Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Young Heart

Darmat Members
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by Young Heart

  1. نہیں خلوت ہی پر راضی وہ پردے دار ہوچکتی بس اک دھکے میں دیوار حیا مسمار ہوچکتی کیا ہت پھیر لیکن وہ نہیں تیار ہوچکتی جو کوئی اور سی ہوتی تو کتنی بار ہوچکتی شب فرقت نے فرقت میں تری مجھ کو تھکا مارا کہ آلپٹی ہے مجھ سے اور نہیں اے یارہوچکتی وہ پاپڑمیں نے بیلے وہ شدائد میں نے جھیلے ہیں کہ اس نرغے میں غیر آتا تو پھٹ کر غار ہوچکتی پلے ہیں مارنے مرنے پہ لنڈاور چوت ازل ہی سے کوئی جانے نہیں کیوں ختم یہ تکرار ہوچکتی نہ رکھتی آس اگر تیرے نظارے کی اسے زندہ تو نرگس جو کہ اک مدت سے ہے بیمار ہوچکتی کھڑا کرنا تھا لوڑے کو نہیں ثالث بخیر ایسا زن و شوہر میں پھر تو جو بھی تھی تکرار ہوچکتی
  2. اس بت کی تصور میں بلا کر بھی ہے ماری یاں اس کی ہی خود اس سے چھپا کر بھی ہے ماری بندے کسی مہوش کو دلا کر بھی ہے ماری بیڑی کسی بندے کو پلا کر بھی ہے ماری گرمی ہے تو حمام میں جا کر بھی ہے ماری ساون ہے تو جھولے میں جھلا کر بھی ہے ماری جاناں کی تو ہرڈھب سے ہر انداز سے لی ہے دشمن کی تھکا کر بھی بھگا کر بھی ہے ماری چرخ ستم ایجاد نے کس طرز کو چھوڑا بہتوں کی تو سولی پہ چڑھا کر بھی ہے ماری ہوتی ہے گراں گانڈ کی قیمت کبھی بے ڈھب سچ کہہ دو کبھی تم نے مرا کر بھی ہے ماری دکھلائی بہت ہم نے غم دہر کی مقعد اور اس پہ کبھی لات جما کر بھی ہے ماری آتا ہی نہیں گانڈ کا مرنا اسے باور گو غیر کی دنیا کو دکھا کر بھی ہے ماری
  3. بالکل درست کہا آپ نے - لیکن یہ کاروباری مفادات، طاقت کا زعم اور برتری کا شوق جنگی جنون کا باعث بنتا ہے - اور جنگ کرنے کے لیے بہانے تو پھر بہت سے مل جاتے ہیں - جو لوگ برتری کا شوق رکھتے ہیں اور انہیں کاروباری مفادات سے غرض ہوتی ہے انہیں انسانیت، افلاس، بھوک، آگ و خون کی کوئی پروا نہیں ہوتی - پہلی دو عظیم جنگیں انہیں مقاصد کے لیے لڑی گئیں تھیں - اور ان سے انسانیت کو سوائے تباہی کے کچھ نہیں ملا بقول ساحر لدھیانوی اے شریف انسانو خون اپنا ہو یا پرایا ہو نسلِ آدم کا خون ہے آخر جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں امنِ عالم کا خون ہے آخر بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے زیست فاقوں سے تلملاتی ہے ٹینک آگے بڑھیں کہ پیچھے ہٹیں کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ زندگی میّتوں پہ روتی ہے جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی آگ اور خون آج بخشے گی بھوک اور احتیاج کل دے گی اس لئے اے شریف انسانو! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں شمع جلتی رہے تو بہتر ہے (2) برتری کے ثبوت کی خاطر خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے گھر کی تاریکیاں مٹانے کو گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں صرف میدانِ کشت وخوں ہی نہیں حاصلِ زندگی خِرد بھی ہے حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں فکر کی روشنی کو عام کریں امن کو جن سے تقویت پہنچے ایسی جنگوں کا اہتمام کریں جنگ، وحشت سے بربریّت سے امن، تہذیب و ارتقا کے لئے جنگ، مرگ آفریں سیاست سے امن، انسان کی بقا کے لئے جنگ، افلاس اور غلامی سے امن، بہتر نظام کی خاطر جنگ، بھٹکی ہوئی قیادت سے امن، بے بس عوام کی خاطر جنگ، سرمائے کے تسلّط سے امن، جمہور کی خوشی کے لئے جنگ، جنگوں کے فلسفے کے خلاف امن، پُر امن زندگی کے لئے (ساحر لدھیانوی)
