September 10, 201114 yr Author دل سے نکلا بھی تو سینے میں اُتر جائے گا بیار کا درد ہے یہ اور کدھر جائے گا کل کسی اور پہ آیا تھا آج ہم پر یہ وقت مشکل ہے مگر پھر بھی گذر جائے گا یوں بے بسی پر کسی کے اگر ھنسے گا تو ایسا گرے گا کہ نظروں سے بھی گر جائے گا جو کچھ کہنا ہے تُجھے وہ سبھی کے سامنے کہہ تیرا اعتبار نہیں پھر تُو مُکر جائے گا ایسی کرے گا محبت اب کے نواز کہ وہ پیار کی ریت میں مجنوں سے گزر جائے گا
September 10, 201114 yr Author محبت پھول ہے جاناں کہو تو پھول بن جاؤں تمھاری زندگی کا ایک حسیں اصول بن جاؤں سنا ہے ریت پہ چل کے تم اکثر مسکراتےہو کہو تو اب کی بار میں زمیں کی دُھول بن جاؤں بہت نایاب ہوتے ہیں جنہیں تم اپنا کہتے ہو اجازت دو کہ میں بھی اس قدر انمول بن جاؤں
September 11, 201114 yr Author کبھی جیت گئے کبھی ہار گئے کبھی اپنے کبھی غیر ہم کو مار گئے کل جو خوشیوں میں شریک تھے آ ج۔۔ چھوڑ وہ یار گئے نہ ملی محبت ہمیں کسی سے ڈھونڈتے ہر گلی بازار گئے قربان جا ؤں ان کی الفت پہ جو محبت کے گلشن نکھار گئے ہمیں ملی آخر بے رخی، بے وفائی سب قسمیں سب وعدے بےکار گئے اے دوست منزل مبارک ہو تمھیں تم جیت گئے ھم ہار گئے تم جیت گئے ھم ہار گئے
September 11, 201114 yr Author ہزار بار سوچا ہزار بار یہ کہہ ڈالا ہزار بار سوچا ہزار بار یہ کہہ ڈالا میرے من میں ہیں نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں ہر بار یہی لوٹ کے صدا آئی مجھے دنیا میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں محبت کرو یا کہ نفرت کرو تم کرب ہجر کے سوا اس میں بچا کچھ بھی نہیں افسوس کے دریچے کیوں کھول رہی ہو تم یہاں پچھتاوے کے سوا اور تو کچھ بھی نہیں لوٹ آوٴ شاہ اِس محبت بھری دنیا میں جو گِرا نفرت میں اُسکا بچا کچھ بھی نہیں
Create an account or sign in to comment