Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

دن مصیبت کے ٹل گئے ہوتے

اپنا رستہ بدل گئے ہوتے

دل کی وحشت نے بڑھ کر گھیر لیا

ورنہ آگے نکل گئے ہوتے

تیرے غم نے قدم اکھیڑ دیئے

ورنہ کب کے سنبھل گئے ہوتے

تم نے لوگوں کو کیوں توجی دی

اپنے ہی آپ جل گئے ہوتے

شُکر ہے ہم نہیں ہیں دن ورنہ

شام کے بعد ڈھل گئے ہوتے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.6k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

یار سب ہم نوا نہیں ہوتے

درد کی سب دوا نہیں ہوتے

رنگ ہی رنگ ہیں یہاں لیکن

رنگ سب خوشنما نہیں ہوتے

صدق ہو گر ہماری باتوں میں

سچے جذبے فنا نہیں ہوتے

بولتے سب وفا مگر یارو

بے حیا با وفا نہیں ہوتے

زندگی قرض ہے اگر ہمدم

قرض سارے ادا نہیں ہوتے

جو ملے راستے کی گلیوں میں

وہ سبھی آشنا نہیں ہوتے

سنگ سے تم تراش لیتے ہو

گو کہ پتھر خدا نہیں ہوتے

چونکتا ہے سبھی صداؤں پر

حرف سارے ندا نہیں ہوتے

گو محبت ہماری کیسی ہو

کیا بھروسہ جدا نہیں ہوتے

یوں میری بات کو مگر اظہر

جس نے سمجھا خفا نہیں ہوتے

پھول تو ہیں، مہک ہی باقی نہیں

ہیں تو پنچھی، چہک ہی باقی نہیں

آنکھ کے سامنے جو رہتے تھے

اُن کی اب تو، جھلک ہی باقی نہیں

  • Author

اُسے کہنا

ابھی تک دل دھڑکتا ہے

ابھی تک سانس چلتی ہے

ابھی تک یہ مری آنکھیں

سہانے خواب بُنتی ہیں

مرے ہونٹوں کی جُنبش میں

تمہارا نام رہتا ہے

ابھی بارش کی بوندوں میں

تمہارا پیار باقی ہے

اُسے یہ بھی بتا دینا

ابھی اظہار باقی ہے

ابھی یادوں کے کانٹوں سے

مرا دامن الجھتا ہے

تمہارا پیار سینے میں

کہیں اب بھی دھڑکتا ہے

ہوا اب بھی موافق ہے

ہمارے ساتھ چلتی ہے

اُسے کہنا

جدائی کا ابھی موسم نہیں آیا

محبت کی کہانی میں

کہیں پر غم نہیں آیا

مگر سب کچھ بدلنے میں

بھلا کیا دیر لگتی ہے

کسی کی یاد ڈھلنے میں

بھلا کیا دیر لگتی ہے

نیا سورج نکلنے میں

بھلا کیا دیر لگتی ہے

اُسے کہنا

وہ جلدی فیصلہ کر لے

نۓ رستوں پہ چلنے میں

بھلا کیا دیر لگتی ہے

  • Author

کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

اس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو

پیار آنے لگا رسوائی پر

ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں جاناں

تیری تصویر کی زیبائی پر

رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی

قامتِ عشق کی رعنائی پر

سطح کے دیکھ کے اندازے لگیں

آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر

ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا

بات ہوگی مرے ہرجائی پر

خود کو خوشبو کے حوالے کردیں

پھول کی طرزِ پذیرائی پر

  • Author

اسے اپنے کل ہی کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا

وہ جو اسکی صبحِ عروج تھی وہ میرا وقتِ زوال تھا

مرا درد کیسے وہ جانتا مری بات کیسے وہ مانتا

وہ تو خود فنا ہی کے ساتھ تھا اسے روکنا بھی محال تھا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

