September 4, 201114 yr Author جینے کی اک امنگ میر ے پاس تو رہی کچھ دیر کو سہی یہ خوشی راس تو رہی یا دوں کے اثا ثے ہیں میر ے پاس بہت سے کچھ وقت گذاری کی مجھے آس تو ر ہی یہ کیسا جام تھا جسے پینے کے بعد بھی سانسیں ہو ئیں بحال مگر پیا س تو رہی جس کی مجھے تلاش تھی وہ ہی نہ مل سکا لوگوں کی ورنہ نظر کرم خاص تو رہی مانو کے دل کسی پہ بھی آیا نہیں کبھی حالانکہ وصل رت بھی میرے پاس تو رہی خو شبو تیری بچھڑ کے بھی تجھ سے میرے حبیب ........بن کر تیرے وجود کا احساس تو رہی
September 4, 201114 yr Author کھلے ہیں میری زندگی کے سارے ورق نا جانے کب کوئی آندھی اڑا کے لے جائے کسی کا درد کہاں تک میں اپنے پاس رکھوں یہ جس کا ہو وہ نشانی بتا کے لے جائے
September 4, 201114 yr Author تو جاناں اب جُدائی کی گھڑی نزدیک آتی ہے چلو آنکھیں پہ بوسہ دو کہ اب بچھڑے تو شاید پھر کبھی ملنے نہ پائیں ہم زمانہ درمیاں یوں آ گیا ہے کہ اب دُوری یقینی ہو گئی ہے ہم اپنے آپ میں گُم بڑھتے جاتے تھے بلا سوچے بلا سمجھے مگر اب کے زمانہ درمیاں یوں آ گیا ہے کہ خوابوں کی کوئی تعبیر ممکن ہی نہیں ہے اور کچھ اس میں ہماری اور تمھاری نیتّوں کا دوش بھی ہے تو جاناں اَب جُدائی کی گھڑی نزدیک آتی ہے چلو آنکھوں پہ بوسہ دو کہ اب بچھڑے تو شاید پھر کبھی ملنے نہ پائیں ہم
September 4, 201114 yr Author ہمیں کیا کیا ملا اس آستاں سے دیارِ درد سے کُوئے فُغاں سے مرا سایہ بھی مجھ سے ہے گریزاں شکایت کیا غبارِ کارواں سے تلاش و آرزو میں عمر گزری ”تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے“ محبت ہی تھی انعامِ محبت میں جب نکلا غمِ سُود و زیاں سے بہاروں نے فقط دیوانگی دی کوئی امید ہے تو ہے خزاں سے ”تکلف برطرف میں صاف کہہ دوں“ تمہارا نام ہے اِس بے نشاں سے حریمِ ناز میں ہے ذکر میرا کہاں تک بات پہنچی ہے کہاں سے مقدر ہی ترا ایسا ہے سرور گلہ کیسا زمین و آسماں سے
September 4, 201114 yr Author خود فریبی کو، ستم ہے، آرزو کہتے ہیں لوگ شوقِ گمراہی کو ذوقِ جستجو کہتے ہیں لوگ دیدہ و دانستہ دیتے ہیں نگاہوں کو فریب پھول کے چاکِ جگر کو رنگ و بُو کہتے ہیں لوگ ایک ہم کیا، آپ کی چشمِ کرم کی داستاں در بہ در، قریہ بہ قریہ، کو بکو کہتے ہیں لوگ زخمِ دل پر ڈال دیتے ہیں مقدر کی نقاب چاک پیراہن کو اعجازِ رفو کہتے ہیں لوگ کوئی چپ رہ کر بھی کب محفوظ ہے تنقید سے میری خاموشی کو بھی اب گفتگو کہتے ہیں لوگ اس دیارِ اجنبی میں لٹ چکی، مدّت ہوئی جس کو خوش فہمی سے اب تک آبرو کہتے ہیں لوگ اس بیانِ حال سے اقبال اب حاصل بھی کیا چارہ سازی کے عوض لا تقنطو کہتے ہیں لوگ
