Everything posted by Young Heart
-
مجھے تم سے محبت ہے
مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی کہ تم اپنے اکیلے پن کا دکھ لے کر مرے رستے میں آئے تھے تمھاری آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا تھا سو میں نے تم کو اُن چہروں کی قربت بخش دی ایسے مناظر تم پہ روشن کردئیے جن پر بصارت ناز کرنے کے بہانے ڈھونڈ تی ہے تمھاری گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل تھی سو میں نے تم کو ایسی محفلوں کی اولیں صف میں بٹھایا ایسے لوگوں سے ملایا جہاں ہونٹوں کی جنبش نو جواں قصوں میں ڈھلتی ہے قہقہوں کی رسم چلتی ہے تمھیں اپنی سماعت سے بھی شکوہ تھا کہ تم نے نغمگی کے دن نہیں دیکھے حرف کو آواز کے پہلو میں خوابیدہ نہیں پایا سو میں بھی گنگاتی صبح کی مانند لہجوں کو تمھارے ذوق کی محروم خلوتوں میں بلا لایا کئی رس گھولتی شامیں تمھاری روح میں بیدار کر ڈالیں مگر ہونا وہی تھا مگرہونا وہی تھا جو تعلق جوڑنے والوں کا دیرینہ مقدر ہے گذشتہ رات تم نے مجھ کو بے مصرف سمجھ کر اپنے ہنگاموں کی جانب ہی نظر رکھی لہٰذا اب اجازت دو مرے رستے کی جانب غور سے دیکھو وہ دیکھو ایک درماندہ مسافر میری قربت کے لئے بے چین لگتا ہے تم اس کی آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا دیکھ سکتے ہو اور اس کی گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل ہے اسے اپنی سماعت سے بھی شکوہ ہے مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے
-
مجھے تم سے محبت ہے
شیریں بھی نہیں لیلیٰ بھی نہیں میں ہیر نہیں عذرا بھی نہیں وہ قصّہ ہیں افسانہ ہیں وہ گیت ہیں پریم ترانہ ہیں میں زندہ ایک حقیقت ہوں میں جذبہء عشق کی شدت ہوں میں تم کو دیکھ کے جیتی ہوں میں ہر پل تم پہ مرتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ جب ہاتھ دُعا کو اُٹھتے ہیں الفاظ کہیں کھو جاتے ہیں بس دھیان تمھارا رہتا ہے اور آنسو بہتے رہتے ہیں ہر خواب تمھارا پورا ہو اس رب کی منّت کرتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ مجھے ٹھنڈک راس نہیں آتی مجھے بارش سے خوف آتا ہے پر جس دن سے معلوم ہوا یہ موسم تم کو بھاتا ہے اب جب بھی ساون آتا ہے بارش میں بھیگتی رہتی ہوں قطروں میں تمہی کو ڈھونڈتی ہوں بوندوں سے تمھارا پوچھتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ وہ فیض ہو میر ہو غالب ہو وہ اصغر جگر ہو جالب ہو وہ سیف عدیم ہو فرحت ہو وہ ساجد ہو وہ امجد ہو سب میری فہم سے بالا ہے کیسا یہ کھیل نرالا ہے ان سب کو گھنٹوں پڑھتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟ سب کہتے ہیں اس دنیا کا ہر رنگ تمہی سے روشن ہے مرے عشق کے دعویدار ہیں سب سب مجھ کو دیوی کہتے ہیں پر مجھ کو ایسا لگتا ہے ہر رنگ تمہی پر جچتا ہے تم نا ہو تو بیرنگ ہوں میں بے رونق ہے تصویر مِری مِرے جذبوں کی سچائی ہو تم تم سے ہے جڑی تقدیر مِری جو خاک تمھیں چُھو جاتی ہے اس مٹی پر میں مرتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو؟
-
مجھے تم سے محبت ہے
