Everything posted by Young Heart
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
بچپن اور لڑکپن میں بڑے شوق سے گندے گندے اشعار سنا کرتے تھے اس تھڑیڈ میں ادھر ادھر سے سنے سنائے گندے اشعار یا نظمیں شئر کی جائیں گی تو پہلی نظم حاضر خدمت ہے عرضِ حیات کا ہے ارمان بھوسڑی کا چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا وہ دیکھو اپنے اندر دو دو چڑھا رہی ہے ڈر ہے کہ ہو نہ جائے چالان بھوسڑی کا جب سے ہوئی ہے شادی معشوق کی کسی سے جینے کا نہیں کوئی ارمان بھوسڑی کا چوتیں بنی ربڑ کی اور پلاسٹک کے لنڈ کیا کیا بنا رہا ہے جاپان بھوسڑی کا اب چودا بھی جا رہا ہے مندروں کی جانب کیا ماں چدوا رہا ہے شیطان بھوسڑی کا وہ دیکھو چھت کے اوپر جوڑی بنا رہے ہیں اور ڈر ہے کہ آ نہ جائے بڑا بھائی بھوسڑی کا معشوق نے کہا ہے سگریٹ نہ پینا جانو گٹکا چبا رہا ہے عمران بھوسڑی کا وہ آئے ہمارے گھر میں ہمیں لنڈ خبر نہیں ہے یہ ماں چدوا رہا تھا چوکیدار بھوسڑی کا ہے رات بہت کالی گھر پہ سنبھل کے جانا رستے میں چھن نہ جائے موبائیل بھوسڑی کا گانڈ مارنے کا شوق تو ہم بھی رکھتے ہیں یہ کیا کام دیکھا رہا ہے پٹھان بھوسڑی کا لوڑے اپنے سنبھال لو میرے دوستوں ورنہ بس رہ جائے گا نام بھوسڑی کا اس نظم کی آڈیو ملاحظہ ہو
-
Nooran Kanjri
دلوں کے بھید تو خدا ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں - اسلیے کون نیک ہے کون نہیں اس کا فیصلہ تو وہی ذات کرسکتی ہے - اس کا تعلق ظاہری وضع قطع سے کہاں ہے وہ کیا ارشاد ہے کہ اللہ تمہارے شکلوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے کون جانے کس کا کونسا عمل قبولیت کا ہو اور اس کی بخشش کا باعث بن جائے بھلے دنیا اسے معتوب یا گنہگار سمجھے -- اور کس کا کون سا عمل اس کا سب کیا دھرا غارت کردے بھلے دنیا اسے ولی سمجھتی ہو
-
Nooran Kanjri
کیا بات ہے جناب بہت ہی خوبصورت کہانی تھی دل کو چھو لینے والی اور افسردہ کر دینے والی یہ تو خدا ہی جانے کہ کون اس کا مقرب بندہ ہے نہ جانے کیوں ہمارے ہاں چار نمازیں پڑھ لینے والے کو یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اسے یہ حق حاصل ہوگیا ہے کہ جنتی اور جہنمی ہونے کا لائسنس دیتا رہے بہت مؤثر کن کہانی لکھی ہے
-
سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
- ذکر اُس پری وش کا
(تحریر یوسف ثانی) اللہ کی ایک مشہور اور اشرف مخلوق کی دو اقسام ہیں۔ ایک کو انسان کہتے یں اور دوسری کو عورت۔ عورتیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک وہ جن پر شاعر حضرات غزل کہتے ہیں اور جن کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ بھرا جاتا ہے۔ دوسری قسم بیوی کہلاتی ہے۔ جس طرح کسی بچے کی معصومیت اُس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح عورت کی ساری خوبیاں اُس وقت ہوا ہو جاتی ہیں جب وہ زَن سے رَن، میرا مطلب ہے بیوی بن جاتی ہے۔ بیوی کو بیگم بھی کہتے ہیں۔ شنید ہے کہ سنہرے دور میں یہ بے غم کہلاتی تھی کیونکہ ان کا کام شوہروں کو ہر غم سے بے غم کرنا ہوتا تھا۔ دور اور کام تبدیل ہوتے ہی نام بھی تبدیل ہو کر بیگم رہ گیا۔ اعلٰی ثانوی جماعت کے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا کہ بیویاں زیادہ تر کس کے کام آتی ہیں؟ ایک شریر طالبعلم نے فوراً جواب دیا "سر لطیفوں کے۔" جی ہاں بیویاں زیادہ تر لطیفوں ہی کے کام آتی ہیں۔ دُنیا میں اب تک جتنے بھی لطیفے تخلیق کئے گئے ہیں، اُن میں سے بھاری اکثریت کا تعلق بیویوں ہی سے ہے۔ بیوی کو ہندی زبان میں استری بھی کہتے ہیں۔ ایک صاحب کی کپڑے پریس کرنے والی استری خراب ہو گئی تو وہ اپنے پڑوسی سکھ سے استری ادھار مانگنے پہنچ گیا جو مزاج کے ذرا تیز تھے۔ سردار جی جب دروازے پر آئے تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولے، "سردار جی وُہ ذرا آپ کی استری ۔۔۔۔ سردار جی نے اُسے گھورتے ہوئے ذرا باآواز بلند کہا، "کیا ہوا میری استری کو؟" سردار جی کی بلند آواز سُن کر اُن کی دھرم پتنی بھی دروازے پر آن کھڑی ہوئی۔ سردار جی غصے سے اپنی بیگم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے، یہ رہی میری استری۔۔۔ پڑوسی نے جلدی سے کہا نہیں سردار جی وُہ کپڑوں والی استری۔۔۔ سردار جی چلائے "تو کیا تمہیں اس کے کپڑے نظر نہیں آ رہے؟" پڑوسی مزید گھبراہٹ میں بولا، سردار جی۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ وہ وہ والی استری جو کرنٹ مارتی ہے۔ سردار جی ایک زور دار قہقہہ بلند کیا اور بولے، پُتر ذرا ہتھ لا کے تے ویکھ۔ تعلیم بالغاں کی ایک کلاس میں ایک استاد نے ایک شادی شدہ شاگرد سے پوچھا، بیوی اور ٹی وی کیا فرق ہے؟ شاگرد نے جواب دیا، "ہیں تو یہ دونوں بڑے مزے کی چیز لیکن ٹی وی میں ایک اضافی خوبی بھی ہے اور وہ یہ کہ آپ جب چاہیں، اُس کی بولتی (ہوئی آواز) بند بھی کر سکتے ہیں۔" دُنیا بھر کے مَردوں (مُردوں نہیں) کی معلومات بیویوں کے بارے میں کم و بیش ایک سی ہوتی ہیں۔ وہ اپنی بیوی کے بارے میں کم سے کم اور دوسروں کی بیویوں کے بارے میں بیش یعنی زیادہ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بیویاں غیر شوہروں کو مرغوب اور شوہروں کو غیر مرغوب ہوتی ہیں۔ بیویوں کے بارے میں ایک محقق نے اپنی تحقیق کو شائع کرنے سے انکار کر دیا، وجہ پوچھی تو کہنے لگا، میں اپنی تحقیق اُس وقت شائع کرواؤں گا جب میرا ایک پاؤں قبر میں ہو گا اور کتاب شائع ہوتے ہی میں اپنا دوسرا پاؤں بھی قبر میں ڈال لوں گا۔ بیویوں کے بارے میں زیادہ تر تفصیلات کنواروں نے لکھی ہیں۔ کیونکہ شادی کے بعد وہ بیوی کو پیارے ہو چُکے ہوتے ہیں اور ان کے بارے میں منہ کھولنے کے قابل نہیں رہتے۔ معروف مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ نے بیویوں کے بارے میں جتنا کچھ لکھا ہے (اور اس کے علاوہ انھوں نے لکھا ہی کیا ہے) وہ سب کے سب ان کے کنوار پنے (گنوار پنے نہیں) کی تحریریں ہیں۔ بیوی کے بغیر زندگی گزارنا مشکل اور بیوی کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل تر ہے۔ بیویاں غریبوں کے لئے باعثِ رحمت اور خوشحال لوگوں کے لئے باعثِ زحمت ہوتی ہیں۔ جب ایک غریب جوان باورچی، دھوبی، چوکیدار، ملازم وغیرہ کی تنخواہوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا تو شادی کر کے ان سب کی جگہ چند ہزار روپے تاحیات تنخواہ پر ایک بیوی کو گھر میں لے آتا ہے۔ اگر کسی شوہر یا بیوی کے جذبات تاحیات تنخواہ کی اصطلاح سے مجروع ہوتے ہیں تو وہ اس کی جگہ حق مہر پڑھ لے۔ اُردو کا ایک محاورہ ہے اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ گمان غالب ہے کہ اس محاورے کا موجد کنوارہ ہی مرا ہو گا۔ اگر وہ شوہر بن چُکا ہوتا تو وہ اس محاورے کا اَپ ڈیٹ کئے بغیر نہیں مرتا۔ ایسا ہی انگریزی کا ایک مقولہ ہے No Life Without Wife یہاں Without سے پہلے With Or بھی ہونا چاہیے تھا۔ کہتے ہیں کہ بچے ہمیشہ اپنے اور بیوی دوسروں کی اچھی لگتی ہے۔ جس نگاہ کو کوئی عورت اچھی لگ رہی ہوتی ہے، بدقسمتی یا خوش قسمتی سے وہ اُس کی بیوی نہیں ہوتی۔ جبکہ اُسی محفل میں وہ عورت اپنے شوہر کو ذرا بھی اچھی نہیں لگ رہی ہوتی کیونکہ اُس کے شوہر کو دیگر خواتین اچھی لگ رہی ہوتی ہیں۔ بیک وقت اچھی لگنے اور اچھی نہ لگنے کا اعجاز صرف ایک بیوی ہی کو حاصل ہے۔ دُنیا کی کوئی اور ہستی یا تو اچھی ہوتی ہے یا بُری (دونوں ہر گز نہیں) جیسے دُنیا کی سب سے اچھی ہستی ماں ہوتی ہے (بشرطیکہ وہ آپ کی ہو، آپ کے بچوں کی نہیں)۔ آپ کی ماں اگرچہ آپ کے باپ کی بیوی ہی ہوتی ہے لیکن جب تک آپ اپنی ماں کی عظمت کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں وہ بیچاری اُس وقت تک صرف اور صرف ماں بن چُکی ہوتی ہے۔ پھر ماں کی عظمت کی ایک وجہ اُس کی لازوال مامتا بھی ہے۔ بیوی کے پاس لازوال مامتا نہیں ہوتی اور جو کُچھ ہوتا ہے، وہ سب زوال پذیر ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست "ج" اپنی اہلیہ کو نااہلیہ کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ اہلیہ تو تُم اُس وقت کہلاتیں جب میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا۔ اور اگر میں کسی بڑے کام کا اہل ہوتا تو کم از کم تُم میری اہلیہ نہ ہوتیں۔ ایک دانشور کہتا ہے کہ اگر آپ کے فادر غریب ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں، یہ سراسر آپ کی قسمت کا قصور ہے لیکن اگر آپ کے فادر ان لاء بھی غریب ہیں تو یہ سراسر آپ کا قصور ہے۔ جس کی سزا آپ کی اہلیہ، میرا مطلب ہے کہ نااہلیہ کو ضرور ملنی چاہیے۔ اگرچہ اُسے ایک سزا پہلے ہی ملی ہوئی ہے لیکن کم از کم آپ اُس سزا کا تصور نہیں کر سکتے۔ بھلا کوئی اپنا تصور خود کیسے کر سکتا ہے؟ دُنیا کا بیشتر مزاحیہ ادب بیوی کے گرد، اور رومانوی ادب غیر بیوی کے گرد گھومتا ہے۔ حتیٰ کہ مزاحیہ شاعری بھی بیوی ہی پر کہی جاتی ہے۔ جبکہ غیر بیوی پر شاعر جو کچھ کہتا ہے، اُسے غزل کہتے ہیں۔ میری بیوی قبر میں لیتی ہے کس ہنگام سے میں بھی ہوں آرام سے اور وہ بھی ہے آرام سے اپنی زندہ بیوی پر یہ شعر سید ضمیر جعفری مرحوم نے کہا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ وہ محض ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فوجی میجر بھی تھے۔ میں بھی بیویات پر یہ تحریر اُس وقت لکھ رہا ہوں جبکہ میں اپنی ذاتی بیوی سے سینکڑوں میل دُور ہوں۔ اوور دُور دُور تک اُس کے قریب ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ شاید یہ اُس سے دُوری کا فیض ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔ مردم شناس تو سارے ہی ہوتے ہیں، لیکن خانم شناس صرف اور صرف ایک شوہر ہی ہو سکتا ہے۔ علامہ اقبال کا مشہور شعر ۔۔۔۔ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات کی مندرجہ ذیل پیروڈی جہاں تک مُجھے یاد پڑتا ہے، میں نے اُس وقت کی تھی جب میں اپنی بیوی سے ہی نہیں بلکہ اپنے مُلک سے بھی دور تھا۔ اور اس وقت تک نیک بخت کا پاسپورٹ بھی نہیں بنا تھا۔ ایک شوہر جسے تُو گران سمجھتی ہے ہزار شوہروں سے دیتا ہے عورت کو نجات - سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
جنسی بے راہ روی اور میڈیا کی ذمہ داری سرفراز شیخ / September 18, 2013 لاہور میں ایک دل خراش واقعہ جو رپورٹ ہوگیا‘ ایک معصوم کلی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا نہ جانے کتنی سنبل درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں جو رپورٹ تک نہیں ہوپاتیں۔ ہمارے معاشرے میں اس طرح کے واقعات بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ درندوں کے لیے چھوٹے بچے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں پڑوسی ملک بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ایک لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ یہ کیس بھی میڈیا کے لیے ٹرائل کیس تھا۔ میڈیا نے اس پر مہم چلائی اور ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔ اور اب پانچوں مجرموں کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ میڈیا نے کیس کو اچھالا‘ قانون نے اپنا حق ادا کیا‘ مجرموں کو سزا ہوگئی۔ لیکن کیا واقعات رک گئے؟ دہلی میں اجتماعی زیادتی کے کیس کے بعد بھارت میں اجتماعی زیادتی کے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس جرم کے بڑھتے رجحان نے بھارت کو بھی پریشان کردیا ہے یہی حالات پاکستان میں بھی ہیں جنسی زیادتی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ کا شور اینکر پرسن‘ سیاست دان‘ انسانی حقوق کی علمبردار اور قانون دان کررہے ہیں لیکن کوئی بھی ان واقعات کی وجوہات پر بات نہیں کررہا۔ دہلی کے اس کیس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ میڈیا ان واقعات کا سدباب تو نہ کرسکا بلکہ ایسے کئی اور واقعات کامحرک ثابت ہوا ہے اور اس بات کو بھی واضح کردیا ہے کہ قانون اس کا حل پیش نہیں کرسکتا بلکہ یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اس کا حل بھی سماجی ماہرین ہی پیش کرسکتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان اور بھارت میں ٹی وی چینل‘ موبائل فون‘ انٹرنیٹ ملک کے کونے کونے میں پھیل چکا ہے۔ مواصلات کے یہ ذرائع پوری آب و تاب کے ساتھ فحاشی و عریانی پھیلانے میں مصروف ہیں۔ ٹی وی ڈراما ہوں یا ٹی وی کمرشل‘ کرکٹ میچ ہو یا نیوز بلیٹن‘ گھنٹہ آفر‘ SMS بنڈل‘ فحش ویب سائٹس اور فلمیں میڈیا کا بغور جائزہ لیں تو معاشرے کی اصلاح کے لیے ان کا کردار نظر نہیں آتا بلکہ موجود حالات میں جتنے بھی معاشرتی مسائل پیدا ہورہے ہیں اس کے بڑھانے میں میڈیا کاکردار ہی نظر آتا ہے۔ دونوں ممالک کا میڈیا مغربی میڈیا کا چربہ کرتا ہے‘ وہاں پر معاشرے میں پھیلی بے حیائی‘ عریانی و فحاشی کو ہمارے معاشرے کے لیے رول ماڈل بنا کر پیش کرتا ہے۔ مغرب میں فحاشی و عریانی کا موجد میڈیا نہیں ہے بلکہ میڈیا کی مقبولیت سے قبل ہی وہاں کے معاشرے میں فحاشی و عریانی اور بے حیائی عام تھی‘ خاندانی نظام تباہ ہوچکا تھا‘ وہاں کی ثقافت‘ روایات دم توڑ چکی تھی‘ قحبہ خانے عام تھے‘ ناجائز اولاد کو قانونی حیثیت مل چکی تھی‘ جنسی تعلقات قائم کرنا انتہائی آسان ہوچکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میڈیا کو ایسے طبقے کو متوجہ کرنے کے لیے عریانی و فحاشی کو بطور مارکیٹنگ استعمال کرنا پڑا جو ان کے معاشرے میں عام تھی‘ مغربی میڈیا میں فحاشی و عریانی کو وہاں کے معاشرے نے باآسانی قبول کرلیا جو ان کے لیے قابل اعتراض بات نہیں تھی۔ لیکن ہمارا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ ایک طرف ہمارے معاشرے میں آج بھی روایات زندہ ہیں‘ رسم و رواج کی پابندی کی جاتی ہے‘ ثقافت سے لگائو ہے‘ مذہب کے لیے آج بھی عقیدت موجود ہے‘ برادری سسٹم انتہائی مضبوط ہے‘ خاندانی نظام کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے جب کہ دوسری طرف ہمارا میڈیا مغربی میڈیا کو کاپی کرتے ہوئے ان کے معاشرے کو ہمارے لیے ماڈل بنا کر پیش کررہا ہے۔ ہمارے ڈرامے‘ فلمیں‘ خبریں‘ اشتہارات‘ گھنٹہ آفر‘ SMS بنڈل‘ رسائل و جرائد سب ہمارے معاشرے میں مغربی سفیر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں اور وہان پر پھیلی بے حیائی کو یہاں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میڈیا کی اس مسلسل کوشش نے ہمارے معاشرے میں ثقافتی خلش (Cultural Lag) پیدا کردی ہے۔ نوجوانوں کو بے حیائی کی جانب تو راغب کیا جاہا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں قائم ہماری ثقافت‘ برادری نظام‘ خاندانی نظام‘ مذہب‘ روایات اس بے حیائی کو تسلیم نہیں کرپاتی۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی گرل فرینڈ کا تصور بہت برا سمجھا جاتا ہے‘ قحبہ خانے‘ نائٹ کلب‘ ناجائز رشتے کو آج بھی تسلیم نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ نوجوان جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں اور اپنی جنسی تسکین کی خاطر درندگی اختیار کرتے ہیں‘ کبھی نوجوان لڑکیاں ان کا شکار ہوتی ہیں اور کبھی معصوم کلیاں۔ ان تمام واقعات کی ذمہ داری دیگر سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے۔ میڈیا آج لیڈنگ رول ادا کررہا ہے اگر میڈیا واقعی مخلص ہے تو اسے اپنے قبلے کا تعین کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے۔ ہمارے معاشرے کو مغربی معاشرے میں ڈھالنے کی کوششیں جاری رہیں تو اس طرح کئی کلیاں مسلتی رہیں گی اور ٹاک شو چلتے رہیں گے‘ ریٹنگ بھی بڑھتی رہے گی۔ اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ- بل گیٹس کے نام ایک دلچسپ خط
