Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

ٹہر گيا تو اس کے زد ميں آئے گا

اس سے پہلے وقت لگائے ٹھوکر چل

تمہاري گرم روي الاماں ارے توبہ

پناہ ڈھونڈتي ہيں گردشيں زمانے کي

گنگنانے کي اگر فرصت ہو

زندگي ساب بھي بن سکتي ہے

ہم سے شفق پرستوں کي شايد ہمارے بعد

صورت بھي ديکھنے کو ترس جائے گي شام

بے سبب آج مرا رو دينا

اک سبب ہوگيا رسوائي کا

ساتھ تم ہو تو يہي رنگ شفق کہلائے

شام فرقت ہوتو عاشق کا لہو کہتے ہيں

سن کے آہٹ دھڑکنے لگتا ہے

ہم نے ديکھا ہے جو حوصلہ دل کا

غرور صبح بہارا کو ہے صباحت پر

تم اپنے رخ سے پرے زلف مشک بوتو کرو

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.3k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی

کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے

نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں

ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں

کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

  • Author

سفر تنہا نہیں کرتے

سنو ایسا نہیں کرتے

جسے شفاف رکھنا ہو

اُسے میلا نہیں کرتے

تیری آنکھیں اجازت دیں

تو ہم کیا نہیں کرتے

بہت اُجڑے ہوئے گھرکو

بہت سوچا نہیں کرتے

سفر جس کا مقدر ہو

اُسے روکا نہیں کرتے

جو مل کر خود سے کھو جائے

اُسے رُسوا نہیں کرتے

یہ اُونچے پیڑکیسے ہیں

سایہ نہیں کرتے

کبھی ہسنے سے ڈرتے ہیں

کبھی رویا نہیں کرتے

تیر آنکھوں کو پڑھتے ہیں

تجھے دیکھا نہیں کرتے

چلو!!!

تم راز ہو اپنا

تمہیں افشا نہیں کرتے

سحر سے پوچھ لو محسن

ہم سویانہیں کرتے

  • Author

سوچا نہیں اچھا برا دیکھا سنا کچھ بھی نہیں

مانگا خدا سے رات دن تیرے سوا کچھ بھی نہیں

سوچا تجھے، دیکھا تجھے، چاہا تجھے، پوجا تجھے

میری خطا میری وفا ، تیری خطا کچھ بھی نہیں

جس پر ہماری آنکھیں نہیں موتی بچھے رات بھر

بھیجا وہی کاغذ اسے، ہم نے لکھا کچھ بھی نہیں

اک شام کی دہلیز پر بیٹھے رہے وہ دیر تک

آنکھوں سے کیں باتیں بہت، منہ سے کہا کچھ بھی نہیں

دو چار دن کی بات ہے دل خاک میں سو جائے گا

جب آگ پر کاغذ رکھا، باقی بچا بھی نہیں

  • Author

شکستہ خواب و شکستہ پا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

میں آخری جنگ لڑ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

ہوائیں پیغام دے گئی ہیں کہ مجھ کو دریا بلارہا ہے

میں بات ساری سمجھ گیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

نہ جانے کوفے کی کیا خبر ہونہ جانے کس دشت میں بسر ہو

میں پھر مدینے سے جا رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

مجھے عزیزانِ من! محبت کا کوئی بھی تجربہ نہیں ہے

میں اس سفر میں نیا نیا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

مجھے کسی سے بھلائی کی اب کوئی توقع نہیں ہے تابش

میں عادتاً سب سے کہہ رہا ہوں مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

