Everything posted by Young Heart
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
الطاف حسین
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
نریندر مودی
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
امریکن سینیٹر جان کیری
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
سابقہ آسٹریلوی وزیراعظم کیون روڈ
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
یوکرائن اپوزیشن لیڈر وٹالی کلسکو
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
جرمن چانسلر: اینجلا مارکل
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
باراک ابامہ- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
سیاستدانوں کی سیلفیاں بل کلنٹن- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
ماہرہ خان- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
مہوش حیات- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
عروہ اور ماورا حسین- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
صنم جنگ- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
متیرا- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
صنم سعید- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
حمائمہ ملک- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
صنم چوہدری- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
پاکستانی اداکاراؤں کی سیلفیاں سجل علی- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ-2 ستمبر 2015) اسلام آباد راولپنڈی میں سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق بلیک میلرز کے لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور موبائل فونز تحویل میں لے لئے۔ بلیک میلرز لڑکیوں سے دوستی کرکے تصاویر اور ویڈیوز بناتے تھے۔ سائبر کرائم ونگ کو 6 ماہ میں بلیک میلنگ کی 100 سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔ والدین کی شکایات پر تینوں بلیک میلرز کو گرفتار کیا گیا۔ آئندہ چند روز میں مزید بلیک میلرز کی گرفتاری کا امکان ہے۔- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
تحریر: واصف شکیل پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بدقسمتی سے سالوں پرانے ہیں ۔ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جیسے جیسے دور جدید ہورہا ہے خواتین کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے طریقوں میں بھی جدیدیت آتی جارہی ہے مثلاً انٹرنیٹ استعمال کرنے والی خواتین خصوصاً کالج اوریونیورسٹیز میں پڑھنے والی لڑکیوں کو” آن لائن بلیک میلنگ “کا طریقہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے میں ایک مجرم کو فیس بک پر جعلی اکاوٴنٹ بنا کر ایک لڑکی کو بلیک میل کرنے پر تین سال قید اور25ہزار روپے جرمانہ ہوچکا ہے۔ مجرم عامر جنجوعہ کی ایک بین الاقوامی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم لڑکی سے دوستی ہوگئی، مگر یہ جاننے کے بعد کہ عامر ایک بس کنڈیکٹر ہے لڑکی نے شادی سے انکار کردیا اس انکار پر مجرم نے اسے دھمکیاں دینا شروع کردیں اور آخر کار اس کی قابل اعتراض تصویر فیس بک پر شائع کردی جس پر لڑکی کے گھر والوں نے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا اور ایف آئی اے میں اس کے خلاف درخواست دے دی پچھلے ایک سال کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے کو3027 سائبر کرائمز کی شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے تقریباً 45فیصد خواتین کے خلاف ہراسمنٹ کے حوالے سے تھیں نگہت داد جو آن لائن حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی این جی او ڈیجیٹل رائٹس فاوٴنڈیشن کی ڈائریکٹر ہیں ، ان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بلیک میلنگ، دھمکیاں، آن لائن ہراساں کرنے، لڑکیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے کے واقعات میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ معاشرے میں بڑھتی لاقانونیت اور خواتین کیلئے غیر موزوں ماحول کا عکاس ہے گز شتہ ماہ ایف آئی اے راولپنڈی سائبر کرائم ونگ نے ایک 3 رکنی گینگ کو گرفتار کیا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو ہراساں کرتا تھا۔ ملزم بلال حسین نے 80فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کا اعتراف کیا۔ تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ وہ یہ کام گزشتہ کچھ مہینوں سے کر رہا ہے اور وہ فیس بک پیج کے ذریعے ہیکنگ کرنا جانتا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ فیس بک اکاؤنٹس کو ہیک کرلیا جائے اور پھر بلیک میل کیا جائے؟ کیا یہ اتنا آسان ہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا” ہیکرز انٹرنیٹ یوزرز کی آن لائن سیکورٹی میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسا کرپاتے ہیں۔ آسان پاس ورڈ، کمزور سیکورٹی سیٹنگز یوزرز کو ایکسپوز کردیتی ہیں اور ان کا اکاؤنٹ آسانی سے چوری ہوجاتا ہے، اس لئے انٹرنیٹ یوزرز کو اس بات کی آگاہی ہونی چاہیے کہ کس طرح وہ اپنے آپ کو سائبر ورلڈ میں محفوظ کرسکتے ہیں پاکستان میں ہزاروں ایسے جرائم ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر رپورٹ نہیں کروائے جاتے۔ اسی طرح آن لائن ہراساں اور بلیک میلنگ کا بھی رپورٹنگ تناسب بہت کم ہے۔ اس کی ایک وجوہ عام لو گ تھانہ کچہری کے چکر لگانے سے کتراتے ہیں اور ایسے معاملات جو خواتین سے متعلق ہوں اسے چھپا کے رکھنے میں عافیت جانتے ہیں اگست میں ایف آئی اے نے ایک اورگینگ کو پکڑا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤ نٹس ہیک کرکے ان کی پرائیویٹ کمیونیکیشن کو آن لائن کردیتا تھا اور پھر انہیں بلیک میل کرتا تھا، بیچاری لڑکیا ں کافی عرصے تک ان کے ہاتھوں پریشان ہوتی رہیں صرف اس وجہ سے کہ اس کا منظر عام پر آجانا رسوائی کا سبب بن سکتا تھا جہاں تک موجودہ قواتین کا تعلق ہے تو ایف آئی اے فی الحال الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس 2002اور پاکستان پینل کوڈ کا سہار ا لے کر کارروائی کرتی ہے مگر اس میں خامیاں اور کمزوریاں ہونے کی بنا پراکثر ملزم بچ نکلتا ہے نگہت داد کا اس بارے میں کہنا تھا ” اس بڑھتے رجحان کو روکنے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے مگر جو قانون بنائے جا رہے ہیں ان میں ایسے لوپ ہولز چھوڑے گئے ہیں جس سے اس کے غلط استعمال کا خطرہ ہے۔ اس سوال پر کہ اگر سوشل میڈیا کے استعمال کو ایک خاص تعلیمی معیار کا پابند کردیا جائے تو کیا یہ حل ممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنا امتیازی ہوگا اور لوگ معلومات کے ایک اہم ذریعے سے محروم رہ جائیں گے اور اس طرح کردنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا آن لائن ہراسمنٹ کے خلاف درخواست جمع کرانا قدرے آسان ہے اور اس حوالے سے ایف آئی اے کافی متحرک ہے۔شکایت درج کرانے کے تین طریقے ہیں، ایک یہ کہ ہیلپ لائن نمبرپر کال کی جاسکتی ہے۔ دوسرے طریقے کے مطابق نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبر کرائم کی ویب سائٹ پر آن لائن دستیاب فارم پْر کیا جاسکتا ہے۔ تیسرا یہ کہ تمام معلومات اور شواہد جمع کر کے ہیلپ ڈیسک پر ای میل کردی جائے جس کا ایڈریس سائٹ پر موجود ہے۔ نگہت داد کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ خاص طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ آپ کو اس بارے میں مکمل آگاہی ہو تبھی آپ بلیک میلنگ اور دوسرے ہتھکنڈوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر کرائم کا شکار ہونے والے بالخصوص خواتین ان جرائم کی پردہ پوشی کرنے کے بجائے ان کی شکایت کریں تاکہ ایسے مجرم عبرت کا نشان بن سکیں۔سائبرکرائم پر خاموشی بھی مجرمانہ فعل ہے۔- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
