September 4, 201114 yr Author یوں آفتاب شوق شب غم میں ڈھل گیا جیسے شباب دور سے ہو کر نکل گیا دل سو ز عاشقی سے سر شام جل گیا تھا زندگی میں ایک ہی کانٹا ، نکل گیا تم آئے تھے تو ایک زمانہ تھا سازگار تم کیا گئے کہ ایک زمانہ بدل گیا ہم شہر آرزو میں بھٹکتے پھر ا کئے دل تھا ہمارا ایک ہی ناداں ، بہل گیا اے دوست آ بھی جا کہ میں تصدیق کر سکوں سب کہہ رہے ہیں موسم ہجراں بدل گیا اکثر میں سوچتا ہوں مگر جانتا نہیں گزری تمام عمر کہ بس ایک پل گیا سرور ترے خلوص ومحبت کا کیا کریں سکہ ہی اک نیا سر بازار چل گیا
September 4, 201114 yr Author محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہو گا یہ طے ہوا تھا بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا یہ کیا کہ سانسیں اُکھڑ رہی ہیں سفر کے آغاز سے ہی یاروں کوئی بھی تھک کر نہ راستے میں نڈھال ہوگا یہ طے ہوا تھا جدا ہوئےتو کیا ہوا پھر یہی تو دستورِزندگی ہے جدائیوں میں نہ قربتوں کا ملال ہوگا یہ طے ہوا تھا وہی ہوا نہ بدلتے موسم میں تم نے ہم کو بھلا دیا نہ کوئی بھی رت ہو نا چاہتوں کو زوال ہوگا یہ طے ہوا تھا چلو کہ کشتیوں کو جلا دیں گمنان ساحلوں پر کہ اب وہاں سے نہ واپسی کا سوال ہوگا یہ طے ہوا تھا
September 4, 201114 yr Author کوئی تو ھو جو مری وحشتوں کا ساتھی ھو دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ھو میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے میرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ھو میں اس کے ھاتھ نہ آؤں وہ میرا ھوکر رھے میں گر پڑوں تو میری پستیوں کا ساتھی ھو وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے گلی گلی میری رسوائیوں کا ساتھی ھو کرے کلام جو مجھ سے تو میرے لہجے میں میں چپ رہوں تو میرے تیوروں کا ساتھی ھو وہ خواب دیکھے تو میرے حوالے سے میرے خیال کے سب منظروں کا ساتھی ھو
September 4, 201114 yr Author کوئی فریاد تیرے دل میں دبی ہو جیسے تُو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے جان باقی ہو مگر سانس رُکی ہو جیسے ہر ملاقات پہ محسوس یہ ہوتا ہے مُجھ سے کچھ تیری نظر پُوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا ہے وُہ نظر چُھپ کے مجھے دیکھ رہی ہو جیسے ایک لمحے میں سمٹ آئے یہ صدیوں کا سفر زندگی تیز بہت تیز چلی ہو جیسے اس طرح پہروں تجھے سوچتا رہتا ہوں میری ہر سانس تیرے نام لکھی ہو جیسے
September 4, 201114 yr Author محبت چاند جیسی ہے جو دیکھو تو، بہت ہی خوبصورت خواب لگتی ہے سنہرا آب لگتی ہے اچھوتا باب لگتی ہے، بہت نایاب لگتی ہے مگر یہ ہے سرابوں سی اسے چھونے کی خواہش میں، مسافر گھر کا رستہ بھول جاتا ہے اگر تم چاند کی کرنوں کو چھو لیتے تمھارے ہاتھ کی اِن انگلیوں کی ساری پوروں پر ہزاروں آبلے ہوتے
September 4, 201114 yr Author کتنی بدل چکی ہے رت ، جذبے بھی وہ نہیں رہے دل پہ ترے فراق کے صدمے بھی وہ نہیں رہے محفلِ شب میں گفتگو اب کے ہوئی تو یہ کھلا باتیں بھی وہ نہیں رہیں لہجے بھی وہ نہیں رہے حلیئے بدل کے رکھ دئیے جیسے شبِ فراق نے آنکھیں بھی وہ نہیں رہیں ، چہرے بھی وہ نہیں رہے اس کا مہِ جمال بھی گویا غروب ہو چلا اپنے وفودِ شوق کے چرچے بھی وہ نہیں رہے ہوش و خرد گنوا چکے ، خود سے بھی دور جا چکے لوگ جو تیرے تھے کبھی اپنے بھی وہ نہیں رہے یہ بھی ہوا کہ تیرے بعد ، شوق سفر نہیں رہا جن پہ بچھے ہوئے تھے دل ، رستے بھی وہ نہیں رہے
September 4, 201114 yr Author دامِ خوشبو میں گرفتار صبا ہے کب سے لفظ اظہار کی اُلجھن میں پڑا ہے کب سے اے کڑی چُپ کے در و بام سجانے والے منتظر کوئی سرِ کوہِ ندا ہے کب سے چاند بھی میری طرح حُسن شناسا نکلا اُس کی دیوار پہ حیران کھڑا ہے کب سے بات کرتا ہوں تو لفظوں سے مہک آتی ہے کوئی انفاس کے پردے میں چھپا ہے کب سے شعبدہ بازی ٔآئینہ ٔاحساس نہ پوچھ حیرتِ چشم وہی شوخ قبا ہے کب سے دیکھئے خون کی برسات کہاں ہوتی ہے شہر پر چھائی ہوئی سُرخ گھٹا ہے کب سے کور چشموں کے لئے آئینہ خانہ معلوم! ورنہ ہر ذرہ ترا عکس نما ہے کب سے کھوج میں کس کی بھرا شہر لگا ہے امجد ڈھونڈتی کس کو سرِ دشت ہوا ہے کب سے
September 4, 201114 yr Author نقاب اس آفتاب حسن کا اندھیر رکھتا ہے رخ روشن چھپاکر سب کیا ہے روز روشن کو اڑاتے دولتِ دنیا کو ہیں ہم عشق بازی میں طلائی رنگ پر صدقے کیا کرتے ہیں کندن کو قبائے سرخ وہ اندامِ نازک دوست رکھتا ہے ملانا خاک میں عاشق کا ہے شغل اُن کے دامن کو تصور لالہ و گل کا رہا کرتا ہے آنکھوں میں قفس میں بھی سلام شوق کرلیتے ہیں گلشن کو سوار اس تیغ زن کو دیکھتا ہے جو وہ کہتا ہے ہمارا خون حاضر ہے، اگر رنگواؤ توسن کو کمی ہوگی نہ بعد مرگ بھی بےتابیء دل میں قیامت تک رہے گا زلزلہ سا میرے مدفن کو تبسّم میں نظر آنا ترے دنداں کا آفت ہے چمکنے سے لگاتی ہے یہ بجلی آگ خرمن کو یہ قصر یار کو پیغام دینا اے صبا میرا نگاہیں ڈھونڈتی ہیں تیری دیواروں کے روزن کو
September 4, 201114 yr Author م یرے وجود میں وفا کی روشنی اتار دے پھر اتنا پیار دے کے مجھے چاھتوں میں مار دے بہت اداس تھا جو اٹھ کے تیرے پاس ا گیا کچھ ایسی بات کر جو دل کو سکون اور روح کو قرار دے سنا ہے کہ تیری ایک نظر سنوارتی دیتی ہے زندگی لایا ہوں ساتھ اپنے زہر آج میں اگر ہو سکے تو اپنے ہاتھوں سے یہ زہر میری جان میں اتار دے ساری زندگی تیرے یادوں میں مارتا رہا آج اپنے ہاتھوں سے مجکو مار دے مجھ کو مار دے
September 4, 201114 yr Maqruz k bigrre howe HALAAT ki manind' majbor k honton pe SAWALAAT ki manind' DiL ka teri chahat mein ajb haal howa hai, selaab se brbad MKANAAT ki manind' mein un mein bhatkte howe jugno ki tarah hon, us shkhs ki aankhein hain kisi RAAT ki manind' DiL roz sjata hon mein DULHAN ki tarah se, gham roz chale aate hain BARAAT ki manind' ab ye B nahi yad k kia naam tha us ka, jis shkhs ko manga tha MNAJAAT ki manind' kis drja muqdds hai tere qurb ki khwahish, masoom se bache k KHIYALAAT ki manind' us shkhs se milna mera mumkin hi nahi hai, mein piyas ka sehra hon wo BRSAAT ki manind...*¤*
Create an account or sign in to comment