تم کیسی محبت کرتے ہو (ایک ڈرامے کا ٹائٹل سونگ) تم جہاں بھی بیٹھ کے جاتے ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو میں ایسی محبت کرتا ہوں بے خواب سجے گلدانوں میں آنکھوں سے کونپل چنتا ہوں کوئی لمس اگر چھو جائے تو میں پہروں اس کو گنتا ہوں کچھ باتیں سنتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو تم جہاں بھی بیٹھ کر جاتے ہو جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہو میں وہیں پہ بیٹھا رہتا ہوں اس چیز کو چھوتا رہتا ہوں میں ایسی محبت کرتا ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو میں ایسی محبت کرتا ہوں
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
مجھے تم سے محبت ہے
تم جب بھی گھر پر آتے ہو اور سب سے باتیں کرتے ہو میں اوٹ سے پردے کی جاناں بس تم کو دیکھتی رہتی ہوں اک تم کو دیکھنے کی خاطر میں کتنی پاگل رہتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو۔ جب دروازے پر دستک ہو یا گھنٹی فون کی بجتی ہو میں چھوڑ کے سب کچھ بھاگتی ہوں اور تم کو جو نہ پاؤں تو جی بھر کے رونے لگتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو محفل میں کہیں بھی جانا ہو کپڑوں کا سلیکشن کرنا ہو رنگ بہت سے سامنے بکھرے ہوں اس رنگ پہ دل آ جاتا ہے جو رنگ کہ تم کو بھاتا ہے میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو روزانہ اپنے کالج میں کسی اور کا لیکچر سنتے ہوئے یا بریک کے خالی گھنٹے میں سکھیوں سے باتیں کرتے ہوئے میرے دھیاں میں تم آ جاتے ہو میں، میں نہیں رہتی پھر جاناں میں تم میں گم ہو جاتی ہوں بس خوابوں میں کھو جاتی ہوں ان آنکھوں میں کھو جاتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو جس چہرے پر بھی نگاہ پڑے ہر چہرہ تم سا لگتا ہے وہ شام ہو یا دھوپ سمے سب کتنا بھلا سا لگتا ہے جانے یہ کیسا نشہ ہے گرمی کا تپتا موسم بھی جاڑے کا مہینہ لگتا ہے میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو تم جب بھی سامنے آتے ہو میں تم سے سننا چاہتی ہوں کاش کبھی تم یہ کہ دو تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو تم بھی مجھ کو بہت ہی چاہتے ہو لیکن جانے تم کیوں چپ ہو یہ سوچ کے دل گھبراتا ہے ایسا تو نہیں ہے نا جاناں سب میری نظر کا دھوکہ ہے تم نے مجھ کو چاہا ہی نہ ہو کوءی اور ہی دل میں رہتا ہو میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں میں تم سے کہنا چاہتی ہوں لیکن کچھ پوچھ نہیں سکتی مانا کہ محبت ہے پھر بھی لب اپنے کھول نہیں سکتی میں لڑکی ہوں کیسے کہ دوں میں کیسی محبت کرتی ہوں میں تم سے یہ کیسے پوچھوں تم کیسی محبت کرتے ہو چپ چاپ سی میں ہو جاتی ہوں پھر دل میں اپنے کہتی ہوں میں ایسی محبت کرتی ہوں تم کیسی محبت کرتے ہو (خلیل اللہ فاروقی)
-
ذکر اُس پری وش کا
بالکل درست ایک اور ہابی بھی ہے روز بیوی سے عزت افزائی کروانا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- ﺍﻋﻼﻥ
-
٭٭٭٭اے نئے سال٭٭٭٭
نتیجہ پھر وہی ہوگا، سنا ہے چال بدلے گا پرندے پھر وہی ہوں گے، شکاری جال بدلے گا بدلنے ہیں تو دن بدلو، بدلتے ہو تو ہندسے ہی مہینے پھر وہی ہوں گے، بیچارہ سال بدلے گا چلوں ہم مان لیتے ہیں، یہ جیون سالہا سالوں کا بتاؤ کتنے سالوں میں، ہمارا حال بدلے گا وہی حاکم وہی قاتل وہی غاصب وہی غربت نہ جانے کتنے سالوں میں ہمارا حال بدلے گا سنا ہے سال بدلے گا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
