Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Sheikhg4u

Active Members
  • Joined

  • Last visited

  1. آپ کی پسندیدگی کا شکریہ بھائی سٹوری ہے تو نام کی مناسبت سے اس کا قد بھی چھوٹا لکھا گیا ہے پوری کوشش ہو گی کہ کہانی لمبی اور دلچسپ ہو آپ کی محبتوں کی اگے بھی ضرورت پڑے گی شکریہ
  2. پیارے بھائی آپ کی پسندیدگی کا شکریہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ سٹوری کی آپ ڈیٹ جلد سے جلد دے دو پر مصروفیات آڑے آ جاتی ہیں امید ہے کہ آپ مجبوری سمجھیں گے
  3. آپ کی پسندیدگی کا شکریہ کس جگہ بہتری کی گنجائش ہے وہ بتا دیں تاکہ نیکسٹ آپ ڈیٹ آپ کے معیار کے مطابق لکھ سکوں آپ کے جواب کا انتظار کرونگا
  4. پیارے بھائی سب سے پہلے پسندیدگی کا شکریہ پہلی بات کہ ہر سین کے درمیان دو لائنز کا گیپ تھا پر الفاظ الگ الگ ہو رہے تھے تو میں نے ایڈمن صاحب کو سٹوری بھیجی انہوں نے سیٹ کر کے اپ لوڈ کی دوسری املا کے بارے میں اپ نے کہا تو بھائی کوشش ضرور ہوتی ہے املا کی غلطی نہ ہو پر پھر بھی اگر کوئی کمی رہ جائے تو بڑا دل کر کے انگور کیجیے گا اگے بھی آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی شکریہ
  5. اپڈیٹ نمبر 4 چھوٹو گینگ کے ظلم کی داستاں انسپیکٹر آصف گھر پہنچا ملازم جس کا نام بختو اور عمر تقریباً 50 سال کا تھا کو آواز دی بابا کھانا لگاؤ خود واش روم گھس گیا کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر نائٹ ڈریس پہن کر واش روم سے باہر نکلا اتنی دیر میں بختو بابا کھانا لے کر آ گیا اور انسپیکٹر آصف نے کھانا کھایا کھانا کھانے کے بعد بابا بختو چاۓ کا کپ دیتے ہوے انسپیکٹر آصف سے کہا بیٹابڑی بی بی کا فون آیا تھا آپ کا پوچھ رہی تھی آپ کے بارے میں کافی فکر مند تھی تو میں نے ان کو تسلی دی کہ آپ ٹھیک ہیں پر وہ کافی دل برداشتہ تھی اور بار بار بول رہی تھی کہ تمہیں سمجھاؤں کہ تم اپنی پوسٹنگ یہاں سے کسی دوسری جگہ کروا لو بختو بابا نے کہا اماں کو میری فکر ہے مجھے پتہ ہے ان کو جب میری یہاں پوسٹنگ کا پتہ چلا وہ کافی ڈر گئی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہاں ڈاکو راج ہے اور ان ڈکووں کی دہشت کی وجہ سے وہ کافی خوفزدہ تھی پر بابا میری سرکاری نوکری ہے میں یہاں جرائم کی روک تھام کے لیے آیا ہوں افسران کو پورا اعتماد ہے کہ میں ان درندوں کا مقابلہ کر کے کرار واقع سزاہ دیلواؤنگا آپ تو سمجھتے ہیں انسپیکٹر آصف نے کہا بیٹا مجھے پورا یقین ہے تم پہ کہ تم ان درندوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں چلو بیٹا آرام کرو کافی تھک گئے ہو گے ادھی رات گزر چکی ہے بختو بابا نے پر خلوص لہجہ میں کہا انسپیکٹر آصف نے سر ہلا کر اپنے بیڈ پر سونے کیلیے لیٹ گیا ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک موبائل بج اٹھا آصف نے ناگواری سے موبائل اٹھا کر بات کی اور ایک دم سے چونک آٹھا اور جلدی سے کہا میں آتا ہوں تم وہاں باقی کے کام نپٹاؤ انسپیکٹر آصف ٹراوزر اور شرٹ پہنے باہر موجود گاڑی کی طرف گیا اور گھر سے روانہ ہو گیا کچھ ہی دیر بعد وہ جب متعلقہ جگہ پہنچا تو وہاں پولیس کی نفری اور ایمبولینس کی گاڑیاں موجود تھی انسپیکٹر آصف کو دیکھ کر ایک نوجوان فوری اس جانب آیا اور انسپیکٹر آصف کو سلیوٹ کیا مسافربس اور وین پر چھوٹو گینگ کی ڈکیتی اور قتل کے بارے میں رپورٹ دینے لگا انسپیکٹر آصف اس نوجوان کو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ موبائل بجا موبائل نکال کر بات سنی اور جی سر میں موقع پر موجود ہوں جلد رپورٹ تیار کر کے آپ کو صبح تک پیش کرونگا جی سر آپ بے فکر رہیں ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے اوکے سر دوسری طرف سے سن کر آصف نے گہراہ سانس لیتے ہوئے موبائل بند کیا اور کہا کہ ارسلان یہ کاروئی پولیس کو چیلنج دینے کے مطرادف ہے میں اس گینگ کو نہیں چھوڑوں گا انھوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے ڈی پی او صاحب بہت غصہ میں ہیں اور وہ اس گینگ کے خلاف کاروائی کا حکم دہے ہیں اب جلد ہی ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے انسپیکٹر آصف نے جوشیلے انداز میں کہا اور جواب میں ارسلان نے کہا جی سر ان مسافروں خصوصا خواتین اور بچے کافی خوف زدہ ہیں ان بے رحم لوگوں نے جس طرح گارڈ کا قتل اور لوٹاہے لوگ کو بہت خوفزدہ کر دیا ہے آپ بے فکر رہیں ہم جلد ہی ان ظالموں کو کیفریکردار تک پہنچائیں گے خواتین سے تو انہوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی انسپیکٹر صدف نے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے نہ میں سر ہلایا اوکے ان لوگوں کا بیان ریکارڈ کر لو اور ان سب کے ایڈریس لے کر قانونی کاروائی مکمل کرو اور پولیس پروٹیکشن میں یہاں سے روانہ کرو اور نعش کو پوستمارٹم کے لیے ہسپتال بھیجو اور رات کو پولیس کا گشت اور موثر کرو اور اس جیسا گھنونہ واقع دوبارہ نہ ہونے پائے اس کے بارے میں انتظام کرو اور تم خود اب اس کی نگرانی کرو گے انسپیکٹر آصف نے کہا اور واپس گاڑی کی جانب آ کر گھر کی جانب روانہ ہو گیا سردار چھوٹو لیٹا ہوا چھمیہ سے بہت پیار سے بولا کہ آج مزاج آ گیا کیا کمال کا چدی ہے تو گانڈ بھی تیری سیل بند تھی سردار میرا تو تکلیف سے برا حال ہو گیا ہے گانڈ میں ایسا لگ رہا ہے کہ لال مرچ ڈال دی ہو اور تیری ضد کی وجہ سے ادھ منہ کر دیا ہے میری گانڈ کو تھوڑہ بھی رحم نہیں آیا سردار تجھے تو چھمیہ نے تکلیف دہ آواز میں کرہاتے ہوے جواب دیا سردار نے قہقہ لگا کر کر کہا چھو ڑ او چھمیہ تو توخوش قسمت ہے کہ تیری پھدی اور گانڈ سردار چھوٹو نے کھولی ہے وہ بھی پیار سے ابھی تو تو نے سردار چھوٹو کا غصہ دیکھا نہیں چل اب اٹھ اور جا کل پھر آ جانا تہمکانا لہجہ میں کہا اور سردار چھوٹو کپڑے پہن کر کمرے سے باہر آگیا اور آواز دی بگو کہا گیا ہے اس کو بلا لا باہر کھڑے مسلح شخص سے کہا تو اس نے جواب دیا سردار وہ بندوں کے ساتھ کہی گیا ہے اچھا چل میں سونے جارہا ہوں تو اس چھمیہ کو گھر چھوڑ آ اور سن کوئی حرکت نہ کرنا جی