Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Young Heart

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Young Heart

  1. ہاہاہاہا بہت اعلٰی حقیقت یہی ہے آزادئ نسواں درحقیقت ایک خوشنمادھوکا ہے یہ مرد کی برابری نہیں ہے بلکہ مرد کی ذمہ داریاں بھی عورت کے سر تھونپنے کا کام ہے
  2. بہت ہی اعلی جناب بے حد شاندار کہانی لکھی ہے اور بے حد عمدہ پیغام موجود ہے اس کہانی میں کوا چلا ہنس کی چال
  3. بہت اعلٰی مزیدار کہانیاں ہیں
  4. G Spot لکھ کر گوگل پر سرچ کریں بہت سی تصاویر مل جائیں گی درج ذیل کچھ تصاویر گوگل سے سرچ کر کے پوسٹ کررہا ہوں جی سپاٹ فرج کے 2 یا 3 سینٹی میٹر اندرکوئی پوائنٹ ہے جسے ٹچ کیا جائے تو عورت کو بہت لطف آتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے دانے کو ٹچ کرنے سے آتا ہے کچھ سیکس پوزیشنز ایسی ہیں جس سے جی سپاٹ بہتر ٹچ ہوتا ہے
  5. عورت کے جسم میں ’جی سپاٹ‘ یعنی وہ حصہ جو شہوانی جذبات ابھارنے کا باعث بنتا ہے کا تعین کرنے والے تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے کہا ہے کہ اس مقام کا وجود محض وہم یا خام خیالی ہو سکتا ہے۔ سیکس کے بارے میں ایک جریدے ’سیکچویل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس میں اٹھارہ سو خواتین نے حصہ لیا تھا لیکن ان میں سے کسی کے جسم پر بھی ’جی سپاٹ‘ کی موجودگی کا ثبوت نہیں ملا۔ تحقیق کرنے والے لندن کے کنگز کالج کی ٹیم کا خیال ہے کہ ’جی سپاٹ‘ خواتین کا وہم یا خام خیالی ہو سکتا ہے۔ تاہم جنسی معاملات کےماہر بیولرے وپل جنہوں نے ’جی سپاٹ‘ کے تصور کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہا کہ مذکورہ تحقیق میں کافی نقائص ہیں۔ وپل نے کہا کہ تحقیق کرنے والی ٹیم نے ہم جنس پرست خواتین کے تجربات کو نظر انداز کیا اور انہوں نے مختلف مردوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے سیکس کرنے کے تجربے کو بھی اہمیت نہیں دی۔ جی سپاٹ یا گرافینبرگ سپاٹ‘ کا نام جرمنی کی گائنوکالوجسٹ ارنسٹ گرافینبرگ کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے پچاس سال قبل پہلی بار بتایا کہ یہ مقام عورت کی وجائنا یا رحم کے راستے میں دو سے پانچ سنٹی میٹر اندر پایا جاتا ہے تحقیق کرنے والی ٹیم میں شامل پروفیسر ٹِم سپیکٹر نے کہا کہ یہ ’جی سپاٹ‘ کے بارے میں اب تک ہونے والی سب سے بڑی تحقیق ہے جس میں اس مقام کا ثبوت نہیں ملا۔ تحقیق کرنے والی ٹیم کی ایک اور رکن آندریا بری کو تشویش تھی کہ کچھ خواتین جن کو یہ خیال ہے کہ ان کے جسم میں ’جی سپاٹ‘ نہیں احساس کمتری کا شکار ہو سکتی ہیں جو بالکل غیر ضروری ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن میں سیکس کے امور کے بارے میں ماہر نفسیات ڈاکٹر پیٹرا بوئنٹن نے کہا کہ ’جی سپاٹ‘ کو تلاش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ نہ ملے تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ’جی سپاٹ یا گرافینبرگ سپاٹ‘ کا نام جرمنی کی گائنوکالوجسٹ ارنسٹ گرافینبرگ کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے پچاس سال قبل پہلی بار بتایا کہ یہ مقام عورت کی وجائنا یا رحم کے راستے میں دو سے پانچ سنٹی میٹر اندر پایا جاتا ہے۔ (یہ آرٹیکل بی بی سی ڈاٹ کام اردو سے کاپی کیا گیا ہے)
