Everything posted by Young Heart
-
سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
کرکٹرز کی سیلفیاں شاہد آفریدی اور احمد شہزاد ؎- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات پورے خطے میں برقی مواصلات استعمال کرنے میں پاکستان سب سے آگے ہے اور اس کے علاوہ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ سستے ترین داموں دستیاب ہے (تھری جی، فور جی کے نرخ 5 ڈالر فی 10 گیگا بائٹ تک گر چکے ہیں)۔ پاکستان میں 4 کروڑ اسمارٹ فون صارفین میں سے اکثریت انٹرنیٹ کا استعمال کرتی ہے۔ ایک طرف تو یہ اچھی بات ہے مگر دوسری جانب ہمارے درمیان موجود غلط لوگوں کو تیز ترین انٹرنیٹ تک آسان رسائی بھی حاصل ہے، جس سے وہ اپنی کارروائیاں آسانی سے اور بلا خوف و خطر کر سکتے ہیں۔ اور ہمیشہ کی طرح خواتین ہی ان کارروائیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔ پہلے کم معاشرتی پابندیاں تھیں کہ اب پاکستانی خواتین کے لیے آن لائن دنیا بھی ایک علاقہ ممنوعہ بنتی جا رہی ہے؟ ویسے کچھ حد تک تو یہ بن بھی چکی ہے۔ غلط لوگوں کا طریقہء واردات بہت سادہ ہوتا ہے۔ وہ کئی ناموں سے آئی ڈیز بناتے ہیں جس سے وہ خواتین کی ذاتی معلومات اکٹھی کر سکیں، تاکہ انہیں انٹرنیٹ پر اور حقیقی زندگی میں ہراساں کیا جا سکے۔ کالے بازاروں کے ذریعے سستے سوفٹ ویئر اور ہارڈویئر تک بڑھتی ہوئی رسائی کسی بھی شخص کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے موبائل یا کمپیوٹر ہیک کرنا آسان بناتی ہے۔ سات اقدام جو آپ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ یہاں پر ان سات سب سے مؤثر اقدامات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ایک انٹرنیٹ صارف کو استعمال کرنے چاہیئں تاکہ 1: ذاتی معلومات کے ذریعے بلیک میلنگ سے بچا جا سکے۔ 2: اگر انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جا رہا ہو تو مناسب اقدامات کر سکیں۔ 1: مضبوط پاس ورڈ منتخب کریں اور انہیں باقاعدگی سے تبدیل کریں پاس ورڈز کی مضبوطی اہمیت رکھتی ہے، اسے کبھی نظرانداز نہ کریں۔ اس کے علاوہ اپنے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر دوہری ویریفکیشن آن کر دیں (فیس بک، جی میل اور ٹوئٹر پر یہ فیچر موجود ہے)۔ یہ ایک اہم حفاظتی اقدام ہے اور اگر کسی ہیکر کو آپ کا پاس ورڈ مل بھی گیا، تب بھی وہ آپ کا اکاؤنٹ نہیں کھول سکے گا کیونکہ پاس ورڈ ڈالنے پر ایک حفاظتی کوڈ آپ کے موبائل پر بھیجا جائے گا جو ہیکر کو معلوم نہیں ہوگا۔ جیسے ہی آپ کو محسوس ہو کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی نے استعمال کیا ہے، فوراً اپنے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کر دیں، نہ کہ صرف ایک کے۔ ورنہ کسی ہیکر کے لیے ایک پاس ورڈ معلوم ہونے کی صورت میں دوسرے اکاؤنٹس کے پاس ورڈ کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔ آپ اسے تمام اکاؤنٹس کے پاس ورڈ ایک دوسرے سے مختلف رکھ کر بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔ 2: فوراً حکام کو آگاہ کریں ایک بار جب آپ پاس ورڈ تبدیل کر چکیں، تو اپنے اکاؤنٹ کے ہیک ہونے کی اطلاع متعلقہ ویب سائٹ کو دیں۔ اگر آپ اپنے اکاؤنٹ کا کنٹرول واپس حاصل کرنے میں ناکام ہیں، تو یہ اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ تمام بڑی ویب سائٹس عام طور پر فوراً جواب دیتی ہیں۔ 3: اپنے خاندان اور دوستوں کو آگاہ کریں رپورٹ کرنے کے بعد اس ویب سائٹ کو آپ سے رابطہ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس وقت تک آپ اپنے دوستوں اور گھر والوں سے رابطہ کریں اور انہیں اس کی اطلاع دیں، تاکہ وہ آپ کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے کوئی رابطہ نہ کریں۔ اپنے گھر والوں، والدین اور سرپرستوں کو آگاہ کرنا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اگر آپ محسوس کرتے ہوں کہ بعد میں معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ چیزیں غلط موڑ لیں، اپنے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لینا چاہیے۔ 4: بلیک میلرز کے مطالبات نہ مانیں اگر کوئی شخص ہراساں کرنے کے بعد بلیک میلنگ پر اتر آئے، اور آپ کی ذاتی معلومات ڈیلیٹ کرنے کے بدلے آپ سے رقم کا تقاضہ کرے، تو اس کے مطالبات تسلیم نہ کریں۔ اس کے آگے مت جھکیں، کیونکہ اس بات کا کافی امکان ہے کہ وہ آپ کو ایک بار پھر بلیک میل کرنے کی کوشش کرے گا اور آپ کبھی بھی اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ آپ سے رقم لے کر وہ آپ کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرے گا بھی یا نہیں۔ 