سائبر کرائم : آپ کو کیا معلوم ہونا چاہئے جب دنیا کی ممتاز ترین کمپنیوں کے 580 سنیئر ایگزیکٹوز اور سی ای اوز سے ایک سروے میں بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کو لاحق خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں سرفہرست تین مسائل کی اس ترتیب میں درجہ بندی کی ، زیادہ ٹیکسز، صارفین کی کمی اور سائبر کرائم۔ جون 2014 میں جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کے سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز کی سامنے آنے والی ایک تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا تھا کہ سائبر کرائم کے نتیجے میں دنیا کو ہونے والا سالانہ نقصان 375 سے 575 ارب ڈالرز کے درمیان ہے۔ یہ اعدادوشمار انٹرنیٹ پر ہونے والے کاروبار کے پندرہ سے بیس فیصد حصے کے برابر ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ سیکیورٹی فرم میکافی نے بھی جون 2014 میں سالانہ نقصانات کی رپورٹ مرتب کی جس کے مطابق سائبر کرائم کے نتیجے میں عالمی معیشت کو چار سو ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ سائبر کرائم کی ایک عام تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہر ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہو یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جائے گا۔ عام فہم انداز میں بات کی جائے تو مختلف سطحوں پر سائبر کرائمز کے ذریعے لوگوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی، ہیکنگ، سوشل نیٹ ورکس میں استحصال، معلومات انفراسٹرکچر پر سائبر حملے، سائبر دہشتگردی، مجرمانہ رسائی، فحش پیغامات، ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، ڈیٹا تک غیرقانونی رسائی وغیرہ وغیرہ۔ ہماری قومی قانونی ڈھانچے میں سائبر کرائمز کی روک تھام کے حوالے سے الیکٹرونک ٹرانزیکشن آرڈنینس 2002 اور پاکستانی ٹیلی کمیونیکشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 جیسے قوانین نافذ ہیں، جبکہ 2009 میں پریوینٹیشن آف الیکٹرونک کرائمز آرڈنینس بھی سامنا آیا مگر وہ نافذ نہیں کیونکہ وہ تاحال فعال نہیں ہوسکا ہے۔ ان قوانین کے تحت ہیکنگ، غیر قانونی رسائی (کسی ای میل اکاﺅنٹ کی ہیکنگ)، مداخلت، پرائیویسی کی خلاف ورزی، الیکٹرونک و ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچان اور گرے ٹریفک سمیت دیگر کو اہم جرائم قرار دیا گیا ہے، تاہم ان میں کئی اہم سائبر کرائمز کو شامل تو نہیں کیا جنھیں 2009 کے قانون کا حصہ بنایا گیا جیسے فحش پیغامات و ای میلز، دھمکی آمیز پیغامات و ای میلز، سائبر اسٹاکنگ، اسپامنگ، الیکٹرونک فراڈ، سائبر دہشت گردی اور اینکرپشن کا غلط استعمال وغیرہ۔ تو اگر آپ سائبر کرائم کا ہدف بن جانے کی صورت میں کیا کریں گے؟ سائبر کرائمز کی شکایت نیشنل ریسپانس سینٹر فار سائبرکرائمز (این آر تھری سی) کے پاس اس ای میل ایڈریس helpdesk@nr3c.gov.pk پر تمام دستاویزات کے ساتھ درج کرائی جاسکتی ہے۔ شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کے حوالے سے سوالات کے لیے http://www.nr3c.gov.pk/faq.html سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ یہ ادارہ 2007 میں اپنے قیام کے بعد سے سائبر کرائمز کے تمام درجوں کی شکایات کو موصول کررہا ہے۔ اب تک این آر تھری سی کو جو تین سب سے بڑی شکایات موصول ہوئی وہ اس ترتیب سے ہیں، ڈیٹا تک مجرمانہ رسائی، دھمکی آمیز کالز اور الیکٹرونک فراڈ۔ اس ادارے میں ایک شکایت کو درج کرانے کا عمل ایک شکایت جمع کرانے سے شروع ہوتا ہے چاہے تحریری ہو یا آن لائن شکل میں۔ نامکمل اور نامعلوم افراد کی شاکایت کو یہ ادارہ زیرغور نہیں لاتا اور یہ ضروری ہے کہ اپنا کیس درج کراتے وقت مدعی تمام پہلوﺅں کو مکمل کرے تاکہ اسے ابتدائی سطح پر مسترد نہ کیا جاسکے۔ اگلے مرحلے میں این آر تھری سی کی جانب سے قانونی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ جانا جاسکے جمع کرائی گئی درخواست اس حوالے سے نافذ قوانین کی کسی شق پر پورا ترتی ہے یا نہیں اور ایسا ہونے کی صورت میں فیلڈ آفس کی جانب سے شکایت کی تصدیق کاعمل شروع کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شکایت نافذ قوانین کی شقوں سے میل نہ کھاتی ہو اس کو مسترد کرنے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں جبکہ تصدیق عمرحلے کے دوران شکایت کنندہ سے مختلف ذرائع کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے جیسے تحریری سمن، ای میل یا ٹیلیفون وغیرہ۔ اس مرحلے میں شکایت کنندہ سے اس کے پاس معلومات یا اطلاعات کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے تاکہ شکایت کے مستند ہونے کے بارے میں جانچا جاسکے۔ اس مرحلے میں ناکامی کی صورت میں بھی شکایت کی فائل بند ہونے کے احکامات جاری ہوجاتے ہیں تاہم تصدیقی عمل کامیاب ہوجائے تو پھر تحقیقاتی مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ایک تفتیشی افسر عام طور پر تحقیقات کے عمل کو آگے بڑھاتا ہے اور تصدیق شدہ معلومات کو تفتیشی اصولوں کے پیمانے میں پرکھتا ہے۔ عام طور پر اس مرحلے میں ملزمان کی شناخت اور ان کا محل وقوع تلاش کرلیا جاتا ہے۔ مگر یہ تحقیقاتی مرحلہ بھی متعدد وجوہات کی بناءپر روکا جاسکتا جیسے شواہد کی عدم دستیابی یا شکایت کنندہ کا اپنی شکایت کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہ رکھنا وغیرہ، تاہم کسی تحقیقات کا کامیاب اختتام ایک ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ تیکنیکی اور ڈیجیٹل فارنسک رپورٹس تحقیقاتی مرحلے میں عام طور پر اور ایف آئی آر رجسٹر ہونے کے بعد بھی درکار ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ایک شکایت درج کرانے سے شروع ہونے والا سفر تصدیق، تحقیقات اور ایف آئی آر کی شکل میں مکمل ہوتا ہے۔- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
یہ ایک اہم موضوع ہے اور اس کے دونوں ہی پہلو ہیں اس میں کیا شک ہے اکہ اچھا برا استعمال ہر چیز کا ہی ہوتا ہے یہی حال سوشل میڈیا کا بھی ہے لیکن جب معاشرہ ہمارے معاشرے کی طرح انحطاط پذیر ہو جاتا ہے تو اس طرح کی چیزوں کا استعمال زیادہ تر منفی ہی ہوتا ہے اوپر دیا گیا نقطۃ نظر یقینا ایک پہلو کی حد تک ٹھیک ہے لیکن کیا کیا جائے جہاں سوشل میڈیا کو لوگوں کی پرائیویٹ لائف برباد کرنے، شریف یا سفید پوش گھرانوں کی لڑکیوں کی پرائیویٹ تصویریں، ویڈیوز ان کی مرضی کے بغیر یا بلیک میلنگ کی مقصد کے لیے اپ لوڈ کرنے کے استعمال کیا جائے جس کے ذریعے کوئی بھی کسی کی بھی عزت اتنی آسانی سے اچھال سکتا ہو اور محفوظ رہ سکتا ہو کہیں تو کوئی قانون یا چیک ہونا چاہیے کیا انٹرنیٹ پر موجود ننگی دیسی ویڈیوز اور سیلفیوں کا سارا مواد لڑکیوں اور لڑکیوں کے خاندانوں کی رضامندگی سے اپ لوڈڈ ہے جو لوگ ایسا مواد اپ لوڈ کرتے ہیں کیسا محسوس کریں گے جب ان کی اپنی خاندان کی لڑکیوں کا مواد کوئی اور اپ لوڈ کرے باقی سائبر کرائم اس کے علاوہ ہیں تو میرے خیال میں اس بات یا قانوں کا یک رخا پہلو نہیں ہے - ریاست میں کوئی بھی چیز شتر بے مہار نہیں ہونی چاہیے- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
سڈنی میں ایک سٹی ٹو سرف نامی ریس کے دوران ایک کھلاڑی دوڑنے کی بجائے سیلفی لینے کا شوق پورا کررہا ہے- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
تھائی لینڈ میں خواتین فوجی کیڈٹ تھائی بادشاہ کی سالگرہ کے موقع پر ان کے محل کے باہر سیفلی لینے کا شوق پورا کررہی ہیں - سیلفی - چند دلچسپ حقائق