September 19, 201114 yr Author میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہے وہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیں لکھا گیا ہے بہت وصل و درد فراق مگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیں یہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصال یہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہمدم مہ و سال اس عشق ِ خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے
September 19, 201114 yr Author اک لمحہ وصال سے آگے نکل گیا میں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گیا کچھ میں بھی ناشناس تھی اس کارِ خیر میں ہر زخم ہر ملال سے آگے نکل گیا چہرے پہ اس کے رنج کے آثار دیکھ کر چپ چاپ ہر سوال سے آگے نکل گیا کچھ دن تیرے وصال نے مدہوش کر دیا میں خواہشِ مال سے آگے نکل گیا ایسے غمِ حیات نے بانہوں میں لے لیا میں اپنی دیکھ بھال سے آگے نکل گیا تو بھی میرے وجود سے آزاد ہو گئی میں بھی تیرے خیال سے آگے نکل گیا
September 19, 201114 yr Author اگر چاہو تو آنا کچھ نہیں دشوار، آنکلو شروع شب کی محفل ہے مری سرکار، آنکلو تمہیں معلوم ہے ہم تو نہ آنے کے نہ جانے کے تڑپتا ہے تمہیں جی دیکھنے کو یار، آنکلو بھروسہ ہی نہیں تم کو کسی پر اور یہاں سب ہیں تمہارے ساتھ آنے کے لیے تیار، آنکلو خرابے میں، سرشام ِ تمنا، اے شہ ِ خوباں لگا خانہ خرابوں کا ہے ایک دربار، آنکلو جو آنکھیں ہو گیئں محروم راتوں میں بھی خوابوں سے ہیں دن میں بھی وہ خوابوں ہی کی جانبدار، آنکلو تمہیں ہم سے ملے گا کیا مگر ہم پھر تمہارے ہیں ہماری قدر جانو اور یونہی بیکار، آنکلو اگر پوشیدہ رہنا مخبروں سے ہے تو پھر یارو ہماری مصلحت مانو سربازار آنکلو
September 19, 201114 yr Author کوئے خواہش میں خم بہ خم ٹھہروں دم نہ لوں اور دم بہ دم ٹھہروں فرصت ِ یک نفس نہیں ورنہ میں تو خود میں قدم قدم ٹھہروں دور ِ مستی میں جام ٹھرے تُو میں جو ہوں، میری جاں ! جم ٹھہروں آرزو ہے کہ دشت ِ وحشت میں اے غزالہ! میں تیرا رم ٹھہروں میں ہوں ایک ایسی راہ میں کہ جہاں نہ چلوں اور بہت ہی کم ٹھہروں ساری دنیا کے غم ہیں میرے غم میں بھی اخر کسی کا غم ٹھہروں ایک ہوس ہے کہ تیرے لب پر میں اپنی ہی جان کی قسم ٹھہروں صحفہ ذات پر رقم ہو حیات تو دوات اور میں قلم ٹھہروں
September 19, 201114 yr Author تیری توصیف کے قصوں نے بدگماں نہ کیا مجھے رقیب کے فتنوں نے بد زباں نہ کیا میں تیرے حسن کی رعنائیوں سے واقف ہوں مصلحت ہے کہ تیرے حسن کا بیاں نہ کیا ہزار وسوسے لوگوں نے دل میں ڈالے مگر میرے یقین نے اس دل کو بے اماں نہ کیا میرے قرار کا سکوت ٹوٹ جانے پر بھی میرے دل نے اپنے درد کو عیاں نہ کیا میرے دل نے تو ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے میری آنکھوں نے مگر درد کو نہاں نہ کیا ناز تجھے جلا نہ دیں یہ دھوپ کے سائے کیوں تو نے اپنے لئے کوئی سائباں نہ کیا
September 19, 201114 yr Author مکاں سے لامکاں تک زمیں سے آسماں تک کوئی بے نام جذبہ کوئی گمنام رستہ ہمیں لے جائے گا یہ یہاں سے اب کہاں تک کوئی ان دیکھی خوشبو نگاہوں کی زباں تک کوئی انجانی خواہش تخیل سے بیاں تک لبوں کی خامشی سے اظہار و بیاں تک تسلسل کی زمیں سے ساکن آسماں تک یہ ان دیکھے نظارے ظاہر سے نہاں تک یہ رازھائے دریدہ پوشیدہ سےعیاں تک تجسّس کے سفر سے طلب کے کارواں تک یہ اپنے طالبوں کو نہ لے جائے وہاں تک مکاں سے لامکاں تک زمیں سے آسماں تک
