Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/12/21 in Posts

  1. بھائ فورم کہ اخراجات کو مدے نظر رکتھے ہوئے میں یہ کہا تھا ایک منٹ نہیں تو ۳۰سکنڈ ہو جائے بھا ئی مھجے اگر ایک منٹ بھی دیکھنی پڑے پیڈسکشن میں رسائی کے لیے تو مجھے منظور ہے
  2. تیسری طرف نبیل کی لاٹری لگ رہی کہ اسے بھی اپنے ابا حضور کی طرح ایک پہ ایک کے بجائے دو،دو مل رہی ہیں اور نبیل کا لالچ کم نہیں ہو گا ان دو پہ وہ گزارہ نہیں کرے گا وہ اور منہ مارے گا حتی کہ بہن کو دیکھے گا یہ محض قیاس آرائی ہے باقی ڈاکٹر صاحب کے قلم پر منحصر ہے
  3. فیڈ بیک کا شکریہ ہم اس پر مزید غور کریں گے ۔ اور اس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی لمٹ بڑھا کر 30 دن تک کر دیں ۔ اور 30 دن میں 10 کمنٹس تو با آسانی کیئے جا سکتے ہیں ۔ دراصل اس رولز کا مقصد ہی سائلنٹ ممبرز کو ایکٹو کرنا ہے ۔اس میں ابھی ایک اور ایشو بھی زیر غور ہے جس پر آپ کی توجہ نہیں گئی ۔ کہ جب ممبر کا اکاؤنٹ ہی لمیٹڈ ہو جائے گا اور مین سیکشن تک رسائی نہ ہو گی تو وہ کمنٹس کس تھریڈ پر کرے گا ؟ جو کہ اپررول بھی ہو سکیں ۔ اور اس ممبر کا اکاؤنٹ آٹو ایکٹو ہو سکے😃۔اس رولز کو ہم مزید تبدیلی کے ساتھ لاگو کریں گے ۔ اور آپ کا دوسرا سوال ِ ۔۔۔۔ اگر کسی کو اردو لکھنا نہیں آتی ۔تو مجھے یقین ہے کہ اسے پڑھنا بھی نہیں آتی ہو گی ۔
  4. کالج کلز ۔۔۔اردو فن کلب کا نیا سلسلہ وار ناول ہے۔جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہو گا۔جسے 14 اگست 2021 کے موقعہ پر ڈاکٹر فیصل خان کے قلم سے فورم پر پوسٹ کیا جارہا ہے ۔ اس کی پہلی قسط فری سیکشن میں بطور تعارف مکمل کی جائے گی ۔ اور دوسری قسط سے یہ سیئریل ناول پیڈ فائل کے طور پر دستیاب ہو گا۔۔ فری ممبرز کو چونکہ اس سلسلہ تک رسائی حاصل نہیں ہو گی ۔ اسی لیئے اس کے کچھ صفحات بطور تعارف یہاں پوسٹ کیئے جا رہے ہیں۔اپنے کمنٹس سے ہمیں آگاہ کریں کہ آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا۔تمام ممبران کو فورم کی طرف سے جشن آزادی مبارک ہو۔
  5. Premium Violation Members جیسا کہ تمام ممبرز کو معلوم ہے کہ پریمیم ممبرز پر بھی کچھ رولز لاگو ہوتے ہیں۔جن میں پریمیم ڈیٹا کی چوری سر فہرست ہے۔جس کی خلاف ورزی پر پریمیم ممبر اپنے پریمیم اکاؤنٹ سے محروم ہو جاتا ہے۔ماضی میں بھی بہت سے لاتعداد پریمیم ممبرز رولز کی خلاف ورزی پر اپنے پریمیم اکاونٹ سے محروم ہو چکے ہیں۔جن کو فورم پر ڈسکس نہیں کیا جاتا تھا۔ مگر اب ہم نے سوچا کہ ایسے تمام ممبرز جو پریمیم رولز کے خلاف فورم سے پریمیم ڈیٹا چوری کر یں گے۔ فورم ان کے اکاؤنٹ بھی بین کرے گا ۔ اور ان ممبرز کو فورم میں نمایاں بھی کرے گا۔ تاکہ دوسرے ممبرز جو اس رولز کو سیئریس نہیں لیتے ۔۔۔۔۔وہ اپنے پریمیم اکاؤنٹ کا رسک نہ لیں۔ کیونکہ ایک بار پریمیم اکاؤنٹ بین ہونے کے بعد اس کو دوبارہ ری سٹور نہیں کیا جاتا۔ اور پریمیم ممبر کے تمام خریدے گئے ناولز اور اپڈیٹس پریمیم اکاؤنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔اس ممبر کےکسی نئے اکاؤنٹ سے دوبارہ رجسٹریشن پر اس ممبر کو کسی بھی سیئریل کی اپڈیٹ پڑھنے کے لیئے دوبارہ سے سابقہ اپڈیٹس بھی ساتھ ہی لینا پڑیں گی۔جو کہ ان ممبرز کے لیئے ایک تکلیف دہ امر ہو گا۔۔۔ اب سے ایسے تمام پریمیم ممبرز جو اپنے پریمیم اکاؤنٹ سے محروم ہوں گے ان کو اس تھریڈ میں اپڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔تاکہ سب کو آگاہی ہوتی رہے ۔رولز کو فالو کریں۔ اور انجوائے کریں۔تاکہ آپ کا پریمیم اکاؤنٹ محفوظ رہے۔ ۔۔۔۔ایڈمنسٹریٹر
  6. کیا آپ نئے سال کے لیئے تیار ہیں؟ اردو فن کلب سال 2022 میں اپنے فورم پر کچھ تبدیلیوں کا ارادہ رکھتا ہے۔حالانکہ یہ تبدیلیاں فورم کی ٹریفک میں کمی کا باعث بھی بن سکتی ہیں ۔جو کہ کوئی فورم بھی نہیں چاہے گا۔ مگر ہمیں کبھی بھی اس کی پرواہ نہیں رہی ۔ اردو فن کلب نے ہمیشہ ہی تعداد کی بجائے صرف معیار کو اہمیت دی ہے ۔ہماری یہ تبدیلیاں فورم کی سروس کو مزید بہترین بنائیں گی ۔ اور تمام ممبرز کو موجودہ سروس سے نئی سروس میں کافی فرق محسوس ہو گا۔ ان تبدیلیوں میں کچھ پابندیاں اور بہت سی نئی سہولیات شامل ہیں ۔ان تمام پابندیوں اور سہولتوں کا ذکر اسی تھریڈ میں کیا جائے گا۔ امید کرتے ہیں یہ فورم پر ایک اچھا اضاٖفہ ثابت ہو گا۔ فاسٹ ڈیڈیکیٹ سرورز اس بار ہم نے بجائے وی پی ایس سرورز کے فورم کی موجودہ ٹریفک کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈیڈیکیٹ کلاؤڈ سرورز کا انتخاب کیا ہے ۔ یہ کیونکہ مہنگے ہوتے ہیں۔جس وجہ سے ہمارے اخراجات میں 200 پرسنٹ اضافہ ہوا ہے ۔ یعنی جو ہوسٹنگ ہم 35 ڈالر ماہانہ پر حاصل کرتے تھے اب ہمیں 73 ڈالر ماہانہ میں کاسٹ کرے گی ۔جبکہ مزید اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔جو کہ ہم مینج کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔اس سروس سے تمام ممبرز کے لیئے ایک پریمیم اور فاسٹ براؤزنگ مہیا کی جائے گی ۔جس سے فوری پیج لوڈنگ اور کم انٹرنیٹ والے یوزرز کو بھی بہتر سروس مل پائے گی۔اور فورم میں اچھا اضافہ ثابت ہو گی۔ ای میل سروس سابقہ ای میل سروس سے اکثر ممبرز کو یہ شکایت رہی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت ان کو فوری ای میل رسیو نہیں ہوتیں ۔ اور ان کی رجسٹریشن نا مکمل رہ جاتی ہے ۔ کچھ ممبرز پاسورڈ ریکور کرتے وقت ای میل کا انتظار کرتے رہ جاتے ہیں ۔ اس میں ای میل سروس سے زیادہ لمٹ کا قصور ہے ۔ کیونکہ سابقہ سرور پر ہمیں ہوسٹنگ رولز کو فالو کرنا پڑتا تھا اور ان پر اسپیم ای میلز کو روکنے کے لیئے مختلف لمٹ لگی ہوتی ہیں ۔ تو اس لمٹ کے ختم ہونے کے بعد ممبرز کو ای میلز تاخیر سے ملنے لگتی ہیں۔کیونکہ فورم میں ای میل کا استعما ل ۔ فورم نوٹیفیکیشن۔ اطلاعات۔۔ رجسٹریشن ۔ خریداری کی انوائس ۔ پاسورڈ ریکور ۔ اور اکاؤنٹ ویری فیکیشن جیسے معاملات میں کیا جاتا ہے۔ایک نارمل ویب ہوسٹنگ میں یہ سروس فری میں مل جاتی ہے۔البتہ اس میں بے شمار لمٹس بھی ہوتی ہیں۔جبکہ ڈیڈیکیٹڈ سرور میں ای میل کی سروس شامل ہی نہیں ہوتی ۔ڈیڈیکیٹ کلاؤڈ سرورز پر فورم کو شفٹ کرنے کے بعد ہمیں ای میل سروس کی ضرورت بھی تھی ۔الہذا یہاں ایک بار پھر ہم نے ادائیگی کرتے ہوئے ایک اچھی ای میل سروس کا انتخاب کیا ہے تاکہ کسی بھی ممبر کو فوری ای میل مل سکے ۔یہاں ہمیں ای میل کی تعداد کے حساب سے ادائیگی کرنا ہو گی ۔ موجودہ ای میل پیکج 25 ڈالر /15000 ماہانہ ای میلز ہم نے سلیکٹ کیا ہے ۔ جسے بعد میں اگر ضرورت محسوس ہوئی ۔تو اپگریڈ کر لیا جائے گا۔ممبرز کے لیئے ای میل کا کوئیک رسپانس ایک اچھا تاثر ہو گا۔ نیو اکاؤنٹ رجسٹریشن نئے سال میں ہم فورم پر رجسٹریشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ نئے ممبرز پر پیڈ رجسٹریشن لاگو کر دی جائے ۔ اور نیا ممبر اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کرتے وقت ادائیگی کر کے رجسٹر ہو ۔ مگر اس سے ایسے ممبرز جو ایک سادہ رجسٹریشن کرنا بھی بہت مشکل کام سمجھتے ہیں۔وہ ممبرز اس طریقہ کار کو نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ نئے سال سے طریقہ کار یہ ہو گا کہ فری رجسٹریشن موجودہ نظام کی طرح ہی دستیاب ہوگی۔ البتہ نئے ممبرز کو اپنی فری رجسٹریشن مکمل کرنے پر فورم کے کچھ خاص فری سیکشن تک رسائی حاصل نہ ہو گی ۔ جس کے لیئے نئے ممبرز کو رجسٹریشن کی فیس ادا کر کے اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ کروانا ہو گا۔اپگریڈ کے وقت ممبر اپنی ای میل اور موبائل نمبر کی تصدیق بھی ویری فیکیشن کوڈ کے ذریعے کرے گا۔رجسٹریشن فیس ہم نے صرف 2 ڈالر رکھنے کا ارادہ کیا ہے ۔ اور وہ بھی ماہانہ نہیں ہو گی ۔ بلکہ صرف ایک بار ہی ادا کرنا ہو گی ۔اور آپ کا اکاؤنٹ لائف ٹائم کے لیئے رجسٹرڈ ہو جائے گا ۔ یہ پابندی ان ممبرز کی وجہ سے ہے جو کہ فورم میں ہمہ وقت انتشار پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں اور فورم کا ماحول خراب کرتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو کوئی ڈر نہیں ہوتا ۔کیونکہ ان کا اکاؤنٹ بین ہونے پر وہ نئے اکاؤنٹ سے بھی رجسٹر کر سکتے ہیں۔اب وہ پیڈ رجسٹریشن کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکیں گے۔پہلے سے موجود تمام فری اکاؤنٹ ممبرز کو ایک ماہ کا مفت ٹرائل بونس دیا جائے گا۔اور ایک ماہ بعد ان کا اکاؤنٹ بھی عارضی طور پر معطل ہو جائے گا۔ جسے رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کے بعد ایکٹو یا اپگریڈ کروایا جا سکے کا۔یہ اپگریڈ ایکٹویشن فیس صرف فری سیکشن کے لیئے ہو گی اور ان میں کسی قسم کا کوئی پریمیم سیکشن یا ناول شامل نہ ہو گا۔ پریمیم سسٹم پہلے کی طرح ہی فائل سسٹم ہو گا ۔اور کسی بھی فائل کی ادائیگی کرنے پر وہ فائل یا قسط ممبر کے پرائیویٹ کلاؤڈ اکاؤنٹ میں ایڈ ہو جائے گی۔جسے پریمیم ممبرز اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ اکاؤنٹ میں پڑھ سکیں گے۔ نوٹ ! کلاؤڈ پریمیم اور کلاؤڈ پلاٹینم کے ممبران کو رجسٹریشن فیس کی ادائیگی کرنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ان کا اکاؤنٹ فعال رہے گا۔ ایک سے زیادہ اکاؤنٹس والے ممبرز نئے سال میں ہم بہت سے ممبرز کو فورم سےرخصت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ایسے تمام ممبران جو ایک سے زیادہ اکاؤنٹ رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے ڈبل اکاؤنٹ کے بارے میں انتظامیہ کو خود سےنہیں بتایا۔جبکہ انتظامیہ ان ممبران سے مکمل باخبر ہے۔ ان ممبرز کو بین کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔جو کہ ان ممبرز کے لیئے بھی سرپرائز ہو گا ۔ جو انتظامیہ کو غافل سمجھتے ہیں۔ان ممبران میں پریمیم ممبران بھی شامل ہوں گے ۔ کیونکہ وہ بھی رولز کی خلاف ورزی میں شامل ہیں ۔اگر اب بھی ایسے ممبران اپنا اکاؤنٹ بین ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کے لیئے یہ آخری موقعہ ہے ۔ اپنے تمام اکاؤنٹ کی تفصیلات نیچے دئیے گئی ای میل پر سینڈ کر کے ایکسٹرا اکاؤنٹ کلوز کروا کر اپنا ایک اکاؤنٹ ایکٹو کروا لیں ۔بعد میں کوئی اعتراض قبول نہ ہو گا۔ verify@urdufunclub.org ایڈز فری براؤزنگ فورم میں ایڈز فری براؤزنگ کے لیئے ایک ایڈ آن شامل کیا گیا ہے ۔ جس کی قیمت ہم نے نہایت ہی مناسب رکھی ہے ۔ ممبرز 2 ڈالر ماہانہ یا 20 ڈالر سالانہ ادا کر کے ایڈ فری براؤزنگ حاصل کر سکتے ہیں ۔یہ آپشن کسی ممبر پر لاگو نہیں کیا جا رہا ۔ جو ممبران ایڈز کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ مینج کر سکتے ہیں ان کو یہ سہولت خریدنے کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ جو ممبران ایڈ فری براؤزنگ چاہتے ہیں وہ اسے حاصل کر سکتے ہیں ۔ ایڈز کمپنی فورم ممبرز کا کیشے اور براؤزنگ ڈیٹا کلکٹ کر کے ہی ممبرز کو اپنی ایڈز شو کرتے ہیں ۔ جس سے ممبرز کی پرائیویسی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ممبرز کی پرائیویسی ہماری اولین ترجیح ہے۔ہماری کوشش ہے کہ پریمیم ممبرز کو ایڈز نیٹ ورک سے الگ رکھا جائے ۔تاکہ ممبرز کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔ پروفائل انفارمیشن نئے سال سے ممبرز اپنی پروفائل میں اپنا ای میل اور فون نمبر خود سے تبدیل نہ کر سکیں گے ۔ بوقت ضرورت یہ صرف سپورٹ ٹیم کے ذریعے ہی تبدیل کیا جا سکے گا ۔ ایسے تمام ممبران جن کی پروفائل میں ای میل اور موبائل نمبر درست نہیں ہیں وہ اپنے ای میل اور موبائل نمبرز نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کر کے درست کر لیں ۔ نئے سال میں تمام ای میلز اور موبائل نمبرز کو او ٹی پی کوڈ بھیج کر کنفرم بھی کیا جائے گا۔اور ایسے تمام ممبران جن کے ای میلز اور موبائل نمبرز درست نہ ہوں گےان کے اکاؤنٹ بین کر دئیے جائیں گے ۔ اور کوئی عذر قبول نہ ہو گا۔ ای میل کی تبدیلی کے لیئے کلک کریں فون نمبر کی تبدیلی کے لیئے کلک کریں ون ٹائم پاسورڈ (او ٹی پی) نئے سال میں ہم فورم کا لاگ ان سسٹم میں تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ جس میں ہر ممبر کو لاگ ان کرنے پر اس کے موبائل نمبر پر ایک کوڈ ایس ایم ایس سے رسیو ہو گا ۔ جسے فورم پر درج کر کے ہی لاگ ان ہوا جا سکے گا ۔ اور یہ ایس ایم ایس کوڈ ممبر کی پروفائل میں موجود فون نمبر پر ہی سینڈ ہو گا ۔ جن ممبرز کا فون نمبر درست ہو گا وہ با آسانی لاگ ان کر سکیں گے ۔ اور جو ممبرز غلط یا فیک فون نمبر استعمال کر رہے ہوں گے ۔ وہ اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان نہیں ہو سکیں گے ۔ اس سسٹم کو ون ٹائم پاسورڈ یا او ٹی پی بھی کہتے ہیں ۔ نئے سال میں ممبر کی پروفائل میں ای میل اور فون نمبر کی تبدیلی کے چارجز 2 ڈالر / فی تبدیلی ہوں گے ۔ جب کہ ابھی اسے فری میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گڈ بائے سائیلنٹ ممبرز بہت سے ممبران کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم گزشتہ اتنے سال سے سائلنٹ ممبرز ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے ممبرز جان لیں کہ وہ فورم پر مزید سائلنٹ نہیں رہ سکیں گے ۔ تمام ممبران کو 30دن کے دوران کم از کم 5 کمنٹس لازمی کرنا ہوں گے ۔ جو اپروول بھی ہو چکے ہوں۔ ورنہ ایسے تمام ممبران جو 30 دن میں 5 کمنٹس نہیں کریں گے ۔ ان کے لیئے آٹو میٹک کچھ فری سیکشن بند ہو جائیں گے ۔ اور جب ان ممبرز کی کمنٹس کی طے شدہ تعداد پوسٹ ہوگی تب وہ سیکشن کچھ ٹائم بعدآٹو میٹک اوپن ہو جائیں گے۔ایسے میں کوئی ممبر فورم پر سائلنٹ نہیں رہ سکے گا ۔ یہ ایک خودکار نظام ہو گا ۔ جو فورم پر ممبرز کو آٹو میٹک مینج کرے گا۔یہ پابندی پریمیم سیکشن پر نہ ہو گی ۔ اور پریمیم ممبران اپنے پرائیویٹ کلاؤڈ کو جب چاہے وزٹ کر سکیں گے۔ نوٹ ! کلاؤڈ پریمیم اور کلاؤڈ پلاٹینم کے ممبران پر ماہانہ پوسٹنگ کی شرط نہ ہو گی۔ان کا اکاؤنٹ فعال رہے گا۔ کمنٹس اپروول سیٹ اپ نئے سال میں ایسے تمام کمنٹس جو کہ رومن اردو پر مشتمل ہوں گے۔بے شک وہ معیاری کمنٹس ہی کیوں نہ ہوں ان کو اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ اور ایسے تمام کمنٹس جو کہ چند مخصوص الفاظ جیسا کہ ۔ اپڈیٹ ، نائیس ، گڈ ، اور ان جیسےکسی بھی فضول الفاظ پر مشتمل ہوں گے۔ یا آپ کے کمنٹ میں کسی قسم کی تصویر شامل ہوئی ۔ ان کو بھی اپروول نہیں کیا جائے گا ۔ ان کمنٹس کو ڈائریکٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا ۔ اردو الفاظ پر مشتمل معیاری کمنٹس کو ہی اپروول کیا جائے گا ۔ یہاں تمام ممبرز ایک بات نوٹ کر لیں ۔ آپ کا کمنٹ کتنا ہی اچھا اور معیاری کیوں نہ ہو ۔ اگر آپ کہانی کی اپڈیٹ کی تصاویر کو کوٹ کر کے کمنٹ کریں گے جس سے اپڈیٹ کی امیج آپ کی پوسٹ میں شامل ہوں ایسا کمنٹ اپروول نہیں ہو گا ۔ اسے ڈائریکٹ ڈیلیٹ کیا جائے گا رومن اردو سٹوریز سیکشن تمام ممبرز جانتے ہیں کہ چند سٹوریز کو چھوڑ کر فری میں پوسٹ ہونے والی باقی سب سٹوریز کاپی پیسٹ ہوتی ہیں ۔ اسی طرح رومن اردو میں پوسٹ ہونے والی سٹوریز بھی کاپی پیسٹ ہوتی ہیں ۔ کیونکہ یہ فری ہوتی ہیں۔ اور رائٹر کو ادائیگی نہیں کی جاتی ۔ تو رائٹر کا جب تک دل کرتا ہے وہ پوسٹ کرتا ہے اور پھر وہ اسے اپڈیٹ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر یہ اکثر نا مکمل ہی رہتی ہیں۔ اردو فن کلب نے نئے سال سے اپنے رومن اردو سٹوریز سیکشن کو فریز کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ موجودہ تمام رومن سٹوریز اور رومن سیکشن تمام ممبرز کے لیئے بدستور دستیاب رہیں گے اور ان کو وزٹ کیا جا سکے گا ۔ نئے سال سے ان سیکشن میں نئی سٹوری ایڈ کرنے کا آپشن ختم کر دیا جائے گا۔ اور پہلے سے موجود سٹوریز ہی اپڈیٹ ہو سکیں گی۔جو سٹوریز مکمل ہو چکی ہیں ۔ وہ موجود رہیں گی اور جو نامکمل ہیں ان کو مکمل کی کوشش کی جائے گی ۔اور جو مکمل نہ ہو سکیں ان کو جلد ہی فورم سے ہٹا دیا جائے گا۔ پرائیوٹ کلاؤڈ پریمیم پرائیویٹ کلاؤڈ سسٹم کو ہم نے ایس ڈی ڈی سٹوریج سے تبدیل کر کے این وی ایم ای سٹوریج (مستحکم میموری ایکسپریس) پر اپگریڈ کر دیا ہے ۔ جو کہ موجودہ لیٹسٹ ٹیکنالوجی ہے ۔ جس سے آپ کا پرائیویٹ کلاؤڈ بہت ہی فاسٹ ورک کرے گا اور بہت ہی بہترین سروس مہیا ہو گی۔ اور کم اسپیڈ انٹرنیٹ والے ممبرز بھی اسے انجوائے کر سکیں گے۔ نئے سال سے تمام خریداری کو پرائیویٹ کلاؤڈ پریمیم میں ہی شامل کیا جا سکے گا۔ کلاؤڈ بیسک رکھنے والے ممبرز نئی خریداری کو اپنے کلاؤڈ اکاؤنٹ میں شامل نہیں کر سکیں گے۔ اگر وہ مزید خریداری کرنا چاہیں تو ان کو اپنا اکاؤنٹ کلاؤڈ پریمیم پر اپگریڈ کرنا ہو گا ۔ جو کہ صرف 10 ڈالر میں اپگریڈ کروایا جا سکے گا۔ اگر وہ اپنا اکاؤنٹ اپگریڈ نہ کرنا چاہیں تو بھی پہلے سے موجود ان کی خریداری بغیر کسی اضافی چارجز کے ان کے اکاؤنٹ میں لائف ٹائم کے لیے موجود رہے گی ۔ وہ صرف نئی خریداری نہ کر سکیں گے۔ جبکہ پہلے سے خریدی گئی تمام خریداری کو وہ با آسانی پڑھ سکیں گے۔ یہ تمام سہولیات اور پابندیاں آپ سب ممبرز کی بہتری کے لیئے ہیں ۔ ان سے ہم ایک مختصر اور اچھی کمیونٹی بنائیں گے ۔ ہمیں 20000 ممبران کی بجائے صرف 1000 ممبران کی کمیونٹی قبول ہے مگر ہم تعداد کے لیئے معیار پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔نئے سال میں جو ممبران ان سب رولز کے ساتھ فورم پر رہنا چاہیں گے تو ہم ان سب کو خو ش آمدید کہیں گے ۔ اور باقی ممبران جو ان رولز سے اختلاف رکھتے ہیں ان کو بخوشی الوداع کریں گے۔ ایڈمنسٹریٹر ۔۔۔اردو فن کلب
  7. اک منٹ تو زیادہ ٹائم ہو جائے گا ویسے کافی ایپس ہیں جن پہ پانچ سیکنڈز کا اشتہار چلتا ہے یوٹیوب پہ بھی اکثر ایسا ہوتا ہے باقی جیسے فن کلب انتظامیہ بہتر سمجھے
  8. اور اشتہار ۳۰ سکنڈ سے ایک منٹ تک ہو اگر اس طرح ہو جائے تو ہم جیسے بھی پڑھ سکتے ہیں اور جو ایڈ فری دیکھنا چاہے وہ ممبرشپ لے لے
  9. اور ہزاروں ممبرز میں سے اس چیز کو کیسے فلٹر کیا جائے وہ طریقہ بھی بتا دیں ؟
  10. یہ طریقہ ویسے کافی بہترین ہے ویسے دو آپشن ہونے چاہیئں کوئ ممبر اگر اشتہار نہ دیکھنا چاہے تو اسے فیس کرنی چاہیئے اور جو فری پڑھنا چاہیں وہ اشتہار دیکھیں اور فیس وصول ہو جائے ویب سائٹ کو اگر ایسا ہو جائے تو ہم جیسوں کا بہت فائدہ ہو سکتا ہے
  11. مجھے بھی جاز کیش نمبر بھیج دیں اور ساتھ میں رہنمائی بھی کریں کہ 2 ڈالر فیس پاکستانی حساب سے کتنی جاز کیش کرنی پڑے گی
  12. ہمیں اس میں بری طرح ناکامی ہوئی تھی کیونکہ کسی نے بھی اس کو کلک کر کے دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا اور پورے مہینے کی ارننگ دو چار ڈالر سے اوپر نہیں تھی۔ اب جبکہ سائیٹ ماہانہ سو ڈالر سے زیادہ اخراجات کرتی ہے تو سوچ لیں کہ کتنے ایڈز ہونے چاہیئں۔ بہرحال یہ بات درست ہے کہ اگر ممبرمثبت رسپانس دیں،کہانی چوری نہ کی جائے اور یہاں کی کہانیوں سے اپنے ذاتی گروپس نہ چلائے جائیں تو سائیٹ کے فری سیکشن بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایک اہم چیز نئے رائیٹرز بھی ہیں۔نئے رائیٹرز اگر سامنے آئیں اور اپنی کہانیاں لکھیں تو بات بن سکتی ہے۔فری سیکشن میں اگر وہ اپنی کہانیاں شائع کریں تو فورم بہتر ہو سکتا ہے،مگر اکثریت کہانیوں کو دسیوں جگہ پہ پوسٹ کرنے پہ بضد ہوتی ہے۔ اس سے رائیٹر کے ساتھ ساتھ کہانی کی بھی ویلیو ختم ہو جاتی ہے۔
  13. , ڈاکٹر ڈاکٹر صاحب آپ کی بات بلکل درست ہے کہ اگر اس کے اوپر رسپانس ملےتواس کوفری سکشن میں چلا یا جاسکتا ہے یہ ایک لاجواب کہانی ہے
  14. سن 2018 میں پردیس کو فری کیا گیا تھا بدلے میں اردو فن کلب انتظامیہ نے ویب سائٹ پر نظر آنے والے اشتہارات کو کلک کرکے پانچ سیکنڈز تک دیکھنا شرط رکھی تھی (اگر میں غلط نہیں ہوں تو) اگر ممبرز اب بھی ویب سائٹ کی ارننگ میں ساتھ دیں تو کافی سلسلے فری رہ سکتے ہیں۔
  15. ڈاکٹر صاحب مہربانی کرو فری والوں کی بھی دال گلنے تو پلیز
  16. دیکھیں جناب! اس کے دوسرے پہلو کو بھی تو دیکھیں۔ ہم نے ایک سلسلہ پہلے ہی فری سیکشن میں چلایا ہوا ہے جو اس وقت مقبول ترین ہے۔ اگر ہم کو ایسا لگے کہ اس میں بہت زیادہ ٹریفک ہے اور وہ لوگ شامل ہیں جو اکثریت میں نان پیڈ ہیں تو ہم نظرثانی کا سوچ سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم کو ایک کہانی یا متعدد کہانیاں فری سیکشن کو بھی زندہ رکھنے کے لیے چاہیئں۔ ابھی تک اس کو ہم نے پیڈ کرنے کا پلان بنایا ہوا ہے مگر پبلک رسپانس ایک بڑی طاقت ہے جناب۔ ہم کو اس کے لیے اکثریت میں وہی دوست رسپانس دے رہے ہیں جو پیڈ ممبر ہیں۔
  17. ابھی تک یہ طے نہیں ہوا کہ اس کو کب پیڈ کرنا ہے اور تب تک اس کے مزے لیجیے۔ اس میں لوگوں کی کم دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو جلد پیڈ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر اس پہ پیڈ ممبران نے ہی دلچسپی لینی ہے تو ان کے لیے اس کو جلد از جلد کر دیا جائے۔
  18. اس رولز کو اپڈیٹ کر دیا گیا ہے ۔ اور 7 دن میں 10 پوسٹ کی پابندی کو ختم کر کے 30دن کی لمٹ کے ساتھ صرف 5 پوسٹ کی پابندی لگائی گئی ہے ۔ نئے سال میں یہی لمٹ تمام ممبرز پر لاگو ہو گی۔ اردو کمنٹس والی پابندی ختم نہیں کی جائے گی ۔ جن ممبرز کو اردو لکھنا نہیں آئی وہ یو ٹیوب یا دوسری ویب سائیٹ کا سہارا لے سکتے ہیں ۔ اور اسے سیکھ سکتے ہیں ۔ یہ کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے ۔ نئے سال سے یہ پابندی لاگو ہو گی۔
  19. بہت خوب............. اگلی قسط کا انتظار ریےگا...... لگتا ہے مولوی صاحب کسی فریب میں پھنسنے والا ہے............ زہرا کہانی کی ہیروئن لگتی ہے. . . .اسکی ہمت کی داد دہتا ہوں.............