  4. سیدھا کھڑا ہے جھانٹ پہ کشت حسیں پہ لنڈ دیکھو کہیں یہ سرو اگا ہے کہیں پہ لنڈ اس فرج خوش نہاد کی الفت کے ضمن میں رکھتا ہے آنکھ غیر کی کون مکیں پہ لنڈ جس دن سے سرخ برقع میں بڑھیا نظر پڑی اٹھتا نہیں مرا کسی پردہ نشیں پہ لنڈ یہ زعم ، یہ انا، یہ تمردیہ طنطنہ سیکھا نہیں ہے پانچ ہی دھرنا زمیں پہ لنڈ
  5. نقاب ان کے چہرے سے جب ہٹ گئی ہے سنا ہے رقیبوں کی پھٹ پھٹ گئی ہے مری ان کی میزان کیا پٹ گئی ہے عزیزوں کی تو ناک ہی کٹ گئی ہے نہیں ہے کچھ ایسی رقیبوں کی کثرت حسینوں کی تعداد ہی گھٹ گئی ہے وہ کس تھا کمر بند سے جس کا پردہ یہاں سے ابھی ہو کے چوپٹ گئی ہے اندھیرے میں ہت پھیریوں سے نہ جھجھکی اجالے میں دیکھا تو کیا کٹ گئی ہے لڑا لی ہے ہم نے اک آیا سے اٹ مٹ وہ آئی ہے جب ہو کے غٹ پٹ گئی ہے میں تھا اس کی بیٹی کی بیٹی پہ عاشق ابھی سامنے سے جو کھوسٹ گئی ہے
  6. آؤ کیوں بنتے ہو انجان یہی ہوتا ہے وصل کی شب تو مری جان یہی ہوتا ہے اے تری فرج رہے گردش ایام سے تنگ بددعاؤں کا بھی عنوان یہی ہوتا ہے پہلے ہوتے تھے کبھی وصل کے سودے چھپ کر آج کل تو سر میدان یہی ہوتا ہے خوب ہے، خوب رہیں لنڈ کی صحبت میں خراب دل میں فرجوں کے بھی ارمان یہی ہوتا ہے آب ہی آب لڑالیتی ہے منیا آنکھیں لنڈ پر اٹھتے ہیں طوفان یہی ہوتا ہے پیٹنے کے لیے دربان تلے رہتے ہیں خود ہی پھر ہٹتے ہیں دربان یہی ہوتا ہے
  7. ایدھی صاحب ایک عظیم انسان تھے ان کی خدمات تو کبھی بھلائی نہ جائیں گی انتہائی سادہ طبیعت اور شخصیت کے مالک تھے، عجز و انکساری کا پیکر اور ہر قسم کی نمود و نمائش سے پاک نامسائد حالات میں بھی کبھی سیاسی بیانات نہیں دیے حالانکہ کراچی میں ہی ان سے قربانی کی کھالیں چھیننے اور ایمبولنس سے مردے چھین کر دوسرے ایمبولینس میں ٹرانسفر کرنے کے واقعات بھی ہوئے - اسی وجہ غیر متنازع شخصیت تھے انسانیت کی خدمت بلا تفریق قوم، مذہب، فرقہ اور طبقہ کے کی جب کبھی ایدھی صاحب کا خیال آتا ہے تو ذہن میں ان کی شخصیت کے یہی پہلو آتے ہیں - انسانیت، خدمت خلق، ہمدردی، سادگی، عجزوانکساری، اچھائی، لاوارث بچوں، عورتوں، بزرگوں اور ذہنی مریضوں کے مسیحا آہ !!! کہ آج ایدھی صاحب ہم میں نہیں ہیں
  8. چھوڑیے کس کے عاشق و معشوق ہم ہی جلاق ہیں ہمیں مجلوق زار نالی نہ پوچھ مقعد کی کارتوسوں سے تنگ ہے بندوق گھر بلاتی ہے پیار کرتی ہے میرا لوڑا ہے فرج کا معشوق لنڈ میرا کلید قفل نشاط گانڈ اس کی نشاط کا صندوق دیکھ یہ اہتمام عیش و طرب رنڈیاں چد رہی ہیں سوق بسوق دیکھ تنظیم و اتحاد و یقیں لوگ تھامے کھڑے ہیں جوق بہ جوق بے الف تھے حواریان کرام جانے لوقا ہی نام تھا یا لوق
  9. ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم کرکے اک دوسرے سے عہد وفا آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
  10. ساحل ریت سمندر لہریں بستی جنگل صحرا دریا خوشبو بارش بادل موسم پھول دریچے سورج چاند اور ستارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے خواب کی باتیں یاد کے قصے سوچ کے پہلو درد کے آنسو چین کے نغمے اترتے وقت کے بہتے دھارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے روح کی آھٹ جسم کی جنبش خون کی حدت سانس کی لرزش آنکھ کا آنسو ہونٹ کی رنگت چاہت کے عنوان یہ سارے آج یہ سب کچھ نام تمہارے
