Jump to content
URDU FUN CLUB

zainkan

Silent Members
  • Content Count

    187
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    1

zainkan last won the day on August 28 2017

zainkan had the most liked content!

Community Reputation

11

1 Follower

About zainkan

  • Rank
    Senior Member

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. q to acha legta ha waqt mila to sochain gy tuj ma kia kia dekha ha waqt mila to sochain gy sara sher shnasai ka davedar to he lakin kon hamara apna ha waqt mila to sochain gy or ham ny us ko likha tha kuch milany ki tadber kro us ny likh baja he waqt mila to sochain gy vo mosam khusbo,bady saba chand shafq or staro ma kon tmhary jasa ha waqt mila to sochain gy ya to apny dil ki mano ya pher dunya walo ki maswara us ka acha ha waqt mila to sochain gay q to acha legta ha waqt mila to sochain gy
  2. ZindagiKis nay kaha k Mohabbat ka naam judai hai Main kehty hon Main nay Manzil pay hai Mana is main Ruswai hai phir bhi Main nay Manzil Pay hai Rastay Mushkil Zarooor thay Chahnay Walay bhi Door thay Dareecha Mohhbat ka tha khula Meri Chahat ka Sila mujhko mila Main nay Banaya apna Gharonda Ass say Sulag rahay thay phir bhi Pyaas say Na ker waqt barbaad sun lay aey yaar Mohabbat nay Manzil PAy hay na Soch is main Ruswai hai Haasil Aaj mujhko Mera Pyaar hai Kyun na guroor keron meray paas mera yaar hai Mohabbat Manzil paygee Mohabat jeet hi jaygee......
  3. Welcome to UFC dear........
  4. Not bad.......... keep it up dear..........
  5. Great word.... waiting for update.... dont loose your grift from story...... Thanks for sharing...
  6. Good suggetions........ Good work dear.........
  7. Welcome dear............
  8. سکندرِاعظم دنیا فتح کرنے کے لیے جگہ جگہ پھر رہا تھا ۔ اس نے ایک بہت بڑے ملک پر چڑھائ کا ارادہ کیا۔ وہاں کا بادشاہ سکندر کی فوج سے بڑا لشکر رکھتا تھا۔ مگر اس نے جنگ کے بجاے صلح کے لئے پیش قدمی کی۔ سکندر نے اس کا بھاری لشکر دیکھ کر کہا :" اگر تو صلح کے لیے آیا ہے تو اتنی بڑی فوج لانے کی کیا ضرورت تھی ۔ معلوم ہوتا یے، تیرے دل میں دغا یے"۔ بادشاہ ے کہا: "سکندر! دغا کم زورں کا شیوا یے ۔ مقدر والے کبھی دغا نہیں کرتے۔ اپنی فوج ساتھ لانے کا مقصد یہ جتانا یے کہ کسی خوف کی بنا پر اطاعت نہیں کر ریے، بلکہ اس لیے کر رہے ہیں کہ فی زمانہ تیرا اقبال بلند یے"۔ سکندر نے صلح کا ہاتھ بڑھا دیا۔ بادشاہ نے سکندر کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت کا انتظام کیا، پھر اسے ایک وسیع و عریغ خیمے میں لایا گیا اور بیش بہا لعل و جواہر قیمتی برتن میں بھر کر اس کے سامنے رکھ دیے گئے۔ بادشاہ نے کہا :" سکندرِاعظم! کھایئے۔" سکندر نے حیرت سے کہا:"لعل و جواہر انسان کی غذا نہیں ہیں۔" بادشاہ نے پوچھا:" پھر آپ کیا کھاتے ہیں! تعجب ہے، کیا کھانے والی چیزیں آپ کے ملک میں نہیں ملتیں جو آپ اس قدر تکلیف و مصیبت برداشت کرکے دنیا بھر میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اپنے ساتھ بے شمار مخلوق کو عذاب میں مبتلا کئے ہوے ہیں، آخر کیوں"سکندر لا جواب ہوگیا۔
