September 13, 201114 yr Author دن مصیبت کے ٹل گئے ہوتے اپنا رستہ بدل گئے ہوتے دل کی وحشت نے بڑھ کر گھیر لیا ورنہ آگے نکل گئے ہوتے تیرے غم نے قدم اکھیڑ دیئے ورنہ کب کے سنبھل گئے ہوتے تم نے لوگوں کو کیوں توجی دی اپنے ہی آپ جل گئے ہوتے شُکر ہے ہم نہیں ہیں دن ورنہ شام کے بعد ڈھل گئے ہوتے
September 13, 201114 yr Author یار سب ہم نوا نہیں ہوتے درد کی سب دوا نہیں ہوتے رنگ ہی رنگ ہیں یہاں لیکن رنگ سب خوشنما نہیں ہوتے صدق ہو گر ہماری باتوں میں سچے جذبے فنا نہیں ہوتے بولتے سب وفا مگر یارو بے حیا با وفا نہیں ہوتے زندگی قرض ہے اگر ہمدم قرض سارے ادا نہیں ہوتے جو ملے راستے کی گلیوں میں وہ سبھی آشنا نہیں ہوتے سنگ سے تم تراش لیتے ہو گو کہ پتھر خدا نہیں ہوتے چونکتا ہے سبھی صداؤں پر حرف سارے ندا نہیں ہوتے گو محبت ہماری کیسی ہو کیا بھروسہ جدا نہیں ہوتے یوں میری بات کو مگر اظہر جس نے سمجھا خفا نہیں ہوتے پھول تو ہیں، مہک ہی باقی نہیں ہیں تو پنچھی، چہک ہی باقی نہیں آنکھ کے سامنے جو رہتے تھے اُن کی اب تو، جھلک ہی باقی نہیں
September 13, 201114 yr Author اُسے کہنا ابھی تک دل دھڑکتا ہے ابھی تک سانس چلتی ہے ابھی تک یہ مری آنکھیں سہانے خواب بُنتی ہیں مرے ہونٹوں کی جُنبش میں تمہارا نام رہتا ہے ابھی بارش کی بوندوں میں تمہارا پیار باقی ہے اُسے یہ بھی بتا دینا ابھی اظہار باقی ہے ابھی یادوں کے کانٹوں سے مرا دامن الجھتا ہے تمہارا پیار سینے میں کہیں اب بھی دھڑکتا ہے ہوا اب بھی موافق ہے ہمارے ساتھ چلتی ہے اُسے کہنا جدائی کا ابھی موسم نہیں آیا محبت کی کہانی میں کہیں پر غم نہیں آیا مگر سب کچھ بدلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے کسی کی یاد ڈھلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے نیا سورج نکلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے اُسے کہنا وہ جلدی فیصلہ کر لے نۓ رستوں پہ چلنے میں بھلا کیا دیر لگتی ہے
September 13, 201114 yr Author کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر حرف آتا ہے مسیحائی پر اس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو پیار آنے لگا رسوائی پر ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں جاناں تیری تصویر کی زیبائی پر رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی قامتِ عشق کی رعنائی پر سطح کے دیکھ کے اندازے لگیں آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا بات ہوگی مرے ہرجائی پر خود کو خوشبو کے حوالے کردیں پھول کی طرزِ پذیرائی پر
September 13, 201114 yr Author اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا وہ جو اسکی صبحِ عروج تھی وہ میرا وقتِ زوال تھا مرا درد کیسے وہ جانتا مری بات کیسے وہ مانتا وہ تو خود فنا ہی کے ساتھ تھا اسے روکنا بھی محال تھا
September 13, 201114 yr Author انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام حالاں کہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام صیاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹے ہیں پر تمام کب سے بلا رہا ہوں مدد کے لیے انہیں کس سوچ میں پڑے ہیں مرے چارہ گر تمام جتنے بھی معتبر تھے وہ نامعتبر ہوئے رہزن بنے ہوئے ہیں یہاں راہبر تمام دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام
September 13, 201114 yr Author لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب اور کیا دکھلائے گی تقدیر اب خود ہی چل کر آگیا زندان تک کیا کرو گے خواب کی تعبیر اب اے مسیحا! جو ترے باتوں میں تھی دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا بولنے والی تھی وہ تصویر اب ٹھیک میرے دل ہی پر آکر لگے آخری ترکش میں ہے جو تیر اب اور کچھ پانے کی حسرت ہی نہیں *مل گئی ہے پیار کی جاگیر اب
September 13, 201114 yr Author کیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو تنہائی جب ملنے آئی پہلی بار درختو ہر شب تم سے ملنے آ جاتی ہے تنہا تنہا کیا تم بھی کرتے ہو تنہائی سے پیار درختو تنہائی میں بیٹھے بیٹھے اکثر سوچتا ہوں میں کون تمہارا دلبر‘ کس کے تم دلدار درختو لڑتے رہتے ہو تم اکثر تند و تیز ہوا سے تم بھی تھک کر مان ہی لیتے ہو گے ہار درختو اب کے سال بھی پت جھڑ آئے گا یہ ذہن میں رکھو اتنا خود پہ کیا اترانا سایہ دار درختو خود تم دھوپ میں جھلس رہے ہو مجھ پر سایہ کرکے یہ ہے سیدھا سیدھا چاہت کا اظہار درختو میں جب اپنے حق میں بولوں تم ناراض نہ ہونا غیروں سے ہمدردی کرنا ہے بے کار درختو
September 13, 201114 yr Author تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر جس نے نیندیں چُرا لی آنکھوں سے جو کہ اٹکا ہوا ہے پلکوں پر جس کے دَم سے دُھواں ہے سینے میں جس کی آتش جلا ےء جذ بوں کو جس کی قُربت بنی ہے اِک سُو زش جس نے زخمی کیا ہے نظروں کو تجھ کو احساس کب ۔۔ کہ اِس دل کے کتنے جذبے لُٹے ہیں راہوں میں کتنے صفحے پلٹ چکی ہوں تیرے کتنے کانٹے چُبھے ہیں سانسوں میں تُو میرے درد سے نہیں واقف تیرے دل کا زِیاں ہوا ہی نہیں میں نے چاہا پرستشوں میں تجھے تجھ کو اِس کا گُماں ہوا ہی نہیں تو جو ناآشنا ہے اب مجھ سے مجھ سے کتنی کہانیاں تھیں تیری کتنی صُبحیں کرینگی یاد مجھے کتنی شامیں نشانیاں تھیں تیری اب تو ایسے لگے ہے ، کہ جیسے مجھ سے کتنی عداوتیں ہیں تیری جتنا یکجا کروں ،، یہ بکھرینگی ریزہ ریزہ رفاقتیں ہیں تیری تم کو چُننے لگوں تو برسوں میں میرے لمحے بدلنے لگتے ہیں ہو کے مانوس میری عادت سے میرے آنسو پگھلنے لگتے ہیں تم سے مل کر مجھے یہ علم ہوا کتنا نازُک وفا کا پہلو ہے میں نے اکثر ہوا کی آہٹ میں جس کی دستک سنی ہے وہ تو ہے جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے ............
September 13, 201114 yr Author ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری! گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے ابھی آئے نہیں سیلاب میرے سمندر میں ہوا طوفان برپا سفینے آئے زیرِ آب میرے تُو اب کے بھی نہیں* ڈوبا شناور بہت حیران ہیں* احباب میرے
Create an account or sign in to comment