دیکھا جائے تو کمینٹس تو تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں۔ اور سب کو یہ کہانی پسند بھی ہے۔ رائٹر نے غلطی تسلیم کر کے ان پیجز کو بھی ڈیلیٹ کر دیا ہے ۔ مقدس ناموں کے ساتھ سیکس کو پسند کرنے والے کچھ قارئین کا بھی کمینٹ آ گیا ہے کہ جو نام جس نے رکھ دیا ، وہی مزا دیتا ہے ، اور ان ناموں سے مقدس ہستیاں مراد نہیں بلکہ کہانی کے کردار مراد ہیں۔ اور جنہوں نے یہ کہانی لکھی یا پڑھی وہ بھی مقدس پیشے اور مقدس ناموں والے لوگ ہیں۔ تو اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ سارے ہی مقدس نام نہیں ہوتے۔ دنیا میں لوگ مقدس نام رکھ کر کاروائی ضرور ڈالتے ہیں لیکن کہانی کے کردار میں کوئی بھی مقدس نام پڑھنا پسند نہیں کرتا ۔ یہ ان کے مذہبی جذبات کا مسئلہ ہے جس کا کہانی کے رائٹر سمیت سب کو ہی احترام کرنا چاہئیے۔ کیونکہ بروز قیامت حساب مانگنے والے نے ان ہستیوں کے مقدس ناموں کی نسبت پر سوال کر دیا تو جہنم کے کوڑے پکا پڑنے والے ہیں۔ مقدس ہستیوں کا نام رکھ کر بھی اگر کوئی یہ کام کرتا ہے ، سیکس والے، تو بھی رائٹر کو چاہیئے کہ ڈس کلیمر برائے تبدیلئ نام کے ساتھ اصل واقعات عام ناموں کے استعمال کے ساتھ بتائے۔ جیسے عامر، ثاقب، شہاب، روشی، فرح، کنزا، فائقہ، خالدہ، ناصرہ، عالیہ، رمشا، علینہ، نگینہ ، وغیرہ وغیرہ ۔ دنیا میں ایسے کروڑوں نام ہیں جو مقدس ناموں کے زمرے میں نہیں آتے۔ کہانی بند کرنے اور کمینٹس کا رونا رونے کی بجائے ، مقدس ناموں کے بغیر اپڈیٹ دینے پر توجہ دیں ، تو سارے مسئلے حل ہو جائیں۔
میرا یہ میسج سب کے لیئے ہیں۔ پڑھنے، لکھنے اور چھاپنے والے ، سب کے لیئے ہے۔