سردار جو حکم مسلح شخص نے کہا (ریڈرز کی پرزور ریکوسٹ پر سرائیکی کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا ) کمرے میں پہنچ کر اب سائیں نے نیلی سے کہا جانو آؤ نہ میرے پاس کیوں غصہ کرتی رہتی ہو تم جیسی حسینہ تو بس صرف مسکراتی ہوئی ہی پیاری لگتی ہے تمہیں پتہ ہے نہ کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تم تو میری جان ہو ابا سئیں نے اپنی باہوں میں لے کر نیلی سے کہا اور اپنے ہونٹ نیلی کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور آرام آرام سے چوسنا شروع کر دیے پہلے اوپر والا ہونٹ چوسا اور مدہوش ہو کر کہا تمہارے ہونٹوں کا رس جب تک نہ پیؤں مجھے سکون ہی نہیں آتا کیا لزت ہے ان میں اور پھر نیچے والے ہونٹ کو چوسنا شروع کیا جی سائیں مجھے پتہ ہے کہ مجھے تڑپانے میں آپ کو مزہ آتا ہے میں بھی اپ کے بغیر نہی رہ سکتی اس بات کا اپ کو تو پتہ ہی ہے اور آپ اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں نا نیلی نے ابا سائیں کا چہرے کو پکڑ کر ایک سائڈ پر کرتے ہوئے کہا نیلی میری جان تو میں کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا بس کام بھی تو کرنا ہوتا ہے تو سمجھا کر آخر تو نہیں سمجھے گی تو اور کون سمجھے گا بس تو منہ نہ بنایا کر میرے دل کو کچھ ہوتا ہے جب میں تمہیں غصہ میں دیکھتا ہوں اب سئیں نے کہا اور پھر ہونٹوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی پر نیلی بھی تڑپانا خوب جانتی تھی اس نے منہ پھیر لیا اور کہا میں سب سمجھتی ہوں سائیں اپ کے مسکوں کو میں اگر آپ آیندہ سے وقت پر نہ ایے تو آپ نیلی کو چھو بھی نہ سکو گے یہ آپ کی سزا ہو گی اب سائیں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا نہ میری جان ایسا نہ کہوں میں وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ میں جلد آیا کروں گا اب جلدی سے اپنے ہونٹوں کا جام پینے دو بس کرو نہ تڑپا و ابا سائیں نے التجائیا لہجہ میں کہا نیلی ہنس پڑی حاضر میرے راج کمار اور اپنے ہونٹ ابا سائیں کے ہونٹوں پر رکھ دیا کافی دیر کسنگ کے بعد ابا سائیں نے اپنی قمیض اتاری اور اور نیلی کی بھی قمیض اتار دی جس سے اس کا دودھیا خوبصورت بدن اور بلیک برا میں قید ممے ابا سئیں کو دعوت پیار دے رہے تھے واقعی نیلی کا جسم ایک دوشیزہ کے جسم کی طرح خوبصورت اور کمال کا کسہ ہوا تھا پیٹ اندر کو اور مموں کا سائز 38 پتلی کمر اور گانڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی جو کسی بھی کو بھی بے قابو کرنے کے لیے کافی تھی ابا سائیں نے جب حوس زدہ نگاہوں سے نیلی کے خوبصورت بدن کو دیکھا تو دیکھاتا ہی رہ گیا اور کہا آج بھی تم پہلی رات کی دلہن کی طرح حسین و جمیل اور کچی کلی لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے حسن کے سہر میں جکڑ سا گیا ہوں نیلی میری جان واقع ہی تم بہت ہی خوبصورت ہو نیلی نے شرما کر کہا سائیں اپ ہر بار یہی کہتے ہیں میں نہیں آپ کی نگاہیں خوبصورت ہیں جن کو ہر چیز خوبصورت لگتی ہے ابا سئیں نے ایک قہقہ لگایا اور اپنے ہونٹوں کو نیلی کی گردن پر رکھا اور پوری گردن پر اپنی زبان پھیرنے لگا نیلی مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی سائیں آپ کے پیار کرنے کا انداز مجھے بے قرار کر دیتا ہے اور اپنے حاتھوں کی انگلیوں سے ابا سئیں کے سینے کی نپلز کو مسلنے لگی جس سے ابا سئیں کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی اور اسی دوران نیلی نے اپنی زبان سے سینے پر موجود نپلز پر پھیرنا شروع کیا ابا سئی کپکپا اٹھے نیلی ابا سئیں کے نپلز چوستی جا رہی تھی اور ابا سئیں آنکھیں بند کیے مزے سے آوازیں نکال رہے تھے ابا سئیں اپنے ہاتھوں 38 سائز کےنیلی کے گول مٹول مموں کو دبا رہے تھے اباسئیں نے اپنے نپلز چوستی نیلی کے چہرے کو اپنی انگلی سے اپ کیا اور ہونٹوں کو چوسنے لگا کمر پر موجود برا کا ہک کھولنے لگا اور مموں کو برا سے آزاد کر دیا ہونٹوں کو چھوڑ کر اباسئیں آزاد مموں پر ایسے ٹوٹا جیسے دیر ہو گئی تو ان کا رس چوسنے سے محروم نہ ہو جائے جہاں جہاں مموں پر ابا سائیں چوستہ وہاں وہاں پیار کے سرخ نشان پڑتے جا رہے تھے جو اس کی پتلی اور نرم و ملائم جلد کی نشان دہی کر رہے تھے اباسئیں نے مموں کا نپل چوستااور انگلی پھودی کی لکیر پر پھیر رہا تھا جس سے نیلی گانڈ اٹھا آٹھا کر انگلی کو اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی پر ابا سئیں تو انگلی شلوار کے اوپر اوپر سے ہی پھیر کر تڑپا رہا تھا نیلی اچانک سے ابا سائیں کو دھکیلا اور اب سائیں کی شلوار اتار کر لن کو دونوں ھاتھوں سے مٹھ مارنے کے انداز میں ہلانے لگی اس وقت اباسئیں کا لن پورے جوبن پر تھا لمبا اور موٹا لن نیلی کے دونوں ہاتھوں میں پورہ نہیں آ رہا تھا پھر نیلی نے لن پر اپنے گرم ہونٹ رکھے تو ابا سائیں کے منہ آہ آہ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی مداحوش آواز آنے لگی نیلی لن کو ایسے چوس رہی تھی جیسے بچے لولی پاپ مزے سے چوستے ہیں چوپہ لگاتے لگاتے ابا سئیں نے اچانک ہی نیلی کو روکا اور نیلی کی شلوار اتار کر اس کی پھودی میں اپنی انگلی ڈال کر دانے کو چھیڑتا رہا اور اپنی زبان کو نیلی کے مموں اور پھر پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیتا جس سے نیلی کی سرور سے بھری آوازیں کمرے میں گونج رہی تھی جب بھی انگلی پھدی کے دانہ سے رگڑ کھاتی جس سے نیلی کے جسم میں سرور کی سی کیفیت ہوتی اور سیکسی آوازنکلتی اباسئیں نے نیلی کو نیچے لٹا کر اپنا لن اس کی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور آہستہ آہستہ لن کو اندر ڈالنا شروع کیا لن نیلی کی ٹائٹ پھودی میں مشکل سے جا رہا تھا نیلی کمال کی سیکسی جسم کی مالک تھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے جسم کا خاص خیال رکھتی ہے ابا سائیں نے ایک ہلکا سا جھٹکا لگایا جس سے لن پدھی کی دیوروں کو مسلتا ہو آدھا اندر چلا گیا جس سے نیلی کے گلے سے ایک مسحورکن آہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی جان من تمہیں