واہ ڈاکٹر صاحب واہ مزہ آگیا... اس ناول کے تو کیا ہی کہنے... کہانی جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے لطف بڑھتا ہی جارہا ہے.... ذکیہ نے مولوی صاحب کا جس طرح لن تھاما اسے سہلایا مٹھ کے انداز میں اور پھر آخر میں منہ میں لے لیا.. بہت ہی خوب....
نبیل کے تو صحیح ٹٹے شارٹ ہوئے ہیں جس میں اس کا اپنا پی قصور ہے... جب کھلے عام یاروں میں شیخیاں بکھیرے گا تو ایسا ہی ہوگا.... پپو نے بھی پھر حد ہی کردی.. پر کرنا بنتا بھی ہے جب پتا چلا کہ نبیل سے مرواچکی ہے... منگنی بھی توڑ دی ذمہ بھی منگیتر پر اور ویڈیو بھی بناڈالی جس سے اب پکی چوت کا انتظام ہوگیا.....
زہرا اب مضبوط بن کر ابھری ہے .. جس طرح سے اس نے صبا کو دن میں تارے دکھائے ہیں اب پر لڑکی احتیاط کرے گی...
مولوی صاحب کے تو مزے ہونے والے ہیں... افففف مجھے تو مولوی صاحب اور اس عورت کے سیکس کا شدت سے انتظار ہے.... واؤ
بیک وقت مختلف حالات اور کردار چل رہے ہیں. آگے جاکر کہیں نہ کہیں ان کا آپس میں ربط بنے گا... ایک طرف کالج دوسری طرف مولوی اور نبیل.. ساتھ میں لونڈے اور ہاں زہرا بھی....