  6. بہت عمدہ --- ایک کھلی حقیقت جسے ہم سمجھنے کو تیا ر نہیں ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
  7. کوئی امّید بر نہیں آتی کوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی اب کسی بات پر نہیں آتی جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد پر طبعیت ادھر نہیں آتی ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں ورنہ کیا بات کر نہیں آتی کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں میری آواز گر نہیں آتی داغِ دل گر نظر نہیں آتا بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی موت آتی ہے پر نہیں آتی کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی
  8. ایک امریکی تحقیق کے مطابق بچوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں بانٹنے سے جوڑے نہ صرف خوش رہتے ہیں بلکہ ایسا کرنے سے ان کی جنسی تسکین بھی بڑھتی ہے۔ ا- 487 خاندانوں پر تحقیق سے پتہ چلا کہ جو والدین بچوں کی نگہداشت کے فرائض آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں وہ جنسی اور جذباتی طور پر زیادہ سے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جہاں عورتیں بچوں کی نگہداشت میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں وہاں مرد اور عورت دونوں ہی کم مطمئن نظر آئے۔ لیکن تحقیق کار کہتے ہیں کہ جو مرد بچوں کی نگہداشت میں زیادہ وقت گزارتے ہیں ان پر اتنا اثر نظر نہیں آتا۔ یہ نتائج ایک تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں جس کا نام 2006 میریٹل اینڈ ریلیشن شپ سٹڈی ہے۔ اس ڈیٹا کو امریکن سوشیالوجیکل ایسوسی ایشن میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جوڑے جہاں خواتین بچوں کی نگہداشت میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہیں، خصوصاً اصول سازی، تعریف کرنے اور کھیلنے میں، ان کے تعلقات میں اطمینان کم اور لڑائی بہت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی جنسی زندگی کے متعلق بھی کم خوش ہیں۔ تحقیق کے سربراہ جارجیا یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈینیئل کارلسن کہتے ہیں کہ تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ جوڑوں کے تعلقات اور جنسی زندگی میں نگہداشت کے مسائل وہیں معیارِ زندگی کو متاثر کرتے ہیں جہاں عورت بچوں کی نگہداشت کی ذمہ داریاں زیادہ سنبھالتی ہے۔ یہ نتائج ایک تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں جس کا نام 2006 میریٹل اینڈ ریلیشن شپ سٹڈی ہے (یہ آرٹیکل بی بی سی اردو سے کاپی کیا گیا ہے)
  9. پتہ نہیں کہ وہ مرہم لگانے آئے ہیں یا میرے زخم پہ نشتر چلانے آئے ہیں ہمارے بانکپن کی کچھ تو داد دے قاتل کس اطمینان سے ہم سر کٹانے آئے ہیں مزاجِ بزم کا آخر لحاظ رکھنا تھا سو دل کو مار کے ہم مسکرانے آئے ہیں الٰہی چارہ گروں کا تو پھر بھرم رکھنا نئی دوا ہے اِدھر آزمانے آئے ہیں بس ایک وقتِ ملاقات ہم نے مانگا تھا ہزار اُن کے لبوں پر بہانے آئے ہیں ہمیں پتہ ہے کہ عمرانؔ کہہ نہیں سکتے بڑے وثوق سے لیکن سُنانے آئے ہیں (ڈاکٹر عمران علی)