10 foods all men should eat
یہ اردو کا فورم ہے بھائی --- اردو میں لکھا شئر کیا کرو
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
تم اگر مجھ کو دینے کا وعدہ کرو ، میں یوں ہی رات دن پھر بجاتا رہوں تم یوں ہی اپنی ٹانگیں اٹھا کے رکھو ، تو میں دھکوں پہ دھکے لگاتا رہوں کتنے ممے جہاں بھر میں ہوں گے مگر ، تیرے مموں کے جیسا نظارہ نہیں ان کو پکڑا میرے ہاتھ کہنے لگے ، ایسے مموں سے ہٹنا گوارا نہیں تم اگر مجھ سے ممے چوساتی رہو ، تو میں دانتوں سے نپلیں چباتا رہوں تم اگر مجھ کو دینے کا وعدہ کرو ۔۔۔۔۔
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
عالم فرقت میں شہوت تھی اگر طاری تو کیا ہم نے لی اک اور کی تیری نہیں ماری تو کیا یہ بھی اک نخرا ہے لوڑوں کو جلانے کے لیے ہر مہینے چوت کو ہوتی ہے بیماری تو کیا ہاتھ بھی پڑجائے گر غلماں کا کیر شیخ پر بس یونہی جنبش سی کچھ ہوتی ہے ہشیاری تو کیا خلد میں غلمان چلمیں ہی بھریں گے شیخ کی ہوگی واں نابالغوں کے ساتھ بدکاری تو کیا
-
وائی فائی سے تیز ٹیکنالوجی بہت جلد
اگرچہ وائی فائی ٹیکنالوجی کی سپیڈ بڑھ جائے گی - لیکن اگر انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کا کہیں مسئلہ ہوتا ہے تو اس کی وجہ وائی فائی ہرگز نہیں ہے وائی فائی کا سکوپ تو لوکل نیٹ ورک لنک تک ہے اور یہ محض ایک لوکل وائرلیس نیٹ ورک بناتی ہے جس کی سپیڈ سپیڈ 10 میگا بٹ پر سیکنڈ سے 54 میگا بٹ پر سیکینڈ تک ہوتی ہے سپیڈ کا مسئلہ تو انٹر نیٹ کی سپیڈ سے ہوتا ہے جس کا تعلق براڈ بینڈ وائرلیس، ڈی ایس ایل یا جی 4 سے ہے اب اگر وائی فائی کو مزید تیز رفتا ربھی کردیا جائے اور انٹرنیٹ براڈ بینڈ میں سپیڈ نہ موجود ہو تو وائی فائی کی سپیڈ کا بھی کیا فائدہ
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
جان کھوتا ہوں تصور میں تمہارے اپنی میں وہ انساں ہوں کہ جو آپ ہی مارے اپنی دیر سے بیٹھے ہیں پتلون اتارے اپنی دوستی ہے تو دکھا کھول کے پیارے اپنی چوت لینے کی تمنا میں تو کیا دیتے ہیں گانڈ مروانے کو پھر تے ہیں کنوارے اپنی وہ تو روگی تھا وہ کیوں غیر سے مروا بیٹھی نیم کے پانی سے اب چوت کو دھارے اپنی
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
-
گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
کوئی دن میں گل امید ہے کھلنے والا لنڈ کو صبر کا انعام ہے ملنے والا لنڈ کہتا ہے کہ در سے نہیں ہلنے والا چوت کہتی ہے کہ رستہ نہیں ملنے والا جان من پھر ہے تری جان پہ پلنے والا یہ جو لوڑا ہے مرا اونگھتے ٹھلنے والا شربت وصل انڈیلا تھا کہ پھر لوٹ دیا آگیا اس کا کوئی اور ہی ملنے والا چوت تو اپنی جگہ پر ہی گڑی بیٹھی تھی بانی شر ہے وہ پاجامے میں ہلنے والا تو مجھے بھول گئی ہو تو پتہ بتلا دوں مرا لوڑا ہے تری چوت کا ملنے والا میں نے خودچوت کو انگلی سے خبردار کیا کہ ہے لوڑا تری خلوت میں مخلنے والا اصطلاحیں تو نئی دیکھ کہ کہتی ہے وہ چوت آگیا پھر وہ مری جاں کا گسلنے والا پھر اٹھاتے ہیں وہ لوڑے کے چلن کی تمہید بھئی تازہ کوئی الزام ہے دلنے والا اس کو کم کم ہی برتیے کس مشروع سہی یہ وہ جامہ ہے کہ پھٹ کر نہیں سلنے والا آج ہی دل کے سب ارمان نکال اے کس تو کل تو اک اور ہی ارمان ہے ملنے والا