Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

کچھ وصال آخر تک متعبر نہیں ہوتے

ساتھ چلنے والے بھی ہمسفرنہیں ہوتے

تو ہماری قربت سے کتنا ہی گریزاں ہو

ہم تیرے ٹھکانے سے بےخبر نہیں ہوتے

کچھ کہے بنا اکثر بولتی ہیں آنکھیں بھی

گفتگو کے سب لمحہ حرف گر نہیں ہوتے

کتنا خوف ہوتا ہے شام کے اندھیرے میں

پوچھوں ان پرندوں سے جن کے گھر نہیں ہوتے

عمر بھر نہیں ملتا واپسی کا دروازہ

آگہی کے زندان میں بام و در نہیں ہوتے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

سمندر کا تماشا کر رہا ہوں

میں ساحل ہو کے پیاسا مر رہا ہوں

اگرچہ دل میں صحرا کی تپش ہے

مگر میں ڈُوبنے سے ڈر رہا ہوں

میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر

شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں

قفس میں مجھ پہ جو بیتی سو بیتی

چمن میں بھی شکستہ پر رہا ہوں

اُٹھے گا حشر کیا محشر میں مجھ پر

میں خود ہنگامہِ محشر رہا ہوں

کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں

میں سچائی کی خاطر مر رہا ہوں

مری گردش میں ہر سازِ الم ہے

جہانِ درد کا محور رہا ہوں

بنائی جو مرے دستِ ہنر نے

اُسی تصویر سے اب ڈر رہا ہوں

تراشے شہر میں نے بخش کیا کیا

مگر میں خود سدا بے گھر رہا ہوں

  • Author

بکھرے بکھرے رہتے ہو

کیا کیا سہتے رہتے ہو

تم کو جانے کیا غم ہے

ہر دم ہنستے رہتے ہو

رستہ ہے نہ منزل ہے

پھر بھی چلتے رہتے ہو

جی اُٹھنے کی کوشش میں

اکثر مرتے رہتے ہو

تانے بکھرے خوابوں کے

اب تک بنتے رہتے ہو

اپنی باتوں پر خود ہی

اُلجھے اُلجھے رہتے ہو

لمحہ جی اس دنیا سے

تم بھی ڈرتے رہتے ہو

  • Author

اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي

يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں

غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو

نشہ برپا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں

تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا

دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں

آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر

کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں

اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز

جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں مليں

  • Author

دوستوں کا پیار مہنگا ہو گیا

عشق کا بازار مہنگا ہو گیا

پرسشِ احوالِ جاناں سے کُھلا

پیار کا اظہار مہنگا ہو گیا

درمیاں اک ہجر کی دیوار ہے

جلوۂ دلدار مہنگا ہو گیا

وصل کی خواہش بھلا کیسے کروں

آج کل دیدار مہنگا ہو گیا

کہہ رہے ہیں میری حالت دیکھ کر

شیوۂ گفتار مہنگا ہو گیا

زلفِ خوباں تک رسائی کیا ہوئی

سایۂ دیوار مہنگا ہو گیا

پھول چہرے پر تبسم کیا کھلا

آتشیں رخسار مہنگا ہو گیا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

مست آنکھوں کے حراست میں چلے آئے ہیں

بے اماں لوگ حفاظت میں چلے آئے ہیں

یوں لگا ہم کو تیرے دل میں اتر کر جیسے

بادشاہ اپنی ریاست میں چلے آئے ہیں

تختہءدار پہ پہنچے ہیں تو اب سوچتے ہیں

ہم کہاں آپ کی چاہت میں چلے آئے ہیں

ہم کو اس جنگ کے اسباب نہیں ہیں معلوم

ہم تو بس شوقءشہادت میں چلے آئے ہیں

اہلءاطہار سے لو جس نے لگا لی سمجھو

لوگ وہ سایہءرحمت میں چلے آئے ہیں

میں اسد کوئی طلبگار نہ تھا فاقوں کا

یہ تو بس میری وراثت میں چلے آئے ہیں

  • Author

اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مُشکل ہے

پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مُشکل ہے !

کتنا آسان ہے تصویر بنانا اوروں کی

خود کو پسِ آئینہ رکھنا کتنا مُشکل ہے

تُم نے مندر دیکھے ہوں گے یہ میرا آنگن ہے

ایک دیا بھی جلتا رکھنا کتنا مُشکل ہے ! !

  • Author

یہ راز کون جانے کس کا قصور تھا

ٹوٹا وہی سہارا جس پہ غرور تھا

اُسے ہے غرور کے وہ کسی اور کا ہے

ہمیں ہے ناز کے وہ کبھی ہمارا ضرور تھا

  • Author

تنہا تنہا مت سوچا کر

مر جائے گا مت سوچا کر

اپنا آپ گنوا کر تو نے

پایا ہے کیا مت سوچا کر

دھوپ میں تنہا کر جاتا ہے

کیوں یہ سایہ مت سوچا کر

پیار گھڑی بھر کا بھی بہت ہے

جھوٹا، سچا مت سوچا کر

ٕراہ کٹھن اور دھوپ کڑی ہے

کون آئے گا مت سوچا کر

وہ بھی تجھ سے پیار کرے ہے

پھر دکھ ہو گا مت سوچا کر

خواب، حقیقت یا افسانہ

کیا ہے دنیا مت سوچا کر

موندے آنکھیں اور چلا چل

منزل، رستہ مت سوچا کر

جس کی فطرت ہی ڈسنا ہو

وہ تو ڈسےگا مت سوچا کر

دنیا کے غم ساتھ ہیں تیرے

خود کو تنہا مت سوچا کر

جینا دو بھر ہو جائے گا

جاناں ۔ اتنا مت سوچا کر

  • Author

انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی

تم کیا سمجھو، تم کیا جانو، بات میری تنہائی کی

کون سیاہی گھول رہا ہے وقت کے بہتے دریا میں

میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی ہرجائی کی

ٹوٹ گئے سیال نگینے، پھوٹ بہے رخساروں پر

دیکھو میرا ساتھ نہ دینا، بات ہے رسوائی کی

اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور اُفق میں ڈوب گیا

روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.