں کوئی کمی ہے ۔ اپنے اس عہد پر وہ قائم رہے ۔ مجھے اور عروسہ کو خاص طور پر راحت سے مانوس کرایا گیا ۔ ہم دونوں کا ہاتھ پکڑ کر اس نے چلنا سیکھا۔ سکول میں کوئی بچّہ اسے چھیڑتا تو ہم دونوں اس کا دفاع کرتے ۔ ان دنوں دنیا کی ہر خوشی ہمیں میسر تھی لیکن کب تک؟ ایک روز ہمیں بڑا ہونا تھا۔ زمانے کے تلخ حقائق سے نبرد آزماہونا تھا ۔ بچپن کب ختم ہوا اور کب لڑکپن آیا اور پھر کب جونی کی بہار آئی پتا ہی نہ چلا راحت شمیم ایک بے حد سلجھا ہوااور بے حد خوبصورت بندہ تھا ۔ اس کی شخصیت میں نفاست تھی ۔ شروع سے اس نے لڑکوں کے کپڑے پہننا پسند کیے۔ وہ لڑکوں ہی کی طرح بات کرتا ۔ تیسری جنس کے اکثر لوگوں کے برعکس وہ لچکتا نہ ٹھمکتا ۔۱پنے لیے وہ مذکر کا صیغہ استعمال کرتا ۔جوں جوں ہم بڑے ہوتے گئے دنیا اور جنسی کشش کے راز ہم پر کھلتے گئے اور ہم تینوں ایک دوسرے میں وہ جنسی کشش محسوس کرنے لگے جو کہ ایک فطری تقاضا تھااور پھر اس ڈگر میں آگے بڑھنے لگے۔میرے اور عروسہ کے درمیان یہ اٹریکشن تو نیچرل تھی ہم لڑکا لڑکی تھے مگر راحت بھی عروسہ میں دلچسپی لینے لگا تھا اور میرے بغیر بھی نہیں رہ سکتا تھا۔وہ اکثر عروسہ کی طرف وارفتگی سے دیکھتا ہوا پایا جاتا اور جب میں دیکھ لیتا تو وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر شرما جاتا۔تیرہ چودہ برس کی عمر میں جب لڑکپن اور نوجوانی کازمانہ شروع ہوا تو آہستہ آہستہ میرے اور عروسہ کےجسم میں فطرتی تبدیلیاں آگیں اور ہمارے جسمانی خدوخال واضع ہوگے یعنی لڑکے اور لڑکی کی طرح جیسے عام طور پر ہوتا ہے کہ لرکی میں نزاکت آجاتی ہے اور اس کے بوبز اگتے ہیں اور سینہ ابھر آتا ہے اور لڑکے میں داڑھی مونچھ اگنے لگتی ہے ۔مگر راحت تو اور بھی غضب ہو گیا تھا سفید بے داغ ملائم چہرہ درمیانے گلابی ہونٹ درمیانہ قد سمارٹ جسم اور چھوٹی چھاتیاں جو وہ لڑکوں والے کھلے اور ڈھیلے کپڑوں میں چھپائے رکھتا اور دیکھنے والوں کو پتا نہ چلتا کہ وہ ایک ہیجڑا ہے آپ کے لڑکا یا لڑکی دکھنے میں قدرتی جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آپ کے حلیے کا بڑا گہرا عمل دخل ہوتا ہےاور وہ تو بال بھی لڑکوں کی طرح بنواتا تھا اور کپڑے جوتے سب کچھ لڑکوں کی طرح استعمال کرتا عروسہ پابندی سے دوپٹہ لینے لگی ۔ راحت پر ایسی کوئی پابندی عائد نہ تھی ۔ آدھا وقت وہ میری معیت میں گزارتا اور باقی آدھا عروسہ کے ساتھ ۔راحت کو تصاویر بنانے کا شوق تھا ۔ہر وقت وہ عروسہ اور میرے ساتھ تصاویر بناتا رہتا۔ ہم تینوں کے موبائل ان تصاویر سے بھر ے پڑے تھے ۔ وقت گزرتا گیا۔اور پھر ہم تینوں کے درمیان سیکس اور لزت کا وہ جنسی کھیل شروع ہوا جس نے شاید کبھی ختم ہی نہیں ہونا تھا۔ سیکس کا کھیل تو ہمارے درمیان لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا کیونکہ سکولوں میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں اور سیکس کے بارے میں باتیں کرتے ہی رہتے ہیں اور ساتھ دوسرے سننے والے بچوں کا بھی اس طرف رجحان ہو جاتا ہے اور جب سیکس کرنے کا دل کرتا ہے تو ہمیں ہمارے قریب رہنے والے لڑکیاں لونڈے ہی ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں میری نظر بھی عروسہ پر جا ٹکی اور میں اس کے جسم کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے لگا تھا جیسے اس کے چھوٹے چھوٹے نپلز کو کھینچ دینا اور اس کی موٹی اور نرم گاند کی دراڑ میں انگلی گھسا دینا اس چھیڑ چھاڑ سے بظاہر تو وہ غصہ کرتی تھی لیکن وہ اسے انجوائے بھی کرتی تھی اس کا اندازا مجھے اس بات سے ہوا کہ جب میں اس کی گاند میں انگلی کرتا تھا تو کبھی کبھی وہ انجان بنی رہتی تھی جیسے اسے پتا ہی نہ ہو پھر ایک دن ایسا ہوا اس دن راحت سکول نہیں آیا تھا ہم چھٹی کے بعد گھر واپس آرہے تھے ہمارے راستے میں ایک زیر تعمیر عمارت آتی تھی جس پر کسی وجہ سے کام روک دیا گیا تھا میں نے عروسہ سے کہا چلو وہاں چلتے ہیں اور ہم کھیلتے کھیلتے وہاں چلے گئے وہاں ہم بھاگنے دوڑنے لگے اتنے میں عروسہ کو وہ سیڑھیاں نظر آگیں جو نیچے تہہ خانے میں جا رہی تھیں عروسہ نے مجھے آواز دی یہاں آنا یہ دیکھو یہ سیڑھیاں نیچے جا رہی ہیں میں بھی وہاں جا پہنچا ۔ہم یہاں پہلے بھی ایک دو بار آچکے تھے مگر یہاں کوئی تہہ خانہ بھی ہے یہ ہمیں معلوم نہیں تھا خیر ہم نیچے اتر گئے وہاں نیچے گئے تو مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے آج انگلی کے بجائے اپنا لن اسکی گاند کی دراڑ میں پھنسا دیا اور اسے پیچھے سے بانہوں میں بھر لیا ۔ عروسہ نے کہا یہ کیا کر رہے ہو گندے؟؟میں نےکہاکچھ نہیں پیار کر رہا ہوں تمہیں۔عروسہ نے کہاپیارایسے تھوڑی ہوتا ہے؟میں نے کہا تو اور کیسے ہوتا ہے ؟؟؟عروسہ چھوڑو بتاتی ہوں۔ میں نے اس کا گال گیلا کرتے ہوئے کہا ایسے ہی بتا دو۔ یہ کہہ کر میں اس کے اگتے بوبز پر ہاتھ لگانے لگا اب شاید عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا تھا کیونکہ وہ اب بات نہیں کر رہی تھی اور اس کی سانسیں تیز ہوگئی تھیں ۔میں نے پوچھا اچھا لگ رہا ہے تمہیں وہ خاموش رہی میں نے اسے کہا اپنی شلوار زرا نیچے کرو پھر دیکھو کتنا مزہ آتا ہے جلدی سے بولی نہیں نہیں یہ نہیں کرنا میں نے کہا یہ کرنا ہی ہے پلیز پھر وہ خاموش ہو گئی شاید سوچ رہی تھی کرنا چاہیے یا نہیں میں نے اسے سوچنے کا وقت نہ دیا اور خود ہی اسکی شلوار نیچے کھینچ دی اور ایک ہاتھ سے اسے اپنے ساتھ لگائے رکھااور پھر اپنی زپ بھی کھول دی اور ننگا لن اس کی نرم اور گرم گانڈ کی دراڑ میں گھسا دیا ۔ کیا بتاؤں دوستو اس پہلی بار والی اس دراڑ میں وہ مزہ تھا جو آج تک مجھے کسی چوت اور گانڈ میں بھی نہیں ملاکچھ دیر ایسے رہنے کے بعد میں نے اسے کہا تھوڑا سا جھک جاؤ ۔ اس نے کہا نہیں کافی دیر ہو گئی ہے اب واپس چلتے ہیں پلیز میں نے کہا کچھ دیر اور ٹھہرنے سے کچھ نہیں ہوگا میں نے خود اسے تھوڑا جھکانے کی کوشش کی تو وہ جھک گئی بس معمولی سا میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا پہلی بار موقع ملا تھا میں نے جلدی سے تھوک لگائی ٹوپے کو سوراخ کا اندازا لگا کر ٹوپا سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈالنے لگا مگر جا نہیں رہا تھا اندرنیچے کو سلپ کر رہا تھا پھر میں نے پکڑ کر سوراخ پر رکھا اور بنا چھوڑے دھکا لگایا مگر بیچ میں میرا ہاتھ اور اس کے موٹے چوتڑ ہونے کی وجہ سے کامیابی نہ ملی ۔پھر اسے کہا کہ مزید جھک جائے جیسے گھوڑی بنتے ہیں ویسے ہونے کو کہا پہلے تو اس نے انکار کیا اور کہا جو کرنا ہے ایسے ہی جلدی سے کرو ہمیں دیر ہو رہی ہے میں نے کہا یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ ایسے نہیں ہو رہا جلدی کرنے کیلئے تمہیں مزید جھکنا ہوگا پھر وہ جھک گئی بالکل اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل ہوگئی دوستو کیا نظارہ تھا کیا گانڈ تھی صاف شفاف بالکل کنواری چھوٹا سا براؤن سا سوراخ تھا بہت ہی ٹائٹ خیر میں نے سوراخ اور ٹوپے پر مزید تھوک لگائی لن کو سوراخ پر اکھا اور زور کا دھکا لگا دیا عروسہ کی زوردار چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا۔ اس وقت میرا لن چار انچ کا تھا جو کہ ایک انچ تک اندر جا چکا تھا اور عروسہ تڑپ رہی تھی اور میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں نے اسے کمر سے دونوں ہاتھوں سے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔اب مجھے باقی کا لن بھی اندر ڈالنا تھا ۔عروسہ چیخ رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی بہت درد ہورہا ہے پلیز باہر نکالو اور مجھ پر سارا اندر ڈالنے کی دھن سوار تھی پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا میں نے ایک اور دھکا دیا اور تقریباً سارا ہی اندر پہنچا دیا ۔ گانڈ اندر سے بہت گرم اور بہت زیادہ ٹائیٹ تھی میرا لن جیسےجکڑ لیا گیا ہو اور پھر میں ہلے بنا ایسے ہی کافی دیر ڈال کے کھڑا رہا اور آہستہ آہستہ عروسہ کے درد میں کمی آنے لگی اور مجھے بھی کچھ ہوش آنے لگا ہمیں کافی دیر ہو چکی تھی جب ہوش آیا تو پتا چلا پھر میں نے لن نکال کیا کیونکہ پہلی بار تھا ذیادہ پتا نہیں تھا کہ اصل مزہ کچھ اور ہوتا ہے اور پھر ہم کپڑے ٹھیک کر کے گھر کی طرف چل پڑے۔ گھر جاتے ہوئے وہ مجھ سے ناراض دکھائی دے رہی تھی کہنے لگی بہت برے ہو تم ۔ میرا زرا احساس نہیں کیا تمہیں پتا ہے کتنا درد ہوا مجھے پھاڑ دی تم نے میری اپنا اتنا بڑا گھسا دیا ۔میں نے اسے چھیڑنے کیلئے کہا کتنا بڑا ؟؟ کہنے لگی مجھے کیا پتا میرے بازو جتنا ہی ہوگا جتنا درد ہوا ہے مجھے۔میں نے اس سے کیا اچھا بابا سوری اب ایسے منہ تو نا بناؤ۔ایسے ہنسی مذاق کرتے ہم گھر آگئے۔پھر کافی دن تک ہم کچھ نہ کر سکے ایک تو راحت ساتھ ہوتا تھا اوپر سے عروسی بھی درد سے ڈر گئی تھی اب مجھے کچھ کرنے نہیں دے رہی تھی۔میں اسے راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔اسے یقین دلاتا رہا کہ اب نہیں کرونگا درد پھر ایک دن وہ نیم رضا مند ہو گئی اور کہنے لگی اچھا کبھی موقع ملا تو کر لینا۔اب میں اس انتظار میں تھا کہ کبھی راحت چھٹی کرے تو میں موقع سے فائیدہ اٹھاؤں اور آخر کار وہ وقت بھی آگیا ۔ میں سارا دن بے چین رہا کہ کب چھٹی ہو اور ہم اس جگہ جائیں۔پھر چھٹی کا ٹائم بھی ہوگیااور ہم اسی جگہ چلے گئے اس دن میں سب کچھ تسلی سے اور آرام سکون سے کرنا چاہتا تھا۔تہہ خانے میں جاتے ہی میں نے عروسہ کو گلے لگا لیا اور اسے چومنے لگا پھر لپ ٹو لپ کس کیا اس کےلپ چوسے اس کے ننھے ننھے بوبز دبائے اور پھر میرے ہاتھ وہاں جا پہنچے جو مجھے چاہیے تھی گانڈ پر ہاتھ پھیرتا اور دباتا رہا۔اور پھر اسکی شلوار نیچے کر دی اور ننگی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا جس سے عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا اسے کرنٹ سا لگتا میرے ہاتھ پھیرنے سےاور پھر اسے دوسری طرف منہ کر کے جھکنے کو کہا اور وہ جھک گئی اور پھر میرا کام شروع ہوا میں نے کافی سارا تھوک اس کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر لگایا اور انگلی سے اندر کرنے لگا جب سوراخ اچھی طرح چکنا ہو گیا تو لن تو بھی بہت سا تھوک لگا کر اچھے سے چکنا کر دیا سارے لن کو چکنا کرنے کے بعد ٹوپے پر اور تھوک لگایا اور سوراخ پر رکھ دیا اس سے ہم دونوں کو ایک کرنٹ سا لگا اور پھر دباؤ ڈال دیاٹوپا اندر جانے لگا ابھی آدھا بھی نہیں گیا تھا کہ عروسہ کہنے لگی درد ہو رہا ہے میں وہیں رک گیا اور پھر باہر نکال لیا اور پھر سوراخ کو تھوک سے بھر دیا اور اور لن کو بھی اور پھر ڈالنا شروع کیااب آدھے سے زیادہ اندر چلا گیا تھا ایک انچ رہتا تھا میں نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا عروسہ کو درد ہو رہا تھا مگر اتنا زیادہ نہیں جو برداشت نہ کر سکتی پورا لن ٹائیٹ اور نرم گرم گاند میں ڈال کر میں وہیں رک گیا پانچ منٹ ایسے ہی رکا رہا اور جب عروسہ بالکل نارمل ہوگئی تو ہلانا شروع کیا ۔(اب مجھے سکول کے لڑکوں سے کچھ پتا چل گیا تھا کہ لن ڈالنے کے بعد جھٹکے لگائے جاتے ہیں) ایک دو منٹ میں ہی میرے ٹوپے میں عجیب سرور سا ہونے لگا جو آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ میرے لن میں کیا ہو رہا ہے جب برداشت سے باہر ہونے لگا تو میں نے لن نکال لیا ۔ عروسہ نے کہا بس ہوگیا میں نے کہا ہوں ہو گیا اور ہم کپڑے پہن کر گھر کی طرف چل پڑے ۔ میں راستے میں سوچ رہا تھا کہ لن میں کیسا سرور ہورہا تھا جیسے جان نکل جائے گی۔ اتنے میں عروسہ کی آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے نکالا وہ کہہ رہی تھی کیا سوچ رہے ہو میں نے چونکتے ہوئے کہا کچھ نہیں پھر وہ کہنے لگی تمہیں مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت اور تمہیں اس نے کہا بس تھوڑا سا کیونکہ پہلے درد ہو رہا تھابعد میں تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگاتھا۔اتنے میں ہمارا گھر آگیا اور ہم اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ رات کو جب میں اپنے بستر پر لیٹا اس بارے سوچ رہا تھا جیسے ہی میں نے آنکھیں بند کیں اور لن کو مٹھی میں پکڑا مجھے وہی مجھے وہی منظر اور مزہ یاد آنے لگا اور میں آہستہ آہستہ اپنے لن کو مسلنے لگا اور کچھ دیر میں میرے لن میں پھر وہی سرور سا محسوس ہونے لگا جیسے عروسہ کی گانڈ میں اندر باہر کرتے محسوس ہونے لگااور ایسے لگنے لگا جیسے میری جان میرے لن سے نکل جائے گی اور عجیب سا محسوس ہونے لگا میں سوچنے لگا کہ یہ کیا ہے ایسا کیوں ہونے لگتا ہے مجھے کچھ سمجھ نا آیا تو میں سوچتے سوچتے سو گیا۔ اب مجھے ہر وقت عروسہ کی گانڈ میں لن ڈالے رکھنے کا دل کرتا تھا مگر راحت کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نہ تو ہمیں سکول میں کوئی موقع ملتا نہ راستے میں اور نہ ہی گھر پر کیونکہ میں اور عروسہ جب بھی ساتھ ہوتے تھے راحت بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ایسے کچھ دن گزر گئے اور میں سکول کے لڑکوں سے سیکس کی باتیں بھی سنتا رہا اور مجھے پتا چل گیا یہ سرور لن میں کیوں ہوتا ہے اور مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے اب میں باتھ روم میں جب بھی نہانے جاتا تھا تو اپنے لن سے ضرور کھیلتا اور مٹھ مارنے لگتا ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ میرے لن میں پھر سے وہی کیفیت ہونے لگی مگر اس بار میں نے مسلنا بند نہیں کیا اور لگاتارمسلتا رہا اور اچانک میرے لن سے ایک فوارہ سا نکلا اور لن جھٹکے کھاتے ہوئے فوارے چھوڑنے لگا اور اس کے بعد سکون سا آگیا اب مجھے پتا چلا کہ اصل مزہ تو یہ ہوتا ہے مگر میرے لن سے وہ گاڑھی چیز کیا نکلی تھی یقیناً پیشاب تو نہیں تھا پھر مجھے لگا یہی منی ہوگی جس بارے میں لڑکے بات کر رہے تھے کہ لن سے منی نکلتی ہے تو بہت زیادہ مزہ آتا ہے اسکا مطلب یہ تھا کہ میرے لن میں منی بننا شروع ہو چکی تھی اور آج پہلی بار نکلی بھی تھی اور میں جوان ہو رہا تھا۔اس مجھے عروسہ سے اصل مزہ حاصل کرنا تھا اور میں موقہ کی تلاش میں تھا اور پھر آخر کار ایک دن موقع مل ہی گیا ۔ میں اور عروسہ ہماری چھت پر بنے کمرے میں پڑھ رہے تھے راحت ابھی تک نہیں آیا تھا یہ ہمارا معمول تھا کہ ہم ساتھ مل کر پڑھتے تھے اس کمرے میں اور ہوم ورک کرتے تھے ۔ میں نے موقہ کا فائیدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور عروسہ سے کہا مجھے کچھ کرنا ہے عروسہ نے کہا کیا میں نے کہا وہی جو ہم اکیلے میں کرتے ہیں راحت نہیں ہے مجھے جلدی سے کر لینے دو اس نے کہا نہیں راحت کسی بھی وقت آسکتا ہے میں نے کہا پلیز کرنے دو اتنے دن ہوگئے ہیں موقہ ہی نہیں مل رہا تھااس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے اگر راحت آگیا تو؟؟؟ میں نے کہا جلدی سے کر لیتا ہوں میں جلدی سے اٹھا اور دروازہ بند کر لیا اور عروسہ سے کہا جلدی سے شلوار اتارو اس نے اتار دی میں دروازہ بند کر کے مڑا تو اپنی شلوار بھی اتار دی اور آتے ہی ایک بڑا سا تھوک کا گولا عروسہ کی گاند کے سوراخ پر پھینکا اور پھر لن کو بھی گیلا کیا اور سوراخ پر رکھ دیا اور زور سے جھٹکا دیا آدھا لن تو اندر چلا گیا ساتھ ہی عروسہ کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی میں رکا نہیں اور ایک اور جھٹکا دیا اور لن اینڈ تک عروسہ کی تنگ گانڈ میں اتار دیا اور پھر جلدی سے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد میرے لن میں وہی جانا پہچانا سا سرور ہونے لگا اس بار میں نہیں رکا اس بار مجھے پورا مزہ لینا تھا اور اپنی منی سے عروسہ کی گانڈ کو سیراب کرنا تھا کچھ دیر جھٹکے مارنے کے بعد مجھے لگا کہ جیسے میری جان لن سے نکل رہی ہو لن منی چھوڑتے ہوئے عروسہ کی گانڈ میں اپنی پہلی برسات کرنے لگا اس مزے نے تو مجھے پاگل ہی کر دیا میں نڈھال ہوکر عروسہ کے اوپر گر گیا اور تیز تیز سانس لینے لگا عروسہ نے مجھےہلکے سے جنید پکارا تو مجھے ہوش سا آیا میں نے ہوں کیا تو اس نے کہا اگر ہوگیا ہے تو چھوڑ دو مجھے کوئی آجائے گا میں آہستہ سے پیچھے ہٹا اور لن نکال لیا اس نے جلدی سے شلوار اوپر کر لی اور میں نے بھی اور جا کر دروازہ کھول دیا دیکھا تو راحت بھی باہر موجود تھا ایک دم سے میرا رنگ اڑ گیا مجھے لگا کہ میری چوری پکڑی گئی ہےلیکن اس نے کچھ نہیں کہا نارمل کھڑا رہا تو میری جان میں جان آئی اور لگا کہ اسے کچھ پتا نہیں چلا میں نے کہا آؤ راحت ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھےآؤ ہوم ورک کریں اور ہم جلدی سے اندر آگئےاور پھر سٹڈی کرنے لگےاور پھر ہمارا یہ معمول بن گیا ہم راحت سے جلدی آتے اور اس کے آنے سے پہلے اپنی پیاس بجھا لیتےآخر یہ سب کب تک چھپا رہتا ہے راحت کو بھی آخر پتا چل گیا پتا نہیں وہ کب سے ہمیں یہ سب کرتا دیکھ رہا تھا اور ہمیں پتا تک نہیں تھا۔ ایک دن اچانک راحت نے مجھے آدھی چھٹی کے ٹائم کہا کہ مجھے سب پتا ہے جو عروسہ اور تم کرتے ہو چھپ چھپ کر میں حیران ہو گیا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ اس کو کیسے پتا ہے ۔میں نے کہا کیا کرتے ہیں اور تمہیں یہ سب کیسے پتا ہے؟اس نے کہا میں روز دیکھتا ہوں چھپ کر تم جو گندہ کام کرتے ۔ اب اس سے کوئی جھوٹ بولنے کا یا چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اس لیے میں نے اسے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
  2. ڈاکٹر صاحب آپ کی ذہانت،لکھنے کی صلاحیت کیلیے A big Clap for you واقعی میں آپ کوئی عام لکھاری نہیں ہیں بلکہ آپ کی لکھنے کی صلاحیت آج کل کے لکھاریوں سے قدر بہتر اور ہٹ کر ہے ۔۔۔ اتنے سارے کرداروں کا بیک وقت بیان کرنا ، ایسے لگتا ہے کہ سامنے کوئی مووی چل رہی ہے اور ہم مزے سے پاپ کارن لئے اس مووی کو انجوائے کر رہے ہیں اتنے سارے کرداروں کو بیک وقت چلانا اور ان سب کی ڈور کو ایک لگام میں رکھنا HATS OFF TO YOU DR SIR. اگلی اپڈیٹ کا شدت سے انتظار رہے گا آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے یہ کہانی اپنے چاہنے والوں کیلئے مفت میں شائع کر رہے ہیں
  3. دوستو میجر صاحب کے بعد میری دوسری کہانی "لڑے لڑکی اور ہیجڑے کی محبت" پیش خدمت ہے امید ہے پسند آئے گی اپنی رائے اور تجاویز ضرور دیجیے گا۔
  4. Ye story ha aise nujawan ki jo apni har us larki ki madad karna chahta tha jise koi sexual harassment ka nishana bna chuka ha ya bana raha ha.uski koshish or mehnat jis na kai larkiyo ki izzat bachai or kai ujari hui larkiyo ki zindagi sanwar di.Is duran usse kai larkiyo na apna aap pesh aur us na bhi khoob maze kiye. Ye post approved ho gi to pehla part upload kar dn ga.umeed ha aap logo ko story pasand aaye gi.
  5. جانگلوس شوکت صدیقی کا قیام پاکستان کے بعد کا شہرہ آفاق ناول ہے،جو جیل سے فرار دو قیدیوں لالی اور رحیم داد کی داستان پہ مبنی ہے۔اس میں پنجاب میں ہونے والے چوہدراہٹ کے نظام،برائیوں اور مقامی وڈیروں کے ظلم دکھائے گئے ہیں۔
  6. اچھی شروعات ہے - حقیقت قریب ہے - اس عمر ابتدا گانڈ سے ہی ہوتی ہے
  7. 1 like
    Wah wah itni zabardast aur long updates parh k maza aa gaya aise hi likhte raho aur updates jaldi dein plz in updates mein to har tarah ka sex ds diya aap ne aur akhir faisal bhi is game mein shamil ho gaya pari k sath aur mam fazila se lesbian.. Birju se kab chudwao gi g
  8. رائٹر صاحب شروع تو کریں قارئین رائٹر صاحب کو مایوس نہیں کریں گے
  9. میجر صاھب بہت عمدہ سیریز تھی ، شروع سے اخیر تک دلچسپ اور ہر کردار اپنا اپنا رول اچھا ادا کیا - سب سے اچھی بات یہ ہے کہانی کا اختمام ہوا - وہ کہانی کے ہیروئن کے جنسی ضروریات کہ ایک اور میجر کا ساتھ مل گیا
  10. آپ شروع کرو آپ کو بھرہور رسانس ملے گا اچھی سٹوری ھو گی تو تعریف بھی ھو گی بری ھو گی تو تنقید بھی ھو گی آپ آجاو میدان مں
  11. @ashguy7 janab kidr reh gye o ??? Koii khair khabar hi dedo???