  10. لیکن اس آرٹیکل میں انفارمیشن کی ان بنیادوں پر سوال اٹھایا گیا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ پاکستانی پورن سرچ کرنے میں نمبر ون ہیں میں نے خود گوگل ٹرینڈ میں جاکر مختلف کی ورڈ ٹرائی کیے ہیں --- ان تمام نتائج کو مضحکہ خیز ہی کہا جاسکتا ہے یہ تو بالکل نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ پورن سرچ میں نمبر ون پاکستانی ہیں شاید برڈ سیکس سرچ کرنے میں ہیں ؟؟؟؟؟ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات کیا ہوگی یہاں ثابت یہ نہیں کرنا کہ پاکستانی پورن سرچ میں نمبر ون ہیں یا نہیں بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اگر نتائج اخذ کرنے والی بنیادیں ہی غلط ہیں --- تو اس پراپیگنڈا کو پھیلانے میں ہمارے میڈیا نے کتنی آسانی سے بغیر تحقیق کے بڑا حصہ ڈالا ہے ہم لوگ دنیا بھر میں اپنے آپ کو خود ہی بدنام کرنا اور دیکھنا چاہتے ہیں -- بحثیت قوم اسے قابل رحم حالت ہی کہا جاسکتا ہے
  11. سیکس یا تنازع ہمیشہ ہی بِکتا ہے۔ اسے پاکستان سے جوڑ دیں تو آپ کو ایک زبردست اسٹوری مل گئی۔ پاکستان کو ایک بار پھر شرارتی حرکتیں کرتے ہوئے پکڑنے کا دعویٰ کیا گیا۔ بار بار کی طرح ایک بار پھر مقامی اور عالمی نیوز ویب سائٹس نے رپورٹ کیا کہ ہمارا ملک انٹرنیٹ پر 'فحش مواد (پورن) سرچ کرنے میں سرِ فہرست ہے۔' اس خبر کی شہہ سرخی سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی تھی جیسے گوگل نے یہ معلومات ریلیز کی ہیں۔ جن لوگوں نے مقامی نیوز ویب سائٹس سے یہ خبر پڑھی، انہیں یہ معلوم ہوا کہ رپورٹ اصل میں حالاتِ حاضرہ کی ایک امریکی ویب سائٹ سیلون سے لی گئی ہے۔ اگر آپ سیلون کی اسٹوری پڑھیں، تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ ایک اور لبرل بلاگ آلٹرنیٹ سے لی گئی ہے۔ آلٹرنیٹ پر شائع ہوئے اپنے بلاگ میں کیری وائسمین لکھتی ہیں کہ 'گوگل کے ریلیز کردہ ڈیٹا کے مطابق پورن سرچ کرنے میں دنیا کے 8 سرفہرست ممالک میں سے 6 ریاستیں مسلم ہیں۔ پاکستان لسٹ میں پہلے نمبر پر ہے اور دوسرے نمبر پر مصر ہے۔ پھر ایران، مراکش، سعودی عرب، اور ترکی بالترتیب چوتھے، پانچویں، ساتویں، اور آٹھویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان سوروں، گدھوں، کتوں، بلیوں، اور سانپوں کی پورن سرچ کرنے میں بھی سرِ فہرست ہے۔' لیکن کیری نے 'گوگل کے ریلیز کردہ ڈیٹا' کا کوئی لِنک فراہم نہیں کیا ہے۔ گوگل کا رپورٹ کے بارے میں کیا کہنا ہے؟ کوئی بھی فرد جو ڈیجیٹل میڈیا میں کام کرتا ہے، چاہے بلاگر ہو، صحافی ہو، یا ایڈیٹر ہو، یہ جانتا ہے کہ گوگل شاید ہی کبھی کسی معاملے پر اپنا ڈیٹا ریلیز کرتا ہے۔ ہاں اس کا سرچ ڈیٹا اس کی مختلف ویب اینالائٹکس پراڈکٹس کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے، جن میں سے سب سے زیادہ گوگل اینالائٹکس اور گوگل ٹرینڈز استعمال کیے جاتے ہیں۔ پھر وائسمین کو یہ ڈیٹا کہاں سے ملا؟ میرا اندازہ ہے کہ گوگل ٹرینڈز سے ملا ہوگا، لیکن میری بات کا یقین کیوں کیا جائے؟ ذیل میں گوگل کے ایک متعلقہ اہلکار کی ای میل درج کی جارہی ہے جو انہوں نے اسی موضوع پر کی تھی۔ 'گوگل نے پاکستان میں فحش سرچ پر کسی قسم کا کوئی بھی ڈیٹا ریلیز نہیں کیا ہے۔ اس لیے سیلون ڈاٹ کام کے مضمون میں جو بات کہی گئی ہے، وہ کسی آفیشل ذریعے سے نہیں لی گئی۔ 'یہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے عام دستیاب ٹول گوگل ٹرینڈز کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اس ٹول میں کوئی بھی شخص کوئی لفظ (سرچ ٹرم) ڈال کر دیکھ سکتا ہے کہ کون سے ممالک اس لفظ (ٹرم) کو سب سے زیادہ سرچ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر میں نے گوگل ٹرینڈز میں دیکھا کہ پاکستان دنیا میں کرکٹ سرچ کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے۔ آپ کرکٹ کو دیگر الفاظ سے تبدیل کر دیجیے، اور نتائج بھی تبدیل ہوجائیں گے۔ 'خلاصہ یہ کہ ٹرینڈز کا ڈیٹا اشارہ تو کر سکتا ہے، لیکن حقیقی نتائج نہیں دے سکتا۔ اس سے یہ نہیں ظاہر ہوتا کہ مواد وہاں موجود ہے، صرف یہ کہ لوگ کیا سرچ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر اعداد و شمار کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے جیسے کہ ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد، صنفی فرق، مقامی بول چال۔' یہ لیجیے۔ مزید واضح کرنے کے لیے گوگل ٹرینڈز ایک بہت اچھا ٹول ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی عرصے کے دوران کوئی لفظ کتنا زیادہ سرچ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ کسی لفظ کی مقبولیت کو کسی محدود خطے کے حساب سے بھی پیش کر سکتا ہے۔ اس سے کچھ فوائد بھی حاصل کیے گئے ہیں جیسے کہ امریکا میں اس کا استعمال فلو سیزن کی پیشگوئی کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا استعمال دنیا میں پورن سرچ کرنے کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ پورن کی مقبولیت پر شائع ہونے والی تمام خبریں اس بات کو بنیاد بناتی ہیں، کہ گوگل ٹرینڈز مکمل تحقیقی ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جو کہ حقیقت نہیں ہے۔ گوگل ٹرینڈز کے ڈیٹا کو نارملائز کر دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ جو رزلٹ دیکھتے ہیں، وہ سرچ کیے گئے لفظ کے تمام سرچ رزلٹس کو تمام سرچز سے تقسیم کر کے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس لیے گوگل ٹرینڈز کے نتائج گوگل کے مطابق 'اشارہ کرتے ہیں لیکن حقیقی نہیں۔' کیا گوگل ٹرینڈز لمحہ بہ لمحہ نتائج کے لیے بھی کار آمد ہے؟ اس بات پر اختلاف ہے۔ 2011 ویلیزلی کالج نے امریکی کانگریس کے انتخابات کے حوالے سے گوگل سرچ ٹرینڈز کے ذریعے پیشگوئیوں پر ایک تحقیق کی، اور یہ پایا کہ سرچ کیے جانے والے ٹرم کی مقبولیت اور جیتنے کے امکانات میں کوئی مضبوط تعلق (strong correlation) موجود نہیں ہے۔ اور صرف تمام لوگوں پر واضح کرنے کے لیے: کیری وائسمین کی یہ 'معلومات' گوگل اینالائٹکس سے بھی حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ اصل بات یہ ہے کہ گوگل اینالائٹکس میں کسی بھی صارف کے پاس آپشن ہوتا تھا کہ وہ کسی بھی کی ورڈ یا سرچ ٹرم پر تحقیق کر سکے لیکن جب 2011 میں گوگل نے اپنی ٹریفک کو HTTPS کے ذریعے محفوظ کرنا شروع کیا تو کی ورڈز کا دستیاب ڈیٹا کم ہونے لگا۔ پھر 2013 میں اس فیچر کو آخرکار ختم کردیا گیا۔ اس لیے آلٹرنیٹ کا مضمون گوگل اینالائٹکس کے ڈیٹا پر مبنی نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ گوگل کی ورڈ ٹول اس کا متبادل ہے، لیکن کی ورڈ ٹول اصل میں صرف یہ بتاتا ہے کہ سرچ کیے جانے والے کسی بھی لفظ کی کوالٹی کتنی ہے، اور یہ ایڈورٹائزنگ کے لیے زیادہ مددگار ہے۔ گوگل ٹرینڈز کی مزید حدود پورن سرچ کے اس پورے معاملے کے بارے میں جاننے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ خود گوگل ٹرینڈز کھولا جائے، اور پورن سے متعلق تمام الفاظ کے ٹرینڈز دیکھے جائیں۔ اگر پاکستان زیادہ تر الفاظ میں اوپر رہے، تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مقبول ہے۔ لیکن آپ کسی ایک بھی لفظ کے بارے میں نہیں کہہ سکیں گے کہ آیا سرچ کی تعداد پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ تھی یا کم۔ اسے آزمائیں۔ اگر آپ لفظ 'پورن' سرچ کریں، تو یہ گراف سامنے آتا ہے۔ نوٹ کیجیے کہ اس کی ورڈ کا ٹرینڈ جون 2012 میں سب سے بلندی پر ہے، جبکہ اس کے بعد سے یہ نیچے گرتا رہا ہے۔ تو اگر گوگل ٹرینڈز کو بالکل درست مان لیا جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی پورن میں دلچسپی کھو رہے ہیں — کیا زبردست خبر ہے نا؟ اسی طرح اگر آپ لفظ 'سیکس' سرچ کریں، تو کچھ ایسے ہی نتائج ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی نومبر 2009 تک سیکس میں نہایت دلچسپی لیتے تھے، لیکن اس کے بعد اس سے بور ہونے لگے — ایک اور زبردست اور 'حقیقی' دریافت۔ اس نقطے پر یہ بھی یاد رکھیے گا کہ گوگل کے نمائندے نے کہا تھا کہ 'کئی دیگر اعداد و شمار کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے جیسے کہ ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد، صنفی فرق، مقامی بول چال۔' کیا پرندے بھی سیکس کرتے ہیں؟ ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی لفظ کو کوٹیشن مارکس کے ساتھ اور اس کے بغیر سرچ کرنے سے نتائج تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر bird sex بغیر " " کے لکھا جائے، تو ٹرینڈز پر یہ نتائج ملتے ہیں۔ لیکن اگر "bird sex" لکھ کر سرچ کیا جائے، تو انڈیا اوپر آ جاتا ہے۔ اگر کوٹیشن مارکس کے بغیر سرچ کیا جائے، تو سرچ رزلٹس میں وہ تمام پیجز شامل ہوجائیں گے جس میں لفظ برڈ اور سیکس شامل ہے، یہاں تک کہ یہ سوال بھی کہ 'کیا پرندے سیکس کرتے ہیں؟' لیکن "bird sex" کو کوٹیشن مارکس میں بند کردینے سے سرچ صرف بالکل انہی الفاظ تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے، جس میں ہندوستان پہلے نمبر پر ہے، اور باقی کی دنیا کا اس حوالے سے ڈیٹا اتنا کم ہے کہ دستیاب ہی نہیں۔ دیکھا یہ کس طرح کام کرتا ہے؟ گوگل ٹرینڈز کے نتائج کس طرح تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اب آپ اس شہہ سرخی کا تصور کریں۔ ہندوستان کو برڈ سیکس کے ساتھ عجیب لگاؤ ہے۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ لفظ "bird sex" ہندوستان میں اتنا مقبول ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اسے ہندوستان میں زیادہ ہِٹس ملی ہوں۔ لیکن اگر انڈیا میں یہ دوسرے لفظوں کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے، تو انڈیا کا رنگ گوگل ٹرینڈز میں گہرا ہوگا۔ ان دلائل کی بنا پر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کیوں پاکستان جیسے قدامت پرست ممالک بھی اس فہرست میں اوپر ہیں۔ ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں انٹرنیٹ ان تمام چیزوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جن پر بات کرنا معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے، مثلاً پورن۔ انٹرنیٹ کو پورن کے لیے استعمال کرنا، اور باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ پورن بھی استعمال کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ کیونکہ پاکستان پہلے کام میں ملوث ہے، اس لیے یہ پورنوگرافک گوگل ٹرینڈز میں سرِ فہرست ہے۔ لیکن اگر پورن سرچ کی تعداد کو برقرار رکھا جائے، اور باقی تمام ٹرمز کی سرچ تعداد بڑھا دی جائے، تو ضرور یہ ان رینکنگز میں نیچے آئے گا۔ ذمہ دار صحافت کے بارے میں 2010 میں فوکس نیوز نے بھی ایک ایسی ہی خبر جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان پورن سرچ کرنے میں سرِ فہرست ہے۔ کچھ دن بعد ڈان نے ایک گوگل اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: 'ہم وسیع سرچ پیٹرنز کے بارے میں درست ڈیٹا فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، لیکن کسی بھی سرچ ٹرم کے نتائج، جیسے کہ پاکستان سے اس اسٹوری میں رپورٹ کیا گیا ہے، میں غلطیاں ہوسکتیں ہیں کیونکہ سیمپل سائز رزلٹس کے شماریاتی حساب سے درست ہونے کے لیے بہت چھوٹا ہے۔' صحافیوں کے لیے سبق یہ ہے کہ گوگل ٹرینڈز استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس کا ڈیٹا استعمال کر کے غلط فہمیاں پھیلانا کسی بھی صورت میں درست نہیں۔ اس بارے میں دیانت داری سے یہ کہا جانا چاہیے کہ پاکستانیوں کو یہ سب پسند ہے۔ ہم اسے گوگل ٹرینڈز پر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ اور یہ تو بالکل بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس میں دنیا بھر سے آگے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سیلون اور آلٹرنیٹ پر موجود اسٹوریز کو غلط معلومات پھیلانے کا ملزم نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ وہ پورن میں دلچسپی کے ٹرینڈ کے علاوہ کچھ بھی رپورٹ نہیں کر رہے۔ ہاں ہمارے مقامی اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع ہونے والی خبریں الگ کہانی ہیں۔ غلط معلومات کے اس دور میں غلط معلومات ہر جگہ رہیں گے۔ بہتر ہے کہ سنسنی سے دور رہا جائے۔ ہمیشہ ایسے مضامین موجود ہوں گے جن کی شہہ سرخیاں لوگوں کو کلک کرنے پر مجبور کریں گی، اور ایسی خبریں ہوں گی جو متنازع چیزوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں گی۔ صحافیوں کی طرح ذمہ داری پڑھنے والوں پر بھی ہے۔ پڑھنے والوں کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ (یہ آرٹیکل ڈان نیوز کی ویب سائٹ سے کاپی کیا گیا ہے - اس آرٹیکل کے رائٹر سعد درانی ہیں )
  12. مرے منتظر مجھے ہے خبر تُو ہے مضطرب تُو ہے مضمحل نہ ہو بدگماں نہ خیال کر سبھی وسوسوں کو نکال کر تُو یقین کر مری ذات کا تُو یقین کر مری بات کا مرے معتبر مرے محترم میں جدا نہیں میں ہُوں تجھ میں ضم ذرا مسکرا نہ کر آنکھ نم میں گماں نہیں میں یقین ہُوں تری دھڑکنوں کی مکین ہُوں تری راحتوں کی امین ہُوں مرے ہمنفس مرے چارہ گر نہ ہو مضطرب نہ ہو مضمحل تُو یقین رکھ تُو یقین رکھ