5: ہراساں کیے جانے کی اطلاع ایف آئی اے کو دیں — وہ انتہائی فعال ہیں اگر آپ کو کوئی انٹرنیٹ پر ہراساں یا بلیک میل کر رہا ہو، تو وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائمکو اطلاع دیں۔ آپ کو انہیں اپنی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ NR3C واضح وجوہات کی بناء پر گمنام شکایتوں پر کارروائی نہیں کرتا۔ مجرم کے خلاف باقاعدہ درخواست کا اندراج انتہائی ضروری ہے۔ ایف آئی اے کا یہ NR3C ڈپارٹمنٹ بہت فعال ہے اور سائبر کرائمز کی شکایتوں پر فوری کارروائی کرتا ہے، اور آپ کی مدد کے لیے سب سے کارگر ادارہ یہی ثابت ہوگا۔ [ایف آئی اے کی ہیلپ لائن: 9911] 5.1: اگر آپ بچے ہیں، تو آپ اپنے سرپرست سے کہہ کر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ اور اگر آپ اپنے گھر والوں کو بیچ میں نہیں لانا چاہتے، تو اپنے دوستوں یا اساتذہ سے کہیں کہ وہ اس سلسلے میں آپ کی مدد کریں۔ 5.2: یاد رکھیں کہ جرم کی اطلاع دینا نہ صرف مستقبل میں آپ کو مزید ہراساں کیے جانے سے بچائے گا، بلکہ یہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ دوسرے بھی اس تلخ تجربے سے نہ گزریں جس سے آپ گزرے ہیں۔ 5.3: آپ سائبر کرائم کی اطلاع یا تو ان کا آن لائن فارم پر کر کے دے سکتے ہیں، یا تمام ضروری معلومات بمعہ ثبوت (بلیک میلر کے پیغامات کے اسکرین شاٹس) اس ای میل ایڈریس پر بھیج سکتے ہیں: helpdesk@nr3c.gov.pk 5.4: یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ دھمکی آمیز فون کالز NR3C کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے آپ کو اپنے قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروانی ہوگی۔ 6: اگر آپ کا کوئی دوست شکار ہے، تو اس کی مدد کریں بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والوں کے قریبی لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے شخص کی مدد کریں، کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے تکلیف دہ مرحلے کے دوران اپنے گھر سے مدد نہیں ملتی۔ متاثرہ شخص کے لیے: اگر آپ بلیک میلنگ کے بارے میں اپنے گھر والوں کو اعتماد میں نہیں لے سکتے، تو اپنے دوستوں یا کسی بھی قریبی شخص سے رابطہ کریں۔ آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ملے گا جو آپ کی درست رہنمائی کرے گا اور آپ کو مدد فراہم کرے گا۔ 7: کوشش کریں کہ مجرم کا اتا پتہ معلوم ہو سکے گھر والوں اور دوستوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ متاثرہ شخص ایسے کسی بھی یونیورسٹی، کالج، دفتر یا کسی اور ادارے کی مدد حاصل کر سکے، جہاں سے مجرم کا تعلق ہونے کا شبہ ہے۔ کیونکہ متاثرہ شخص ایسی صورتحال میں عام طور پر خوفزدہ ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دوست اور گھر والے قدم بڑھائیں اور سرکاری اداروں اور ان اداروں کو اطلاع دیں جہاں ہیکر کام کرتا ہے، اگر معلوم ہو تو۔ اگر آپ کو مزید کسی رہنمائی کی ضرورت ہو، تو آپ کبھی بھی 'ہمارا انٹرنیٹ' نامی ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔ اس میں انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے سے نمٹنے کے لیے تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ ہمارا انٹرنیٹ ایک پاکستانی غیر سرکاری ادارے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستانی خواتین کو آن لائن بلیک میلنگ سے بچانا اور محفوظ انٹرنیٹ اور موبائل ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بہت کم خواتین انٹرنیٹ پر موجود ہیں، اور اس طرح کے معاملات رپورٹ ہونے پر امکان رہتا ہے کہ ان کے گھر والے ان کی انٹرنیٹ تک رسائی پر مزید پابندیاں عائد کر دیں گے۔ انٹرنیٹ تک رسائی خواتین کے لیے نہایت اہم ہے، نہ صرف پاکستان میں، بلکہ دنیا بھر میں، تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، اور تعلیمی اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس لیے اگر ہم آن لائن جرائم اور ہراساں کیے جانے یا بلیک میلنگ کو آغاز میں ہی ختم کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مضبوط بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
ملک میں خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارےایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملکی تاریخ میں پہلی بار سائبر کرائمز کے حوالے سے خصوصی سائبر کرائم الرٹ ایس ایم ایس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا ملک بھر میں باقاعدہ آغاز کل سے ہو گا۔ سائبر کرائم ایس ایم ایس الرٹ سروس کا افتتاح کل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اکبر خان ہوتی کریں گے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق سائبر کرائم کے ذریعے متاثرہ شخص ویب سائٹ یا متعلقہ ادارے کی مکمل معلومات ایک ایس ایم ایس کے ذریعے سائبر کرائم الرٹ سروس کے نمبر پرکرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سروس سے سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ اور دیگر جرائم کا جہاں خاتمہ ہوگا وہیں سائبر کرائم کے بڑے گروہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔- سائبر کرائم بل آخر ہے کس بلا کا نام۔۔۔؟
