September 4, 201114 yr Author ....شب گیےٓ تک. تیرے بارے میں سوچنا .... بیےٹھ دریا کینارے... ...تجھے سوچنا... ....چاند چیہرا تیرا.... جےسے... ...رات جولفے تیری... ..ماںگ پے تیری سیتارے سوچنا.. ...... ....شب گیےٓ تک.... تیرے بارے میں سوچنا
September 4, 201114 yr Author ہر ایک سفر کو ہے محفوظ راستو کی تلاش حفاتو کی روایت بدل سکو تو چلو یھاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کر اگر تم سبھال سکو تو چلو
September 4, 201114 yr Author تم سے بے رنگئی ہستی کا گلہ کرنا تھا دل پہ انبار ہے خوں گشتہ تمناؤں کا آج ٹوٹے ہوئے تاروں کا خیال آیا ہے ایک میلہ ہے پریشان سی امیدوں کا چند پژمردہ بہاروں کا خیال آیا ہے پاؤں تھک تھک کے رہ جاتے ہیں مایوسی میں پر مہن راہگزاروں کا خیال آیا ہے ساقیو! بادہ نہیں جام و لب و جو بھی نہیں تم سے کہنا تھا کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں
September 4, 201114 yr Author ایک لفظ محبت ھے کر کے دیکھو برباد نہ ہو جاؤ تو میرا نام بدل دینا ایک لفظ مقدر ھے اس سے لڑ کے دیکھو تم ہار نہ جاؤ تو میرا نام بدل دینا ایک لفظ وفا کا ھے زمانے میں "نہیں ملتا" اسے ڈھونڈ کے لاؤ تو میرا نام بدل دینا ایک لفظ آنسو ھے دل میں چُھپا کر دیکھو تمہاری آنکھیں نہ چھلک پڑے تو میرا نام بدل دینا
September 4, 201114 yr Author تیری یادوں کو میں جلد سے جلد بھلا دونگا نا عمر بھر پھر تجھے کبھی صدا دونگا اور جو لکھے تھے کبھی تم نے قربتوں میں غمِ دنیا کے لئے اس کو بھی جلا دونگا آنکھوں کو بند کرونگا جب یاد آوگی تم تیرے لئے میں خود کو ھر ایک سزا دونگا میری چھپ چھاپ طبعیت کی پریشانی تو میری خاموشی تو ھے سب کو یہ بتا دونگا میرے رونے کا ھے آنداز تبسم جیسا میں ہنس پڑا تو خوشی کو بھی میں ہرا دونگا میں نے چھاہا تو کئی روٹھے مسکرادینگے اُجڑے بہار کے پھولوں کو میں کھلا دونگا پھر نا رکھونگا آپنے پاس کوئی کاغز کا کفن فرشتوں کو ترے گھر کا میں پتہ دونگا تو مئجھے پھول اس موسم کا اِبتدائی دیں میں تجھے باغِ بہاراں ھرا بھرا دونگا تو ھے ہرجائی تعرا نام نا لونگا ناراض میں آپنے سینے میں یہ راز بھی چھُپا دونگا
September 4, 201114 yr Author ابھی تو خود کو بھی آزمایا نہیں ابھی تو تجھ کو بھی بھول پایا نہیں ابھی تو رنگ باقی خزاں کے ہیں عجیب موسم یہ دل و جاں کے ہیں میری راہ میں تو نشان منزل بھی نہیں تم کو بھلائےمیرے پاس ایسا دل بھی نہیں ابھی تو مزہ تیرے انتظار میں ہے لہو کا رنگ اجڑی ہوئی بہار میں ہے میں تھک گیا ہوں غم دوراں مجھے سونے دو نہ ستا اے غم جاناں مجھے سونے دو
September 4, 201114 yr Author یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں ابھی روشن ہے اک دیا مجھ میں وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا اور اک شور مچ گیا مجھ میں دونوں آدم کے منتقم بیٹے اور ہوا ان کا سامنا مجھ میں میں مدینے کو لوٹ آیا ہوں یعنی جاری ہے کربلا مجھ میں روشنی آنے والے خواب کی ہے دن تو کب کا گزر چکا مجھ میں اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں
September 4, 201114 yr Author کسی بیوفا کی خاطر آہیں کیوں بے وجہ کسی کو چاہیں کیوں خود پرست ہی جب ٹھہرے تم فقط حسن کو تیرے سراہیں کیوں کیا بچا ہے اب پاس میرے ڈھونڈ رہا ہوں پناہیں کیوں کون ملے گا اب گلے لگ کے اٹھ جاتی ہیں بانہیں کیوں منزل تو ابھی دور بہت ہے روشن ہوئی ہیں راہیں کیوں مسافر تو گیا ہے دور نکل مظہر بھٹکتی ہیں نگاہیں کیوں
September 4, 201114 yr Author زندگی تھک کے کسی موڑ پر رکتی ھی نہیں کب سے یہ آبلہ پا ھے مرے پیچھے پیچھے
September 4, 201114 yr Author رخصت ہُوا تو بات میری مان کر گیا جو اُس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا دلچسپ واقعہ ہے کہ کا اِ ک عزیز دوست اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا کتنی سُدھر گئی ہے جُدائی میں زندگی ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان وہ شخص آخر مجھے بے جان کر گیا
Create an account or sign in to comment