  12. 1 like
    Update: 18 Birju ko call k beech he dosri call ati hai jisse Birju pehli call ko kat k dosri call ko sunte huwa g saab karte khada ho jata hai. Birju Sidra ko peechy dhakka de k khara ho jata hai. Sidra Birju sy dhakka kha k paryshan heran reh jati hai. Sidra mann me soch rahi hoti hai k abhi pehle yahi Birju mere jisam k sath khel raha tha or sath he mujhy dhakka de diya hai. Birju call py g g karte hoye bahir chala jata hai or Sidra wahi khare Birju ko jata dekh rahi hoti hai. Sidra ki garam geeli hoie phuddi thanda hona shuru ho jati hai. Sidra neechy apni tangu k dermayan apni phuddi ko dekh k mann me bolti hai…. bechari kitni rona shuru hoie thi or abhi dekho chup ho gaye hai sath he Sidra is baat py has deti hai par Birju k asa karne py Sidra ko Birju pu gussa or dukh zror hota hai. Sidra apni panty ko theek karti hai or pajame ko upper charhati hai. Sidra qameez ko agy sy theek kar k bahir jhankti hai sab clear paa k Sidra b tezz qadmu sy high section ki building ki taraf chal parti hai. Sidra ko sitting hall me Pari rozana kit ra kaam karta dikhaye deta hai. Sidra Pari k pass jati hai….Sidra ko dekh k Pari muskurata hai. Sidra…kese ho Pari….Pari…mam me theek ap kese hai…..Sidra…..me b theek hun…..Sidra….kya baat hai Pari aj bade khush dikh rahe ho….Pari…wo mam aj Principal Mam nahi i is liye….Sidra….oh acha……Sidra….acha Pari aj phir sham ko ghr lgana chakker tum acha…..Pari….g zror mam me zror aun ga. Sidra ka period ka time hota hai to Sidra period lene chali jati hai. Sham ko Sidra ghr me raat ka khana bna k free ho jati hai. Faisal or Pari ka Sidra intazar me hote hai. Sidra k mann me Faisal or Pari k bare soch rahi hoti hai k door bell hoti hai. Sidra darwaza kholti hai to samne Faisal or Pari dono kisi baat py jese has rahe ho khare hote hai. Sidra dono ko ek sath khare hasta dekh k chownk jati hai. Sidra ko samjh nahi aa raha hota k wo Faisal ko pouche k ap kab aye ya Pari ko pouche k tum kab aye. Sidra dono ko muskura k ander ane k liye peechy ho jati hai. Faisal or Pari dono sitting me sofey py beth jate hai. Sidra wapis aa k dono sy pouchte hai……ap loog ek sath…..Faisal…han wo building k samne he ek sath mille hai. Sidra….oo acha acha…….Faisal….juice le k…..Sidra…chownk k bolti hai…oh sorry sorry me abi le k ati hun…..Pari Faisal or Sidra ko dekhte hoye sharma raha hota hai. Faisal Pari ko dekh k muskurata hai. Faisal…..me b Sidra ki help kardu…Faisal uth k Sidra k peechy kitchen me jata hai. Sidra ko juice k pack kholte hoye glass me dalte hoye dekh k Faisal Sidra k peechy khare Sidra ko peechy sy bahu me le leta hai. Sidra apni qamar py chipke Faisal ki bahu ko apne agy pait py mehsoos karte hoye Sidra bolti hai….ufff oh hoo juice to daal lene de or Pari bahir he betha hai…kya kar rahe ho tum… choro mujhy…… Faisal Sidra k mumme ko dbate hoye or Sidra ki garden gaal py kiss karte hoye bolta hai…..bas yaarrr tumhe dekh k raha nahi geya bohat mann kar raha hai. Sidra….acha thori dair ruk jao Pari ko ja lene do…..nahi karu juice gir jaye ga. Faisal juice ka ek glass utha k Sidra k moun k sath lgata hai. Sidra…..ary kya kar rahe ho mene nahi peena…..Sidra apna moun left right karti hai par Faisal juice ka glass Sidra k hontu k sath lgane ki koshish karta hai or isi koshish me juice glass sy gir k Sidra k gale py girta hai. Sidra ki qameez mumme k upper juice girne sy geeli ho jati hai. Sidra ki black brassier uski geeli qameez sy nazar ane lag jati hai. Sidra…..Faisal k hath sy juice ka glass cheenti hai or Faisal ko peechy dhakka de k gusse sy bolti hai….ya kya kar diya tumne mere kapre kharba kar diye hai……ab me kese jaun Pari k samne batmeez kahi k….Faisal….Sidra ko dekh k hasta hai or bahir chala jata hai. Sidra Faisal ko ankhe nikal k gusse sy dekhe ja rahi hoti hai. Sidra mann me soch rahi hoti hai k ab me kya karu kese jaun bahir Pari mujhy asy dekhe ga to kya soche ga….par Pari ne to mujhy dekha huwa hai…..Faisal ne asa q kiya mere sath…usy b pta tha…kya usne jaanbuj k mere sath asa kiya hai…..hmmmm…..Sidra samjh jati hai k Faisal ne uske sath jaan buj k ya kiya hai……Sidra Faisal k asa karne sochne py muskurati hai……Faisal……Sidra le b aao juice……Sidra…..acha acha aa gaye….Sidra tray me juice k glass rakh k bahir chali jati hai. Sidra juice ki tray table py Pari k samne rakh deti hai. Pari nazre utha k juice k glass ko dekhta hai or phir Sidra ko dekhta hai or dhank reh jata hai. Sidra ki qameez geeli hoti hai or neechy sy black brassier Pari ko saaf saaf dikh rahi hoti hai. Faisal Pari ko dekhta hai jo Sidra ki qameez me black brassier ko dekhe ja raha hota hai. Faisal…..Pari lo juice lo…Pari chownk k nazre jhukata hai or sahme hoye juice ka glass pakar leta hai. Sidra ek nazar Pari ko dekhti hai jo chor nazru sy uski qameez me black brassier ko dekh raha hota hai or ek nazar Sidra faisal ko dekhti hai jo Pari ko dekhte hoye muskura raha hota hai. Sidra ko apne mumme py meeta pani girne sy ajeeb sy uljhan feel ho rahi hoti hai. Sidra….acha me kapre change karlu ap loog betho…Faisal Sidra ko muskura k dekhta hai. Pari chup chap nazre jhukaye juice piye ja raha hota hai. Sidra uth k bedroom me ati hai or washroom me kapre change karne chali jati hai. Faisal apne gaalu py hath pherte hoye bolta hai meri dhari kuch zeyadha nahi bhar gaye…..Pari Faisal ki or dekhta hai…..Faisal…..Pari ek kaam to karo…..Pari….g….Faisal….wo jao ander washroom me shaving machine pari hoge wo to zara la do…..Pari juice ka glass rakhte hoye bolta hai….g wo ander washroom me….Faisal….han jao ander sy laa do…..Pari…..bedroom ki taraf dekhte hoye uth khara hota hai or bedroom ki taraf chal parta hai…..bedroom me ane k baad Pari ek nazar pure bedroom ki taraf dekhta hai or washroom ki or qadam bharta hai. Wasroom k daraza adha khula hota hai….Pari washroom k daraze k samne khare ho k daraze ko or kholte he ander chala jata hai. Pari k samne washroom me khari Sidra towel ko geela kar k apne mummu py phair rahi hoti hai. Sidra bas ek pajame me khari hoti hai. Pari Sidra ko dekhta hai to uski luli khari hona shuru kar deti hai. Pari apni khari hoie luli ko pant k upper sy he pakkar leta hai. Sidra ka dekhan to Pari ki or jata hai to usy moun sy cheekh nikalti ruk jati hai. Sidra….Pari tum yaha kya kar rahe ho……Pari Sidra k mumme ko dekhte hoye apni luli ko dbaye jata hai. Sidra Pari ko apni luli dbata dekhte hoye usi taraf bharti hai or bahir jane k liye bolti hai…….Pari Faisal bahir he hai tum bahir jao yaha q kare ho. Sidra Pari k samne usko bahir dakhelne k liye khari hoti hai k Pari hath agy bhara k Sidra k mumma pakkar leta hai. Sidra k rang udd jata hai. Pari k hath sy apna mumma churwa k Sidra bolti hai…..nahi Pari abhi nahi abhi tum bahir jao ya…..Pari….mam please mam thori dair bas mam…. Ya kehte hoye Pari dobara sy Sidra ka mumma pakkar leta hai. Sidra k demag me bahir betha Faisal or samne khara apni luli ko dbata huwa Pari hota hai. Sidra…Pari k is tra minnat karne py chup ho jati hai par bahir betha Faisal ka b usko drr hota hai. Sidra mann me sochti hai k jaldi sy Pari ka pani nikal deti hun….is liye Sidra neechy jhuk Pari ki luli ko pakar leti hai. Sidra k neechy jhukne sy Sidra k mumme neechy jhukte hai jo Pari k samne asani sy Pari Sidra k mumme ko pakkar k dbane lagta hai. Sidra k neechy jhukne sy Sidra k mumme agy peechy uchalte hai. Pari agy bharta hai or Sidra k mumme ki nipple ko moun me le k chusne lag jata hai. Sidra k moun sy aaahhhh siski nikalti hai….Sidra….nahi Pari nahi abhi nahi peechy hattoo…..Sidra Pari k sir k apne mumme sy peechy hattane ki koshish karti hai par Pari to jese Sidra k mumme py jurr sa jata hai. Sidra ko apne mumme ki nipple Pari k moun me khari hoti mehsoos hoti hai. Sidra ko apni phuddi geeli hona shuru mehsoos hoti hai. Sidra din ko school me b adhuri garam reh chukkti thi or ab Pari k mumme chusne py Sidra phir sy garam hona shuru ho jati hai. Sidra washroom k darwaze k side sy bedroom k darwaze py nazar rakhe khari Pari sy mumma chuswate hoye lazzat sy Sidra ankhe band karne lag jati hai. Ek dam sy dono chownk k judh hote hai ek dosre sy jab dono k kanu me Faisal ki unchi gusse sy awaz parti hai…..ya kya ho raha hai…….Sidra Faisal ki ankhu me dekhti hai jahan gussa dikhaye de raha hota hai. Pari Sidra k mumme ko chor k peechy dekhta hai to Faisal dono ko gusse sy dekhe ja raha hota hai. Faisal Pari ko dekhte hoye bolta hai….tumhari itni himmat k mere he ghr me mere he bedroom me khare meri he biwi k sath ya harkat kar rahe ho…..or tum Sidra tumhe sharam nahi i ek chote sy bache k sath kya mene tumhe kabhi peyar nahi kiya….kya mujh me koie kami reh gaye thi jo tum ya sab kar rahi ho… Faisal agy bhar k Pari k kandhu sy pakkar k bahir khechta hai…..tum to bahir aao jitne tum masoom bane hoye ho utne tum masoom to ho he nahi…..Pari ghabrat sy rone wali sakal bna k Faisal k ek dam sy khechne py rona shuru kar deta hai...Sidra ka b haal Pari jesa huwa hota hai….apne khusak gale sy Sidra b washroom sy bahir nikalte hoye bolti hai….nahi Faisal Pari ko chor do usy kuch mat kaho….Faisal gusse sy Sidra ki taraf dekhte hoye bolta hai…..q isy q chor du or tum q iski itni taraf dari kar rahi ho…kya ya mujh sy acha hai….kya iska mujh sy bada hai…..dekho zara kitna bada hai iska….ya keh kar Faisal Pari ki pant ko utarta hai. Sidra b rone wali shakal bnaye hath jor leti hai or ghutnu k ball Faisal k samne beth k maafi magne lag jati hai….Faisal mujhy maaf kardo….galti ho gaye mujh sy……please mujhy maaf kardo….Faisal…..acha to ya hai uski luli jo tumhe mere lun sy b zeyadha passand hai….asa kya hai is luli me jo tumhe bade lun sy zeyadha ya choti luli passand hai. Pari moun latke roye ja raha hota hai or neechy Pari ki luli beth k jurr gaye hoti hai. Faisal maafi chaye tumhe maaf kardu tumko…..Sidra ki ankhu me b aansu aa chuke hote hai….Sidra apne sir ko haan me hilata hai. Faisal chalo theek hai phir ek baat py maafi mille ge tum dono jo pehle kar rahe thy ab mere samne karo...Sidra heran hote hoye Faisal ki gaat ko sun k chownk jati hai. Sidra….par Faisal….Faisal kya par karo jo pehle kar rahe thy ab mere samne…..yahi ek tareeka hai maafi milne ka….Sidra chup ghutnu k bell hath jore neechy bethi hoti hai. Faisal Pari ko rota hua dekh k bolta hai…..lo ya choti luli wala roye ja raha hai…isy chup karwao pilao doodh isye chup ho jaye ga….ya kehte he Faisal Pari Sidra k samne karta hai or Pari k sir ko pakkar k Sidra k mumme py lagata hai. Pari rota huwa apna moun Sidra k mumme py bas sath rakhta hai na zuban bahir nikalta hai or na chumta hai. Sidra Faisal ko dekhti hai jo side py khara dono ko dekh raha hota hai. Sidra mann me sochti hai….ya sab kya hai Faisal tumne ya tareeka rakha hai maafi milne ka….tum chahte to mujhy chor dete ghr sy bahir nikal dete par tumne asa nahi kya….to kya tum ya chahte ho k me Pari k sath nangi ho jaun….acha ab me samjhi ya sab darama hai acha to phir shoq sy dekho ya drama. Sidra apne mumme k neechy hath rakh k mumme ko uthati hai or Pari k moun py lagati hai or bolti hai….Pari chup kar jao chup ho jao…lo chuso mera mumma…doodh pee lo…chup ho jao…beta rote nahi hai….Pari b Sidra ka mumme utha k moun py lagane sy chup kar jata hai par apne hont bas mumme py lagata hai….Sidra….Pari k sir k balu py hath pherte hoye bolti hai…shabash mera bacha chup ho jao rote nahi doodh pee…. Pari Sidra sy milne wali shafqat sy ab sambhal jata hai or Sidra k kehne py Pari moun ko khol Sidra k mumme ki nipple ko moun me le k hole hole sy chusna shuru kar deta hai. Sidra Faisal ki taraf dekhti hai to wo dono ko goor sy maze sy dekhe jata hai. Sidra Faisal ki sari feeling ko samjh chukki hoti hai. Sidra Pari k ankhu sy aansu saaf karte hoye bolti hai…..pee lo mera bacha doodh pee lo…..shabash rote nahi hai…..Sidra ko apne mumme ki nipple khari hoti mehsoos hoti hai…Sidra k moun sy cheekh nikalti hai……Sidra…..nah bache kattate nahi…aram sy chuso na……Faisal Sidra k moun sy cheekh sun k seedha ho k beth k dono ko dekhe jata hai. Pari ki luli ab dobara sy khari hona shuru kar deti hai jisse Pari hath tangu py le ja k apni luli py hath rakh deta hai. Sidra ya mehsoos karti hai to Sidra apna hath b Pari ki luli py rakh deti hai. Sidra ab apni phuddi dobara sy geela hona mehsoos hoti hai. Teesri baar hota hai k Sidra ko apni phuddi geeli hoti mehsoos hoti hai. Sidra apna ek hath neech apne pajame k upper phuddi py rakh deti hai. Sidra halke halke sy apni phuddi py hath pherne lagti hai. Sidra Faisal ko dekhti hai jo apna khara lun hath me pakre dba raha hota hai. Sidra ko ya sab soch k maza ata hai. Sidra ko apni phuddi or pani chorti mehsoos hoti hai. Pari Sidra k dosre mumme py b moun lga k zor sy chusne lag jata hai. Sidra ghutnu k bal bethi hoti to Pari k zor sy moun lga k mumma chusne py Sidra ka balance bigadta hai or Sidra peechy qamar k ball girti lait jati hai. Pari b Sidra k upper he laite Sidra k mumme ko chuse jata hai. Sidra ki ankhe band hone lag jati hai. Sidra k dono mummo ki nipple khari hoye hoti hai. Sidra tange khol k apni phuddi py hath rakh k hath ko tezzi sy harket deti hai. Pari jab dekhta hai k Sidra apna hath apni tangu k dermayan apni phuddi py tezzi sy harket de rahi hai to wo b apna hath Sidra ki phuddi py rakh deta hai. Sidra apni phuddi py Pari ka hath mehsoos karte he Sidra Pari k hath ko pakkar k apni phuddi py upper neechy harket dena shuru kar deti hai. Faisal apne khare lun ko pakkar k upper neechy muth mari ja raha hota hai. Faisal uth khara hota hai or neechy qaleen py leti Sidra k upper lete Pari jo Sidra k mumme chose ja raha hota hai….Faisal Sidra k tangu k dermayan me aa k Sidra k pajame ko elastic band sy pakarta hai or neechy ki or khechta hai. Sidra ankhe khol k dekhti hai to Faisal ko apna pajam utarta dekh k Sidra b apni gaand ko uthati hai or pajama Faisal ko utar k side py rakh deta hai. Faisal neechy beth k Sidra ki panty ko b utar deta hai. Sidra Faisal ko dekh k mann me muskurati hai k Faisal b shamil ho geya hai. Faisal k samne Sidra ki geeli phuddi hoti hai. Faisal Sidra ki geeli phuddi py hath pherta hai. Sidra ki geeli phuddi k dermayan labbo py Faisal apni ungle ko rakh k ander ki or push karta hai or Sidra ki geeli hoti phuddi me Faisal ki ungle chali jati hai. Sidra ankhe band kar k siskki lete hoye tangu ko kholti band karti hai. Pari Faisal ko apne pass mehsoos kar k ek baar to rukta hai par phir sy Sidra k mumme ko chusne lag jata hai. Faisal Pari ko kandhe sy pakkar k khechta hai or apne pass Sidra ki tangu k dermayan me le ata hai. Pari moun band kiye ek chote sy khalone ki trah Faisal k hathu me hota hai. Sidra ankhe khol k Faisal kya kar raha hai ya dekhne lag jati hai. Faisal Pari ki pant utarta hai or Pari ki luli ko khara dekh k khush hota hai. Sidra herangi sy Faisal k chehre py khushi dekh rahi hoti hai. Faisal Pari ki luli ko hath me pakkar k dbata hai mehsoos karta hai. Pari b heran hote hoye Faisal ko ya sab karte dekh raha hota hai. Faisal Pari ki luli ko dekhte hoye apna moun agy karta hai or Pari ko khari luli ko moun me le k chusne lag jata hai. Sidra ankhe phare Faisal ko dekhti hai or mann me sochti hai k Faisal kabhi asa b kar sakta hai wo ek mard hai or dosre mard k sath….Faisal Pari ki luli ko apni thook sy geela kar k moun sy bahir nikal leta hai. Sidra tange khole qaleem py leti hoie hoti hai. Sidra to mann me sochti hai k mujhy to bas apni garam phuddi me kuch chaye, ab wo lun ho ya luli bas jaldi sy do…..Faisal Pari ko Sidra ki tangu k dermayan me khara karta hai or Pari ko ghuntu k baal neechy bethata hai. Pari ki luli Sidra ki phuddi k brabre aa jati hai to Faisal neechy sy Pari ki luli ko pakkar k Sidra ki phuddi k upper rakh k Pari ki bund ko agy ki or push karta hai or Pari ko Sidra k upper dekhailta hai. Pari b ab itna b bacha to nahi hota hai. Pari ab agy peechy hole hole sy hona shuru kar deta hai. Faisal samjhta hai k Pari ko kuch b pta nahi hota par jab Pari ko agy peechy hota dekh k Faisal peechy phir sy chair py beth jata hai or lun ko pakkar k muth lgane lag jata hai. Sidra apni phuddi me ek ungle braber luli ko mehsoos karti hai or apni tange utha k Pari ki gand k gird kar leti hai. Pari agy peechy ab hona shuru kar deta hai. Sidra ko apni phuddi me chaye ek ungle he par mehsoos zaror ho raha hota hai k kuch to hai qk teesri baar tha k Sidra ki phuddi garam geeli hoie thi or ab ja k Sidra ko apni phuddi me kuch jata mehsoos ho raha hota tha. Sidra ankhe band kiye apni phuddi me Pari ki luli ko mehsoos karne lagti hai. Pari hota to ek bacha he or ek bache k jhatke kya ho sakte hai. Faisal chair sy uthta hai or Pari ko peechy hattata hai Pari ki luli py Sidra ki geeli phuddi ka pani laga huwa hota hai. Faisal Sidra ko uthata hai. Sidra ko Faisal bed py charha k usy ghori bnata hai. Sidra b josh me aak jaldi sy ghori ban k bed k kinare py aa jati hai. Faisal bed sy neechy khare hoye apne lun py thook phenkta hai or Sidra ki gaand py ek thappar par k ghori bani hoie Sidra ki phuddi py lun ko rakh ek jhatka marta hai or lun Sidra ki geeli phuddi ki dewaro ko cheerta huwa ander chala jata hai. Sidra ko to maza Pari ki luli b de rahi hoti hai or Faisal ki luli b par phuddi me kuch jata mehsoos usy Faisal ka lun he karwata hai. Faisal Sidra ki gaand ko phario sy pakkar k agy peechy karna shuru kar deta hai. Sidra ankhe band ki Faisal k jhatku sy maze lena shuru kar deti hai. Sidra ghori bani hoie hoti hai or Pari side py khara Sidra k mummu ko dekhe ja raha hota hai. Pari bed py charta hai or Sidra k neechy moun Sidra k mumme k neechy rakh k lait jata hai. Sidra jab Pari ko bed py mummo k neechy laita mehsoos karti hai to Sidra neechy jhukti hai or mumme pari k moun py ja lagte hai. Faisal thori he dair me jhatke marte hoye aaahhh siski lete hoye Sidra ki gaand py apne panje zorr sy dbate hoye apna pani Sidra ki phuddi k ander he nikal deta hai. Faisal farig ho k wapis chair py beth jata hai or Sidra ko ghori bani hoie neechy mummo ko Pari chuste hoye dekhne lag jata hai. Sidra Pari ko luli ko dekhti hai to wo abhi b khari hoie hoti hai. Sidra uth khari hoti hai or Pari ki taangu k dermayan aa k neechy jhukna shuru karti hai. Neechy hath daal k Sidra Pari ki luli ko apni phuddi py set kar k neechy bethti chali jati hai. Sidra jab full nechy beth jati k Pari ki luli usko apni phuddi py mehsoos hoti hai to Sidra Pari ki tangu py hath rakh k apni gaand ko ahista ahista sy upper uthati chali jati hai. Ek bedroom me chair me betha ek husband hota hai jo farig ho k apni he biwi ko gair mard sy chudwata dekh raha hota hai. Bed py ek patla sa 18 saal ka ladka laita hota hai jiske patli c khari hoie luli ek jawan khousburat 27 saal ki shadi shuda aurat ki garam geeli phuddi me hoti hai. Sidra ki phuddi sy Faisal k lun sy nikla huwa pani or Sidra ki garam apni phuddi ka pani mix ho k Pari ki luli py lag raha hota hai jisse Pari ki luli phisal phisal k Sidra ki phuddi k ander bahir ho rahi hoti hai. Sidra Pari ko dekhti hai jo usk uchalte mummo dekh raha hota hai. Sidra neechy Pari k upper jhukti hai or Pari Sidra k mumme ko pakkar k chusne lag jata hai. Sidra samne bethe Faisal ko dekhti hai jo bade shoq maze sy film dekhe ja raha hota hai. Pari peechy hath le jata hai Sidra ki gaand py par Sidra ki gol moti gaand Pari k chote hath me kaha puri pakar me ane wali hoti hai. Sidra apni gaand ko hila hila k Pari ki luli ko apne ander apni garam phuddi me leti hai. Sidra ko apni phuddi me pressure banta mehsoos hota hai. Sidra ko apne jisam me sy zor apni phuddi ki taraf bharta mehsoos hota hai. Sidra ki dhadkan tezz hoti hai. Sidra ko apni phuddi khulti sukarti mehsoos hoti hai. Sidra ankhe band kar leti hai or moun khole siskiya lete hoye Sidra ki phuddi pani chor deti hai. Sidra ki phuddi sy pani nikal k Pari ki luli py lag raha hota hai. Sidra ankhe band kiye lambe lambe saans lete hoye Pari k upper he Sidra girti lait jati hai. Pari ki luli abhi b Sidra ki phuddi k ander he hoti hai. Pari ko apni luli py Sidra ki phuddi sukarti mehsoos hoti hai. Sidra apni phuddi me Pari ki luli ko phulta mehsoos karti hai. Pari apni gaand utha k Sidra ki phuddi me apni luli ko jhatka dene ki koshish karta hai par apne upper Sidra ko lete hone sy Pari jhatka nahi laga pata par phir b Pari ki luli Sidra ki he phuddi me pani chor deti hai. Sidra b apni phuddi me Pari ki luli ka pani churta mehsoos kar leti hai. Faisal…..chalo bhai show khatm ho geya….Janu bohat bhuk lag gaye hai khana lgao….Sidra Faisal ko bahir jata dekhti hai. Sidra Pari sy uth khari hoti hai…Pari b Sidra ko dekh k uth khara hota hai. Pari or Sidra dono muskurate hai…dono kapre pehan k Faisal k pass bahir chale jate hai. 3eeno khana khate hai. Khane k duran sabhi normal rehte hai jese kuch huwab na ho. Pari khana kha k chala jata hai.
  13. کہانی بہت ہی اچھی چل رہی ہے ۔ کہانی ہر طرح سے بیلنس ہے۔ بس گزارش کرنی تھی کہ اپڈیٹ ذرہ جلدی کر دیا کریں۔
  14. مولوی صاحب کی سہاگ رات کا شدت سے انتظار ہے
  15. بہت عرصے بعد کوئی کہانی اچھی لگی تھی اس کو بیچ راہ میں چھوڑ جانا زیادتی ہو گی. آپ واپس آئیں اور اس کو مکمل کریں. اگر یہ محترم مکمل نہیں کر سکتے تو کوئی دوسرا ممبر یا ایڈمن اس کی ذمہ داری لے لیں
  16. دوست آپ کی کہانی پڑھی اور کل سے ابھی تک حیران و پریشان ہوں ناراض نہ ہوں تو ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں ۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو
  17. ناہید جلدی سے ٹیبل سے نیچے اُتری تو اُترتے ہی ٹیبل سمیت نیچے گر گئی ، میں نے جلدی سے آگے ہو کر ناہید کو اور کھانے کی چیزیں اُٹھائی اور ناہید کو کھرا کیا ناہید کی انکھوں میں سے آنسو تھے اور برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ ہو اکیا ہے ، ناہید:۔ یار مرد ہوتے ہی بڑے وہ ہیں میں:۔ ناہید ہو کیا ہے ناہید:۔ تیرے لن کی ٹوپی نے گانڈ پھاڑ دی ہے اور کیا ہوا ہے میں:۔ کیا مطلب ناہید مجھے تو نہیں پتا اتنے میں دروازہ زوور سے دوبارہ بجا تو ناہید بہت ہی مشکل سے کمرے سے نکلی یقین جانیں وہ اپنی دونوں پاوں اٹھا اٹھا کے چل رہی تھی اگر یقین جانیں اس حالت میں اُس کا سسر اُس کو دیکھ لیتا تو یقینا اُس کو پتہ چل جانا تھا کہ کیا ہوا ہے اس کے ساتھ۔ جیسے ہی ناہید کمرے سے باہر نکلی میں آرام سے دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور باہر کی آواز سننے لگا ، میرا ابھی خیال تھا کہ باہر اُس کا سسر ہو گا ۔ لیکن یہ میری خام خیالی ہی تھی، باہر سے کسی عورت کی آواز آ رہی تھی جو کہ شاید کچھ چیز لینے آئی تھی، خیر میں نے سکھ کی سانس لی اور آرام سے بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا ، اور اپنے اوپر کمبل لے لیا ، تھوڑی دیر کے بعد ناہید آئی تو اُس نے اپنا منہ دھویا ہوا تھا ، آ کر اُس نے مجھے کھانے کے لیے چیزیں دی، میں:۔ ناہید چپ کیو ں ہو ناہید:۔ خرم آپکو نہیں پتہ میں :۔ ناہید قسم سے میں نے جان کر نہیں کیا بس پتہ نہیں چلا اگر جان کر کرتا تو تھوک نہ لگاتا اور جب ایک دفعہ گانڈ میں چلا جاتا تو یقین کرو پھر فارغ بھی وہیں ہونا تھا ، لیکن میں حیران ہوں کہ وہاں چلا کیسے گیا ہے، نہ تھوک لگائی تھی اور نہ ہی کوئی اور کام ناہید:۔ نہیں اس میں میری غلطی ہے کیوں کہ آپ نے مزہ ہی اتنا دے دیا تھا کہ نا پوچھو جب آپ مجھے گھوڑی بنا کے چود رہے تھے تو اگے سے میں نے اپنے ہاتھ کو پھدی کے دانے پر رکھ کر رگڑ رہی تھی تو اس حساب سے مجھے جب مزہ آتا تھا تو میں اوپر نیچے ہوتی تھی ، اس وجہ سے ایک دفعہ نکل کے یاد ہے آپ کو کہ گانڈ کے سوراخ کے ٹچ ہو کر چلا گیا تھا شاید اُس ٹائم گانڈ کے سوراخ کو نرم کر گیا تھا بعد میں بس ایک دفعہ سخت قسم کی چیز ہی چاہیے تھی اور خرم آپ کا لن تو شاندار ہے، جتنا یہ سخت ہے بس سٹیل کے کیل والی مثال ہے آپ کے لن کی نہ مڑتا ہے اور نہ ہی ٹیرا ہوتا ہے آپ کا لن( اور یہ سچ ہے ) ناہید:۔ خرم ایک بات بتاو سچ بتانا پلیز آب کچھ بھی ہمارے درمیان نہیں رہا جو چھپانے والا ہو میں:۔ پوچھو ناہید:۔ سچ بتاو تم کوئی میڈیسن کھاتے ہو، دیکھو میں بہت دفعہ دیکھ چکی ہو ں آپ کو کہ اپ کا لن جب فارغ ہوتا ہے تو بھی یہ اُسی طرح کم از کم ایک سے دو منٹ تک کھڑا رہتا ہے ، میں نہیں مانتی کہ آپ دوائی نہ کھاتے ہوں ، یار میں شادی شدہ ہوں، ایک بچے کی ماں ہوں ، میری آپ نے بس کروا دی ہے یقین کرو جس سے بھی آپ کی شادی ہو گی میں ایک دفعہ اُس کو دیکھوں گی لازمی ، میں:۔ ناہید میں کبھی شادی نہیں کروں گا (اور یہ سچ ہے میں نے آج تک شادی نہیں کی) ناہید:۔ خرم کیا وجہ ہے بتاو میں:۔ ناہید وعد ہ ہے آپ سے میں آپکو لازمی بتاوں گا لیکن ابھی نہیں ناہید:۔ اچھا میں:۔ کون آیا تھا ناہید:۔وہ سامنے والی آئی تھی ، دہی لینے کے لیے میں:۔ میرے بارے میں پوچھا ناہید:۔ ہاں پوچھا ہے کہ کون ہے میں نے کہا کہ رشتہ دار ہیں اور ساس کو پوچھنے کے لیے آئے ہیں میں:۔ اچھا آپ لوگ یقین کریں کہ ناہید نیچےبیٹھ نہیں سکتی تھی، میں:۔ ناہید یا ر مجھے معا ف کر دو پلیز مجھے معاف کر دو، مجھے نہی پتہ تھا کہ میری مستی سے آپ کو اتنا دکھ پہنچے گا خیر ہم لوگ ابھی باتیں ہی کر رہے تھے تو باہر سے دروازہ بجا تو ناہید نے کہا کہ آپ لیٹ جاو میرے سسر ہو ں گے اگر وہ ادھر آئے تو میں اُن کو ساس کے پاس لے جاوں گی آپ کو ٹائم مل جائے گا ، داہیں بایں ہونے کا آپ آرام سے الماری کے پیچھے چلے جانا میں:۔ ٹھیک ہے ناہید ناہید چلی گئِ اور میں آرام سے بستر کے اوپر سو گیا یقین جانیں میں بالکل ننگا تھا ، مجھے پتہ ہی نہیں چلا اور مجھے نیند آ گئی ایک تو رات کا جاگا ہو ا تھا اوپر سے آج سار دن کی تھکاوٹ اور یہاں آتے ہیں دو شٹل لگ گئے بس نہ ہی پوچھو کہ میری کیا حالت تھی ، پھر پتہ نہیں رات کا کون سا ٹائم تھا، مجھے محسوس ہوا کہ میرے ساتھ بھی کوئی سویا ہو ا ہے جب میں نے آنکھیں کھولی تو میرے پیچھے ناہید سوئی ہوئی تھی ، اور وہ جاگ رہی تھی ، ناہید بالکل ننگی تھی اور اُس نے مجھے کمرے سےپکڑا ہوا تھا یعنی کہ حالت یہ تھی کہ ناہید کی چیسٹ میرے کمرے کے ساتھ لگی ہوئی تھی ، ناہید کی پھدی میری گانڈ کے ساتھ ٹچ ہو رہی تھی اور ناہید نے اپنے ایک بازو پر مجھے سولایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے آگے سے میرا لن پکڑا ہو اتھا اور اُسے سہلا رہی تھی ، اُس کے اس طرح کرن سے میں اُٹھ گیا تھا، خیر اُس وقت تک ناہید کے میرے لن کے ساتھ حرکت کی وجہ سے لن تھوڑا سا کھڑا ہو گیا تھا، میں نے ناہید کی طرف منہ کیا اور اُس کے لپس کو چوم لیا ، اور کہا ناہید سور ی یار میں بہت شرمندہ ہوں ، ناہید نے کہا بس جو نا تھا ہو گیا ، اب اٹھو اور دیکھو کھانا لے کرآئی ہوں سامنے پڑا ہو ا ہے اپ لوگ یقین نہیں کریں گے ناہید میری اس طرح خدمت کر رہی تھی کہ جیسے میں کوئی خاص چیز ہوں اس کے لیے ۔ میں:۔ ناہید کیا بات ہے یار اتنی خدمت کیوں کر رہی ہو۔ ناہید:۔ یار اپکو یقین نہیں آئے گا بس اپ کی خدمت کرنا بہت اچھا لگتا ہے مجھے اب کیوں کہ بس آپ نے مجھے اپنا بنا لیا ہے ۔ میں:۔ ناہید ایک بات کہوں ناہید:۔ جی بولو میں:۔ ناہید جب تک سانس ہے میں اپ کو نہیں چھوڑوں گا ، اور میرا یہ وعدہ یہ وقت آپ یاد رکھیے گا ناہید:۔ آپ ایسا نہ بھی کہیں تو یقین کریں میں کبھی بھی آپ کو مجبور نہیں کروں گی کسی بھی کام کے لیے مجھے پتہ ہے کہ ہمار ا معاشرہ کیسا ہے عورت جب کسی مردکو اپنے گھر میں بلوا کر سیکس کر لیتی ہے تو یقین کریں ، دنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے وہ مرد کبھی بھی اُس عورت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا ، حالانکہ یہ سچ ہے کہ جب تک عورت پھدی نہیں دیتی وہ مرد اُس کے پاو ں چاٹنے کے لیے بھی راضی ہوتا ہے لیکن جس وقت وہ عورت پیار کے لالچ میں، یا دل کے ہاتھو ں مجبور ہو کر اپنی عزت اُس کو دے دیتی ہے تو یقین کریں کہ وہ مرد اُس عورت کو بازار کی ایک رنڈی سے زیادہ وقعت نہیں دیتا ، اور خرم یہ سچ ہے اور میں اس سچ کو مانتی بھی ہوں اور اس بات کے لیے تیار بھی ہوں،۔ میں:۔ ناہید میں ایسا انسان نہیں ہوں ، مانتا ہوں کہ آپ کی ایک ایک بات سچ پر مبنی ہے لیکن میں ایسا نہیں ہوں اور یہ وقت بتائے گا (آپ لو گ یقین کریں آج تک ہم دونوں اس بات پر قائم ہیں) اُس کی سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ میں نے آج تک ناہید کو جس کام سے منع کر دیا دنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے ناہید نے کبھی بھی اُس کام کو نہیں کیا آگے کہانی میں اس کابھی ذکر آجائے گا ، اور جس چیز کا ناہید نے کبھی مجھے کہ دیا کہ خرم مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی وہ میں نے نہیں کی اور اس کی وجہ سے آج تک ہم دونوں قائم ہیں اور پہلے ہی دن کی طرح ایک دوسرے پر مرتے ہیں ۔ آگے آپکی مرضی آپ لوگ یقین کرو یہ نہ کرو۔ ناہید:۔ خرم یار آج سار دن لگایا ہے آپ کے لیے کھانا بنا یا ہے چلو جلدی چلو میں:۔ نیچے اتر تو میں بالکل ننگا تھا، میں نے ناہید کو کہا کہ کچھ پہننے کو دو اُس نے مجھے ایک ٹریک سوٹ کھڑا تھا وہ دے دیا ۔میں نے وہ پہن لیا اور ناہید نے کمرے کے ایک کونے میں میرے ہاتھ دھلوائے اور ہم دونوں کھانا کھانے بیٹھ گئے ، کیا مزے کا کھانا تھا، میں آج تک اُس کھانے کو نہیں بھولا کھانے کے بعد ناہید نے اچھا سے مجھے لیمن گراس پلایا اور ہم دونو ں بیڈ پر آگئے ناہید:۔ خرم ایک بات کہوں میں:۔ جی بولو ناہید:۔ میری ایک بات مانو گے میں:۔ یار بول بھی دیا کرو ناہید:۔ زندگی میں کبھی بھی بیڈ پر میرے ساتھ سوتے ہوئے کپڑے نہ پہن کر سونا جب بھی کمرے میں ہونا کپڑے پہننے کی اجازت دوں گی لیکن جب بیڈ پر آو گے تو کپڑے نہیں ہوں گے میں:۔ وہ کیوں ناہید:۔ بتاوں گئی پھر کسی دن میں:۔ چپ کر کے نیچے اترا ور ننگا ہو کر اوپر آ گیا ناہید:۔ اس دوران ناہید بھی ننگی ہو کر آگئی تھی میں نے آتے ہی ناہید کا ایک بازہ اپنے سر کے نیچے رکھا اور دوسرا ہاتھ اُس کو لن پر رکھا کہ اب اس کے ساتھ کھیلتی رہو اور میں نے آرام سے ناہید کے چیسٹ پر منہ رکھ دیا اور اُس کو چوسنا شرو ع کر دیا، ہماری پوزیشن کچھ اس طرح تھی ، میں اپنی بائیں والی سائیڈ پر سویا ہو تھا اور ناہید اپنی میری طرف منہ کر کے سوئی ہوئی تھی ، یعنی کہ میرا لن اور ناہید کی پھدی دونوں امنے سامنے تھی، جیسے جیسے میں ناہید کی چیسٹ کو چوستا جا رہا تھا ، ناہید کی گرمی بڑھتی جا رہی تھی اور ناہید پاگل ہونا شروع ہو گئی تھی ، میں ناہید کی چیسٹ سے منہ پیچھے کیا اور ناہید کو کہا میں:۔ناہید ایک بات بتا و اُس وقت میرے لن کی ٹوپی کے ساتھ تم کیا کر رہی تھی نہ تو پورا لن لے رہی تھی اور مزہ بھی آپکو اتنا آ رہا تھا کہ نہ پوچھو ناہید:۔ خرم یقین کرو کہ سب سے زیادہ آگ آپ کے لن کی ٹوپی لگاتی ہے کیونکہ ایک تو یہ نوک دار ہے اور شرو ع میں اپنی جگہ بناتی ہے جیسے جیسے تم آگے ہوتے ہو تب محسوس ہوتا کہ کہ کوئی چیز اندر جا رہی ہے یعنی کہ یار بے ڈھنگی قسم کی نہیں ہے کہ بہت موٹی ہو ،یا وغیرہ وغیرہ، تم جیسے ہی پھدی پر رکھتے ہو تو کبھی تم نے اندازہ لگایا ہے کہ کیا کہ جیسے ہی یہ پھدی کے اوپر جاتی ہے تو خود بخود اندر جانا کیوں سٹارٹ ہو جاتی ہے تم زور نہ بھی لگاو تو میں:۔ نہیں تو کبھی انداز ہ نہیں لگایا ناہید:۔ یہی تو اپ کو پتہ نہیں ہے نا اس دوران ناہید نے میرا لن مسل مسل کر کھڑا کر دیا تھا ، ناہید:. یار ذر ا اوپر آو نہ میں:۔ نہیں ناہید ایسے ہی کرواو ناہید:۔ ایسے کیسے یار اس سائیڈ سے کیسے اندر جائے گا میں:۔ دیکھو میں ڈالتا ہوں ناہید:۔ جلدی کرو پھر میں:۔ میں نے آرام سے ناہید کی بائیں والی ٹانگ اپنی ہپ کے اور کی اور اُس کی نیچے والی ٹانگ وہی پر رہنے دی یعنی کہ ایک ٹانگ اور کر دی اور دوسری نیچے ہی رہنے دی اور میں ان دونوں ٹانگوں کے درمیان آ گیا ، یا پھر اپ یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ پوزیشن اس طرح کی تھی کہ اگر عورت کو اپنے اوپر لن پر بٹھا لیں اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ایک سائیڈ پر ہو کر سو جائیں وہ پوزیشن تھی ۔ اب میرے سامنے ناہید کی چیسٹ تھی اور لن اُس کی پھدی کے اوپر تھا ، میں نے ایک دفعہ پھدی کو دیکھا اور اوپر سے ناہید کے ممے کے نپل کو پکڑ لیا اورمیں نے ناہید کے دونوں مموں کے نپلز پکڑے ہوئے (ایک بات یہاں پر بتانا پسند کروں گا کہ اگر بندے کا لن تگڑا قسم کا ہو اور بندے کے اندر خود بھی پاورہو تو لن کو ہاتھ سے پکڑا کر پھدی میں ڈالنے کی ضرورت نہیں پیش آتی بندے کا لن خود ہی جگہ ڈھونڈ لیتا ہے )میری بھی کوئی یہی حالت تھی میں:۔ ناہید ڈال دوں ناہید:۔ ہاں نے ڈالو میں نے اپنا سارا زور لگا کے بنا اُس کی پھدی پر رحم کھائے پور لن اندر دبا دیا یقین جانیں ایک دفعہ تو ناہید کی آنکھیں کھل گئی اور اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گی، لیکن میں اپنے کام پر لگا رہا اُسی زور و شور سے میرا ہر جھٹکا ناہید کے ممے کو اوپر نیچے اچھالتا تھا اور ناہید کی سانس اور سسکیاں بہت مزے کی تھی اور وہ میری کمر پر بڑے ہی زور سے اپنے ناخن مار رہی تھی ، خرم یار میرے لپس میں لپس دو پلیز اور پلیز لن پھدی سے نہ نکلے پلیز جلد ی دو ، ناہید پاگلو کی طرح میرے لپس کو چاٹنا شروع ہو گئی ، خرم زبان دو اپنی زبان دو جلدی کرو میں نے اپنی زبان ناہید کے منہ ڈال دی اور ناہید بہت ہی مزے سے میری زبان چوس رہی تھی اور نیچے سے اپنی پھدی کو اوپر نیچے کر کے مزے لے رہی تھی ہائے خرم بڑے مزے کا لن ہے تمھارا ، ہائے میں مر جاوں خرم ساری زندگی مجھے چودتے رہنا میں کچھ بھی نہیں مانگوں گی یہی باتیں کر کر کے ناہید نے اور پاگلوں کی طرح مجھے چاٹنا شروع کر دیا اور مجھے ایسے محسوس ہوا کہ ناہید فارغ ہونے والی ہے میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ناہید نے اپنے دونوںہاتھو ں سے مجھے پکڑ لیا اور مجھے ایسے محسوس ہو ا کہ اُس کی پھدی میرے لن کو جکڑ رہی ہے اور ناہید نے بہت ہی زور سے میری کمر پر اپنے ناخن مارے اور فارغ ہو کر لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ، ناہید کا ماتھا ناہید کے پیسنے سے چمک رہا تھا ، جبکہ میں جھٹکے مار مار کے تھک گیا تو میں نے ناہید کو کہا کہ ناہید تھوڑا ریسٹ کرتا ہوں ابھی فارغ نہیں ہوا۔ ناہید نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں:۔ ناہید ایک بات بتاو ناہید:۔ جی پوچھو میں:۔آپ اور میں اتنے جلدی نزدیک کیوں آ گئے ہیں ناہید:۔ خرم آپ کی جو سب سے اچھی عادت ہے وہ ہے کیرنگ کرنا آپ نے مجھے اپنا ٹائم بھی دیا اور ساتھ ساتھ میری کئیر بھی کی مجھے اچھا بھی سمجھایا اور برا بھی یقین کریں اور یہ آپ نے کم سے کم پانچ سے چھ مہینے تک کرتے رہے میں:۔ نہیں ناہید ایسی بات نہیں ہے میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا میں ہوں ہی ایسا ناہید:۔ بس جو بھی ہو اچھے انسان ہو بس اسی وجہ سے میں اپ کے نزدیک آ گئی میں:۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ پوری زندگی ہم دونو ں اسی طرح رہیں (اور یہ بات میں نے دل سےکہی تھی) ناہید:۔ خرم میں کچھ وعدے کرتی ہوں آپ سے میں اب مر تو سکتی ہوں لیکن کسی بھی دوسرے مرد کا سوچ بھی نہیں سکتی میں اب اپنے خاوند کے پاس نہیں جاوں گی آپ سے کبھی بھی شادی کی ڈیمانڈ نہیں کروں گی میں:۔ کیوں ناہید یہ تین وعدے کیوں کیے آپ نے ناہید:۔ خرم زندگی رہی تو میں اپ کو بتا دوں گی اور یہ بات کر کے ناہید کی آنکھو ں میں آنسو آ گئے میں:۔ ناہید ناہید کیوں رو رہی ہو ناہید:۔ بس اپنی قسمت پر رو رہی ہوں ابھی پلیز کچھ بھی نہ پوچھیں زندگی رہی تو بتاتی رہوں گی میں:۔ اچھا اور بھی بہت ساری ہم لوگ باتیں کرتے رہے باتیں کرتے کرتے مجھے پتہ ہی نہ چلا میں سو گیا رات کو پتہ نہیں دو بجے کے قریب پتہ نہیں کس وجہ سے میری انکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ ناہید میرے ساتھ نہیں تھی ، اورکمرے میں بھی نہیں تھی، میں بڑا حیران ہو ا کہ یہ رات کو کہا گئی ہے ۔ خیر میں نے اپنی آنکھیں تھوڑی سی بند کر کے دیکھتا رہا کہ ناہید کدھر سے واپس آتی ہے تھوڑی دیر کے بعد ناہید واپس آئی تو اُس کے ہاتھ میں میرے کپڑے تھے جو کہ اُس نے دھلائی کر کے سوکھا کے لائی تھی اور شاید خود بھی نہا کر آئی تھی ، میں بڑا حیران ہو کہ یہ کیا چکر ہے رات کو کپڑے دھلائی بھی کر لی اور سوکھا بھی لیے اور گھر میں کسی نے بھی نہیں پوچھا ، خیر ابھی انہیں سوچوں میں میں گم تھا ، ناہید نے میرے وہ تمام کپڑے استری کیے ، میرے بوٹ پالش کیے اور یہ سب کام کرنے کے بعد وہ دوبارہ باہر گئی اور پھر واپس آئی اور آ کر کمرے کے دروازے کو بند کرکے نماز پڑھنی شروع کر دی ، یقین کریں وہ دن مجھے کبھی بھی نہیں بھولے گا کہ ناہید کو جب نماز پڑھتے دیکھا ، نمازپڑھنے کے بعد ناہید میرے پاس آئی اور بیڈ کے ساتھ سائیڈ پر آرام سے اُس نے اپنے کپڑے اتار ے اور بالکل ننگی ہو کر وہ میرے ساتھ سو گئی میں:۔ ناہید کہاں گئے تھی ناہید:۔ آپ کب جاگے میں:۔ ناہید جب اپ کمرے میں آئی تھی تب جاگا تھا ناہید:۔ یار بس دل کیا صبح آپ نے جانا ہے تو آپ کے کپڑے استری کر دوں، بوٹ پالش کر دوں، تاکہ صبح آپ جب جائیں تو کپڑے میلے نہ ہوں میں:۔ ناہید اس کی کیا ضرورت تھی ناہید:۔ نہیں خرم یہ میرا فرض بھی ہے اور حق بھی اور یقین کریں میں نے دل سےکیے ہیں سارے کام میں:۔ ناہید ابھی اپ نماز پڑھ کر آئی ہو ناہید:۔ ہاں اپنے گناہوں کی معافی بھی تو مانگنی ہوتی ہے نہ میں:۔ نماز کے بعد اب آپ آگئی ہو اور سارے کے سارے کپڑے اتار کر میرے ساتھ سو گئی ہو یہ بات سمجھ نہیں آئی ناہید:۔ خرم دل سے آپ کو سب کچھ مان لیا ہے تو ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی تو یاد رکھنا ہے نا ناہید:۔ خرم ایک بات مانوگے میں:۔ جی بولو ناہید:۔ اس دفعہ ٹائم تھوڑا رہ گیا ہے لیکن یاد رکھنا کم از کم بہت زیاد ہ ٹائم تک آپکالن اندر رہنا چاہِے میرے چاہے کچھ بھی ہو جائے میں:۔ اچھا جیسے کہو گے ناہید نے اتنی دیر میں میرے لن کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا کبھی میرے نیچے بالز کو ہاتھ لگائے تو یقین کریں بہت مزہ آتا تھا، جب بالز کو ہاتھ لگاتی تھی تو میں مزے سے پاگل ہو کر ناہید کی گردن کو چوسنا شروع کر دیتا اتنے میں ناہید نے کہا کہ خرم اب تم نے کچھ نہیں کرنا سارے کا سارا کام میں کروں گی ناہید نے یہ بات کر کے آرام سے مجھے سیدھا لٹا دیا اور میرے پاوں کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئی اور آرام سے میرے لن کو اپنے بائیں ہاتھ سے لن کی جڑ کو پکڑا اور بالکل کھڑا کر دیا اور لن کی ٹوپی کو آرام سے پھدی پر ایڈجسٹ کر کے اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا یعنی کہ وہ سارے کا سارے کام اس طرح طریقے سے کر رہی تھی کہ صرف اور صرف لن کی ٹوپی ہی جا رہی تھی بس جیسے ہی لن کی ٹوپی جاتی وہ اوپر اٹھ جاتی میں جب بالکل بے بس ہو گیا میں نے آرام سے ناہید کی کمر کے اوپر ہاتھ رکھا اور اُس کی گانڈ کو پکڑ کر اپنے ہاتھوں سے اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا یقین جانیں بہت ہی مزہ آ رہا تھا ، اچانک ناہیدنے بہت ہی زور کے ساتھ میرا پورے کا پور ا لن اپنی پھدی میں لے لیے اور لن کی بالز کو ہاتھ سے ہلانا شروع کر دیا یعنی کہ اس کی یہ حالت تھی پورے کا پورے آٹھ انچ سے بھی زیادہ کا لن اپنی پھدی میں لیا ہو تھا اور آگے سے میرے پاوں کے انگوٹھے کو چوس رہی تھی اور پیچھے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کر رہی تھی ، میں تو مزے سے پاگل ہو رہا تھا مجھے بہت ہی چھوٹا سا ناہید کی گانڈ کا سوراخ نظر آ رہا تھا ، میں نے اچانک اپنے انگوٹھے کو ناہید کی گانڈ کے سوراخ کے کناروں پر گھمانا شروع کر دیا اور ناہید تو مزے سے بہت ہی پاگل ہو رہی تھی کہ ناہید نے اپنے ہاتھ پر تھوڑی سی تھوک لگائی اور اپنی گانڈ کے سوراخ پر لگا دی اور مجھے اشارہ کیا کہ خرم تھوڑا سا انگوٹھا اندر کر و نہ مزہ آ رہا ہے جیسے بہت ہی سکون مل رہا ہو مجھے ، میں نے آرام سے ناہید کی گانڈ کے سوراخ میں اپنا انگوٹھا تھوڑا تھوڑا اندر کرنا شروع کر دیا تو ناہید نے بھی اپنی گانڈ اوپر نیچے کرنا شروع کر دی، کہ اچانک ہی ناہید نے مجھے کہا کہ خرم میں فارغ ہونے والی ہو ں ، اور ناہید نے مزید زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے اور پھر آرام سے ہی میرے لن کے اوپر فارغ ہو گئی ، ناہید کے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ میرے لن کے اوپر ہی بیٹھی رہی ، تھوڑی دیر کے بعد ناہید نے کہا خرم آپ کو میں نے کہا تھا نہ کہ لن پھدی میں ہی رکھنا ہے میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کے جانے سے دس منٹ پہلے اپ جتنا مرضی اور جس طرح مرضی مجھے چود لینا لیکن ابھی تھوڑی دیر پھدی میں لن رہنے دو میں:۔ یار ایسے کیسے ہو گا ناہید:۔ میں بتاتی ہوں ناہید:۔ دیکھو جب میں گھوڑی بنوں گی تو تم نے اپنے پورے کا پورا لن میری پھدی میں ڈال دینا ہے ، ایک انچ بھی لن پھدی سے باہر نہیں ہونا چاہیے ، پھر میں آپ کو بتاوں گی کہ کرنا کیا ہے ناہید:۔ خرم تم کتنی دیر تک اپنا لن پھدی میں ڈال سکتے ہو میں:۔ ناہید جب تک تم مجھے فارغ ہونے کا نہیں کہوگی میں:۔ ناہید ایک ایشو ہے اس چیز میں ناہید:۔ وہ کیا میں:۔ ناہید دیکھو جب تک لن کو جھٹکے نہ مارو تو لن میں وہ طاقت نہیں رہتی آرام آرام سے ڈھیلا ہو تا جاتا ہے پھدی میں کیوں کہ مزہ نہیں آتا ناہید:۔ اس کابھی بندوبست ہے میرے پاس میں:۔ وہ کیا ناہید:۔ جیسے میں کہوں گی تم کرتے جاو میں:۔ بتاو تو سہی ناہید:۔ دیکھو تم نے بس ایک کام کرنا ہے کہ پھدی میں لن ڈال کے رکھنا ہے باقی میں پورے کمرے میں چلتی رہوں گی تم ساتھ ساتھ میرے پیچھے چلتے رہنا تو اس طرح لن اندر باہر ہو تا رہے گا تو مستی میں رہے گا تم جہاں بھی کہو گے جو پوزیشن بھی کہو گے میں بناوں گئی تم نے جھٹکے مارنے ہیں پھر تھوڑا رک جانا ہے تاکہ تمھارا لن زیادہ گرم نہ ہو میں:۔ اچھا چلو جلدی کرو گھوڑی بنو ناہید:۔ اتنے مزے سےگھوڑی بنی کہ یقین کرو کہ ٹرپل ایکس موویز میں بھی ایسا سٹائل نہیں ہوتا، میں آرام سے اُس کے پیچھے کھڑا ہو اور اپنے لن کی ٹوپی اُسی پھدی پر ایڈجسٹ کر کے بہت ہی زور سے سٹ ماری کہ ناہید کے منہ سے صرف اور صرف یہ نکلا ہاے امی جی جیسے ہی میں نے لن کی سٹ ماری تو غڑپ کی آواز آئی پھدی سے ، پھر میں نے لن باہر نکالا اور بنا پوچھے ناہید کے پھدی میں دوبارہ لن کی سٹ ماری پھر غڑپ کی آواز آئی اور ناہید نے کہا خرم پلیز رحم نہ کرنا پلیز چود مجھے پلیز چود و پلیز خرم پھاڑ دو ، ناہید ، میں نے وہی سے زور زور سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا ، کہ اتنی دیر میں اُس کے بچے کے رونے کی آواز آئِی جو کہ بیڈ کے ساتھ سویا ہو ا تھا ، ناہید جلدی جلدی پھدی سے لن باہر نکالا اور بچے کے پاس جانے لگی اور بچے کو جیسے ہی چپ کروانے کے لیے نیچے جھکی تو یقین جانیں میں پیچھے اُس کے پہنچ چکا تھا اور میں نے اُسی پوزیشن میں ناہید کی پھدی میں لن ڈال کر اُسے کہا کہ بس اب چپ کر کے صوفے پر چلو اور مجھے چودنے دو تنگ مت کرو تم مجھے ناہید ، خرم تھوڑا سا انتظا ر کر لو ، یہ جیسے ہی چپ کر جائے گا میں اپنی جان کے لیے صوفے پر چلی جاوں گی، ناہید نے کوئی پانچ منٹ مجھے انتظار کروایا اتنی دیر میں اُس کا بچہ چپ کر گیا ، پھر جیسے ہی ناہید نے بچے کو نیچے سولایا میں نے ناہید کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے ساتھ لے کر صوفے پر چلا گیا اور صوفے کے بازو پر ناہید کے گھٹنے رکھ دیے اور اُس کا سر صوفے والی سیٹ پر رکھ دی اور اپنا ایک انگوٹھا ناہید کے منہ کر طرف کر کے اُس کی پھدی میں اپنا لن ڈالا تو ساتھ ہی ناہید کو کہا کہ اب برداشت کرنا ، ناہید نے کہا کہ تم میری ٹینشن نہ لو بس خرم تم اپنے مزے لو، میں جیسے ہی ناہید کی پھدی میں لن اندر باہر کرتا تو ناہید کی گانڈ کا سوراخ جو کہ بہت ہی چھوٹا تھا وہ بھی بند ہوتا اور کھلتا تھا ،میں نے وہی پر ناہید کی پھدی کو چودنا شروع ، تو پورے کمرے میں پچک پچک کی آواز آ رہی تھی اور ساتھ ہی ناہید کہ رہی تھی خرم تم بہت ہی مزے کے ہو ، خرم تمھارا لن بہت مزے کا ہے ، خرم بہت مزہ دیتے ہو، میں نے یہ سٹائل چینج کیا اور ناہید کی پھدی سے لن باہر نکالا اور ناہید کو پکڑ کر صوفے سے نیچے لے آیا ، اور ناہید کا سر زمین پر لگا دیا اور اُس کی ٹانگیں صوفے پر رکھ دی اور میں خود صوفے پر بیٹھ گیا یعنی کہ میری پوزیشن یہ تھی کہ جیسے عام طور پر لوگ صوفے پر بیٹھتے ہیں میں ویسے ہی صو فے پر بیٹھا تھا، اور ناہید کی ٹانگیں میری ٹانگوں کے درمیان تھی ، اور اُس کا سر زمین کی طرف تھا ، میں آرام سے اٹھا اور ناہید کی ٹانگیں ناہید کے سر کی طرف کر دی اور خود بھی ناہید کے پیٹ کی طرف چلا گیا یعنی کہ اب ناہیدکی کمر بالکل فولڈ ہو گئِ تھی ، میں نے ناہید کی پھد ی می اپنا لن ڈالا اور ناہید کی کمر کی ہڈی کو اپنے دونوں ہاتھو ں سے پکڑا کر چودنا شروع کر دیا یہ وہ سٹائل ہے جو مجھے بہت پسند ہے اس سٹائل میں میں نے صرف ایک کام کی کہ میری نظر ناہید کی پھدی اور اپنے لن کی ٹوپی پر ہوتی اور سپیڈ اتنی رکھ رہا تھا کہ لن پھدی سے نکل کر پھر پھدی میں چلا جاتا تھا اور جب مجھے بہت ہی زیاد ہ مزہ آنے لگا اور ساتھ ہی مجھے یہ پتہ لگنے لگا کہ بس ابھی فارغ ہونے والا ہو تو زسپیڈ مزید تیز کر دی اور پھر جب بالکل ہو میں فارغ ہونے والا تھا تو بہت ہی زور سے سٹ ماری کہ ناہید نے کہ ہا ے میں مر گئِ اور میں نے سارے کا سارے لن کا پانی ناہید کی پھدی میں ڈالا دیا اور اونچا اونچا سانس لینے لگا جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  18. ناہید کے اس طرح کے استقبال نے تو مجھے پاگل کر دیا تھا اب میرا تو پکا پروگرام تھا کہ جاتے ہیں اُس کو گھوڑی بنا کے چودنا ہے چاہے کچھ بھی ہو جائے اُس طرح چودنے سے مرد کا لن ہر حالت میں عورت کی توبہ کروا دیتا ہے ، میں جسے ہی اُس کے پیچے پیچے چلنا شروع ہو تو تھوڑا سا ناہید کے نزدیک ہو ا تو میرے لن کی ٹوپی اُس کی گانڈ کو ٹچ ہوئی ، کیونکہ لن تو میرا پورے کا پورے جوبن پر تھا تو ناہید نے کہا یار تھوڑا صبر نہیں کیا یہیں ہال میں چودنے کا ارادہ ہے تھوڑا انتظار تو کرو، میں نے کہا ناہید انتظار نہیں ہوتا تم نے بس ایک کام کرنا ہے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوں تم نے گھوڑی بننا ہے جلدی جلدی اور اپنے منہ سے تھو ک اپنی پھدی پہ لگانی ہے اور میں اُتنی دیر میں اپنی زپ کھولوں گا اور لن کی ٹوپی پر تھوک لگاو ں گا مجھ سے انتطار نہیں ہوتا ، ناہید نے کہا ہے جیسے میری جان کی مرضی ، ناہید اور میرے کمرے میں داخل ہوئے جاتے ہیں ابھی تک ناہید کھڑی ہو کر سوچ ہی رہی تھی کہ میں نے ناہید کی گردن سے پکڑ کے نیچے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا کیوں کہ میرا لن بالکل تیار کھڑا تھا، میں نے اُسی وقت تھوڑی سی تھوک لگائی اور ناہید کی پھدی جو کہ بہت زیادہ گیلی ہو چکی تھی میں لن ڈال دیا ، ناہید:۔خرم میں نے کیا کہا تھا میں:۔یار تیری پھدی کا مزہ ہی اتنا ہے کہ برداشت نہی ہو رہا کچھ ناہید:۔یار مجھے نہیں پتہ ویسے ہی کرو میں:۔ناہید اگر گنتی والا کرنا ہے تو ایک کام کیوں نہ کریں ناہید:۔جی بولو لیکن یار تھوڑے تھوڑے جھٹکے تو مارتے رہو نہ میں :۔