پتا نہیں میں کتنا بےتاب ہوتا ہوں تمہاری پھدی میں لن ڈالنے کیلیے سئیں نے ایک زور دار جھٹکا لگایا جس سے پورہ لن جڑہ تک پھدی کے اندر چلا گیا اور مزے سے نیلی کی چیخ نکل گئی اور کہا سئیں آرام سے ڈالو اس کی آوازمیں سرور تھا لگ رہا تھا کہ وہ سیکس کو انجوائے کر کے کرنا چاہتی ہے ابا سئیں نے کہا حا ضر سائیں جو میری رانی کا حکم میں آرام سے ہی ڈالوں گا اگلی بار اور ہنسنا شروع کر دیا اس وقت ابا سئیں لن کو اندر باہر کرنے میں مشغول اور ساتھ ساتھ ہی وہ دونوں مزے سے بھرپور سیکسی آوازیں نکال رہے تھے اور گھپ گھپ کو آوازوں اس بات کی گوئی دے رہی تھی کہ پھودی مزے سے پوری طرح گیلی ہو چکی ہے دونوں کے مسرور کن اوازیں نکل رہی تھی اندر باہر کرتے ابا سئیں ایک دم رک گیا لن کو باہر نکال کر نیلی کو کہا کہا جانو! ڈاگی سٹائل میں کرتے ہیں نیلی مسکرائی اور ابا سئیں کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا اور لن پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا جو حکم میری سرکار لن کو دیکھتے اور ہلاتے ہوئے کہا اور اگے کو جھک گی ابا سئیں نے جب باہر کو ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھا اور اس پر انگلیاں پھیرنے لگا تو نیلی نے فورا کہا سئیں پھدی نہیں ہے یہ جلدی ڈالو پدھی میں گانڈ کو کچھ مت کرو حاضر سئیں جو میری رانی کہے میں تابع دار اور اپنا لن حاتھوں سے پکڑ کر ڈوگی سٹائل بنی نیلی کی پھودی کے سراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر کی طرف دباؤں دینے لگا اور اپنے ہاتھوں سے مموں کو پکڑ لیا اور جھٹکے مارنے لگا جھٹکوں سے نیلی کے ممے اگے پیچھے ہورہے تھے نیلی نے مزے سے کہا سئیں اور زور سے زور سے زور سے جھٹکوں کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی ہر جھٹکے پر دونوں کی ایک الگ سی مدہوش آواز نکلتی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ نیلی کا جسم اکڑا اور ساتھ ہی پدھی کے اندر سیلاب سا آ گیا ابا سئیں نے بھی جھٹکوں کی رفتار کو بڑھایا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی پھدی کے اندر ہی ریلیز ہو گیا اور اس کی سانس پھولی ہوئی تھی پدھی سے لن نکال کر ایک سائیڈ پر لیٹ گیا جبکہ نیلی الٹی ہی لیٹ گی اب سائیں نے کہا میری جان آج تو تو نے مجھے تھکا دیا ہے تیری پدھی کمال کی ہے میرے جسم کا سارہ پانی نچوڑ لیتی ہے سائیں اپ کا ہتھیار بھی کمال کا ہے میری جان نکال لیتا ہے پر مزہ بہت آتا ہے نیلی نے بند آنکھوں سے ہی پر سرور لہجہ میں جواب دیا یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک نوجوان پینٹ شرٹ میں ملبوس تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ اچانک سے وہ لڑکھڑیا اور اور زمین پر گرا وہاں ایک سائڈ پر موجود لڑکی جو کہ موبائل پر چیٹ کر رہی تھی اچانک سے اس لڑکے کو گرتے دیکھ کر گھبرا گئی بھائی چوٹ تو نہیں لگی اس لڑکی نے کہا چوٹ تو نہیں لگی بچ گیا ہوں ویسے میں گرتا تو نہیں ہوں آج پتہ نہیں کیسے لوڑک گیا ڈاکٹر ٹھیک کہتا تھا آج مجھے اس کی بات کی سمجھ آئی ہے اس نوجوان للڑکے نے کہا ڈاکٹر کیا کہتا تھا بھائی اس لڑکی نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا جی ڈاکٹر کہتا تھا کہ تم کافی کمزور ہو گئے ہو اپنی جان بناؤ ٹھیک ہو جاؤ گے پہلے تو مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا پر آج مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ ٹھیک بول رہا تھا لڑکے نے کہا لڑکی نے کہا بھائی ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں تاکہ اس طرح دوبارہ نہ گر پڑیں اور چوٹ لگ جائے جی وہ نا دراصل مجھے شرم آتی ہے لڑکے نے کہا لڑکی حیران ہو کر بولی کہ بھائی اس میں شرم کی کیا بات ہے تو لڑکے نے جھٹ سے کہا کہ جی وہ نہ آپ میری جان بنیں گی لڑکی یہ بات سن کر ایک دم شاک ہوئی بھائی کیا مطلب اس کا جی وہ میں ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی تو عمل کر رہا ہوں تاکہ میں دوبارہ نہ گر سکوں لڑکے نے کہا بھائی ڈاکٹر نے آپ کو اپنی جان مطلب کھانے پینے کا بولا ہے اور اپ یہ کیا بات کر رہے ہیں لڑکی نے غصیلے لہجہ میں کہا جی جی میں تو سمجھا تھا کہ وہ مجھے کسی کو اپنی جان بنانے کو بول رہے تھے جو باوجود کوشش کے مجھ سے نہیں بن سکی ویسے اپ سے ایک سوال پوچھوں اگر اپ ناراض نہ ہوں لڑکے نے ہکلاتے ہوے کہا جی بھائی پوچھیں لڑکی نے بے چارگی کے انداز میں کہا کیا میں خوبصورت نہیں ہو کیا مجھے اپنی جان بنانے کا کوئی حق نہیں ہے کیا میں اس طرح اکیلا ہی رہوں گا لڑکے نے افسردہ سے لہجہ میں کہا کیوں نہیں ہے حق اپ خوبصورت اور اچھی پرسنیلٹی کے حامل لڑکے ہوں ایسی تو بظاہر آپ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لڑکی نے جواب دیا تو پھر آپ کیوں نہیں میری جان بن رہی ہیں اگر اپ کو مجھ میں یہ سب کچھ اچھا نظر آ رہا ہے تو لڑکے نے معصومانہ لحجہ میں کہا بھائی میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آج پہلی بار اپ کو دیکھا ہے یہ کچھ زیادہ نہیں ہو رہا اتنا سٹیٹ فارورڈ آپ نے کہ دیا ایسا کیسے ممکن ہے بھائی لڑکی نے گھبرائے ہوے جواب دیا اور جانے کیلے اٹھ کھڑی ہوئی لڑکے نے ایک دم لڑکی کو اٹھتے دیکھا تو فورا ہی کہا جی میں آپ کو ٹائم دیتا ہوں آپ سے اس بارے میں کل بات کرونگا ٹھیک ہے آپ باقی دن اور پوری رات اس بارے میں زرور سوچیں لڑکے نے معصومانہ انداز میں کہا اور جواب سنے بغیر ایک جانب چل پڑا
  6. پیارے ممبرز امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے میں کافی مصروف رہا جس کی وجہ سے آپ کو اپ ڈیٹ نہ دے سکا آپ کی محبتوں کا شکریہ میں جلد ہی آپ ڈیٹ دونگا آپ سب کی محبتوں کا قرض دار شیخ جی فار یو love u all
  7. پیارے بھائی اپ کی پسندیدگی کا شکریہ کوشش پوری ہوتی ہے کہ لمبی اپ ڈیٹ دی جائے پر مصروفیات اس اڑے آ جاتی ہیں اور ہفتہ میں ایک دن اتوار کو ہی اپ ڈیٹ دیتا ہوں
  8. سب سے پہلے آپ کی محبت کا شکریہ اپ کی تجویز پر منوعن عمل کرنے کی کوشش کرونگا