  11. وہ کہتی ہے سنو جاناں محبت موم کا گھر ہے میں کہتا ہوں کہ جس دل میں ذرا بھی بدگمانی ہو وہاں کچھ اور ہو تو ہو محبت ہو نہیں سکتی وہ کہتی ہے سدا ایسے ہی کیا تم مجھ کو چاہو گے کہ میں اس میں کمی بالکل گوارا کر نہیں سکتی میں کہتا ہوں محبت کیا ہے یہ تم نے سکھایا ہے مجھے تم سے محبت کے سوا کچھ بھی نہیں آتا وہ کہتی ہے جدائی سے بہت ڈرتا ہے میرا دل کہ خود کو تم سے ہٹ کر دیکھنا ممکن نہیں ہے اب میں کہتا ہوں کہ یہی خدشے بہت مجھ کو ستاتے ہیں مگر سچ ہے محبت میں جدائی ساتھ چلتی ہے وہ کہتی ہے بتاؤ کیا میرے بن جی سکو گے تم میری یادیں، میری آنکھیں، میری باتیں بھلا دو گے میں کہتا ہوں کبھی اس بات پر سوچا نہیں میں نے اگر اک پل کو بھی سوچوں تو سانسیں رکنے لگتی ہیں وہ کہتی ہےتمہیں مجھ سے محبت اس قدر کیوں ہے کہ میں اک عام سی لڑکی ہوں تمہیں کیوں خاص لگتی ہوں میں کہتا ہوں کبھی خود کو میری آنکھوں سے تم دیکھو میری دیوانگی کیوں ہے یہ خود ہی جان جاؤ گی وہ کہتی ہے مجھے وارفتگی سے دیکھتے کیوں ہو کہ میں خود کو بہت ہی قیمتی محسوس کرتی ہوں میں کہتا ہوں متاع جاں بہت انمول ہوتی ہے تمہیں جب دیکھتا ہوں زندگی محسوس ہوتی ہے وہ کہتی ہے بتاؤ نا کسے کھونے سے ڈرتے ہو بتاؤ کون ہے وہ جسکو یہ موسم بلاتے ہیں میں کہتا ہوں یہ میری شاعری ہے آئینہ دل کا ذرا دیکھو بتاؤ کیا تمہیں اس میں نظر آیا وہ کہتی ہے کہ آتش جی بہت باتیں بناتے ہو مگر سچ ہے کہ یہ باتیں بہت ہی شاد رکھتی ہیں میں کہتا ہوں یہ سب باتیں، فسانے اک بہانہ ہیں کہ پل کچھ زندگانی کے تمہارے ساتھ کٹ جائیں پھر اس کے بعد خاموشی کا دلکش رقص ہوتا ہے یہ آنکھیں بولتی ہیں اور لب خاموش رہتے ہیں
  12. مجھے تم سے محبت ہے میں جب بھی اس سے کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟ میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ زمیں سے آسماں تک ہے فلک کی کہکشاں تک ہے میرے دل سے تیرے دل تک مکاں سے لا مکاں تک ہے وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!! میں کہتا ھوں یہ بہتی ھے لہو کی تیز حدت میں میرے جذبوں کی شدت میں تیرے امکاں کی حسرت میں میرے وجداں کی جدت میں وہ کہتی ہے نہیں کافی ابھی تک یہ میں کہتا ہوں ہوا کی سرسراہٹ ہے تیرے قدموں کی آھٹ ہے کسی شب کے کسی پل میں مجسم کھنکھناہٹ ہے وہ کہتی ہے یہ کیسے فیل (محسوس) ہوتی ھے؟؟ میں کہتا ہوں چمکتی دھوپ کی مانند بلوریں سوت کی مانند صبح کی شبنمی رت میں لہکتی کوک کی مانند وہ کہتی ہے مجھے بہکاوے دیتے ہو؟ مجھے سچ سچ بتاؤ نا مجھے تم چاہتے بھی ہو یا بس بہلاوے دیتے ہو؟ میں کہتا ہوں مجھے تم سے محبت ہے کہ جیسے پنچھی پر کھولے ہوا کے دوش پر جھولے کہ جیسے برف پگھلے اور جیسے موتیا پھولے وہ کہتی ھے مجھے الو بناتے ہو!! مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟ میں اس سے پوچھتا ہوں اب تمھیں مجھ سے محبت ہے؟ بتاؤ نا کہ، کتنی ہے وہ بازو کھول کے مجھ سے لپٹ کے جھوم جاتی ہے میری آنکھوں کو کر کے بند مجھ کو چوم جاتی ھے دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی دھیرے سے مسکراتی ھے میرے کانوں میں کہتی ھے فقط اتنی بس اتنی سی۔۔۔۔!!
