Jump to content
URDU FUN CLUB

Waniya

Silent Members
  • Content Count

    630
  • Joined

  • Last visited

Community Reputation

55

Identity Verification

  • Gender
    Female

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. haha that is good really good. achi posting hai
  2. Be Shak ya eik fazol aur gatiya propaganda hai isko ehse publish nhi krna chiye her kisi ko.
  3. Zaberdast ji.. maze ki post ki hai ap ne
  4. Really eik sabaq amooz aur kafi haad tak khudkarz insaan ki baat hai but samjne wale kaam he hein thanks for sharing.
  5. Outstanding info... eik bahtreen article hai thanks alot for this best info
  6. ایک عورت گالف کھیل رہی تھی کہ ایک ہٹ کے بعد اس کی گیند قریبی جنگل میں* جا گری، بال ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ جھاڑیوں میں پہنچ گئی جہاں گیند پڑی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ادھر ایک مینڈک کانٹے دار جھاڑی میں پھنسا ہوا ہے۔ مینڈک نے عورت کو دیکھ کر کہا، خاتون اگر آپ مجھے ان کانٹوں سے نجات دلا دیں گی تو میں آپ کی تین خواہشات پوری کروں گا۔ یہ سن کر خاتون نے فوراً ہاتھ بڑھا کر مینڈک کوکانٹوں سے نجات دلا دی۔ مینڈک نے کانٹوں سے نجات پا کر شکر ادا کیا اور خاتون سے کہنے لگا جی اب آپ کہیں کیا خواہش ہے آپ کی، مگر میں معافی چاہتا ہوں* کہ میں* آپکو یہ بتانا بھول گیا کہ آپ جو کچھ مانگیں گی، آپ کے شوہر کو وہی چیز دس گنا ملے گی۔ خاتون کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا، خیر انہوں نے کہا کوئی بات نہیں۔ میری پہلے خواہش ہے کہ میں*دنیا کہ سب سے خوبصورت عورت بن جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیںآپ کا شوہر دس گنا خوبصورت ہو جائے گا؟ کوئی بات نہیں، میں سب سے خوبصورت ہوں گی، تو وہ مجھے ہی دیکھے گا خاتون نے کہا۔ مینڈک نے کوئی منتر پڑھا اور خاتون بے حد خوبصورت ہو گئی۔ دوسری خواہش کہ میں سب سے امیر ہو جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر آپ سے بھی دس گنا امیر ہو جائے گا؟خاتون نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اس کی دولت یا میری، ایک ہی بات ہے۔ مینڈک کا منتر اوروہ خاتون شوں کر کے امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *۔۔۔۔۔۔۔۔ جی خاتون آپ کی تیسری خواہش؟مینڈک نے پوچھا؟ مجھے ایک ہلکا سا دل کا دورہ یعنی ہارٹ اٹیک ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کہانی کا سبق:*خواتین بہت چالاک ہوتی ہیں، ان سے زیادہ ہوشیاری اچھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *۔۔ . . . خواتین پڑھنے والیوں کے لیے: یہ لطیفہ ختم - اب آپ آرام سے اس سے مزے لیں اور بس۔۔۔۔۔۔ . حضرات آپ آگے پڑھیں۔۔۔۔ آپ کےلیے کچھ اور ہے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی جناب - خاتون کے شوہر کو خاتون کے مقابلے میں دس گنا ہلکا ہارٹ اٹیک ہوا۔ اس کہانی کا سبق: خواتین خود کو بہت عقلمند سمجھتی ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں انہیں یہ سمجھتے رہنے دیں اور محظوظ ہونے دیں*
