Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Young Heart

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Young Heart

  1. میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر تو میرے سفر کا شریک ہے نہیں ہم سفر؟ میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے ہاتھ سے تیرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اسے ناپتے اسے کاٹتے میرا سارا وقت نکل گیا نہیں جس پہ کوئی بھی نقشِ پا میرے سامنے ہے وہ رہ گذر میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر یہ جو ریگ دشت فراق ہے میرے راستے میں بچھی ہوئی کسی موڑ پہ یہ رُکے کہیں یہ جو رات ہے میرے چار سو مگر اس کی کوئی سحر نہیں نہ ہی چھاوں ہے نہ ثمر کوئی میں نے چھان دیکھا شجر شجر میرے چارہ گر،میرے چارہ گر میرے درد کی تجھے کیا خبر
  2. سنو اے چارہ گر میرے مجھے پڑھنا نہیں آساں کہ میں تفسیرِخوشبو ھوں فقط محسوس کر لینا مجھے تم ان کہی باتوں کے دھندلے سے خیالوں میں کٹی انمول راتوں میں کہ میں تفسیرِ خوشبو ھوں سنو اے چارہ گر میرے مجھے لکھنا نہیں آساں کہ میں تحریرِ فرقت ھوں فقط ترتیب دے لینا مجھے تم اپنے سینے کی لوحِ محفوظ پہ کندہ ہجر کی داستانوں میں کہ میں تحریرِ فرقت ہوں بدلنا بھی نہیں آساں مجھے اے چارہ گر میرے کہ میں تقدیرِ الفت ھوں فقط ماتم میرا کرنا ہتھیلی پہ لکھی بے ربط سی تحریر کی تلخی کو پڑھ پڑھ کے کہ مین تقدیرِ الفت ھوں
  3. اس تھریڈ میں وہ اشعار/نظمیں/غزلیں پوسٹ کریں جن میں لفظ چارہ گر شامل ہو -------------------- مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے -------------------- مرے ہاتھ سے ترے نام کی وہ لکیر مٹتی چلی گئی مرے چارہ گر مرے درد کی ہی وضاحتوں میں لگے رہے ------------------- ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے بعنوانِ جفا چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں تلواروں میں ------------------------ رکھیں چارہ گروں سے کیا توقع کہ اے یار ان میں کچھ یارا نہیں ہے جسے تم کہہ رہے ہو چارہ سازی وہ چارہ بھینس کا چارہ نہیں ہے
  4. کبھی یوں بھی ہوتا ہے دو اجنبی دل اچانک کسی خوشنما موڑ پر ایک دوجے سے ملتے ہیں تو ایک لمحہ اچانک کہیں سے ابھرتا ہے اور ان کی آئندہ عمروں کے سارے مہ و سال پر پھیلتے پھیلتے ان کے چاروں طرف اک بظاہر دکھائی نہ دیتا ہوا دائرہ سا بناتا ہے جس کی حدیں گھیر لیتی ہیں اک دن ازل سے ابد تک کے سب فاصلوں کو کبھی یوں بھی ہوتا ہے وہ ہمسفر جو زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت کو چاہت کے بادلوں کے سائے تلے قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھے اچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیں تو دیکھتے ہیں نجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکا تعلق کے سارے دیوں کو بجھاتا دلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہے اور اسکی اڑی ہوئی گرد لمحوں میں بے شکل کرتی ہے عمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو
  5. بہت عمدہ - رانیہ بہت اچھا کلام شئر کیا آپ نے اس تھڑیڈ کا عنوان ہے یوں بھی ہوتا ہے یا ایسا بھی ہوتا ہے کوئی ایسے اشعار یا نظمیں/غزلیں شیئر کریں جن میں یہ مصرع آتا ہو
  6. جب بھی اک شام یاد آتی ہے جیسے دنیا ٹھہر سی جاتی ہے اک طرف دل ہیں، اک طرف دنیا اور یہ سین کائناتی ہے یوں بھی ہوتا ہے شعر، بعض اوقات جیسے بجلی سی کوند جاتی ہے موت سے ہمکلام ہونے کے زندگی راستے دکھاتی ہے ہار ہوتی ہے عارضی، اس کو بے دلی مستقل بناتی ہے حادثے اک پل نہیں رکتے زندگی ہے کہ چلتی جاتی ہے اس کے دم سے ہیں رونقیں ساری یہ جو دنیا کی بے سباتی ہے بات کوئی سمجھ نہیں آتی بات اتنی سمجھ میں آتی ہے (امجد اسلام امجد)
