Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

یوں آفتاب شوق شب غم میں ڈھل گیا

جیسے شباب دور سے ہو کر نکل گیا

دل سو ز عاشقی سے سر شام جل گیا

تھا زندگی میں ایک ہی کانٹا ، نکل گیا

تم آئے تھے تو ایک زمانہ تھا سازگار

تم کیا گئے کہ ایک زمانہ بدل گیا

ہم شہر آرزو میں بھٹکتے پھر ا کئے

دل تھا ہمارا ایک ہی ناداں ، بہل گیا

اے دوست آ بھی جا کہ میں تصدیق کر سکوں

سب کہہ رہے ہیں موسم ہجراں بدل گیا

اکثر میں سوچتا ہوں مگر جانتا نہیں

گزری تمام عمر کہ بس ایک پل گیا

سرور ترے خلوص ومحبت کا کیا کریں

سکہ ہی اک نیا سر بازار چل گیا

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 298.9k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا

بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا

یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں

کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا

جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے

جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا

وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ

کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر

کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا

  • Author

کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو

دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو

میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے

میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو

میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے

میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو

وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے

گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو

کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں

میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو

وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے

میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو

  • Author

کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے

تُو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے

جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے

جان باقی ہو مگر سانس رُکی ہو جیسے

ہر ملاقات پہ محسوس یہ ہوتا ہے

مُجھ سے کچھ تیری نظر پُوچھ رہی ہو جیسے

راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے

وُہ نظر چُھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے

ایک لمحے میں سمٹ آئے یہ صدیوں کا سفر

زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے

اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں

میری ہر سانس تیرے نام لکھی ہو جیسے

  • Author

محبت چاند جیسی ہے

جو دیکھو تو، بہت ہی خوبصورت خواب لگتی ہے

سنہرا آب لگتی ہے

اچھوتا باب لگتی ہے، بہت نایاب لگتی ہے

مگر یہ ہے سرابوں سی

اسے چھونے کی خواہش میں،

مسافر گھر کا رستہ بھول جاتا ہے

اگر تم چاند کی کرنوں کو چھو لیتے

تمھارے ہاتھ کی اِن انگلیوں کی ساری پوروں پر

ہزاروں آبلے ہوتے

📢 Post Your Ad Here
  • Author

کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے

دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے

محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا

باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے

حلیئے بدل کے رکھ دئیے جیسے شبِ فراق نے

آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں ، چہرے بھی وہ نہیں رہے

اس کا مہِ جمال بھی گویا غروب ہو چلا

اپنے وفودِ شوق کے چرچے بھی وہ نہیں رہے

ہوش و خرد گنوا چکے ، خود سے بھی دور جا چکے

لوگ جو تیرے تھے کبھی اپنے بھی وہ نہیں رہے

یہ بھی ہوا کہ تیرے بعد ، شوق سفر نہیں رہا

جن پہ بچھے ہوئے تھے دل ، رستے بھی وہ نہیں رہے

  • Author

دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے

لفظ اظہار کی اُلجھن میں پڑا ہے کب سے

اے کڑی چُپ کے در و بام سجانے والے

منتظر کوئی سرِ کوہِ ندا ہے کب سے

چاند بھی میری طرح حُسن شناسا نکلا

اُس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے

بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے

کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے

شعبدہ بازی ٔآئینہ ٔاحساس نہ پوچھ

حیرتِ چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے

دیکھئے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے

شہر پر چھائی ہوئی سُرخ گھٹا ہے کب سے

کور چشموں کے لئے آئینہ خانہ معلوم!

ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے

کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجد

ڈھونڈتی کس کو سرِ دشت ہوا ہے کب سے

  • Author

نقاب اس آفتاب حسن کا اندھیر رکھتا ہے

رخ روشن چھپاکر سب کیا ہے روز روشن کو

اڑاتے دولتِ دنیا کو ہیں ہم عشق بازی میں

طلائی رنگ پر صدقے کیا کرتے ہیں کندن کو

قبائے سرخ وہ اندامِ نازک دوست رکھتا ہے

ملانا خاک میں عاشق کا ہے شغل اُن کے دامن کو

تصور لالہ و گل کا رہا کرتا ہے آنکھوں میں

قفس میں بھی سلام شوق کرلیتے ہیں گلشن کو

سوار اس تیغ زن کو دیکھتا ہے جو وہ کہتا ہے

ہمارا خون حاضر ہے، اگر رنگواؤ توسن کو

کمی ہوگی نہ بعد مرگ بھی بےتابیء دل میں

قیامت تک رہے گا زلزلہ سا میرے مدفن کو

تبسّم میں نظر آنا ترے دنداں کا آفت ہے

چمکنے سے لگاتی ہے یہ بجلی آگ خرمن کو

یہ قصر یار کو پیغام دینا اے صبا میرا

نگاہیں ڈھونڈتی ہیں تیری دیواروں کے روزن کو

  • Author

م

یرے وجود میں وفا کی روشنی اتار دے

پھر اتنا پیار دے کے مجھے چاھتوں میں مار دے

بہت اداس تھا جو اٹھ کے تیرے پاس ا گیا

کچھ ایسی بات کر جو دل کو سکون اور روح کو قرار دے

سنا ہے کہ تیری ایک نظر سنوارتی دیتی ہے زندگی

لایا ہوں ساتھ اپنے زہر آج میں

اگر ہو سکے تو اپنے ہاتھوں سے یہ زہر میری جان میں اتار دے

ساری زندگی تیرے یادوں میں مارتا رہا

آج اپنے ہاتھوں سے مجکو مار دے مجھ کو مار دے

Maqruz k bigrre howe HALAAT ki manind'

majbor k honton pe SAWALAAT ki manind'

DiL ka teri chahat mein ajb haal howa hai,

selaab se brbad MKANAAT ki manind'

mein un mein bhatkte howe jugno ki tarah hon,

us shkhs ki aankhein hain kisi RAAT ki manind'

DiL roz sjata hon mein DULHAN ki tarah se,

gham roz chale aate hain BARAAT ki manind'

ab ye B nahi yad k kia naam tha us ka,

jis shkhs ko manga tha MNAJAAT ki manind'

kis drja muqdds hai tere qurb ki khwahish,

masoom se bache k KHIYALAAT ki manind'

us shkhs se milna mera mumkin hi nahi hai,

mein piyas ka sehra hon wo BRSAAT ki manind...*¤*

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.