  20. ایڈمن صاحب اداب بہت اچھے اصول وضوابط بیان کیے اور ان پر عمل بھی ہوگا باقی تھریڈ پر کچھ لکھنا اس کی بھی کوشش کی جائی گی
  21. سر یہ اقدام اور سارے رولز ہمارے اور اردو فن کلب فارم کی بہتری کیلئے بہت ھی مناسب اور اچھے ھین اور مین اپنےدل کی گہرائیون سے اسےسراہنے کیساتھ ان سے اتفاق کرتا ھون شکریہ سر
  22. کوشش تو یہ ہے کہ میں آج رات ہی ایک اپڈیٹ کر دوں۔
  23. واہ مزہ آگیا... شبانہ کا گینگ ریپ ہوگا پتا نہیں تھا کہ ایسا ہوگا... بے چارہ نبیل, تسلی سے پھدی مارنے کا موقع ملا تھا لیکن ہائے رےقسمت... مولوی صاحب تو حد سے زیادہ جذباتی ہوگئے ہیں.. ایک عورت جو مسئلہ لے کر آئ بجائے یہ کہ اس کا حل سوچتے اپنی بیوی ذکیہ پر ٹرائ شروع کردیا... ہاہا ویسے لوڑا چسوانے کا بھی اپنا نشہ ہے... اس لیے مولوی صاحب سے رہا نہیں گیا.. مولوی صاحب بھی کوئ پیار شیار دکھا کر ذکیہ کو مناتے لیکن وہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہیں.... ڈاکٹر صاحب بہت خوب....
  24. کوشش کروں گا کہ رات کو اپڈیٹ ہو جائے۔
  25. Update no 3 ابا سئیں غصہ سے تلملا کر بولا وے عطی ڈیڈھی اے پولیسے مکوں کمزور سمجھدے ہین ہناں نا مرادا کو کیا پتہ کہنی میڈی طاقت دا اے سمجھدے ہین کہ میں ہتھاں وچ چوڑیاں پاتی بیٹھاںمیں اپنڈے دشمن دا مقابلہ نہیں کر سکدا وے انہاں عقل دے اندھایاں کوںمیں کیویں سمجھاواں اے لوگ جانڑ بجھ کے میڈا بلڈ ہائی کیرندے ہین عطی دیکھا ہے یہ پولیس والے مجھے کمزور سمجھتے ہیں نا مردوں کو نہیں میری طاقتدا پتہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ہاتھوں میں چوڑیا پہنی ہوئی ہیں میں اپنے دشمن کامقابلہ نہیں کر سکتا ان عقل کے اندھوں کو کیسے سمجھاؤں یہ لوگ جان بوجھ کرمیرا بی پی آپ کرتے ہیں ابا سائیں جی ویلے ہوں نامراد چھوٹوں دا سر تھاڈے ہاتھ ایچ ہوسی ول ہنا کوںیقین اسی کہ تسان کیا چیز ہوے تساں کیوں ہنا دی گالہیں دی وجہ تو بلڈ ہائیکرندے ہوے دفعہ کرو تہ سکون کرو عطی نے خوشامدانہ لہجہ میں کہا ابا سئیں جس وقت نامراد چھوٹو کا سر اپ کے ھاتھ میں ہو گا تب ان لوگوں کوپتہ چلے گا آپ ان کی باتوں کی وجہ سے کیوں بلڈ ہائی کرتے ہیں دفع کریں اورسکون کریں گال تے توں ٹھیک کریندا پائی چل ول میں گھر وین دا تو ڈرائیور کو الھ کےمیڈی گڈی کڈھوا ابا سائیں نے پر سکوں لہجہ میں کہا بات تو تم ٹھیک کر رہے ہو جاؤ اور ڈرائیور کو بول کر میری گاڑی نکلواو عطی ابا سائیں کی بات سن کر باہر جا کر گاڑی نکلوائ پیچھے سے ابا سائیں آ کرگاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے 15 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ایک جدید طرز کی بنی خوبصورت کوٹھی کے گیٹ کےسامنے جا کر ڈرائیور نے گاڑی کی گھنٹی دی تو ایک مسلحہ چوکیدار نے دروازےکے باہر جھانکہ اور دروازہ کھول دیا اور ڈرائیور گاڑی اندر پورچ میں کھڑی کر کےابا سائیں والی سائڈ کا ڈرائیور نے دروازہ کھولا ابا سائیں شان بے نیازی سے چل کر کر گھر کے اندر مین حال میں داخل ہوئےجہاں سلیقے سے ایک سائڈ پر لگے فرنیچر خوبصورت پنٹنگ اور بڑا سا فانوس جو اپنیخوب صورتی کی مثال آپ تھا کمال لگ رہا تھا ہال میں لگے برقی قمقمے جو سنہریروشنی دے رہے تھے قابل تعریف منظر پیش کر رہے تھے ایک جانب صوفے پرخوبصورت خاتون جس کی عمر تقریباً اڑھتیس سال کےقریب ہوگی خوبصورت لباس زیب تن کیے اور سونے کا ہار گلے میں اور ہاتھوںمیں بڑے بڑے سونے کے خوبصورت کڑے پہنے بیٹھی ہوئی تھی اس کا رنگدودھیا سفیدی مائل تھا آنکھیں بڑی بڑی بے مثال حسن اور پر کشش جسم سےمالا مال کسی اپسرا ء سے کم نہ تھی جیسے ہی ابا سائیں کو دیکھا تو بولی آگئے ہوئے ٹائم ڈیٹھے وے کیا ٹائم تھی گے تھاکوں فکر ہی کینی کہ کوئی انتظارکریندا پیا ہوسی غوصیلے لہجہ میں اس عورت نے کہا آگئے ہیں ٹائم دیکھا ہے کیا ٹائم ہو گیا ہے آپ کو فکر ہی نہیں ہے کہ کوئی انتظارکر رہا ہے بیگم میڈی جان میں کوں پتا ہے کہ جناب انتظار کریندے پیے ہین بس کم ایچایتنا مصروف تھیاں کہ ٹائم دا پتہ ہی نہیں چلایا تے فوری کم نپٹا تے میں اپنیجان کینے بھج پیاں توکوں پتا تا ہے کہ میں تھاڈے بغیر نہیں رہ سکدا جڈا تک تہاڈاچندر جیا مکھڑہ نہ ڈیکھاں میکوں چین نہں امدا ابا سائیں نے خوشامدانہ اور مودبانہلہجہ میں کہا (بیگم میری جان مجھے پتا ہے کہ آپ انتظار کر رہی ہوں گی بس کام میں اتنامصروف تھا کہ ٹائم کا پتہ ہی نہی چلا کام نپٹا کر میں بھاگ کر اپنی جان کے پاسآ گیا اپ کو تو پتہ ہے کہ میں اپ کہ جب تک آپکا چاند سا چہرہ نہ دیکھوں مجھےچین نہیں آتا ) دل کش خاتون پڑھی لکھی جس کا نام نبیلہ تھا اور گھر میں سب پیار سے نیلیبلاتے تھے ابا سائیں کی دوسری گھر والی تھی اور ایک با اثر سیاسی خاندان سےتعلق رکھتی تھی پہلی گھر والی ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئی تھی اس کا ایکبیٹا تھا دوسری بیوی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے ابا سائیں پر ہمیشہ رعب اور دبدبہ رکھتیتھی ( اگے جا کر آپ کو ان کے بارے میں علم مزید باتوں کا علم ہو گا اب آتےہیں سٹوری کی جانب ) جیا میڈے کنوں زیادہ تہاکوں کم عزیز ہین تہاکوں کیا پروۂ ہے نیلی نے مزیدبڑھکتے ہوے کہا مجھ سے زیادہ آپ کو کام عزیز ہیں آپ کو کیا میری پرواہ ہے ابا سائیں نے جب غصہ دیکھا تو معافی مانگنے کے انداز میں اس کے قریب آ کرکہا میڈی جند ناراض نہ تھیا کر غصہ دی وجہ تو تیڈا خون گھٹ تھی ویسی میں آیندہدھان رکھیسا کہ ٹائم تے تیڈے کینے اواں بس تو ناراض نہ تھیا کر چل ہنڑ کھلتے ڈیکھا میڈی جان التجائیاں لہجہ میں کہا (میری جان تم ناراض نہ ہوا کرو غصہ سے تمہارا خون کم نہ ہو جائے گا میں آیندہٹائم پر آیا کروں گا چلو اب ہنس کے دیکھاو ) نیلی نے نخرے دیکھاتے ہوئے کہا چلو ڈیکھ گھینساں کہ تسا آیندہ اپنی گال تےکیوے عمل کریندے ہوے روٹی کھا اے وے یا میڈے نال کھاسو طنز یہ انداز میں کہا چلو دیکھ لیں گے کہ اپ اپنی بات پر کیسے عمل کرتے ہیں کھانا کھا کر آئے ہیں یامیرے ساتھ کھائیں گے میں اپنڑی جان دے بغیر کیویں کھا سکدا چلوں جلدی نال کھانڑاں لواو رل تےکھاسوں جھوٹ بولتے ہوے نیلی کے ساتھ صوفہ پر بیٹھتے ہوئے کہا نیلی اٹھ کر کچن کی طرف گئی اور وہاں موجود ملازمہ کو کھانا لگانے کا بول کر ایکسائڈ پر بنے واش روم کی طرف چل دی کچھ دیر بعد باہر نکل کر ابا سائیں کوساتھ لے کر بڑی سی ٹیبل رکھا کھانا کھایا اور فارغ ہو کر کمرے کی طرف دونوںچل دیے سردار چھوٹو کا لن مردہ حالت میں چھمیا کی پھودی کے اندر ہی تھا اور سرداراسکے سینے پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا خیر تو ہے آج تو تو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے اندر تک محسوس ہو رہا ہے کہ آجمیں ٹھیک سے چدی ہوں ورنہ تو پچھلی بار تو نے جلدی میں ہی چودہ تھا پر ایکبات ہے مزہ تو بہت آیا تھا پر جو آج مزہ آیا ہے اس کا تو جواب نہیں چھمیاں سردار کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی چھمیاں ابھی تو مزہ شروع ہوا ہے ابھی اور اس سے بھی زیادہ مزہ انا ابھی باقیہے میری جان سردار چھوٹو نے کہا میری جان لینے کا پروگرام ہے چھمیہ نے کہا جان نہیں تیری آج گانڈ لینی ہے سردار نے آنکھ مار کر کہا نہ بابا نہ تیرا موٹے اور لمبے لن نے تو میری پدھی کا ستیا ناس کر دیا ہے گانڈ لیتےوقت تو میں نے مر جانا ہے خوفزدہ ہوتے ہوے چھمیا نے