Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

جستجو جمال ...جدھر...

چل پڑے ھیں حال..جدھر...

گیت کے رھا پیچھے...

سر جدھر تال....جدھر...

اس سے خوف کھاتا ھوں...

سچ جھاں ملال ...جدھر....

رو برو ھے کائنات...

تےرے سرخ گال...جدھر

ایک لمحہ لے ڈوبا..

بھوکے ماھ و سال...جدھر

شیخ جی چلے محسن

جائے کوتواب...جدھر

رھائی کی خوشیہ میں پھر...

بھاگا وہ تھا جال...جدھر...

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 302.1k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

کرتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب آخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا

سوز و تب و تاب اوّل ، سوزو تب و تاب آخر

میں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر

میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول ، دیتے ہیں شراب آخر

کیا دبدبہ نادر ، کیا شوکت تیموری

ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق م ے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری ، جلوت کی گھڑی آئی

چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا

کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

  • Author

صدیوں سے اک سپنا ہے

کہو پورا کرو گے تم

بھول جاؤ میرے سوا سب کچھ

کہو ایسا کرو گے تم

نہیں کچھ اور تمنا اب

کہ بس میرے ہو جاؤ تم

کبھی نہ چھوڑ کے جاؤ گے

کہو ایسا کرو گے تم

فقط اک لفظ سننے کو

کئی برسوں سے ترسا ہوں

مجھے اپنا بنا لو تم

کہو ایسا کرو گے تم

  • Author

اس کی آنکھوں میں محبت کا ستارہ ہو گا

ایک دن آئے گا وہ شخص ہمارا ہو گا

تم جہاں میرے لئے سیپیاں چنتی ہو گی

وہ کسی اور ہی دنیا کا کنارہ ہو گا

زندگی! اب کے مرا نام نہ شامل کرنا

گر یہ طے ہے کہ یہی کھیل دوبارہ ہو گا

جس کے ہونے سے میری سانس چلا کرتی تھی

کس طرح اس کے بغیر اپنا گزارا ہو گا

یہ اچانک جو اجالا سا ہوا جاتا ہے

دل نے چپکے سے ترا نام پکارا ہو گا

عشق کرنا ہے تو دن رات اسے سوچنا ہے

اور کچھ ذہن میں آیا تو خسارہ ہو گا

یہ جو پانی میں چلا آیا سنہری سا غرور

اس نے دریا میں کہیں پاؤں اُتارا ہو گا

کون روتا ہے یہاں رات کے سناٹوں میں

میرے جیسا ہی کوئی ہجر کا مارا ہو گا

مجھ کو معلوم ہے جونہی میں قدم رکھوں گا

زندگی تیرا کوئی اور کنارہ ہو گا

جو میری روح میں بادل سے گرجتے ہیں وصی

اس نے سینے میں کوئی درد اتارا ہو گا

کام مشکل ہے مگر جیت ہی لوں گا اس کو

میرے مولا کا وصی جونہی اشارہ ہو گا

  • Author

ایک معصوم تقدّس میں بھگویا ہوا لمس

کتنا پاکیزہ ہے احساس میں دھویا ہوا لمس

یہ تیرے جسم کی خوشبو کا سنہرا احساس

جس طرح چاند کا ہالے میں پِرویا ہوا لمس

اس کے ہونٹوں کو میں چُھو لوں تو گمان ہوتا ہے

جیسے جنّت کے گلابوں میں ڈبویا ہوا لمس

جو میری روح میں اُترے ہی چلے جاتے ہو

اِک نئے رنگ میں اُبھرے گا یہ بویا ہوا لمس

بھیگی خوشبو میں بسا، وصل میں بھیگا بھیگا

کتنا معصوم ہے پہلو میں یہ سویا ہوا لمس

تشنگی آن بسی ہے میری پوروں میں وصی

ڈھونڈتا پِھرتا ہوں مدّت سے میں کھویا ہوا لمس

  • Author

تمام شہر میں اب تو ہے راج کانٹوں کا

مجھے قبول نہیں یہ سماج کانٹوں کا

چلو کہ کچھ تو تسلٌی ہوئی مرے دل کو

اسی میں خوش ہوں کہ پایا خراج کانٹوں کا

ہمارے پھول سے چہروں کو نوچنے والو

کبھی تو تم پہ بھی اترے اناج کانٹوں کا

سنبھال سکتے نہیں ہم یہ غم کی جاگیریں

اتار لیجئے سر سے یہ تاج کانٹوں کا

یہ اور بات کہ گل کی طرح مہکتے رہے

وگرنہ رکھتے تھے ہم بھی مزاج کانٹوں کا

بہت عجیب سے لہجے میں بات کرتا ہے

ہے آج پھول میں کچھ امتزاج کانٹوں کا

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.