  9. Update no 3 ابا سئیں غصہ سے تلملا کر بولا وے عطی ڈیڈھی اے پولیسے مکوں کمزور سمجھدے ہین ہناں نا مرادا کو کیا پتہ کہنی میڈی طاقت دا اے سمجھدے ہین کہ میں ہتھاں وچ چوڑیاں پاتی بیٹھاںمیں اپنڈے دشمن دا مقابلہ نہیں کر سکدا وے انہاں عقل دے اندھایاں کوںمیں کیویں سمجھاواں اے لوگ جانڑ بجھ کے میڈا بلڈ ہائی کیرندے ہین عطی دیکھا ہے یہ پولیس والے مجھے کمزور سمجھتے ہیں نا مردوں کو نہیں میری طاقتدا پتہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے ہاتھوں میں چوڑیا پہنی ہوئی ہیں میں اپنے دشمن کامقابلہ نہیں کر سکتا ان عقل کے اندھوں کو کیسے سمجھاؤں یہ لوگ جان بوجھ کرمیرا بی پی آپ کرتے ہیں ابا سائیں جی ویلے ہوں نامراد چھوٹوں دا سر تھاڈے ہاتھ ایچ ہوسی ول ہنا کوںیقین اسی کہ تسان کیا چیز ہوے تساں کیوں ہنا دی گالہیں دی وجہ تو بلڈ ہائیکرندے ہوے دفعہ کرو تہ سکون کرو عطی نے خوشامدانہ لہجہ میں کہا ابا سئیں جس وقت نامراد چھوٹو کا سر اپ کے ھاتھ میں ہو گا تب ان لوگوں کوپتہ چلے گا آپ ان کی باتوں کی وجہ سے کیوں بلڈ ہائی کرتے ہیں دفع کریں اورسکون کریں گال تے توں ٹھیک کریندا پائی چل ول میں گھر وین دا تو ڈرائیور کو الھ کےمیڈی گڈی کڈھوا ابا سائیں نے پر سکوں لہجہ میں کہا بات تو تم ٹھیک کر رہے ہو جاؤ اور ڈرائیور کو بول کر میری گاڑی نکلواو عطی ابا سائیں کی بات سن کر باہر جا کر گاڑی نکلوائ پیچھے سے ابا سائیں آ کرگاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے 15 منٹ کی ڈرائیو کے بعد ایک جدید طرز کی بنی خوبصورت کوٹھی کے گیٹ کےسامنے جا کر ڈرائیور نے گاڑی کی گھنٹی دی تو ایک مسلحہ چوکیدار نے دروازےکے باہر جھانکہ اور دروازہ کھول دیا اور ڈرائیور گاڑی اندر پورچ میں کھڑی کر کےابا سائیں والی سائڈ کا ڈرائیور نے دروازہ کھولا ابا سائیں شان بے نیازی سے چل کر کر گھر کے اندر مین حال میں داخل ہوئےجہاں سلیقے سے ایک سائڈ پر لگے فرنیچر خوبصورت پنٹنگ اور بڑا سا فانوس جو اپنیخوب صورتی کی مثال آپ تھا کمال لگ رہا تھا ہال میں لگے برقی قمقمے جو سنہریروشنی دے رہے تھے قابل تعریف منظر پیش کر رہے تھے ایک جانب صوفے پرخوبصورت خاتون جس کی عمر تقریباً اڑھتیس سال کےقریب ہوگی خوبصورت لباس زیب تن کیے اور سونے کا ہار گلے میں اور ہاتھوںمیں بڑے بڑے سونے کے خوبصورت کڑے پہنے بیٹھی ہوئی تھی اس کا رنگدودھیا سفیدی مائل تھا آنکھیں بڑی بڑی بے مثال حسن اور پر کشش جسم سےمالا مال کسی اپسرا ء سے کم نہ تھی جیسے ہی ابا سائیں کو دیکھا تو بولی آگئے ہوئے ٹائم ڈیٹھے وے کیا ٹائم تھی گے تھاکوں فکر ہی کینی کہ کوئی انتظارکریندا پیا ہوسی غوصیلے لہجہ میں اس عورت نے کہا آگئے ہیں ٹائم دیکھا ہے کیا ٹائم ہو گیا ہے آپ کو فکر ہی نہیں ہے کہ کوئی انتظارکر رہا ہے بیگم میڈی جان میں کوں پتا ہے کہ جناب انتظار کریندے پیے ہین بس کم ایچایتنا مصروف تھیاں کہ ٹائم دا پتہ ہی نہیں چلایا تے فوری کم نپٹا تے میں اپنیجان کینے بھج پیاں توکوں پتا تا ہے کہ میں تھاڈے بغیر نہیں رہ سکدا جڈا تک تہاڈاچندر جیا مکھڑہ نہ ڈیکھاں میکوں چین نہں امدا ابا سائیں نے خوشامدانہ اور مودبانہلہجہ میں کہا (بیگم میری جان مجھے پتا ہے کہ آپ انتظار کر رہی ہوں گی بس کام میں اتنامصروف تھا کہ ٹائم کا پتہ ہی نہی چلا کام نپٹا کر میں بھاگ کر اپنی جان کے پاسآ گیا اپ کو تو پتہ ہے کہ میں اپ کہ جب تک آپکا چاند سا چہرہ نہ دیکھوں مجھےچین نہیں آتا ) دل کش خاتون پڑھی لکھی جس کا نام نبیلہ تھا اور گھر میں سب پیار سے نیلیبلاتے تھے ابا سائیں کی دوسری گھر والی تھی اور ایک با اثر سیاسی خاندان سےتعلق رکھتی تھی پہلی گھر والی ایک ایکسیڈنٹ میں فوت ہو گئی تھی اس کا ایکبیٹا تھا دوسری بیوی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے ابا سائیں پر ہمیشہ رعب اور دبدبہ رکھتیتھی ( اگے جا کر آپ کو ان کے بارے میں علم مزید باتوں کا علم ہو گا اب آتےہیں سٹوری کی جانب ) جیا میڈے کنوں زیادہ تہاکوں کم عزیز ہین تہاکوں کیا پروۂ ہے نیلی نے مزیدبڑھکتے ہوے کہا مجھ سے زیادہ آپ کو کام عزیز ہیں آپ کو کیا میری پرواہ ہے ابا سائیں نے جب غصہ دیکھا تو معافی مانگنے کے انداز میں اس کے قریب آ کرکہا میڈی جند ناراض نہ تھیا کر غصہ دی وجہ تو تیڈا خون گھٹ تھی ویسی میں آیندہدھان رکھیسا کہ ٹائم تے تیڈے کینے اواں بس تو ناراض نہ تھیا کر چل ہنڑ کھلتے ڈیکھا میڈی جان التجائیاں لہجہ میں کہا (میری جان تم ناراض نہ ہوا کرو غصہ سے تمہارا خون کم نہ ہو جائے گا میں آیندہٹائم پر آیا کروں گا چلو اب ہنس کے دیکھاو ) نیلی نے نخرے دیکھاتے ہوئے کہا چلو ڈیکھ گھینساں کہ تسا آیندہ اپنی گال تےکیوے عمل کریندے ہوے روٹی کھا اے وے یا میڈے نال کھاسو طنز یہ انداز میں کہا چلو دیکھ لیں گے کہ اپ اپنی بات پر کیسے عمل کرتے ہیں کھانا کھا کر آئے ہیں یامیرے ساتھ کھائیں گے میں اپنڑی جان دے بغیر کیویں کھا سکدا چلوں جلدی نال کھانڑاں لواو رل تےکھاسوں جھوٹ بولتے ہوے نیلی کے ساتھ صوفہ پر بیٹھتے ہوئے کہا نیلی اٹھ کر کچن کی طرف گئی اور وہاں موجود ملازمہ کو کھانا لگانے کا بول کر ایکسائڈ پر بنے واش روم کی طرف چل دی کچھ دیر بعد باہر نکل کر ابا سائیں کوساتھ لے کر بڑی سی ٹیبل رکھا کھانا کھایا اور فارغ ہو کر کمرے کی طرف دونوںچل دیے سردار چھوٹو کا لن مردہ حالت میں چھمیا کی پھودی کے اندر ہی تھا اور سرداراسکے سینے پر سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا خیر تو ہے آج تو تو نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے اندر تک محسوس ہو رہا ہے کہ آجمیں ٹھیک سے چدی ہوں ورنہ تو پچھلی بار تو نے جلدی میں ہی چودہ تھا پر ایکبات ہے مزہ تو بہت آیا تھا پر جو آج مزہ آیا ہے اس کا تو جواب نہیں چھمیاں سردار کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولی چھمیاں ابھی تو مزہ شروع ہوا ہے ابھی اور اس سے بھی زیادہ مزہ انا ابھی باقیہے میری جان سردار چھوٹو نے کہا میری جان لینے کا پروگرام ہے چھمیہ نے کہا جان نہیں تیری آج گانڈ لینی ہے سردار نے آنکھ مار کر کہا نہ بابا نہ تیرا موٹے اور لمبے لن نے تو میری پدھی کا ستیا ناس