ہاہاہاہاہا بہت ہی عمدہ تحریر ہے اور بہت ہی معیاری مزاح ہے- سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
وسعت اللہ خان ایک بہت منجھے ہوئے کالم نگار ہیں جس موضوع پر لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں- سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
ریپ اور ریپسٹ تحریر: وسعت اللہ خان جولائی 22، 2014 انگریزی میں ریپ کی اصطلاح موجودہ معنوں میں پندرھویں صدی سے استعمال ہونی شروع ہوئی۔اس سے قبل ریپ سے مراد لوٹ مار اور استحصال وغیرہ ہوتا تھا۔لیکن آج ریپ کا ایک ہی مطلب ہے یعنی کسی کے جسم پر طاقت و تشدد کے ذریعے جنسی قبضہ۔ضروری نہیں کہ یہ طاقت جسمانی ہی ہو۔نفسیاتی طور پر شکار کا ذہنی کنٹرول حاصل کرکے اس کی رضامندی کے بغیر یا اس کی وقتی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی مقاصد پورے کرنا بھی ریپ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔جیسے کسی ہم جنس یا جنسِ مخالف سے دوستی کرنا اور پھر نشے کی حالت میں یا سوتے ہوئے یا بہلا پھسلا کر دھونس، دھمکی اور تصاویر سمیت بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کا جسمانی کنٹرول جنسی مقاصد کے لیے حاصل کرلینا۔ ریپ کے شکار اور شکاری کے لیے عمر کی قید نہیں۔لیکن عام طور سے ریپ کا شکار کم سن بچے یا بچی سے لے کر پچاس برس تک عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔جب کہ شکاری پرائمری اسکول کے جسمانی طور پر طاقتور بچے سے لے کر ساٹھ پینسٹھ برس تک کا آدمی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ ریپ کا شکاری مرد ہی ہو اور شکار عورت ہی۔ایک ہی جنس کے لوگ بھی شکار اور شکاری ہوسکتے ہیں اور مرد بھی عورت کے ہاتھوں ریپ ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر وارداتوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم ریپسٹ یا ریپ کے شکار ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔زیادہ تر جاننے والے ہی شکار اور شکاری بنتے ہیں۔ان میں قریبی رشتے داروں سے لے کر محلے اور شہر داروں تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔اس طرح کی وارداتوں میں سے زیادہ تر پوشیدہ رہ جاتی ہیں یا رکھی جاتی ہیں اور بعض معاشروں میں تو ان وارداتوں کو چھپانے کا تناسب اسی سے نوے فیصد تک پایا جاتا ہے۔ گویا بہت کم وارداتیں سامنے آنے کے سبب بہت کم سزا ملتی ہے اور بہت کم زخم خوردگان کی جسمانی و نفسیاتی بحالی ممکن ہوتی ہے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ وارداتیں چھپانے یا نظر انداز کرنے یا بھول جانے سے ریپ کم نہیں ہوتے بلکہ اور بڑھ جاتے ہیں۔لیکن چھپانے اور ظاہر کرنے کا دار و مدار بھی اس پر ہے کہ معاشرے کی ثقافتی ، مذہبی ، سیاسی و اقتصادی ساخت کیا ہے اور قانون کی عمومی عمل داری کتنی ہے یا نہیں ہے۔عموماً ریپسٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔وہ جو کسی غصے یا انتقام کے جذبے کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ان کی وارادت انفرادی و اجتماعی دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں ریپ کی زیادہ تر وارداتوں کے پیچھے یہی محرک دیکھا گیا ہے۔ دوسری قسم کے ریپسٹ کو آپ چاہیں تو پاور ریپسٹ کہہ سکتے ہیں۔ان میں بیوی ، گرل فرینڈ ، گھریلو ملازمہ یا ملازم یا کسی ماتحت یا بے بس نظر آنے والے اجنبی وغیرہ کو اپنی جسمانی ، مالی و سماجی قوت سے زیر کرنے والوں سے لے کر بچوں اور عورتوں کی رکھوالی کے ذمے دار فلاحی رضاکاروں ، اساتذہ ، جیل کے قیدیوں ، باوردی سرکاری اہلکاروں اور کارپوریٹ و دفتری باسز سمیت کوئی بھی ہوسکتا ہے۔تھانوں اور عسکری اداروں کی تحویل میں ملزموں کے ریپ کے لیے قانون کی کتابوں میں کسٹوڈیل ریپ کی اصطلاح موجود ہے۔ ریپسٹ کی تیسری قسم سیڈسٹک یا شکار کی اذیت ناکی سے لطف اٹھانے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آدمی اذیت پسند کیوں بنتا ہے ؟ اس کے انفرادی و اجتماعی محرکات ایک علیحدہ نفسیاتی و سماجی بحث کے متقاضی ہیں۔اس طرح کے ریپسٹ اپنے شکار کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گذار کر جنسی تلذز حاصل کرتے ہیں۔وہ مار پیٹ سے لے کر شکار کے حساس و نازک اعضا اور چہرے تک کو مسخ کرسکتے ہیں اور قتل بھی کرسکتے ہیں اور بعد از قتل بھی جسم کو مسخ کرسکتے ہیں۔ان سب حرکتوں سے انھیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کی نظروں میں نہ آئیں تو اگلے شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔عموماً سیڈسٹ ریپسٹ اپنا کام انفرادی طور پر کرتے ہیں لیکن ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ایک سے زائد اذیت پسند ریپسٹ گروپ کی شکل میں واردات کرتے ہیں حالانکہ ایسی مثالیں کم کم ہیں۔ ریپ کسی دشمن گروہ کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال ہوتا ہے۔اور آج سے نہیں پرانے زمانے سے ایسا ہورہا ہے۔عورتیں اور نو عمر بچے ہمیشہ سے مالِ غنیمت کے زمرے میں شامل رہے ہیں۔ریپ بطور ہتھیار حریف کو علاقے سے نکالنے یا اسے ذلیل و رسوا کرکے مسلسل زیر رکھنے کی کوشش کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔خانہ جنگی ہو کہ کھلی جنگ ریپ کا ہتھیار ہر ایسی صورتِ حال میں آزمایا جاتا ہے۔میری یا مجھ سے بڑی عمر کے لوگوں کی یادداشت میں جو بڑے بڑے واقعات ہیں، ان میں سن سینتالیس کی تقسیم کی خونریزی ، مشرقی پاکستان ، بوسنیا اور روانڈا کی خانہ جنگی اور کشمیر کا قضیہ شامل ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد سے بیسویں صدی کے تقریباً ہر بحران میں ریپ بطور ہتھیار استعمال ہوا۔جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پچھلی صدی کے پہلے نصف میں منظم طریقے سے کوریا اور چین کے علاقے منچوریا اور نانجنگ پر نوآبادیاتی قبضے کے دوران لاکھوں مقامی عورتوں کو حملہ آور فوج کی جنسی تسکین کے لیے قحبہ خانوں میں بٹھا دیا۔ان عورتوں کے لیے ’’ کمفرٹ ویمن ’’ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ عجیب بات ہے کہ انیس سو انچاس کے جنیوا کنونشن سے پہلے ریپ جنگی جرائم کے فہرست میں شامل نہیں تھا۔اسی لیے نازیوں کے خلاف نورمبرگ ٹرائل اور جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف ٹوکیو ٹرائل میں ریپ کی فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی۔ البتہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے روانڈا میں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انیس سو اٹھانوے میں یہ تاریخی رولنگ دی کہ دورانِ جنگ ریپ بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔ عام طور سے ریپ کے شکار کے ساتھ وقتی ہمدردی تو کی جاتی ہے لیکن پھر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حالانکہ جتنی نفسیاتی مدد کی اسے ضرورت ہوتی ہے شائد ہی کسی کو ہو۔ریپ کے تجربے سے گذرنے والا نفسیاتی و جسمانی طور پر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔اس پر کبھی غصہ غالب آجاتا ہے ، کبھی دشمنی کا جذبہ عود کر آتا ہے اور کبھی کنفیوژن تو کبھی خوف کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔وہ اچانک چیخ اور دھاڑ بھی سکتا ہے اور سکتے کی کیفیت میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔اسے نہ تو اپنے جذبات پر قابو رہتا ہے نہ ہی اعصابی نظام پر۔اس کی بھوک اور نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے بروقت نفسیاتی مدد اور قریبی لوگوں کی توجہ نہ ملے تو خود کو زندگی سے الگ تھلگ کرتا چلا جاتا ہے اور انتہائی قدم کے طور پر اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔یہ تمام مسائل ریپ کے شکار کی نفسیاتی و جسمانی بے بسی سے جنم لیتے ہیں۔