  13. آنکھ چھپ چھپ کے لڑاتے ہیں ترے جوبن سے سر کو نہوڑائے جو بیٹھے ہیں حرامی پن سے ہے وہ کس کھیت کی مولی کہ جلوں میں اس سے غیر کا یار پہ دل ہے تو مرے بینگن سے احتیاط ایسی کہ سائے سے نہ سایا بھڑ جائے شوق وہ ہے کہ لپٹ کر ہی رہا بھنگن سے شکر کر فرج کہ تو صاحب اولاد ہوئی کوں کا مت چاہ برا بیر نہ رکھ سوکن سے
  14. تر وہاں پائی گئی ہے فرج جب ماری گئی گانڈ ہی اے وا بچاری تشنہ لب ماری گئی اس طرح سے اور اتنی روز و شب ماری گئی ہائے اس کافر کی رنگت، اس کی چھب ماری گئی مہر آخر وقت عند ..... ہی بخشا گیا فرج اول روز سے عند الطلب ماری گئی شور طبل وبوق میں سنتا ہوں لوڑوں کی فغاں شہر میں اک کس بڑی عالی نسب ماری گئی سانحات عبرت انگیزفلسطیں کچھ نہ پوچھ ہائے کیا کون عرب پیش عرب ماری گئی مدعی کی مار کر رکھ دی مزے میں ہم نے گانڈ اور اس ڈھب سے کہ سب حیراں ہیں کب ماری گئی
  15. غرض داؤ لوڑے نے ڈھب کے نہ کھیلے بھلا خود وہ کہتی کہ آ میری لے لے بڑھاپے میں مشکل سے ملتی ہیں چوتیں جوانی میں لگتے ہیں پیسے نہ ڈھیلے نمائش کے جنگل میں منگل کے منگل سنا ہے کہ لگتے ہیں پھدیوں کے میلے بہت اب کے چھائی ہے لوڑوں پہ مستی نہ نکلا کرو تم اکیلے ڈکیلے صنم شربت وصل کا نام سن کر نہ بولا کرو بول کڑوے کسیلے رقیبوں کی مارو حسینوں سے پہلے غرض عاشقی میں بھی ہیں کیا جھمیلے
  16. جھانٹ پھیلائے کیر بیٹھا ہے بوریے پر فقیر بیٹھا ہے پہلے سینے پہ شست باندھی ہے تب نشانے پہ تیر بیٹھا ہے لنڈ تنہا کھڑا ہے محفل میں ہر صغیر و کبیر بیٹھا ہے کیر زاہد ہے یا کوئی مردہ پیش منکر نکیر بیٹھا ہے حلقۂ پشم میں ہے خامۂ مست بیڑیوں میں اسیر بیٹھا ہے
  17. صبح دم ان کو سر بام مسلتے دیکھا گویا کشتی میں سے دریا کو نکلتے دیکھا
  18. میر حسن مرانے کو مرتا رہا مگر مخدوم نے مزے سے مرائی تمام رات
  19. روز کہتے ہو آداب آداب آدبایا تو قیامت ہوگی
  20. اب تولیے کی تم کو ضرورت نہیں رہی لوڑے سے چوت صاف کیے جارہا ہوں میں تا اتنی دیر میں ذرا کپڑے بدل سکو لوڑے کو زیر نیف کیے جارہا ہوں میں
  21. بہت زبردست شئیرنگ ہے - حقیقت میں انسان بہت ہی غلط فہمی کا شکار ہے نہ بس میں زندگی اس کے نہ قابو موت پر اس کا مگر انسان پھر بھی کب خدا ہونے سے ڈرتا ہے --------------------- یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
  22. بھائی بڑی مشکل سے آپ کی لکھی ہوئی بات سمجھ میں آتی ہے کئی جملے تو ٹھیک ہی نہیں ہیں خیر اتنا سب کچھ لکھنے کے بعد بھی آپ کا کہنا یہ ہے کہ ایک طلاق نامکمل ہوتی ہے توپھر تو یہ ایک لا حاصل سی بحث ہے --- کیونکہ میں نے اوپر بارہا ذکر کیا کہ اتنی بات پر سبھی متفق ہیں کہ ایک طلاق کافی ہے اور عدت پوری ہونے پر عورت دوبارہ نکاح کرسکتی ہے -- باقی آپ کی مرضی جو بھی مؤقف رکھیں اس تھڑیڈ کا موضوع چونکہ حلالہ اور دوبارہ نکاح ہے جو طلاق کے غلط طریق کار کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اس لیے میں نے اس میں نے متفقہ نقطۃ نظر پہلے اور پھر تین طلاقوں پر مؤقف کا اختلاف بعد میں رکھ دیا --- اپنی رائے دینے سے گریز کیا -- جسے جو پسند ہو بھائی - کچھ لوگ تو ان سب کے باوجود حلالہ کے جواز کی تلاش میں رہتے ہیں اس موضوع