Jump to content
URDU FUN CLUB

rameez

Active Members
  • Content Count

    47
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    2

rameez last won the day on March 23 2020

rameez had the most liked content!

Community Reputation

46

1 Follower

Identity Verification

  • Gender
    Male

Recent Profile Visitors

The recent visitors block is disabled and is not being shown to other users.

  1. بالکل درست کہا آپ نے میں آپ سے متفق ہوں
  2. سب سے اہم بات یہ کہ میرے بھاءی مجھے نہ ایڈمن صاحب سے کوءی گلہ ہے اور نہ کسی اور سے میں نے ایک ریکوءسٹ کی تھی لیکن اگر وہ فورم کی پالیسی کے خلاف ہے تو میں اس کے لیے دلی معذرت خواہ ہوں مگر اس بات کے لیے میں کسی محاذ آراءی کا خواہاں نہیں ہوں اس فورم پر میں کءی مذیدار کہانیاں پڑھیں اور ان سے ادبی تلذز حاصل کیا ، اس کے لیے بہت شکریہ اللہ آپ سب کا حافظ ہو
  3. سر اگر یہ میرے بس کی بات ہے تویہ فورم آپکا ہوا
  4. فورا تصحیح بھی کی ہے کہ ایک اسٹوری ، اور ٹمی آصف پلیز یہ بلیک میلنگ کا لفظ واپس لیں ایڈمن کے جھوٹ کو میرا سلام ، میں نے تمام پریمیم کہانیاں پڑھنے کی ڈیماند نہیں کی ، صرف ایک کہانی کا کہا تھا اور
  5. sir please move this story to incomplete folder and also remove my membership
  6. nhee sir bus hawas hi parhna tha ... koi baat nhee ,
  7. سر بہت شکریہ ، میں صرف ایک اسٹوری پڑھنے کا خواہش مند تھا ۔ چلیں کوءی بات نہیں ، لیکن معزرت کے ساتھ ایسی صورت میں اپنی اسٹوری مکمل نہیں کر پاوںگا ، یقین ہے آپ درگزر کریں گے
  8. sir waiting for admin reply for my one mail if we will on same page than i will give an update
  9. admin sir aap sea aek request ki hea via e mail
  10. میڈم عفیفہ کہنے لگیں یار ہم لوگ لاہور کے رہنے والے ہیں،۰۲ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی اور میں اسلام آباد آگئی۔ میری تعلیمی قابلیت اس وقت ایف اے تھی اور میرے میاں وزارت تعلیم میں اسسٹنت تھے۔ میرے میاں نے مجھے شادی کے بعد بی اے کروایا اور پھر بی ایڈ بھی کروایا۔ ۸ سال بعد میرے میاں نے محکمانہ ترقی کا امتحان دیا اور سییکشن آفیسر ہوگئے اور ہمیں یہ والا گھر مل گیا۔ اس وقت بندے کم تھے اور اسلام آباد میں نوکریاں زیادہ تھیں میرے میاں نے مجھے ٹیچر کروادیا۔ بعد میں ہمیں یہ بڑا مکان مل گیا۔ جب میں ۵۳ سال کی تھی یعنی میری شادی کے ۵۱ سال بعد میرے میاں کی ڈیتھ ہوگئی، اس وقت کچھ رشتہ داروں نے مدد کی اور یہ مکان مجھے مل گیا۔ میاں کے انتقال کے ۳برس بعد تک تو مجھے زندگی کی صحیح سمجھ ہی نہیں آئی۔ لیکن بعد میں ہر رات کو میاں کی کمی کھلنے لگی۔ مگر میں نے بڑے صبر سے کام لیا۔ ۳ سال بعد لاہور میں ایک شادی تھی میں بچوں کو لے کر امی کے گھر چلی گئی۔ بیوہ ہونے کے بعد میرا اچھی طرح سے تیار ہونے کو دل نہیں کرتا تھا لکین میری بھابی نے مجھے ضد کرکے تیار کردیا۔ ہم مہندی کی تقریب میں پہنچے تو وہاں میری ایک کزن فرخندہ مجھے ملی وہ میری بڑی اچھی دوست بھی تھی اس نے مجھے اپنے بیٹے سے ملوایا جو کوئی ۶۱ سال کا تھا۔ شانی نام تھا اس کا، اور میرے فیورٹ ہیرو وحید مراد کی کاپی تھا۔ اس کی عادت بھی بہت اچھی تھی اور پورے فنکشن میں اس نے ہنسا ہنسا کر میرا برا حال کردیا۔ اور ہماری اچھی خاصی بے تکلفی ہوگئی۔ برات والے دن جب ہم سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تو مجھے بچوں کو تیار کروانے میں دیر ہوگئی۔ جب میں باہر نکلی تو عورتوں والی پہلی بس نکل چکی تھی، جس گاڑی میں امی جارہی تھیں تینوں بچوں کو انہوں نے اپنے پاس بٹھا لیا۔ اور پھر ایک چھوٹی کوسٹر آئی جس میں کافی سامان تھا اس میں سامان کے بعد پیچھے والی بڑی سیٹ خالی تھی امی نے کہا تو اور شانی اس میں آجاو۔ میں نے بھابی کی طرف دیکھا تو کہنے لگیں ہاں ہاں کوئی بات نہیں شانی اپنا بچہ ہے اس کے ساتھ آجاو۔ میں مجبورا بیٹھ گئی چار گھنٹے کا سفر تھا میں اور شانی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ اب بس میں ڈرائیور کے علاوہ ہم دونوں ہی تھے اور ڈرائیور بھی ہمیں سامان کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر تک تو ہم ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے پھر میں نے وہ سوال کردیا جس سے ایک سارا موضوع ہی بدل گیا۔ میں نے کہا کہ شانی تیری منگنی ہوئی کہ نہیں اس نے کہا کہ نہیں بھابی ابھی کہاں ابھی تو فرسٹ ائر میں آیا ہوں، میں نے کہا کوئی بات نہیں تو اتنا پیارا ہے تجھے تو کوئی ھی اپنی بیٹی دے دیگا۔ اس نے کہا واقعی کیا میں پیارا ہوں میں نے کہا اور نہیں تو کی۔ اس نے کہا اچھا جی کیا چیز ہے میری۔ میں نے کہا تیری آنکھیں، ہیرو کٹ بال تری ناک ہر چیز، اس پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا بھابی آپکی ۳چیزیں بھی بہت پیاری ہیں۔ میں نے کہا اچھا جی وہ کونسی کہنے لگا آپکی آنکھیں، آپکے ہونٹ اور یہ کیوٹ سے گال اور ہاں آپکے بال بھی۔ میں نے کہا بے شرم بھابی کو ایسے دیھتے ہیں کیا، اس نے کہا بھابی ہیں توبی اتنی پیاری۔ ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ مجھے سردی لگنی شروع ہوگئی میں نے کہا شانی کمبل لانا بھول گئے ہم، اس نے کہا ٹھریں بھابی میں ڈرائیور سے پتا کرتا ہوں وہ آگے گیا اور ۲ منٹ بعد ایک چھوٹا سے کمبل لے کہ آگیا میں نے کہا اس سے کیا ہوگا کہنے لگا بھابی آپ اوڑھ لو میری خیر ہے میں گزارا کرلوں گا۔ میں کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی لیکن ۵منٹ بعد میں نے دیکھا کہ شانی کو سردی لگ رہی ہے مگر وہ ضبط کرکے بیٹھا ہوا ہے میں نے کہا کہ شانی بیٹا سردی لگ جائے گی اچھا ادھر پاس ہوجاو کمبل میں ہاتھ تو ڈال لو وہ میرے بالکل قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اس نے ہاتھ کمبل میں ڈال لیے۔ پھر اس نے میرے یاتھ پکڑلیے میرے ہاتھ ٹھنڈے تھے جبکہ شانی کے ہاتھ بالکل گرم تھے میں نے کہا یہ کیا کرہے ہو اس نے کہا آپ کے ہاتھ گرم کرہا ہوں شانی کے ہاتھوں پر بڑے گھنے مردانہ بال تھے اور مججھے ایسے ہاتھ بہت پسند تھے۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے اپنی ایک ٹانک کو میری ٹانگ کے ساتھ جوڑ دیا چونکہ میری سیٹ بالکل کھڑکی کے ساتھ اس لیے میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکی، اور خاموش رہی۔ لیکن چونکہ میاں کے بعد یہ میرا اپنے جسم پر پہلا مردانہ لمس تھا اس لئے میرے جسم میں ایک لذت انگیر جھرجھری دوڑ گئی تو شانی نے کہا کیا ہو ا میں نے کہا کچھ نہیں اور میں نے ہاتھ چھڑا لیے اور کہا کہ بس گرم ہوگئے ہیں، تو شانی اپنے ہاتھ میری گود میں رکھ دئے اور کہا لیکن مجھے سردی لگ رہی ہے میں نے آپ کے ہاتھ گرم کئے اب آپ میرے ہاتھ گرم کردو۔ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ میری گود میں رکھد دئے، ہم کچھ دیر بالکل خاموش بیٹھے رہے پھر شانی بولا بھابی آپ واقعی میں بہت پیاری ہیں میں نے کہا کیا بھابی بھابی لگا رکھی ہے میں خالہ ہوں تیری، تیری ماں کی کزن ہوں اور تو میرے بیٹے سے بھی چھوٹا ہے۔ میرا یہ تیز لہجہ سن کر وہ ایک دم گبھرا سا گیا اور خاموش ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھ باہر نکال لئے ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ منہ پھلا کہ بیٹھا ہوا تھا اور بہت ہی کیوٹ لگ رہا تھا اور صندل جان مجھے اس پر بے تحاشہ پیار آگیا۔ میں نے کہا اوئے ہوئے بچہ ناراض ہوگیا۔ یہ کہہ کر میں نے اس کے سرخ گال پر ایک چٹکی لی اور اسے کہا اچھا لا میں تیرے ہاتھ گرم کردوں وہ قریب ہو کر ایک دم میرے گلے لگ گیا اور مھجے اپنی بانہوں میں جکڑ کر کہنے لگا۔ تھینک یو سو مچ آپ بہت سویٹ ہو اور یہ کہہ کر مجھے چوم لیا، ہائے یار میرے تن بدن میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میں نے کہا شانی یہ کیا کر رہے ہو پیچھے ہٹو لیکن اس نے پورے ۳ منٹ تک مجھے چمٹائے رکھا۔ اور میری ساری سانسیں بے ترتیب ہوگئیں۔ پھر اس مے میرے ہاتھ کو چوم لیا اور کہنے لگا کیا آپ مجھ سے دوستی کرو گی، میں نے کہا جی نہیں بالکل نہیں۔ تو اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا قسم سے میری کوئی دوست نہیں پلیz کہ صندل میں اس وقت بالکل پگھل چکی تھی لیکن یہ بات تو نہیں سمجھے گی۔ کیونکہ تو ابھی مرد کے پیار سے آشنا نہیں اور تیرا ابھی سیکس کا پہلا تجربہ ہے۔ پھر اس نے میرے جواب کا انتظار کئے بعگیر اپنے ہاتھ کو کمبل کے نیچے سے میرے مموں پر پھیرنا شروع کردیا۔ اف اس کا لمس اتنا پیارا تھا کہ میں بتا نہیں سکتی۔ پھر اس نے میری قمیض کے اندر ہاتھ ڈال کر میرا پیٹ سہلانا شروع کردیا۔ اب میرے منہ سے ایک تیز سسکی نکل گئی اور وہ سمجھ گیا کہ میں گرم ہو چکی ہوں۔ اس نے قمیض اوپر کی اور اور پھر برا تک پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے میرے دونوں ممون کو باری باری سہلا نا اور دبان شروع کردیا اور پانا دوسرا ہاتھ میری شلوار میں گھسا دیا کیونکہ شادی کے فنکشن کی وجہ سے میں نے غراراہ ٹائپ شلوار پہنی ہوئی تھی اس کا ہاتھ اند جا کر سیدھا میری پھدی سے ٹکرایا جو پہلے ہی گیلی ہوچکی تھی۔ شانی بولا خالہ جی آپ جتنی پیار ہو اتنی ہی گرم بھی ہو، میں نے سن کر شرما کر اپنا منہ نیچے کر لیا۔ کچھ دیر میرے ممے دبانے اور چوت سہلانے کے بعد اس نے اپنی زپ کھولی اور انڈر وئر نیچے کرکیے اپنا لن باہر نکال لیا۔ میں نے کہا شانی نہ کر پلیز ڈرائیور دیکھ لے گا، اس نے کہا آپ چیک کر لو سامان کی وجہ سے وہ ہمیں نظر نہیں آرہا وہ ہمیں کیسے دیکھ سکتا ہے۔ پھر اس نے میرا ہاتھ اپنے لن پر رکھ دیا اف ایک بڑا بالکل جوان لن اتنے لمبے عرصے کے بعد میرے ہاتھ میں تھا میں نے تو اپنے اوپر قابو کھودیا اور کہا شانی اتنا بڑا؟ سردی کے دن تھے بس میں اندھیرا ہو چکا تھا اور آس پاس بھی کوئی نہ تھا میں نے دل میں کہا عفو ہمت کرے۔ میں نے شانی کی طرف دیکھا اور اس کے لن کو مٹھی میں پکڑ کر مسلنے لگی اس کا بھی لذت سے برا حال ہوگیا۔ پھر ہم دونوں نے کسنگ شروع کردی اس کے ہونٹوں کا رس بہت میٹھا تھا کنوار ے جوان ہونٹ۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر مجھے سیٹ پہ لٹا دیا اور کہا ہیاں سے کسی کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ میرے اوپر جھک گیا۔ اور میں زبان نکال کر اس کے گال چاٹنے لگی۔۔۔۔اور پھر اس کے گال چاٹتے چاٹتے میں اپنی زبان کو اس کے کان کے قریب لے گئی۔۔۔۔اور اس کے کان کی لو کو چاٹ کر اس کے کان میں سر گوشی کی اور۔۔۔ اسے کہنے لگی شانی تم نے میری ساری ریاضت ختم کردی۔ میری سرگوشی سن کر شانی کے جذبات بھی مزید بھڑک اْٹھے اور اس نے بھی مجھے چما دیا اور وہ بھی سرگوشی میں کہنے لگا۔۔۔۔ مجھے بھی تمہاری چوت چاہیئے میری جان اس کی بات سن کر پھر سے میری چوت کْھل بند ہونے لگی۔اور شانی کا لن سہلاتے سہلاتے میرا جی مچلنے لگا۔ اور اس کے ساتھ ہی اس کا ہاتھ سرکتا ہوا میری چوت کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور اس نے میری چوت کو اپنی مٹھی میں لیا۔۔۔اور اسے دبا کر بولا۔۔۔۔ اْف جانآپ کے نیچے تو آگ لگی ہوئی ہے۔ شانی بس کے فرش پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اور میرے چوتڑ پکڑ کو مجھے تھوڑا اوپر اْٹھنے کو کہا۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی ہپس اوپر کی۔۔۔۔۔شانی نے میری شلوار اتار دی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ بڑے غور سے میری ننگی رانوں کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے باری باری میری دونوں رانوں کو چوما۔۔ پھر وہ آگے بڑھا اور اپنے منہ کو میری رانوں کے بیچ میں لے آیا۔۔اور زبان نکال کر میری نرم رانوں کو چاٹنے لگا۔۔۔۔ اس کی زبان کا لمس پاتے ہی میں نے ہلکا ہلکا کراہنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر رانوں سے ہوتی ہوئی اس کی زبان میری چوت کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔ اور۔۔اور۔۔۔ کچھ ہی سیکنڈز کے بعد اس کی زبان میری گرم پھدی سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔ اور پھر اس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا۔ شروع کر دیا۔۔۔۔ میں بیان نہیں کر سکتی کہ شانی کے اس کام سے مجھے کتنا مزہ مل رہا تھا۔۔۔ اور اس کی زبان کے نیچے کس طرح سے میں تڑپ رہی تھی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میری پھدی نے دوبارہ سے رسنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس نے میری چوت کے ہونٹوں کو اپنے منہ سے نکالا اور دوبارہ سے میری پھدی سے رسنے والے جوس کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے اس کام سے بہت مزہ مل رہا تھا لیکن عین اس وقت میری پھدی نے لن کے لیئے تڑپنا شروع کر دیا۔۔ تب میں سیٹ سے ا وپر اْٹھی اور اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ اب بس کر دو۔۔۔۔ اس نے میری بات سنی ان سنی کر دی اور پھر سے اپنی زبان کو میری چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔اس نے مجھے گھوڑی بننے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔اور میں سیٹ پر ہی گھوڑی بن گئی۔۔ اب وہ میرے پیچھے آیا اور۔۔اپنی لن کی نوک کو میری چوت کے لبوں پر رکھا۔۔۔۔اس کے لن کی نوک کر میری چوت پر رکھتے ہی میرے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔۔ جسے سن کر وہ کہنے لگا کیا ہوا بھابی جان۔ابھی تو میں نے اپنے لن کو اندر ڈالا ہی نہیں تو میں جسے اس وقت لن کو اپنے اندر لینے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔۔۔۔ پیچھے مْڑ کر اس کی طرف دیکھااور کہا جلدی کر نہ یار میری بات سن کر اس نے ایک زبردست گھسا مارا۔۔۔جس سے اس کے پورے کا پورا لن میری چوت میں اتر گیا۔۔۔ اور اس کیساتھ ہی میرے منہ سے بلند آواز میں۔۔۔۔ چیخ نکلی۔۔۔اوئی ماں۔۔۔۔۔ مر گئی میں۔ لیکن شکر ہے اس گاڑی کا ڈیک فل آن تھا۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے لن کو میری چوت میں ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ وہ جب بھی زور کا گھسہ مارتا۔۔۔ تو اس کا لن میری چوت کے پتہ نہیں کس کونے میں لگتا کہ جسے کھا کر میری میری چوت پانی پانی ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ۔آپ ہی آپ میرے منہ سے۔۔۔ نہایت سیکسی۔۔۔زبردست اور دل کش قسم کی سسکیان برآمد ہونا شروع ہو جاتیں۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے گھسوں کی رفتار تیز کر دی۔۔۔۔ اور اس کے ہر گھسے سے میں خود کو ہواؤں میں اْڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بار بار میرے منہ سے ہیجان سے بھر پور اور شہوت انگیز طریقے سے اس کا نام نکلنے لگا۔شانی شانی میری جان شانی۔ پھر ہم دونوں ایک ساتھ ہی فارغ ہوگئے۔ پھر ہم دونوں نے اپنے سانس درست کیے اور پھر کپڑے صحیح کرے کے بیٹھ گئے مجھ پر تو اتنی غنودگی طاری تھی کہ میں فورا سوگئی۔ ایک گھنٹہ بعد آنکھ کھلی تو گاڑی ایک ریستوران نے باہر رکی ہوئی تھی میں نے دیکھا گاڑی میں نہ ڈرائیور تھا نہ شانی میں گبھر کر نیچے اتری تو دیکھا کا بارات کی گاڑی بھی وہیں پر تھی ہم سب لوگ ایک ریستوران پر اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر میری امی آگئیں اور کہنے لگیں عفو سفر کیا رہا میں نے شرما کر امی بہت سکون سے گزرا میں تو سو ہی گئی تھی۔ امی کہا چل اب گاڑی میں جگہ بن گئی آگے میرے ساتھ ہی جانا یوں میں امی کے ساتھ بیٹھ گئی اور جاتے ہوئے شانی کو منہ چڑا دیا۔ز
  11. کمنٹس کرنے والے تمام احباب کا شکریہ
  12. بھائی کمنٹس کا بہت شکریہ آپ کی بات درست ہے لیکن ابھی کہانی کا آغاز ہے ، ابھی میں ایک تعرفی مرحلے سے گزر رہا ہوں جلد ہی آپکی چکائت دور ہوجائے گی
×
×
  • Create New...
DMCA.com Protection Status