September 19, 201114 yr Author ابھی ابھی دل ٹوٹا ہے ابھی نہ چھوڑ کر جاؤ ہمیں کچھ ساتھ رہنے دو کچھ پاس پاس رہنے دو وہ آواز جس میں بستی زندگی اس زندگی کو ہمارے ساتھ رہنے دو کچھ تو ساتھ رہنے دو کچھ تو پاس رہنے دو شکستہ دل ہے ابھی ڈوبتی زندگی ہے ابھی بھیگے بھیگے اس آنگن میں گرتی ہوئی بارش کی بوندوں میں میرے آنسوؤں کی لڑیوں میں تیرا احساس چھپا ہوا ہے
September 19, 201114 yr Author میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں جہاں فاختاؤں کی پھڑپھڑاہٹ سے نغمہء رازِ حیات میں جھنجھناتی سانسوں کی جھانجھریں جو چھنک اُٹھیں تو دھنک کے رنگوں میں بھیگ جائیں حواس تک جہاں چاند ماند نہ ہو کبھی ، جہاں چاندنی کی رِدا بنے میری بانجھ دھرتی کے باسیوں کا لباس تک جہاں صرف حکمِ یقیں چلے ، جہاں بے نشاں ہو قیاس تک جہاں آدمیت کے نطق و لب پہ ، نہ شہرِ یار کا خوف ہو جہاں سرسرائے نہ آدمی کی رگوں میں کوئی ہراس تک جہاں وہم ہو نہ دلوں میں وہم کا سہم ہو جہاں سچ کو سچ سے ہو واسطہ جہاں جگنو کو ہوا دکھاتی ہو راستہ جہاں خوشبوؤں سے بدلتی رُت کو حسد نہ ہو جہاں پستیوں سے بلندیوں کو بھی قد نہ ہو جہاں خواب آنکھوں میں جگمگائیں تو۔۔۔۔۔ جسم و جاں کے سبھی دریچوں میں تیرگی کا گزر نہ ہو کوئی رات ایسی بسر نہ ہو کہ ، بشر کو اپنی خبر نہ ہو جہاں داغ داغ سحر نہ ہو جہاں کشتیاں ہوں رواں دواں ۔۔ تو سمندروں میں بھنور نہ ہو جہاں برگ و بار سے اجنبی کوئی ، شاخ کوئی شجر نہ ہو جہاں چہچہاتے ہوئے پرندوں کو ، بارشوں کے عذاب کا کوئی ڈر نہ ہو میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں جہاں برف برف محبتوں پہ غمِ جاں کا اثر نہ ہو راہ و رسمِ دنیا کی بندشیں غمِ ذات کے سبھی ذائقے سمے کائنات کی تلخیاں کسی آنکھ کو بھی نہ چھو سکیں جہاں میری سانس کی تازگی ، تیری چاہتوں کے کنول میں ہو تیرا حسن میری غزل میں ہو ، جہاں کائنات کی اِ ک صدف شب و روز کے کسی پل میں ہو جہاں نوحہء غمِ زندگی ، میری ہچکیوں سے عیاں نہ ہو جہاں لوھِ خاک پہ عمر بھر ، کسی بے گناہ کے خون کا کوئی داغ ، کوئی نشاں نہ ہو کوئی شہر ایسا کبھی کہیں بساؤں میں جہاں دھوپ چھاؤں گلے ملیں جہاں بانجھ رُت میں بھی گُل کھلیں جہاں چاہتوں کے ہجوم میں ، کبھی گیت امن کے گاؤں میں جہاں زندگی کا رِجز پڑھوں ، جہاں بے خلل گنگناؤں میں جہاں موج موج کی اوٹ میں تو کرن بنے ، مسکراؤں میں میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
September 19, 201114 yr Author اس دل بے قرار کا کیا کریں جس میں تم رہتے ہو اس زبان کا کیا کریں جس پر ہر دم نام تیرا ہو رات ہو یا دن ہو ہر پل تیرے دیدار کی خواہش ہو سب کو بتانا چاہتا ہوں تم ہی تو میری دل کی ملکہ ہو تم ہی تو میرے دل کی نگری میں بستے ہو خواہش ہے مرتے وقت میرے لبوں پر نام تیرا ہو
September 19, 201114 yr Author جب دل میں کوئی اترتا نظر آتا ہے عاشقوں کو، کوہ طور نظر آتا ہے تو کیا سمجھے میں کیا سمجھوں ہماری سمجھ میں یہ کدھر آتا ہے ہم دل کے ٹوٹنے سے ڈرتے ہیں پیار محبت ہم کو سپنا نظر آتا ہے چل کھیل کھیلیں ہاں کھیل کھیلیں پیار کے کھیل میں کیا مزہ آتا ہے میرا دل تیرا دل، تیرا دل میرا دل سنبھال کے رکھنا ہمیں بھی آتا ہے کھیل ہی کھیل میں پیار ہو گیا تو پیار پہ جان دینا ہمیں بھی آتا ہے
Create an account or sign in to comment