Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

کون ایسا ہےجو،اب کرب سنبھالے میرے

اب بھی جینے کے ہیں انداز نرالے میرے

وہ جو دشمن ہےتو پھر زخم نیا دے کوئی

وہ جو میرا ہے تو پھر عیب چھپا لے میرے

دشت آنکھوں مین عذابوں کی طرح اترا ہے

روز پلکوں سے کوئی خواب چرا لے میرے

عمر گزری ہےمیری ڈھونڈتے ہر شب اس کو

جانے کس شب نے چرائے ہیں اجالے میرے

اب میرے زکر پر موضوع ہی بدل دیتا ہے

وہ جو ہر بات پہ دیتا تھا حوالے میرے

دیکھ ایک لفظ بھی اس کو نہں کہنا

جتنے درجات گرانے ہیں گرا لے میرے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 299.3k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

ہوا کے رخ پہ دنيا جارہي ہے

دھواں جيسے چراخ رہگزر کا

ياد ميں ڈھل کے جواب چارہ گري کو آئي

يہ اداب کب سے تري بے خبري کو آئي

گھبرائيں کيا کشاکش اميد و بيم سے

اک عمر کٹ گئي ہے اسي دھوپ چھائو ميں

اس سايہ شجر سے کڑي ديوں کا بجھنا بھي

اک قصيدہ ہوا کي شان ميں تھا

دل کے ايسے عالم کا کوئي نام تو ہوگا

جب ہنسي محبت ميں غم کي بات پر آئے

ترے تغافل بے جا کو ہم بھي ديکھيں گے

کبھي ہماري نظر سے نظر ملے تو سہي

سبھي کے بس کا نہيں دشت آگہي کا سفر

وہ کوئي ميري طرح سر پھرا ہي ہوتا ہے

اکثر تو خشک ہي مري آنکھيں رہيں مگر

يوں بھي ہوا دئيے سے ديا جل اٹھا کبھي

نہ جانے اور کتنا فاصلہ ہے

ہماري زندگي سے زندگي کا

کسي جشم کرم پر نہ جائيں اہل طلب

کہ اس مقام سے ہم بھي گزر کر آئے ہيں

  • Author

ملنے کے آج اس کے ہيں انداز ہي کچھ اور

بچھڑے گا عمر بھر کيلئے احتمال ہے

نہيں کچھ فرق تجھ ميں اور مجھ ميں

کہ ہم اہل جہاں سب ايک سے ہيں

ميں اسي کي طرح ملا اس سے

آئينہ بن کے روبرو آيا

سکوت دشت جوہوگا سو ہوگا

مرے گھ ميں بھي سناٹا بہت ہے

وہ سچ ثابت ہوا آغاز ہي ميں

جو انديشہ ہميں انجام کا تھا

دشت کي دھوپ نے ہم کو يہ بتايا خاور

اپنے گھر کے در و ديوار کا سايا کيا ہے

  • Author
khoob bohut khoob aalaa tareen shairee hay!

thnx g ap nay like kia meri poetry ko

📢 Post Your Ad Here
  • Author

ایک معصوم تقدّس میں بھگویا ہوا لمس

کتنا پاکیزہ ہے احساس میں دھویا ہوا لمس

یہ تیرے جسم کی خوشبو کا سنہرا احساس

جس طرح چاند کا ہالے میں پِرویا ہوا لمس

اس کے ہونٹوں کو میں چُھو لوں تو گمان ہوتا ہے

جیسے جنّت کے گلابوں میں ڈبویا ہوا لمس

جو میری روح میں اُترے ہی چلے جاتے ہو

اِک نئے رنگ میں اُبھرے گا یہ بویا ہوا لمس

بھیگی خوشبو میں بسا، وصل میں بھیگا بھیگا

کتنا معصوم ہے پہلو میں یہ سویا ہوا لمس

تشنگی آن بسی ہے میری پوروں میں وصی

ڈھونڈتا پِھرتا ہوں مدّت سے میں کھویا ہوا لمس

  • Author

میں ترے شہر سے پھر گزرا تھا

پچھلے سفر کا دھیان آیا تھا

کتنی تیز اُداس ہوا تھی

دل کا چراغ بُجھا جاتا تھا

تیرے شہر کا اسٹیشن بھی

میرے دل کی طرح سُونا تھا

میری پیاسی تنہائی پر

آنکھوں کا دریا ہنستا تھا

ریل چلی تو ایک مُسافر

مرے سامنے آ بیٹھا تھا

سچ مُچ تیرے جیسی آنکھیں

ویسا ہی ہنستا چہرہ تھا

چاندی کا وہی پُھول گلے میں

ماتھے پر وہی چاند کِھلا تھا

جانے کون تھی اُس کی منزل

جانے کیوں تہنا تنہا تھا

کیسے کہوں رُوداد سفر کی

آگے موڑ جُدائی کا تھا

  • Author

حقیقت ہے یقین کر لو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

محبت مر چکی اب تو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

بدلتی رت کی وجہ سے، طبیعت کچھ بوجھل سی ہے

یوں میرا حال مت پوچھو، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

میرے لہجے پہ مت چونکو، میری آنکھوں میں مت جھانکو

یوں حیرت سے نہ دیکھو، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

تمہیں کیا وہم ہے کیوں رات بھر ملنے نہیں آتیں

اے میری نیند کی پریوں، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

بھلا کیوں روز بانہیں وا کیے مجھ سے ملنے آتیں ہیں

تم اسکی یاد سے کہہ ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

اداسی سارے گھر میں پھیلتی جاتی ہے غم بن کر

در دیوار پہ لکھ دو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں

  • Author

اُدھورے ملن کی اک آس ہے

یہ زندگی دکھ درد کا احساس ہے

ہو سکے تو خوابوں میں آ جانا

تمھارے بن یہ زندگی اُداس ہے

  • Author

بہت تاخیرسےلیکن

کُھلا یہ بھید خُود پر بھی

کہ میں اب تک

محبت جان کر جس

جذبئہ دیرینہ کو اپنے لہُوسے سینچتی آئی

وہ جس کی ساعت صد مہرباں ہی زندگی کی شرط ٹھری تھی

فقط اک شا ئبہ ہی تھا محبت کا

یُونہی عادت تھی ہررستے پہ اُس کے ساتھ چلنے کی

وگرنہ ترک خواہش پر

یہ دل تھوڑا سا تودُکھتا

ذرا سی آنکھ نم ہوتی

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.