  13. بہت عمدہ شئرنگ --- لیکن ہم کم ہی نصیحت پکڑتے ہیں
  14. مرے چارہ گر مرے محتسب مری بات سن مجھے صبر دے مجھے دے سدا تو یہ حوصلہ کہ میں سہہ سکوں جو ہیں غم سبھی جو ہیں دکھ سبھی مری ذات کے مرے لم یزل مرے راہبر مری بات سن تو بلاشبہ، مجھے آزما کڑے امتحاں سے مجھے مٹا تو اگر سنے، مری التجا مجھے بھی دکھا وہی راستہ کہ چلوں اگر تو میں لڑکھڑا کے گروں نہیں جو میں گرپڑوں تو اے چارہ گر مجھے تھام لے
  15. میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے
  16. نہ تڑپا چارہ گر کے سامنے اے درد یوں مجھ کو کہیں ایسا نہ ہو یہ بھی تقاضائے دوا ٹھہرے اٹھو جاؤ سدھا رو ، کیوں مرے مردے پہ روتے ہو ٹھہرنے کا گیا وقت اب اگر ٹھہرے تو کیا ٹھہرے (امیر مینائی)
  17. اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون (احمد فراز)
  18. دیا ہے زہر مرے چارہ گر نے تنگ آکر دوا تو خوب ملی ہے جو آئے راس مجھے (داغ دہلوی)
  19. داد دینی پڑے گی کہ انتقام بہت ہی ذہانت والا اور اعلیٰ معیار کا تھا
  20. بہت متاثر کن اور دل کو چھو لینے والی پوسٹ شئیر کی ہے وہ لوگ جنہوں نے خون دے کر، ہر پھول کو رنگت بخشی ہے دو چار سے دنیا واقف ہے، گمنام نجانے کتنے ہوں
  21. ہاہاہاہاہا بہت خوب بہت مزیدار شئرنگ ہے
  22. دُشواریوں نے راہ کو آساں‌ بنا دیا ہر مرحَلے کو منزلِ جاناں بنا دیا کتنی تھی تابِ حُسْن کہ، اُس کی نگاہ نے ہر آرزو کو شعلہ بداماں بنا دیا چارہ گروں کی شعبدہ بازی پہ دل نِثار درماں کو درد، درد کو درماں بنا دیا محدودِ آرزوئے مُسرّت تھا دل مِرا وُسعَت نے غم کی، اِس کو بیاباں بنا دیا اک ذرۂ حقِیر کی قُوَّت تو دیکھئے تسخِیر کائِنات کو آساں بنا دیا رُخ پر تِرے ٹھہر کے مِری چشمِ شوق نے آرائشِ جمال کو آساں بنا دیا اک جُنْبِشِ نِگاہ بڑا کام کر گئی تارِ نظر کو جُزوِ رگِ جاں بنا دیا آیا ہے وہ بھی وقت، کہ اکثر بہار نے ہرچاکِ گُل کو میرا گریباں بنا دیا اخگر نِقاب اُلٹ کے، کِسی خوش جمال نے کارِ دِل و نِگاہ کو آساں بنا دیا (حنیف اخگر)
  23. میرے چارہ گر تیری چپ کھلے کہ ہوا کو اذن سفر ملے میرے زخم کھل کے گلاب ہوں یہ جو سانس سانس ہیں وحشتیں یہ سراب خواب ہیں منزلیں یہ دیے کی لو سی جو آس ہے تیرا حکم ہو تو یہ جل بجھے مجھے عشق کا یہ صلہ ملے تیرے ہاتھ روح کی گرہ کھلے یہ بدن کی قید سے ہورہا تیرا یہ کرم مجھے کیمیاء نہ سوال ہوں نہ جواب ہوں کسی طور ختم عذاب ہوں
  24. دیپ جس کا محلات ہی میں جلے چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ایسے دستور کو، صبح بےنور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا پھول شاخوں پہ کھلنے لگے،تم کہو جام رندوں کو ملنے لگے،تم کہو چاک سینوں کے سلنے لگے ،تم کہو اِس کھلے جھوٹ کو، ذہن کی لوٹ کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں اب نہ ہم پر چلے گا تمھارا فسوں چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے، مگر میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا (حبیب جالب)
  25. نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا اُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا (فیض احمد فیض)

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.