Everything posted by Young Heart
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
یہ نظم میں نے آج سے کچھ پندرہ سولہ سال پہلے سنی تھی آپ سے کیا پردہ باجی میں سب بتا دیتی ہوں شب عروسی کی کہانی میں سب سنا دیتی ہوں رات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسے دو جواں دل تھے دونوں ہی تھے پیاسے کس پیار سے وہ میرے پاس آیا باجی دونوں ہاتھوں سے میرا گونگھٹ اُٹھایا باجی میرے ہونٹوں کو ہونٹوں سے دبایا باجی باغ نشیمن پہ بھی ہاتھ لگایا باجی لرزتے جسم میں ایک بجلی سی کود گئی اُس نے بوسہ جو سینے پہ لگایا باجی ناف تک رینگ گئ ہائے اک کھڑی سی چیز ظالم نے دھکا جو زور سے لگایا باجی درد لطف سے اک ہائے تو نکلی لیکن دھیرے دھیرے مجھے بھی چین آیا باجی پھر تو رگ رگ میں آنے لگی سرور و مستی اس نے چپو جو روانی سے چلایا باجی اک چشمہ سا ابلتا ہوا محسوس ہوا آخری جھٹکا جو ظالم نے لگایا باجی آڈیو ملاحظہ ہو
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
بیچ کی انگلی کیا چیز ہے اے نام خدا بیچ کی انگلی کرتی ہے ہر اک عقدے کو وا بیچ کی انگلی رکھتی ہے تماشوں کی ہوا بیچ کی انگلی پاتی ہے تلاشوں کا مزا بیچ کی انگلی خویوں کو بھی خوش رکھتی ہے، خایوں کو بھی خور سند کرتی ہے بروں کا بھی بھلا بیچ کی انگلی مت پوچھیے اس فتنۂ دوراں کی حقیقت لوڑے سے بھی گز بھر ہے سوا بیچ کی انگلی کرتی ہے سر آغاز ہتھیلی کو دبا کر اور کھولتی ہے بند قبا بیچ کی انگلی آہٹ نہ ہواور دم میں درعیش پہ پہنچے رفتار میں ہے مثل صبا بیچ کی انگلی کردیتی ہے جا کر کس خوابیدہ کو بیدار آنکھوں کو پلاتی ہے نشا بیچ کی انگلی ازبر ہیں اسے جملہ مقامات حریری چھو آئی ہے سب زیر قبا بیچ کی انگلی گو ہوتی ہے ہت پھیر میں پانچوں مری گھی میں لیتی ہے مگر خاص مزا بیچ کی انگلی جس طرح سے ماتھے پہ لگاتی ہے وہ بندیا ہاتھ آئیں تو دوں یونہی چڑھا بیچ کی انگلی بھرتی ہے کبھی جا کے غرارے میں غرارہ انگیا میں کبھی کرتی ہے ’’تا‘‘ بیچ کی انگلی ہے بیچ کی انگلی بھی مرے لوڑے سے بڑھ کر اور غیر کا لوڑا بھی نرا بیچ کی انگلی سن سن کے میری بیچ کی انگلی کے کرشمے کیوں لیتے ہو ہونٹوں میں دبا بیچ کی انگلی گر تم مجھے انگشت شہادت سے نہ ٹوکو دے غنچۂ امید کھلا بیچ کی انگلی تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشت لوڑے کو بھی نامے میں لکھا بیچ کی انگلی کرتا ہوں میں اس شوخ سے اس طرح شروعات دیکھوں مری پکڑو تو بھلا بیچ کی انگلی ملتا ہے کبھی غیر تو کر کے ’ٹلی لی جھر‘ مفعول کو دیتا ہوں دکھا بیچ کی انگلی وہ آئیں گے، وہ آئیں، وہ آئیں پر آئیں لی بیچ کی انگلی سے ملا بیچ کی انگلی
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
بند باندھے ہیں کیوں گلے تک کے کیا یہ میوے ابھی نہیں پکے وہ لگاتا ہوں متصل دھکے چھوٹ جاتے ہیں چوت کے چھکے یہ ادا دیکھو یہ حیا دیکھو وہ چداتی بھی ہیں تو منہ ڈھک کے کس کا آنا بھی اک قیامت ہے بیٹھ جاتا ہے عضو تھک تھک کے سیل عشرت پیا کیا شب بھر سیل پہنچی ہے یار توشک کے بل ہیں زلفوں سے بڑھ کے جھانٹوں میں تار الجھے ہوں جیسے پیچک کے شیخ چپکے سے کام کر گزرے راز پھوٹا تو چل دیے سکے میں نے فرقت میں تیری اے معشوق رات کاٹی ہے گالیاں بک کے دفعتاً ہم نے وہ بزل چھیڑی رہ گئے اہل بزم بھونچکے
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
آب شہوت سے ہوکے گیلی چوت ہوگئی اور بھی رسیلی چوت تھی نگاہ کرم رقیبوں پر ہم سے کرتی رہی بخیلی چوت جرم لوڑے سے کیا ہوا ایسا جس پہ ہوتی ہے لال پیلی چوت اس جوانی میں ہات تیرے کی ًًبڑلڑا سینہ اور یہ ڈھیلی چوت مفت نکلا ہے نام لوڑ ے کا ہے کچھ اس سے سوا رنگیلی چوت اپنے دونوں جہاں بخیر رہے لی کبھی گانڈ اور کبھی لی چوت اس عفیفہ نے میری فرقت میں یوں سمجھیے کہ جیسے سی لی چوت
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
تعریف کراں کی لنڈ دی جیرا پھدیاں دا سردار اے پھدی مار کے انج سو جاندا اے جینویں صدیاں دا بیمار اے ---------- شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی گُلی نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُلی شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگیا پھل نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُل شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگا وٹّا نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا ٹٹا شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی تھالی بُبے تیرے رنگ برنگے پھدی تیری کالی ----------------- کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھل تے مار غلیلا لُل تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا کھوئی تے مار غلیلا ٹوئی تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھٹے تے مار غلیلا ٹٹے تے آڈیوملاحظہ ہو