September 4, 201114 yr Author بہت چپ ہو شکایت چھوڑ دی کیا؟ رہ و رسمِ محبت چھوڑ دی کیا؟ یہ کیا اندر ہی اندر بجھ رہے ہو ہواؤں سے رقابت چھوڑ دی کیا؟ مناتے پھر رہے ہو ہر کسی کو خفا رہنے کی عادت چھوڑ دی کیا؟ لئے بیٹھی ہیں آنکیھیں آنسوؤں کو ستاروں کی سیاحت چھوڑ دی کیا؟ غبارِ شہر کیوں بیٹھا ہوا ہے؟ مرے آہو نے وحشت چھوڑ دی کیا؟ فقیروں کی طرف آنے لگے پھر نمائش گاہِ شہرت چھوڑ دی کیا؟ میرے کمرے کو معبد کہنے والی کہاں ہے تُو عبادت چھوڑ دی کیا؟ یہ دُنیا تو نہیں مانے گی عاصم مگر تم نے بھی حجّت چھوڑ دی کیا؟
September 4, 201114 yr Author ہنسی معلوم ہوتی ہے فغاں معلوم ہوتی ہے محبت زندگی کی داستاں معلوم ہوتی ہے کِسی سے منزلِ مقصود پہچانی نہیں جاتی مری حیرت شریکِ کارواں معلوم ہوتی ہے نگاہِ دوست نے بخشی ہے سرافرازیاں کیا کیا مگر جب دیکھئے نا مہرباں معلوم ہوتی ہے نظر آنے لگے آثار تکمیلِ تمنا کے محبت آج سعیِ رائگاں معلوم ہوتی ہے بہت دھیمی ہے اے اہلِ چمن آنچ آتشِ گل کی ابھی صجح بہاراں بھی دھواں معلوم ہوتی ہے شکستِ آرزو کو مدتیں گذریں مگر قابل نگاہِ دوست اب بھی بد گماں معلوم ہوتی ہے
September 4, 201114 yr Author ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا اسنے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشنِ طرب میں ہم ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود سرزیرِبارِ ساغر و بادہ نہیں کیا کارِ جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا آمد پہ تیری عطر و چراغوسبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
September 4, 201114 yr Author وقتِ سفر قریب ہے بِستر سمیٹ لُوں بِکھرا ہُوا حیات کا دفتر سمیٹ لُوں پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک زرا رُکو میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لُوں غیروں نے جو سُلوک کئے اُن کا کیا گِلہ پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لُوں کل جانے کیسے ہونگے کہاں ہونگے گھر کے لوگ آنکھوں میں ایک بار بھرا گھر سمیٹ لُوں سیلِ نظر بھی غم کی تمازت سے خُشک ہو وہ پیاس ہے ملے جو سمندر سمیٹ لُوں اجمل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لُوں
September 4, 201114 yr Author وہ تو بس وعدہء دیدار سے بہلانا تھا ہم کوآنا تھا یقیں اُن کو مُکر جانا تھا لاکھ ٹُھکرایا ہمیں تو نےمگر ہم نہ ٹلے تیرے قدموں سےالگ ہو کےکہاں جانا تھا جن سے نیکی کی توقع ہو وُہی نام دھریں ایک یہ وقت بھی قسمت میں مری آنا تھا بے سبب ترکِ تعلق کا بڑا رنج ہوا لاکھ رنجش سہی اِک عمر کا یارانہ تھا نزع کےوقت تو دُشمن بھی چلے آتے ہیں ایسےعالم میں تو ظالم تجھے آ جانا تھا عمر جب بیت چلی تو یہ کھلا راز نصیر حسن ناراض نہ تھا عشق کو تڑپانا تھا
Create an account or sign in to comment