اور یہی وہ وقت ہے جب اس کے پیارے اسے گلے لگا کر اور اپنے قریب رکھ کے بتائیں کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں وہ بے قصور ہے اور ان حالات میں جو بھی ہوتا اس کے ساتھ یہی ہوتا۔ اسے اشد ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ہو جو زندگی پر اس کا اعتماد پھر سے بحال کرے۔ان حالات میں اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھنا ، رویہ بدل لینا ، اسی کو بار بار قصور وار ٹھہرانا اور پھر کٹہرے میں کھڑا کرکے مزے لے لے کر سوال و جواب کرنا اور اس کے نام کی تشہیر کرنا۔یہ سب حرکتیں دراصل ایک اور ریپ کے مترادف ہیں۔ ریپ ختم تو نہیں ہوسکتا البتہ کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے قوانین کو کاغذ پر سخت کرنے سے زیادہ ان پر واقعی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اور باہر کس سے کس حد تک تعلق رکھ سکتے ہیں اور حد عبور ہونے کی صورت میں کون کون سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انھیں عمر کے ساتھ ساتھ بدلتی جسمانی و جذباتی تبدیلیوں کے اسباب کے بارے میں بااعتماد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لاعلمی و تاریکی میں کسی اپنے یا پرائے کا شکار نہ بن جائیں۔ انھیں ان لالچی ترغیبات کے بارے میں کھل کے بتانے کی ضرورت ہے جو ان کے لیے پھندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زندگی نہ تو بالکل تاریک ہے نہ ہی مکمل روشن۔دنیا نامی اس جنگل میں محتاط بھی رہنا ہے ، خونخوار جانوروں کی بھی پہچان رکھنی ہے اور زندگی کا لطف بھی اٹھانا ہے۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ناگہانی مصیبت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم حوصلہ ہار جاؤ۔ہم ہیں نا…- سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
پاکستان میں لڑکی کے ریپ کی فلم بنانے اورشیئر ہونے کی کہانی پاکستان کے ایک دیہاتی علاقے میں نوجوان لڑکی سے جنسی درندگی اور اس کی ویڈیو بنائے جانے پر لڑکی خاموش رہی لیکن جب موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ویڈیو کی بڑی تعداد میں شیئرنگ ہوئی تو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مذکورہ ویڈیو شیئرنگ سے روکنے کیلئے کچھ کوشش کی گئی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘نے پاکستان میں ایک ریپ کے کیس کو اجاگر کیا گیا جس کی ویڈیو عام کردی گئی تھی جس کے بعد انگریزی کہانی کاقارئین کی آسانی کیلئے اردومیں ترجمہ کیاجارہاہے۔ رپورٹ کے مطابق23سالہ سعدیہ (اصل نام نہیں )کاخیال تھاکہ اگر وہ خاموش رہی تواس سے اُس کی بدنامی نہیں ہوگی اور لوگ ریپ کا شکار ہونیوالی کے حوالے سے شناخت نہیں بنائیں گے لیکن کچھ دنوں یا ہفتوں بعد بدفعلی کی دوویڈیوز شیئرہوناشروع ہوگئیں ،ایک کا دورانیہ پانچ منٹ اور دوسری کا چالیس منٹ تھا۔ ویڈیو میں دکھایاگیاکہ چارافراد لڑکی کاباری باری ریپ کرتے ہیں اور جب وہ رحم کی اپیل کرتی ہے توجلدہی پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں ویڈیو پھیلناشروع ہوجاتی ہے ۔ سعدیہ کے والد نے بتایاکہ ’خاندان میں ویڈیو دیکھنے والا پہلا شخص بڑا بھائی تھاجس نے ویڈیو دیکھ کر سعدیہ کو پہچانا اور پھر اُن کے پاس آیا، سعدیہ بہت شرمند ہ تھی اور باپ ہونے کی وجہ سے اُس نے مجھے نہیں بتایا، اگرا ُس کی والدہ زندہ ہوتیں تو یقین ہے کہ وہ اُنہیں لازمی بتاتی ‘۔معاملہ علم میں آنے کے بعد رپورٹ درج کرائی اور چھوٹے سے علاقے میں ملزمان کو شناخت کرنا مشکل نہیں تھااور چاروں کو گرفتارکرلیاگیا۔ لڑکی کی عمر ابھی 23سال ہے لیکن وہ اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے ، والدہ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی وہ ماں کی طرح پرورش کررہی ہے ۔ سعدیہ نے بتایاکہ’ وہ اپنی چھوٹی بہن کا سکول یونیفارم خریدنے دکان پر جارہی تھی کہ اسلحہ کے زور پر چارافراد نے اُسے کارمیں ڈال لیاگیا، ایک ویران گھر میں لے جاکر جنسی زیادتی کی جبکہ ایک موبائل فون سے ویڈیو بناتے رہے ، رحم کی اپیل کرنے پر ملزموں نے مزید تشددکا نشانہ بناناشروع کردیا،ملزمان کاکہناتھاکہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال کر پھیلادیں گے اور اُس کے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے “۔ سعدیہ کاکہناتھاکہ اُسے اپنی فکر نہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ اُس کی وجہ سے اُس کے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچے اوریہی وجہ تھی کہ کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ بڑے پیمانے پر ویڈیو پھیلنے سے باخبرہے،بہت سے لوگ صرف تفریح کیلئے یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں ‘۔ بی بی سی کے مطابق فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر بڑی تعداد میں شیئرہوئیں اور تاحال شیئرنگ ہورہی ہے کیونکہ اِسے روکنے کیلئے پاکستان میں قانون ہی موجود نہیں ۔ سعدیہ پنجاب کے ایک روایتی گاﺅں میں رہتی ہے جس کے کچے گھر کے اردگرد گنے کے کھیت ہیں ۔ بی بی سی کی نمائندہ نے لکھاکہ جب وہ تھانے میں ریمانڈ پر موجود ملزموں سے ملنے گئی تواُنہوں نے خبر عام کرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ جوڑ لیے ، اُن کا مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔ ملزموں پر اغواء، گینگ ریپ او رفحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے جبکہ ویڈیو تاحال آن لائن موجود ہے لیکن پولیس کا موقف ہے کہ وہ ویڈیو کوہٹانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ، جہاں تک گینگ ریپ کا تعلق ہے تو ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ کا کیس کافی مضبوط ہے ۔ ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ اپنے ہی گھر میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ سائبرکرائم سے متعلق ماہروکلاءکا کہناہے کہ پاکستان میں ایساکوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کے تحت ویب سائیٹس کو حکم دیاجائے کہ ویڈیو ہٹائی جائے ، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پیش رفت دکھائی دیتی نظر نہیں آرہی ۔ بی بی سی نے لکھاکہ یہ معاملہ عالمی نشریاتی ادارے کے علم میں اس وقت آیا جب ایک شہری نے فیس بک پیج پر ویڈیو کے ساتھ اپیل کی تھی ، دلخراش مناظر دیکھنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔- سوشل میڈیا دوستی - ریپ اور قتل
خبر - تاریخ - 21 نومبر 2015- غصہ ۔۔۔آپ کا دشمن ہے
بہت عمدہ بہترین مثال کے ساتھ پیغام دیا گیا ہے- کھلونا تو نہیں ہوں میں
بہت شکریہ - اس انتخاب کو پسند کرنے کا- بیس سال قید
ہاہاہاہا --- بہت مزیدار- ”عورت کو مطمئن کرنا نا ممکن ہے”
بہت ہی مزیدار اور حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے- اپنی بہن بیٹیوں کو Dating سے بچائیے!
بہت ہی عمدہ اور بامقصد تحریر ہے ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کو چاہیے اور اس تحریر کو پڑھے اور ڈیٹنگ یا محبت کے جھانسوں سے ہر ممکن احتراز کرے خصوصاََ اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں کو ئی ویڈیو تو نہیں بنا رہا آجکل کے حقائق بے حد خوفناک ہیں - موبائیل، انٹرنیٹ اور کیمرہ ٹیکنالوجی نے ہر کسی کی عزت کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے- لاجواب
ہاہاہاہاہاہاہا بہت ہی مزیدار واقعی کیا لٹکائیں- اُردو طنز و مزاح
ہاہاہاہا ایسی صورتحال سے اکثر پالا پڑتا ہے عمدہ جوابات ہیں اسی باتوں کے - ذکر اُس پری وش کا