September 19, 201114 yr Author ٹہر گيا تو اس کے زد ميں آئے گا اس سے پہلے وقت لگائے ٹھوکر چل تمہاري گرم روي الاماں ارے توبہ پناہ ڈھونڈتي ہيں گردشيں زمانے کي گنگنانے کي اگر فرصت ہو زندگي ساب بھي بن سکتي ہے ہم سے شفق پرستوں کي شايد ہمارے بعد صورت بھي ديکھنے کو ترس جائے گي شام بے سبب آج مرا رو دينا اک سبب ہوگيا رسوائي کا ساتھ تم ہو تو يہي رنگ شفق کہلائے شام فرقت ہوتو عاشق کا لہو کہتے ہيں سن کے آہٹ دھڑکنے لگتا ہے ہم نے ديکھا ہے جو حوصلہ دل کا غرور صبح بہارا کو ہے صباحت پر تم اپنے رخ سے پرے زلف مشک بوتو کرو
September 19, 201114 yr Author ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
September 19, 201114 yr Author سفر تنہا نہیں کرتے سنو ایسا نہیں کرتے جسے شفاف رکھنا ہو اُسے میلا نہیں کرتے تیری آنکھیں اجازت دیں تو ہم کیا نہیں کرتے بہت اُجڑے ہوئے گھرکو بہت سوچا نہیں کرتے سفر جس کا مقدر ہو اُسے روکا نہیں کرتے جو مل کر خود سے کھو جائے اُسے رُسوا نہیں کرتے یہ اُونچے پیڑکیسے ہیں سایہ نہیں کرتے کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں کبھی رویا نہیں کرتے تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں تجھے دیکھا نہیں کرتے چلو!!! تم راز ہو اپنا تمہیں افشا نہیں کرتے سحر سے پوچھ لو محسن ہم سویانہیں کرتے
September 19, 201114 yr Author سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں مانگا خدا سے رات دن تیرے سوا کچھ بھی نہیں سوچا تجھے، دیکھا تجھے، چاہا تجھے، پوجا تجھے میری خطا میری وفا ، تیری خطا کچھ بھی نہیں جس پر ہماری آنکھیں نہیں موتی بچھے رات بھر بھیجا وہی کاغذ اسے، ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں اک شام کی دہلیز پر بیٹھے رہے وہ دیر تک آنکھوں سے کیں باتیں بہت، منہ سے کہا کچھ بھی نہیں دو چار دن کی بات ہے دل خاک میں سو جائے گا جب آگ پر کاغذ رکھا، باقی بچا بھی نہیں
September 19, 201114 yr Author شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا میں آخری جنگ لڑ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا ہوائیں پیغام دے گئی ہیں کہ مجھ کو دریا بلارہا ہے میں بات ساری سمجھ گیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا نہ جانے کوفے کی کیا خبر ہونہ جانے کس دشت میں بسر ہو میں پھر مدینے سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا مجھے عزیزانِ من! محبت کا کوئی بھی تجربہ نہیں ہے میں اس سفر میں نیا نیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا
September 19, 201114 yr Author محبت دشت فرقت میں بنا رخت سفر چلتے کسی مجزوب کے دل سے نکلتا ایک نوحہ ہے محبت راستوں کے جال میں بھٹکا ہوا راہی کسی کے بام پر ٹھہرا ہوا اک اجنبی چہرہ محبت خواب بن جائے تو تعبیریں نہیں ملتیں محبت ایک بارش ہے جو اک اک بوند کر کے تن سے من میں جب اترتی ہے سریلے ساز بجتے ہیں انوکھے باب کھلتے ہیں محبت کرنے والے تو فصیل جاں کو دائو پر لگا کر بات کرتے ہیں وہ کانٹوں کی زمینوں پر بھی ننگے پائوں چلتے ہیں محبت ایک سرگوشی کسی فنکار کے ہاتھوں سے چھڑتا بے خودی کا راگ محبت بارشوں کے موسموں میں یاد کی کایا محبت جلتے تپتے راستوں پر پھیلتا سایہ محبت اک قضا بن کر بھی آتی ہے کئی لوگوں کے جیون میں محبت مرگ گل بھی ہے محبت یاس کی صورت اک ایسی پیاس کی صورت کبھی جو بجھ نہیں پاتی محبت اک اداسی ہے بلا کی خامشی بھی ہے محبت موسموں کو حسن کا پیغام دیتی ہے قبولیت کے دروازوں پہ مہکی اک دعا بھی ہے محبت اک سزا بھی ہے محبت پت جھڑوں کا نام محبت اک سلگتی شام
September 19, 201114 yr Author قیامت سی یہ آرزو کر کے دیکھیں تیری دید سے ہم وضو کر کے دیکھیں عبادت کے قصے ، عقیدت کے لہجے تیرا ذکر ہی کو بکو کر کے دیکھیں بجھا کر شب کم عیاں رفتہ رفتہ! چراغ سحر رو برو کر کے دیکھیں او خوابوں خیالوں پہ آئے چھانے والے نہ کیوں ہم تیری جستجو کر کے دیکھیں ہے جب تک لہو قلم حیدر میں باقی! سخن سے تیری آبرو کر کے دیکھیں
September 19, 201114 yr Author اپنے احساس سے چھو کر صندل کر دو میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کر دو تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگو اپنی آنکھوں میں میرے نام کا کاجل کر دو اس کے سائے میں میرے خواب دھک اُٹھیں گے میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو دُھوپ ہی دُھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر اِس قدر برسو میری رُح میں جَل تھَل کر دو جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھَل کر دو تم چھپا لو میرا دل اوٹ میں اپنے دل کی اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حَل کر دو اپنے غم سے کہو ہر وقت میرے ساتھ رہے ایک احسان کرو اس کو مُسلسل کر دو مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں اور میری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو
September 19, 201114 yr Author ایک غم ہو تو سہہ لیا جائے ایک دکھ ہو تو کہہ دیا جائے یا چڑھا جائے دار پر لوگو یا دہن اپنا سی لیا جائے جو سمجھتے نہیں ہمیں اپنا ان سے شکوہ بھی کیا کیا جائے چاندنی شب ہے اور وہ پاس نہیں چاندنی شب کو کیا کیا جائے پھول بھی خار بن گئے ہوں جہاں ایسے گلشن میں کیا جیا جائے ہے یہی چارہ آخری عارف زہر کا جام پی لیا جائے
September 19, 201114 yr Author میرے پروں مجھ کو دو تم اتنی اُڑان کہ پہنچ جاؤں اپنی منزل پر ہنستے ہنستے میری حالت کو شاید کوئی سمجھ نا سکے کاش کٹ جائے یہ سفر ہنستے ہنستے میری ہر لو چاہتی ہے بس ساتھ اس کا مگر نا آئے گا میرے پاس وہ ہنستے ہنستے لبوں کو بنا ڈالوں میں اک ہتھیار پر کیا کوئی سمجھے گا یہ غزل ہنستے ہنستے معنی و مفہوم کی سمجھ زین کو کہاں پر دل کا درد کہتا ہے وہ ہنستے ہنستے
Create an account or sign in to comment