September 15, 201114 yr Author بے چین بہت پھرنا گھبرائے ھوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دھکائے ھوئے رہنا چھلکائے ھوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ھوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا شرمائے ھوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ھوئے رہنا عادت ہی بنا لی ھے تم نے تو منیر اپنی جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ھوئے رہنا
September 15, 201114 yr Author کہ سر ِ فصیل ِ سکوت ِ جاں کف ِ روز و شب پہ شرر نما وہ جو حرف حرف چراغ تھا اسے کس ہوا نے بجھا دیا ؟ کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا! سر ِ شہر ِ عہد ِ وصال ِ دل وہ جو نکہتوں کا ہجوم تھا اسے دست ِ موج ِ فراق نے تہ ِ خاک کب سے ملا دیا ؟ کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا! ابی کیا کہیں ۔۔۔ ابھی کیا سنیں؟ یونہی خواہشوں کے فشار میں کبھی بے سبب ۔۔۔ کبھی بے خلل کہاں، کون کس سے بچھڑ گیا ؟ کسے ، کس نے کیسے بھلا دیا ؟ کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا۔
September 19, 201114 yr Author اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئیِ دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے؟ ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو، کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی، کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں سوچ کا آئینہ دُھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شِدّتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیے تُند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں
September 19, 201114 yr Author تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم نیم تاریک رایوں میں مارے گئے سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی تیری زلفوں کی مستی برستی رہی تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی جب گھلی تیری راہوں میں شامِ ستم ہم چلے آئے، لائے جہاں تک قدم لب پہ حرف َ غزل، دل میں قندیل ِ غم اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی، تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسے ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم اور نکلیں گے عشاق کے قافلے جن کی راہ ِ طلب سے ہمارے قدم مختصر کر چلے درد کے فاصلے کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
September 19, 201114 yr Author وہ رات، کیا رات تھی خواب تھی یا سراب تھی سیج پہ بیٹھی اک لڑکی کسی کی منتظر تھی آنکھوں میں سپنے دل میں وسوسے حسین سوچوں کے شہر میں اکیلی اپنی نازک انگلیاں چٹخا رہی تھی ہزار اچھوتے، کنوارے سپنے نظر میں اس کی چمک رہے تھے شریر خواہشوں کے آگے وہ جھکی جا رہی تھی دروازے کی آہٹ پہ وہ سمٹی جارہی تھی اسک ا دل اسکے قابو نہ تھا وہ ہواؤں میں اُڑی جارہی تھی
Create an account or sign in to comment