Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے

وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں

لکھا گیا ہے بہت وصل و درد فراق

مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں

یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال

یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدم مہ و سال

اس عشق ِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے

گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 302k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

اک لمحہ وصال سے آگے نکل گیا

میں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گیا

کچھ میں بھی ناشناس تھی اس کارِ خیر میں

ہر زخم ہر ملال سے آگے نکل گیا

چہرے پہ اس کے رنج کے آثار دیکھ کر

چپ چاپ ہر سوال سے آگے نکل گیا

کچھ دن تیرے وصال نے مدہوش کر دیا

میں خواہشِ مال سے آگے نکل گیا

ایسے غمِ حیات نے بانہوں میں لے لیا

میں اپنی دیکھ بھال سے آگے نکل گیا

تو بھی میرے وجود سے آزاد ہو گئی

میں بھی تیرے خیال سے آگے نکل گیا

  • Author

اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار، آنکلو

شروع شب کی محفل ہے مری سرکار، آنکلو

تمہیں معلوم ہے ہم تو نہ آنے کے نہ جانے کے

تڑپتا ہے تمہیں جی دیکھنے کو یار، آنکلو

بھروسہ ہی نہیں تم کو کسی پر اور یہاں سب ہیں

تمہارے ساتھ آنے کے لیے تیار، آنکلو

خرابے میں، سرشام ِ تمنا، اے شہ ِ خوباں

لگا خانہ خرابوں کا ہے ایک دربار، آنکلو

جو آنکھیں ہو گیئں محروم راتوں میں بھی خوابوں سے

ہیں دن میں بھی وہ خوابوں ہی کی جانبدار، آنکلو

تمہیں ہم سے ملے گا کیا مگر ہم پھر تمہارے ہیں

ہماری قدر جانو اور یونہی بیکار، آنکلو

اگر پوشیدہ رہنا مخبروں سے ہے تو پھر یارو

ہماری مصلحت مانو سربازار آنکلو

  • Author

کوئے خواہش میں خم بہ خم ٹھہروں

دم نہ لوں اور دم بہ دم ٹھہروں

فرصت ِ یک نفس نہیں ورنہ

میں تو خود میں قدم قدم ٹھہروں

دور ِ مستی میں جام ٹھرے تُو

میں جو ہوں، میری جاں ! جم ٹھہروں

آرزو ہے کہ دشت ِ وحشت میں

اے غزالہ! میں تیرا رم ٹھہروں

میں ہوں ایک ایسی راہ میں کہ جہاں

نہ چلوں اور بہت ہی کم ٹھہروں

ساری دنیا کے غم ہیں میرے غم

میں بھی اخر کسی کا غم ٹھہروں

ایک ہوس ہے کہ تیرے لب پر میں

اپنی ہی جان کی قسم ٹھہروں

صحفہ ذات پر رقم ہو حیات

تو دوات اور میں قلم ٹھہروں

  • Author

تیری توصیف کے قصوں نے بدگماں نہ کیا

مجھے رقیب کے فتنوں نے بد زباں نہ کیا

میں تیرے حسن کی رعنائیوں سے واقف ہوں

مصلحت ہے کہ تیرے حسن کا بیاں نہ کیا

ہزار وسوسے لوگوں نے دل میں ڈالے مگر

میرے یقین نے اس دل کو بے اماں نہ کیا

میرے قرار کا سکوت ٹوٹ جانے پر بھی

میرے دل نے اپنے درد کو عیاں نہ کیا

میرے دل نے تو ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے

میری آنکھوں نے مگر درد کو نہاں نہ کیا

ناز تجھے جلا نہ دیں یہ دھوپ کے سائے

کیوں تو نے اپنے لئے کوئی سائباں نہ کیا

  • Author

مکاں سے لامکاں تک

زمیں سے آسماں تک

کوئی بے نام جذبہ

کوئی گمنام رستہ

ہمیں لے جائے گا یہ

یہاں سے اب کہاں تک

کوئی ان دیکھی خوشبو

نگاہوں کی زباں تک

کوئی انجانی خواہش

تخیل سے بیاں تک

لبوں کی خامشی سے

اظہار و بیاں تک

تسلسل کی زمیں سے

ساکن آسماں تک

یہ ان دیکھے نظارے

ظاہر سے نہاں تک

یہ رازھائے دریدہ

پوشیدہ سےعیاں تک

تجسّس کے سفر سے

طلب کے کارواں تک

یہ اپنے طالبوں کو

نہ لے جائے وہاں تک