محبت دشت فرقت میں

بنا رخت سفر چلتے کسی مجزوب کے دل سے نکلتا ایک نوحہ ہے

محبت راستوں کے جال میں بھٹکا ہوا راہی

کسی کے بام پر ٹھہرا ہوا اک اجنبی چہرہ

محبت خواب بن جائے تو تعبیریں نہیں ملتیں

محبت ایک بارش ہے

جو اک اک بوند کر کے تن سے من میں جب اترتی ہے

سریلے ساز بجتے ہیں

انوکھے باب کھلتے ہیں

محبت کرنے والے تو فصیل جاں کو دائو پر لگا کر بات کرتے ہیں

وہ کانٹوں کی زمینوں پر بھی ننگے پائوں چلتے ہیں

محبت ایک سرگوشی

کسی فنکار کے ہاتھوں سے چھڑتا بے خودی کا راگ

محبت بارشوں کے موسموں میں یاد کی کایا

محبت جلتے تپتے راستوں پر پھیلتا سایہ

محبت اک قضا بن کر بھی آتی ہے

کئی لوگوں کے جیون میں

محبت مرگ گل بھی ہے

محبت یاس کی صورت

اک ایسی پیاس کی صورت

کبھی جو بجھ نہیں پاتی

محبت اک اداسی ہے

بلا کی خامشی بھی ہے

محبت موسموں کو حسن کا پیغام دیتی ہے

قبولیت کے دروازوں پہ مہکی اک دعا بھی ہے

محبت اک سزا بھی ہے

محبت پت جھڑوں کا نام

محبت اک سلگتی شام

  • Author

قیامت سی یہ آرزو کر کے دیکھیں

تیری دید سے ہم وضو کر کے دیکھیں

عبادت کے قصے ، عقیدت کے لہجے

تیرا ذکر ہی کو بکو کر کے دیکھیں

بجھا کر شب کم عیاں رفتہ رفتہ!

چراغ سحر رو برو کر کے دیکھیں

او خوابوں خیالوں پہ آئے چھانے والے

نہ کیوں ہم تیری جستجو کر کے دیکھیں

ہے جب تک لہو قلم حیدر میں باقی!

سخن سے تیری آبرو کر کے دیکھیں

  • Author

اپنے احساس سے چھو کر صندل کر دو

میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو

نہ تمہیں ہوش رہے اور نہ مجھے ہوش رہے

اس قدر ٹوٹ کے چاہو، مجھے پاگل کر دو

تم ہتھیلی کو میرے پیار کی مہندی سے رنگو

اپنی آنکھوں میں میرے نام کا کاجل کر دو

اس کے سائے میں میرے خواب دھک اُٹھیں گے

میرے چہرے پہ چمکتا ہوا آنچل کر دو

دُھوپ ہی دُھوپ ہوں میں ٹوٹ کے برسو مجھ پر

اِس قدر برسو میری رُح میں جَل تھَل کر دو

جیسے صحراؤں میں ہر شام ہوا چلتی ہے

اس طرح مجھ میں چلو اور مجھے تھَل کر دو

تم چھپا لو میرا دل اوٹ میں اپنے دل کی

اور مجھے میری نگاہوں سے بھی اوجھل کر دو

مسئلہ ہوں تو نگاہیں نہ چراؤ مجھ سے

اپنی چاہت سے توجہ سے مجھے حَل کر دو

اپنے غم سے کہو ہر وقت میرے ساتھ رہے

ایک احسان کرو اس کو مُسلسل کر دو

مجھ پہ چھا جاؤ کسی آگ کی صورت جاناں

اور میری ذات کو سوکھا ہوا جنگل کر دو

  • Author

ایک غم ہو تو سہہ لیا جائے

ایک دکھ ہو تو کہہ دیا جائے

یا چڑھا جائے دار پر لوگو

یا دہن اپنا سی لیا جائے

جو سمجھتے نہیں ہمیں اپنا

ان سے شکوہ بھی کیا کیا جائے

چاندنی شب ہے اور وہ پاس نہیں

چاندنی شب کو کیا کیا جائے

پھول بھی خار بن گئے ہوں جہاں

ایسے گلشن میں کیا جیا جائے

ہے یہی چارہ آخری عارف

زہر کا جام پی لیا جائے

  • Author

میرے پروں مجھ کو دو تم اتنی اُڑان

کہ پہنچ جاؤں اپنی منزل پر ہنستے ہنستے

میری حالت کو شاید کوئی سمجھ نا سکے

کاش کٹ جائے یہ سفر ہنستے ہنستے

میری ہر لو چاہتی ہے بس ساتھ اس کا

مگر نا آئے گا میرے پاس وہ ہنستے ہنستے

لبوں کو بنا ڈالوں میں اک ہتھیار

پر کیا کوئی سمجھے گا یہ غزل ہنستے ہنستے

معنی و مفہوم کی سمجھ زین کو کہاں

پر دل کا درد کہتا ہے وہ ہنستے ہنستے

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.