September 14, 201114 yr Author ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیر کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں رہے ہیں سپنوں کے یہ اور بات کہ سروِ سہی تھے شہر میں ہم جو پستہ قد تھے وہی لوگ سربلند ہوئے ترے لبوں پہ ترے دل کا آئنہ دیکھا تعلقات کسی طرح تو برہنہ ہوئے گداز جسم کی قربت میں اتنی لذت تھی ہم احترام کے اسباق سارے بھول گئے وہی درخت گرے منہ کے بل زمینوں پر جنہیں غرور نے پاگل کیا تھا موسم کے میں آئنے میں خدوخال کس کے پہچانوں گئی رُتوں کے‘ رواں عہد کے یا فردا کے بڑے خلوص سے جس ذہن کو سنوارا تھا وہی صلیب کی زینت بنا رہا ہے مجھے سکوت سے تو پرندے بھی ڈرنے لگتے ہیں زمیں کے حبس کوئی انقلابِ تازہ دے گزر گئے ہیں برس صبح کی صلیبوں پر جو ہو سکے تو شب زندگی عطا کر دے تمام رات درِ اشتیاق وا رکھا کٹی نہ شب تو ستاروں سے بات کرتے رہے
September 14, 201114 yr Author حاصلِ الفتِ بدنام سے جل جاتے ہیں سازش ِ دہر کےانعام سے جل جاتے ہیں ذکر کرتے ہیں ترا دل کے سکوں پانے کو چارہ گر پھر بھی ترے نام سے جل جاتےہیں لکھ دو ہم کو جو مناسب لگے تم کو لکھنا پھر نہ کہنا ترے پیغام سے جل جاتے ہیں پوچھیے رب سے بھلا ان کی عبادت کیا ہے؟ ایسے زاہد جو مرے جام سے جل جاتے ہیں ہم نہیں کہتے کہ تہمت ہی لگا دو ہم پر ہم نمائش کے اک الزام سے جل جاتے ہیں کیا سرِ شام ِ وفا ، گزری محبت کا گلہ اور کہنا کہ ہم آرام سے جل جاتے ہیں صبح دم گریہ کناں ہوتے ہیں اس پر شاہد لوگ کہتے ہیں کہ ہم شام سے جل جاتے ہیں ،
September 14, 201114 yr Author محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی پرساں نہ تھا کوئی تو یہ رسوائیاں نہ تھیں ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی بےکیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
September 14, 201114 yr Author بہشتِ دل میں خوابیدہ پڑی ہے وہ اک حسرت جو میری زندگی ہے بہت خوش ہوں میں فن کی سرزمیں پر مری نیکی بدوں نے لوٹ لی ہے دریچے کھول دیتا ہوں طلب کے مجھے جب بھی شرارت سوجھتی ہے سیاست اب کہاں زنجیر ہوگی یہ کشتی اب کنارے لگ رہی ہے بہت نامطمئن ہے دل کی دھڑکن کتابِ شوق تسکیں سے بھری ہے مہینوں بعد دیکھا ہے تبسم بہت دن میں غزل تازہ کہی ہے بدن اب تک تر و تازہ ہے لیکن سفر کی دھول آنکھوں میں جمی ہے حکومت اک سخی کے ہاتھ میں ہے غریب شہر کی حالت وہی ہے لگا ہے جب بھی کوئی زخم تازہ مرے فن کو توانائی ملی ہے بہارِ نو کے دروازے نہ کھولو خزاں سے عمر بھر کی دوستی ہے مرے دل پر تو کوہِ غم گرا ہے تمہاری آنکھ کیوں بھیگی ہوئی ہے تجھے بھی نیند نے دھوکا دیا ہے تھکن تیری بھی پلکوں پر جمی ہے وہ کب کی جا چکی ہے اور دل میں ابھی تک یاد کی کھڑکی کھلی ہے جسے ہم سائباں سمجھے ہوئے تھے وہی دیوار سر پر آ گری ہے میں شہر دل میں اب تنہا ہوں احمد تعلق کی بصارت چھن چکی ہے