کہا کچھ نہیں ہوتا تو فکر نہ کر میں آرام سے کروںگا تجھے پتہ بھی نہیں چلے گا چل اباس چارپائی کے اگے جھک جا سردار نے اسرار کرتے ہے کہا دیکھوں اگلی بار کر لینا میں تمہیں نہیں روکوں گی آج نہیں مہربانی کر اج پھدیایک بار اور مار لے پر گانڈ نہیں التجائیا لہجہ میں چھمیا نے کہا نہیں بس تو اب کھڑی ہو میں نے تجھے جیسا کہا ہے ویسا کر ورنہ اچھا نہیں ہو گاسردار نے غوصیلے لہجہ میں کہا چھمیاں سہم کر چارپائی کے اگے جھک گئی سردار کی آواز آئی چھمیہ میری جان میرے لن کو تو دیکھوں مرجھایا ہوا ہے پہلےاسے گانڈ مارنے کے قابل تو بنا ھنستے ہوئے کہا چھمیہ نے مرجھائے ہوے لن کو پکڑا اور منہ میں ڈال کر چوسنے لگی لن منہ کیگرمائش ملنے کی دیر تھی لن نے انگڑائی لی اور کھڑا ہونا شروع ہو گیا سردار مزےسے آوازیں نکالنے لگا آہ آہ آہ آہ آہ چھمیہ تیرے چوسنے کا جواب نہیں کیا مزے کا چوستی ہے اس طرح کی باتیںکرتے کرتے سردار کا موٹا تازہ لن ایک دم لوہے کے ڈنڈے کی طرح سخت ہوگیا اور پورے کمرے میں سردار کی مزے سے لبریز آوازیں گونجنے لگی بس چیمہ نکالو منہ سے مزے بھری آواز میں سردار نے کہا چھمیہ نے منہ سے لن نکالا اور التجایا نظروں سے سردار کی طرف دیکھا پر بولنےکی ہمت نہیں کی اور بے بسی سے الٹی جھک کر کھڑی ہو گئی سردار نے التجائیاں نگاہوں کو نظر انداز کر کے لن کو ہاتھوں میں لیا اور منہ سےتھوک کا گولا نکال کر اسے گیلا کیا اور پھر لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھااور اپر نیچے ہاتھوں سے پکڑ کر پھیرتا رہا چھمیہ آنکھیں بند کر کے بے بسی سےجھکی ہوئی تھی سردار نے لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکا لگایا جس سےکمرے میں ایک زور دار چیخ سنائی دی یہ چیخ کسی اور کی نہیں بلکہ چھمیہ کی تھیجس کی گانڈ میں صرف لن کا ٹوپا ہی اندر گیا تھا سردار اب اگے میری پدھی میں کر لو مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے تکلیف سےکانپتے اور گھبرائے ہوئے لہجے میں چھمیہ نے کہا سردار نے کہا ہو صلہ رکھ کچھ نہیں ہوتا یہ کہ کر ایک اور زور دار جھٹکہ لگایا آدھالن گانڈ کے اندر چلا گیا اور چھمیہ بلبلا اٹھی اور لن کو نکالنے کی کوشش کرنےلگی پر سردار کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت اور طاقت کے اگے چھمیہ تڑپتی رہیایک اور زور دار جھٹکہ سے سردار نے اس کی گانڈ میں پورا لن اتار دیا اور اس کوچارپائی پر گرا دیا اس زور دار جھٹکہ کے بعد ایک فلگ شفاک چیخ نے پورےکمرے کو ہیبت ناک بنا دیا پر سردار پر اس کی چیخوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور تڑپتیہوئی چھمیاں کو بے بس کر کے پہلے آہستہ اۂستہ جھٹکوں سے لن کو اندر باہرکرنے لگا تنگ سوراخ کی وجہ سے لن با مشکل اندر باہر ہو رہا تھا اور سردار کوبھی لن میں درد ہونے لگا پر کچھ ہی دیر بعد سردا نے طوفانی چودائی شروع کر دیاور کہا چھمیہ دیکھ آج تیری گانڈ کا افتتاح کر دیا ہے اب کچھ ہی دیر میں مزےسے تو کہے گی سردار اور ڈال دیکھ تجھے شروع میں تکلیف ہوئی ہے پر اس کے بعد مزہ آ رہا ہے نا سردار نے مزے میں ڈبی ہوئی آواز میں کہا چھمیہ کا جسم اس طوفانی چودائی میں کچھ دیر کانپتا رہا پر کچھ ہی دیر بعد جب گانڈ کاپانی نکلا تو مزے میں سردار کو کہا سردار آج تو تو نے میری جان نکال دی ہےاتنا درد مجھے پدھی میں نہیں ہوا جو گانڈ میں ہوا ہے پر اب مزا آ رہا ہے مزےمیں ڈوبی آواز میں چھمیا نے کہا اور ساتھ ساتھ مزے سے آوازیں بھی نکالے جارہی تھی سردار بھی طوفانی چودائی کا لطف لیے آوازیں مزے سے نکال رہا تھا کچھ ہی دیر میں طوفانی جھٹکوں کے ساتھ ہی سردار کا جسم اکڑہ اور ساتھ ہی لننے گانڈ کے اندر پانی چھوڑ دیا اور چھمیہ نڈھال ہو کر لن نکال کر ایک سائڈ پرلیٹ گئے اور دونوں زور زور سے سانسیں لینا شروع ہو گئے جیسے ہی فائر کی آواز سنائی دی بگو اپنے اپ کو بچانے کیلیے ایک سائڈ پر زمین پرگرا گولی اس سے چند انچ کے فاصلے سے ہوتی ہوئ درخت پر لگی کلاشن کوسیدھا کر کے پلک چھپکتے ہی برسٹ کھولا جس سے بس کا شیشہ ایک دھماکےسے ٹوٹا اور چیخوں کی ایک ہیبت ناک آواز گونجی برسٹ ڈرایور کو چہرے پر اور سینے پر لگا اور ساتھ ہی جو بس کا گن مین تھا اسکے بازوں کو چھلنی کر گیا جس سے اس کی رائفل دور جا گری اور بس میں سوارسواریوں کی چیخو پکار سے ماحول کو خوفناک بنا دیا تھا بگو نے چیخ کر اپنےساتھیوں کو بس کے قریب جانے کا کہا اور خود بھی محتاط انداز میں گن کو اگےکی طرف کر کے پیش قدمی کرنے لگا بس کے قریب پہنچ کر چیخ کر سبسواریوں کو نیچے اترنے کو کہا جبکہ اسکے ساتھی پوری بس کو گھیر کر اور گنیں تانکر کھڑے ہو گئے بس میں سوار جوان مرد اور بچے خوف زدہ ہو کر بس سے نیچےاترنے لگے جبکہ بس کا گارڈ ایک سائیڈ پر خوف زدہ نگاہوں سے اپنے زخمی بازوںجن میں سے خون نکل رہا تھا کو دیکھ کر کرہا رہا تھا اور ڈرائیور بے حس و حرکتاگے کی طرف سر ڈھلکائے ہوئے تھا بگو بس میں سوار ہوا اور دور پڑی گن کواٹھایا پھر ڈرائیور کو چیک کیا تو مرا ہوا پایا اطمنان سے گارڈ کی طرف موڑا ہاں بے گانڈو تو نے مجھ پر فائرنگ کیوں کی تو کل کا لونڈہ مجھے مارنے کی کوششکرنا چاہتا تھا آج میں تیری ہیرو گیری نکالتا ہوں گارڈ خوف زدہ ہو کر بگو کے پاؤں پڑ گیا اور معافیاں مانگنے لگا کہ مجھے معاف کر دوغلطی ہو گئی مجھ سے بس بدحواسی سے مجھ سے فائر ہو گیا @@@کے لیے مجھےمعاف کر دو معافی اور تجھے کبھی نہیں آج میں تیرا وہ حشر کروںگا دنیا یاد رکھے گی کہ مجھ پر گولیچلانے کا انجام صرف موت ہوتا ہے اور گن کو اس کے سینے پر رکھ کر ٹریگر دبادیا گولیوں سے اس کا سینہ چھلنی کر دیا گولیوں کی ترتراہٹ سے پورا علاقہ گونجاٹھا اور چیخو پکار کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا خاموش زور دار آواز میں بگو نے کہا اور گن سے ہوائی فائر کیا تم لوگوں کے پاس جو کچھ ہے میرے ساتھیوں کے حوالے کر دو اور اپنے اپنےموبائل بھی اگر کسی نے ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو انجام وہ دیکھ چکاہے مردہ گارڈ کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا مردو خواتین سب کے سب سہمے ہوے خوف زدہ ہو کر ایک ایک کر کے سبطلائی اور موبائل ،پیسے مسلح افراد کو دینے لگے اور ایک سائیڈ پر ہوتے چلے گئے جو بگو کے ساتھییوں میں سے ایک نے بڑا سا کپڑہ جو اس نے اپنے کندھے پر تھااسے اتار کر اس میں اکٹھا کیا اور موٹر سائیکل کی جانب چل پڑا بگو نے سب کو مخاطب ہو کر کہا دیکھوں پولیس اگر آئے تو بولنا کہ چھوٹوںگینگ کے بندے آئے اور اسے مار کر اور ہمیں لوٹ کر چلے گئے کوئی بھیہمارے راستہ میں آتا ہے اس کا انجام اس جیسا ہوگا اور ہوائی فائر کر کے موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئے
  26. چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان Update 2 انسپیکٹر آصف نے فون اٹھایا اور کال ملا دی کچھ ہی دیر میں کال رسیو ہوی اور انسپیکٹر آصف بولا سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازت ہو مودبانہ لہجہ میں کہا دوسری طرف سے کہا گیا جی بتائیں سر بات دراصل یہ ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چھوٹو گینگ جس نے اس پورے علاقہ میں خوف اور دہشت پھیلارکھی ہے “آباسائیں “پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں باوثوق ذرائع سے یہ بھی خبر ملی ہے کہ ایسا کر کے وہ ظلماور بربریت کی ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس علاقے میں اپنی دھاک بیٹھا نا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان سےڈریں اور وہ آسانی سے اپنا بھتہ وصول کر سکیں میں نے “ابا سئیں “ سے بات کی اور ان کو پولیس تعینات کرنے کا کہا پرانہوں نے صاف انکار کر دیا وہ کوئی بھی بات ماننے سے انکاری ہیں آپ کو بتانے کا مقصد کہ جیسے اب آپ حکم دیںویسے ہم بندوبست کریں گے اوکے میں بات کر کے بتاتا ہوں دوسری طرف سے کہا گیا کال بند کر دی انسپیکٹر آصف نے گہرا سانس لیا سب انسپیکٹر ارسلان جو یہ سب بات سن رہا تھا نے کہا سر بہت ہی اچھا ہو گیا ہے آپ نے ڈی پی او صاحب کو بتا کر اپنا پوائنٹ رکھا ہے اب ہمارے زمہ کوئی بھی بات نہیںآئے گی خوشامدانہ لہجہ میں کہا تمہاری تجویز ہی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا انسپیکٹر آصف نے ہنستے ہوے کہا سب انسپیکٹر ارسلان کہا کہ سر اپ کی مہربانی ہے ورنہ میں اس قابل کہا ہوں سر کہ کر کرسی سے اٹھ اجازت طلب کرکے آفس سے باہر چلا گیا سردار چھوٹو کمرے کی جانب روانہ ہوا اور دروازے پر روکا وہاں دو مسلح افراد ٹہرے تھے جن کو دیکھ کر سردار نے کہاچھمییہ کہا ہے ہے ان میں سے ایک مسلح شخص نے کہا کہ سردار وہ اندر اپ کا انتظار کر رہی ہے بڑی للچائے ہوے لحجے میں کہا سردار نے جو اس ہی کے کندھے پر پڑا کپڑا کھینچا اور چہرے پر لگے خون کے چھینٹوں کو اس کپڑے سے صاف کر کےواپس اس شخص کے کندھے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھ سے لن کو مسل کر مسکراتا ہوا اندر داخل ہو گیا کمرے میں دونوں سائڈوں سے آگ جل رہی تھی جس کی وجہ سے پورے کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی سردار نے انچی آواز میں کہا میری چھمیہ کتنا انتظار کروایا ہے میرا لن تیری پھدی میں جانے کے لیے بے تاب ہے اپنےلن کو مسلسل مسلتے ہوئے کہا کمرے کے ایک سائڈ پر چٹائی پر تقریباً نو عمر بھرے بھرے جسم والی خوب صورت لڑکی بیٹھی تھی سردار کو دیکھ کر ایکدم اٹھی اور سردار کے قریب آ کر لن کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مسلتے ہوئے بولی سردار ان تین دنوں میں مجھے تو خود سکون نہیں آیا جو تیرے لن کے بغیر گزرے ایک تڑپ تھی تیرے لن کو اپنی پھدی میںلینے کے لیے تو تو سمجھ ہی نہیں سکتا یہ کہہ کر شلوار کا ازاربند کھولا لمبے اور موٹے لن کو باہر نکال کر اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا تمہاری یہی ادا تو مجھے تیرا دیوانہ بنائے ہوے ہے سردار چھوٹو نے مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے کہا چھمیہ نے لن کی ٹوپی منہ میں سے نکالی اور کہا کہ سردار تیرا لن کا سواد کمال ہے اور پھر سے لن منہ میں ڈال کر چوسنےلگ جاتی لن اتنا موٹا تھا کہ صرف اسکا ٹوپہ ہی منہ میں مشکل سے جا رہا تھا وہ بڑے انہماک سے چوس چوس کر منہ سے ہی پٹاخہ بجاتی اور سردار زور زور سے ہنسنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو اس کے بوبز کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے چھمیہمیرے لن کو چھوڑ پہلے اپنی قمیض اتار اور میں بھی تیرے گیندوں سے کھیلوں چل چھوڑ لن کو چھمیا نے لن کو چھوڑ کر اپنی قمیض اتاری جس سے اس کے چھتیس سائز کے سانولے خوبصورت بوبز باہر کو چھلکے اور کساہوا جسم جو کہ ایک دیہاتی عورت کا خاصا ہوتا ہے اس کا جسم جو کافی حد تک سانولہ پر جازب نظر اور کمال نظر آ رہا تھا سردار جو بوبز کو بڑی للچائی ہوی نظروں سے دیکھ رہا تھا نے چھپٹ کر اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا اور کہا کیا کمال کیگیندیں ہیں واہ اور یہ کہ کر بوبز کو چوسنا شروع کر دیا سردار چھتیس سائز کے بوبز کو چوستا رہا یہاں تک کہ چھمیاں کو درد محسوس ہونے لگا اور کہا سردار آرام سے میں کہی بھاگیتو نہں جا رہی ہوں سردار نے کہا چھمیہ تیری یہ گیندیں ہیں ہی کمال کے ان کو کھا جانے کو دل کرتا ہے سردار ایک سائڈ پر ہوا اور اپنے سارے کپڑے اتار دئیے اور چھمیہ کو بھی شلوار اتارنے کو کہا دونوں اس وقت بغیر کپڑوں کے ایک دوسرے کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے اور پھر چھمیہ نے سردار کےہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملایا اور چوسنا شروع کردیا سردار بھی جوش خروش سے اس کا ساتھ دے رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد چھمیا نے سردار کے سینے پر موجود بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی اور سردار کے سینے پر کالے نپلز کو منہ میںلے لیا مزے سے سردار کی آواز نکلی آہ آہ آہ اور پھر چھمیاں نے ایک بار پھر لن کی ٹوپی کو منہ میں ڈال لیا اور لن کے نیچے بالز کو ہاتھوں سے پکڑ کر دبانے لگیپوزیشن یہ تھی کہ سردار نیچے اور چھمیہ اوپر تھی کہ اچانک ہی سردار نے چھمیاں کو نیچے کیا اور خود اوپر آ کر اس کے بوبز کوچوسنا شروع کر دیا پھر اس کے جسم کے ہر حصے کو چومنا شروع کیا اور نیچے پھدی کے لبوں پر اپنا موٹا لن رکھا اور ایکزوردار جھٹکا مارا اور چھمیا کی چیخ نکلی اور وہ بلبلا اٹھی اس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات عیاں تھے اور سردار کو کہا ظالم آرام سے اندر ڈال اس جھٹکے میں صرف لن کی ٹوپی ہی گئی سردار رکا پھر سردار نے اپنا لن باہر نکالا اور پھر آہستہ اندر ڈالا تنگ پھدی اسبات کی گواہی دے رہی تھی کہ زیادہ اس کو استعمال نہیں کیا گیا پھر پھدی میں لن ڈال کر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگاجس سے چھمیا کی مزے سے آنکھیں بند ہو گئی اور اس کے منہ سے آوازیں نکلنا شروع ہو گی آہ آہ آہ سردار کے لن کی ٹوپی کے مزے سے پھدی میں لیس دار پانی کی وجہ سے لن قدرے بہتر اندر باہر ہو رہا تھا کہ اچانک طاقت ور جھٹکا دیا سردار نے ساتھ ہی چھمیہ کی چیخ نکلی اور آدھا موٹا اور لمبا لن سخت پھدی کے اندر جا سکاایک اور طاقت ور جھٹکے کے ساتھ پورا لن اندر چلا گیا اور سردار پھر رکا اور آہستہ آہستہ لن کو ہلانے لگا چھمیاں کا اسآخری جھٹکہ کے ساتھ پورہ جسم لرز اٹھا تھا راڈ کی طرح سخت لن موٹا ہونے کی وجہ سے پھدی کے پڑخچے اڑانے کیصلاحیت رکھتا تھا سردار اپنے جھٹکوں کو آہستہ آہستہ اضافہ کرتا گیا اور پورے کمرے میں دونوں کی آواز سرور سے بھریمست آوازیں گونجنے لگی ایسا لگ رہا تھا کہ اس چدائی کا دونوں ہی مزا لے رہے ہوں اب لن کافی حد تک اندر باہر آسانی سے ہو رہا تھا اور سردار کے طوفانی جھٹکوں کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی کہاچانک ہی چھمیہ کا جسم اکڑا اور پھودی نے پانی چھوڑ دیا جب کہ سردار کے جھٹکے با دستور لگتے رہیں کچھ ہی پل میں سرداربھی پھدی میں اپنا پانی چھوڑ کر ریلیز ہو گیا اور چھمیہ کے اوپر لیٹ کر ہونٹوں کو چوسنے لگا لن پھدی کے اندر ہی رہنےدیا ابا سائیں چودائی کے بعد دھوتی پہن کر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو آواز دی “بلا “کتھاں مر گئی (کہا مر گیا ہے) ایک جانب سے وہی بلی سی آنکھوں والا بھاگتا ہوا آیا حکم کرو سائیں اندر ونج ڈیکھ او چھوکری اگر جیندی ہے تا ہوکو کتھائی سٹ آ مر گی ہے تا جنگل وچ پور آ (اندر جا کر دیکھو کہ لڑکی زندہ ہے تو کس جگہ اسے پھینک او جبکہ مر گئی ہو تو جنگل میں جا کر اسے دفن کر دو ) جو حکم “ابا سئیں “ بلا نے سن کر جواب دیا ابا سئیں یہ کہ کر ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب گیا اور بیٹھ گیا یہ وہی کمرہ تھا جہاں پر اس ایچ او سے فون پر بات ہویتھی وہاں موجود ملازم جس کا نام عطی تھا کو کہا ونج میڈے واسطے کھاونڑ دا بندو بسط کر میں دھاں کے امدا پیاں (جاؤ میرے لیے کھانے کا بندوبست کرو میں نہا کر آ رہا ہوں ) ابا سئیں نہانے سے فارغ ہو کر کھانا کھایا اور ڈیکار مار کر بولا عطی ! اے ڈس بلا نے کیا کیا انتظام کیتے ہوں کنجر گانڈو واسطے ابھی عطی بتانے ہی والا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی عطی نے فون جو ایک سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا کو اٹھا کر ابا سائیں کو دیا ابا سئیں کال اٹھا کر بولا جی کونڑ بولیندا پائیں کون بول رہا ہے دوسری طرف سے باوقار لہجہ میں کہا گیا ڈی پی او عارف نواز خان میں صدقے تھیواں آج کیوے صاحب بہادر بھول پیے ہین شکر ہے ساڈی یاد تا آئیں (میں صدقے جا آج کیسے ڈی پی او صاحب بھول کر یاد کر بیٹھے ہیں شکر ہے میری یاد تو آئی ) ابا سائیں آپ کو تو پتہ ہے کہ میں بہت مصروف رہ جاتا ہوں اس ضلع میں کام کا برڈن بہت زیادہ ہے ورنہ آپ کو تو میںضرور کال کرتا ڈی پی او عارف نواز نے کہا جیا سائیں جیا میکوں پتہ ہے کہ صاحب بہادر مصروف رہندے پر سجنڑاں واسطے ٹائم کڈھ گنیدے قبلہ ہنڑ حکم کرو یادکیویں کیتا ہوے (جی مجھے پتا ہے کہ آپ مصروف ہوتے ہیں پر سجن دوستوں کیلئے ٹائم نکالنا پڑتا ہے اب حکم کریں کیسے یاد کیا ) ضرور جناب ضرور میں وقت نکال کر آونگا آپ کے پاس اج مجھے ایس ایچ او کی کال آئی تھی بتا رہا تھا چھوٹو گینگ کےبارے میں کہ وہ آپ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں آپ سے ایس ایچ او نے پولیس تعینات کرنے کا کہا پر آپنے انکار کر دیا ابا سائیں بولا صاحب بہادر اے ٹھیک ہے کہ میں تہاڈی عزت کریندا پر ہندا اے مطلب نہیں کہ تسا میڈی توہیں کرومیں نا مرد نہیں ہاں جو پولیس دا سہارا گہنا میں اپنے دشمنا نال نبڑن جانڑدا میں خود ہوکو ایسا سبق ڈیسا کہ کہ او مر کے ویمیکوں کینا بھل سکسی تسا پریشان نہ تھیوں غصے سے ابا سائیں نے فون بند کر دیا (ابا سائیں نے کہا کہ ڈی پی او صاحب یہ بات ٹھیک ہے کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپمیری توہین کریں میں نامرد نہیں ہوں جو پولیس کا سہارا لوں میں اپنے دشمنوں سے نپٹنا جانتا ہوں میں خود اس کو ایسا سبقدونگا کہ وہ مر کر بھی یاد رکھے گا ) انسپیکٹر آصف اپنے آفس میں موجود فائلوں کو پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی آفس کے باہر شور شرابہ سنائی دیا جو انسپیکٹر کو ڈسٹرب کر رہا تھا تو اس نے بیل دی باہر موجود سپاہی اندر داخل ہواسلیوٹ کیا تو انسپیکٹر آصف نے کہا کہ یہ کیا باہر شور ہے کیا مسلۂ ہے تو اس سپاہی نے کہا کہ سر باہر ایک بڑھا آیا ہوا ہے جو اپنی بیٹی کو گمشدگی کی رپٹ لکھوانا چاہتا ہے اور زاروقطار رو رہاہے ایک دم سے اس کو یاد آیا کہ جب وہ تھانے آ رہا تھا تب ایک بوڑھا اس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا یہ خیال آتےہی وہ اٹھا اور باہر آ کر دیکھا تو تھانہ کے منشی کے روم سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ اس جانب چلا گیا ہولدار اورتھانہ کا منشی ایس ایچ او آصف کو دیکھ کر کھڑا ہو کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے اس بوڑھے کو دیکھا جو وہی بوڑھا تھا جو راستے میں ملا اس نے بوڑھے کو مخاطب کر کے کہا میرےآفس میں آؤ مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے وہاں ٹھرے سپاہی کو کہا کہ ان کو میرے آفس لے آؤ یہ کہ کر انسپیکٹر آصف اپنےآفس کی جانب روانہ ہوا بوڑھے نے جب انسپیکٹر کو دیکھا ایک دم سے چونک گیا اور خاموش ہو کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا آفس کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف نے جب بوڑھے کو اپنے آفس کے دروازے پر دیکھا تو کھڑے ہو کر ایک جانب آفس میں موجود کرسی پر بیٹھایا اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا بزرگ کے ساتھ آیا ہوئے سپاہی کو کہا بابے کے لیے پانی لے آؤ سپاہی باہر گیا پانی لے آیا بابے کو دیا بابے نے پانی پیا اور انسپیکٹر نے سپاہی کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور وہ باہر چلاگیا انسپیکٹر آصف نے کہا کہ سب سے پہلے میں معافی چاہتا ہوں کہ راستے میں آپ سے جو غیر مناسب رویہ رکھا امید ہے کہآپ مجھے معاف کر دیں گے میں بہت شرمندہ ہوں شرمندہ سے لہجہ میں انسپیکٹر آصف نے کہا بابے نے کہا بیٹا معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کرو میں سمجھتا ہوں آج کل کے نوجوان غصیلے ہیں میں بہتر جانتا ہوںکیونکہ میں سرکاری سکول میں ہیڈماسٹر رہا ہوں بیٹا بس میں صرف اپنی بیٹی کی گمشدگی کے بارے میں رپٹ لکھوانا چاہتا ہوں جو دو دنوں سے غائب ہے میں نے اسے ہرجگہ ڈھونڈا پر کہی بھی اس کا کہی بھی آتا پتہ نہیں ملا بیٹا بس میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرو میرا اس کے علاوہکوئی نہیں بوڑھے نے ابدیدہ ہو کر کہا انسپیکٹر آصف نے کہا آپ پریشان نہ ہوں آپکی بیٹی کو ڈھونڈنے میں آپ کی بھرپور مدد کرونگا اور بیل بجائی باہر ٹھہرہ ہوا سپاہی اندر آ کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر نے تہمکانہ لہجہ میں کہا کہ ارسلان کو بلاؤ جی سر سپاہی کہہ کر باہر بلانے چلہ گیا تھوڑی ہی دیر میں سب انسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور ایک جانب بیٹھ گیا بزرگو آپ کا نام تو میں پوچھنا ہی بھول گیا انسپیکٹر آصف نے کہا میرا نام کرم دین ہے بوڑھے نے اپنا نام بتایا ارسلان یہ کرم دین ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ دو دن سے ان کی بیٹی غائب ہے ہر جگہ تلاش کر چکے ہیں پر کہی بھی اس کا پتہنہیں چل سکا ان کو لے جاؤ پوری ڈیٹیل لے کر سب سے پہلے ان کی بیٹی کی تلاش کرو اور مجھے رپورٹ کرو انسپیکٹر آصفنے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے جوابا کہا جی سر جو آپ کا حکم کرم دین ٹھا اور انسپیکٹر آصف سے مخاطب ہو کر کہا میں آپکا شکر گزار ہوں اپ کی مہربانی مجھ جیسے غریب پر مہربانی کر رہے ہیں میں آپ کا احسان مند رہونگا ہمیشہ اوردعائیں دینے لگا انسپیکٹر نے کہا بابا جی اپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں میں تو پہلے ہی شرمندہ ہو جو شام کا واقعہ ہوا بس اپ مجھے اپنا بیٹاسمجھیں میری تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں اٹھ کر انسپیکٹر نے کرم دین کو گلے لگایا اور کرم دین پر نُم انکھوں ارسلان کے ساتھ افس سے باہر نکل گیا بل بجائی اور سپاہی کو بولا منشی کو بلا لاؤ منشی نے آتے ہی سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے کہا جاؤ چھوٹو گینگ کے جرائم کی مکمل فائل میری گاڑی میں رکھوا دو میںگھر جا رہا ہوں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مجھے سے موبائل پر رابطہ کر لینا یہ کہہ کر انسپیکٹر آصف باہر جانے کیلے اٹھ کھڑاہواگاڑی میں بیٹھا اور منشی سے فائل لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا بگو سردار چھوٹو کی بات سن کر ایک طرف جہاں گھنہ اور تاریک جنگل کی طرف روانہ ہوا وہاں چھ مسلح افراد تھے ان کوجا کر کہا چلوں شہر کی طرف چلو موٹر سائیکلیں لے آؤ اور ساتھ میں کلہاڑیاں بھی لے انا یہ سن ان میں سے تین بندے گیے