Everything posted by Young Heart
- Parvaz hai dono ke esi aik fiza me
- Parvaz hai dono ke esi aik fiza me
-
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں
بالکل درست ---- بہت عمدہ اور متاثر کن
-
ایک دفعہ کا ذکر ہے
بہت خوب ---- بہت ہی عمدہ شئیرنگ
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
کیسے کاریگر ہیں یہ آس کے درختوں سے لفظ کاٹتے ہیں اورسیڑھیاں بناتے ہیں کیسے با ہنر ہیں یہ غم کے بیج بوتے ہیں اور دلوں میں خوشیوں کی کھیتیاں اُگاتے ہیں کیسے چارہ گر ہیں یہ وقت کے سمندر میں کشتیاں بناتے ہیں آپ ڈوب جاتے ہیں (امجد اسلام امجد)
-
مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
بہت خوب میں کیا بتاؤں اے جانِ جاناں وہ راز ان مسکراہٹوں کے یقین جانو تو قہقہوں میں ہزاروں آنسو چھپے ہوئے ہیں
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر میرا دل بنے تری راہ گزر ملے لذت غم عشق یوں میری آہ جائے نہ بے اثر کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر میں تیری نگاہ میں معتبر اٹھے ہر قدم تیری چاہ میں کٹے اس طرح سے میرا سفر کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر ملے اس طرح سے تیری خبر میں خود اپنے آپ سے لاپتہ تیری ذات پہ ہو میری نظر کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر ہو نہ رائگاں یہ تیرا ہنر نہ بکھر سکوں کسی ٹھیس سے مجھے تھام لے میرے کوزہ گر کبھی یوں بھی ہو میرے چارہ گر ہو میرا جنون بھی بے خطر حائل ہو سکیں نہ میری راہ میں یہ شجر، حجر، نہ ہی بحر و بر
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے کہیں بے وجہ اظہار کرم ایسا بھی ہوتا ہے تری دل داریوں سے صورت بیگانگی نکلی خوشی ایسی بھی ہوتی ہے الم ایسا بھی ہوتا ہے وقار صبر کھویا گریہ ہائے بے قراری نے کہیں اے اعتبار چشم نم ایسا بھی ہوتا ہے بدعوائے وفا کیوں شکوہ سنج جور ہے حسرتؔ دیار شوق میں اے محو غم ایسا بھی ہوتا ہے
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
چارہ گر ہار گیا ہو جیسے اب تو مرنا ہی دوا ہو جیسے مجھ سے بچھڑا تھا وہ پہلے ہی مگر اب کے یہ زخم نیا ہو جیسے میرے ماتھے پہ تیرے پیار کا ہاتھ روح پر دست صبا ہو جیسے یوں بہت ہنس کر ملا تھا لیکن دل ہی دل میں وہ خفا ہو جیسے سر چھپائیں تو بدن کھلتا ہے زیست مفلس کی ردا ہو جیسے (پروین شاکر)
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
شاعری کے انتخاب کی پذیرائی کا بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب لیکن یہ یقین کرنا خاصا مشکل ہے کہ لکھاری ہو اور شاعری سے دلچسپی پنکچر ہو
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
چارہ گر آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا پیش کرتا رہا میں پھول سے جذبات اسے جس نے پتھر کے کھلونوں سے مجھے بہلایا
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت ہی کمال شاعری ہے بیٹے کے گستاخیوں کے باوجود جس طرح ماں کے جذبات کی عکاسی کی بہت ہی عمدہ
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت عمدہ اور مزیدار زبردست
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
واہ کیا بات ہے بہت ہی مزیدار زبردست
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
عشق نے غالب نکما کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت خوب
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
ہاہاہاہا - بہت اعلیٰ
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت خوب
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت اعلیٰ جناب
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت اعلیٰ
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
ہاہاہاہاہا زبردست یار
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
بہت عمدہ
-
~!~ Shadi aur kanwara pan ~!~
مجھے تو یہ پوسٹ گاربیج کی طرح نظر آرہی ہے ۔۔۔۔ شاید کوئی فونٹ وغیرہ کا مسئلہ ہو
-
مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا
بہت عمدہ شاعری شیئر کی ہے جناب ایک سے بڑھ کر ایک شعر تھا اس غزل کا - خصوصاََ آخری دوشعرلاجواب تھے اس شعر پر پروین شاکر کا ایک شعر میری طرف سے اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی یہاں ادا جعفری کا ایک شعر پیش خدمت ہے کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے اپنے سوا ہمیں تو کسی سے گلہ نہ تھا
-
کھلونا تو نہیں ہوں میں
نہیں جاؤ یوں مجھے چھوڑ کر مرے چارہ گر یہاں پِھر رہا ہوں میں در بہ در مرے چارہ گر ترا نام میری زبان پر رہے دم بہ دم نہ ہو اپنی ذات کی کچھ خبر مرے چارہ گر میں ہوں سرگراں یہاں زندگی کی تلاش میں کبھی آ کے بن مرا ہمسفر مرے چارہ گر مری تِشنگی کو قرار دے مجھے پیار دے مرا ہجر کر دے تُو مختصر مرے چارہ گر تری آنکھ جس پہ بھی اٹھ گئی وہ سنور گیا کبھی ڈال مجھ پہ بھی وہ نظر مرے چارہ گر میں تھا زندگی کے شعور سے بھی نا شناس ترے عشق نے کیا معتبر مرے چارہ گر مری عاشقی کو دوام دے مجھے نام دے مجھے مُرسلِ غَم و درد کر مرے چارہ گر مرے لب پہ یہ ہی صدا رہی بخدا رہی مرے چارہ گر، مرے چارہ گر،مرے چارہ گر ہے حبیب کی یہی آرزو یہی التجا مری خاک ہو تری رہ گُزر مرے چارہ گر