Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

....شب گیےٓ تک.

تیرے بارے میں سوچنا

.... بیےٹھ دریا کینارے...

...تجھے سوچنا...

....چاند چیہرا تیرا....

جےسے...

...رات جولفے تیری...

..ماںگ پے تیری سیتارے سوچنا..

......

....شب گیےٓ تک....

تیرے بارے میں سوچنا

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 301k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

ہر ایک سفر کو ہے محفوظ راستو کی تلاش

حفاتو کی روایت بدل سکو تو چلو

یھاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا

مجھے گرا کر اگر تم سبھال سکو تو چلو

  • Author

تم سے بے رنگئی ہستی کا گلہ کرنا تھا

دل پہ انبار ہے خوں گشتہ تمناؤں کا

آج ٹوٹے ہوئے تاروں کا خیال آیا ہے

ایک میلہ ہے پریشان سی امیدوں کا

چند پژمردہ بہاروں کا خیال آیا ہے

پاؤں تھک تھک کے رہ جاتے ہیں مایوسی میں

پر مہن راہگزاروں کا خیال آیا ہے

ساقیو! بادہ نہیں جام و لب و جو بھی نہیں

تم سے کہنا تھا کہ اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں

  • Author

ایک لفظ محبت ھے کر کے دیکھو

برباد نہ ہو جاؤ تو میرا نام بدل دینا

ایک لفظ مقدر ھے اس سے لڑ کے دیکھو

تم ہار نہ جاؤ تو میرا نام بدل دینا

ایک لفظ وفا کا ھے زمانے میں "نہیں ملتا"

اسے ڈھونڈ کے لاؤ تو میرا نام بدل دینا

ایک لفظ آنسو ھے دل میں چُھپا کر دیکھو

تمہاری آنکھیں نہ چھلک پڑے تو میرا نام بدل دینا

  • Author

تیری یادوں کو میں جلد سے جلد بھلا دونگا

نا عمر بھر پھر تجھے کبھی صدا دونگا

اور جو لکھے تھے کبھی تم نے قربتوں میں

غمِ دنیا کے لئے اس کو بھی جلا دونگا

آنکھوں کو بند کرونگا جب یاد آوگی تم

تیرے لئے میں خود کو ھر ایک سزا دونگا

میری چھپ چھاپ طبعیت کی پریشانی تو

میری خاموشی تو ھے سب کو یہ بتا دونگا

میرے رونے کا ھے آنداز تبسم جیسا

میں ہنس پڑا تو خوشی کو بھی میں ہرا دونگا

میں نے چھاہا تو کئی روٹھے مسکرادینگے

اُجڑے بہار کے پھولوں کو میں کھلا دونگا

پھر نا رکھونگا آپنے پاس کوئی کاغز کا کفن

فرشتوں کو ترے گھر کا میں پتہ دونگا

تو مئجھے پھول اس موسم کا اِبتدائی دیں

میں تجھے باغِ بہاراں ھرا بھرا دونگا

تو ھے ہرجائی تعرا نام نا لونگا ناراض

میں آپنے سینے میں یہ راز بھی چھُپا دونگا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ابھی تو خود کو بھی آزمایا نہیں

ابھی تو تجھ کو بھی بھول پایا نہیں

ابھی تو رنگ باقی خزاں کے ہیں

عجیب موسم یہ دل و جاں کے ہیں

میری راہ میں تو نشان منزل بھی نہیں

تم کو بھلائےمیرے پاس ایسا دل بھی نہیں

ابھی تو مزہ تیرے انتظار میں ہے

لہو کا رنگ اجڑی ہوئی بہار میں ہے

میں تھک گیا ہوں غم دوراں مجھے سونے دو

نہ ستا اے غم جاناں مجھے سونے دو

  • Author

یونہی آتی نہیں ہوا مجھ میں

ابھی روشن ہے اک دیا مجھ میں

وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا

اور اک شور مچ گیا مجھ میں

دونوں آدم کے منتقم بیٹے

اور ہوا ان کا سامنا مجھ میں

میں مدینے کو لوٹ آیا ہوں

یعنی جاری ہے کربلا مجھ میں

روشنی آنے والے خواب کی ہے

دن تو کب کا گزر چکا مجھ میں

اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا

مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں

  • Author

کسی بیوفا کی خاطر آہیں کیوں

بے وجہ کسی کو چاہیں کیوں

خود پرست ہی جب ٹھہرے تم

فقط حسن کو تیرے سراہیں کیوں

کیا بچا ہے اب پاس میرے

ڈھونڈ رہا ہوں پناہیں کیوں

کون ملے گا اب گلے لگ کے

اٹھ جاتی ہیں بانہیں کیوں

منزل تو ابھی دور بہت ہے

روشن ہوئی ہیں راہیں کیوں

مسافر تو گیا ہے دور نکل

مظہر بھٹکتی ہیں نگاہیں کیوں

  • Author

زندگی تھک کے کسی موڑ پر رکتی ھی نہیں

کب سے یہ آبلہ پا ھے مرے پیچھے پیچھے

  • Author

رخصت ہُوا تو بات میری مان کر گیا

جو اُس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا

بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

دلچسپ واقعہ ہے کہ کا اِ ک عزیز دوست

اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا

کتنی سُدھر گئی ہے جُدائی میں زندگی

ہاں وہ جفا سے مجھ پہ تو احسان کر گیا

میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان

وہ شخص آخر مجھے بے جان کر گیا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.