کر دیا ہے گانڈ لیتےوقت تو میں نے مر جانا ہے خوفزدہ ہوتے ہوے چھمیا نے کہا کچھ نہیں ہوتا تو فکر نہ کر میں آرام سے کروںگا تجھے پتہ بھی نہیں چلے گا چل اباس چارپائی کے اگے جھک جا سردار نے اسرار کرتے ہے کہا دیکھوں اگلی بار کر لینا میں تمہیں نہیں روکوں گی آج نہیں مہربانی کر اج پھدیایک بار اور مار لے پر گانڈ نہیں التجائیا لہجہ میں چھمیا نے کہا نہیں بس تو اب کھڑی ہو میں نے تجھے جیسا کہا ہے ویسا کر ورنہ اچھا نہیں ہو گاسردار نے غوصیلے لہجہ میں کہا چھمیاں سہم کر چارپائی کے اگے جھک گئی سردار کی آواز آئی چھمیہ میری جان میرے لن کو تو دیکھوں مرجھایا ہوا ہے پہلےاسے گانڈ مارنے کے قابل تو بنا ھنستے ہوئے کہا چھمیہ نے مرجھائے ہوے لن کو پکڑا اور منہ میں ڈال کر چوسنے لگی لن منہ کیگرمائش ملنے کی دیر تھی لن نے انگڑائی لی اور کھڑا ہونا شروع ہو گیا سردار مزےسے آوازیں نکالنے لگا آہ آہ آہ آہ آہ چھمیہ تیرے چوسنے کا جواب نہیں کیا مزے کا چوستی ہے اس طرح کی باتیںکرتے کرتے سردار کا موٹا تازہ لن ایک دم لوہے کے ڈنڈے کی طرح سخت ہوگیا اور پورے کمرے میں سردار کی مزے سے لبریز آوازیں گونجنے لگی بس چیمہ نکالو منہ سے مزے بھری آواز میں سردار نے کہا چھمیہ نے منہ سے لن نکالا اور التجایا نظروں سے سردار کی طرف دیکھا پر بولنےکی ہمت نہیں کی اور بے بسی سے الٹی جھک کر کھڑی ہو گئی سردار نے التجائیاں نگاہوں کو نظر انداز کر کے لن کو ہاتھوں میں لیا اور منہ سےتھوک کا گولا نکال کر اسے گیلا کیا اور پھر لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھااور اپر نیچے ہاتھوں سے پکڑ کر پھیرتا رہا چھمیہ آنکھیں بند کر کے بے بسی سےجھکی ہوئی تھی سردار نے لن کی ٹوپی کو گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکا لگایا جس سےکمرے میں ایک زور دار چیخ سنائی دی یہ چیخ کسی اور کی نہیں بلکہ چھمیہ کی تھیجس کی گانڈ میں صرف لن کا ٹوپا ہی اندر گیا تھا سردار اب اگے میری پدھی میں کر لو مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے تکلیف سےکانپتے اور گھبرائے ہوئے لہجے میں چھمیہ نے کہا سردار نے کہا ہو صلہ رکھ کچھ نہیں ہوتا یہ کہ کر ایک اور زور دار جھٹکہ لگایا آدھالن گانڈ کے اندر چلا گیا اور چھمیہ بلبلا اٹھی اور لن کو نکالنے کی کوشش کرنےلگی پر سردار کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت اور طاقت کے اگے چھمیہ تڑپتی رہیایک اور زور دار جھٹکہ سے سردار نے اس کی گانڈ میں پورا لن اتار دیا اور اس کوچارپائی پر گرا دیا اس زور دار جھٹکہ کے بعد ایک فلگ شفاک چیخ نے پورےکمرے کو ہیبت ناک بنا دیا پر سردار پر اس کی چیخوں کا کوئی اثر نہ ہوا اور تڑپتیہوئی چھمیاں کو بے بس کر کے پہلے آہستہ اۂستہ جھٹکوں سے لن کو اندر باہرکرنے لگا تنگ سوراخ کی وجہ سے لن با مشکل اندر باہر ہو رہا تھا اور سردار کوبھی لن میں درد ہونے لگا پر کچھ ہی دیر بعد سردا نے طوفانی چودائی شروع کر دیاور کہا چھمیہ دیکھ آج تیری گانڈ کا افتتاح کر دیا ہے اب کچھ ہی دیر میں مزےسے تو کہے گی سردار اور ڈال دیکھ تجھے شروع میں تکلیف ہوئی ہے پر اس کے بعد مزہ آ رہا ہے نا سردار نے مزے میں ڈبی ہوئی آواز میں کہا چھمیہ کا جسم اس طوفانی چودائی میں کچھ دیر کانپتا رہا پر کچھ ہی دیر بعد جب گانڈ کاپانی نکلا تو مزے میں سردار کو کہا سردار آج تو تو نے میری جان نکال دی ہےاتنا درد مجھے پدھی میں نہیں ہوا جو گانڈ میں ہوا ہے پر اب مزا آ رہا ہے مزےمیں ڈوبی آواز میں چھمیا نے کہا اور ساتھ ساتھ مزے سے آوازیں بھی نکالے جارہی تھی سردار بھی طوفانی چودائی کا لطف لیے آوازیں مزے سے نکال رہا تھا کچھ ہی دیر میں طوفانی جھٹکوں کے ساتھ ہی سردار کا جسم اکڑہ اور ساتھ ہی لننے گانڈ کے اندر پانی چھوڑ دیا اور چھمیہ نڈھال ہو کر لن نکال کر ایک سائڈ پرلیٹ گئے اور دونوں زور زور سے سانسیں لینا شروع ہو گئے جیسے ہی فائر کی آواز سنائی دی بگو اپنے اپ کو بچانے کیلیے ایک سائڈ پر زمین پرگرا گولی اس سے چند انچ کے فاصلے سے ہوتی ہوئ درخت پر لگی کلاشن کوسیدھا کر کے پلک چھپکتے ہی برسٹ کھولا جس سے بس کا شیشہ ایک دھماکےسے ٹوٹا اور چیخوں کی ایک ہیبت ناک آواز گونجی برسٹ ڈرایور کو چہرے پر اور سینے پر لگا اور ساتھ ہی جو بس کا گن مین تھا اسکے بازوں کو چھلنی کر گیا جس سے اس کی رائفل دور جا گری اور بس میں سوارسواریوں کی چیخو پکار سے ماحول کو خوفناک بنا دیا تھا بگو نے چیخ کر اپنےساتھیوں کو بس کے قریب جانے کا کہا اور خود بھی محتاط انداز میں گن کو اگےکی طرف کر کے پیش قدمی کرنے لگا بس کے قریب پہنچ کر چیخ کر سبسواریوں کو نیچے اترنے کو کہا جبکہ اسکے ساتھی پوری بس کو گھیر کر اور گنیں تانکر کھڑے ہو گئے بس میں سوار جوان مرد اور بچے خوف زدہ ہو کر بس سے نیچےاترنے لگے جبکہ بس کا گارڈ ایک سائیڈ پر خوف زدہ نگاہوں سے اپنے زخمی بازوںجن میں سے خون نکل رہا تھا کو دیکھ کر کرہا رہا تھا اور ڈرائیور بے حس و حرکتاگے کی طرف سر ڈھلکائے ہوئے تھا بگو بس میں سوار ہوا اور دور پڑی گن کواٹھایا پھر ڈرائیور کو چیک کیا تو مرا ہوا پایا اطمنان سے گارڈ کی طرف موڑا ہاں بے گانڈو تو نے مجھ پر فائرنگ کیوں کی تو کل کا لونڈہ مجھے مارنے کی کوششکرنا چاہتا تھا آج میں تیری ہیرو گیری نکالتا ہوں گارڈ خوف زدہ ہو کر بگو کے پاؤں پڑ گیا اور معافیاں مانگنے لگا کہ مجھے معاف کر دوغلطی ہو گئی مجھ سے بس بدحواسی سے مجھ سے فائر ہو گیا @@@کے لیے مجھےمعاف کر دو معافی اور تجھے کبھی نہیں آج میں تیرا وہ حشر کروںگا دنیا یاد رکھے گی کہ مجھ پر گولیچلانے کا انجام صرف موت ہوتا ہے اور گن کو اس کے سینے پر رکھ کر ٹریگر دبادیا گولیوں سے اس کا سینہ چھلنی کر دیا گولیوں کی ترتراہٹ سے پورا علاقہ گونجاٹھا اور چیخو پکار کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا خاموش زور دار آواز میں بگو نے کہا اور گن سے ہوائی فائر کیا تم لوگوں کے پاس جو کچھ ہے میرے ساتھیوں کے حوالے کر دو اور اپنے اپنےموبائل بھی اگر کسی نے ہوشیاری دیکھانے کی کوشش کی تو انجام وہ دیکھ چکاہے مردہ گارڈ کی طرف غضبناک نگاہوں سے دیکھتے ہوے کہا مردو خواتین سب کے سب سہمے ہوے خوف زدہ ہو کر ایک ایک کر کے سبطلائی اور موبائل ،پیسے مسلح افراد کو دینے لگے اور ایک سائیڈ پر ہوتے چلے گئے جو بگو کے ساتھییوں میں سے ایک نے بڑا سا کپڑہ جو اس نے اپنے کندھے پر تھااسے اتار کر اس میں اکٹھا کیا اور موٹر سائیکل کی جانب چل پڑا بگو نے سب کو مخاطب ہو کر کہا دیکھوں پولیس اگر آئے تو بولنا کہ چھوٹوںگینگ کے بندے آئے اور اسے مار کر اور ہمیں لوٹ کر چلے گئے کوئی بھیہمارے راستہ میں آتا ہے اس کا انجام اس جیسا ہوگا اور ہوائی فائر کر کے موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئے
  10. Rana Faisal started following Sheikhg4u
  11. پیارے بھائی آپ کی بات اپنی جگہ درست ہے پر کریکٹر جو زبان بولتا ہے اس حساب سے لکھ رہا ہوں میں ویسے آبا سائیں کو سمجھاوں گا کہ وہ سرائیکی کو بجائے اردو میں بولا کریں آپ کی پسندیدگی کا شکریہ
  12. چوہدری صاحب آپ کی محبتوں کا شکریہ
  13. چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان Update 2 انسپیکٹر آصف نے فون اٹھایا اور کال ملا دی کچھ ہی دیر میں کال رسیو ہوی اور انسپیکٹر آصف بولا سر آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اگر آپ کی اجازت ہو مودبانہ لہجہ میں کہا دوسری طرف سے کہا گیا جی بتائیں سر بات دراصل یہ ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چھوٹو گینگ جس نے اس پورے علاقہ میں خوف اور دہشت پھیلارکھی ہے “آباسائیں “پر حملہ کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں باوثوق ذرائع سے یہ بھی خبر ملی ہے کہ ایسا کر کے وہ ظلماور بربریت کی ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس علاقے میں اپنی دھاک بیٹھا نا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ان سےڈریں اور وہ آسانی سے اپنا بھتہ وصول کر سکیں میں نے “ابا سئیں “ سے بات کی اور ان کو پولیس تعینات کرنے کا کہا پرانہوں نے صاف انکار کر دیا وہ کوئی بھی بات ماننے سے انکاری ہیں آپ کو بتانے کا مقصد کہ جیسے اب آپ حکم دیںویسے ہم بندوبست کریں گے اوکے میں بات کر کے بتاتا ہوں دوسری طرف سے کہا گیا کال بند کر دی انسپیکٹر آصف نے گہرا سانس لیا سب انسپیکٹر ارسلان جو یہ سب بات سن رہا تھا نے کہا سر بہت ہی اچھا ہو گیا ہے آپ نے ڈی پی او صاحب کو بتا کر اپنا پوائنٹ رکھا ہے اب ہمارے زمہ کوئی بھی بات نہیںآئے گی خوشامدانہ لہجہ میں کہا تمہاری تجویز ہی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا انسپیکٹر آصف نے ہنستے ہوے کہا سب انسپیکٹر ارسلان کہا کہ سر اپ کی مہربانی ہے ورنہ میں اس قابل کہا ہوں سر کہ کر کرسی سے اٹھ اجازت طلب کرکے آفس سے باہر چلا گیا سردار چھوٹو کمرے کی جانب روانہ ہوا اور دروازے پر روکا وہاں دو مسلح افراد ٹہرے تھے جن کو دیکھ کر سردار نے کہاچھمییہ کہا ہے ہے ان میں سے ایک مسلح شخص نے کہا کہ سردار وہ اندر اپ کا انتظار کر رہی ہے بڑی للچائے ہوے لحجے میں کہا سردار نے جو اس ہی کے کندھے پر پڑا کپڑا کھینچا اور چہرے پر لگے خون کے چھینٹوں کو اس کپڑے سے صاف کر کےواپس اس شخص کے کندھے پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھ سے لن کو مسل کر مسکراتا ہوا اندر داخل ہو گیا کمرے میں دونوں سائڈوں سے آگ جل رہی تھی جس کی وجہ سے پورے کمرے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی سردار نے انچی آواز میں کہا میری چھمیہ کتنا انتظار کروایا ہے میرا لن تیری پھدی میں جانے کے لیے بے تاب ہے اپنےلن کو مسلسل مسلتے ہوئے کہا کمرے کے ایک سائڈ پر چٹائی پر تقریباً نو عمر بھرے بھرے جسم والی خوب صورت لڑکی بیٹھی تھی سردار کو دیکھ کر ایکدم اٹھی اور سردار کے قریب آ کر لن کو اپنے ہاتھوں میں لے کر مسلتے ہوئے بولی سردار ان تین دنوں میں مجھے تو خود سکون نہیں آیا جو تیرے لن کے بغیر گزرے ایک تڑپ تھی تیرے لن کو اپنی پھدی میںلینے کے لیے تو تو سمجھ ہی نہیں سکتا یہ کہہ کر شلوار کا ازاربند کھولا لمبے اور موٹے لن کو باہر نکال کر اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا تمہاری یہی ادا تو مجھے تیرا دیوانہ بنائے ہوے ہے سردار چھوٹو نے مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے کہا چھمیہ نے لن کی ٹوپی منہ میں سے نکالی اور کہا کہ سردار تیرا لن کا سواد کمال ہے اور پھر سے لن منہ میں ڈال کر چوسنےلگ جاتی لن اتنا موٹا تھا کہ صرف اسکا ٹوپہ ہی منہ میں مشکل سے جا رہا تھا وہ بڑے انہماک سے چوس چوس کر منہ سے ہی پٹاخہ بجاتی اور سردار زور زور سے ہنسنا شروع کر دیتا ہے اور اپنے ہاتھوں کو اس کے بوبز کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے چھمیہمیرے لن کو چھوڑ پہلے اپنی قمیض اتار اور میں بھی تیرے گیندوں سے کھیلوں چل چھوڑ لن کو چھمیا نے لن کو چھوڑ کر اپنی قمیض اتاری جس سے اس کے چھتیس سائز کے سانولے خوبصورت بوبز باہر کو چھلکے اور کساہوا جسم جو کہ ایک دیہاتی عورت کا خاصا ہوتا ہے اس کا جسم جو کافی حد تک سانولہ پر جازب نظر اور کمال نظر آ رہا تھا سردار جو بوبز کو بڑی للچائی ہوی نظروں سے دیکھ رہا تھا نے چھپٹ کر اس کے بوبز کو ہاتھوں میں لیا اور کہا کیا کمال کیگیندیں ہیں واہ اور یہ کہ کر بوبز کو چوسنا شروع کر دیا سردار چھتیس سائز کے بوبز کو چوستا رہا یہاں تک کہ چھمیاں کو درد محسوس ہونے لگا اور کہا سردار آرام سے میں کہی بھاگیتو نہں جا رہی ہوں سردار نے کہا چھمیہ تیری یہ گیندیں ہیں ہی کمال کے ان کو کھا جانے کو دل کرتا ہے سردار ایک سائڈ پر ہوا اور اپنے سارے کپڑے اتار دئیے اور چھمیہ کو بھی شلوار اتارنے کو کہا دونوں اس وقت بغیر کپڑوں کے ایک دوسرے کو حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے رہے اور پھر چھمیہ نے سردار کےہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ملایا اور چوسنا شروع کردیا سردار بھی جوش خروش سے اس کا ساتھ دے رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد چھمیا نے سردار کے سینے پر موجود بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی اور سردار کے سینے پر کالے نپلز کو منہ میںلے لیا مزے سے سردار کی آواز نکلی آہ آہ آہ اور پھر چھمیاں نے ایک بار پھر لن کی ٹوپی کو منہ میں ڈال لیا اور لن کے نیچے بالز کو ہاتھوں سے پکڑ کر دبانے لگیپوزیشن یہ تھی کہ سردار نیچے اور چھمیہ اوپر تھی کہ اچانک ہی سردار نے چھمیاں کو نیچے کیا اور خود اوپر آ کر اس کے بوبز کوچوسنا شروع کر دیا پھر اس کے جسم کے ہر حصے کو چومنا شروع کیا اور نیچے پھدی کے لبوں پر اپنا موٹا لن رکھا اور ایکزوردار جھٹکا مارا اور چھمیا کی چیخ نکلی اور وہ بلبلا اٹھی اس کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات عیاں تھے اور سردار کو کہا ظالم آرام سے اندر ڈال اس جھٹکے میں صرف لن کی ٹوپی ہی گئی سردار رکا پھر سردار نے اپنا لن باہر نکالا اور پھر آہستہ اندر ڈالا تنگ پھدی اسبات کی گواہی دے رہی تھی کہ زیادہ اس کو استعمال نہیں کیا گیا پھر پھدی میں لن ڈال کر آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگاجس سے چھمیا کی مزے سے آنکھیں بند ہو گئی اور اس کے منہ سے آوازیں نکلنا شروع ہو گی آہ آہ آہ سردار کے لن کی ٹوپی کے مزے سے پھدی میں لیس دار پانی کی وجہ سے لن قدرے بہتر اندر باہر ہو رہا تھا کہ اچانک طاقت ور جھٹکا دیا سردار نے ساتھ ہی چھمیہ کی چیخ نکلی اور آدھا موٹا اور لمبا لن سخت پھدی کے اندر جا سکاایک اور طاقت ور جھٹکے کے ساتھ پورا لن اندر چلا گیا اور سردار پھر رکا اور آہستہ آہستہ لن کو ہلانے لگا چھمیاں کا اسآخری جھٹکہ کے ساتھ پورہ جسم لرز اٹھا تھا راڈ کی طرح سخت لن موٹا ہونے کی وجہ سے پھدی کے پڑخچے اڑانے کیصلاحیت رکھتا تھا سردار اپنے جھٹکوں کو آہستہ آہستہ اضافہ کرتا گیا اور پورے کمرے میں دونوں کی آواز سرور سے بھریمست آوازیں گونجنے لگی ایسا لگ رہا تھا کہ اس چدائی کا دونوں ہی مزا لے رہے ہوں اب لن کافی حد تک اندر باہر آسانی سے ہو رہا تھا اور سردار کے طوفانی جھٹکوں کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی کہاچانک ہی چھمیہ کا جسم اکڑا اور پھودی نے پانی چھوڑ دیا جب کہ سردار کے جھٹکے با دستور لگتے رہیں کچھ ہی پل میں سرداربھی پھدی میں اپنا پانی چھوڑ کر ریلیز ہو گیا اور چھمیہ کے اوپر لیٹ کر ہونٹوں کو چوسنے لگا لن پھدی کے اندر ہی رہنےدیا ابا سائیں چودائی کے بعد دھوتی پہن کر جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا تو آواز دی “بلا “کتھاں مر گئی (کہا مر گیا ہے) ایک جانب سے وہی بلی سی آنکھوں والا بھاگتا ہوا آیا حکم کرو سائیں اندر ونج ڈیکھ او چھوکری اگر جیندی ہے تا ہوکو کتھائی سٹ آ مر گی ہے تا جنگل وچ پور آ (اندر جا کر دیکھو کہ لڑکی زندہ ہے تو کس جگہ اسے پھینک او جبکہ مر گئی ہو تو جنگل میں جا کر اسے دفن کر دو ) جو حکم “ابا سئیں “ بلا نے سن کر جواب دیا ابا سئیں یہ کہ کر ایک سائڈ پر بنے کمرے کی جانب گیا اور بیٹھ گیا یہ وہی کمرہ تھا جہاں پر اس ایچ او سے فون پر بات ہویتھی وہاں موجود ملازم جس کا نام عطی تھا کو کہا ونج میڈے واسطے کھاونڑ دا بندو بسط کر میں دھاں کے امدا پیاں (جاؤ میرے لیے کھانے کا بندوبست کرو میں نہا کر آ رہا ہوں ) ابا سئیں نہانے سے فارغ ہو کر کھانا کھایا اور ڈیکار مار کر بولا عطی ! اے ڈس بلا نے کیا کیا انتظام کیتے ہوں کنجر گانڈو واسطے ابھی عطی بتانے ہی والا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی عطی نے فون جو ایک سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا کو اٹھا کر ابا سائیں کو دیا ابا سئیں کال اٹھا کر بولا جی کونڑ بولیندا پائیں کون بول رہا ہے دوسری طرف سے باوقار لہجہ میں کہا گیا ڈی پی او عارف نواز خان میں صدقے تھیواں آج کیوے صاحب بہادر بھول پیے ہین شکر ہے ساڈی یاد تا آئیں (میں صدقے جا آج کیسے ڈی پی او صاحب بھول کر یاد کر بیٹھے ہیں شکر ہے میری یاد تو آئی ) ابا سائیں آپ کو تو پتہ ہے کہ میں بہت مصروف رہ جاتا ہوں اس ضلع میں کام کا برڈن بہت زیادہ ہے ورنہ آپ کو تو میںضرور کال کرتا ڈی پی او عارف نواز نے کہا جیا سائیں جیا میکوں پتہ ہے کہ صاحب بہادر مصروف رہندے پر سجنڑاں واسطے ٹائم کڈھ گنیدے قبلہ ہنڑ حکم کرو یادکیویں کیتا ہوے (جی مجھے پتا ہے کہ آپ مصروف ہوتے ہیں پر سجن دوستوں کیلئے ٹائم نکالنا پڑتا ہے اب حکم کریں کیسے یاد کیا ) ضرور جناب ضرور میں وقت نکال کر آونگا آپ کے پاس اج مجھے ایس ایچ او کی کال آئی تھی بتا رہا تھا چھوٹو گینگ کےبارے میں کہ وہ آپ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنارہے ہیں آپ سے ایس ایچ او نے پولیس تعینات کرنے کا کہا پر آپنے انکار کر دیا ابا سائیں بولا صاحب بہادر اے ٹھیک ہے کہ میں تہاڈی عزت کریندا پر ہندا اے مطلب نہیں کہ تسا میڈی توہیں کرومیں نا مرد نہیں ہاں جو پولیس دا سہارا گہنا میں اپنے دشمنا نال نبڑن جانڑدا میں خود ہوکو ایسا سبق ڈیسا کہ کہ او مر کے ویمیکوں کینا بھل سکسی تسا پریشان نہ تھیوں غصے سے ابا سائیں نے فون بند کر دیا (ابا سائیں نے کہا کہ ڈی پی او صاحب یہ بات ٹھیک ہے کہ میں آپ کی عزت کرتا ہوں پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپمیری توہین کریں میں نامرد نہیں ہوں جو پولیس کا سہارا لوں میں اپنے دشمنوں سے نپٹنا جانتا ہوں میں خود اس کو ایسا سبقدونگا کہ وہ مر کر بھی یاد رکھے گا ) انسپیکٹر آصف اپنے آفس میں موجود فائلوں کو پڑھ رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی آفس کے باہر شور شرابہ سنائی دیا جو انسپیکٹر کو ڈسٹرب کر رہا تھا تو اس نے بیل دی باہر موجود سپاہی اندر داخل ہواسلیوٹ کیا تو انسپیکٹر آصف نے کہا کہ یہ کیا باہر شور ہے کیا مسلۂ ہے تو اس سپاہی نے کہا کہ سر باہر ایک بڑھا آیا ہوا ہے جو اپنی بیٹی کو گمشدگی کی رپٹ لکھوانا چاہتا ہے اور زاروقطار رو رہاہے ایک دم سے اس کو یاد آیا کہ جب وہ تھانے آ رہا تھا تب ایک بوڑھا اس کی گاڑی سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا یہ خیال آتےہی وہ اٹھا اور باہر آ کر دیکھا تو تھانہ کے منشی کے روم سے رونے کی آوازیں آ رہی تھی وہ اس جانب چلا گیا ہولدار اورتھانہ کا منشی