September 4, 201114 yr Author کچھ وصال آخر تک متعبر نہیں ہوتے ساتھ چلنے والے بھی ہمسفرنہیں ہوتے تو ہماری قربت سے کتنا ہی گریزاں ہو ہم تیرے ٹھکانے سے بےخبر نہیں ہوتے کچھ کہے بنا اکثر بولتی ہیں آنکھیں بھی گفتگو کے سب لمحہ حرف گر نہیں ہوتے کتنا خوف ہوتا ہے شام کے اندھیرے میں پوچھوں ان پرندوں سے جن کے گھر نہیں ہوتے عمر بھر نہیں ملتا واپسی کا دروازہ آگہی کے زندان میں بام و در نہیں ہوتے
September 4, 201114 yr Author سمندر کا تماشا کر رہا ہوں میں ساحل ہو کے پیاسا مر رہا ہوں اگرچہ دل میں صحرا کی تپش ہے مگر میں ڈُوبنے سے ڈر رہا ہوں میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں قفس میں مجھ پہ جو بیتی سو بیتی چمن میں بھی شکستہ پر رہا ہوں اُٹھے گا حشر کیا محشر میں مجھ پر میں خود ہنگامہِ محشر رہا ہوں کسا ہے جھوٹ کا پھندا گلے میں میں سچائی کی خاطر مر رہا ہوں مری گردش میں ہر سازِ الم ہے جہانِ درد کا محور رہا ہوں بنائی جو مرے دستِ ہنر نے اُسی تصویر سے اب ڈر رہا ہوں تراشے شہر میں نے بخش کیا کیا مگر میں خود سدا بے گھر رہا ہوں
September 4, 201114 yr Author بکھرے بکھرے رہتے ہو کیا کیا سہتے رہتے ہو تم کو جانے کیا غم ہے ہر دم ہنستے رہتے ہو رستہ ہے نہ منزل ہے پھر بھی چلتے رہتے ہو جی اُٹھنے کی کوشش میں اکثر مرتے رہتے ہو تانے بکھرے خوابوں کے اب تک بنتے رہتے ہو اپنی باتوں پر خود ہی اُلجھے اُلجھے رہتے ہو لمحہ جی اس دنیا سے تم بھی ڈرتے رہتے ہو
September 4, 201114 yr Author اب کے ہم بچھڑے تو شايد کبھي خوابوں ميں مليں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں ميں مليں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں ميں وفا کے موتي يہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں ميں مليں غم دنيا بھي غم يار ميں شامل کر لو نشہ برپا ہے شرابيں جو شرابوں ميں مليں تو خدا ہے نہ ميرا عشق فرشتوں جيسا دونوں انساں ہيں تو کيوں اتنے حجابوں ميں مليں آج ہم دار پہ کھينچے گئے جن باتوں پر کيا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں ميں مليں اب نہ وہ ميں ہوں نہ تو ہے نہ وہ ماضي ہے فراز جيسے دو سائے تمنا کے سرابوں ميں مليں
September 4, 201114 yr Author دوستوں کا پیار مہنگا ہو گیا عشق کا بازار مہنگا ہو گیا پرسشِ احوالِ جاناں سے کُھلا پیار کا اظہار مہنگا ہو گیا درمیاں اک ہجر کی دیوار ہے جلوۂ دلدار مہنگا ہو گیا وصل کی خواہش بھلا کیسے کروں آج کل دیدار مہنگا ہو گیا کہہ رہے ہیں میری حالت دیکھ کر شیوۂ گفتار مہنگا ہو گیا زلفِ خوباں تک رسائی کیا ہوئی سایۂ دیوار مہنگا ہو گیا پھول چہرے پر تبسم کیا کھلا آتشیں رخسار مہنگا ہو گیا
September 4, 201114 yr Author مست آنکھوں کے حراست میں چلے آئے ہیں بے اماں لوگ حفاظت میں چلے آئے ہیں یوں لگا ہم کو تیرے دل میں اتر کر جیسے بادشاہ اپنی ریاست میں چلے آئے ہیں تختہءدار پہ پہنچے ہیں تو اب سوچتے ہیں ہم کہاں آپ کی چاہت میں چلے آئے ہیں ہم کو اس جنگ کے اسباب نہیں ہیں معلوم ہم تو بس شوقءشہادت میں چلے آئے ہیں اہلءاطہار سے لو جس نے لگا لی سمجھو لوگ وہ سایہءرحمت میں چلے آئے ہیں میں اسد کوئی طلبگار نہ تھا فاقوں کا یہ تو بس میری وراثت میں چلے آئے ہیں
September 4, 201114 yr Author اپنی آگ کو زندہ رکھنا کتنا مُشکل ہے پتھر بیچ آئینہ رکھنا کتنا مُشکل ہے ! کتنا آسان ہے تصویر بنانا اوروں کی خود کو پسِ آئینہ رکھنا کتنا مُشکل ہے تُم نے مندر دیکھے ہوں گے یہ میرا آنگن ہے ایک دیا بھی جلتا رکھنا کتنا مُشکل ہے ! !
September 4, 201114 yr Author یہ راز کون جانے کس کا قصور تھا ٹوٹا وہی سہارا جس پہ غرور تھا اُسے ہے غرور کے وہ کسی اور کا ہے ہمیں ہے ناز کے وہ کبھی ہمارا ضرور تھا
September 4, 201114 yr Author تنہا تنہا مت سوچا کر مر جائے گا مت سوچا کر اپنا آپ گنوا کر تو نے پایا ہے کیا مت سوچا کر دھوپ میں تنہا کر جاتا ہے کیوں یہ سایہ مت سوچا کر پیار گھڑی بھر کا بھی بہت ہے جھوٹا، سچا مت سوچا کر ٕراہ کٹھن اور دھوپ کڑی ہے کون آئے گا مت سوچا کر وہ بھی تجھ سے پیار کرے ہے پھر دکھ ہو گا مت سوچا کر خواب، حقیقت یا افسانہ کیا ہے دنیا مت سوچا کر موندے آنکھیں اور چلا چل منزل، رستہ مت سوچا کر جس کی فطرت ہی ڈسنا ہو وہ تو ڈسےگا مت سوچا کر دنیا کے غم ساتھ ہیں تیرے خود کو تنہا مت سوچا کر جینا دو بھر ہو جائے گا جاناں ۔ اتنا مت سوچا کر
September 4, 201114 yr Author انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو، تم کیا جانو، بات میری تنہائی کی کون سیاہی گھول رہا ہے وقت کے بہتے دریا میں میں نے آنکھ جھکی دیکھی ہے آج کسی ہرجائی کی ٹوٹ گئے سیال نگینے، پھوٹ بہے رخساروں پر دیکھو میرا ساتھ نہ دینا، بات ہے رسوائی کی اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور اُفق میں ڈوب گیا روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی
Create an account or sign in to comment