  7. محبت مر نہیں سکتی مٹائی جا نہیں سکتی بھلائی جا نہیں سکتی یہ وہ دولت ہے دل کی جو چرائی جا نہیں سکتی حکایت جس نے بھی دردِ محبت کی بیاں کی ہے کہا ہے بیکراں اس کو کہا ہے جاوداں اس کو مگر اب تم جو کہتی ہو حقیقت یوں بھی ہوتی ہے محبت بے سبب یونہی کسی دن مر بھی جاتی ہے چلو تو دیکھے لیتے ہیں فسا نہ بنتی ہے کیسے حقیقت دیکھے لیتے ہیں کہ گلبانگِ محبت گل جھڑی کیوں دل کی بنتی ہے گرہ یہ کیسے پڑتی ہے! وہ کیا خوشبو ہے جو کلیوں ہی میں دم توڑ دیتی ہے وہ کیا موسم ہیں جذبوں کے جودل کو برف کرتے ہیں لہو کو سرد کرتے ہیں وفاکو گرد کرتے ہیں ہوائے زرد کے مانند کبھی ایسا بھی ہوتا ہے؟ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے؟ محبت مر بھی سکتی ہے؟ محبت زندہ ہے ہر پل شکستہ دل کے ہر ذرے کے آئینے میں ہے روشن محبت جاودانی ہے محبت مر نہیں سکتی
  8. یوں بھی ہوتا ہے صدیوں کے دو ہمسفر اپنے خوابوں کی تعبیر سے بے خبر اپنے عہد محبت کے نشے میں گم اپنی قسمت کی خوبی پہ نازاں مگر زندگی کے کسی موڑ پر کھو گئے اور اک دوسرے سے جدا ہوگئے یوں بھی ہوتا ہے دو اجنبی راہ رو اپنی راہوں سے منزل سے ناآشنا ایک کو دوسرے کی خبر تک نہیں کوئی پیمان الفت نہ عہد وفا اتفاقات سے اس طرح مل گئے ساز بھی بج اٹھے پھول بھی کھل گئے
  9. شاہکار مصور میں ترا شاہکار واپس کرنے آیا ہوں اب ان رنگین رخساروں میں تھوڑی زردیاں بھردے حجاب آلود نظروں میں ذرا بے باکیاں بھر دے لبوں کی بھیگی بھیگی سلوٹوں کومضمحل کردے نمایاں رنگِ پیشانی پہ عکس سوزِ دل کر دے تبسم آفریں چہرے میں کچھ سنجیدہ پن بھر دے جواں سینے کی مخروطی اٹھانیں سرنگوں کر دے گھنے بالوں کو کم کردے مگر رخشندگی دے دے نظر سے تمکنت لے کرمذاقِ عاجزی دے دے مگر ہاں بنچ کے بدلے اسے صوفے پہ بٹھلا دے یہاں میری بجائے اک چمکتی کار دکھلا دے (ساحر لدھیانوی)
  10. محبت کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی واہ
  11. عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا جب جی چاہا مسلا کچلا، جب جی چاہا دھتکار دیا تُلتی ہے کہیں دیناروں میں، بِکتی ہے کہیں بازاروں میں ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بِٹ جاتی ہے عزت داروں میں عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا مردوں کے لیے ہر ظلم روا، عورت کے لیے رونا بھی خطا مردوں کے لیے ہر عیش کا حق، عورت کے لیے جینا بھی سزا مردوں کے لیے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس اِک چِتا عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا جن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کا بیوپار کیا جس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیا جس تن سے اُُگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیا عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا سنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہے چکلوں ہی میں آ کر رُکتی ہے، فاقوں سے جو راہ نکلتی ہے مردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہے عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہے اوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کو بیٹی ہے یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے عورت نے جنم دیا مردوں کو، مردوں ے اُسے بازار دیا (ساحر لدھیانوی)
  12. ہاہاہا - اعلیٰ
  13. واؤ زبردست یار ہر تصویر ایک سے بڑھ کر ایک ہے
  14. بہت اعلیٰ لگتا ہے جیسے رنگ کا تڑکہ لگایا گیا ہے
  15. بہت ہی خوبصورت اور اعلی معیار کی تصویریں شئر کی ہیں زبردست