انجان لگ رہا ہے مرے غم سے گھر تمام

حالاں کہ میرے اپنے ہیں دیوار و در تمام

صیاد سے قفس میں بھی کوئی گلہ نہیں

میں نے خود اپنے ہاتھ سے کاٹے ہیں پر تمام

کب سے بلا رہا ہوں مدد کے لیے انہیں

کس سوچ میں پڑے ہیں مرے چارہ گر تمام

جتنے بھی معتبر تھے وہ نامعتبر ہوئے

رہزن بنے ہوئے ہیں یہاں راہبر تمام

دل سے نہ جائے وہم تو کچھ فائدہ نہیں

ہوتے نہیں ہیں شکوے گلے عمر بھر تمام

  • Author

لو پہن لی پاؤں میں زنجیر اب

اور کیا دکھلائے گی تقدیر اب

خود ہی چل کر آگیا زندان تک

کیا کرو گے خواب کی تعبیر اب

اے مسیحا! جو ترے باتوں میں تھی

دل تلک پہنچی ہے وہ تاثیر اب

ہائے اک آہٹ نے پھر چونکا دیا

بولنے والی تھی وہ تصویر اب

ٹھیک میرے دل ہی پر آکر لگے

آخری ترکش میں ہے جو تیر اب

اور کچھ پانے کی حسرت ہی نہیں

*مل گئی ہے پیار کی جاگیر اب

  • Author

کیا محسوس کیا تھا تم نے میرے یار درختو

تنہائی جب ملنے آئی پہلی بار درختو

ہر شب تم سے ملنے آ جاتی ہے تنہا تنہا

کیا تم بھی کرتے ہو تنہائی سے پیار درختو

تنہائی میں بیٹھے بیٹھے اکثر سوچتا ہوں میں

کون تمہارا دلبر‘ کس کے تم دلدار درختو

لڑتے رہتے ہو تم اکثر تند و تیز ہوا سے

تم بھی تھک کر مان ہی لیتے ہو گے ہار درختو

اب کے سال بھی پت جھڑ آئے گا یہ ذہن میں رکھو

اتنا خود پہ کیا اترانا سایہ دار درختو

خود تم دھوپ میں جھلس رہے ہو مجھ پر سایہ کرکے

یہ ہے سیدھا سیدھا چاہت کا اظہار درختو

میں جب اپنے حق میں بولوں تم ناراض نہ ہونا

غیروں سے ہمدردی کرنا ہے بے کار درختو

  • Author

تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے

جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر

جس نے نیندیں چُرا لی آنکھوں سے

جو کہ اٹکا ہوا ہے پلکوں پر

جس کے دَم سے دُھواں ہے سینے میں

جس کی آتش جلا ےء جذ بوں کو

جس کی قُربت بنی ہے اِک سُو زش

جس نے زخمی کیا ہے نظروں کو

تجھ کو احساس کب ۔۔ کہ اِس دل کے

کتنے جذبے لُٹے ہیں راہوں میں

کتنے صفحے پلٹ چکی ہوں تیرے

کتنے کانٹے چُبھے ہیں سانسوں میں

تُو میرے درد سے نہیں واقف

تیرے دل کا زِیاں ہوا ہی نہیں

میں نے چاہا پرستشوں میں تجھے

تجھ کو اِس کا گُماں ہوا ہی نہیں

تو جو ناآشنا ہے اب مجھ سے

مجھ سے کتنی کہانیاں تھیں تیری

کتنی صُبحیں کرینگی یاد مجھے

کتنی شامیں نشانیاں تھیں تیری

اب تو ایسے لگے ہے ، کہ جیسے

مجھ سے کتنی عداوتیں ہیں تیری

جتنا یکجا کروں ،، یہ بکھرینگی

ریزہ ریزہ رفاقتیں ہیں تیری

تم کو چُننے لگوں تو برسوں میں

میرے لمحے بدلنے لگتے ہیں

ہو کے مانوس میری عادت سے

میرے آنسو پگھلنے لگتے ہیں

تم سے مل کر مجھے یہ علم ہوا

کتنا نازُک وفا کا پہلو ہے

میں نے اکثر ہوا کی آہٹ میں

جس کی دستک سنی ہے وہ تو ہے

جس نے مُبہم کئے ہیں سب منظر

تو میری آنکھ کا وہ آنسو ہے

............

  • Author

ستارے سب مرے‘ مہتاب میرے

ابھی مت ٹوٹنا اے خواب میرے

ابھی اڑنا ہے مجھ کو آسماں تک

ہوئے جاتے ہیں پر بے تاب میرے

میں تھک کر گر گیا‘ ٹوٹا نہیں ہوں

بہت مضبوط ہیں اعصاب میرے

ترے آنے پہ بھی بادِ بہاری!

گلستاں کیوں نہیں شاداب میرے

بہت ہی شاد رہتا تھا میں جن میں

وہ لمحے ہو گئے نایاب میرے

ابھی آنکھوں میں طغیانی نہیں ہے

ابھی آئے نہیں سیلاب میرے

سمندر میں ہوا طوفان برپا

سفینے آئے زیرِ آب میرے

تُو اب کے بھی نہیں* ڈوبا شناور

بہت حیران ہیں* احباب میرے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.