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
ہم نے فن دشنام کی ماں چود کے رکھ دی اس کام کی اس کام کی ماں چود کے رکھ دی ناکام تمہارے پڑے جس کام کے پیچھے یوں سمجھو کہ اس کام کی ماں چود کے رکھ دی اس گردش ایام کی علت نے تمہاری اس گردش ایام کی ماں چود کے رکھ دی جس کام کو برسوں میں بنایا تھا بمشکل یاروں نے سب اس کام کی ماں چود کے رکھ دی جس قوم کو تھی چار نکاحوں کی اجازت اس قوم نے اغلام کی ماں چود کے رکھ دی کیا حال ہے واں زاہد مرحوم کا رضواں سنتے ہیں مے و جام کی ماں چود کے رکھ دی مت پوچھیے اس فتنۂ یو این کی کرامات جمیعت اقوام کی ماں چود کے رکھ دی کیا ذکر مئے وصل کہ اس تلخ دہاں نے اک بوسے پہ دشنام کی ماں چود کے رکھ دی اک یار ہمارا وہ ہزل گو ہے کہ جس نے اس پیشۂ بدنام کی ماں چود کے رکھ دی
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
شوخیاں ان کی کیا کہوں جیسے اب غرارہ اٹھا کے جھانکی چوت غیر آیا ہے لے کے سوکھا منہ جیسے بیمار نیم جاں کی چوت کیوں نہ اغیار ہی کو دے ڈالی ہائے کیوں نے رائگاں کی چوت میرے عاشق مزاج لوڑے سے یاد کرتی ہے اک جہاں کی چوت ہائے اس خوش ادا کے تیکھے کچ ہائے اس نازنیں کی بانکی چوت تنگ کرتی ہے مجھ کو خلوت میں اک معشوق بے نشاں کی چوت خود کشی کرکے چین پاتی ہے پردہ داران بے زباں کی چوت جب بھی لوڑا بپھر گیا،اس نے صلح جوئی کو درمیاں کی چوت
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
بس کہ دشمن ہوئی ہے جاں کی چوت دھت تری عاشقی کی ماں کی چوت میں نے جھانکا جو غسل خانے میں کیا ہتھیلی سے اس نے ڈھانکی چوت اسد خاں کا حصہ جھانٹ اور تجمل خاں کی چوت آج کل جمع ہے کراچی میں کیا بتاؤں کہاں کہاں کی چوت مت کرو ذکر فرج بنگالہ پہلے دیکھو یہاں وہاں کی چوت بعد میں دیجے راز دل اس کو لیجیے پہلے راز داں کی چوت حکمتیں اس کی دیکھ اے غافل ہے ہر اک شاخ گل پہ ٹانکی چوت
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
وہ منگل رات سہانی تھی وہ پیا سے چدنے والی تھی کوئی بہن کا لوڑا چود گیا اور چوت میں مکھن چھوڑ گیا ٹوں روں روں جُورُو باجے بین بین اور ایک کے نیچے تین تین پھر سارے بولے مستی میں اب چوت ملی ہے سستی میں ٹوں روں روں وہ راجہ بولا دوحے کا میرا لنڈ بنا ہے لوہے کا وہ رانی بولی چین کی میری چوت بنی ہے ٹین کی ٹوں روں روں نہ ہاتھی سے نہ گھوڑے سے تو چدے گی میرے لوڑے سے وہ چود کے بولا بائے بائے وہ چد کے بولی ہائے ہائے ٹوں روں روں آڈیو ملاحظہ ہو
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
یہ نظم تو پیروڈی ہے اصل نظم بہت خوبصورت ہے اب میرے پاس تُم آئی ہو ، تو کیا آئی ہو میں نے مانا کہ تم اِک پیکرِ رعنائی ہو چمنِ دہر میں روحِ چمن آرائی ہو طلعتِ مہر ہو ، فردوس کی برنائی ہو بِنتِ مہتاب ہو ، گردوں سے اُتر آئی ہو مجھ سے مِلنے میں اب اندیشہءِ رُسوائی ہے میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے خاک میں، آہ، ملائ ہے جوانی میں نے شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے شہرِ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے حُسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے میرے پیمانِ محبت نے سِپر ڈالی ہے اُن دِنوں مُجھ پے قیامت کا جُنوں طاری تھا سَر پے سرشاری و عِشرت کا جُنوں طاری تھا مہ پاروں سے محبت کا جُنوں طاری تھا شہر یاروں سے رقابت کا جُنوں طاری تھا بِسترِ مخمل و سنجاب تھی دُنیا میری ایک رنگین و حسیں خواب تھی دُنیا میری کیا سُنو گی میری مجروح جوانی کی پُکار میری فریادِ جِگر دوز میرا نالاءِ زار شِدتِ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گُفتار میں کہ خود اپنے مذاقِ طرب آگیں کا شِکار وہ گُدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لائوں؟ اب میں وہ جذبہءِ معصوم کہاں سے لائوں؟ اب میرے پاس تُم آئی ہو، تو کیا آئی ہو مجاز لکھنوی اس خوبصورت نظم کو جگجیت نے بھی گایا ہے
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن رس بھرے رس داررسیلے جوبن جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا اور اے دوست !!! اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی لیکن اے دوست اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور پیشاب کی دھار مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو آڈیو ملاحظہ ہو
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا