September 10, 201114 yr Author جستجو جمال ...جدھر... چل پڑے ھیں حال..جدھر... گیت کے رھا پیچھے... سر جدھر تال....جدھر... اس سے خوف کھاتا ھوں... سچ جھاں ملال ...جدھر.... رو برو ھے کائنات... تےرے سرخ گال...جدھر ایک لمحہ لے ڈوبا.. بھوکے ماھ و سال...جدھر شیخ جی چلے محسن جائے کوتواب...جدھر رھائی کی خوشیہ میں پھر... بھاگا وہ تھا جال...جدھر...
September 10, 201114 yr Author افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر کرتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب آخر احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا سوز و تب و تاب اوّل ، سوزو تب و تاب آخر میں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدیر امم کیا ہے شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں لاتے ہیں سرور اول ، دیتے ہیں شراب آخر کیا دبدبہ نادر ، کیا شوکت تیموری ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق م ے ناب آخر خلوت کی گھڑی گزری ، جلوت کی گھڑی آئی چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
September 10, 201114 yr Author صدیوں سے اک سپنا ہے کہو پورا کرو گے تم بھول جاؤ میرے سوا سب کچھ کہو ایسا کرو گے تم نہیں کچھ اور تمنا اب کہ بس میرے ہو جاؤ تم کبھی نہ چھوڑ کے جاؤ گے کہو ایسا کرو گے تم فقط اک لفظ سننے کو کئی برسوں سے ترسا ہوں مجھے اپنا بنا لو تم کہو ایسا کرو گے تم
September 10, 201114 yr Author اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہو گا ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہو گا تم جہاں میرے لئے سیپیاں چنتی ہو گی وہ کسی اور ہی دنیا کا کنارہ ہو گا زندگی! اب کے مرا نام نہ شامل کرنا گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہو گا جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہو گا یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے دل نے چپکے سے ترا نام پکارا ہو گا عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہو گا یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور اس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہو گا کون روتا ہے یہاں رات کے سناٹوں میں میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہو گا مجھ کو معلوم ہے جونہی میں قدم رکھوں گا زندگی تیرا کوئی اور کنارہ ہو گا جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصی اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہو گا کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو میرے مولا کا وصی جونہی اشارہ ہو گا
September 10, 201114 yr Author ایک معصوم تقدّس میں بھگویا ہوا لمس کتنا پاکیزہ ہے احساس میں دھویا ہوا لمس یہ تیرے جسم کی خوشبو کا سنہرا احساس جس طرح چاند کا ہالے میں پِرویا ہوا لمس اس کے ہونٹوں کو میں چُھو لوں تو گمان ہوتا ہے جیسے جنّت کے گلابوں میں ڈبویا ہوا لمس جو میری روح میں اُترے ہی چلے جاتے ہو اِک نئے رنگ میں اُبھرے گا یہ بویا ہوا لمس بھیگی خوشبو میں بسا، وصل میں بھیگا بھیگا کتنا معصوم ہے پہلو میں یہ سویا ہوا لمس تشنگی آن بسی ہے میری پوروں میں وصی ڈھونڈتا پِھرتا ہوں مدّت سے میں کھویا ہوا لمس
September 10, 201114 yr Author تمام شہر میں اب تو ہے راج کانٹوں کا مجھے قبول نہیں یہ سماج کانٹوں کا چلو کہ کچھ تو تسلٌی ہوئی مرے دل کو اسی میں خوش ہوں کہ پایا خراج کانٹوں کا ہمارے پھول سے چہروں کو نوچنے والو کبھی تو تم پہ بھی اترے اناج کانٹوں کا سنبھال سکتے نہیں ہم یہ غم کی جاگیریں اتار لیجئے سر سے یہ تاج کانٹوں کا یہ اور بات کہ گل کی طرح مہکتے رہے وگرنہ رکھتے تھے ہم بھی مزاج کانٹوں کا بہت عجیب سے لہجے میں بات کرتا ہے ہے آج پھول میں کچھ امتزاج کانٹوں کا
Create an account or sign in to comment