ناہید ایک تو یہ کرو کہ دروازہ بندہ کرو میں بالکل ننگا ہو تا ہوں جلدی کرو، ناہید ابھی سیدھی ہو کر اپنی سلوار اوپر کر رہی تھی میں اُس کے پیچھے گیا اور پھر تھوڑا سا اُس کو جھکا کے لن اُس کے اندر ڈال دیا ، اور پھر اُس کو کہا کہ اسی طرح تھوڑی چلتی جاو کچھ بھی ہو جائے لن نہ نکلے تیرے اندر سے وہ اپنی کمر سے میرا ہاتھ پکڑ کر ہٹانا چاہتی تھی ۔ میں نے اُس کا ہاتھ چھڑا کر تھوڑا اور زور دیا اپنے لن کو توایک نظر ناہید نے میری طرف دیکھا اور کہا خرم ابھی کیا کیا ہے ایک دفعہ دوبارہ کرہ پلیز بہت مزہ آیا ہے میں نے پھر اُسی طرح پہلے تھوڑا سے پیچھے ہوا اور پھر تھوڑا اوپر اور آگے کی طرف ہو کر جب سٹ ماری تو ناہید نے زور سے ہے ہے ہے ہے کہا اور میرے سینے کے ساتھ سر لگا دیا میں:۔ ناہید دیکھو میں لن نکال رہا ہوں تم جلدی سےکمرے کا دروازہ بند کرو اور بھا گ کے شیشے کے آگے گھوڑی بن جاو ناہید:۔خرم شیشے کے آگے کیوں میں:۔ ناہید بتاتا ہوں جلدی کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ناہید:۔اچھا اچھا جیسے ہی میرا لن ناہید کی پھدی سے نکلا تو پڑک کی آواز آئی یعنی کہ ناہید کے میرےلن کو اپنی پھدی کی مدد سے قابو کیا ہو ا تھا ، خیر ناہید نے جلدی سے دروازہ بندہ کیا او ر کمرے میں جو عورتوں کے میک اپ کے لیے شیشہ پڑا ہوتا ہے اُس کے سامنے گھوڑی بن گئی ، اصل میں میرا مقصد تھا کہ ناہید کو چودتے ہوئے میں اپنے آپ کو شیششے میں دیکھوں یعنی کہ میں اُسے کیسے چود رہا ہوں ، یعنی میری ہپ آگے ہوتی رہے او کیسے میرے لن جا رہا ہے ، اس لیے میں نے ناہید کو کہا کہ شیشے کے آگے گھوڑی بنے ،لیکن مجھے مزہ نہیں آ رہا تھا ، کہ کیسے اس کے اندر جائے رہا ہے اور مجھے میری ہپ بھی نظر نہیں آ رہی تھی کہ کیسے میری ہپ آگے پیچھے ہو رہی ہے ، میں نے ناہید کی پھدی سے اپنا لن نکالا اور ناہید کو کہا کہ تھوڑی شیشے سے دور ہو کر گھوڑی بنو، وہ بولی بتاو تو سہی میں نے کہا بتاتا ہوں، جب عورت کو مزہ آ رہا ہو اُس وقت جب اُس کی پھدی سے لن نکالوتو اس کے دو فائد ے ہوتے ہیں ۱۔ ایک تو ٹائمنگ بڑھ جاتی ہے کیوں کہ پھر لن کو اپنی مستی میں آنے کے لیے ۱ یا دو منٹ لازمی لگتے ہیں ۲۔ عورت کو غصہ آتا ہے کہ میں مزے سے مر رہی ہوں اور یہ سٹائل بنا بنا کے چود رہا ہے ، تو اس غصے کی وجہ جے جب اُس کو سٹ مارو تو اُسے بہت مزہ آتا ہے خیر ناہید کو میں شیشے سے تھوڑا دور لے کر آیا اور اپنی مرضی سے شیشے میں اپنے آپ کوایڈجسٹ کرنے کے بعد ابھی لن پر تھوک ہی لگا رہا تھا کہ ناہید نے کہا خرم مجھے غصہ مت دلاو جلدی کرو ابھی سسر آجائے گا اور تمہیں اپنے مزے کی پڑی ہوئی ہے، میں نے ناہید کو کہا دیکھو تو ذرہ شیشے کی طرف اپنی گردن تھوڑی اوپر کر کے دیکھو میں کی کر رہا ہوں، ناہید نے جیسےہی شیشیے کی طرف دیکھا تو میں اپنے لن کی ٹوپی پر تھوک لگا رہا تھا ، اور اپنی شرٹ اُتار دی تھی اور پینٹ بھی کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ کمرے میں اب کوئی بھی نہیں آئے گا ، ہاے خرم بہت مزے کا لن ہے تمھارا، یار جلد ی چود نہ اب میں جیسے ہی ناہید کے پیچے ہوا اور ناہید کو کہا میں:۔ ناہید اب تم نے میری ہپ پر نظر رکھنی ہے اور دیکھنا ہےکہ میں کیسے چودتا ہوں ناہید:۔یار جلدی کرو پلز میں:۔ نے ناہید کی پھدی پر لن رکھ اور اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر ایک ہی جھٹکے میں اپنا پورا لن اُس کے اندر اٹار دیا اور شروع ہو گیا اپنے کام پہ چھک چھپک چھپک چھپک چھپک چھپک چھپک میں:۔ناہید مزہ آ رہا ہے ناہید:۔ یار خرم بہت مز ے کا لن ہے تمھارا ، امہا امہا ناہید میں:۔ ناہید میں ابھی تک فارغ نہیں ہوا رہا کم از کم 10منٹ اور لگ جائیں گے ناہید:۔یا ر بس تم چودو میں نہیں اٹھنے والی یہاں سے جلدی کر و میں:۔ میں نے وہ سپیڈ ماری کہ بس نہ پوچھیں ایک وقت آیا کہ ناہید نے میرے پیچھے اور اپنی گانڈ پر ہاتھ رکھ لیا جیسے اُس کی ہمت جواب دے گئی ہے میں نے اُسے کہا کہ ہاتھ نکالو مجھے مزہ نہیں آ رہا ناہید:۔ خرم میر ی بس ہو رہی ہے اور کتنی دیر ہے میں:۔ ناہید بس تھوڑی دیر اور ناہید:۔ خرم جلد ی کرو نہیں تو میری چیخ نکل جائے گی میں:۔ ناہید بس پلز تھوڑا برداشت کرو پلیز میں نے اور سپید بڑھا دی اور پھر ایک ٹائم آیا کہ میرے ٹانگوں کے درمیان سے ایسے لگا کہ بس اب میری جان نکلنے والی ہے میں:۔ ناہید میں فارغ ہونے والا ہوں ناہید:۔ خرم جب بالکل فارغ ہونے لگنا تو بہت ہی زور کی سٹ مارنا پلیز پلیز تاکہ اپکا پانی بچے دانی کے اندر جائے یار میں:۔ ناہید میں گیا اور بہت ہی زور کی سٹ ماری اور پھر میرے لن سے پچکاری ناہید کی پھدی میں چلی گئِ ، کوئی ایک منٹ میرا لن ناہید کی پھدی میں ہی رہا ، اُس کے بعد جیسے ہی میں نے اپنا لن ناہید کی پھدی سے نکالا تو یقین کریں ایسے لگا کہ میرے لن کے نکلتے ہیں ناہید کی پھدی سے کوئی نہر نکل پڑی میرے لن کی منی کی ، مجھے آج بہت مزہ آیا تھا کیونکہ میں نے شیشے کے سامنے ناہید کی پھدی ماری تھی اور مارتے ہوئے ناہید کو دیکھتا رہا ہوں اُس کے چہرے کے اثرات بھی دیکھتا رہا ہوں۔ تھوڑی دیر تک میں سانس لیتے بیٹھا رہا اور ناہید کو کہا یا آج تو بہت مزہ دیا ہے آ پ نے ، ناہید:۔ خرم یقین کرو پور ا دن آپ کا انتظار تھا میں:۔ کیوں ناہید:۔ پتہ نہیں یار بہت مزہ دیتے رہے ہو آپ یقین کرو بہت مزہ دیا ہے آپ نے مجھے پتہ نہیں سارا دن کیوں میری پھدی آپ کا لن مانگتی رہی ہے ناہید:۔ خرم آج ایک کام کریں گے میں:۔ ناہید یار پوری رات نہیں سویا جو رات گزر گئی ، آج سار دن آفس کے کام سے شنکیار ی تھا، آج کی رات آپ کے ساتھ گزر گئی یار خود سوچو میرا کیا ہو گا آپ بتاو ناہید:۔ یار مجھے نہیں پتہ بس میں جیسے جیسے کہوں گی آپ نے ویسے ویسے مجھے چودنا ہے میں بہت ترسی ہوئی ہوں میں:۔کیا مطلب ترسی ہوئی ناہید:۔ یار آپ نہیں سمجھو گے میں:۔ بتاو تو سہی ناہید کیا بات ہے ناہید:۔ دیکھو خرم عورت کی کچھ خواہشیں ہوتی ہیں میں:۔ کون کون سی ناہید:۔ اچھا خاوند ہو، ٹائم دے ، بہت پیار کرے، گھر کو دھیان دے ، اور سب سے بڑی بات کہ عورت کو سیکس میں مطمن کرے بس اور یہ ساری کی ساری خواہشیں آپ میں ہیں جو آپ نے مجھے سیکس میں مطمن کیا ہے یقین کریں میں مر سکتی ہوں اب آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی یقین کرو۔ میں:۔ میں تو بالکل چپ ہو گیا (شاید آپ لو گ یقین نہ کرو یہ ایک ایک لفظ سچ ہے ) لیکن مجحے پتہ ہے آپ لو یقین نہیں کرو گے خیر میں:۔ ناہید ایک بات بتاو گی ناہید:۔ جی جی میری جان پوچھو میں:۔ یا ر کبھی کوئی ایشو تو نہیں ہو گا آپ کے گھر آنے میں ناہید:۔ کیوں کیا مطلب میں:۔ دیکھو یار میں ننگا بیٹھا ہوں ، سسر آپ کا گھر سے باہر گیا ہے ابھی آجائے گا، کوئی ایشو نہ آجائے ناہید:۔ دیکھو یا ر ایک تو یہ میرا کمرہ ہے ، دوسرا آج تک میرے کمرے میں سسر کبھی بھی نہیں آیا اور اگر آ بھی گیا تو وہ دروازے سے اندر نہیں آتا ، اور اگر آ بھی گئی تو آپ آرام سے الماری کے پیچھے دو منٹ انتظا ر کر لینا ، میرا سسر اتنی دیر نہیں بیٹھتا میرے کمرے میں اور میں ویسے بھی رات کو اپنا کمرہ بند کر کے سوتی ہوں کچھ نہیں ہوتا آپ پریشان نہ ہوں۔ میں:۔ اچھا ناہید اگر محلے میں مجھے کوئی دیکھ لے آپ کے گھر میں آتا جاتا دیکھ لے تو پھر کیا کہو گی ناہید:۔ خرم یہ میرا گھر ہے ، یہاں کوئی بھی نہیں پوچھے گا اور اگر کوئی پوچھ لے تو میں خود جواب دے دوں گی میں:۔ ناہید یہ سامنے گھر میں کون کون رہتا ہے ناہید:۔یہ کوئی پٹھان ہیں ، میں:۔ناہید جب میں گھر میں آ رہا تھا تو اُس گھر سے عورت نے مجھے دیکھا تھاجب میں دروازہ بند کر نے لگا تھا اس وجہ سے پوچھا ہے ناہید:۔ اچھا اچھا شکر ہے تم نے مجھے بتا دیا اب اگر اُس نے پوچھا تو میں آرام سے اُس کو مطمن کر دوں گی اس دوران ناہید نے دوبارہ میں لن کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ، میں:۔ ناہید یار ابھی رات پڑی ہے تھوڑا انتظار کر لو ناہید:۔ خرم تیرے لن کا جو مزہ ہے یقین کرو آرام نہیں آ رہا پھدی میں بار بار خارش ہو رہی ہے میں:۔پکی بات ہے سچ کہ رہی ہو ناہید:۔خرم ایک دفعہ دوبارہ ڈلو یقین کرو پلیز بہت خارش ہو رہی ہےتم صرف ایسا کرو کہ ٹوپی پھدی میں ڈالتے رہو آرام آرام سے اور نکالتے رو پلیز پلیز پلیز بہت مجبور ہو کر کہی رہی ہوں میں:۔ تو ویسے ہی ننگا بیٹھا تھا، اچھا ادھر او ناہید:۔جلدی سے میرا ساتھ سے اُٹھ کر میرے سامنے کھڑی ہو گئِ ، میں چونکہ بیڈ پر بیٹھا تھا، اور میری ٹانگیں نیچے تھی، ناہید میری ٹانگوں کے درمیان آئی اور آرام سے میرے لن کو پکڑ کر پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور یقین کریں صرف اور صرف اُس نے میری ٹوپی لی اور لیتی رہی ، اور مزے سے اوپر نیچے لیتی رہی اور دو سے تین منٹ میں مزے لینے کے بعد آرام سے اُٹھ گئی، میں:۔ یار ابھی تو مزہ آ رہا تھا اور تم اُٹھ گئی ہو ناہید:۔ اس وجہ سے اُٹھ گئی کہ اگر تھوڑی دیر اور بیٹھتی تو یقین کرو میں نے ننگی ہو جانا تھا، ناہید:۔ خرم اچھا میں ذرہ کچن میں جا رہی ہوں تھوڑا کام کر کے آتی ہوں میں:۔ ناہید کچھ کھانے کو ہے ناہید:۔بہت کچھ ہے کھانے کو تم بتاو میں:۔ اچھا بتا و کیا کیا ہے کھانے کو ناہید:۔ خرم چھوٹے گوشت کی کڑاہی ہے ، چھوٹا گوشت روسٹ بھی ہے لیکن تھوڑا سا ہے ، سلاد ہے اور چٹنی ہے میں:۔ اچھا مجھے تھوڑا روسٹ دے جاو اور ساتھ چٹنی ناہید:۔ اچھا ٹھیک ہے میں لے آتی ہوں میں:۔جلدی جاو ناہید:۔ اچھا آرام سے بیٹھو یہاں پر پریشانی کی کوئی بات نہیں بس آرام سے ٹی وی دیکھو میں:۔اوکے ناہید:۔اوکے میں ابھی گئی اور ابھی آئی ناہید کچن میں چلی گئ، لیکن میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی ، خو د سوچیں کہ جب لن پھدی کے اندر ہو اور اچانک پھدی چلی جائے تو بندہ کتنا پاگل ہوتا ہے ، میں اپنے لن کو دیکھو اور اُس پر پیار پیار سے ہاتھ مارتا رہا کہ ابھی جیسے ہی ناہید آئے گی ایک دفعہ اُس کو لازمی چودوں گا اور پھر فارغ ہونے کے بعد کچھ مزہ آئے گا تو کھانا کھاو ں گا، اس لیے میں ابھی سے میں نے لن کی ٹوپی پر تھوڑی سی تھوک لگا لی ، کہ بس جیسے ہی آئے میں نے لن ڈال دینا ہے بس ، یقین کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا تو یقین کرومیں دروازے تک چلا گیا کہ پتہ نہیں کس وقت آئے گی ، تھوڑی دیر کے بعد ناہید دروازے کے پاس آئی تو میں دروازے سے تھوڑا پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا ، جیسے ہی ناہید دروازے کے پاس آئی اور کمرے میں داخل ہوئی تو میں لن کی مٹھ ما ر رہا تھا کہ مزہ آ جائے کہ جیسے ہی ناہید آئے گی اُ س کے اندر کر دوں گا جیسے ہی ناہید آئی اور مجھے دیکھ کر ہنس پڑی کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ میں:۔ ناہید تم نے اچھا نہیں کیا اپنا مزہ لینے کے بعد چلی گئی اُس وقت کا یہ کھڑا ہے ناہید:۔ تو آواز دے دیتے میں:۔ جلدی جلدی رکھوٹیبل پر کھانا پہلے آپ کو چودوں گا پھر کھانا کھاوں گا ناہید:۔ جیسے ہی چھوٹی ٹیبل کی طر ف مڑی میں بھی اُس کے پیچھے چلا گیا اور اُس کی قمیض اوپر اور سلوار نیچے کر کے اُسی وقت ناہید کی پھدی میں لن ڈال دیا اور شروع کر دیا غٹپ ، غٹپ ، غٹپ ، کوئی پتہ نہیں کتنے ٹائم تک ناہید کو میں نے سیدھا نہیں ہونے دیا اور اُسی طرح چودتا رہا، ناہید کی جب یہ پوزیشن سے تھک گئی تو مجھے کہا ناہید:۔ خرم تھک گئی ہوں میں:۔ بس تھوڑی دیر ناہید:۔یار تیری تھوڑی دیر میں میری بس ہو جانی ہے میں:۔اچھا ایسا کرو کہ اسی چھوٹی ٹیبل پر گھوڑی بن جاومیں زور زور سے جھٹکے مار کر فارغ ہونے کی کوشش کر تا ہوں ناہید:۔ یار اتنے سے چھوٹے ٹیبل پر کیسے میں:۔ میں نے ناہید کو کہا کہ پہلے دائیں والا گھٹنا ، رکھو ٹیبل پر ، پھر دائیں والا اور اپنے دونوں ہاتھ ان گھٹنوں سے آگے کی طرف رکھ کر گھوڑی بن جاو جلدی کرو میں پاگل ہو رہا ہوں، اور ہاں اپنے منہ می کپڑا ڈال لو یہ جھٹکے بہت زور سے ہوں گے، ناہید:۔ ٹھیک ہے لیکن جلدی جلدی کرو میرے سسر کے آنے کا ٹائم ہے میں:۔ تم گھوڑی بنو گئی تو ہی جلدی ہو گا نہ، ناہید جیسے ہی گھوڑی بنی میں نے اُس کے پیچھے بیٹھ کر اُس کی پھدی کو آرام سے دیکھا اور اپنے منہ میں تھوک بنا کر زور سے تھوکی جو کہ بالکل پھدی کے اوپر جا کر لگی یقین کریں جب آپ دور سے پھدی پر تھوک پھینکیں گے تو عورت کو بہت ہی مزہ آتا ہے ، تھوک پھینکنے کے بعد میں اُس کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ایک دفعہ ناہید کو کہا میں:۔ ناہید جتنا بھی درد ہو برداشت کرنا اور ہلنا نہیں یہ نہ ہو کچھ اور غلط ہو جائے ناہید:۔ اچھا میں:۔ نے آرام سے اپنے لن کی ٹوپی سے تھوڑا پیچھے سے پکڑا اور اُس کی پھدی میں دال دیا اور اپنے دونوں ہاتھو ں کو ناہید کی کمر سے پکڑا کر آگے پیچے جھٹکے شروع کر دیا ، میرے جھٹکو ں کی سپیڈ تیز ہونا شروع ہو گئی اور ادھر ناہید کبھی گانڈ کو اوپر کرے اور کبھی نیچے کرے ، کیوں کہ اُسے درود ہو رہا تھا، میں بھی بس بہت قریب تھالیکن فارغ نہیں ہ رہا تھا، تو اچانک پتہ نہیں ناہید کو کیا ہو کہ اُس نےاپنی گانڈ نیچے کی اور میرا لن اُس کی پھدی سے نکل کر اُس کی گانڈ کی سوراخ کی طرف گیا اور پھسل گیا، مجھے پتہ نہیں چلا اس بات کا میں نے دوبارہ لن کو پکڑا اور اُس کی پھدی میں ڈال دیا ، اس دفعہ پھر ناہید نے دوبارہ اپنی گانڈ کو نیچے کیا اور پیچھے میں زور لگا رہا تھا ، لن اس دفعہ دوبارہ پھدی سے نکلا اور ناہید کی گانڈ کے سوراخ میں چلا گیا یقین کریں یہ سارے کا سارے ایک یا دو سیکنڈ کے درمیان ہو ا تھا، لیکن ادھر میرا لن ناہید کی گانڈ کے سوراخ میں جانا اور ناہید اتنی زور کی چیخی کہ نہ پوچھیں اگر اُس نے اپنا دوپٹہ اپنے منہ میں نہ ڈالا ہوتا تو بس پکا کیس بن گیا تھا، ناہید ایسے تڑپ رہی تھی کہ جیسے بکرے کی جان نکلتی ہے ، میں جیسے ہی پیچھے ہوا تو دیکھا کہ میرے لن کی ٹوپی اور تھوڑا سے لن کی ٹوپی سے آگے کا حصے ناہید کی گانڈ کے سوراخ سے نکل رہا ہے میں حیران ہو گیا ، کیوں کہ لن کی ٹوپی پر تھوڑا سا خون بھی تھا جو کہ ناہید کی گانڈ کے ٹشوز کے پھٹنے کی وجہ سے تھا ، لیکن مجھے اُس وقت اس چیز کا ہوش ہی کہا تھا ، جتنی دیر میں ناہید کو اپنی گانڈ کا ہوش ہوتا میں نے دوبارہ لن ناہید کی پھدی میں ڈال دیا اور چودنا شروع کر دیا ، اور ناہید کے کان میں کہا میں:۔ پلز تھوڑا برداشت کرلو پلیز ناہید:۔ خرم جلدی کرو پلیز میں:۔ نے اور سپیڈ بڑھا دی اور تھوڑی دیر کے بعد میرے لن کی ساری منی ناہید کی پھدی کے اندر چلی گئی لیکن ابھی میرا لن ناہید کی پھدی میں اپنی منی چھوڑ رہا تھا تو اتنی دیر میں دروازے زور سے بجا جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  19. فون پر بات کرنے کے بعد اُس کے چہرہ کچھ اُداس سا ہو گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ بہترین موقع ہے اس سے بات کرنے کا اور اس کے دُکھ سننے کا کیوں کہ بہت ساری عورتوں کا جب دُکھ سن لیا جائے اور اُسے تھوڑا سا وقت دیا جائے تو وہ آسانی سے پھنس جاتی ہے۔ یہ میرا اپنا تجربہ ہے۔ اتنی دیر میں اُس کا بچہ چپ کر گیا تھا اور میرے ہاتھو ں میں کھیل رہا تھا ۔ وہ میرے پاس آئی اور میرے ہاتھوں سے اپنا بچہ لے لیا اور میرا شکریہ ادا کیا۔اُس نے پوچھا آپ اکیلے نظر آرہے ہیں آپکی فمیلی نظر نہیں آرہی میں نے کہا فیملی تو آپکی بھی نظر نہیں آرہی اُس نے کہا کہ میں تو اکیلی آئی ہوں اس طرح تعارف ہوا تو میں نے ُاس سے اُس کا نام پوچھا اُس نے اپنا نام ناہید بتایا۔ میں نے پھر بات آگے بڑھانے کی کوشش کی اور ناہید سے کہا کہ آپ کہا رہتی ہیں ناہید نے کہا کہ وہ مانسہرہ کی رہنے والی ہے اور اپنی امی اور ابو سے ملنے کے لیے یہاں آئی ہے ۔ اُس سے مانسہر ہ کا سننے کے بعد میرا دل تھوڑا مایوس ہو اکہ یا یہ تو مانسہر ہ کی رہنے والی ہے اُس کو کس طرح اپنے دام میں پھنساوں گا لیکن ایک اُمید تھی کہ شاید کام بن جائے ۔ ناہید آپ کی ت***م کتنی ہے اُس نے اپنی ت***م ماسٹرز بتائی اور کہا کہ وہ شادی کرنے کے بعد مانسہر ہ اپنے سسرال چلی گئِ تھی ۔ اُس نے مجھ سے میرے بارے میں بھی تفصیل پوچھی جو کہ میں نے صاف صاف بتا دی میری یہ عادت ہے کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔ خیر آخر میں میں نے ہمت کر کے یہ بات کر لی کہ اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو کچھ دیر یہیں پر گھوم سکتے ہیں دونوں تاکہ ہم ایک دوسرے کو جان سکیں میری یہ بات سن کر ایک دفعہ اُس نے میری طرف غور سے دیکھ شاید مجھے کوئی غلط سمجھ رہی تھی تو میں نے کہا میں نے تو اس وجہ سے کہا ہے کہ ایک تو آپ اکیلی ہیں اور میں بھی اکیلا ہو ں یہ نہ ہو پھر آپکی کال آجائے اور پھر آپکا بچہ رونا شروع کر دے وہ مان گئی اصل میں نے اُس سے یہ بات پوچھنی تھی کہ کال سن کر وہ اُداس کیوں ہو گئی تھی اس لیے میرے اُس کےساتھ رہنا ضروری تھا تھوڑی دیر بعد اُس نے سے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔ ناہید ایک بات پوچھوں اُس نے کہا جی پوچھیں ناہید یہ نہ ہو کہ میری بات پوچھنے پر آپ ناراض ہو جائیں *** اگر میں نے ناراض ہونا ہوتا تو آپ کے ساتھ بغیر کوئی جان پہچان کے یہاں پارک میں نہ گھومتی ناہید یہ بتائیں کہ فون سننے کے بعد آپ بہت پریشان ہو گئِ تھی اگر آپ کو بُرا نہ لگے تو مجھے بتائیں شاید میں کوئی مدد کر سکوں خرم میں آپ کو بتا تو دوں لیکن جتنا میں آپ کو بتاتی رہوں گی اُتنا ہی میں اپ سیٹ ہو ں گی اگر خرم آپ کو برا نہ لگے تو نہ ہی پوچھیں تو مہربانی ہو گی۔ ناہید میرا یہ تجربہ ہے کہ جتنا اپنا دُکھ شیر کرتے ہیں اُتنا ہی بندہ بہت کم پریشان ہو تا ہے اگر آپ کو برا نہ لگے تو اب کوئی بات کیے مجھے بتائیں ۔ میر امقصد صرف یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح اس سے دُکھ سن کر اُس سے اس کا موبائل نمبر لے سکوں خرم میں صرف اتنا کہوں گی کہ میرا سسرال کے ساتھ لڑائی ہے اور میرا خاوند جو کہ اس وقت ابوظہبی میں ہے اُس کی کال تھی وہ بھی صرف اور صرف اپنے والدین کی سنتا ہے بس یہ پریشانی تھی باقی کبھی وقت ملا اور آپ سے ملاقات ہوئی تو میں آپ کو بتا دوں گی میں نے کہا ناہید اگر آپ کو برا نہ لگے تو یہ میرا نمبر ہے جب بھی آپ کا دل کرے آپ مجھے کال کر سکتی ہیں مجھے خوشی ہو گی ۔ میں یہ ساری کوشش صرف اس وجہ سے کر رہا تھا کہ ناہید کا جسم بہت ہی سیکسی تھی بہت ہی اُس کا قد 5.6تھا ۔ رنگ گورا ، چھاتی کم از کم 40کی ہو گی اُس کی گانڈ تو بالکل ہی گول تھی اور باہر کی طرف ابھری ہوئی تھی جس سے مجھے یہ بات تو کنفرم ہو گئ تھی کہ یہ لازمی اپنی گانڈ میں اپنے خاوند سے کراوتی ہو گئِ گلابی رنگ کے اُس کے ہونٹ تھے کھڑی ناک اور گول گول سے اُس کے گال تھے اُس نے میرا نمبر اپنے موبائل میں سیو کرنے کے بعد کچھ دیر انتظار کیا اور پھر تھوڑی دیر کے بعد میرے موبائل پر کال کر لی میں نے جب کال اٹینڈ کرنے کے لیے سوچا تو اُس وقت اُس نے ایک بات کی خرم یہ میرا نمبر ہے صرف میں یہ کہوں گی کہ پتہ نہیں کیوں میں نے آپ کا نمبر سیو کر لیا ۔ خرم مجھے غلط قسم کی عورت نہ سمجھنا بس آپ کی ایک بات اچھی لگی کہ جو آپ نے مجھ سے میری پریشانی کی بارے میں پوچھا ۔ اُمید ہے خرم آپ میرا یہ بھروسہ نہیں توڑیں گے۔اچھا میں اب چلتی ہوں اور رات کو آپ سے بات کروں گی اگر آپ کے پاس ٹائم ہو تو میں نے کہا روکیں میں آپ کے لیے گاڑی کا بندوبست کرتا ہوں آپ ایسے روڈ پر کھڑی اچھی نہیں لگیں گی میں اُس کے ساتھ پارک سے باہر آیا اور ایک پک اپ روکی پک اپ والے کو کرایہ دیا اور ناہید کو پک اپ کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا اور بٹھانے کے بعد صرف یہ کہا کہ جب گھر پہنچ جاتی ہیں تو مجھے صرف میسج کر دیجیے گا ۔پک اپ کھڑی رہی تو میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھا جو کہ ہنڈا سیوک 2014ماڈل تھی بالکل نیو تھی اُس کو سٹار ٹ کر دیا تو میں نے شیشے سے دیکھا تو ناہید میری ہی طرف دیکھ رہی تھی میں روکا رہا جب پک اپ چل پڑی تو میں بھی اپنے بنگلے کی طرف چل پڑا ۔ بنگلے میں پہنچ کر کک کو چائے اور ساتھ کٹلس کا کہا اور فریش ہونے کے لیے باتھ روم چلا گیا باتھ روم سے واپسی پرمیں نے موبائل دیکھا تو ناہید کی کال آئی ہوئی تھی اور ساتھ ایک میسج بھی تھا کہ میں گھر پہنچ گئِ ہوں ۔ میں نے بھی شکریہ کا مسیج کیا اور ساتھ کہا کہ مجھ پر اعتبار کرنے بھی شکریہ کہ آپ نے گھر پہنچ کر مجھے بتانا ضروری سمجھا ناہید نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے آپ پر اعتبار تھا تو تب ہی خرم آپ کو اپنا نمبر دیا تھا۔پھر میں نے سوچا ناہید سے ایک چیز پوچھ لوں ۔ میں نے کہا ناہید کیا ایک بات پوچھ سکتا ہوں تو اُس نے کہا جی ضرور پوچھیں میں نے کہا ناہید کیا رات کو آپ سے کال پر بات ہو سکتی ہے تو تھوڑی دیر ناہید خاموش رہی اور پھر بعد میں کہا کہ میں آپکو بعد میں بتاوگی ۔ میں نے کہا کہ ناہید ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا ۔ اور پھر کوئی ایک گھنٹے بعد ناہید کا میسج آیا کہ رات کو 9بجے کے بعد اگر آپ فری ہو ں تو بات ہو سکے گی تب تک میری امی اور ابو وغیرہ سو جائیں گے تو آرام سے بات ہو جائے گی ۔ میں نے کہا شکریہ یہ بات ساری باتیں میسجز پر ہو رہی تھی جب یہ بات ختم ہوئی تو شام کے 7بج گئے تھے اب مجھے رات کے نو بجے کا انتظار تھا لیکن ٹائم ہی پورا ہو رہا تھا جیسے ہی نو بجے تواُسی وقت کال کر دی آگے سے ناہید نے کال اٹینڈ کی اور کہا کہ خرم آپ تو ٹائم کے بالکل پابند ہیں فکس ۹ بجے ہی کال کر دی میں نے کہا کہ میرا تو ٹائم ہی نہیں گزر رہا تھا اور یہ سچ ہے ناہید میں اُن لوگوں میں سے نہیں کہ وہ ٹائم دے کر پھر انتظار کرواتے ہیں میں جو بات کر دیتا ہوں وہ پوری کرتا ہوں ناہید نے کہا اچھا جی بڑی بات ہے ۔ باتوں کا یہ سلسلہ کم از کم تین سے چار مہینے تک رہا اس دوران میں نے یہ کوشش کی کہ میری طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی غلط بات کوئی عزت نفس سے گری ہوئی بات نہ ہو ۔ کیوں کہ میرا یہ ماننا ہے کہ عورت کوئی بھی بری نہیں ہوتی جو کہ بس بات کروں اور وہ تیار بیٹھی ہو خاص کر گھریلو عورتیں ۔ بہرحال تین سے چار مہینے بعدوہ وقت بھی آ ہی گیا جس کا مجھے انتظار تھا ایک دن ناہید نے کہ خرم آپ کا دوبارہ ملنے کا دل نہیں کرتا میں نے کہا کرتا تو ہے لیکن پھر سوچتا ہوں کہ آپ پتہ نہیں میرے بارے میں کیا سوچیں گی ۔ اس دوران ناہید اپنے سسرال مانسہرہ چلی گئی تھی ۔ ناہید نے کہا آپ مانسہرہ آسکتے ہیں یہ پھر میں ہی اپنی امی اور ابو کے گھر چکر لگاوں ۔ میں نے کہا میں آ تو جاوں گا لیکن مجھے پتہ نہیں کہا ں پر آنا ہے تو اُس نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ اس ویک اینڈ پر لازمی آنا ہے اور صبح ۱۱ تک آپ نے آنا ہے اتوار والے دن ۔ یہ مجھے اچھی طرح یاد ہے دسمبر کا مہینہ تھا بیس دسمبر کو میں نے ناہید کو کہا کہ میں آرہا ہوں میں صبح اپنی گاڑی پر نکلا اور کوئی ۱ گھنٹے کے بعد مانسہرہ پہنچ گیا ابھی ٹائم تھا میں نے سوچا کہ میں تھوڑا علاقہ وغیرہ دیکھ لوں کیونکہ ناہید نے مجھے کہا تھا کہ مانسہر ہ بس سٹیند کے ساتھ ہی کسی ہوٹل پر بیٹھ جائیں گے ۔ میں نے کوئی ۱۱ بجے کے بعد ناہید کو کال کی کہ میں پہنچ گیا ہوں اُس نے کہا کہ بس میں ابھی نکلتی ہوں ۔ تب پتہ نہیں نا جانے میرے دل میں کیا بات آئی اور کہا ناہید ایک بات کہوں اُس نے کہا خرم بولیں میں نے کہا کہ ناہید اگر آپ کو برا نہ لگے تو پہلے دن جو پارک میں آپ اور میری ملاقات ہوئی تھی وہی سوٹ پہن کے آنا ہے آپ نے ناہید تھوڑی دیر خاموش ہوئِی اور پھر کہا خرم جیسا آپکا حکم ۔ آپ کا حکم تو سر آنکھوں پر یہ بات کر کے ناہیدنے ہنس کر فون بند کر دیا اور میں انتظار کرنے لگا ۔ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناہید نے جیسے ہی فون بند کیا میں نے سوچا کہ کہیں بیٹھنے کے لیے کوئی اچھی سی جگہ ہی دیکھ لوں۔ مانسہرہ آتے ہوئے نیٹ سے میں نے تھوڑی معلومات لے لی تھی اس لیے میں نے بس سٹینڈ کے نزدیک ہی عثمانیہ ریسٹورنٹ کا انتخاب کیا جو کہ بہت ہی ایک معیار ی ریسٹورنٹ ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں فیملی کے لیے پردہ کا بھی اہتمام تھا ہوٹل کا انتظا م کرنے کے بعد میں وہیں پر بیٹھ کر انتظار کرتا ہرا ۔تقریبابارہ بجے کے قریب میرے فون کی بیل بجی میں نے اپنا فون دیکھا تو ناہید کی کال آرہی تھی ۔جیسے ہی کال اٹینڈ کی تو ناہید نے کہا کہ میں اب گھر سے نکل رہی ہوں آپ کہا ں ہیں اس وقت میں نے اُس کو بتا دیا کہ میں عثمانیہ ریسٹورنٹ میں ہوں ۔ ناہید نے کہا ٹھیک ہے میں آرہی ہوں ۔ جیسے ہی ناہید نے فون بند کیا میں اپنی ٹیبل سے اٹھ کے باہر آگیا ۔ (میرا یہ ماننا ہے کہ جب تک آپ عورت کو عزت نہیں دیں گے جب تک اُس کو ٹائم نہیں دیں گے وہ آپ کے نزدیک نہیں آئے گی یہ میرا اپنا موقف ہے ) اس کے بعد میں باہر دھوپ میں کھڑا ہو کر ناہید کا انتظار کرنے لگ گیا ۔ تھوڑی ہی دیر بعد سڑک کی دوسری طرف مجھے ناہید آتے ہوئے دکھائی دی ۔ جیسے ہی وہ میرے نزدیک آئی میں نے اُس کو سلام کیا اور اپنے ساتھ لے کر ریسٹورنٹ کی طرف چل پڑا ۔ آگے بڑھ کے میں نے ریسٹورنٹ کا دروازہ کھولا تو وہیں پر ایک نظر ناہید نے مجھے غور سے دیکھا اور دروازے سے اندر داخل ہو گی میں بھی دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد تھوڑا تیزی سے ناہید سے اگے نکل کر اُس کو ایک ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جس کے ارد گرد پردے لگے ہوے تھے ۔ وہیں پر آرام سےبیٹھنے کے بعد میں نے شروعات کی کیسی ہے آپ ناہید: میں ٹھیک ہوں خرم آپ سنائیں آتے ہوئے کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔ میں:۔ نہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی بس انہیں سوچوں میں گم راستہ آرا م سے کٹ گیا۔ ناہید:۔ خرم ایک بات کہوں میں:۔ جی ناہید بولیں ویسے میں ایک بات کہوں گہ کہ کم سے کم ہمیں تین سے چار مہینے ہو گئے ہیں بات کرتے ہوئےاور ہمار ے درمیان اتنی انڈر سٹینڈنگ ہو گئِ ہے کہ میرے خیال میں ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے اور بات پوچھنے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ۔ اپ نے جو بات کرنی ہے یا جو بات پوچھنی ہے بلاججھک پوچھ لیں یا کر دیں۔ ناہید: خرم آج آپ نے میرا دل جیت لیا ہے کچھ باتوں کی وجہ سے میں:۔ وہ کون سی باتیں ہیں ناہید:۔ خرم میں نے سوچا تھا کہ آپ گیار ہ بجے کی بجائے ایک یا دو بجے آو گے کیوں کہ میں نے آپ کو بلایا تھا نخرہ کرنا تو آپکا حق تھا لیکن میں حیران رہ گئِ جب آپ فکس ٹائم پر پہنچ گئے ۔ میں:۔ نہیں ناہید ایسی بات نہیں ہے یہ میری عادت ہے کہ میں ہر کام ٹائم س کرتا ہوں اور دوسری بات کہ میرا اصول ہے کہ جتنی عزت کسی کو دیں گے اُتنی ہی عزت اگلا بندہ آپکی کرے گا۔ ناہید: خرم دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ آپ میرا انتظار ہوٹل سےباہر کریں گے کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارا معاشرہ اُس عورت کو اچھا نہیں سمجھتا جو کسی غیر سے ملنے کے لیے گھر سے باہر قدم نکالے ۔ میں؛۔ نہیں ناہید یہ آپکا حق تھا کہ میں آپ کو باہر ریسو کروں اور ویسے بھی اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں تو اتنا اندازہ مجھے ہو گیا ہے کہ آپ کیسی ہے ۔ ناہید:۔ خرم تیسری اور آخری بات اور اس بات نے اپکی عزت میرے دل میں اتنی بڑھا دی ہے جب آپ نے اگے بڑھ کر میرے لیے دروازہ کھولا میں:۔ نہیں ناہید ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ میرے لیے قابل عزت ہیں اسی وجہ سے میں نے دورازہ کھولا میں:۔ اور بھی کوئی بات رہ گئِ ہے یا کھانے کا آرڈر دوں ناہید:۔ آپ نے جو بھی کھانا کھانا ہے آپ آرڈر دیں لیکن پیسے میں دوں گی کیونکہ آپ میرے مہمان ہیں میں:۔ ناہید اگر مہمان والی بات ہے تو میں ابھی چلا جاتا ہوں ۔ اور دوسری بات یہ آپ ہیں کہ میں باہر کا کھانا کھاتا ہوں ویسے میں کبھی بھی باہر کا کھانا نہیں کھاتا میں ہمیشہ گھر کا کھانا کھاتا ہوں۔ ناہید:۔ اگر یہ بات تھی تو اپ مجھے پہلے بتا دیتے میں گھر سے بنا کے لے آتی میں: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ۔ ناہید اب آپ نے آرڈر دینا بھی ہے نہیں ناہید؛ تھوڑا سا مسکرائی اور کہا نہیں آپ آرڈر دیں میں: میں نے ویٹر کو بلایا اور اُس ۱مٹن اچاری کا آرڈر دیا ، ساتھ سلاد ، چٹنی اور ڈیو ناہید : ہم ارد گرد کی باتیں کرتے رہے میں: جب ویٹر کھانا سرو کر کے چلا گیا تو میں نے ناہید سے کہا کہ شروع کریں ناہید : تھوڑا سا ہچکچائی میں سمجھ گیا یہ وہ شرما رہی ہے میں نے کہا ناہید اب آپ اپنا نقاب اُتار دیں اور کھانا شروع کریں ناہید نے اپنا نقاب اُتار اور مجھے کھانا میری پلیٹ میں ڈالنے لگی تو اُس وقت میں نے کہا کہ اپ ایک ہی پلیٹ میں کھانا ڈال دیں سنا ہے کہ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانے سے پیار بڑھتا ہے ۔ کھانےکے دوران ہماری آپس کی باتیں بھی ہوتی رہی ۔ اسی دوران باتوں باتوں میں ناہید نے کہا ناہید:۔ خرم چلو نہ آج میرے گھر آپ آئے بھی ہو مجھے اچھا نہیں لگ رہا کہ آپ یونہی ہوٹل سے ہو کر چلے جاو میں:۔ نہیں ناہید ایک تو میں نے صبح آفس جانا ہے اور دوسری بات ہے کہ آپ کے گھر میں آپکے سسرال وغیرہ ہیں تو کیا کہوگی اُن کو(لیکن دل ہی دل میں میرے لڈو پھوٹ رہے تھے کہ لے بھی خرم اب یہ پھدی لازمی پھٹے گی کیونکہ جو آفر کر رہی ہے ۔ اس کا پکا پکا دل ہے میرا لن لینے کو ۔ لیکن ساتھ ساتھ ڈر بھی رہا تھا کہ یہ کوئی فراڈ نہ ہو کہ اپنے گھر بلوا کر بلیک میلنگ نہ شروع کر دے یا کوئی اغوا والا ایشو نہ ہوں) ناہید:۔ نہیں نہیں خرم میں نے اپنے سسرال کو تو نہیں بتانا آپ کو میں اُس وقت بلواوں گی جب میرے سسر اپنے کمرے میں چلے جائیں گے تو میں آپ کو کال کروں گی آپ آرام سے آجانا اور صبح کی نماز سے پہلے واپس چلے جانا ۔ میں :۔ نہیں ناہید ایسے اچھا نہیں لگتا آپکا بچہ بھی ہے یہ نہ ہو کہ کسی کی کوئی طبیعت خراب ہو جائے رات کو ایسے مفت میں کوئی مشکل نہ ہو جائے آپکا ہنستا بنستا گھر نہ خراب ہو جائے۔ (اصل میں میرا جانے کا دل نہیں تھا ویسے میں بہانے ڈھونڈ رہا تھا ۔ لیکن باتوں باتوں میں میں نے اُس سے گھر کا ایڈریس پوچھ لیا تھا ) ناہید:۔ اچھا دیکھو خرم میں آپ کو سمجھاتی ہوں ۔ میرے سسر رات آٹھ بجے اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں اور صبح کی نماز کے وقت ہی اپنےکمرے سے نکلتے ہیں ۔ اور میری سا س کو گردوں کی بیماری ہے وہ رات کو نیند والی گولیاں کھا کےسو جاتی ہے یعنی کہ رات اٹھ بجے کے بعد کوئی ایشو نہیں ہوتا اور اگر کوئی ایشو ہو بھی تو میں سنبھال لوں گی آپ پریشان نہ ہو )میں آپ کو ایڈرس سمجھا دیتی ہوں ۔ میں:۔ ناہید چلو دیکھتے ہیں پھر کبھی موقع ملا ہو لازمی آوں گا ۔ میرا دل تھا کہ کسی دن اچانک رات کے وقت چلا جاوں تاکہ اگر ناہید کا کوئی پلان بھی ہو تو وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ ناہید:۔ ٹھیک ہے خرم جیسے آپکی مرضی لیکن میرا دل تھا کہ آج آپ چلتے کوئی آرام سے باتیں تو کرتے پوری راتے یہ کیا بات ہوئی کہ آپ آئے بھی ہو اور چلے بھی گئے ہو ۔ میں:۔ ناہید دیکھو نارا ض نہیں ہوتے وعدہ کرتا ہوں جب بھی کبھی دل ہو ا میں لازمی آوں گا اور رات کو روکوں گا ۔ ناہید:۔ خرم ایک بات کہوں مانو گے میں:۔ جی بولو آپکو پہلے بھی کہا ہے کہ بو ل دیا کریں اجازت نہ مانگا کریں ناہید:۔ میں چاہتی ہو ں کہ آپ سار ادن میرے ساتھ بات کیا کریں ساری رات بات کیا کریں بات کرتے کرتے نیند آجائے اور جب انکھ کھلے تو پھر کال شروع ہو جائے ۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کی جاب کے سلسلے میں میں آپکو تنگ نہیں کروں گی آپ اگر مصروف ہوں تو بے شک فون کو سائیڈ پر رکھ دیجیے گا ۔ (یہ سلسلہ آج تک جاری ہے آج اس بات کو چار سال ہونے کو ہیں آج تک ہم نے ایک دفعہ بھی کال بند نہیں کی ۔ اس وقت میں کہانی لکھ رہا ہوں اُس کی کال میرے موبائل پر لگی ہوئی ہے سکائیپ پر ) میں:۔ ناہید میرا تو کوئی ایشو نہیں ہے لیکن اگر آپ کے گھر والوں کو کوئی شک ہو ا اور ساتھ ساتھ آپ کے خاوند کی بھی کالز آتی ہو ں گی وہ کیا سوچے گا ۔ کوئِی مسلہ نہ بن جائے ناہید:۔ اس کا بھی حل ہے میں ابھی اپنی ایک سم نکلوال لیتی ہوں جو صرف اور صرف آپ کے لیے ہو گی ۔ اور خرم میرا آپ سے وعدہ ہے کہ اس سم پر صرف اور صرف آپکی کال ہی ریسو ہو گئی۔ میں:۔ ٹھیک ہے ناہید اگر ایسی بات ہے تو میں بھی ایک سم لے لیتا ہوں اور ایک موبائل بھی لے لیتا ہوں۔میری اس بات سے ناہید اتنی خوش ہوئی کہ نہ ہی پوچھ میں یہ سمجھا کہ اُسے سارے جہانوں کی خوشیاں میں گئِ ہیں۔ ناہید:۔ ٹھیک ہے خرم پھر نیک کام میں دیر کس بات کی ابھی چلو ابھی لے لیتے ہیں میں:۔ میں نے ویٹر کو بلوایا اور بل کا پوچھا تو بل تقریبا 1800کے قریب بنا تھا ۔ جو کہ جب میں دینے لگا تو ناہید نے کہا نہیں میں دیتی ہوں لیکن جب میں نے اُس کو دیکھا تو وہ چپ کر گئِ اور بل میں نے دے دیا۔ ناہید:۔ ٹھیک ہے پھر چلیں میں:۔ میں نے کہا ناہید آپ کس طرح آئیں گی یہ نہ ہو آپ کو میرے ساتھ کوئی گاڑی میں دیکھ لے ناہید:۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میرا سسر گھر پر میرے بیٹے کو سنبھالا ہو ا ہے اور باقی میں کسی سے نہیں ڈرتی اگر کسی نے پہچان لیا تو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ابھی نکلو میں لیٹ ہو رہی ہوں۔ میں:۔ یہاں پر بھی میں نے وہی کام کیا اُس سے پہلے میں تھوڑا سا آگے نکلا اور ہوٹل کا گیٹ کھولا اور جب ناہیدنکل آئِی تو گیٹ بند کیا اور اُسے اشارہ کیا کہ میری گاڑی کس طرف کھڑی ہے ۔ گاڑی کے قریب پہنچ کر میں نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور ناہید کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جسیے ہی ناہید بیٹھنے لگے تو اُس کا دوپٹے کا پلو دروازے سے باہر تھا میں نے دروازہ کھول کر اُس کے دوپٹے کا پلو زمین سے اُٹھا کر اُس کے ہاتھ میں دیا اور دروازہ بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹار ٹ کر دی۔ ناہید:۔ خرم کیا پوری زندگی میرا ایسے ہی خیال کرو گے ۔ میں:۔ ناہید اگر زندگی نے ساتھ دیا تو ضرور ایسا کروں گا ناہید:۔ خرم آپکا بہت شکریہ مجھے اتنی فوقیت دینےکا آج میں ایک بات کہ دوں کہ آج میں خوش ہو ں کہ میں نے جس بندے کے لیے اپنے گھر کی دہلیز سے باہر قدم نکالا ہے وہ بندہ کوئی خاندانی انسان ہے (یہ الفاظ ہو بہو میں وہی کہ رہا ہوں جو آج سے پانچ سال پہلے ناہید نے کہے تھے)۔ اسی دوران ہم لوگ موبائل مارکیٹ میں پہنچ گے میں نے وہاں سے HTCکمپنی کا موبائل لیا اور موبائل لینے کے بعد Zongکی فرنچائز پر گئے اور وہاں سے ہم نے دو سمز خرید یں۔ زونگ کی سم خریدنے کے بارے میں راستے میں ہماری ڈسکس ہو گیا تھا۔ جیسے ہی ہم لوگوں نے سم خریدی اُس وقت ناہید نے اپنی سم موبائل میں ڈالی اور میرے نمبرپر کال کر دی اور مجھے آنکھ کے اشارے سے سمجھایا کہ کال اٹینڈ کرو۔ میں نے کال اٹینڈ کی اور زونگ کی فرنچائز سے با ہر نکل آئے تو ناہیدنے مجھے کہا:۔ ناہید:۔ اچھا خرم اب میں چلتی ہوں اور باقی باتیں میں موبائل پر کرتی جاوں گی میں:۔ میں نے کہا ناہید اچھا تو نہیں لگتا کہ آپ کو اس طرح اکیلا جانے دوں لیکن مجبوری ہے کہ آپکے سسرا ل والے نہ دیکھ لیں ناہید:۔ نہیں نہیں خرم ایسی بات نہیں ہے میں سمجھتی ہوں اپنے معاشرے کو آپ پریشان نہ ہوں باقی باتیں میں کال پر کرتی رہوں گی۔ میں:۔ ٹھیک ہے ناہید آپ نکلیں میں بھی نکلتاہوں ناہید:۔ نے کال اپنے ہینڈ بیگ میں ڈالا اور ہیڈ فون اپنے سکارف کے اندر ڈال کر اپنے کانوں کے ساتھ لگا دیے اور کہا چلیں پھر باقی باتیں موبائل پر ہوں گی میں:۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور موبائل کو گاڑی میں چارجنگ پر لگایا اور کال پر بات شروع کر دی ناہید:۔ خرم آپ کو پتہ ہے میں موبائل پر کال کیو کر رہی ہوں میں :۔ نہیں ناہید مجھے اندازہ نہی آپ بتائیں کیوں ناہید:۔ خرم میں چاہتی ہو کہ اب زندگی میں جب تک میری سانس ہے میں صرف آپ سے بات کرتی رہوں میں:۔ یہیں پر میں نے دل میں سوچا کوئی بات کروں۔ میں نے کہا خالی بات ہی کرتی رہیں گی یا پھر ناہید:۔ خرم جو لڑکی ساری زندگی بات کرنے کا کہ رہی ہے آگے تو آپ نے بڑھنا ہے شاید اس بات سے خرم آپ کچھ سمجھ جائیں۔ میں:۔ ٹھیک ہے میں بھی پھر آج سے ہی آپ کو پھنسانے کی تیاری کرتا ہوں ناہید:۔ ہاہاہاہہاہاہاہاہاہاہاہا پھنس تو اُس دن گئی تھی جب پہلی ملاقات ہوئی تھی اگر آپ نہ اچھے لگتے تو کبھی بھی میں آپ سے ملنے ہوٹل میں نہ آتی بدھو میں:۔ خرم دل تو میرابھی یہی کہ رہا تھا لیکن آپ کے منہ سے سننے کا دل تھا کہ آپ مجھے کہیں کہ خرم آپ مجھے اچھے لگتے ہو ناہید:۔ خرم کتنی سپیڈ میں گاڑی چلا رہے ہو میں :۔ یار یہی کوئی 50 سے 60کے درمیان ہے کیونکہ راستے پر ٹریفک ہے اس وجہ سے ناہید:۔ میں نے اسی وجہ سے پوچھا ہے کہ کہیں زیادہ سپیڈ کی وجہ سےکوئی مسلہ نہ ہو جائے ۔ میں:۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ پریشان نہ ہوں ناہید:۔ نہیں خرم آپ نہیں سمجھو گے عورت کے دل کو اور نہ ہی آپ سمجھ سکو گے میں:۔ اچھا بابا آپ ٹھیک کہ رہی ہو اور بہت سی باتیں اسی دوران ہوتی رہی اور اسی دوران میں اپنے بنگلے پر پہنچ گیا جو کہ کمپنی کی طرف سے ملا ہو ا تھا۔ (اور یہ سلسہ آج تک جاری ہے آج تک ہم زیادہ سے زیادہ اُس وقت فون بند کرتے ہیں جب ہم سے کوئی سو جائے ۔ شاید اسی وجہ سے ہم ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں ۔ اگر کبھی فون بند بھی کرنا پڑ جائے تو ایک دوسرے کو بتا دیتے ہیں کہ اتنی دیر کال بند ہو گی اور وہ بھی زیادہ تر میری وجہ سے ہوتا ہے )۔ اس طرح کرتے کرتے کوئی پانچ مہینے گزر گئے اور میری حالت کچھ ایسی تھی کہ نہ ہی پوچھیں ایک تو ناہید مجھے کال کے علاوہ چھوڑتی نہیں تھی کہ میں کسی جگہ پر اپنا منہ مار سکوں اور دوسرا اس کا یہ فائدہ ہو ا کہ ہم لوگ بہت قریب ہو گئے ۔ اب ہماری باتیں زیادہ تر سیکس کی ہوتی تھی ۔ ایک دن کی بات ہے میں آفس سے گھر آیا اور ناہید کو کہا کہ ناہید میں ذرا چینچ کر لوں تو ناہید نے کہ ٹھیک ہے آپ چینج کر لیں لیکن ایک بات کہوں اگر برا نہ لگے تو میرے واٹس اپ پر اپنے لن کی تصویر بھیجیں۔ میں اس بات سے بڑا خوش بھی ہو ااور حیران بھی ہوا کہ یہ کیا بات کر دی اور ہنس کے کہا خیر تو ہے ناہید نے کہ بس مجھے نہیں پتہ میں نے آپ کا لن دیکھنا ہے ابھی اور اسی وقت میں نے کہا ٹھیک ہے میں بھیج دیتا ہو ں لیکن میری ایک شرط ہے ناہید نے کہا مجھے پتہ ہے آپ نے بھی میرے جسم کی تصویریں لینی ہوں گی یا پھدی دیکھنی ہو گی ۔ میں نے کہا نہیں ناہید میری یہ شرط ہے کہ آپ کےدل میں میرے لن کے لیے جو بھی خیال آئے گا آپ اُس وقت مجھے وہ بتائیں گی۔ ناہید نے کہا ٹھیک ہے میں جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (دوستومیں یہاں پر یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ میرے اندر کچھ چیزیں دوسرے لوگوں کی نسبت بہت مختلف ہیں ۔ اور اسی وجہ سے میرے اندر سیکس کی پیاس، میری ٹائمنگ ، میری لن کی لمبائی اور موٹائی بہت مختلف ہے بہت ہی زیادہ۔ اصل میں آج کل لوگ سبزیاں بہت کم کھاتے ہیں، زیادہ تر چائے پیتے ہیں ، رات کو سوتے وقت دودھ نہیں پیتے ، جو لوگ زیادہ چائے پیتے ہیں اُن کی ٹائمنگ بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے اُن کی گھریلو زندگی بھی بہت خراب ہوتی ہے ۔ اپ آزما لیں آپ آج سے سبزیاں کھاناشروع کر دیں ، گوشت کم کھائیں اور چائے تو بالکل ہی ختم کر دیں کچھ ہی دنوں کے بعد آپ کی ٹائمنگ زیادہ ہو جائے گی) میں اپنے کپڑے تبدیل کرنے کے لیے چینج روم میں گیا اور اپنے لن کو کھرا کر کے تصویر بھیجنے کی بجائے ایسے ہی ایک تصویر بھیج دی ۔( اصل میں میرا دل تھا ناہید کو زیادہ سے زیادہ تڑپانے کو کہ وہ پاگل ہو جائے اور خود کہے کہ اسے کھڑا کر کے تصویر بھیجو۔)میں یہاں پر اپنے لن کی کچھ ڈیٹیل بھی بتانا پسند کروں گا تاکہ کہانی پڑھنے والوں کو سمجھ آ جائے اور اگر ہو سکا تو میں اس کی تصویر بھی کہانی کے اینڈ پر لگا دوں گا ۔ لن کی لمبائی؛۔ نارم اگر آپ آپنے ہاتھ کو اپنے سامنے رکھیں یعنی کہ ہاتھ کی تلی اپ کی طرف ہے تو جو ہاتھ میں سب سے بڑی انگلی ہوتی ہے وہا ن سے لے کر جہاں ہاتھ کی کلائی سے ۱یک انچ بازو والی سائیڈ پر یا پھر اپ کے پاس اگر کچی پنسل پڑی ہے تو نئی کچی پنسل کے سائز کو اگر ایک انچ بڑا کر لیں تو یہ میرے لن کا سائز ہے اور یہ سچ ہے کوئی جھوٹ نہیں ہے۔ لن کی موٹائی:۔ میرے لن کی موٹائی اپنی پہلی انگلی کو اگر انگوٹھے کے ساتھ ملائِیں اور انگوٹھے والا اوپر والا جو حصہ ہے اُس کے شروع پر ملا دیں تو یہ میرے لن کی موٹائی ہوتی ہے تقریبا دو سے اڑھائی انچ موٹا لن ہے میرا جب لن نارمل حالت میں ہوتا ہےتب جب لن میرا نارمل حالت میں ہوتا ہے تو اُس کو آرام سے جب پکڑتے ہیں تو پورا لن ہاتھ میں آجاتا ہے اور ۲ انچ ہاتھ سے باہر ہوتا ہےیعنی اگر لن کو اپنی مٹھی میں بند کریں تو پورا لن ہاتھ میں ہو گا اور لن کی ٹوپی اور ۲ انچ ٹوپی سمیت مٹھی سے باہر ہو گا۔ میرا جسم:۔ میرے جسم پر بال بہت کم ہیں اور بہت ہی نرم جسم ہے میرا بہت ہی نرم یعنی کوئی بھی شخص کوئی بھی عورت جب ایک دفعہ میرے ہاتھ سے ہاتھ ملاتی ہے تو ایک دفعہ یہ بات لازمی کرتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ بڑے نرم ہیں۔ ہہہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ تصویر دیکھتے ہی ناہید کی کال آگئی میں نے کال ریسیو نہ کی کیونکہ کپڑے تبدیل کر رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد کال دوبارہ آئی تو میں نے اٹینڈ کی اور کرتے ہی صرف ایک بات کی کہ اگر میرے لن کو دیکھ کر کوئی غلط بات دل میں آئی ہے تو بے شک نہ بتائیں تو ناہید نے مجھے کال پر ہی ایک لمبی کس کی ummmmmmmmmmahاور کہا خرم جس سے بھی اپ کی شادی ہو گی میں لکھ کے دیتی ہوں وہ ایک ہفتہ تو چل نہیں سکے گی اگر ابھی آپ کو وہ بیٹھا ہے اور اُس کی یہ حالت ہے تو جب کھڑا ہو گا تو میں تو کانوں کوہاتھ لگاتی ہوں ۔ (یہ بات سن کے میں نے اُسی وقت سوچا کہ اس ویک اینڈ پر میں لازمی جاوں گا اور ناہید کی پھدی لازمی بجاوں گا بس چاہئے کچھ بھی ہو جائے) میں:۔ ناہید ناہید:۔ جی میر ی جان بولو میں سن رہی ہوں میں:۔ ایک بات مانو گئی اگر بُری نہ لگے تو ناہید:۔ نہیں میری جان کوئی بات بُری نہیں لگے گی میں:۔ ناہید آج کے بعد اپ میرے لن کو لن ہی کہیں گے وہ والا لفظ یعنی آپ کا وہ بہت اچھا ہے آپ کا وہ بہت چھوٹا ہے نہیں کہیں گے بس یہ کہنا تھا ناہید:۔ جان جیسا آپ کا حکم میں:۔ ناہید آپ نے بتایا نہیں میرا لن کیسا لگا آپ کو یہ اس وجہ سے پوچھ رہا ہوں کہ ہر مرد کو اچھا لگتا ہے اپنے لن کے بارےمیں بات سننا اُس کی تعریف سننا اپنی مردانگی کے بارے میں بھی اچھا لگتا ہے ۔ ناہید:۔ خرم بس میں یہ کہوں گی جس بھی بندی کے اندر یہ لن کھڑا ہو کر گیا یاد رکھو خرم وہ بندی مر تو سکے گی لیکن آپ سے جدا نہ ہو سکے گی اور یہ میر ا چیلنج ہے ۔ میں :۔ ہے ناہید کاش کوئی پھنس جائے ۔ میں تو صبح شام اُس کی بجاوں گا ناہید:۔ خرم لگتا ہے آپ کی نظر کمزور ہے میں:۔ نہیں ناہید میں سمجھا نہیں ناہید:۔ نہیں کچھ نہیں میں:۔ اب نخرہ نہ کرو ناہید بتاو ناہید:۔ بندی اپ کے سامنے پھنسی ہوئی ہے اپ سے اپ کے لن کی تصویر مانگ رہی ہے تو آپ کو نظر نہیں آ رہا ہے میری قسمت کسی اندھے سے واسطہ پڑ گیا ہے ۔ یہ بات کہ کر ناہید نے فون بند کر دیا میں نےدوبارہ کال ملائی لیکن ناہید نے کال اٹینڈ نہ کی اور خالی ایک میسج کر دیا کہ مجھے شرم آرہی ہے تھوڑی دیر کے بعد بات کروں گی۔ میں نے بھی ایک میسج کر دیا کہ مجھے بہت اچھا لگا کے مجھ سے نہ شرماو اور کال اٹینڈ کرومیں نے کال کی تو ناہید نے کال اٹینڈ کی اور کہا سوری خرم بس جو بات دل میں تھی وہ کہ دی اگر بُرا لگا ہو تو سوری میں:۔ ناہید ناہید:۔ جی میری جان میں:۔ ناہید اصل میں جب پارک میں آپ کو میں نے دیکھا تو اُسی وقت میں اپ پر مر مٹا تھا سچے دل سے ناہید:۔ تو آپ نے اتنی دیر کیوں کر دی بتانے میں یہ بات کرتے ہی ناہید رو پڑی کیا مجھ سے اقرار کروانا تھا اپ نے کہ میں دل و جان سے آپ پر مر مٹی ہو ں میں :۔ نہیں ناہید ایسی کوئی بات نہیں ناہید:۔ خرم ایک بات یاد رکھنا میں ایک شادی شدہ عورت ہوں لیکن ایک بات مجھے بھی پتہ ہےکہ جب ایک عورت گھر سے کسی سے ملنے کے لیے قدم با ہر نکالتی ہے تو مرد جتنا بھی اُس پر مرتا ہو زندگی میں ایک نہ ایک دفعہ اُسے یہ طعنہ لازمی دیتا ہے کہ تم تو ہو ہی ایسی تم تو گھرسے مجھے سے ملنے کے لیے نکل آئی تھی جب مجھے ملنے آسکتی تھی تو اور پتہ نہیں کیا کیا نہیں کرتی ہو گی ، مرد یہ نہیں سمجھتے کہ عورت اگر گھر سے نکلتی ہے تو وہ اُس کی محبت کی وجہ سے نکلتی ہے ۔ خیر میں یہ کہ رہی تھی کہ میں ایک شادی شدہ عورت اور ایک بچے کے ماں آپ مر تو سکتے ہو لیکن میرے ساتھ شادی نہیں کر سکتے اور میں یہ بات چاہتی بھی نہیں ہوں کہ آپ سے شادی ہو لیکن ایک بات کا وعدہ کرتی ہوں آج سے ناہید آپ کی ہوئی بس میں:۔ میں تو بالکل چپ ہو گیا میرے تو ٹٹے ہی شاٹ ہو گئے کہ یہ کیا ہو گیا میں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا ۔ ناہید:۔ خرم اگر کوئی بات بُری لگی ہو تو معاف کرنا میں نے جو کہا وہ سو فیصد سچ ہے میں مزید جھو ٹ کے سہارے نہیں چل سکتی تھی میں:۔ میں نے کہا نہیں ناہید ایسی بات نہیں ہے اپ پریشان نہ ہوں میں کبھی بھی آپ کو طعنہ نہیں دوں گا یہ میرا وعد ہ ہے آپ سے ناہید:۔ ummmmmmmmmmmmmmmmmah میں:۔ خیر تو ہے ناہید بڑا پیار آ رہا ہے میرے اوپر تب ناہید نے ایک غزل پڑھی میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر مجھے سوچا نہ کر مجھے جانا نہ کر میں ہوں باد صبا جو کہ روکتی نہیں میں ہوں ایسی گھٹا جو کہ برستی نہیں میرے پاگل پیا میری چاہت نہ کر میں:۔ ناہید اور سناو نہ ناہید:۔ پھر کبھی سناوں گی ۔ اور ہاں خرم ایک بات اور کہنی تھی میں :۔ جی بولیں ناہید:۔ ایک وعد ہ اور کرتی ہوں آج کے بعد زندگی میں کبھی بھی میں اپنے خاوند کے پاس نہیں جاوں گی اور یہ سچ ہے۔اور اس بات پر آج تک ناہید قائم و دائم ہے جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دن میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ مجھے ہیڈ آفس سے میرے GMکا فون آیا GMصاحب کا نام میں اس کہانی میں خالی GMہی لکھوں گا GM:۔خرم کیسے ہو اور دن کیسے گز ر رہے ہریں ایبٹ آباد میں میں:۔ سیر میں بالکل ٹھیک ہو ں اور دن تو بہت ہی اچھے گزر رہے ہیں GM:۔خرم ایک چھوٹا سا کام ہے اس کام کے لیے میں کسی او ر کو بھی کہ سکتا تھا لیکن مجھے صرف آپ پر اعتبار ہے ۔ اگر زیادہ مصروفیت نہ ہو تو کر سکو تو بتا دیتا ہوں۔ میں:۔ سر آپ حکم کریں کام ہو جائے گا GM:۔خرم اصل میں ہمار ا جو آفس ہے نہ شنکیاری (مانسہرہ کے ساتھ ایک شہر ہے )اُس کی مجھے دن بہ دن کچھ کمپلین آ رہی ہے آپ نے اپنے طور پر اچانک جانا ہے اور اُس کو چیک کرنا ہے کہ کیا کمپلینز جو آرہی ہے وہ صحیح ہیں یا غلط اور مجھے ایک رپورٹ میں ساری تفصیل بتانی ہے لیکن ایک بات کہوں گا کہ آپ کے دورے کا کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے ۔ میں:۔ سر یہ تو کوئی ایشو نہیں ہے لیکن سر وہ پر دورہ کسی لحاظ سے کرناہے اور آپ کو رپورٹ کس چیز کی دینی ہے GM:۔خرم سنا ہے کہ وہاں کا جو انچارج ہے وہ ورکرز کی تنخواہوں میں سے پیسے کاٹتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ہیڈ آفس کی طرف سے کٹنگ ہوئی ہے آپ نے پچھلے 6ماہ کی تنخواہ کا ریکارڈ چیک کرنا ہے میں:۔ سر ٹھیک ہو گیا یہ کام ہ جائے گا لیکن سر ایک میں طرف سے درخواست ہے کہ اگر میں اس تنخواہ کے دوسرے دن چلا جاوں تو کیا بات ہے تاکہ وہ اس تنخواہ کی کٹوتی بھی کر لی ہو تاکہ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے GM:۔خرم ایڈیا تو بُرا نہیں ہے بالکل ٹھیک ہو گیا ۔ اور اُس وقت تک میں آپ کو ایک آفیشل لیٹر بھی بھیج دیتا ہوں جس میں آ پ کے دورے کے بارے میں ذکر ہو گا میں:۔ سر بالکل ٹھیک ہو گیا GM:۔اور ہاں خرم آنے اور جانے کا جتنابھی خرچہ ہو گا وہ آپ نے بل بھیج دینا ہے ہیڈ آفس اپ کو اُسی وقت پے منٹ کر دے گا میں:۔ اُسی وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ناہید کا گھر بھی مانسہر ہ میں ہے تو کیوں نا GM:۔ کے سامنے نمبرز بنا لوں۔ سر بل کی کوئی بات نہیں میرے جاننے والے ہیں مانسہرہ میں میں رات کو اُن کے پاس ر ک جاوں گا دوسری صبح سویرے شنکیاری پہنچ جاوں گا وہاں سے کام ختم کر کے میں واپس آ جاوں گا رات کو جاننے والوں کے پاس رک کر تیسرے دن رپورٹ اپ کو بھیج دوں گا GM:۔خرم بہت شکریہ آپ کا میں:۔ نہیں سر ایسی کوئی بات نہیں GM:۔اوکے خرم Good Bye میں:۔ سر ٹھیک ہو گیا جیسے ہی GM:۔ کی کال بند ہوئی میں لن میں بہت زیادہ مستی چڑھ گئی کہ کچھ ہو نہ ہو اس ویک اینڈ پر میں نے ناہید کی پھدی ٹھیک طرح سے بجانی ہے اور پیار بھی بہت کروں گا ساتھ ہی یہ دل ڈر گیا کہ ناہید کو اچانک سرپرائز دینا ہے تاکہ وہ کسی کو بلا نا سکے اور مانسہرہ پہنچنا بھی رات کو 9بجے کے بعد ہے تاکہ اُس کا سسر اور ساس سوبھی جائیں اور ویسے بھی ناہید کال پر لگی ہوتی ہے میرے ساتھ باتوں باتوں میں حالات کا بھی پوچھ لوں گا اس کےبعد میں دفتر کے کاموں میں مصروف ہو گیا پھر تھوڑی دیر کے بعد ناہید کی کال آگئی میں نے کال اٹینڈ کی ناہید:۔ کیسی ہے میر ی جان کی جان میں:۔ آپ کی جان ٹھیک ہے ناہید:۔ کیا کر رہے ہوں میں:۔ پہلے تھوڑا مصروف تھا ابھی ٹٹے کھرک رہا ہو ں یعنی کہ کوئی کام نہیں ہے ناہید:۔ ہاہاہاہہاہاہاہاہاہا مجھے بتاو میں کھرک دیتی ہوں کوئی تو بہانے ملے اپ کے لن کو پکڑنے کا اور ٹٹوں کو کھرکنے کا میں:۔ ناہید ایسی باتیں نا کیا کروں میرا لن کھرا ہو جاتا ہے اور جب کھرا ہو جاتا ہے تو پھر پھدی لے کر ہی چھوڑتا ہے ناہید:۔ پھدی حاضر ہے آجاو اور لے جاو میں:۔ نہیں ناہید ابھی نہیں ناہید:۔ جیسے اپ کی مرضی اچھا میں نے اس لیے فون کیا تھا کہ اس ویک اینڈ پر کہیں بزی تو نہیں ہو اصل میں میں نے امی اور ابو سے ملنے ایبٹ آباد آنا ہے سوچا جان سے پوچھ لوں اگر بزی نہیں ہو ویک اینڈ پر تو آجاتی ہوں اور اگر اآپ بزی ہو تو میں اگلے ویک اینڈ پر آجاو ں گی میں:۔ نہیں ناہید میں اس ویک اینڈ پر کسی کام کے سلسلے میں ہیڈ آفس جانا ہے (یہ جھوٹ اس وجہ سے بولا تاکہ ناہید ایبٹ آباد نہ آجائے ) اپ اگلے ویک اینڈ پر آجانا ناہید:۔ ٹھیک ہے میری جان اچھا کمرے میں کب جاو گے میں:۔ بس جب دل کرے گا چلا جاوں گا ناہید:۔ اچھا جب کمرے میں پہنچ جانا تو بتانا ایک چیز بھیجوں گی آپکو میں:۔ کیا چیز بھیجو گی ناہید:۔ بس ہے کوئی خاص چیز جب آئےگی تو بتانا کہ کیسی لگی میں:۔ اچھا روکو بس میں بھی نکالتا ہو ں ابھی گھر کے لیے ناہید:۔ ٹھیک ہے نکلو میں:۔ نے فون سائیڈ پر رکھا اور آفس سے نکل کر گاڑی میں بیٹھا اور بیس منٹ کےبعد بنگلے پر پہنچ گیا اس دوران ناہید سے بہت سی باتیں بھی ہوتی رہی جب بنگلے پر پہنچ گیا تو کہا ناہید کو ہاں بولو کیا بھیجنا تھا ناہید نے کہا دو منٹ انتظار کر ابھی واٹس آپ کرتی ہوں میں نے کہا ٹھیک ہے آپ واٹس آپ کر و میں چینج کر لوں میں چینج کر کے آیا تو کوئی 35واٹس اپ پر تصویری آئی ہوئی تھی میں نے جب واٹس آپ ان کیا تو یقین جانیں میرے زندگی میں پہلی دفعہ واقعی ٹٹے شاٹ ہو گئے وہ ساری کی ساری ناہید کی ننگی تصویریں تھی اور وہ بھی اپنے فیس کے ساتھ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ تصویریں کیسی تھی ایک تصویرمیں ناہید نے اپنے مموں کو دبایا ہو تھا اور مجھے پکا انداز تھا کہ اُس کے مموں کا سائز لازمی 40تھا اُس کے ممے بالکل سخت تھے یقین جانیں میں جھوٹ نہیں بول رہا ایسے لگ رہا تھا جیسے کہ اس کے اندر بہت سخت قسم کی ہوا بھری ہوئی ہو۔ بہت سخت ممے تھے اور اُس کے اور نپلز براون کلر کے اور پھٹنے والے ہو گئے تھے دل کرتا تھا کہ اُس کے مموں کو لے کر چوسنا شروع کر دے دوسری تصویر میں ناہید نے اپنی پھدی دکھا ئی تھی اُس کی پھدی بالکل چھوٹی سی تھی لگتا ہی نہیں تھا کہ اس پھدی سے ایک بچہ بھی پید اہو چکا ہے ۔ اور ایک تصویر میں اُس نے اپنے لپس دکھائے تھے ایک تصویر میں اُس نے اپنے گال دکھائے تھے اور بہت سے مزے مزے کی تصویریں دکھائی تھی ناہید:۔ کچھ مزہ آیا خرم میں:۔ ناہید یہ کیوں کیا ہے آپ نے ناہید:۔ خرم یہ اس وجہ سے کیا ہے تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ یہ جسم اپکا ہے آپ ہی اس سے دور ہیں اور دوسری بات یہ اس وجہ سے بھی آپ کو بھیجی ہے تاکہ آپ کے ساتھ رشتہ میرا پکا ہو جائے ۔ آپ یہ نا سوچتے رہیں کہ یہ اپنے خاوند کے پاس بھی جاتی ہو گی اور میرے ساتھ بھی میں:۔ نہیں ناہید ایسی بات نہیں ہے میں نےکبھی ایسا نہیں سوچا ناہید:۔ ٹھیک ہے اس دوران بہت سی باتیں ہوتی رہی اور روزانہ کی طرح پوری رات باتیں ہوتی تھی اور ساری ساری رات باتیں اور سارا سار ا دن باتیں اس طرح کرتے کرتے جمعے کا دن آگیا اور آ ج میں نے جانا تھا شنکیاری اور ادھر سے ناہید کی کال ہی بند نہیں ہو رہی تھی میں نے سوچا اس کو کیسے میں چپ کرواں اور اس کا فون بند ہوخیر میں تیار ہو ناہید نے پوچھا کہاں کی تیار ی ہے میں نے کال پر بتایا تو تھا کہ اس ویک اینڈ پر ہیڈ آفس جانا ہے ۔ ناہید نے کہا ٹھیک ہے ہاں میں بھول گئی تھی ۔ ناہید نے کہا اور سناو جان بات تو ہوتی رہے گی خرم اصل میں اب آپ سے بات کیے بنا رات کو نیند نہیں آتی میں نے کہا ناہید آپ پریشان نہ ہو اس ویک اینڈ پر میں آپ کو بالکل بھی سونے نہیں دوں گا (ہاہاہاہہہاہاہاہاہاہ) ناہید:۔ ہماری ایسی قسمت کہاں میں:۔ قسمت کو مت برا بھلا کہو اچھا تھوڑا انتظار کرو میں موبائل چارجنگ پر لگا لوں ساتھ ساتھ بات بھی کرتا ہون ناہید:۔ ایک منٹ انتظار کرو شاید ساتھ گھر والوں سے کوئی آیا ہے میں ان کو ذرا دیکھ لوں آپ بھی اپنے کام کرو اور ہاں اپنا فون کی کال کی آواز میوٹ کر دو تاکہ میں جب کیسی کے ساتھ بیٹھی ہوں آپ کی آواز نہ آئے میں میں:۔ ٹھیک ہے ناہید اپ بھی کام کر لو اور میں بھی فری ہو کر بات کرتا ہوں ناہید :۔ نے بہت زور سے لمبی کسی کی اور چلی گئی شام کے آٹھ بجے میں اپنے بنگلے کے گیراج میں آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر جیسے ہی گاڑی سٹارٹ کی مجھے خیال آیا میں گاڑی پر تو چلا گیا لیکن ناہید کے گھر کھڑی کہاں پر کروں گا لہذا میں نے ویگن پر جانے کا سوچا اور باہر بنگلے سے باہر نکل آیا ۔ اسی دوران میں نے کوشش کی کہ موبائل کو میوٹ پر لگا کر رکھوں تاکہ ناہید کو پتہ نہ چلے کہ میں مانسہر ہ آ رہا ہے ۔ میں تقریبا رات 940پر مانسہر ہ اڈے پر پہنچا اور دیکھا تو ناہید کی کال ختم ہو گئ تھی یا پھر کٹ گئ تھی میں نے کال کی تو ناہید نے اُٹھا ئی اور کہا خیر یت آج پہلی دفعہ کال کٹنے کے بعد اپ نے بہت دیر کے بعد کال کی ہے میں نے کہا کہ بس ہیڈ آفس سے کال آگئی تھی تو اُن کے ساتھ بات کر رہا تھا ۔ میں:۔ ناہید کیا کر رہی ہو ناہید:۔ وہی یا ر روز مررہ کے کام کر رہی ہوں ابھی برتن دھویں ہیں کچن میں رکھ کر ابھی کمرے میں جا رہی ہوں میں:۔ کیوں آج بات نہیں کرنی ناہید:۔ خرم ایسی بات نہ کیا کرو اپ سے بات کرنے کے لیے ہی تو کمرے میں جا رہی ہوں میں:۔ اچھا اچھا اس دوران میں نے سوچا کہ کس طرح اس سے پچھوں کہ اُس کے سسر اور ساس سو گئے ہیں میں:۔ کیو ں آج آپ کے سسر اور ساس سو گئے ہیں ناہید:۔ ہاں وہ تو کھانا کھا تے ہی سو جاتے ہیں میں:۔ اور خیر تو ہے آج بیٹا بھی جلدی سو گیا ہے ناہید:۔ ہاں یا اس کو جلدی سونے کی عاد ت ڈالی ہے تاکہ مجھے اپ سے بات کرنے میں تنگ نہ کیا کرے اسی دوران باتیں کرتے کرتے میں ناہید کے گھر کی طرف پیدل ہی چل پڑا (گھر کا ایڈریس میں بہت پہلے ہی باتوں باتوں میں پوچھ چکا تھا) یہا ں پر ایک چیز میں بتانا چلوں مجھے گھر کے ایڈرس کا تو پتا تھا لیکن مجھے گھر یہ نہیں پتا تھا کہ گھر کا دروازہ کس کلر کا ہے ۔ میں تھوڑا چپ ہو ا تو ناہید نے کہا ناہید:۔ خرم کیوں چپ ہو گئے ہو میں:۔ ایک مشکل میں پھنس گیا ہوں ناہید:۔ جلدی سے بولی ہے خیر ، جلدی بتا و کیا ہوا میں:۔ ناہید ناراض تو نہیں ہو گی ناہید:۔ اب بکو بھی جلدی کیوں پریشان کرتے ہو میں:۔ ناہید میں آپ کی گلی میں پہنچ گیا ہوں لیکن گھر کے دروازے کا نہیں پتہ کہ کس کلر کا ہے ناہید:۔ نے بہت ذور سے بولی یو ں سمجھ لیں کہ چیخی کہ قسم کھاو تم میری گلی میں آئےہو اور میرے پاس آئے ہو میں :۔ ناہید آپ کی قسم جلدی بتاو گھر کون سا ہے کوئی دیکھ نہ لے مفت میں مسلہ بن جائے گا ناہید:۔اچھا اچھا فون بن نہ کرنا میں دروازہ کھولتی ہوں میں:۔ اچھا جلدی کرو ناہید:۔ جلدی جلدی گھر کے دروازے پر پہنچی تو جیسے اُس نے دروازہ کھولا تو مجھے دور سے دروازہ کھلنے کی آواز آئی تو میں اُس سمت چل پڑا جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جب اُس طرف چل تو کوئی سایہ سا دروازے سے نکل کر باہر کھڑا تھا ،میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ناہید تو یہ نہیں ہو سکتی میں اسی سوچ میں مصروف تھا تو ناہید کی آواز مجھے موبائل میں سنائی دی ناہید:۔ خرم یہ آپ آ رہے ہو میں:۔ آ تو میں رہا ہوں لیکن یہ باہر کون کھڑا ہے ناہید:۔ خرم یہ میں کھڑی ہوں میں:۔ ناہید آپ باہر کیوں آئی ہو آپ چلو اندر میں آ رہا ہوں ناہید:۔ خرم جلدی آو میں:۔ میں نے کہا اچھا بابا آرہا ہوں ۔ اور میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی سی تیز کر دی اور دروازے کے پاس پہنچ گیا دیکھا تو وہ ناہید تھی نہ تو اُس کا دوپٹہ تھا اور نہ ہی پاوں میں اُس نے چپل پہنے ہوئے تھے میں:۔ اسلام و علیکم ناہید:۔ خرم بس یہ کہوں گی کہ اپ نے مجھے خرید لیا ،میری حالت دیکھ لیں نہ تو دوپٹہ کیا اور نہ ہی پاوں میں جوتی ہے آگے آپ خود سمجھ دار ہیں میں:۔ ٹھیک ہے با با اندر چلو گی یا پھر یہی پر رہنا ہے ناہید:۔ آگے کی طرف اشارہ کیا اور میرے پیچھے چل پڑی اور میں نے آج زندگی میں پہلی دفعہ یہ کام کیا تھا (اور یہ سچ ہے ) کہ کسی کے گھر ملنے گیا ناہید:۔ خرم ذراہ دروازے کے پاس رُک جانا میں:۔ ٹھیک ہے ۔ میں دروازے کے سامنے رُک گیا۔ ناہید کے گھر سے اُس کی اچھے حالات کا پتہ چل گیا کہ یہ ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے ، کیونکہ میری آنکھوں نے جو دیکھا تھا وہ کچھ اس طرح تھا، جیسے ہی گیٹ میں داخل ہو تو گیٹ کے اوپر برآمدہ ٹائیپ چھت تھی یعنی کہ گیٹ کے اوپر چھت تھی اور وہ پوری کی پورے صحن کے اوپر بھی تھی ، سامنے ایک سوزکی کلٹس کھڑی تھی ، اور ایک، اُس کو کراس کر کے سامنے ایک دروازہ تھا ۔ ایک سیائیڈ پر گیلری جا رہی تھی پیچھے کی طرف اور وہ بعد میں دیکھی تھی ، دروازہ جیسے ہی کھولیں تو ایک ٹی وی لانچ تھا ، ایک طرف کیجن اور کیچن کے ساتھ کمرہ ، پھر درمیان میں ایک کمرہ ، اور ایک کمرہ بالکل کونے میں تھا ، اور ساتھ ہی ایک مہمانوں کے لیے بھی کمرہ تھا جس کا دروازہ بھی دوسری طرف گیلری میں کھلتا تھا(یہ بعد میں مجھے اس کمرے کا اندازہ ہوا) میں ابھی تک مین گیٹ کے پاس ہی کھڑا تھا، یہاں میں اپکو یہ بتاتا چلوں باتو ں باتوں میں تو میری اور ناہید کی کسنگ ہوتی تھی کالز پر لیکن آج ہم لوگ آمنے سامنے تھے ناہید تو مجھے دیکھ کر ہی پاگل ہو گئی تھی ، اُس نے میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑی یقین جانیں وہ ایسے جا رہی تھی کہ جیسے سب کو پتہ ہے کہ میں آج اآنے والا ہوں، اُسے کوئی ڈر نہیں تھا، خیر وہ مجھے اپنے کچن کے ساتھ والے کمرے میں لے گئی ۔جیسے ہی میں کمرے کے اندر گیا تو کمرے کی حالت کچھ اس طرح تھی کمرے میں نیچے ایک بہت ہی اعلی کوالٹی کا کالین بچھا ہوا تھا ، جس کے اندر میرے پاوں بالکل دھنس گے تھے، کمرے کے درمیان میں ایک ڈبل بیڈ تھا جس پر کم از کم بہت ہی نرم قسم کے پانچ کے قریب چھوٹے چھوٹے تکیے پڑے تھے ، کمرے کی ایک سائیڈ پر بہت ہی اعلی کوالٹی کا پانچ سیٹر سوفہ پڑا ہو ا تھا دور سے ہی صوفے کی نرمی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ، ایک عدد اے سی لگا ہو ا تھا اور 75انچ کی سونی کمپنی کی ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی (اگر زندگی نے ساتھ دیا تو میں اُس کمرے کی تصویریں لازمی شیر کروں گا ، شاید لوگ میری اس کہانی کو جھوٹا سمجھ رہے ہوں) میں آرام سے کمرے میں داخل ہو اور دروازے کے ساتھ ہی اپنے چپل جب اُتارنے لگا تو ناہید نے کہا نہیں آپ چپل نہ اُتار اپ چلیں بیڈ پر بیٹھیں ، میں نے کہا کیوں ناہید نےکہا نہیں اپ چلیں میں بتاتی ہوں ، میں:۔ ناہید اپ کم ا ز کم چپل تو پہن لو ناہید:۔ خرم میں ہر کام کر لوں گی پہلے آپ ریلکس ہو کے بیٹھ جائیں میں آرام سے گیا اور بیڈ کے اوپر ٹیک لگا کے بیٹھ گیا ، میں کچھ اس طرھ سے بیٹھا ہو ا تھا کہ میرا دائیں پاوں چپل کی وجہ سے بیڈ سے نیچے تھا اور بائیں ٹانگ بیڈ کے اوپر تھی ، میں آرام سے بیٹھ تو بیڈ کی دوسری طرف سے ناہید آئی اور سائیڈ پر تکیے پڑے ہوئے تھے وہ اُس نے میرے سر کے نیچے رکھ دیے، اور آرام سے میرے سامنے آکر کھٹری ہو گئی ابھی تک ناہید نے نا تو جوتا پہنا تھا او ر نہی ہی دوپٹہ لیا تھا ، اُس کے ممےایسے لگ رہے تھے جیسے کہ بس پھٹنے والے ہوں ، ناہید آرام سے نیچے ہوئی اور میری جوتی اُتارنے لگی(قسم سے یہ سچ ہے ) میں نے ناہید کو کہا میں:۔ ناہید پلیز اگر میر ی اپ کے دل میں کوئی بھی عزت ہے تو خدارا کبھی میرے دو کام نہیں کرنے آپ نے ناہید:۔ جی خرم بولیں وہ کون سے دو کام ہیں میں:۔ کبھی بھی زندگی میں میرے نہ تو جوتے پالش کرنے ہیں اور نہ ہی اُتارنے ہیں، اور دوسرا کبھی وقت آئے گا تو آپ کو بتا دوں گا ناہید:۔ خرم ایسی کیا بات ہے جو آپ نے مجھے یہ کام کرنے سے روک دیا میں:۔ ناہید عورت کی اپنی ایک عزت نفس ہوتی ہے اور میں وہ انسان نہیں کہ اُس عورت سے اپنے جوتے پالش کراوں اور اُس سے اپنی عزت کرواں، (اور یہ سچ ہے زندگی میں کبھی مجھ سے کوئی ملا تو میرے اس سچ کو بھی خود ہی دیکھ لے گا ) ناہید:۔ اچھا بیٹھو اور آرام سے ٹی وی پر کچھ دیکھو میں دو منٹ میں کچن میں گئی اور کچھ بنا کے لاتی ہوں ، کھانا کھایا ہے میں:۔ نہیں ناہید اگر بُرا نا لگے تو کسی تکلف میں نہ پڑو بس ادھر او اور میرے ساتھ میرے بیڈ پر میرے بائیں بازو کے ساتھ لیٹ جاو باتیں کرتے ہیں ناہید:۔ خرم بتاو نہ کچھ تو بتاو کیا کھاو گے میں:۔ اچھا دیکھ کوئی چکن پڑا ہے تو اُسے خالی کالی مرچ کے ساتھ روسٹ کر کے لے او اور یہ نہ ہو کہ رات کے اس وقت کچن میں آپ کے جانے سے آپ کے سسر وغیرہ آ جائیں اور ناہید:۔ نہیں خرم ایسی بات نہیں ہے اور اگر کسی نے آنا ہو ا تو میں بتا دوں گی بس آپ آرام کرو اور ٹی وی دیکھو میں آتی ہوں میں:۔ ٹھیک ہے ناہید اس کے بعد ناہیدکچن میں چلی گئی تو میں اُس کے بیٹے کے پاس آ کر بیٹھ گیا بہت ہی پیار ا بیٹا تھا ناہید کا ، کوئی آدھے گھنٹے سے زیادہ ٹائم کے بعد ناہید آئی اور ایک بہت ہی بڑی پلیٹ میں کم از کم ایک کلو کے قریب چکن کو روسٹ کر کے لائی تھی ، ( اور آج تک یہ عادت ہماری پکی ہے میں جب بھی ناہید کے گھر جاتا ہوں اُس دن بہت سے چکن کالی مرچ کے ساتھ بنا ہو ا کھاتا ہوں)اور چکن کے ساتھ سبز مرچ کی چٹنی ، اور وہ بھی پودنے والی خیر ناہید کے ہاتھ کا بنا ہو چکن میں نے کھا نا شروع کیا بہت ہی مزے کا بنا ہو تھا ، اور یقین جانیں سارے کا سارے چکن میں اور ناہید کھا گئے ، اس کے بعد ناہید کو میں نے کہا کہ کوئی درنک ہے تو لے ، ناہید نے کہا سوری خرم گھر میں اس وقت نہیں ہے اگر پھر کبھی آئے تو آپ کی ہر چیز پوری پڑی ہو گی۔ خیر اس کے بعد میں نے ناہید کو کہا کہ چھوٹی لائٹ جلا لو اور بیڈ پر آ جاو ہم لو گ باتیں کرتے ہیں، ناہید گئی اور لائٹ بند کی اور اور میرے ساتھ بیڈ پر آگئی، ہم لو گوں نے باتیں کرنا شروع کی پتہ نہیں کون کون سی باتیں تھی ، تقریبا رات کے کوئی بارہ بجے کے قریب میں نے ناہید کی چیسٹ پر ہاتھ رکھا ، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ناہید نے ہلکے پیلے کلر کی لان پہنی ہوئی تھی بہت ہی جج رہی تھی اُس پر اور گلا بھی بہت کھلا تھا ۔ میں نے بہت برداشت کے بعد ناہید کے ممے کو ہاتھ میں پکڑا اور ساتھ ہی اپنے لپس ناہید کی طرف بڑھائے ، ناہید نے میری آنکھو ں میں دیکھ اور میرے نیچے والے لپس کو اپنے دونوں لپس کے درمیان رکھ کر بس چوسنا شروع کر دیا ، اور میں نے اُس کے ممے دبانہ شروع کر دیے ، پھر کچھ دیر کے بعد میں نے ناہید سے کہا کہ آپ ایسا کرو کہ میرے اوپر آ کر بیٹھ جاو یقین جانیں ابھی تک ہم دونوں نے کچھ بھی نہیں اُتار ا تھا ، اسی وقت میں نے اپنی ٹانگوں کے اوپرایک چھوٹا تکیہ رکھا اور اُس تکیہ پر ناہید کو بٹھایا، ناہید نے تکیے کو دیکھنےکے بعد کہا خرم یہ کیوں رکھا ہے میں نے کہا بتاوں گا آپ کو آپ رکھ کر بیٹھیں تو سہی نہ خیر ناہید نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بیٹھ گئی ، میں نے ناہید کی قمیض کے اندر ہاتھ ڈالا اور اُس کی قمر کو پکڑ کر اُسے اپنی طرف کھینچ اور اُس کے لیپس چوسنا شروع کر دیے اور ساتھ ساتھ اُس کے قمر پر بھی ہاتھ پھیرتا رہا تاکہ اُسے مزہ آجائے ، تھوڑی دیر کے بعد اُس کی قیمض اپنے ہاتھ سے اوپر کی اور اُس کی بریزر تھوڑا اُونچا کر کے میں نے اُس کے دائیں والے ممے کہ چوسنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ناہید کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا اور اُس کے ہاتھ کو اشارہ کیا کہ وہ میرے سار پر ہلاتی رہے ، یہ کام کم از کم میں نے کوئی چالیس منٹ کیا تھا ، اور پھر ناہید کو کہا ناہید ذرا میرے کان کے اندر زبان پھیر ہ اور میری گردن کو چوسو بہت زور سے ، یقین جانیں ناہید ایسی میرے اوپر ٹوٹی جیسا کہ پاگل کتا گوشت پر پڑتا ہے اور یہ میں چاہتا تھا ، (کیونکہ میرا ماننا ہے کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ بس جاو اور ٹانگیں اٹھا کے لن کی ٹوپی کو پھدی پر ایڈجسٹ کر کے پوری سٹ مارو اور عورت پر اپنی دھاک بٹھا دو کہ دیکھو جی میں بڑا پہلوان ہوں ، لیکن اگر اس کے برعکس اگر آپ عورت کو پیار کریں اتنا کہ جتنا اُس نے سوچا نہ ہو اور پیار پیار سے اُس کے ساتھ سیکس کریں ، زیادہ سے زیادہ ٹائم لگائیں ، اور پہلے عورت کو فارغ کریں یعنی عورت کی منی نکل آئے اُس کےبعد بھی آپ اُس کو پیار کریں اور سب سے آخر پر آپ فارغ ہوں تو جب یہ بات ہو جائے گی اُس دن سے وہ عورت آپ کی ہو گی ، وہ مر تو جائے گی لیکن کسی اور کی نہیں ہو گی) خیر اس دوران میں نے ناہید کو کہا کہ ناہید اگر اجازت ہو تو میں اپکے بریزر کی ہک اُتار دوں یعنی کہ بریزر اُتار دوں اپ کے ممے میں نے دیکھنے ہیں، ناہید اُس وقت میں کان کی لوں لوں کو چوس رہی تھی ، اُس کے خالی منہ سے صرف یہ آواز نکلی اوں اوں اوں ، یعنی کہ میں نکال دوں ، میں نہ سمجھا اور اُس کے سر کے بالوں سے پکڑ کر اپنے کان سے اُس کی زبان نکالی تو وہ اتنی غصے میں مجھے دیکھا کہ میں ڈر گیا کہ پتہ نہیں کون سی غلطی کر بیٹھا ہوں ناہید نے کہا خرم ایک بات جان لوآج ، جب میں پیار کر رہی ہوں تو خدارا کبھی بھی مجھے ایک منٹ کے لیے بھی اپنی طرف نہ کرنا میں نہیں چاہتی کہ میرا ایک منٹ بھی ضائع ہو ، آپ کا جو دل کرے کرتے رہو، اتنے میں ناہید نے دوبارہ میں کان میں اپنی زبان ڈال کر زبان کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا، اور میں نے اپنا ہاتھ اُس کی قمیض کے اندر کر کے کمر پر تھوڑا سے ہاتھ پھیرا اور پھرے اُس کی بریزر کی ہک کھولنے میں لگ گیا ، لیکن ہک کھولنے کے ساتھ ساتھ میں نے ناہید کے ممے چوسنے بند نہیں کیے دائیں والا مما تو تقریبا تھا ہی میرے منہ میں جب میں تھک گیا ، تو ناہید کو کہا کہ ناہید تھوڑا اُتر جاو اور بائیں سائیڈ پر آجاو، ناہید نے اُسی طرح میرے کان میں زبان ڈال کے رکھی اور میرے بائیں سائیڈ پر آ کر بیٹھ گئی ، جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی ناہید میرے بائیں سائیڈ پر آ کر بیٹھی میں نے اُس کی طرف منہ کر کے اُس کی قمیض اوپر کی بریزر تو میں پہلے ہی اُتار چکا تھا ا ب بس قمیض کی بات تھی اور میں نے اُس کے ممے چوسنے شروع کر دئیے ، ناہید اس دوران میرے سر پر ہاتھ پھیرتی رہی اور میری گالوں پر کس کرتی رہی، ناہید:۔ خرم ایک بات کہوں میں:۔ اوں اوں ، کیونکہ میں اُس کے ممے چوس رہا تھا تو اپنا ٹائم ضائع کرنے سے پہلے میں نے یہ بہتر سمجھا کہ اُس کے ممے چوسنے پر ہی زور دوں۔ ناہید:۔ میں نے قمیض اُتارنی ہے ، میں:۔ نہیں ناہید قمیض مت اُتارو ابھی ، ناہید:۔ ٹھیک ہے جیسے آپ کہو، میں جب اُس کے ممے چوستے چوستے تھک گیا، تو میں سید ھا ہو کے لیٹ گیا ، تو ناہید نے میری طرفہ منہ کیا اور ہم لوگ باتیں کرنا شروع ہو گئے باتیں کرنے کے دوران ، ناہید کے پتہ نہیں دل میں ایسی کیا بات آئی کہ اُس نے باتوں باتوں کے دوران میں لن (لوڑا) پکڑا لیا اور اُس کو مسلنے لگی، میں نے ناہید کہ کہا کہ ناہید میرا لن دیکھنا ہے ، ناہید نے سر ہلایا ، اور کہا ہاں دکھا و نہ، میں نے تھوڑا سا اپنی سلوار کا نالہ ڈھیلا کیا اور پورا لن باہر نکالا، ناہید نے لن دیکھتے ہی مجھے بہت زور سے کسی کی اور ایک پتہ نہیں اُس کے دل میں کیا بات آئی میرے ماتھے پر بھی کس کر دی ، اس دوران میں نے اپنا نالہ ھلکا سے بند کر دیا ، یعنی کہ جس وقت دل کرتا میں اپنا لن آرام سے سلوار سے نکال سکتا تھا ، میں نے ناہید کو دوبارہ اپنے اوپر بٹھایا ، یعنی کہ اپنے پیٹ پر بٹھایا ، اور بٹھانے سے پہلے میں نے اپنے اوپر تکیہ رکھنے کا سوچا، تو ناہید نے کہا نہیں اب تکیہ نا رکھو میں ایسے ہی اوپر بیٹھوں گی ، میں نے کہا ناہید ایک بات کہوں آگر برا نہ لگے تو یہ بات میں نے دل سے کہی تھی کوئی ڈرامہ نہیں کیا اُس کے ساتھ،ناہید نے کہا جی بولو میں نے کہا ناہید جتنا مزا پیار میں ہے اُتنا چودنے میں نہیں ہے دیکھ لو کم از کم ہم لوگ دو گھنٹے سے لگے ہوئےہیں ، اور دل نہیں بھر رہا ، اگر ابھی ہم لوگوں نے سیکس کر نا شروع کر دیا ، یعنی کہ میں نے اپنا لن آپ کی پھدی میں ڈالا اور تیس منٹ یا بہت زیادہ ہو ا چالیس منٹ تک چودوں گا ، اُس کے بعد مزا نہیں ہو گا کیوں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پیار بہت کریں اور یہ میری خواہش ہے ، ناہید نے کہا جیسے تم کہو بس مجھے پیار کرنے دو، ناہید میرے اوپر آگئی اور میں نے دوبارہ تکیہ اپنے لن پر رکھا اور ناہید کو اپنے اوپر بٹھا دیا، اور بہت ہی آرام سے میں نے ناہید کی چیسٹ پر اپنا منہ رکھ دیا اور اُس کے مموں سے کھیلنے لگا ، ناہید اس دوران صرف ایک کام کرتی تھی کہ میرے سر پر اپنا ٹھوڑی رکھتی تھی ، یا پھر میرے سر کو اپنے ہاتھ سے پیار کرتی تھی ، یا پھر میری سائیڈ سے گردن کو چومتی تھی، اس دوران باتوں باتوں میں شاید ناہید کی بس ہو گئی تو اُس نے تکیہ نیچے سے نکال دیا اور لن کے اوپر پیٹھ گئی ، اور اگے پیچھے ہونے لگی ، یعنی اب ہمار ے درمیان صرف اور صرف ، اپنی اپنی سلوار یں تھی جو کہ کسی بھی وقت اُتر سکتی تھی ، تقریبا رات کے تین بجے کے قریب جب میری برداشت نے جواب دے دیا تو میں نے ناہید کو کہا کہ ناہید ذرا میرا لن دیکھو ، ناہید نے اُس وقت میری سلوار کا نالہ کھول ک لن باہر نکالا اور دیکھنے لگے، اور ساتھ ساتھ میرے لنے کو اپنی سلوار کے اوپر سے اپنی پھدی پر رگڑنے لگی ، ناہید:۔ خرم یہ تو بہت بڑا اور موٹا ہے یار میں:۔ بس کیا کروں یہی ہے ناہید:۔ سچ بتاو کیا کھاتے ہوئے (قسم سے ناہید نے اُسی وقت میرے ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر قسم دی کہ جو بتاو گے وہ سچ بتاو گے، میں:۔ ناہیدمیں سچ بتا رہا ہو ں میں زیادہ تر سبزیاں کھاتا ہوں، شہد استعمال کرتا ہوں، چائے نہیں پیتا، روزانہ ورزش کرتا ہوں اور روسٹ چیزیں بہت کم کھاتا ہوں، ناہید:۔ سچ بتاو کہ کیا تم نے یہاں آتے ہوئے کوئی میڈیسن کھائی تھی ٹائمنگ والی ، میں:۔ نہیں ناہید میری ایسی عادت نہیں،اور اگر زندگی رہی ہماری اور ہم ملتے رہے تو آپ کو نظر بھی آجائے گا اور یہی وجہ ہے کہ آج 5سال ہونے کو کہیں اور ناہید اور میں پہلے ہی دن سے ایک دوسرے کے قریب ہیں اور دن بدن ہوتے جا رہے ہیں زیادہ سے زیادہ ناہید:۔ مجھے یقین نہیں آتا، کہ آپ کی اتنی ٹائمنگ بھی ہو گی، میں:۔ ناہید بس ایسا ہی ہوں میں میں:۔ ناہید ایک بات بتاو گی لیکن میری طرح بالکل سچ بتانا ناہید:۔ بتاو میں:۔ میر ا لن لے لو گی سچ بتانا ناہید:۔ خرم دل بہت ہے ابھی سیکس کرنے کو لیکن یقین کرو ڈر رہی ہو ں کہ آپکا لن ایک تو ضرورت سے زیادہ بڑا ہے اور موٹا بھی ، اور رہ گئی بات میری پھدی کی وہ جب آپ لن ڈالو گے تو آ پ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنی ٹائٹ ہے ۔ میں:۔ ناہید تو پھر لو لن جس طرح دل کرے ناہید:۔ خرم سچ کہ رہے ہو میں:۔ ہاں ناہید بس اب لے لو ناہید:۔ نے میرے لپس میں زبان ڈال دی اور چاٹنا شروع ہو گئی کیونکہ ناہید میرے پیٹ کے اوپر بیٹھی تھی ، وہ آرام سے اوپر ہوئی ، اور جیسے واش روم میں بند بیٹھتا ہے اس انداز میں ناہید نے اپنی سلوار نیچے کی اور میرے لن کو سلوار سے نکالا اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنی پھدی پر لگایا ، میں:۔ ناہید تھوک تو لگا لو ناہید:۔ خرم میری پھدی کی چکناہٹ نظر نہیں آرہی کہ کتنی گیلی ہو چکی ہے میں:۔ ہاں نظر آرہی ہے ناہید:۔ تو پھر میرے دیکھو لن کیسے جاتا ہے میں:۔ ٹھیک ہے یقین کریں آپ لوگ میں نے ایک منٹ بھی کوئی حرکت نہیں کی، ناہید نے میرے لن کی ٹوپی کواپنی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور تھوڑا سا اندر کرنے لگے اور آرام سے پھدی کے اندار لیتی گئی اور اپنا پورا وزن میرے لن پر ڈالتی گئی، اور یقین کریں کوئی دو سے تین منٹ کے بعد جا کر ناہید نے میرا پورے کا پورا لن ہضم کر لیا اپنی پھدی میں اور اس دوران اُس کے ماتھے پر جتنا پسینہ آیا تھا یہ میں آپ کو نہیں بتا سکتا ، اور پھر ناہید اوپر نیچے ہونے لگی ، اس دوران میں نے اپنے ہاتھ ناہید کے چوتڑوں کے اوپر رکھ کر تھورا سا ہاتھ سے اوپر نیچے کرنے لگا ، تو ناہید نے اس چیز کو بہتر سمجھتے ہوئے اپنے ممے میرے منہ میں دے دیے اور میرے کان میں ایک بات کی یقین کریں ہم لوگ جب بھی اج بھی ملتے ہیں یہ بات ناہید آج بھی کرتی ہے ، خرم تم ایک شاندار مرد ہو ، ایک مزیدار مرد ہو، میں کبھی تم کو کمزور نہیں ہونے دوں گی ، کبھی آپ کی جوانی ختم نہیں ہون دوں گی، بس پھر ناہید میرے اوپر بیٹھ کر میرے لن کو لیتی رہی اور تھوڑا تھوڑا آگے پیچھے ہوتی رہی ، اب اُس کا آگے پیچے ہونے کا سٹائل ایسا تھا کہ وہ اوپر ہونےکی بجائے اپنی پھدی کو رگڑ کر آگے اور رہی تھی ، یعنی کہ رگڑ کے ساتھ میر ا پورا لن لے رہی تھی ، اس دوران ناہید اُٹھی اور میرا پور ا لن باہر نکالا، اور صوفے کے ساتھ پڑے ایک ٹیبل کی طر ف گئی میں سمجھا کہ اب اس کا صوفے پر چدوانے کا شوق ہو رہا ہے ، لیکن وہ وہاں پڑے ہوئے ٹشو کے ڈبے کو اُٹھا کے لے آئی ، اور دس یا بارہ ٹشو نکالنے کے بعد اُن سے میرے لن پورا صاف کیا اور اپنی پھدی بھی صاف کی اور پھر لن کی ٹوپی کو پھدی پر ایڈجسٹ کرنے کے بعد مجھے ایک بات کی ناہید:۔ خرم میں اب جیسا کہوں گی ویسا ہی کرو گے میں:۔ ٹھیک ہے ناہید:۔ دیکھو میں نے لن کی ٹوپی پھدی کے لپس کے درمیان رکھی ہوئی ہے میں:۔ ہاں دیکھ لی ہے ناہید:۔ تم ایسا کرو کہ ایک تو میرے لپس کو اوپر زبان رکھو اپنی اور دوسرا، جب میں اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے ایک ، دو ، تین تک گنتی کروں تو تم نے اوپر ہونا ہے اور میں پھدی کو نیچے کروں گی ، میں:۔ ناہید لن خشک ہے مجھے اور تجھے تکلیف ہو گی ناہید:۔ جو کہ رہی ہو ں وہ کروں نہ تنگ کرو میں:۔ ٹھیک ہے ناہید:۔ لیکن پلز پورا زور لگانا پلز پورا زور لگانا میں:۔ ٹھیک ہے ناہید:۔ ناہید نے میرے لپس میں اپنے لپس ڈالے اور پھر ایک ،دو تین کا جیسے ہی اشارہ کیا میرے اندر جسم میں جتنا بھی زور تھا وہ مارہ اور ناہید نے بھی جتنا زور تھا اُس نےپھدی پر لگایا نتیجہ یہ ہو ا کہ میرا پور ا لن ناہید کی پھدی کے اندر چلا گیا اور ناہید کا جسم کپکپانے شروع ہو گیا اور ناہید کا سانس چڑھ گیا، اور وہ بہت ہی برے طریقے سے سانس لینے لگی کوئی پانچ منٹ بعد ناہید، نے دوبارہ یہ کام کیا اور لن کو پھدی سے نکالا اور ٹشو سے صاف کیا اس دفعہ بہت رگڑا اُس نے میرے لن کو اور اپنی پھدی کو بھی بہت خشک کیاساتھ ساتھ ناہید رو بھی رہی تھی ، میں:۔ ناہید رو کیوں رہی ہو ناہید:۔ خرم بعد میں بتاوں گی میں:۔ ناہید کیوں درد ہو ا ہے ناہید:۔ خرم نہیں یہ درد کی وجہ سے نہیں روئی بس دل کی ایک حسرت تھی جو کہ پوری نہیں ہو رہی میں :۔ ناہید بتاو ناہید:۔ جب فارغ ہو جائیں گے تو بتاوں گی، میں :۔ ناہید ٹھیک ہے ناہید:۔ دیکھو میں نے دوبارہ پھدی پر لن کی ٹوپی ایڈجسٹ کی ہے پلز جتنا بھی زور ہے اتنا زیادہ زور لگاو خرم آپ کے ٹٹے میری پھدی کے ساتھ لگنےچاہِیے ایک ہی دفعہ یعنی پہلے ہی جھٹکے میں ، پھر ناہید نے ایک ، دو ، تین کہا اور میں نے جتنا بھی زور تھا لگا کے اپن لن کو اوپر کی طرف کیا یقین جانئیں اگر میں نے لپس ناہید کے نہ پکڑے ہوتے تو وہ جو چیخ تھی وہ پورے محلے آجاتا کیونکہ اس دفعہ میرے لن پر بھی بہت زیادہ رگڑ لگی تھی جو کہ برداشت سے باہر تھی ، اور کم از کم دس منٹ تک ناہید کاپنتی رہی اور پھر رو پڑی ، اُس وقت وہ بہت رو رہی تھی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیوں رو رہی ہے ، ناہید:۔ خرم مجھے اب فارغ ہو نا ہے پلیز مجھے پیار کرو میں:۔ میں نے ناہید کی چیسٹ چوسنا شروع کردی اور ناہید آگے پیچھے ہوتی رہی ، پڑچ پڑچ پڑچ کی آواز پورے کمرے میں شور کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ ڈبل بیٹ کی چیں چیں چیں کی آواز بھی ، لیکن ہمیں کوئی ہوش نہیں تھا ، اور اسی طرح کرتے کرتے ناہید کی لگیز کلوز ہونا شروع ہوئی اور اُس کی پھدی بالکل ہی کلوز ہو گئی اور اس دوران اس نے اتنے زور سے میرے کمر کے اردگرد اپنے ناخن کی رگر لگائی کہ اُس کے ناخن میری قمر میں دھنس گئے ، اور اور اُس کی منی نکل آئی اور میرے لن کے اوپر سے ایسے پانی نکلا کہ یقین جانیں ایسے لگا کہ کہ میرے اوپر کسی سے راول ڈیم کا سپل وے کھول دیا ہو، اور ناہید زور زور سے سانس لینے لگی ، تقریبا پانچ منٹ لگے ناہید کو اس کام میں پھر اُس نے میرے ماتھے کو چوما اور اپنا ماتھا میرے ماتھے کے ساتھ رگڑنے لگی اور ساتھ کہا دیکھو خرم کتنا مزہ آیا ہے خرم عورت کو جتنا پیسنا آتا ہے سمجھ لو اُتنا ہی اُسے مزہ آتا ہے اور دیکھ لو آپ کہ میری کیا حالت ہے اب ، میں نے کہا ذرا نیچے بھی دیکھ اس کی کیا حالت ہے ، ناہید نے میرے لن کو پکڑا تو وہ لوہے کی طرح طرح بالکل اکڑا ہو ا تھا ناہید نے کہا سچ بتاو کیا تم نے کوئی میڈیسن کھائی ہے ، میں نے کہا نہیں ناہید اب اس کام کے لیے میں قسم بھی کھا سکتا لیکن یقین مانوں میں میڈیسن نہیں کھاتا ، اچھا ویٹ کرو میں آتی ہوں، ناہید کیچن میں گئی اور دو منٹ کے بعد واپس آئی اور تو اُس کے ہاتھ میں ایک پانی سے بھرا ہو جگ تھا او ر ایک ڈسٹ بن تھا ، مجھے کہا کہ اپنی سلوار اُتارو ، میں نے کہا کہ کیوں توں ناہید نے کہ اُتارو نہ میں نے اپنی سلوار اتار دی ، اُس نے کہا کہ میں اپ کے لن پر پانی پھینکتی ہوں ، آپ اپنا لن دھو لو ، میں نے کہا پہلے بتاو کیوں تو ناہید نے کہا کہ میں نے چوپا لگا نا ہے آپ کے لن کو ، میں نے ناہید کی طرف دیکھا اور اُسے اپنے ہاتھ سے پکڑا کر بیڈ تک لے آیا اور کہا ، ناہید ایک بات بتاو گی ناہید نے کہا جی بولو لیکن ناہید سچ بتانا، ناہید نے کہا کہ بالکل سچ بولوں گی ، ناہید اگر میں کہوں کہ میں نے آپ کی پھدی چاٹنی ہے تو تب ، ناہید نے کہ تو تب میں مر جاوں گی کبھی بھی پھدی چاٹنے نہیں دوں گی ، میں نے کہا کہ ناہید کیوں ایسی کیا وجہ ہے تو ناہید نے کہا کہ پھدی سے پانی نکلتا رہتا ہے اور پیشاب بھی کرتی ہوں اس وجہ سے یہ بات کرتے ہوئے ناہید نے اپنی آنکھیں نیچے کر لیں ، ناہید تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں بھی آپ سے لن چوسنے کے لیے کہوں یہاں سے بھی تو پانی نکالتا ہے اور پیشاب ہوتا ہے ، ناہید نے کہا میں نے آج تک جتنی بھی عورتوں سے سنا ہے وہ یہی کہتی ہے کہ مرد کچھ کرے نہ کرنے وہ عورت کی گانڈ (پیچھے والا سوراخ)لازمی استعمال کرتا ہے اور اُس سے چوپا بھی لازمی لگواتا ہے ، عورتیں کہتی ہیں کہ اس سے مرد کو سکون ملتا ہے ،میں نے کہا نہیں ناہید میں ایسا انسان نہیں نہیں ، جتنی میری عزت نفس ہے میں اُس سے زیادہ آگے والے کی عزت نفس کا خیال کرتا ہوں ، ناہید نے کہ ٹھیک ہے اب اپنا پانی نکالو، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس دوران حرام ہے جو میرا لن تھوڑا سے بھی جھکا ہو وہ اُسی طرح ڈنڈ کی طرح کھڑا تھا، میں نے ناہید کی سلوار اُتاری اور اُس کی لیگز کو بالکل کھولا یعنی کہ دائیں بایں کیا ، اپنے لن کی ٹوپی اُس کی پھدی پر رکھی ، اور ناہید کے شولڈر سے اُسے پکڑا اور آرام اآرام سے لن اندر کرنے لگے جب میرا پورا لن اُس کی پھدی میں چلا گیا ، لیکن یہاں پر پھر ناہید نے ایک حرکت کی ، ناہید:۔ خرم ہے بہت مزے کا لن ہے تمھارا ہے خرم قربان جاوں میں:۔ ناہید یقین کرو آپ کا پھدی کی گرمی بہت مزا دےرہی ہے امہا ، ناہید:۔ خرم میں ممے چوس نا میں:۔ ناہید اب وقت ہے قمیض اُتارنے کا ناہید:خود ہی اتار دو لیکن ایک انچ بھی لن باہر نہ نکلے میں:۔ میں نے لن ناہید کے پھدی کے اندر رہنے دیا اور اُس کی قیمیض اتارنے لگا ناہید:۔ تھوڑا اور اندر کرو نا خرم کیوں ٹٹے باہر رکھے ہوئے ہیں میں:۔ ٹھیک ہے میری جان ناہید:۔ ایک منٹ ویٹ کرو میں:۔ کیوں ناہید:۔ بتاتی ہوں ناہید بالکل سیدھی لیٹ گئی اور مجھ کہا کہے جیسے پیشاب کے لیے بیٹھتے ہو ایسے ہی بیٹھ لیکن لن میری پھدی کے اندر ہو باہر نہ نکلے میں:۔ نے ایسے ہی کیا اور اپنے پاوں کے بل ناہید کی پھدی کے بالکل اوپر بیٹھ گیا ناہید:۔ اب وہ کرو جیسے میں کرتی رہی تھی خرم میں:۔ نے بھی یہ بات کی اور اوپر نیچے ہونا شروع کر دیا اور پھدی میں لن پورا اندر جاتا تھا اور پورا باہر آتا تھا ناہید:۔ خرم ایک بات کہوں کہ ایسا کرنے کے لیے میں نے کیوں کہا آپکو میں:۔ ہاں ناہید بولو ناہید:۔ دیکھ ذرا میری ناف کے اوپر دیکھ تمھارا لن کہا ں تک جا رہا ہے آپ لو گ یقین کریں میں جیسے ہی اپنا لن پھدی کے اندر کرتا تھا تو ناہید کی ناف کو دیکھتا تھا کہ کہاں تک لن میر ا گیا ہے ناہید کے اندر ، جب دوبارہ باہر نکال کر دوبارہ اندر کرتا تھا تو دل کرتا تھا کہ لن اور زیادہ اندر جائے یعنی کہ پہلے سے زیادہ دور تک لن ڈالوں اس دوران میں نے ناہید کے دونوں پاوں اوپر اٹھا لیے کیوں کے پہلے والے سٹائل میں کرتے کرتے میں بندہ جلدی تھک جاتا ہے ، میں نے اُس کی پاوں بالکل اپنے ماتھے کی طرف کر دیے یعنی کے پورے سیدھے اور اُس کے پاوں کی تلیوں کو اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ ناہید کو چود بھی رہا تھا ، ناہید:۔ خرم ایک بات سنو میں:۔ ہاں بولو ناہید:۔ سچ بتاو تم نے کوئی میڈیسن کھائی ہے میں:۔ نہیں ناہید آپ کی قسم نہیں کھائی ناہید:۔ کوئی اور سٹائل لگواو نہ میں:۔ نے کہا کہ ٹھیک ہے ناہید:۔ اچھا ایسا کرو کہ اپنے دونو ں پاوں اپنی چیسٹ کی طرف لے جاو اور اپنے دونوں پاوں کے دونوں انگوٹھے اپنے منہ میں ڈالو ناہید:۔ نے کہا ٹھیک ہے میں :۔نے آرام سے اپنا لن ناہید کے پھدی سے باہر نکلا تھوڑا پیچھے ہو کر ٹشو سے اپنے لن کو صاف کیا اور ناہید کی پھدی کو بھی صاف کیا جب اوپر کی طرف دیکھا تو ناہید بڑی مشکل میں تھی کیوں کہ اُس کا ایک پیر کا انگوٹھا تو منہ میں جا رہا تھا لیکن دوسرا نہیں جا رہاتھا ، وہ زور لگا رہی تھی اور یہی میں چاہتا تھا، اس دوران میں نے دو چھوٹے تکیے بھی اُٹھا کر ناہید کے گانڈ کے نیچے رکھ دیے ، تاکہ گانڈ اونچی ہو جائے ناہید:۔ میں نے ارام سے لن کی ٹوپی ناہید کی پھدی پر رکھی اور اپنے دونوں ہاتھ ناہید کے پنڈلیوں پر رکھے جو کہ ناہید کی چیسٹ کے اوپر تھی اور اپنے ہاتھوں کے زور سے اُس کے پاوں کے دونوں انگوٹھے اُس کے منہ میں ڈال دیے اور پیچھے سے میں تھوڑا آگے ہو اور اُس کی گاند کہ اپنے ٹانگوں کے زیادہ نزدیک کر لیا یعنی کے اُس کی گانڈ کی نرمی مجھے اپنی ناف سے نیچے نظر آ رہی تھی ، پھر میں نے ناہید کو ایک بات کی میں:۔ ناہید یہ سٹائل پسند ہے ناہید:۔ خرم تنگ نہ کرو چودو بھی اب جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اُسی وقت ایک دفعہ اپنا پورا لن باہر نکالا اور خالی ٹوپی میں نے ناہید کی پھدی کے لپس پر رکھ دی اور ساتھ ہی ایسے سٹائل میں بیٹھ گیا جیسا کہ بندہ واش روم میں بیٹھتا ہے یعنی کہ پاوں کے زور پر خود انصاف کریں کہ اگے سے ناہید کے پاوں پکڑے ہوں ، اور نیچے سے اپنے پاوں کے زور پر ہوں تو پھر میں نے ایک جاندار اپنے لن کا جھٹکا مارا میں پورے کا پورا لن ٹٹوں کی حد تک ناہید کی پھدی میں چلا گیا اور مجھے صاف محسوس ہو ا کہ میرے لن کی ٹوپی ناہید کی بچے دانی کو جا کر لگی ہے یہ میرا سب سے پسندیدہ سٹائل تھا اس سٹائل میں میں نے تقریبا کوئی تین سے چار منٹ تک ناہید کی پھدی کو اپنے لن کے ساتھ چودتا رہا ، ناہید کے جو سانس کی حالت تھی جیسے کہ بس ابھی اُس کی جان نکلی ، بہت زور سے سانس لے رہی تھی ، پھر میں نے ایک کام اور کیا میں نے باقی سٹائل تو یہی رکھا لیکن ناہید کے پھدی کو میں نے ہر سائیڈ سے چودا یعنی کبھی آپ نے دیوار میں پھنسے ہوئے کیل کو دیکھا ہے کہ جب وہ نہیں نکلتا تو ہم لوگ اُس کو کبھی دائیں ہلاتے ہیں کبھی بائیں ہلاتے ہیں، میں نے بھی ناہید کی پھدی کے ساتھ یہی کام کیا کبھی اپنے لن کو دائیں سائیڈ سے اندر کروں تو کبھی بائیں سائید سے اندر کروں ، ناہید کی یہ حالت تھی کہ بس نہ ہی پوچھیں، اتنے میں ناہید نے ایک بات کی ناہید:۔ خرم ایک بات مانوگے میں:۔ جی بولو ناہید:۔ قسم کھاو کہ مانوں گے میں:۔ یار یہ کوئی وقت ہے قسم کھانے کا بولو بھی ناہید:۔ خرم تم دنیا کو جو بھی کام کہو گے میں کروں گی ، چاہے وہ اچھا ہو یا برا جیسا بھی ہو میں یہ کام کروں گی لیکن ایک بات میری مان لو، میں:۔ اچھا یا ر بولو بھی ناہید:۔ پلیز مجھے چھوڑنا نہیں ، میں اب مر تو سکتی ہوں لیکن آپ سے جدا نہیں ہو سکتی ناہید:۔ خرم بہت مزیدار ہو،خرم بہت مزا دیتے ہو، خرم جب تیرا لن میری پھدی کے اندر جاتا ہے تو یقین کرو مجھے بہت سکون ملتا ہے ۔ اس دوران مجھے ایسا محسوس ہو ا کہ بس میری بھی جان نکلنے والی ہے میں نے اپنے جھٹکے تیز کر دیے ، کمرے میں لن اور پھدی کے ملاپ سے چھپک چھپک کی آواز یں آ رہی تھی ، لیکن مجھے کسی بھی قسم کا کوئی ہوش نہیں تھا ، اور سب سے آخر پر میں نے ناہید سے کہا ناہید میں چھوٹنے والا ہوں ، ناہید نے کہا کہ میرے اندر چھوٹنا لازمی اندر چھوٹنا ۔ اور جب میرے لن سے میری منی کا پہلا قطر نکلا تو ناہید نے مجھے کس کے اپنے ساتھ لگا لیا ، اور میرے لن کے ساری کی ساری منی ناہید کی پھدی کے اندر کر دی ، یہاں پر میں نے ایک کام کیا ۔ کہ جب میرے لین سے ساری کی ساری منی ناہید کے اندر چلی گئی تو میں نے ناہید کو کہا کہ ناہید ہلنا نہیں ہے،میں اُسی طرح ننگی حالت میں بیڈ کی دوسری طرف پڑے ہوئے ٹشو کی طرف گیا اور ٹشو اُٹھانے کے بعد میں نے جب ناہید کی پھدی صاف کرنی چاہِی تو ناہید نے میرا ہاتھ پکڑ ا لیا کہ نہیں خرم یہ کام میں خود کر لوں گی ، میں نے کہا نہیں ناہید آپ آرام سے لیٹی رہو اور مجھے صاف کرنے دو، ناہید نے کہا نہیں خرم یہ کام عورتوں کا ہوتا ہے مرد نہیں کرتے ، میں نے کہا نہیں ناہید آپ کا احسان ہے کہ آپ نے آج اپنا جسم مجھے دیا اب آپ چپ کر جاو اور مجھے میرا کام کرنے دو ، میں نے آرام سے ناہید کی پھدی ، اُس کے اردگرد کا سارا ایریا صاف کیا پھر ناہید کی سلوار اُٹھائی اور اُسے پہنا دی خود اپنے ہاتھوں سے، یقین کریں یہ سچ ہے اتنے میں ٹائم دیکھا تو کوئی پانج بجنے میں سے دس منٹ باقی تھے میں نے ناہید کو کہا کہ میں نے جانا ہے ، میرا کوئی کام ہے شنکیاری اُس سلسلے میں شاید رات وہیں پر رُک جاوں ، ناہید:۔ خرم چاہے کچھ بھی ہو جائے تم نے رات کو واپس آنا ہے بس مجھے نہیں پتا میں:۔ ناہید دیکھو سرکاری کام ہے ہے دیر سویر ہو سکتی ہے ناہید:۔ خرم سرکار ی کام شام چار بجے کے بعد نہیں ہوتے لہذا آپ نے آنا ہے میں اب نہیں رہہ سکتی کسی بھی رات کو سن لیا آپ نے اور یہ بات کان کھول کر سن لو جو مزہ اآپ نے مجھے دیا ہے اب میں ساری دنیا سے دور ہو سکتی ہوں لیکن کوئی رات بنا آپ سے چودوائے نہیں رہ سکتی چاہے اس کے لیے مجھے آپ کے بنگلے پر بھی آدھی رات کو انا پڑے ۔ میں:۔ میں تو دل سے یہی چاہتا تھا کہ شنکیاری سے واپسی والی رات بھی اس کو دبا کے چودوں جو کسر رہہ گئی ہے وہ پوری کر لوں ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ناہید جیسے تم کہو آجاوں گا۔ ناہید نے اُس وقت جلدی جلدی بیڈ سے اُتر تو اُس کو بہت زور کا چکر آ گیا وہ نیچے گری ، میں نے بھا گ کےاُسے اٹھایا اور کہا کیوں کیا ہو ا، ناہید بولی میری پھاڑ کر رکھ دی ہے چکر تو آنے ہیں ، دو منٹ انتظار کرو میں ناشتہ بنا کے دیتی ہوں کر کے جانا، میں نے کہا نہیں ناہید ایسی بات نہیں ہے مجھے جانے دو صبح بہت مشکل ہو جائے گی گھر سے نکلنا میں باہر سے ناشتہ کر لوں گا ، بڑی منتوں کے ساتھ میں نے ناہید سے جان چھڑوائی اور اُس کے گھر سے نکلا اور جو میری حالت تھی وہ آپ لو گ نہیں سمجھ سکتے کہ مجھے نیند نے پاگل کیا ہو ا تھا ، میں مانسہر ہ بس سٹینڈ پر آیا اور ایک اچھے سے ہوٹل سے ناشتہ کیا اور اُسی ناشتے والی ٹیبل اور کرسی کو اپنا بستر بنایا اور تھوڑی نیند پوری کی تھوڑی سی نیند پوری کرنے کے بعد میں اُٹھا ، دو کپ چائے کے پییے او ر شنکیاری والی ویگن کی طرف چل پڑا اس دوران اپنا موبائل دیکھا تو کوئی بیس کے قریب ناہید کی کالز وغیرہ آچکی تھی ، میں نے دیکھا تو دوبارہ ناہید کی کال آرہی تھی ، میں نے کہا میں:۔ ہیلو خیریت ناہید:۔ یار تم فون کیوں نہیں اُٹھا رہے تھے میں:۔ یار سچ بولوں تو میری نیند پوری نہیں ہوئی تھی جس ہوٹل پر ناشتہ کیا ہے اُس ہوٹل کی ٹیبل پر تھوڑی دیر سر رکھ کر نیند پوری کی ہے ناہید:۔ خرم یار سوری یہ میری وجہ سے ہو ا ہے میں:۔ نہیں ناہید یہ آپ کی وجہ سے نہیں ہوا اس میں میں بھی برابر کا حصہ دار ہوں ناہید:۔ اچھا اس لیے فون کیا تھا ، رات کا کیا پروگرام ہے میں:۔ ناہید خدا کا واسطہ ابھی تک مجھے ہمت کے لیے کچھ کھانے تو دو ناہید:، امہا میری جان آپ کی ہمت اور اپ کے لن کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ہی اپنی جان سے پوچھ رہی ہوں کیا کھاو گے میں:۔ ناہید جو دل کر بنا لینا لیکن رات کو میں آوں کس وقت میں پہنچ جاوں ناہید:۔خرم میں چھوٹاگوشت کی کڑاہی بناوں گی کم از کم دو کلو کی ، ساتھ مچھلی ہو گی اور روسٹ ہو گا اگر دل تو بتانا اور بھی کچھ بنا لوں گی، میں:۔ ناہید ایک چیز اور بنا لو گی ، ناہید:۔ امہا حکم میری جان اور کیا بناوں میں:۔ ذرا اپنی پھدی کو بھی تیار کر لینا آج خیر نہیں ہے ناہید:۔ ہاں یہ مجھے پتہ ہے اور دل بھی ہے بہت کہ تم پھاڑ دو میری ناہید:، اچھا خرم آج میں آپ کو ایک گفٹ دوں گی اور وہ بھی سر پرائز ہو گا اب پورا دن اس کے بار ے میں نہ پوچھتے رہنا میں:۔ بتاو تو سہی نہ کیا ہو گا ناہید؛۔ کہا ہے نہ کہ بار بار نہیں پوچھو گے لیکن ایک بات ہے گفٹ کے وقت میں جو کہوں گی تم مانو گے بس میں:۔ اچھا بابا اچھا ٹھیک ہے ۔جسیے تم کہو گی ویسے ہی ہو گا۔ ناہید؛۔ ایک بات رات کو لازمی یاد کروانا کہ میں رات کو روئی کیوں تھی وہ میں آپ کو بتاوں گی میں؛۔ ہاں ہاں ناہید میں تو پوچھنا ہی بھول گیا تھا بتاو نہ کیا بات تھی ناہید:۔ بتاو گی نہ رات کو بتاو گی ناہید:۔ اور ہاں اس دفعہ کوئی اور سٹائل لگانا مجھے کہنا نہ پڑے بار بار تم نے ہر دفعہ ایک دفعہ جھٹکے کے بعد تین سے چار منٹ کے بعد کوئی نیو سٹائل لگانا ہے بس مجھے نہیں پتا میں:۔ او ٹھیک ہے ہو جائے گا ، اسی دوران باتوں باتوں میں میں شنکیاری پہنچ گیا ، ناہید اچھا ایسا کرو کہ میں پہنچ گیا ہوں شنکیاری ابھی میں اپنے کام میں بزی ہوں تم ایسا کرو کہ کال لگی رہے اگر سونا ہے تو سو جاو آٹو میٹک کال نے جب بند ہو نا ہو گا بند ہو جائے گی تم تھوڑا آرام کر لو میں بھی تھوڑا بزی ہو ں گا۔ ناہید:۔ نہیں نہیں ٹھیک ہے آپ آرام سے کال کرو میں بھی بس گھر کے کام سے تھوڑا فری ہو کر نیند پوری کروں گی میں:۔ اچھا ٹھیک ہے ناہید:۔ خرم یقین کروں میری تم نے بہت بجائی ہے میں اب چل نہیں سکتی ابھی بھی مجھے اپنی ناف تک آپ کا لن محسوس ہو رہا ہے میں بہت خوش ہو رہی ہوں ناہید:۔ اچھا بس میں اب کام کرتی ہو ں اور سوتی ہوں ناہید:۔ اچھا ایک بات اور پوچھنی تھی، پوچھنی کیا تھی اجازت لینی تھی میں:۔ جی پوچھو ناہید:۔ میں زرا بازار چلی جاوں ، چھوٹا گوشت اور سامان لینے کے لیے یا پھر سسر کو بھیج دوں میں:۔ ناہید جیسے آپ اچھا سمجھو ناہید:۔ نہیں خرم میں یہ اس وجہ سے پوچھ رہی ہوں کیوں کہ اب تم نے ایک دفعہ میری پھدی لے لی ہے اب آپ کی کوئی زیادہ وقعت نہیں ہو گی میرے لیے ، اس وجہ سے میں اپنے اوپر الزام نہیں لے سکتی کہ کسی دن کسی بھی وجہ سے آپ میرے اوپر یہ الزام لگاو کہ تم تو بازاروں میں گھومتی ہو ، تم یہ کرتی ہو ، کیو نکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب مرد تھک جاتا ہے تو عورت پر الزام لگا کر اپنی جان چھڑاتا ہے ۔ میں اپنے اوپر الزام لینی کی بجائے اپ کی مرضی سے چلنا پسند کروں گی۔ میں:۔ اس کی بات سن کر یقین جانے کہ میرے ٹٹے بالکل شاٹ ہو گئی ناہید جو بھی بات کر رہی تھی وہ ہمارے معاشرے کی اٹل حقیقت تھی اور سچ تھی ، میں:۔ ٹھیک ہے ناہید جو بھی منگوانہ ہے آپ اپنے سسر کو بھیج دیں اور خود آئندہ کبھی بھی میری اجازت کے بغیر باہر نیں جانا اور اگر جانا بھی ہو تو پہلے مجھے کال کرنا اور اگر ضروری سمجھتی ہو تو جو بھی کوئی چیز خریدنی ہو یہاں ایبٹ آباد میں آجایا کرو میں خود ساتھ جاوں گا اور لے کر دوں گا اور ہاں آئندہ آپ نے جب آنا ہو تو پہلے مجھے بتائیں گی میں اپنی گاڑی بھیجوں گا تو تب آپ نے اُس پہ آنا ہے لوکل ویگن وغیرہ پر نہیں آنا (اور یہ سچ ہے ) ناہید:۔ امہا ، اچھا میں کام کرتی ہوں اور پھر سو جاوں گی کال لگی ہوئی ہے میں؛۔ٹھیک ہے ناہید اُس کے بعد میں نے اپنا فون اپنے پاکٹ میں رکھ دیا اور گاڑی کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کے سو گیا کوئی 9 بجے کے قریب مجھے گاڑی میں شور ہونے کی وجہ سے میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ میں شنکیاری کے مین روڈ پر پہنچ گیا تھا ، اُس کے بعد میں نے وہاں سے پک اپ کی اور مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ گیا،دفتر میں داخل ہونے سے پہلے میں نے دیکھا کہ وہاں ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا جبکہ ہمارے ہیڈ آفس کے اصول کے مطابق صبح آٹھ بجے سب نے پہنچ جانا ہوتا ہے میں نے باہر ہی انتظار کیا، شکر ہے کہ میری ابھی ابھی آیبٹ آباد ریجن میں نئی نئی پوسٹنگ ہوئی تھی اس وجہ سے مجھے ابھی تک زیادہ تر لوگ نہیں جانتے تھے ۔ بہرحال انہیں سوچوں میں میں گم تھا تو تقریبا کوئی آدھے گھنٹے کے بعد چپڑاسی آیا ، جس نے دفتر کھولا اور صفائی شروع کر دی میں نے کہا کہاں ہے آفس کے لوگ تو اُس نے ایک دفعہ تو مجھے حیرانی سے دیکھا کہ میں کون ہوں جو ان کے دفتر کے لوگوں کا پوچھ رہا ہوں لیکن پھر پتہ نہیں اُسے کیا خیال آیا تو اُس نے کہا صاحب بس سبھی آتے ہی ہوں گے ۔ جیسے ہی اُس نے دفتر کی صفائی کی میں نے چپ کر کے اُس کے دفتر کے انچارج کے آفس میں جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ اور انتظار کرنےلگا ، اتنی دیر میں صفائی کرنے والے نے مجھ سے پوچھا صاحب چائے لاوں میں نے کہا کہ نہیں چائے کی ضرورت نہین ہے میں بس انچارج صاحب کو ملنے آیا ہوں ۔اگر کوئی آج کا اخبار مل سکتا ہے تو مجھے دے دو۔چپڑاسی نے کہا ضرور صاحب چپڑاسی کے اخبار کے دے جانے کے بعد ابھی تک میں نے اخبار کا پہلا ہی صفحے کی ہیڈنگز ہی پڑھی تھی کہ سارا سٹاف آنا شروع ہو گیا، میں چپ کر کے دیکھتا رہا، ہمارے ریجن کے اس آفس میں ٹوٹل بارہ کے قریب سٹاف تھے جن میں سے سات کے قریب لیڈیز تھی ، سارے کا سار ا سٹاف جب آ گیا لیکن ابھی تک جناب انچارج صاحب نہین پہنچے تھے ، سٹاف آیا تو ان سٹاف میں مجھے بہت حیرانی ہوئی کیونکہ ان میں جو لیڈیز تھیں وہ ساری کی ساری زیادہ سے زیادہ پچیس سال سے کم عمر ہی ہوں گی اور ان لیڈیز کو چنتے وقت ایک چیز کا خیال رکھا تھا کہ اُن کی چیسٹ اور گانڈ کو پسند کرنے کے بعد ہی اگلوں نے ان کو نوکریان دی تھی ، میں سب کو چپ چاپ دیکھتا رہا ، اور تقریبا دس بجے کے قریب انچارج کے کمرے سے نکل کر مین ہال کے درمیان میں کھڑا ہو ااور اپنے گلے کو تھوڑا سا کھنگارتے ہوئے کہا اسلام و علیکم :۔کہاں ہے اس دفتر کا انچارج ان میں سے ایک بہت ہی خوبصورت قسم کی لڑکی تھی عمر اُس کی شاید چوبیس سال ہو گی لیکن اُس کو چیسٹ لازمی (سٹیج ادکارہ شیزہ بٹ سے زیادہ تھی) اور گانڈ تو قیامت تھی اُس لڑکی نے کھڑے ہو کر کہا ، جی پہلے آپ بتائیں آپ کو ن میں :۔ مہربانی فرمائیں پہلے آپ بتائیں آپ کون ہیں،آپ کا نام کیا ہے ، اور اس دفتر میں آپ کی پوسٹ کیا ہے وہ:۔ میرا نام مہرین ہے ، میں اس دفتر کی سیکنڈ انچارج ہوں میں:۔ مس مہرین آپ کی ایجوکیشن کیا ہے اور آپ کو کسی نے آپوائنٹ کیا ہے یہاں مہرین:۔جی میں ہیڈ آفس سے ہی اپوائنٹ ہوئی ہوں اور میں ایجوکیشن ایم ایس سی ، ہے میں:۔ میں نے کہا مس مہرین کیو نکہ آپ اس وقت سیکنڈ انچارج ہیں لہذا اگلے دس منٹ میں آپ نے اُن تمام لوگو ں کی تفصیل لے آئیں جو کہ اس دفتر میں لوگ نوکری کر رہے ہیں ، میں انچارج صاحب کے دفتر میں بیٹھا ہوں اور ہاں جو اس وقت یہاں پر موجود نہیں ہیں اُن کو بھی فون کر کے بلا لیں ، باقی میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں اس بارے میں ہیڈ آفس کال کر کے جی ایم صاحب سے پوچھ لیں ، یور ٹائم سٹارٹ ناو میں آرام سے انچارج کے دفتر میں آیا ، دفتر کی یہ صورت حال تھی کی دفتر کی چاروں سائیڈز پر جو جو دیوار تھی وہ شیشے کی تھی اور شیشہ بھی اس قسم کا لگا ہو اتھا کہ جس میں کہ جوکہ ہاف شیشہ بلرڈ تھا یعنی کہ اُس شیشے سے دونوں سائیڈوں پر نظر نہیں آتا تھا ۔ خیر میں دفتر میں جا کر بیٹھ گیا کوئی سات منٹ کے بعد مہرین دفتر میں داخل ہوئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی ، دل میں یہ کہا کہ کچھ بھی ہو جائے اگر مہرین کوئی چالو قسم کی ہوئی تو میں اس کو تو چودے بغیر نہیں جاو ں گے ایبٹ آباد سے چاہے کچھ بھی ہو جائے اور دوسرا فائد ہ یہ ہوا کہ میں نے مانسہر ہ تو آنا ہی تھا ناہید کے پاس تو بیچ میں سے کسی دن مہرین کی بھی لے لوں گا ، لیکن یہاں پر یہ بات مجھے بڑا تنگ کر رہی تھی کہ مہرین کی میں نے جب بھی لینی ہو گی ، وہ دن کے وقت لینی ہو گی اور دن کے درمیان وقت بھی وہ ہو گا جب ناہید سوئی ہوئی وہ گی کیونکہ ناہید تو کال ہی بند نہیں کرتی تھی ما سوائے سونے کے اور میرےپاس یہی وقت تھا۔ خیر میں ان سوچوں میں گم تھا ۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچا کہ کسی نہ کسی طرح میں نے مہرین کا موبائل نمبر سے اس کو چیک بھی کروں گا کہ اب مسلہ یہ تھا کہ اس کا موبائل نمبر میں کیسے حاصل کروں۔ مہریں:۔ سریہ لسٹ لے لیں میں:۔ میرین مہربانی فرما کر مجھے سب سے پہلے اپنے دفتر کے عملے کا اور ان کی سروس کے بارے میں بتائیں کہ کس بندے کی کتنی ایجوکشن ہے اور کتنی سروس ہو گئی ہے ۔اور ہاں میرے بارے میں ہیڈ آفس سے جی ایم سے پوچھ لیں مہرین:۔سر میرے پوچھنے سے پہلے ہی جی ایم صاحب کی کال آگئی تھی نجمی صاحب کو میں:۔ یہ نجمی صاحب کون ہیں مہرین؛۔سر وہ یہاں کے انچارج ہیں میں؛۔ اچھا ٹھیک ہے کدھر ہیں مہرین؛۔سر وہ ابھی پہنچنے والے ہیں میں:۔ اچھا ٹھیک ہے لسٹ دکھائیں مہریں:۔سر یہ لیں میں نے اُس کے ہاتھ سے فائل لے لی تو فائل کے درمیان میں پنسل تھی وہ مہرین نے مجھے کے ہاتھ سے میں نے لے لی اور میں نے لسٹ پر سے ٹک کرنے لگا، مہرین ساتھ میرےجھک کے کھڑی ہو کر مجھے سمجھانے لگی جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جس کرسی پر بیٹھا تھا اُس کرسی کے سامنے تقریبا پانچ فٹ کے فاصلے پر انچارج کی ٹیبل تھی جس پر مختلف قسم کی فائلز پڑی تھی میں نے کہا مہرین:۔ذرا وہ فائل اٹھا کے دیں مجھے میں:۔ (میرا دل تھا کہ جب مہرین فائل اُٹھانے جائے گی تو صرف اور صرف اس کی گانڈ دیکھوں گا اور اندازہ لگاوں گا کہ کیا چالو ہے یا نہیں، لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی تھی اصل میں ناہید میرے ساتھ جھک کے کھڑی تھی اور وہ جب سیدھی ہوئی ہے اور ٹیبل کی طرف جانے لگی ہے تو اُس کے دونوں پٹوں کے درمیان قمیض کا کپڑا پھنس گیا تھا جس سے مجھے بالکل بھی اندازہ لگانے میں مشکل پیس نہیں آئی کہ یہ لڑکی کی گانڈ کھل چکی ہے ) مہرین:۔یہ لیں سر یہ فائل میں:۔ شکریہ مہرین مہریں:۔نہیں سر یہ تو میری ڈیوٹی میں شامل ہے کہ آفسیر جو کام بھی کہے وہ میں کروں یہ بات کرتے ہوئے مہرین تھوڑی سی مسکرائی میں:۔سمجھ گیا کہ جناب یہاں تو بات ہی بنی بنائی ہے میں اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا تو چپڑاسی آیا اور چائے رکھ کے چلا گیا لیکن چپڑاسی کے چہرے پر میرا مہرین کے ساتھ ہنسنا اچھا نہیں لگا میں:۔ چلیں مجھے سمجھائیں جو لسٹ آپ لے آئی ہیں اس میں کیا کیا ہے مہرین:۔سر یہ لسٹ سروس کے حساب سے ہے، یہ لسٹ ایجوکیشن کے حساب سے ہے ، یہ لسٹ ایڈریس اور موبائل نمبرز کی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ میں:۔مہرین آپ ذرہ بیٹھ جائیں میں ان لسٹ کی سٹڈ ی کر لوں، مہریں:۔ٹھیک ہے سر میں:۔جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا تھا کہ ناہید کے لیے میں نے الگ سے موبائل لیا ہوا تھا اور آفس کے کام کا نمبر ہی الگ تھا اور موبائل بھی تو جو آفس کے استعمال والا موبائل تھا اُس کی بیٹری ختم تھی ، وہ میں نے مہرین کو دیا کہ اگر یہیں آفس میں کو سوئچ فری ہے تو لگا دیں مہریں؛۔سر میں لگا دیتی ہوں میں:۔یہ لیں موبائل مہرین؛۔ٹھیک نے موبائل لے لیا اور کہا سر اگر اجازت ہو تو اس کی سائلنٹ کو کھول دوں تاکہ اگر کوئی کال وغیرہ آتی ہے تو آپ کو پتہ چل جائے میں:۔جی ہاں مہرین کھول دیں مہرین:۔ٹھیک ہے سر اس دوران میں ساری کی ساری ڈیٹیل پڑھتا رہا جو لسٹس مجھے مہرین نے دی تھی اس دوران میں نے لسٹ میں یہ صرف یہ چیزیں دیکھ لی کہ کہاں کہاں پر غلطی ہو ئی ہے اور مجھے دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے کہ مہرین کو غلط بہت جلد پرموشن دیا گیا تھا ، اور وہ سارے کا سارہ میرے خیال میں نجمی کا ہاتھ تھا ، اور ساتھ ہی اُس نے اس کا فائدہ بھی اٹھایا ہو گا ۔ اب مجھے کنفرم ہو گیا کہ کوئی دال میں کچھ کالا ہے ، میں نے مہرین سے ڈائریکٹ بات کرنے کی سوچی میں:۔ مہرین ذرا ادھر آئیں مہرین:، جی سر میں:۔ مہرین آپ نے یہ لسٹ غلط بنائی ہے یا کوئی اور بات ہے مہرین:۔سر میں سمجھی نہیں میں:۔ دیکھی مہرین اس لسٹ کے حساب سے آپ سب سے جونئیر ہیں ، جو کہ سروس والی لسٹ ہے کیونکہ اس لسٹ کے حساب سے مس عبیحہ آپ سے سنیر ہیں ، اگر دوسری لسٹ دیکھیں جو کہ ایجوکیشن کے حساب سے ہے اُس لسٹ میں بھی مس عبیحہ آپ سے سنیر ہیں کیونکہ انہوں نے ڈبل ایم اے کیا ہو ا تو پھر آپ کو سیکنڈ انچار ج کیوں دیاگیا ہے اور ساتھ ساتھ آ پ کو سیکنڈ انچارج کے تمام حقوق بھی مل رہے ہوں گے جن میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، مہریں:۔مہرین کا چہرہ تو بالکل زرد ہو گیا وہ تو شاکنگ کیفیت میں آگئی تھی، میں:۔ اچھا آپ ایسا کریں ذرا اکاوٹنٹ کو بلوائیں وہ ذرہ میرے پاس آئے میں اور ساتھ میں اُن سے کہیں کہ وہ آپ کے الاونسسز کی ڈیٹیل بھی لے آئے جب سے آپ نے سیکنڈ انچارج کا عہدہ سنبھالہ ہے ۔ اور ویسے یہ بتائیں کہ آپ کو یہاں سے کسی نے اپرول دی تھی سیکنڈ انچارج کی مہرین:۔سر یہاں سے تو نجمی صاحب ہی ہر کسی کی اپرول دیتے ہیں میں:۔ اچھا ذرا اکاوٹنٹ کو کہیں وہ آ جائے، نہیں بلکہ میں خود بلوا لیتا ہوں، میں جیسے ہی کرسی سے اُٹھا اور مہرین کو کراس کر کے ٹیبل کے پاس جانے لگا تو جب میں اُس کی سائیڈ سے گزر تو مہرین بالکل بھی اپنی جگہ سے نہ ہلی جس کی وجہ سے میرا ُس کے پاس سے کراس کر کے گزرنا ضروری تھی جس وجہ سے میرا لن معمولی سا اُس کے پٹ پر لگ گیا ، میرے لن کا لگنا تھا اور اُس نے بہت ہی گہری نظروں سے مجھے دیکھا لیکن میں انجان بنا رہامیں نے بیل بجائی تو وہی چپڑاسی آیا۔ میں نے اُسے اکاوٹنٹ کو بلوانے کے لیے کہا اور ساتھ ہی یہ کہا کہ وہ مس مہرین کے تمام تنخواہوں کی تفصیل لے آئے ۔ میرا یہ کہنا تھا تو چپڑاسی کے منہ تو ایسے خوشی سے کھل اُٹھا جیسے اُس کا کوئی انعام نکلا ہو ۔ خیری تھوڑی دیر کے بعد اکاوٹنٹ آیا اور اُس نے میرے سامنے رجسٹر رکھ دیا جس میں سب کی تنخواہوں کی تفصیل تھی ، جو کہ میرا اصل مقصد تھا مہرین کو تو میں نے خالی ایک مہرہ ہی بنایا تھا ، اگر میں ڈائریکٹ اکاوٹنٹ پر چڑھائی کرتا تو کچھ بھی میرے سامنے نہ کھلتا ، خیرمیں نے اُس سے رجسٹر لے لیا اور اُس کو پڑھنے بیٹھ گیا ، اور ساتھ ہی نوٹ بھی کرتا گیا، میں:۔ مس مہرین آپ کے انچارج صاحب نہیں آئے ابھی تک مہرین:۔سر بس وہ ابھی آتے ہی ہوں گے میں:۔ مہرین وہ روزانہ اسی وقت آتے ہیں یا آج کوئی شاہی فرمان تھا اُن کا جو ابھی تک نہیں آئے مہریں:۔سر میں پوچھتی ہوں اتنی دیر میں میں نے مہرین کے علاوہ اکاوٹنٹ کی ساری ڈیٹیل چیک کر لی جس کے لیے مجھے بھیجا گیا تھا میں:۔ جی آپ کا نام میں نے اکاوٹنٹ سے پوچھا وہ:۔ سر میرا نام راحیل ہے میں:۔ میں نے وہ سروس والی لسٹ نکالی اور اُس میں دیکھا تو میں یہاں بھی بڑا حیران ہواکہ راحیل سے بھی سنیر منور صاحب تھے میں:۔آپ کی ایجوکیشن کیا ہے راحیل صاحب راحیل:۔سر میری ایجوکیشن بی کام ہے میں:۔ آپ سے تو منور صاحب اپنی سروس اور اپنی ایجوکشن کی وجہ سے سینر ہیں۔ اپ کو کس نے اپرول دی تھی از اے اکاوٹنٹ راحیل:۔سر نجمی صاحب نے میں:۔کیوں کوئی ایکسپرئنس تھا آپکا پہلے یا بس ایسے ہی راحیل:،چپ تھا میں نے راحیل سے پوچھا میں:۔ راحیل صاحب یہ جو کٹنگ آپ ہر کسی سے کرتے ہیں ہیں یہ کس نے آرڈر دیا ہے اپکو راحیل:۔سر یہ تو ہیڈ آفس سے آرڈر آیا تھا میں:۔ دیکھائیں جو آرڈر آیا ہے کسی نہ کسی لیٹر کے تحت ہی انہوں نے کہا ہو گا کہ ان کی کٹنگ کریں راحیل:۔ سر مجھے تو نجمی صاحب نے کہا تھا کہ ہیڈ آفس سے لیٹر آیا ہے اس حساب سے کٹنگ کر کے ہر مہینے جمع کروانی ہے میں:۔ اچھی مجھے ذرا نجمی صاحب کی کٹنگ دکھائیں کہ انہوں نے کتنے پیسے جمع کروائے ہیں راحیل:۔سر یہ دیکھیں کہ یہ کٹنگ ہوئی ہے میں:۔راحیل ذرہ تمام کٹنگ کی ٹوٹل رقم کر کے مجھے بتائیں راحیل :۔اوکے سر اتنے میں دفتر میں نجمی صاحب بھی آ گے جن کا مجھے شدت سے انتظار تھا ، نجمی صاحب:۔ سر اسلام و علیکم میں:۔ وعلیکم اسلام نجمی صاحب؛۔سر آنے سے پہلے مجھے بتا دیتے میں آپ کو خود ریسو کرنے آجاتا، سر آپ نے ناشتہ کیا ہے میں:۔نجمی صاحب جو چھاپہ ہوتا ہے توپہلے نہیں بتایا جاتا ، ناشتہ میں نے مانسہر ہ کر لیا تھا ،دوپہر کا کھانا میں کھاتا نہیں ہوں، باقی رات مانسہرہ میں میری دعوت ہے سو پلیز کسی چیز میں پڑنے کی بجائے ذرا اپنے سٹاف سے تعار ف کروا دیں اور جو جو چیز میں مانگتا ہوں مجھے دیتے جائیں تاکہ میں جلدی واپس جا سکوں نجمی صاحب:۔جی سر بالکل ٹھیک ہے میں:۔ سب سے پہلے تین چیزیں آپ تیار کریں اتنے میں میں سب سے مل لوں گا ایک تو وہ لیٹر یا وہ آرڈر دیکھا دیں جس میں ہیڈ آفس نے کہا ہے کہ اپ کٹنگ کریں تمام ورکرز کی تنخواہ سےسے کریں دوسرا آپ نے جن جن لوگوں کو اپرول دے کر اچھی اچھی پوسٹ پر لگایا ہے تو وہ وجہ بتائیں کہ کن بنیادی وجہ پر اپ نے انتہائی لائق لوگوں کو پیچھے کیا ہے تیسری چیز جب سے کٹنگ کی ہے وہ آپ نے کہا پر جمع کروائی ہےہیڈ آفس کے اکاونٹ میں اُن کی تمام رسیدیں مجھے دکھا دیں نجمی:۔سر سر یہ تو بہت بڑا کام ہے میں:۔اچھا انتظار کریں میں جی ایم سے بات کر لیتا ہوں میں:۔نے کال ملائی اور جی ایم صاحب کو ساری صورت حال بتانے کے بعد ایک درخواست کر دی کہ ایک لیٹر مجھے فیکس کر دیں جس کے تحت میں یہاںپر موجود سٹاف کی تبدیلی کر سکوں جی ایم:۔خرم تم نے میر ا دل جیت لیا ہے ذرا فون نجمی کو دو میں:۔یہ لیں نجمی صاحب جی ایم سے بات کریں پتہ نہیں نجمی صاحب کی کیا بات ہوئی لیکن اُس نے کہا ابھی ہو جاتا ہے ، اور تھوڑی دیر کے بعد میرا فیکس بھی آگیا میں نے اپنی سمجھ کے مطابق منور صاحب کو اکاوٹنٹ لگا دیا، اور عبیحہ کو سیکنڈ انچار ج کی سیٹ دے دی اور ساتھ ساتھ تقریبا جتنی بھی اماونٹ راحیل نے اور نجمی نے ضبط کی تھی اُس کا ٹوٹل کر کے نجمی کوکہا کہ ان کی رسید یں دے دیں ،جو کہ اُس کے پاس نہیں تھی اسی دوران مہرین میرا آفس والا فون لے آئی کہ سر اس پر میسج آیا ہے۔ میں نے جب دیکھا تو اُس پر ایک نمبر سے میسج آیا تھا جو کہ بہت پہلے میرے پاس سیو تھا ، آپ سب کو یادہو گا ایک دفعہ میں نے کومل کے نام سے سیو کیا تھا ، اُس کا نام کومل اور بریکٹ میں لکھا ہوا تھا کہ رانگ نمبر تو اُس کا میسج کیوں کہ میرے موبائل کی سکرین بھی نظر آ رہا تھا جو کہ مہرین نے پڑھ لیا تھا، اُس پر لکھا تھا کال می اس وقت گھر پر کوئی نہیں ہے ، میرا یہ میسج پڑھنے کے بعد مہرین کے منہ پر تھوڑی تھوڑی ہنسی تھی، جو کہ میں نے اس میسج کی کوئی بھی پروا نہیں کی خیر اپنے ان کاموں کے دوران میں نے ناہید والا موبائل نکالا تو دیکھا کہ ابھی تک ناہید کا کوئی بھی میسج نہیں آیا تھا,، میں سمجھ گیا سوئی ہو گی نہی تو وہ لازمی مجھے فون کرتی ، خیر میں نے اپنے آفس والے فون کو نکالا اور ایک میسج کر دیا، میں:۔ اسلام و علیکم کومل کومل:۔ وعلیکم اسلام میں:۔کیسی ہیں آپ کومل:۔میں ٹھیک ہوں میں:۔آپ نے میرا نمبر ابھی تک سیو کیا ہوا تھا کومل:۔جی ہاں میں نے ایک بات پوچھنی تھی میں:۔جی پوچھیں کومل؛۔آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا میں:۔میں نے کون سا جھوٹ بولا ہے کومل:۔کہ آپ نے میرا نمبر فلانی جگہ سے لیا تھا میں:۔مجھے کیا ضرورت ہے آپ سے جھوٹ بولنے کی اور دوسری بات یہ کی میں جھوٹ بولوں کیوں کومل:۔کوئی تو وجہ ہو گی آپ کی میں:۔ وجہ یہی تھی کہ میں دوستی کرنا چاہتا تھا ، کومل:۔کیوں دوستی کیوں کرنا چاہتے تھے میں:۔تھوڑا ٹائم پاس ہو جاتا اور اگر اتنے عرصے میں ہم لوگ ایک دوسرے کو سمجھ جاتے تو کبھی مل بھی جاتے کومل:۔اچھا ایسی بات ہے میں:۔جی ہاں کومل:۔ٹھیک ہے دوستی تو ہو سکتی ہے لیکن میری ایک شرط ہے میں:۔جی بولیں کومل:۔ابھی صرف میسج کی حد تک دوستی کروں گی زیادہ دیر کال پر بات نہی ہو سکے گی میں:۔ٹھیک ہے مجھے کوئی ایشو نہیں لیکن ایک دفعہ بات اگر ہو جائے کومل:۔اچھا کریں کال میں نے کال کی اور کوئی پانچ منٹ تک اُس سے بات کی تب اُس نے کہا ابھی نہیں رات کو بات کریں گے میں نے کہا کہ رات کو تو میں صفر میں ہوں گا کہیں سگنل آئیں یا نہ آئیں اس وجہ سے شام تک میسج پر بات کر لیں اور کل سے تو جب بھی آپ کہیں گی کال پر بات ہو جائے گی، کومل نے کہا ٹھیک ہے ۔اچھا پھر بات کریں گے تھوڑی دیر تک میں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں یہ ساری باتیں انچارج صاحب کے دفتر میں کر رہاتھا ، تب ہی سوچا کہ کیوں نہ مہرین کا موبائل نمبر ہی سیو کر لوں میں جو کہ تمام ورکرز والی لسٹ میں موجود ہے یہ سوچ کر نمبر کو اپنے آفس والے موبائل میں سیو کر لیا شاید کسی دن جب پھدی نہ مل رہی ہو اس پر ہی گزارا کرنا پڑے اور اسی وجہ سے میں نے مہرین کے نام اپنے آفس والے موبائل میں سیو کر لیا، اور ایک میسج بھی کر دیا ہیلو اور موبائل کو سائلنٹ پر لگا دیا کہ یہ نہ ہو مہرین اس پر کال کرے اور موبائل آفس میں بول پڑے پھر کام خراب ہو جائے گا ، اتنے میں مجھے مہرین کے نمبر سے میسج آ گیا مہرین:۔جی کون میں:۔اپ سے بات ہو سکتی ہے اتنے دنوں سے ٹرائی کر رہا ہوں مہریں:۔میں نے آپ کو کہا نہ کہ آپ سے بات نہیں کر سکتی آپ کیوں روزانہ مجھے تنگ کر تے ہیں میں:۔میں ہنس پڑا کہ جنا ب یہ تو بات ہی کچھ اور ہے میں:۔مہرین پلز میرے ساتھ آپ خالی میسج کی حد تک ہی بات کریں پلیز مہرین:۔آپ کو میرا نام کیسے پتہ میں:۔مجھے تو اور بھی بہت سی چیزوں کا پتہ ہے جیسا کہ ، آج آپ نے کس رنگ کے کپڑے پہنے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے میں نجمی سے کس وقت اور کہاں کہاں ملی ہیں اور کیا کیا کیا ہے اور کس وقت کیا ، مہریں:۔کیا مطلب میں:۔مطلب آپ سمجھ گئِ ہیں مہریں:۔کیا مطلب میں سمجھ گئی ہوں میں:۔دیکھیں سیدھی سی بات ہے ، آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، اور ساتھ ساتھ جو کچھ آپ نے نجمی کے ساتھ خوشی سے کرتی ہیں یا مجبوری سے وہ میرے ساتھ بھی کریں ورنہ یہ نہ ہو میں آپ کی ساری کی ساری کال ریکارڈنگ جو کہ آپ کی اور نجمی کے درمیان ہیں، وہ 2 دن کے بعد اپ کے آفس میں ٹی سی ایس کر دوں مہرین:۔آپ کون ہیں اور پچھلے ایک مہینے سے میرے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہیں میں:۔بس جو بھی ہوں مجھے ابھی جواب چاہیے ہاں یا ناں مہرین:۔دیکھیں مجھے سوچنے کا موقع دیں میں:۔ اگر آپ میرے ساتھ دوستی کرتی ہیں تو اس کے بدلے میں آپ کو نجمی کی اور بھی بہت ساری آڈیوز دوں گا جس میں وہ اور بھی بہت ساری لڑکیوں کے ساتھ راتیں گزار چکا ہے فیصلہ آپ نے کرنا ہے مہرین:۔کیا مطلب نجمی نے ایسا کب کیا میں :۔یہ سب میں آپ کو بتا دوں گا اب مرضی آپ کی ہے میں:۔ اور ہاں ایک بات میں آپ کو اور بھی بتا دوں میں آپ کے اتنے قریب ہوں کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا آج دن میں آپ کے ساتھ جو کچھ بھی آفس میں ہو ا ہے اُس کا بھی مجھے پتہ چل گیا ہے لیکن تھوڑی دیر کے بعد پتہ چلا اگر جلدی پتہ چل جاتا تو پھر شاید میں کچھ کر سکتا لیکن اب بھی کچھ بگڑا نہیں ہے یہ سیٹ آپ کو دوبارہ بھی مل جائے گی او ر ہو سکتا ہے اس سے اچھی بھی مل جائے فیصلہ آپ نے کرنا ہے مہرین:۔اچھا میں شام کو بتاوں گی میں:۔ او کے ٹھیک ہے ۔ میں:۔ اور ہاں اگر میرے بارے میں نجمی کو بتایا یا مجھے کسی بھی طریقے سے چیک کرنے کی کوشش کی تو یہ جان لیں کہ مجھ تک پہنچے نے پہلے آپ کی ساری کال ریکارڈنگ آپ کے آفس میں پہنچ جائے گی۔ مہریں:۔ ٹھیک ہے نہیں پوچھتی میں دل میں خوش ہوا کہ اگر مہرین پھنس جاتی ہے تو کل رات ہی اس کی پھدی لوں گا اور وہ بھی اپنے بنگلے میں کیوں کہ بنگلے میں شام کے وقت کوئی نہیں ہوتا تو شام سے دوسری صبح تک ٹھیک طرح سے اس کی پھدی مار لوں گا اور اگر اس نے مزہ دے دیا تو اس کو اپنے ہی آفس میں نوکری دے دوں گا تاکہ دن کے وقت اور کچھ نہیں سیکس ہی ہو جائے اور جب دل کرے پھدی بھی مار لوں، یقین جانیں یہ سچ ہے پتہ نہیں کیوں میرے اندر اتنا سیکس بھرا ہے یقین جانیں مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی میری زندگی میں صرف دو ہی کام ہیں اچھی طرح ٹکا کےسیکس کرنا اور جب سیکس مہیا نہ ہو تو کسی کے ساتھ سیکس چیٹنگ کرنا تاکہ وقت گزر جائے اور کوئی کام نہیں ہے خیر مہرین سے بات فائنل کرنے کےبعد میں انچار ج کے دفتر سے باہر نکلا تو میں حال میں بہترین قسم کے کھانے کے بندو بست کیا ہو تھا، میں حیران کہ یہ کیا ، میں نے نجمی صاحب کو کہا یہ آپ نے کیا کیا ، اُس نےکہا نہیں سر یہ کھانا ہمار ا حق بنتا ہے باقی جو ہے وہ ہے ،میں نےکھانا شروع کیا تو اس دوران مہرین بار بار نجمی کو کوئی بات کرے جس کی وجہ سے نجمی بہت پریشان ہو گیا تھا خیر مجھے اس سے کیا مجھے تو پھدی سے غرض تھی ، کھانے کے دوران ہی مجھے ناہید کا میسج آ گیا ناہید:۔ کیسے ہو میری جان اور کیا کر رہے ہو میں:۔ آپ کی جان کھانا کھا رہی ہے اور طاقت حاصل کر رہی ہے تاکہ رات کو آپ کی بری طرح بجا سکوں ناہید:۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہا اآپ میں اتنی ہمت نہیں خرم میں:۔ کیوں ایسی کیا بات ہے ناہید:۔ خرم میں صبح سے پاگل ہو رہی ہوں ، دیکھو ذرا اپنا واٹس آپ کھولو میں:۔ نے اپنا واٹس اپ کھولا تو دیکھا ناہید نے اپنی ٹانگوں کی تصویر بھیجی تھی جس میں پھدی سلوار کے اندر نظر آ رہی تھی اور پوری کی پوری سلوار گیلی تھی ، ناہید:۔ مزا آیا میری جان میں:۔ جی ہاں۔ یہ کیا ہے ناہید:۔یہ سوچ سوچ کےپاگل ہو رہی ہوں کہ آج رات پھر میں نے لن لینا ہے اور وہ بھی کم از کم ۹ انچ لمبا ، جلدی بتاو کب پہنچو گے میں:۔میرا یہاں پر کام ختم ہے باقی بس جب تم کہو میں آجاوں گا ناہید:۔ اوکے سنو یا تو عصر اور مغرب کی نماز کے درمیان او میں آ پ کےساتھ کال پر ہو گئی آپ کو سمجھاتی رہوں گی جیسے ہی اپ گلی میں آو گے میں ساس کے کمرے کا دروازہ بند کر دوں گی ، اور گھر کا دروازہ کھول دوں گی آپ آرام سے بنا دروازہ کھٹکٹائے گھر میں آجانا اگر کسی نے دیکھ لیا تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ ان کا اپنا گھر ہے بس فرق صرف یہ ہے ہمار ی ٹائمنگ ملی ہونی چاہیے میں:۔کیوں عصر اور مغرب کے درمیان کیوں ناہید:۔ یار اُس ٹائم میرا سسر گھر سے باہر ذرا چہل قدمی کرنے جاتا ہے اور وہ بھی بازار تک جاتا ہے وہ بازار سے عشا کے ٹائم آتا ہے اور آتے ہیں اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے ، میری ساس کمرے سے باہر نہیں آسکتی تو کم از کم عصر سے عشا تک ایک دفعہ تو لن کا دیدار کر لوں گی نہ اور پھدی میں لے لوں گی اور یاد رکھیں جب بھی عورت اس طرح کی باتیں کرتی ہے تو بڑے سے بڑے مرد کا لن کھڑا ہو جاتا ہے اور یہی بات ناہید کا میسج پڑھ کر میری حالت تھی ، میں بڑاشرمند ہ ساتھا،میں نے جیسے ہی میسج پڑھنا ختم کیا تو جب سر اُوپر اُٹھایا تو سارے لوگ کھانے میں مصرف تھے لیکن مہرین کی نظر وں نے میرے چہرے کو اور میرے لن کی پیمائش کر لی تھی جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک تو میں نے جومیسج کئے تھے ، اور دوسرا اب جب میں کومل کے میسج پڑھ رہا تھا ، اُس وقت جب مہرین نے میرے لن کی اُٹھان کو دیکھا تو یہ بات مجھے کنفرم ہو گئی ہے کہ بہت مزہ دے گی میرا اپنا ماننا ہے کہ مرد اُس سیکس کو نہیں بھول سکتا جس میں لڑکی کی رضامندی بھی شامل ہو اور رضامندی بھی ایسی کہ مرد سے زیادہ لڑکی کا دل کرتا ہو چودوانے کا ، کیونکہ اس میں میرے خیال میں مزہ بہت آتا ہے مرد کو (باقی میرے اس خیال سے بہت سے لوگ متفق ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی) خیر کوئی تین بجے کے قریب میں اُس آفس سے نکلا اور سیدھ بس سٹینڈ کی طرف گیا تاکہ مجھے مانسہر ہ جانے کے لیے گاڑی مل جائے، خیر بس سٹیند پر بھی مجھے تھوڑی ہی دیر انتظار کرنا پڑا تو ویگن آگئی،ویگن میں بیٹھ کر میں نے سکھ کا سانس لیا، اور تھوڑی دیر کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لی، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی، مجھے میرے آفس والے نمبر پر میسج کی آواز آئی ، میں نے موبائل نکالا اور دل می بات آئی کہ یو کومل کا میسج ہو گا ، جیسے ہی فون نکالا تو دیکھایہ تو مہرین کا میسج تھا، میں حیران ہوا کہ اتنا جلدی اس نے کیسے رپلائی کر دیا ، خیر میں نے کہ جی تو آگے سے کہا جی میں نے سوچ لیا ہے مہرین:۔ اس میں سوچنے کی کیا بات ہے ۔ آپ نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا میرے لیے تو اب کیا کروں میں:۔ کیوں میں نے کیا کیا ہے مہریں؛۔ اب اتنے بھی بھولے نہ بنیں آپ میں:۔اچھا یہ بتائیں اپ کے کیا ارادے ہیں اب مہرین:۔ ارادے بھی آپ ہی بتائیں میں بس ایک مجبور عورت کی طرح ہی اس پر عمل کروں گی ، میں:۔ نہیں اگر یہ بات ہے تو پھر ٹھیک ہے میں:۔مہرین اصل میں سچ تو یہ ہے کہ پچھلے تین ہفتےپہلے میں نے آپ کو بازار میں دیکھا تھا اُس وقت صرف اور صرف مجھے اپ کی گانڈ کی شیپ بہت اچھی لگی تھی دل کرتا تھا کہ بس اُس کو چومتا رہوں ، پچھلے تین ہفتے سے میں نے اپ کے لیے ہر قسم کا ڈیٹا اکھٹا کیا ہے تو مجھے ساری صورت حال نظر آ گئی ہے ، اب میری یہ بے قرار ی ہے اور کچھ نہیں، لیکن میرا ایک وعدہ ہے آپ سے اگر آپ کا دل نہ ہو تو میں آپ سے سیکس نہیں کروں گا لیکن مجھے اپنے گانڈ کو پیار کرنے دینا بس یہی میری خواہش ہے اور اس کے بدلے آپ کی اور نجمی کی جو بھی آڈیو ریکارڈنگ ہے وہ بھی لے جانا، مرضی آپ کی مہرین:۔ٹھیک ہے بولیں مجھے کیا کرنا ہو گا میں:۔آپ نے کال شام کو 4سے 5کے درمیان ایبٹ آباد آنا ہے اب یہ نہ کہنا کہ آپ گھر سے نہیں نکل سکتی آپکی ریکارڈنگ میں ساری باتیں واضع ہیں کہ کب کب آپ نے نجمی کے ساتھ کہاں کہاں سیکس کیا ہے اُس میں دو راتوں کابھی ذکر ہے مہرین:۔قسم سے اب میں اتنی بری پھنس گئی ہوں کہ نکل نہیں سکتی ، ٹھیک ہے مہرین:۔ ایڈریس دیں میں؛۔ ایڈریس آپ کو اُس وقت ملے گا جب آپ مانسہرہ سے نکلے گئی میں آپ کو گائیڈ کرتا رہوں گا مہرین؛۔ او کے ٹھیک ہے میں کل پہنچ جاوں گی میں:۔ میری ایک اور چھوٹی سی شرط ہے اگر برا نہ لگے اور آپ کو اور اس کا کوئی غلط مطلب بھی اگر آپ نہ نکالیں تو کہ دوں مہرین:۔ میری دونوں ٹانگیں باندھ کر چودنے والے ہو اس طرح پھنسایا ہو ا ہے آپ نے ، میں تو مجبور ہوں آپ کی ہر بات ماننے کے لیے میں:۔ دیکھیں مہرین میری یہ خواہش ہے کہ جب تک میں آپ کی ہپ کو پیار نہ کر لوں دل کھول کر آپ مجھے دیکھیں نہ بالکل اور نہ ہی میری کوئی آواز سنیں جب میرا دل بھر جائے آپکو پیار کر کر کے پھر میں خود بولوں گا ، اس لیے میں یہ چاہتا ہوں جب آپ میرے بنگلے میں داخل ہوں تو میں آپکی آنکھوں پر پٹی باندھ دوں پھر اپ کو اپنے بیڈ پر لے کے چلا جاوں اور پیار شروع کر دوں ، لیکن ہاں اگر آپ نے پیار کرنا ہو تو آپ اپنے منہ سے بول سکتی ہیں آپ جو کہو گی میں کروں گا ، لکن جب دونوں تھک جائیں گے تب آپ کی پٹی میں اتار دوں گا مہرین:۔ کتنے بندوں سے چودوانے کا ارادہ ہے مجھے اپکا اور ساتھ ساتھ مووی بھی بناو گے میں:۔کیا مطلب مہرین:۔مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ تم آنکھو ں پہ پٹی ہی اس وجہ سے باندھ رہے ہو کہ مجھے اپنے دوستوں سے چودوا سکوں میں:۔ نہیں مہرین اگر ایسی بات ہوتی تو پہلے ہی میسج پر بتا دیتا کہ ہم اتنے لوگ ہیں ۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے مہرین:۔ ٹھیک ہے میں تیار ہوں لیکن جب پٹی باندھو گے تب تو میں نظر آو گے آپ میں:۔ نہیں ایسی بات نہیں ہے میں آپ کے ساتھ میسج کے تھرو رابطہ میں ہوں گا اپنے گھر کے کک اور اپنے گھر کے چوکیدار کو میں کسی کام سے بازار بھیج دوں گا ، اور آپ کو بنگلے میں بلوا لوں گا ، رات کے کھانے کے بعد کک تو چلا جاتا ہے گھر اور صرف چوکیدار ہوتا ہے وہ بھی گیٹ پر ، جب دونوں نہیں ہوں گے اپ بنگلے کے دروازے پر آئیں گی ، دروازہ کھلا ہو گا وہی پر آپ نے دروازے سے انٹر ہو کر اپنی بائیں سائیڈ پر منہ کر کے کھڑی ہو جائیں گی ، میں پیچھے سے آوں گا آپ کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کے آپ کو اپنے ساتھ لے جاوں گا اپنے کمرے میں بس مہرین:۔ او کے ٹھیک ہے ڈن میں:۔ ایک اور بات پلیز مجھے اپنی گانڈ کو پیار کرنے دینا پلیز مجھے تنگ نہ کرنا یا نخرہ نہ کرنہ بس میر ا ساتھ دینا مہرین:۔ آپ کے گھر ہوں گی تو آپ کی ہی بات مانوں گی نہ اور ہاں ایک میری شرط ہے مجھے پیار بہت کرنا آپ نے اور میں چوپا نہیں لگاو ں گی، میں نے کہا ہے دونوں کام اپکی مرضی کے مطابق ہوں گے میں:۔ مہرین آخری بات کوئی چلاکی نہ دکھانا باقی آپ سمجھ دار ہیں مہرین:۔ جی میں سمجھتی ہوں میں:۔ او کے کل بات ہو گی مہرین:۔ اوکے اصل میں میرا یہ پروگرام تھا کہ میں پہلے اپنی مرضی سےاس کو چاٹ لوں ، بہت پیار کر لوں بہت زیادہ پیار جب دل بھر جائے اور اس کا بھی دل کرے تو میں پھر چود دوں اور چودنے کے بعد ا س کو بتاوں کہ میرے پاس کوئی ریکارڈنگ نہیں تھی ، کل ایک اندازے سے سارا کام ہو ا ہے ، اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ یہ میری زندگی کی پہلی چودائی تھی جو کہ ایک دن میں بالکل ریڈی ہو گئی تھی ، میں بھی اپنی قسمت پر حیران تھا، دوسرا اس کو گھر پر بلوانے کا آیڈیا بھی ناہید کے آئیڈ کی وجہ سے آیا تھا جو آج اُس نے بتایا تھا تو یہی آئیڈیا میں نے سوچااور اپلا ئی کر دیا، میرا ماننا ہے کہ جو کام ہم لوگ بہت ہی مشکل سمجھتے ہیں وہی کام اگر پلاننگ کے ساتھ اور ٹائم کی کلکولیشن کے ساتھ کیا جائے تو ناک کے نیچے سے ہو جاتا ہے بس اس کے لیے پیپر ورک بندے کو کرنے پڑتا ہے یا پھر دماغ کا استعمال ، اب میں نے پلاننگ یہ کی تھی کہ جب مہرین ایبٹ آباد اڈے پر پہنچے گی تو کک کو میں بازار پر بھیج دوں گا کہ جاو ں اور کھانے کی چیزیں لے آو اور ہاں آنے سے پہلے مجھے کال کر دینا کہ سر کوئی اور چیز تونہیں لانی ہو سکتی ہے کوئی چیز یاد آ جائے ، اور چوکیدار کو میں ایبٹ آباد اڈے پر بھیج دوں گا کہ مہمان آ رہا ہے اُس کو ریسیو کر کے لے آئے ، جب دونوں نہیں ہوں گے تو اتنی دیر میں مہرین کو گھر بلوا لوں گا اور اُن کے آنے تک مہرین کو چود لوں گا اگر چود نہ بھی سکا تو مجھے اپنے اوپر اتنا اعتبار ہےکہ میرے پیار کے آگے مہرین کو گرم ہونے میں کم سے کم ٹائم لگے گا اور وہ خود بولے گی ڈالو لن بس یہ پلاننگ تھی میری خیر ان ہی سوچوں کے دوران میں مانسہر ہ اڈے پر پہنچ گیا اور ساتھ ہی ناہید کی کال بھی آگئی ناہید:۔ کہاں پہنچے ہو میں:۔ مانسہرہ اڈے پر ہوں ناہید:۔ اچھا ابھی اُدھر ہی رہوں ابھی سسر تیار ی کر رہا ہے نکلنے کی جیسے ہی یہ یہاں سے نکلے گا میں آپ کو بتا دوں گی آ پ آجانا، میں:۔میں اوکے میں انتظار کر رہا ہوں ناہید:۔ایک اور کام کچھ بھی نہیں کھان ورنہ بھوک مٹ جائے گی میں نے سارا دن لگایا ہے آ پ کے کھانے کے لیے میں:۔ ٹھیک ہے میری جان ناہید:۔ اور ہاں مجھے نہیں پتہ آتےہی ایک دفعہ بس آتے ہیں جیسے ہی کمرے میں اتے ہو بنا پوچھے بنا کوئی بات کیے اور بنا لن کو کھڑا کیا مجھے چودو گے میں:۔ ناہید جب لن کھڑا نہیں ہو گا تو چودوں گا کیسے یار تم نئی بات کر رہی ہے ناہید:۔نہیں تم نے بس مجھے گھوڑی بنا کے پھدی میں ٹوپی ڈالنی ہے دو سے چار جھٹکے مارو گے تو لن کھڑا ہو نا شروع ہو جائے گا ۔ میں:۔ یار بس اور باتیں نہ کرو میرا تو یہیں پر کھڑا ہو ا رہا ہے اور یہ بس سٹینڈ ہے ناہید:۔ او کے گڈ ہو گیا اگر ایسی بات ہے تو جیسے ہی میرا سسر گھر سے نکلے گا ہم لوگ کال پر سیکس کی باتیں کریں گے اور تم چلتے آنا راستے میں باتیں بھی ہوتی رہیں گی اور لن کھڑا بھی ہوگا جیسے ہی گھر پہنچو گے لن کو کھرا کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن یہاں میری وہی شرط ہو گی کہ جب میں تین گنوں گی تم آگے ہونا اور میں اپنی گانڈ کو پیچھے کرو ں گی، جتنا زور ہو سٹ مارنا تم میں:۔ ناہید اس کی کیا ضرورت ہے ناہید:۔ یار یہ میر ا حق ہے قسم سےپورا دن میں نے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر کھانا پکایا ہے اور تم ہو کہ یہ بات بھی نہیں مان رہے میں:۔ اوکے اوکے ناہید:۔ اچھا ایک منٹ صبر شاید میرا سسر جا رہا ہے میں:۔ اوکے ناہید:۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد ناہید نے کہا آجاو جلدی نکلو اڈے سے اور ہاں میرے سسر کے اس رنگ کے کپڑے ہیں ، وغیرہ ہیں اگر گلی میں اس رنگ کے کپڑے والا کوئی ہو تو بتا دینا مجھے پھر تم گھر سے آگے چلے جانا میں:۔ او کے ناہید ٹھیک ہے اس طرح ہم لوگ فون پر باتیں کرتے رہے اور میں بھی چل پڑا ، اندر سے میری پھٹی ہوئی تھی ، کہ رات پوری اس نے جاگا کے رکھا ہے ، اج سار ا دن بھی اس نے جاگا کہ رکھا ہے ، اب رات کو بھی جاگا کے رکھے کی کل مہرین کی پھدی لینی ہے ، کومل بھی تیار ہو جائے گی، اوپر آسمان کی طرف منہ اُٹھا کے دیکھا اور کہا یا میرے مالک (غریب تباہ دے) تھوڑی دیر بعد میں ناہید کی گلی میں داخل ہوا، اور ارد گرد دیکھتا گیا، اور ساتھ ساتھ ناہید کو بھی بتاتا رہا ، یقین کریں بالکل جیسے لو گ اپنے گھر میں داخل ہوتے ہیں اُسی طرح میں بھی داخل ہوا اور بالکل گیٹ کے ساتھ ناہید کھڑی تھی، میں جیسے ہی اندر گیا اُس نے اشارہ کیا کہ دروازہ بند کرو، میں نے دروازہ بند کیا جیسے ہی دروازہ بند کیا تو ناہید کے گھر کے سامنے والے گھر میں ایک عورت نے مجھے دیکھا وہ بھی بڑی خوبصورت قسم کی عورت تھی ، تھی کوئی پٹھانی تھی ، میرا دل بہت خوش ہو گیا اُس کو دیکھ کر ، اور دعا کی کہ کیا اس کی بھی لے سکوں گا لیکن پھر میری اپنی گانڈ پھٹ گئی کہ یہ کیسےہو سکتا ہے کہ ناہید کے گھر کے سامنے والے گھر میں رات گزاروں ، اور وہ بھی پٹھانوں کے گھر جو لوگ پٹھانوں سے واقف ہیں وہ میرا اشارہ سمجھ گئے ہوں گے خیر میں ن درواز ہ بند کیا تو ناہید جالدی سے میرے پاس آئی اور میرے لپس میں لپس دیے اور میرے لن کو پکڑ کر ہلانا شروع ہو گئی ، اور مجھے لے کر کمرے کی طرف چل پڑی جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  20. کیا کہانی Khatam ہو Gayi کیا؟

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.