سے ہٹ کو کسی اور موضوع پر بات چیت سے میں گریز ہی کروں گا کیونکہ آپ تو اس موضوع کے ساتھ دوسرے متنازع موضوعات چھیڑ رہے ہیں جو حلالہ کے بارے میں نہیں ہیں جیسے اسلام میں عورت کو طلاق دینے کا حق ہے اور طلاق کے بعد حق مہر اور نان نفقہ وغیرہ وغیرہ -- یہ تو کچھ ہمارے فقہہ روشن خیالی و مغر ب پرستی کے پسندیدہ موضوعات ہیں- ان کا حلالے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے - اس لیے میں تو یہاں خاموش ہوں
  23. کوئی فرق نہیں پڑتا سہیل صاحب مؤقف مختلف ہوسکتا ہے - اسے ہم اکیڈیمک بحث مباحثے تک رکھیں میرا مؤقف یہ ہے کہ تمام ہی فقہوں کی بحث مجھے اختلاف سے زیادہ اکیڈیمک بحث لگی اور اکیڈیمک بحث میں رائے کا اختلاف تمام ہی قدیم و جدید علوم میں ہوتا ہے - اور سبھی کا مؤقف اپنی جگہ مضبوط دلائل کے ساتھ ہے خیر آپ کی اس بات سے مجھے مکمل اتفاق ہے جو عدالتوں اور کچہریوں میں طلاق کی غلط پریکٹس چل رہی ہے کہ ایک طلاق رجسٹر ہی نہیں ہوتی - مطلب یہ کہ عورت عدت کے بعد دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی جبکہ یہ تو تمام مسالک کا متفقہ مؤقف ہے کہ ایک طلاق کے بعد اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا گیا تو طلاق واقع ہو جائے گی اور عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے
  24. میرے خیال میں تو اس طرح کا کالم شادی سے پہلے دونوں لڑکی اور لڑکے کو پڑھوا دینا چاہیے - یہ کام مجھے نیٹ پر کہیں ملا --- بہتر لگا تو شئر کررہا ہوں جب میری شادی ہونے والی تھی تو اس وقت مجھے ایک دوست نے بتایا کہ چلو مفتی صاحب کے پاس جاکرتمھیں شادی کا مذاکرہ کرواتے ہیں۔اس وقت یہ بات مجھے عجیب سی لگی کہ شادی کا مذاکرہ ! یہ کیا بات ہوئی ؟ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ شادی کا مذاکرہ بہت اہم چیز ہے جس بندھن میں آپ داخل ہورہے ہیں اس کے معاملات پر کسی عالم دین کی تفصیلی گفتگو کو سننا اور شادی کے احکامات و ممنوعات کو سیکھنا بہت اہم ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جب نوجوان کی شادی کروائی جاتی ہے تواسے اِدھر اُدھر کی بہت سی اوٹ پٹانگ باتیں توبتادی جاتی ہیں۔ لیکن کسی جید عالمِ دین سے اس کوشادی کا مذاکرہ نہیں کروایا جاتا۔ شادی کرنا جتنا اہم ہے اتنا ہی اہم اس رشتے کوخوش اسلوبی کے ساتھ ختم کرنے کا طریقہ بھی ہے۔ یہ کالم لکھنے سے پہلے میں نے اپنے کئی ایک احباب سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا انہیں طلاق دینی آتی ہے توا نہوں نے جو جواب دیا وہ ورطہ حیرت میں ڈالنے والا تھا کہ انہیں طلاق دینے کا درست اور شرعی طریقہ نہیں آتا تھا۔ میری نظروں کے سامنے چشم وزدن میں ایسے کئی واقعات گھوم گئے کہ جہاں شوہر نے غصے میں اپنی بیوی کو طلاق تو دے دی اور پھر پچھتانے لگے کہ ہائے میں یہ کیا کر بیٹھا ! اورپھر لگے دوڑنے اور پوچھنے کہ کیا اس صورت حال سے نجات کا کوئی راستہ بھی ہے؟ پھر دو ہی راستے نظر آئے ایک تو یہ کہ انتہائی بے غیرت بن کر اپنی بیوی کو کچھ عرصے کے لیے کسی دوسرے مرد کے نکاح میں دے دیں تاکہ وہ اسے حلال کردے۔