September 4, 201114 yr Author یوں بچھڑیں ہم کہ پھر ملنے کا کچھ امکان رہ جائے کہیں ایسا نہ ہو پھر عمر بھر ارمان رہ جائے نہ ہو نغمہ سرا بلبل، یہی مالی کی خواہش ہے نہ کوئی گل کھلے اس میں ، چمن ویران رہ جائے خدا سے کچھ نہیں مانگا بجز اس کے مرے ساتھی تری صورت نگاہوں میں مری ہر آن رہ جائے تری چاہت کا ، تیرے پیارکا، تیری محبت کا ہے خواہش موجزن دل میں مرے طوفان رہ جائے چلو میں خود کو خنجر کے حوالے آج کرتا ہوں مری جاں جائے تو جائے، تمہارا مان رہ جائے یوں کب تک دہر سے چھپ کر ملیں گے ہم اندھیرے میں کسی شب وہ مرے گھر میں علی الاعلان رہ جائے طلب میرے سخن کی آئے دن بڑھتی رہے شہزاد جہاں باقی رہے جب تک مرا دیوان رہ جائے
September 4, 201114 yr Author خزائوں کی اداسی ہے، جو اب تک دل پہ چھائی ہے بہاروں کا حسیں موسم کہیں سے ساتھ لانا تم یہ مانا اور بھی تم کو جہاں میں ہیں بہت سے غم مگر دنیا کے میلوں میں ہمیں نہ بھول جانا تم میرے اشعار ہیں جتنے ہیں تمہارے نام کرتا ہوں غزل میری سنو جب بھی غزل میں ڈوب جانا تم اگر تم سے کبھی کوئی، میرے بارے میں پوچھے تو فقط اتنی سی خواہش ہے، مجھے اپنا بتانا تم کوئی جب الودائی موسموں کا ذکر چھیڑے تو نمی آنکھوں میں مت رکھنا ہمیشہ مسکرانا تم
September 4, 201114 yr Author ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آجائے ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آ جائے ابھی تو قرب ہے بے چینی ہے بے قراری ہے طبیعت کچھ سمبھل جائے تو شاید نیند آ جائے ابھی تو نرم جھونکو ں میں چھپے ہیں تیر یادوں کے ہوا کا رُخ بدل جائے تو شاید نیند آ جائے یہ ہنستا مسکراتا قافلہ چاند اور ستاروں کا ذرا آگے نکل جائے تو شاید نیند آ جائے یہ طوفان آنسو کا جو اُمڈ آیا ہے پلکوں تک کسی صورت یہ ٹل جائے تو شاید نیند آ جائے
September 4, 201114 yr Author دلے میں پیار کے مجھے رسوائی دے گیا صدمات کے ہجوم میں تنہائی دے گیا اٹھتا ہے دل میں شور سا آٹھوں پہر مرے زخموں کو کیسی قوتِ گویائی دے گیا غم، درد، کرب، آہ، فغاں، اشک ، بے کلی کیا کیا عنایتیں مجھے ہر جائی دے گیا مجھ کو دیا تھا درسِ وفا جس نے پیار سے آنکھوں کو انتظار کی انگنائی دے گیا ارماں جگا کے اورنئے وعدے پہ ٹال کے لمسِ لطیف دے گیا، انگڑائی دے گیا آنکھوں سے میری نیند کی دنیا چرا کے وہ اطیب شکستِ خواب کی سچائی دے گیا
September 4, 201114 yr Author آرزو یہ نہیں کہ غم کے طوفان ٹل جائیں فکر تو یہ ہے کہ تمارا دل نہ بدل جائے کبھی بھی اگر مجھ کو بھلانا چاہو تم درد اتنا دینا کہ میرا دم نکل جائے۔
September 4, 201114 yr Author میرا سوچنا تیری زات تک میری گفتگو تری بات تک نہ تم ملو جو کبھی مجھے میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک کبھی فرصت تجھے ملے توآ میری زندگی کے حصار تک میں نے جانا کے میں کچھ نھی تیرے پہلے سے تیرے بعد تک
September 4, 201114 yr Author تیری کوشش تیری تدبیر ھونا چاہتی ھوں میں تیرے ھاتھ کی تحریر ھونا چاھتی ھوں تو میرے پاس آئے اور پلٹ کے نہ جائے میں تیرے پاؤں کی زنجیر ھونا چاھتی ھوں مجھے حاجت نہیں اب دوسروں کے مشوروں کی میں خود بھی شبِ تقدیر ھونا چاھتی ھوں میں اس لیے مسمار خود کو کر رھی ھوں کہ میں تیرے ھاتھ میں تعمیر ھونا چاھتی ھوں
September 4, 201114 yr Author آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں شیشہِ دل کو توڑنا اُن کا تو ایک کھیل ہے ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں کاش وہ اپنے غم مجھے دے دے تو کچھ سکون ملے وہ کتنا بدنصیب ہے غم ہی جسے ملا نہیں جرم ہےگر وفا تو کیا ، کیوں بےوفا کو چھوڑ دوں کہتے ہیں اس گناہ کی ہوتی کوئی سزا نہیں
September 4, 201114 yr Author مجھے سوال بھی جا نو، جواب بھی سمجھو میں جی رہا ہوں موج نشیمن کی طرح میرے سکون کو تم اضطراب بھی سمجھو غم حیات کی یوں تو ہزار تاویلیں کسی کا لطف بھی جا نوـ عتاب بھی سمجھو میرے خلوص کو میری شکست بھی جانو میری وفا کو میرا احتساب بھی سمجھو طرب کا دور بھی کچھ بادقضا ہو جاۓ چھلکتے جام کو چشمِ پُرآب بھی سمجھو میں کون ہوں، مجھے خود بھی پتا نہیں میرے وجود کو میرا نقاب بھی سمجھو
September 4, 201114 yr Author کس قدر انوکھا ہے رابطہ محبت کا کب نہ جانے ہوجائے معجزہ محبت کا اپنی ذات سے بھی وہ اجنبی سا لگتا ہے جس کے ساتھ ہوجائے حادثہ محبت کا وہ چلا ہی جاتا ہے جس نے جانا ہوتا ہے لاکھ دو چاہے اس کو واسطہ محبت کا زندگی میں جینے کا آسرا نہیں رہتا جب کسی سے چھن جائے حوصلہ محبت کا دوستوں سےفراز اگرتمہیں محبت ہے دوستوں کو مت دینا مشورہ محبت کا
Create an account or sign in to comment