پاکستان میں سائبر کرائم بڑھنے لگے ہمارے یہاں اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ کوئی نئی ٹیکنالوجی آنے کے کیا کیا نقصانات ہوسکتے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ تھری جی ٹیکنالوجی کی پاکستان آمد کے حوالے سے بھی یہی صورت حال سامنے آئی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے پاکستان آنے پر بہت خوشیاں منائی گئیں، بہت شور ہوا، لیکن متعلقہ اداروں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ ٹیکنالوجی اپنے ساتھ کچھ خطرات بھی لارہی ہے، جن کا تیکنیکی بنیادوں پر سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ سو وہی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد پاکستان میں سائبر کرائم کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر میں تیزی سے بڑھتے سائبر کرائمز کی نوعیت مختلف قسم کی ہے، جن میں سے ایک بلیک میلنگ بھی ہے۔ منفی ذہنیت کے حامل افراد کی جانب سے وڈیوکالنگ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین سے بات چیت کرکے اس بات چیت کو ریکارڈ کرلیا جاتا ہے، پھر یا تو اس مکالمے کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کردیا جاتا ہے یا ایسا کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ اس گھناؤنے فعل کے حامل جرائم کے بڑھنے کے ساتھ تھری جی ٹیکنالوجی کی آمد کے بعد دھوکہ دہی کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت پورے ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا سولہ فی صد سے زاید ہے، جب پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والوں کی تعداد رواں سال کے ستمبر تک ایک کروڑ چون لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور ہر بارہ سیکنڈ بعد ایک نیا صارف فیس بک سے وابستہ ہورہا ہے۔ یہ مجموعی آبادی کا آٹھ فی صد بنتا ہے، جس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آن لائن سرگرمیاں کس تیزی سے فروغ پارہی ہیں اور پاکستانی ان سے وابستہ ہورہے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں سماجی کے ساتھ تجارتی اور مالی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ چناں چہ ہمارے ملک میں اسی رفتار سے سائبر کرائم کی تعداد اور رفتار بڑھ رہی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال مزید خراب ہوجائے گی، کیوں کہ موبائل فون صارفین کی بہت بڑی تعداد مختلف کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے تیز ترین تھری جی انٹرنیٹ پیکیجز حاصل کررہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے بعد اسمارٹ فونز کے ذریعے وڈیو بنانا اور اس کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپ لوڈ کرنا آسان اور سستا ہوگیا ہے۔ اس کے لیے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسی طرح تھری جی ٹیکنالوجی کے ذریعے وڈیوکالنگ بہت آسان ہوگئی ہے اور صارفین کی بہت بڑی تعداد ٹینگو، اسکائپ اور واٹس اپ کے ذریعے وڈیو کالنگ کی سہولت استعمال کررہی ہے، جب کہ مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد اس سہولت کے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور ان کے جرائم میں بلیک میلنگ سرفہرست ہے۔ مختلف ممالک میں فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر کسی کو بدنام کرنے یا بلیک میل کرنے پر ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری ایکشن لیا جاتا ہے اور اس جرم کے مرتکب افراد سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن پاکستان میں ایسی شکایات کو سردخانے کی نذر کردیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں اب تک ایسی کئی لڑکیاں اور خواتین خودکشی کرچکی ہیں جن کی نامناسب وڈیوز اور تصاویر فیس بک سمیت دیگر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر اپ لوڈ کردی گئی تھیں اور انھیں بدنام کیا جارہا تھا۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات تو طویل عرصے سے جاری ہیں لیکن تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ان میں تیزی آگئی ہے۔ تھری جی ٹیکنالوجی آنے سے پہلے سائبر کرائم کی وارداتیں کرنے والے افراد عمومی طور پر کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کا سہارا لیتے تھے، اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے کنکشن استعمال کرتے تھے۔ انھیں ان کے کمپیوٹر کی آئی پی اور انٹرنیٹ کنکشن کی رجسٹریشن کی مدد سے ٹریس کرلیا جاتا تھا، جب کہ موبائل سے اس نوعیت کی واردات کرنا بہت مشکل کام تھا، لیکن پاکستان میں تھری جی ٹیکنالوجی آنے کے بعد ہر موبائل کمپنی نے اپنے صارفین کو ان کی موبائل سِموں کے ذریعے تیزترین انٹرنیٹ سروس فراہم کرنی شروع کردی ہے، جس کی وجہ سے صارفین اپنے موبائل فون پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے علاوہ سماجی رابطوں کے دیگر نیٹ ورکس اسکائپ، ٹینگو، واٹس اپ اور وائبر وغیرہ آسانی سے چلاسکتے ہیں، بل کہ ان کے ذریعے وڈیو کالنگ بھی بہت آسان ہوگئی ہے۔ یہ آسانی جہاں عام صارفین کے لیے سہولت لائی ہے، وہیں مجرمانہ ذہنیت کے حامل افراد کے لیے بھی اس کی وجہ سے ان کا کام آسان ہوگیا ہے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بلیک میلنگ اور سائبر کرائم کی دیگر وارداتوں کے انسداد کے لیے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کیے جارہے۔ حکومت کی جانب سے موبائل کمپنیوں کو تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی میں شرکت کی دعوت دی گئی تو یہ نہیں سوچا گیا کہ عوام کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت دینے کے ساتھ ہی اس کے منفی استعمال کو روکنے کے لیے کوئی نظام وضع کیا جانا چاہیے، اس بے پرواہی کی وجہ سے آج کتنی ہی زندگیاں متاثر ہورہی ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ سائبر کرائم کی وارداتوں پر کام کرنے والے ایک افسر کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ موبائل فون کی غیرقانونی سموں کا پھیلاؤ ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے جرم کرنے والا شخص اگر اپنے نام کی رجسٹرڈ سِم کے ذریعے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا مشکل کام نہیں، لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے نام کی سم یا غیرقانونی طور پر حاصل کی گئی سم پر تھری جی ٹیکنالوجی حاصل کرکے کوئی مجرمانہ حرکت کرتا ہے تو اس کا سراغ لگانا بہت مشکل ہے۔ اگر حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس صورت حال پر توجہ نہ دی تو ملک میں سائبر کرائم کی وارداتیں خوف ناک حد تک بڑھ جائیں گی۔ دوسری طرف اس حوالے سے خواتین کو بھی پوری طرح محتاط رہنا چاہیے اور نوجوان لڑکیوں کے والدین کو بھی اس حوالے سے پوری طرح چوکنّا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہماری اس تحریر کا مقصد یہی ہے کہ ایک طرف حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں کی اس خوف ناک صورت حال کی طرف متوجہ کیا جائے اور دوسری طرف لڑکیوں اور خواتین کو اس خطرے سے آگاہ کیا جائے۔- گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
احسن اقبال اور اسحق ڈار- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
شہباز شریف- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
عمران خان- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
بلاول- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
ہیلری کلنٹن- سیلفی - چند دلچسپ حقائق
نریندر مودیNavigation
Search
Configure browser push notifications
Chrome (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions → Notifications.
- Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Select Site settings.
- Find Notifications and adjust your preference.
Safari (iOS 16.4+)
- Ensure the site is installed via Add to Home Screen.
- Open Settings App → Notifications.
- Find your app name and adjust your preference.
Safari (macOS)
- Go to Safari → Preferences.
- Click the Websites tab.
- Select Notifications in the sidebar.
- Find this website and adjust your preference.
Edge (Android)
- Tap the lock icon next to the address bar.
- Tap Permissions.
- Find Notifications and adjust your preference.
Edge (Desktop)
- Click the padlock icon in the address bar.
- Click Permissions for this site.
- Find Notifications and adjust your preference.
Firefox (Android)
- Go to Settings → Site permissions.
- Tap Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
Firefox (Desktop)
- Open Firefox Settings.
- Search for Notifications.
- Find this site in the list and adjust your preference.
- سیلفی - چند دلچسپ حقائق