اسے عرفِ عام میں حلالہ کہتے ہیںاور دوسرا راستہ یہ ہے کہ اہلحدیث مسلک اختیار کریں اور ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک سمجھ کر اپنی بیوی کو بغیر حلالے کے گھر واپس لے آئیں۔ اس پر علماء کے مناظرے اور بحثیں اور دنگل ہوتے رہتے ہیں لیکن کوئی بھی طلاق دینے کا درست طریقہ نہیں سکھاتا۔لیکن جب کوئی غریب غلط طریقے پر طلاق دے بیٹھتا ہے تو اب دنگل شروع ہوجاتا ہے اور فتوی بازی کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ عام حالات میں عموما طلاق کے موضوع پر بات نہیں کی جاتی اور یہ کہہ کرکہ اللہ کو حلال چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے اس موضوع کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کو شادی کی بندھن میں باندھا جارہا ہو انہیں اس بندھن کو بہترین طریقے سے کھولنے کا طریقے نہیں سکھایا جاتا اور یہ کہہ کرکہ میاں ابھی شادی ہوئی نہیں اور تم طلاق کی باتیں کرتے ہو اس موضوع کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ لیکن بہتر تو یہ ہے کہ جس کسی کو نکاح کی گرہ میں باندھا جائے اسے بھلے طریقے سے یہ گرہ کھولنی بھی سکھادی جائے تو بہت سے خاندان بعد میں بڑی مصیبتوں سے بچ جائیں گے۔یہ بھی دین کی ہی ایک بات ہے شریعت کا حصہ ہے اسے لازماً سیکھ لیا جانا چاہیے۔ جب طلاق دینے کا درست طریقہ معلو م نہیں ہوتا تو حلالے کے عمل کا سہارا لیکر خاندان بچایا جاتا ہے۔ اس مکروہ عمل کے پروان چڑھانے میں نادانستہ ان لوگوں کا بھی قصور ہے جو علمِ دین کے حقیقی وارث ہیں کہ بہت کم ہی عوامی اجتماعات میں جمعہ کے خطبوںمیں اور پبلک مقامات پر علماء کو طلاق دینے کا درست طریقہ سکھاتے ہوئے دیکھا گیا ہے وہ بحث کریں گے تو صرف تین طلاق دینے کے اختلافی موضوع پر کہ یہ طلاق ہوگئی یا نہیں ہوئی ۔ البتہ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ طلاق دینے کا درست طریقہ کیا ہے تاکہ تین طلاق کا مسئلہ جنم ہی نہ لے۔اور حلالے جیسے عمل کا سہارا نہ لینا پڑے ۔حلالہ کروانا ایک ایسی قبیح رسم اور بے غیرتی کا عمل ہے کہ جس کے تصور سے ہی ایک شریف آدمی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ حلالہ کروانے والے پر اللہ کے نبی ؐ نے لعنت فرمائی ہے انہیں ملعون قرار دیاہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں نے حلالہ کے مراکز کھول رکھے ہیں جہاں انہوں نے اس کام کے لیے سانڈ بھی پال رکھے ہیں اوراس لعنتی کام کے پیسے بھی لیتے ہیں۔کہنے کو تووہ مولوی صاحبان یا علماء کرام کہلاتے ہیں لیکن دراصل وہ طبقہ علماء کے نام پر دھبہ ہیںاوراس طبقے کی کالی بھیڑیں ہیں۔ طلاق دینے کے تین طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ بیوی ایام سے فارغ ہو تو اس سے تعلق قائم کئے بغیر ایک طلاق دے، اور پھر اس سے تعلق قائم نہ کرے، یہاں تک کہ اس کی عدّت گزر جائے،اس طرح عدت گزرنے کے ساتھ ہی نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اس دوران طلاق کی عدت تین حیض ہے یعنی ایک طلاق دینے کے بعد تین حیض آنے پر نکاح ٹوٹ جائے گا۔ فائدہ اس طریقے کا یہ ہے کہ اس طرح کی طلاق دینے سے خوب سوچنے اور اپنے معاملے پر بار بار غور کرنے کا بہرپور موقع ملتا ہے۔