  9. کاغذ کے ایک سفید ورق نے کہا“ میں بے داغ بنایا گیا ہوں اور ہمیشہ ھی بے داغ رہوں گا۔۔۔ار میں جل کر سفید راکھ میں تبدیل ہونا ذیادہ پسند کروں گا۔۔بجائے یس کے کی سیاہی میرے قریب آئے اور مجھے چھؤئے جو کچھ سفید کاغذ نے کہا دوات نے سنا اور اپنے تاریک دل میں ہنس دی لیکن اس کے قریب جانے کی جرات نہ کی۔ رنگ برنگی پنسلوں نے بھی سنا، وہ بھی اس کے نزدیک نہ پہنچ سکیں اور کاغذ کا سفید ورق اسی طرح بے داغ رہا اور صاف۔۔۔۔۔۔۔لیکن کورا۔۔
  10. ہر انسان کے ساتھ محبت الگ تاثیر رکھتی ہے۔ جس طرح ہر انسان کا چہرہ الگ، مزاج الگ، دل الگ، پسند نا پسند الگ، قسمت، نصیب الگ، اسی طرح ہر انسان کا محبت میں رویہ الگ۔ کہیں محبت کے دم سے تخت حاصل کیے جا رہے ہیں، کہیں تخت چھوڑے جا رہے ہیں۔ کہیں دولت کمائی جا رہی ہے، کہیں دولت لٹائی جا رہی ہے۔ محبت کرنے والے کبھی شہروں میں ویرانے پیدا کرتے ہیں، کبھی ویرانوں میں شہر آباد کرتے ہیں۔ دو انسانوں کی محبت یکساں نہیں ہو سکتی۔ اس لیے محبت کا بیان مشکل ہے۔ دراصل محبت ہی وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصلی شکل، باطنی شکل، حقیقی شکل دیکھتا ہے۔ محبت ہی قدرت کا سب سے بڑا کرشمہ ہے۔ "جس تن لاگے سو تن جانے"۔ محبت ہی کے زریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں۔ کاہنات کا حسن اسی آئینے میں نظر آتا ہے۔ آج کا انسان محبت سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آج کا انسان ہر قدم پر ایک دوراہے سے دوچار ہے۔ مشینوں نے انسان سے محبت چھین لی ہے۔ آج کے انسان کے پاس وقت نہیں کہ وہ نکلنے اور ڈوبنے والے سورج کا منظر تک بھی دیکھ سکے۔ وہ چاندنی راتوں کے حسن سے نا آشنا ہو کر رہ گیا ہے۔ آج کا انسان دور کے سٹیلائٹ سے پیغام وصول کرنے میں مصروف ہے۔ وہ قریب سے گزرنے والے چہرے کے پیغام کو وصول نہیں کر سکتا۔ انسان محبت کی سائنس سمجھنا چاہتا ہے اور یہ ممکن نہیں۔ زندگی صرف نیوٹن ہی نہیں زندگی ملٹن بھی ہے۔ زندگی صرف حاصل ہی نہیں ایثار بھی ہے۔ ہرن کا گوشت الگ حقیقت ہے، چشم اہو الگ مقام ہے۔ زندگی کارخانوں کی آواز ہی نہیں ، احساس پرواز بھی ہے۔ زندگی صرف "میں" ہی نہیں، زندگی "وہ" بھی ہے، "تو" بھی ہے۔ زندگی میں صرف مشینیں ہی نہیں چہرے بھی ہیں، متلاشی نگاہیں بھی۔ زندگی مادہ ہی نہیں روح بھی ہے۔ اور سب سے بڑی بات زندگی خود ہی معراج محبت بھی ہے۔
  11. Amaizing.......... ab iss k liye partner bhi dhond lay jaldi se...... Lolzzz
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status