اور تین موٹر سائیکلیں 125 سی سی لے آئے اور وہ چھ مسلح افراد تین موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر شہر کی جانب نا ہموار سے راستوں سے شہر کی جانب توانا روانہ ہوئے راستہ میں ایک مسلح شخص نے پوچھا کہ بگو خیر تو ہے آج کہاں واردات کرنے کا ارادہ ہے بگو مسکرایا اور کہا تو بس دیکھتا جا آج کافی مال اکٹھا کرنا ہے باتیں کرتے کرتے وہ لوگ مین روڈ پر جہاں چھوٹے اوربڑے درخت سڑک کے کنارے پر لگے ہوئے تھے پہنچ گئے بگو مین روڈ کے ایک سائڈ پر رکنے کا اشارہ کیا موٹر سائیکل سوار رک گئے چلو اس درخت کو کاٹو بگو نے ایک جانب درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دو مسلح افراد نے اپنی اپنی کلاشنیں ایک شخص کو دے کر درخت کو کاٹنے لگے کچھ ہی دیر بعد درخت کٹ کر زمین بوسہوا اس کو سڑک کے درمیان ڈال کر سائڈوں پر لگے درختوں کے پیچھے چھپ جاؤ بگو نے کہا اب منظر یہ تھا کہ کہ سڑک درخت کی وجہ سے بلاق ہو گئی تھی کچھ ہی دیر بعد ایک اے پی وی وین دور سے آتی دیکھائی دی بگو زیر لب مسکرایا اور کہا پہلا شکار آ رہا ہے وین ڈرائیور نے گرے درخت کو دیکھ کر زور دار بریک لگائی پر پھر بھی درخت سے چند انچ کی دوری سے ٹکراتے بچییں اے پی وی کے رکتے ہی مسلح افراد نے اس کا گھیراو کر لیا اور گنیں تان کر ڈرائیور کو نیچے اتارنے کا اشارہ کیا بگو گےبڑہااور ایک زور دار تھپڑ ڈرائیور کو دے مارا تھپڑ کھا کر خوف زدہ ہو کر اپنا گال مسلنے لگا جبکہ اے پی وی میں موجود سواریاں جن بچے اور عورتیں بھی شامل تھی اسناگہانی صورت حال میں خوفزدہ دیکھائی دے رہے تھے بگو نےسب کو نیچے آنے کا کہا سب کے سب لوگ وین سے نیچے اتر کر ایک سائڈ پر ہو لیے میں آب سب کو کچھ نہیں کہونگا جو جو کچھ ہے سب کا دے دو اگر کسی نے کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو انجام کا وہخود زمہ دار ہو گا سب نے چپ چاپ جو کچھ بھی تھا نکال کر دے دیا چوں چراں کیے بغیر نکال کر دے دیا اتنے میں ایک بس آتی دیکھائی دی تو بگو نے سب کو چیخ کر کہا سائڈ پر ہو جاؤ بس کو لوٹنا ہے بس بھی حسب توقع گرےدرخت کے پاس آ کر رکی بگو جونہی درخت کی آوٹ سے باہر نکلا فائر کی آواز آئی اور بگو زمین پر جا گرا
  27. ارے جناب کہانی پڑھیے اور پھر جانیے کہ میں نے کس کو ٹارگٹ کیا ہے۔ میرا ٹارگٹ ابھی کسی پہ واضع نہیں۔ ہائی فائی کلاس اور لوئر مڈل کلاس سب کو میں نے موضوع بنایا ہے۔ کہانی کا مقصد ذہن کو کھولنا ہوتا ہے کسی کو نشانہ بنانا نہیں۔
  28. ہممم ڈاکٹر صاحب آپ نے جو اپنے کمنٹ میں لکھا تو اور بہت سے پہلو سامنے آگئے. جب ہر چیز شامل ہوگی تو کہانی کامیابی سے چلے گی. میرا کا آپ نے ٹھیک کہا کہ اب تو اس کو اپنے شوہر سے نفرت ہوگی. حسین عورت وڈیروں کی کمزوری اور زور آور مرد وڈیروں کو مرغوب واہ. آپ نے اس میں بہت سے کردار متعارف کرائے سب کردار اپنی جگہ انتہائ اہم ہیں. ہوسکتا ہے اور بھی آئیں گے. ان سارے کرداروں کو اتنے احسن طریقہ سے چلانا ایک منجھے ہوئے لکھاری کا ہی خاصہ ہے. ڈاکٹر صاحب آفرین
  29. !محترم ایڈمن میں آہنی گرفت اور ہوس دونوں سٹوریز پڑھانا چاہتا ہوں جو کہ اب مکمل ہوچکی ہیں۔ ان کہانیوں کی قیمت کے بارے میں جانا چاہتا ہوں۔ دونوں کی اکٹھی اور علیحدہ علحدہ قیموں کے بارے ۔ اور یہ کہ کس طرح ادائیگی کی جائے۔ !شکریہ
  30. 1 like
    Update 53 Hania.nnnnooooooorrr aaapppiii Noor.han kia hova Bua.beta hat jao kat ly ga Noor.kuch nhi hota ami dakho na kitna cute hy Bhabhi.ya tum ko cute lag raha hy Bhai.tum ny to kisi Shera ko bulaya tha Noor.han to yahi to hy Shera Sab.kiaaa Main.han yahi to hy mera dost Maa.beta mujhy dar lag raha hy Mainy koi jawab na dia unko smjh aa gai Noor.kuch nhi hota mami dakho kab sy yahin khara hy kisi ko kuch kaha kia Papa.beta ya aisy Q hy Noor.mamo es ko special training di hy enhon ny esi lia en k hukam k bina ya kuch nhi krta or bhi hain boht sy bilkul esi k jaisy Sabhi normal ho gay phr bhi kuch dar to tha faizan abhi tak andr hi tha usy bhi bahir bulaya wo darty darty bahir aya Noor.kia hova faizan bhai ap ny to kaha tha k ap kisi sy nhi darty Faizan.hhhaaan tttoo mmmuujjhhyy kkiiaa ppaattaa tthhaa kk ttuumm kkiissii sshhaaiirr kkoo bbuullaaoo ggii eessyy ddaakkhh kk ttoo kkooiii bbhhii ddaarr jjaayy ggaa Noor.main to nhi darti dakho kab sy yahin hy kuch bhi nhi kaha Bua.wo sab choro (papa sy) bhai mujhy lagta hy k ab noor ki shadi kr deni chyiea abhi to kashif sath tha to fikr nhi thi per kab tak har bar to ya sath nhi ho ga Papa.thek hy mujhy bhi yahi lagta hy ya sath hon gy to mujhy bhi fikr nhi ho gi Phupha.thek hy phr date final kr dety hain Main.per bua mujhy abhi apni study puri krni hy Maa.to kia hova salman bhi shadi k baad study hi kar raha hy tum bhi krty rehna Phupha.or wesy bhi business ki to tum ko fikr hy nhi wo to ali hi smbhal raha hy Ali.han kashif ab shadi kr hi lo kab tak aisy noor ko protect kro gy jab dono sath ho gy to us k maa bap ko bhi fikr nhi ho gi sab ko pata hy k wo tumhry sath zaida safe hy Main.thek hy jaisy sab ki marzi Mamo.wo sab to thek hy per ya business ka kia chakr hy Maa.kuch nhi bhai ap ny business king ka suna ho ga Mamo.han suna hy kehty hain boht amer hy wo cahy to adha mulk khreed sakta hy phr bhi aram sy beth k khaa sakt hy per usy kisi ny dakha nhi aj tak Phupha.per ham ny to dakha hy or ham usy janty hain Faizan.jab usy kisi ny nhi dakha to ap kesy janty hain Bua.Q k wo hmary samny betha hy Faizan,mamo,bhai,bhabhi or hania ko ya sun k jhatka laga us k bad wahin shadi ki date final ki gai jo k 20 din bad ki thi agly din ham sab mamo ki family bhi wapis aa gay Q k ab shadi thi din kam thy or tyari zaida esi lia mainy baji arfa ko bhi bula lia tha jab un ko pata chala shadi ka wo bhi boht kush hovi SHERA or SIMBA zaida mery sath hi rehty thy ghar k pichy hi aik pet house un k lia bana dia ghar waly bhi ab nhi darty thy aisy hi time guzar gaya shadi bhi ho gai sab ny khob enjoy kia first night ko main noor k sath aik farm house per tha k achnak Wait 4 next
  31. کہاں ہیں وہ سب ممبرز جو پردیس کو فری دیکھنا چاہتے ہیں۔ 36 گھنٹوں میں ابھی تک صرف ایک ممبر کا رپلائی آیا ہے ؟ آج رات تک کا ٹائم ہے اور مزید 9 ووٹ ہونے چاہیں۔ ورنہ بعد میں کوئی ممبر یہ بات نہیں کرے گا۔
  32. A1,Wonderful Job or mazeed mazey ki updates ka itizar shidat sey hey.
  33. میں آپ دوستوں کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ ماہ سے ڈاکٹر صاحب ایسی جگہ پر جاب کی وجہ سے بہت مصروف ہیں ۔جہاں نیٹ تو کیا موبائل کے بھی سگنل نہیں ہیں۔مزید میں اس تھریڈ کو تب تک کے لیئے کلوز کر رہا ہوں جب تک کہ اس کی اپڈیٹ پوسٹ نہیں ہو جاتی۔ڈاکٹر ساحب اس سیکشن کے موڈریٹر بھی ہیں ۔وہ خود اپنا تھریڈ اوپن کر سکتے ہیں ۔شکریہ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.