اوراس طرح عدت گزرنے پر جب نکا ح ٹوٹ جائے گا تو میاں بیوی اگر چاہیں گے تو دوبارہ حلالہ کروائے بغیر بھی نکاح کرسکیں گے اورحلالے کی ذلت سے نجات مل جائے گی۔ دُوسرا طریقہ یہ ہے کہ الگ الگ تین طہروں میں تین طلاقیں دے، یہ صورت زیادہ بہتر نہیں، اور بغیر شرعی حلالہ کے آئندہ نکاح نہیں ہوسکے گا۔ (طہر کہتے ہیں پاکی کی حالت کو یعنی جب بیوی ایّام سے نہ ہو) تیسری صورت طلاقِ بدعت کی ہے، جس کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً یہ کہ بیوی کو ماہواری کی حالت میں طلاق دے یا ایسے طہر میں طلاق دے جس میں صحبت کرچکا ہو، یا ایک ہی لفظ سے، یا ایک ہی مجلس میں، یا ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے ڈالے، یہ طلاقِ بدعت کہلاتی ہے۔ اس کا حکم احناف کے نزدیک یہ ہے کہ اس طریقے سے طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے، مگر طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگر ایک دی تو ایک واقع ہوئی، اگر دو طلاقیں دیں تو دو واقع ہوئیں، اور اگر اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو تینوں واقع ہوگئیں، خواہ ایک لفظ میں دی ہو، یا ایک مجلس میں، یا ایک طہر میں۔ شرعی حلالہ کسے کہتے ہیں؟ شرعی حلالہ کا مطلب ہے کہ نکاح ٹوٹنے کے بعد عورت کسی دوسرے مرد سے عام رواج کے مطابق نکاح کرلے اور پھر وہ نکاح بھی کسی وجہ سے ٹوٹ جائے یعنی وہ شوہر اسے اپنی آزاد مرضی سے طلاق دے دے یا بیوی نباہ نہ ہوسکنے کے وجہ سے خلع لے لے یا شوہر فوت ہوجائے اور عورت بیوہ ہوجائے۔ یا شوہر مفقود الخبر ہوجائے (یعنی گم ہوجائے) اور عدالت اس نکاح کو توڑ دے۔تو پھر وہ عورت اپنے پہلے شوہر پر دوبارہ حلال ہوجائے گی یہ تو ہے شرعی حلالہ۔کس حلالے پر لعنت کی گئی ہے؟ اگرکوئی مرداپنی بیوی کوتین طلاقیں دینے کے بعد پھر دوبارہ اس سے نکاح کرنے کا خواہاں ہو اور اس امر کے لیے وہ پہلے سے طے شدہ پلان کے مطابق اپنی اس مطلقہ عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے اس شرط پر کروائے کہ وہ مرد اس عورت سے نکاح کرنے کے فوراً بعد پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق طلاق دے دے گاتو یہ وہ حلالہ ہے جس پر نبی اکرم ؐ لعنت فرمائی۔ جب کوئی شخص طلاق بدعت کے طریقے پر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے تو یہاں سے ایک علمی اختلاف اور بحث کا بھی آغاز ہوتا ہے ایک طبقے کے مطابق ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوںگی اور ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔جبکہ دوسرا طبقہ یہ کہتا ہے کہ یہ طریقہ درست تو نہیں ہے کہ ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی جائیں لیکن اگر کوئی اس طریقے پر تین طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور اسی وقت نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور اب یہ میاں بیوی بغیر شرعی حلالے کے دوبارہ نکاح نہیں کرسکتے ۔ اور یہیں سے حلالہ کروانے کے مکروہ کاروبار کا بھی دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس بحث کا آغاز تب ہوتا ہے جب طلاق دینے کے لیے تیسرا طریقہ اختیار کیا جائے حضرت عمر اپنے دور میں اس طریقے پر طلاق دینے والے کو کوڑے لگایا کرتے تھے۔لیکن اب اسے کوئی کچھ بھی نہیں کہتا۔ ہمارے ملک میں جب سے عائلی قوانین نافذ ہوئے ہیں اس دور سے اب تک یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب تک خاوند اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق نہ دے اس وقت تک طلاق کو موئثر نہیں سمجھا جاتا، یعنی ایک اور دو طلاق کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔ جب بھی کوئی شخص طلاق دیتا ہے یا یونین کونسل کی طرف سے طلاق دِلوائی جاتی ہے تو تین طلاقیں دی جاتی ہیں اور تحریر میں بھی تین ہی لکھی جاتی ہیں، ایک ہی مرتبہ تین طلاق دینا بُرا ہے، اس سے میاں بیوی کا رشتہ یکسر ختم ہوجاتا ہے، رُجوع اور مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی، اور بغیر حلالہ شرعی کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ اگر طلاق دینا چاہے تو بیوی کے اَیام سے فارغ ہونے کے بعد اس کے قریب نہ جائے اور اسے ایک رجعی طلاق دے دے، اس صورت میں جب تک عورت عدّت سے فارغ نہیں ہوجاتی، تب تک طلاق موئثر نہیں ہوگی، بلکہ نکاح بدستور قائم رہے گا، اور عدّت کے اندر شوہر کو رُجوع کرنے کا حق ہوگا، اگر شوہر نے عدّت کے اندر رُجوع نہ کیا تو عدّت کے ختم ہوتے ہی طلاق موئثر ہوجائے گی اور نکاح ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر دونوں کبھی مصالحت کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح ہوسکے گا۔یادرہے کہ عدت کے دوران بیوی شوہر کے گھر میں ہی رہے گی اور شوہر اسے گھر سے نہیں نکالے گا اور اس دوران اگر اس کے ساتھ تعلق قائم کرلے گا تو طلاق ختم ہوجائے گی۔اور یہ کہ خاوند کا حق ہے کہ وہ ایک طلاق دینے کے بعد عدت کے اندر اندر جب چاہے رجوع کرلے اس میں شوہر کی مرضی چلے گی عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ شوہر کو رجوع کرنے سے روکے اور نہ ہی عورت کے کسی عزیز رشتہ دار کا حق ہے کہ وہ شوہر کو رجوع کرنے سے روکے ہاں البتہ اس انداز سے طلاق واقع ہوجانے کے بعد دوبارہ نکاح میں عورت اور مرد دونوں کی مرضی چلے گی یعنی اگر عورت نہیں چاہے گی تو یہ نکاح دوبارہ نہ ہوسکے گا۔اور قرآن مجید میں اس بات کی صراحت بھی آتی ہے کہ عورت کے عزیز رشتہ دار ان دونوں کو دوبارہ نکاح کرنے سے نہ روکیں۔ بیوی کو اگر طلاق دینی ہو تو زبانی کیسے دی جاتی ہے؟ اور اگر لکھ کر دینی ہو تو کیسے دی جاتی ہے؟ علاوہ ازیں طلاق کے وقت کتنی رقم دینی پڑتی ہے؟ طلاق خواہ زبانی دے یا تحریری طور پر، اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طلاق دے دے اور پھر اس سے رُجوع نہ کرے، یہاں تک کہ اس کی عدّت گزر جائے۔ مطلقہ عورت سے اگر خلوَت ہوچکی ہو تو اس کو اس کا پورامہر ادا کردینا ضروری ہے، اور اگر خلوَت نہیں ہوئی تو آدھا مہر دینا لازم ہے۔البتہ قرآن مجید میں آتا ہے کہ اگر مرد سارا مہر ادا کردے تو یہ افضل عمل ہے۔اور طلاق دیتے ہوئے مرد کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ جو چیزیں وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہو وہ واپس لے ، زیور کپڑے اور جو بھی سامان وہ بیوی کو دے چکا ہے وہ اب اس کی ملکیت ہے طلاق کے وقت وہ اس سے یہ سامان لینے کا روادار نہیں ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.