September 4, 201114 yr Author محبت ایک دعا ہے تم مجھے بس یہ دعا دینا خطا کوئی جو ہو جائے کبھی لہجہ بدل جائے ضروری بات رہ جائے میرا چہرا بدل جائے اگر پہچان نہ پاؤں تمہیں گر جان نہ پاؤں دعا دینا محبت ایک دعا ہے تم مجھے بس یہ دعا دینا ستارے توڑ نہ پاؤں تمہارے کام نہ آؤں توازن جو نہ رہ پائے نظربندی نظر آئے اشارہ ہو شرارت کا کوئی دھوکا بصارت کا دعا دینا محبت ایک دعا ہے تم مجھے بس یہ دعا دینا میں تم سے کہہ نہیں پایا تمہارے نام کا سایہ میرے ہمراہ رہتا ہے مجھے ہر پل یہ کہتا ہے کوئی مشکل جو در آئے تصور میرا دھندلائے دعا دینا محبت ایک دعا ہے تم مجھے بس یہ دعا دینا
September 4, 201114 yr Author کھلے ہوئے موسموں پہ اب بھی بہار کم ہے میری محبت کی شدتوں پر نکھار کم ہے میرے کناروں کو وسعتوں کی طلب رہی ہے میں کیسے ڈوبوں کہ تیری آنکھوں میں پیار کم ہے گیا ہی کب تھا،کھڑا تھا سوچوں میں گم ابھی تک وہ لوٹ آتا، لبوں پہ میرے پکار کم ہے مہیب ماضی کے ذکر سے بوجھ بڑھ گیا ہے کسی زمانے کو سوچوں، اس میں خمار کم ہے پرانی تصویر اب بھی البم سے جھانکتی ہے وہ مجھ کو گھیرے کھڑا ہے، لیکن حصار کم ہے
September 4, 201114 yr Wah boht khoob to jasmeen aap ko shairi b khoob attrect kerti hai very nice dear........
September 4, 201114 yr Bohot he khoob janab lajawab ker dia aap ny ........ very nice choice dear......
September 4, 201114 yr Author Bohot he khoob janab lajawab ker dia aap ny ........ very nice choice dear...... pasnd krnay k leay thnx
September 5, 201114 yr Author زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے، سخت لامکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے تم کو جو سنانی ہے بات گو ذرا سی ہے بات عمر بھر کی ہے عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں درد کے سمندر میں اَن گِنت جزیرے ہیں، بے شمار موتی ہیں! آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا بات اس دیئے کی ہے بات اس گلے کی ہے جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے لفظ کی فصیلوں پہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے زندگی سے لمبی ہے، بات رَت جگے کی ہے راستے میں کیسے ہو ۔۔۔ بات تخلیئے کی ہے تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے پیار کرنے والوں کو اِک نگاہ کافی ہے ہو سکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں ۔۔
September 5, 201114 yr Author محبتوں میں ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر کہ بے ضرر سہی محسن بے ضمیر ہم بھی نہیں
September 5, 201114 yr Author مجھ سے بچھڑ کر لکھی اس نے دل کی بات کیوں نہ ہوا اسے حوصلہ میرے سامنے کل تک وہ آئینے سے بھی نازک تھا محسن وہ شحص ٹوٹ گیا میرے سامنے
September 5, 201114 yr Author غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا دشت بھی اس کے مکیں، شہر بھی اس سے آباد تو جہاں آن بسے، دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا تو وہی ہے جو مرے دل میں چھپا بیٹھا ہے اک یہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہوا یہ سمجھتے ہوۓ مقصودِ نظر ہے تو ہی میں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا اس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جاۓ تجھ کو پا لینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہوا تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے میں کہیں ہم سفرِ ابرِ رواں کیوں نہ ہوا اجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیب حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہوا
September 5, 201114 yr Author خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں اک ورق روز موڑ دیتا ہوں اس قدر زخم ھیں نگاہوں میں روز ایک آئینہ توڑ دیتا ہوں کانپتے ہونٹ بھیگتی پلکیں بات ادھوری ہی چھوڑ دیتا ہوں ریت کے گھر بنا بنا کے فراز جانے کیوں خود ہی توڑ دیتا ہوں
Create an account or sign in to comment