September 14, 201114 yr Author زرد جذبے ہوں تو کب نشوونما ملتی ہے فن کو تہذیب کی بارش سے جلا ملتی ہے سر میں سودا ہے تو چاہت کے سفرپر نکلیں کرب کی دھوپ طلب سے بھی سوا ملتی ہے کون سی سمت میں ہجرت کا ارادہ باندھیں کوئی بتلائے کہاں تازہ ہوا ملتی ہے چاند چہرے پہ جواں قوسِ قزح کی صورت تیری زُلفوں سے گھٹاؤں کی ادا ملتی ہے ہم تو پیدا ہی اذیت کے لیے ہوتے ہیں ہم فقیروں سے تو دُکھ میں بھی دُعا ملتی ہے کتنا دُشوار ہے اب منزلِ جاناں کا سفر خواہش قربِ بدن آبلہ پا ملتی ہے بے نمو شاخوں سے پتوں کو شکایت کیا ہو اب تو پیڑوں کو بھی مشکل سے غذا ملتی ہے اور بڑھنے دو گھٹن خوف نہ کھاؤ اس سے شدتِ حبس سے تحریکِ بقا ملتی ہے کبھی فرصت کی کوئی شام سحر تک دے دے یوں جو ملتی ہے سرِ راہے تو کیا ملتی ہے سر سے چادر نہ اُتارو مرے اچھے فنکار! برہنہ حرف کو معنی کی ردا ملتی ہے تیرا انصاف عجب ہے مرے جبار و غنی! جرم ہم کرتے ہیں بچوں کو سزا ملتی ہے جب سے تنہائی کو اوڑھا ہے بدن پر احمد تمکنت لہجے میں پہلے سے سوا ملتی ہے
September 14, 201114 yr Author یہ اور بات کہ تکلیف اِس سفر میں ہے تمام لُطف‘ محبت کی رہ گزر میں ہے تمام عالمِ امکاں کو صَرفِ ہُو کر دے وہ اک شعور‘ وہ افسوں تری نظر میں ہے تمام عمر‘ جسے ڈھونڈتے ہوئے گزری سکونِ صبح کی صورت وہ میرے گھر میں ہے وہ سنگِ زرد کو چاہے تو سرخرو کر دے یہ ایک خوبی بھی اب دستِ کم ہُنر میں ہے عروسِ شب! تری قربت میں اس قدر حدّت! یہ خاصیت تو فقط شعلہ و شرر میں ہے طلسمِ ذات کے گرداب سے نکل کر دیکھ بشر کا فائدہ اندازِ درگزر میں ہے جو پھل کے پکنے سے پہلے ہی سر کو خم کر دے تمام حُسنِ تدبر تو اُس شجر میں ہے وہ خوش خصال‘ جواں سال‘ تُندخو احمد دُکھوں سے چور‘ مکیں شہر کے کھنڈر میں ہے
September 14, 201114 yr Author جرمِ اخلاص کے شعلوں کو ہوا دیتی ہے جب بھی آتی ہے تری یاد رُلا دیتی ہے بیکراں وقت کی اس کوکھ میں پلتی ہوئی سوچ اک نئی صبح کی آمد کا پتہ دیتی ہے سوچتا ہوں کہ کہیں تیرے تعاقب میں نہ ہو وہ اذیت جو مری نیند اُڑا دیتی ہے تیری تصویر مرے گھر میں جو آویزاں ہے خواب کو وہم کی تعبیر دکھا دیتی ہے غرقِ گردابِ مصائب مجھے کرنے والے! موجۂ کاہشِ جاں تجھ کو دُعا دیتی ہے ذہن آسیب زدہ سوچ کا پتھر ہے تو کیا خواہشِ زیست تو کہسار ہلا دیتی ہے اتنا لوٹا ہے گھنی چھاؤں نے اک عمر مجھے اب تو سائے کی بشارت بھی ڈرا دیتی ہے کوئی پتھر ہو‘ خدا ہو کہ فرشتہ احمد اپنی صحبت اُسے انسان بنا دیتی ہے
September 14, 201114 yr Author زخمِ دل پربہار دیکھا ہے کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے جن کے دامن میں*کچھ نہیں ہوتا ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں* زندگی کا وقار دیکھا ہے تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر گل کا سینہ فگار دیکھا ہے ساقیا! اہتمامِ بادہ کر وقت کو سوگوار دیکھا ہے جذبۂ غم کی خیر ہو ساغر حسرتوں پر نکھار دیکھا ہے
September 14, 201114 yr Author نفرتیں بے مہریاں خود غرضی و ناکامیاں دل کہاں باقی رہا بس چار خانے رہ گئے
Create an account or sign in to comment