September 11, 201114 yr Author کون ایسا ہےجو،اب کرب سنبھالے میرے اب بھی جینے کے ہیں انداز نرالے میرے وہ جو دشمن ہےتو پھر زخم نیا دے کوئی وہ جو میرا ہے تو پھر عیب چھپا لے میرے دشت آنکھوں مین عذابوں کی طرح اترا ہے روز پلکوں سے کوئی خواب چرا لے میرے عمر گزری ہےمیری ڈھونڈتے ہر شب اس کو جانے کس شب نے چرائے ہیں اجالے میرے اب میرے زکر پر موضوع ہی بدل دیتا ہے وہ جو ہر بات پہ دیتا تھا حوالے میرے دیکھ ایک لفظ بھی اس کو نہں کہنا جتنے درجات گرانے ہیں گرا لے میرے
September 11, 201114 yr Author ہوا کے رخ پہ دنيا جارہي ہے دھواں جيسے چراخ رہگزر کا ياد ميں ڈھل کے جواب چارہ گري کو آئي يہ اداب کب سے تري بے خبري کو آئي گھبرائيں کيا کشاکش اميد و بيم سے اک عمر کٹ گئي ہے اسي دھوپ چھائو ميں اس سايہ شجر سے کڑي ديوں کا بجھنا بھي اک قصيدہ ہوا کي شان ميں تھا دل کے ايسے عالم کا کوئي نام تو ہوگا جب ہنسي محبت ميں غم کي بات پر آئے ترے تغافل بے جا کو ہم بھي ديکھيں گے کبھي ہماري نظر سے نظر ملے تو سہي سبھي کے بس کا نہيں دشت آگہي کا سفر وہ کوئي ميري طرح سر پھرا ہي ہوتا ہے اکثر تو خشک ہي مري آنکھيں رہيں مگر يوں بھي ہوا دئيے سے ديا جل اٹھا کبھي نہ جانے اور کتنا فاصلہ ہے ہماري زندگي سے زندگي کا کسي جشم کرم پر نہ جائيں اہل طلب کہ اس مقام سے ہم بھي گزر کر آئے ہيں
September 11, 201114 yr Author ملنے کے آج اس کے ہيں انداز ہي کچھ اور بچھڑے گا عمر بھر کيلئے احتمال ہے نہيں کچھ فرق تجھ ميں اور مجھ ميں کہ ہم اہل جہاں سب ايک سے ہيں ميں اسي کي طرح ملا اس سے آئينہ بن کے روبرو آيا سکوت دشت جوہوگا سو ہوگا مرے گھ ميں بھي سناٹا بہت ہے وہ سچ ثابت ہوا آغاز ہي ميں جو انديشہ ہميں انجام کا تھا دشت کي دھوپ نے ہم کو يہ بتايا خاور اپنے گھر کے در و ديوار کا سايا کيا ہے
September 11, 201114 yr Author khoob bohut khoob aalaa tareen shairee hay! thnx g ap nay like kia meri poetry ko
September 11, 201114 yr Author ایک معصوم تقدّس میں بھگویا ہوا لمس کتنا پاکیزہ ہے احساس میں دھویا ہوا لمس یہ تیرے جسم کی خوشبو کا سنہرا احساس جس طرح چاند کا ہالے میں پِرویا ہوا لمس اس کے ہونٹوں کو میں چُھو لوں تو گمان ہوتا ہے جیسے جنّت کے گلابوں میں ڈبویا ہوا لمس جو میری روح میں اُترے ہی چلے جاتے ہو اِک نئے رنگ میں اُبھرے گا یہ بویا ہوا لمس بھیگی خوشبو میں بسا، وصل میں بھیگا بھیگا کتنا معصوم ہے پہلو میں یہ سویا ہوا لمس تشنگی آن بسی ہے میری پوروں میں وصی ڈھونڈتا پِھرتا ہوں مدّت سے میں کھویا ہوا لمس
September 11, 201114 yr Author میں ترے شہر سے پھر گزرا تھا پچھلے سفر کا دھیان آیا تھا کتنی تیز اُداس ہوا تھی دل کا چراغ بُجھا جاتا تھا تیرے شہر کا اسٹیشن بھی میرے دل کی طرح سُونا تھا میری پیاسی تنہائی پر آنکھوں کا دریا ہنستا تھا ریل چلی تو ایک مُسافر مرے سامنے آ بیٹھا تھا سچ مُچ تیرے جیسی آنکھیں ویسا ہی ہنستا چہرہ تھا چاندی کا وہی پُھول گلے میں ماتھے پر وہی چاند کِھلا تھا جانے کون تھی اُس کی منزل جانے کیوں تہنا تنہا تھا کیسے کہوں رُوداد سفر کی آگے موڑ جُدائی کا تھا
September 11, 201114 yr Author حقیقت ہے یقین کر لو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں محبت مر چکی اب تو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں بدلتی رت کی وجہ سے، طبیعت کچھ بوجھل سی ہے یوں میرا حال مت پوچھو، میں اسکو بھول کر خوش ہوں میرے لہجے پہ مت چونکو، میری آنکھوں میں مت جھانکو یوں حیرت سے نہ دیکھو، میں اسکو بھول کر خوش ہوں تمہیں کیا وہم ہے کیوں رات بھر ملنے نہیں آتیں اے میری نیند کی پریوں، میں اسکو بھول کر خوش ہوں بھلا کیوں روز بانہیں وا کیے مجھ سے ملنے آتیں ہیں تم اسکی یاد سے کہہ ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں اداسی سارے گھر میں پھیلتی جاتی ہے غم بن کر در دیوار پہ لکھ دو ، میں اسکو بھول کر خوش ہوں
September 11, 201114 yr Author اُدھورے ملن کی اک آس ہے یہ زندگی دکھ درد کا احساس ہے ہو سکے تو خوابوں میں آ جانا تمھارے بن یہ زندگی اُداس ہے
September 11, 201114 yr Author بہت تاخیرسےلیکن کُھلا یہ بھید خُود پر بھی کہ میں اب تک محبت جان کر جس جذبئہ دیرینہ کو اپنے لہُوسے سینچتی آئی وہ جس کی ساعت صد مہرباں ہی زندگی کی شرط ٹھری تھی فقط اک شا ئبہ ہی تھا محبت کا یُونہی عادت تھی ہررستے پہ اُس کے ساتھ چلنے کی وگرنہ ترک خواہش پر یہ دل تھوڑا سا تودُکھتا ذرا سی آنکھ نم ہوتی
Create an account or sign in to comment