مکاں سے لامکاں تک

زمیں سے آسماں تک

  • Author

ابھی ابھی دل ٹوٹا ہے

ابھی نہ چھوڑ کر جاؤ ہمیں

کچھ ساتھ رہنے دو

کچھ پاس پاس رہنے دو

وہ آواز جس میں بستی زندگی

اس زندگی کو ہمارے ساتھ رہنے دو

کچھ تو ساتھ رہنے دو

کچھ تو پاس رہنے دو

شکستہ دل ہے ابھی

ڈوبتی زندگی ہے ابھی

بھیگے بھیگے اس آنگن میں

گرتی ہوئی بارش کی بوندوں میں

میرے آنسوؤں کی لڑیوں میں

تیرا احساس چھپا ہوا ہے

  • Author

میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں

کوئی شہر ایسا بساؤں میں

جہاں فاختاؤں کی پھڑپھڑاہٹ سے نغمہء رازِ حیات میں

جھنجھناتی سانسوں کی جھانجھریں جو چھنک اُٹھیں

تو دھنک کے رنگوں میں بھیگ جائیں حواس تک

جہاں چاند ماند نہ ہو کبھی ، جہاں چاندنی کی رِدا بنے

میری بانجھ دھرتی کے باسیوں کا لباس تک

جہاں صرف حکمِ یقیں چلے ، جہاں بے نشاں ہو قیاس تک

جہاں آدمیت کے نطق و لب پہ ، نہ شہرِ یار کا خوف ہو

جہاں سرسرائے نہ آدمی کی رگوں میں کوئی ہراس تک

جہاں وہم ہو نہ دلوں میں وہم کا سہم ہو

جہاں سچ کو سچ سے ہو واسطہ

جہاں جگنو کو ہوا دکھاتی ہو راستہ

جہاں خوشبوؤں سے بدلتی رُت کو حسد نہ ہو

جہاں پستیوں سے بلندیوں کو بھی قد نہ ہو

جہاں خواب آنکھوں میں جگمگائیں تو۔۔۔۔۔

جسم و جاں کے سبھی دریچوں میں تیرگی کا گزر نہ ہو

کوئی رات ایسی بسر نہ ہو کہ ، بشر کو اپنی خبر نہ ہو

جہاں داغ داغ سحر نہ ہو

جہاں کشتیاں ہوں رواں دواں ۔۔ تو سمندروں میں بھنور نہ ہو

جہاں برگ و بار سے اجنبی کوئی ، شاخ کوئی شجر نہ ہو

جہاں چہچہاتے ہوئے پرندوں کو ، بارشوں کے عذاب کا کوئی ڈر نہ ہو

میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں

جہاں برف برف محبتوں پہ غمِ جاں کا اثر نہ ہو

راہ و رسمِ دنیا کی بندشیں غمِ ذات کے سبھی ذائقے

سمے کائنات کی تلخیاں کسی آنکھ کو بھی نہ چھو سکیں

جہاں میری سانس کی تازگی ، تیری چاہتوں کے کنول میں ہو

تیرا حسن میری غزل میں ہو ، جہاں کائنات کی اِ ک صدف

شب و روز کے کسی پل میں ہو

جہاں نوحہء غمِ زندگی ، میری ہچکیوں سے عیاں نہ ہو

جہاں لوھِ خاک پہ عمر بھر ، کسی بے گناہ کے خون کا

کوئی داغ ، کوئی نشاں نہ ہو

کوئی شہر ایسا کبھی کہیں بساؤں میں

جہاں دھوپ چھاؤں گلے ملیں

جہاں بانجھ رُت میں بھی گُل کھلیں

جہاں چاہتوں کے ہجوم میں ، کبھی گیت امن کے گاؤں میں

جہاں زندگی کا رِجز پڑھوں ، جہاں بے خلل گنگناؤں میں

جہاں موج موج کی اوٹ میں تو کرن بنے ، مسکراؤں میں

میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں

کوئی شہر ایسا بساؤں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • Author

اس دل بے قرار کا کیا کریں جس میں تم رہتے ہو

اس زبان کا کیا کریں جس پر ہر دم نام تیرا ہو

رات ہو یا دن ہو ہر پل تیرے دیدار کی خواہش ہو

سب کو بتانا چاہتا ہوں تم ہی تو میری دل کی ملکہ ہو

تم ہی تو میرے دل کی نگری میں بستے ہو

خواہش ہے مرتے وقت میرے لبوں پر نام تیرا ہو

  • Author

جب دل میں کوئی اترتا نظر آتا ہے

عاشقوں کو، کوہ طور نظر آتا ہے

تو کیا سمجھے میں کیا سمجھوں

ہماری سمجھ میں یہ کدھر آتا ہے

ہم دل کے ٹوٹنے سے ڈرتے ہیں

پیار محبت ہم کو سپنا نظر آتا ہے

چل کھیل کھیلیں ہاں کھیل کھیلیں

پیار کے کھیل میں کیا مزہ آتا ہے

میرا دل تیرا دل، تیرا دل میرا دل

سنبھال کے رکھنا ہمیں بھی آتا ہے

کھیل ہی کھیل میں پیار ہو گیا تو

پیار پہ جان دینا ہمیں بھی آتا ہے

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.