  7. ابا! آج آپ نہیں ہیں میں بہت دیر سے سر جھکائے اپنے کام میں مصروف تھی۔ میرا سارا دھیان صرف اور صرف اپنے سامنے رکھے کاغذوں پہ تھا کہ اچانک ایک آواز نے مجھے ڈسٹرب کیا۔۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔۔ میں نے بار ہا اپنا سر جھٹک کر واپس اپنے کام میں مصروف ہونے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔ ۔ ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔ ۔ یہ کیسی آواز ہے؟ کہاں سے آ رہی ہے؟ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔ یہ آواز تو کہیں پاس سے ہی آ رہی تھی۔ میں اٹھ کر کھڑکی کی طرف بڑھی کہ باہر جھانک کر دیکھوں ۔ ارے یہ آواز تو کھڑکی پر پڑنے والے بارش کی بوندوں کی ہے۔ میں نے جھٹ سے کھڑکی کھولی اور اپنی ہتھیلیوں کو جوڑ کر بارش کی بوندوں کو جمع کرنے لگی۔ میری یہ بےساختہ حرکت مجھے بہت سال پیچھے لے گئی۔ سردیوں کا موسم، بارش زوروں پر اور ۔۔۔ ۔۔ ایک چھوٹی سی بچی اپنے بابا کا ہاتھ تھامے بارش کی بوندوں کو جمع کرنے کی ضد کر رہی ہے۔ بابا ہنستے جا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیٹا! بارش کو کبھی کوئی مٹھی میں قید کر سکتا ہے کیا؟ پانی نے تو بہہ جانا ہے۔ اور میرا بچہ بھیگ کر بیمار ہو جائے گا، کوئی اور کھیل کھیلتے ہیں۔ لیکن وہ بچی آنکھوں میں آنسوؤں لیے ایک ہی ضد کیے جا رہی ہے کہ اس نے بارش کے ان قطروں کو پکڑنا ہے۔ اور آخرکار اس کے بابا اس کی اس ضد کے آگے ہار مان لیتے ہیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر گارڈن میں لے جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے چھوٹے سے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو جوڑ کر پانی جمع کے اپنے بابا پر اچھال دیتی ہے، ہر بار ایسا کرتے ہوئے اس کی ہنسی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بابا اور میں، بارش کو کتنے سال ایسے ہی انجوائے کرتے رہے، وقت گزرتا رہا اور ۔۔۔ کیا وقت اتنا جلدی بیت جاتا ہے۔ آج وہی بارش ہے، اُسی کمرے کی وہی کھڑکی ہے، کھڑکی پر گرنے والی بارش کی بوندوں کی آواز بھی ویسی ہی ہے، میں بھی ہوں پر ایک کمی ہے۔۔۔ بابا! آج آپ نہیں ہیں۔۔
  8. اَن مِٹ قرض ایک بیٹا پڑھ لکھ کر بہت بڑا آدمی بن گیا. والد کی وفات کے بعد ماں نے ہر طرح کا کام کر کے اسے اس قابل بنا دیا تھا. شادی کے بعد بیوی کو ماں سے شکایت رہنے لگی کہ وہ ان کے اسٹیٹس میں فٹ نہیں ہے. لوگوں کو بتانے میں انہیں حجاب ہوتا کہ یہ ان پڑھ ان کی ماں - ساس ہے. بات بڑھنے پر بیٹے نے ایک دن ماں سے کہا - "ماں .. میں چاہتا ہوں کہ میں اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ کوئی بھی قرض ادا کر سکتا ہوں. میں اور تم دونوں خوش رہیں اس لیے آج تم مجھ پر کئے گئے اب تک کے سارے اخراجات سود سمیت ملا کر بتا دو. میں وہ ادا کر دوں گا. پھر ہم الگ الگ سکھی رہیں گے. ماں نے سوچ کر جواب دیا -"بیٹا _ حساب ذرا لمبا ہے، سوچ کر بتانا پڑے گا. مجھے تھوڑا وقت چاہیے." بیٹے نے کہا - "ماں .... کوئی جلدي نہیں ہے. دو - چار دنوں میں بات کرنا." رات ہوئی، سب سو گئے. ماں نے ایک لوٹے میں پانی لیا اور بیٹے کے کمرے میں آئی. بیٹا جہاں سو رہا تھا اس کے ایک طرف پانی ڈال دیا. بیٹے نے کروٹ لے لی. ماں نے دوسری طرف بھی پانی ڈال دیا. بیٹے نے جس طرف بھی کروٹ لی .. ماں اسی طرف پانی ڈالتی رہی تو پریشان ہو کر بیٹا اٹھ کر كھيج کر بولا کہ ماں یہ کیا ہے؟ میرے بستر کو پانی پانی کیوں کر ڈالا ...؟ ماں بولی -"بیٹا، تونے مجھ سے پوری زندگی کا حساب بنانے کو کہا تھا. میں ابھی یہ حساب لگا رہی تھی کہ میں نے کتنی راتیں تیرے بچپن میں تیرے بستر گیلا کر دینے سے جاگتے ہوئے كاٹي ہیں. یہ تو پہلی رات ہے اور تو ابھی سے گھبرا گیا ..؟ میں نے تو ابھی حساب شروع بھی نہیں کیا ہے جسے تو ادا کر پائے. " ماں کی اس بات نے بیٹے کے دل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا. پھر وہ رات اس نے سوچنے میں ہی گزار دی. شاید اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ ماں کا قرض کبھی نہیں اتارا جاسکتا
  9. welcome to the forum dear.. apka thread approve ho gya hai so u can see now.
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status