ایس ایچ او آصف کو دیکھ کر کھڑا ہو کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے اس بوڑھے کو دیکھا جو وہی بوڑھا تھا جو راستے میں ملا اس نے بوڑھے کو مخاطب کر کے کہا میرےآفس میں آؤ مجھے بتاؤ کیا مسئلہ ہے وہاں ٹھرے سپاہی کو کہا کہ ان کو میرے آفس لے آؤ یہ کہ کر انسپیکٹر آصف اپنےآفس کی جانب روانہ ہوا بوڑھے نے جب انسپیکٹر کو دیکھا ایک دم سے چونک گیا اور خاموش ہو کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا آفس کی جانب چل پڑا انسپیکٹر آصف نے جب بوڑھے کو اپنے آفس کے دروازے پر دیکھا تو کھڑے ہو کر ایک جانب آفس میں موجود کرسی پر بیٹھایا اور پھر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا بزرگ کے ساتھ آیا ہوئے سپاہی کو کہا بابے کے لیے پانی لے آؤ سپاہی باہر گیا پانی لے آیا بابے کو دیا بابے نے پانی پیا اور انسپیکٹر نے سپاہی کو واپس جانے کا اشارہ کیا اور وہ باہر چلاگیا انسپیکٹر آصف نے کہا کہ سب سے پہلے میں معافی چاہتا ہوں کہ راستے میں آپ سے جو غیر مناسب رویہ رکھا امید ہے کہآپ مجھے معاف کر دیں گے میں بہت شرمندہ ہوں شرمندہ سے لہجہ میں انسپیکٹر آصف نے کہا بابے نے کہا بیٹا معافی مانگ کر مجھے شرمندہ مت کرو میں سمجھتا ہوں آج کل کے نوجوان غصیلے ہیں میں بہتر جانتا ہوںکیونکہ میں سرکاری سکول میں ہیڈماسٹر رہا ہوں بیٹا بس میں صرف اپنی بیٹی کی گمشدگی کے بارے میں رپٹ لکھوانا چاہتا ہوں جو دو دنوں سے غائب ہے میں نے اسے ہرجگہ ڈھونڈا پر کہی بھی اس کا کہی بھی آتا پتہ نہیں ملا بیٹا بس میری بیٹی کو ڈھونڈنے میں میری مدد کرو میرا اس کے علاوہکوئی نہیں بوڑھے نے ابدیدہ ہو کر کہا انسپیکٹر آصف نے کہا آپ پریشان نہ ہوں آپکی بیٹی کو ڈھونڈنے میں آپ کی بھرپور مدد کرونگا اور بیل بجائی باہر ٹھہرہ ہوا سپاہی اندر آ کر سلیوٹ کیا انسپیکٹر نے تہمکانہ لہجہ میں کہا کہ ارسلان کو بلاؤ جی سر سپاہی کہہ کر باہر بلانے چلہ گیا تھوڑی ہی دیر میں سب انسپیکٹر ارسلان آفس میں داخل ہوا اور ایک جانب بیٹھ گیا بزرگو آپ کا نام تو میں پوچھنا ہی بھول گیا انسپیکٹر آصف نے کہا میرا نام کرم دین ہے بوڑھے نے اپنا نام بتایا ارسلان یہ کرم دین ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ دو دن سے ان کی بیٹی غائب ہے ہر جگہ تلاش کر چکے ہیں پر کہی بھی اس کا پتہنہیں چل سکا ان کو لے جاؤ پوری ڈیٹیل لے کر سب سے پہلے ان کی بیٹی کی تلاش کرو اور مجھے رپورٹ کرو انسپیکٹر آصفنے کہا سب انسپیکٹر ارسلان نے جوابا کہا جی سر جو آپ کا حکم کرم دین ٹھا اور انسپیکٹر آصف سے مخاطب ہو کر کہا میں آپکا شکر گزار ہوں اپ کی مہربانی مجھ جیسے غریب پر مہربانی کر رہے ہیں میں آپ کا احسان مند رہونگا ہمیشہ اوردعائیں دینے لگا انسپیکٹر نے کہا بابا جی اپ کیوں شرمندہ کر رہے ہیں میں تو پہلے ہی شرمندہ ہو جو شام کا واقعہ ہوا بس اپ مجھے اپنا بیٹاسمجھیں میری تمام تر ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں اٹھ کر انسپیکٹر نے کرم دین کو گلے لگایا اور کرم دین پر نُم انکھوں ارسلان کے ساتھ افس سے باہر نکل گیا بل بجائی اور سپاہی کو بولا منشی کو بلا لاؤ منشی نے آتے ہی سلیوٹ کیا انسپیکٹر آصف نے کہا جاؤ چھوٹو گینگ کے جرائم کی مکمل فائل میری گاڑی میں رکھوا دو میںگھر جا رہا ہوں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو مجھے سے موبائل پر رابطہ کر لینا یہ کہہ کر انسپیکٹر آصف باہر جانے کیلے اٹھ کھڑاہواگاڑی میں بیٹھا اور منشی سے فائل لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا بگو سردار چھوٹو کی بات سن کر ایک طرف جہاں گھنہ اور تاریک جنگل کی طرف روانہ ہوا وہاں چھ مسلح افراد تھے ان کوجا کر کہا چلوں شہر کی طرف چلو موٹر سائیکلیں لے آؤ اور ساتھ میں کلہاڑیاں بھی لے انا یہ سن ان میں سے تین بندے گیے اور تین موٹر سائیکلیں 125 سی سی لے آئے اور وہ چھ مسلح افراد تین موٹر سائیکلوں پرسوار ہو کر شہر کی جانب نا ہموار سے راستوں سے شہر کی جانب توانا روانہ ہوئے راستہ میں ایک مسلح شخص نے پوچھا کہ بگو خیر تو ہے آج کہاں واردات کرنے کا ارادہ ہے بگو مسکرایا اور کہا تو بس دیکھتا جا آج کافی مال اکٹھا کرنا ہے باتیں کرتے کرتے وہ لوگ مین روڈ پر جہاں چھوٹے اوربڑے درخت سڑک کے کنارے پر لگے ہوئے تھے پہنچ گئے بگو مین روڈ کے ایک سائڈ پر رکنے کا اشارہ کیا موٹر سائیکل سوار رک گئے چلو اس درخت کو کاٹو بگو نے ایک جانب درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دو مسلح افراد نے اپنی اپنی کلاشنیں ایک شخص کو دے کر درخت کو کاٹنے لگے کچھ ہی دیر بعد درخت کٹ کر زمین بوسہوا اس کو سڑک کے درمیان ڈال کر سائڈوں پر لگے درختوں کے پیچھے چھپ جاؤ بگو نے کہا اب منظر یہ تھا کہ کہ سڑک درخت کی وجہ سے بلاق ہو گئی تھی کچھ ہی دیر بعد ایک اے پی وی وین دور سے آتی دیکھائی دی بگو زیر لب مسکرایا اور کہا پہلا شکار آ رہا ہے وین ڈرائیور نے گرے درخت کو دیکھ کر زور دار بریک لگائی پر پھر بھی درخت سے چند انچ کی دوری سے ٹکراتے بچییں اے پی وی کے رکتے ہی مسلح افراد نے اس کا گھیراو کر لیا اور گنیں تان کر ڈرائیور کو نیچے اتارنے کا اشارہ کیا بگو گےبڑہااور ایک زور دار تھپڑ ڈرائیور کو دے مارا تھپڑ کھا کر خوف زدہ ہو کر اپنا گال مسلنے لگا جبکہ اے پی وی میں موجود سواریاں جن بچے اور عورتیں بھی شامل تھی اسناگہانی صورت حال میں خوفزدہ دیکھائی دے رہے تھے بگو نےسب کو نیچے آنے کا کہا سب کے سب لوگ وین سے نیچے اتر کر ایک سائڈ پر ہو لیے میں آب سب کو کچھ نہیں کہونگا جو جو کچھ ہے سب کا دے دو اگر کسی نے کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو انجام کا وہخود زمہ دار ہو گا سب نے چپ چاپ جو کچھ بھی تھا نکال کر دے دیا چوں چراں کیے بغیر نکال کر دے دیا اتنے میں ایک بس آتی دیکھائی دی تو بگو نے سب کو چیخ کر کہا سائڈ پر ہو جاؤ بس کو لوٹنا ہے بس بھی حسب توقع گرےدرخت کے پاس آ کر رکی بگو جونہی درخت کی آوٹ سے باہر نکلا فائر کی آواز آئی اور بگو زمین پر جا گرا

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.