  16. اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے لباس تن سے اُتار دینا کسی کو بانہوں کے ہار دینا پھر اُسکے جذبوں کو مار دینا اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے گناہ کرنے کا سوچ لینا حسین پریاں دبوچ لینا پھر اُسکی آنکھیں ہی نوچ لینا اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے کسی کو لفظوں کے جال دینا کسی کو جذبوں کی ڈھال دینا پھر اُسکی عزت اُچھال دینا اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے اندھیر نگری میں چلتے جانا حسین کلیاں مسلتے جانا اور اپنی فطرت پہ مسکرانا اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے سجا رہا ہے ہر اک دیوانہ خیالِ حسنِ جمال جاناں خیال کیا ہیں ، ہوس کا تانا اگر محبت یہی ہے جاناں تو معاف کرنا مجھے نہیں ہے
  17. کنیز حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خاموش ہیں حضور بولیے کہ وسوسے وبالِ ہوش ہیں حضور، ہونٹ اِس طرح کپکپا رہے ہیں کیوں حضور آپ ہر قدم پہ لڑکھڑا رہے ہیں کیوں حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہے حضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پر حضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پر حضور منہ سے بہہ رہی ہے پیک صاف کیجیے حضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجیے حضور کیا کہا، مَیں آپ کو بہت عزیز ہوں حضور کا کرم ہے ورنہ مَیں بھی کوئی چیز ہوں حضور چھوڑیے ہمیں ہزار اور روگ ہیں حضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں (احمد فراز - تنہا تنہا)
  18. تم سے ہم کیا کہیں تم کو معلوم کیا ہم نے کاٹی ہے کیسے شب زندگی ہم نے کیسے اٹھایا ہے بار_وفا
  19. بوسوں کی حلاوت میں جب ہونٹ سلگتے ہوں سانسوں کی تمازت سے جب چاند پگھلتے ہوں اور ہاتھ کی دستک پے جب بند قبا اس کے کھلنے کو مچلتے ہوں عشق اور ہوس کے بیچ کچھ فرق نہیں رہتا کچھ فرق اگر ہے بھی اس وقت نہیں رہتا جب جسم کریں باتیں دریابھی نہیں بہتا میں جھوٹ نہیں کہتا اے شام گواہی دے (امجد اسلام امجد)
  20. کھلونا تو نہیں ہوں میں کہ تم چاہو کہ ہم ایک دوسرے کو چھو سکیں محسوس بھی کر لیں پھر اپنے آپ کو دریافت کر لیں ہم جہاں موقع ملے تم کو عقابوں کی طرح تم کو جھپٹ پڑنے کی عادت ہے گریزاں تم سے گر ہوتی ہوں میں ایسے طلاطم میں تو تم ناراض ہو جاتے ہو آخر خود کبھی سوچو کھلونا تو نہیں ہوں میں
  21. بہت اچھی شئرنگ ہے یہ اور یہ موضوع بھی بہت اہم ہے میرےخیال میں اس موضوع پر مزید گفتگو اور کمنٹس بھی ہونے چاہیں میرا مشاہدہ ہے کہ آج کل اکثر لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے شادی کوئی اتنا اچھا تجربہ ثابت نہیں ہورہی اس کی ایک وجہ تو یہی شئر کیے گئے تصورات ہیں اور کچھ لایعنی اور غیر حقیقی توقعات یا فینٹیسیز ہیں جو لڑکا اور لڑکی کے ذہن میں شادی کو لے کر ہوتی ہیں کمرشیل ڈرامے اور فلمیں دیکھ دیکھ کر یہ توقعات اس قدر بڑھی ہوتی ہیں خصوصا لڑکیوں کی - کہ جو پوری تو ہونی نہیں ہوتیں - نتیجہ ہوتا ہے بے اطمینانی اور ڈپریشن جیسے آج کل کی لڑکیاں شادی کو ایک نہ ختم ہونے والا ہنی مون سمجھتی ہیں، روز ہی گھومنے، برگر پزا اور ہوم ڈلیوری آرڈر کی خواہش مند ہوتی ہیں - جبکہ شادی کی رات ہی شوہر کا پہلا جملہ ہوتا ہے کہ تم نے میری ماں کو خوش رکھنا ہے بس یہیں ہنی مون ختم اسی طرح توقع ہوتی ہے ڈراموں اور ڈائجسٹوں کے ہیرو کی طرح شوہر روز گھوماتا پھراتا اور آؤٹنگ کراتا رہے گا جب کہ حقیقت میں چولہا ہانڈی ہی نصیب ہوتا ہے اور میاں کی آمدنی بھی محدود ہوتی ہے - یہیں سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اب کیا کیا جائے - امیر لڑکوں کی تعداد ہی بڑی محدود ہے اور پڑھی لکھی لڑکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہےجن کی توقعات کوئ مالدار لڑکا ہی پوری کر سکتا ہے ویسے بھی آج کل کی اکثر لڑکیاں گھر سنبھالنے کی کوئی خاص شوقین نظر نہیں آتیں تو کہیں نہ کہیں شادی کے بارے میں مبہم تصورات کا گہرا عمل دخل ہے بہت سے مسائل میں
  22. کیا بات ہے - فوٹو گرافی بہت ہی کمال کی ہے
  23. کیا بات ہے -- زبردست
  24. واؤ - بہت ہی خوبصورت جگہیں ہیں - زبردست شئرنگ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.