September 19, 201114 yr Author ہر کوئي دل کي ہتھيلي پہ ہے صحرا رکھے کس کو سيراب کرے وہ کسے پياسا رکھے عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا اے مري جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے ہم کو اچھا نہيں لگتا کوئي ہم نام تيرا کوئي تجھ سا تو پھر نام بھي تجھ سا رکھے دل بھي کہ اس شخص سے وابستہ ہے جو کسي اور کا ہونے دے نہ اپنا دکھے قناعت ہے اطاعت ہے کے چاہت فراز ہم تو راضي ہيں وہ جس حال میں جيسا رکھے
September 19, 201114 yr Author آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے موسم جو سنديسہ لايا اس کو پڑھ تو لو سن تو لو وہ راز جو پياسا ساحل کہتا ہے آتي جاتي لہروں سے کيا پوچھ رہي ہے ريت؟ بادل کي دہليز پہ تارے کيونکر بيٹھے ہيں جھرنوں نے اس گيت کا مکھڑا کيسے ياد کيا جس کے ہر اک بول ميں ہم تم باتيں کرتے ہيں راہ گزر کا مومسم کا ناں بارش کا محتاج وہ دريا جو ہر اک دل کے اندر رہتا ہے کھا جاتا ہے ہر اک شعلے وقت کا آتش دن بس اک نقش محبت ہے جو باقي رہتا ہے آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے
September 19, 201114 yr Author کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو
September 19, 201114 yr Author دنیا سے جڑا رہ کر مجھے کیا ہے ملا تیری نظریں تو اب مجھ پر پڑتی ہی نہیں سوچا تھا بہت کچھ اپنے سفر کے لیے مگر امیر کارواں کی رمق مٹتی ہی نہیں یوں تو کہلاؤں گا میں پاگل آخر پر کس سے کہوں میرا کوئی دنیا میں نہیں تدبیریں تو سب جا رہی ہیں خالی پر اس کے سوا خالی کوئی مہ خانہ ہی نہیں
September 19, 201114 yr Author آذادی کو سمجھتا ہوں نعمت پر آذادی دل کا نہیں ہوں دائی میں جتنی چاہے کر لے مجھہ سے نفرت اس نفرت کا کیا کرے یہ پرند سحر ہونے تک
September 19, 201114 yr Author سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے دل کی آواز سنا دی ہم نے پہلے اک روزنِ در توڑا تھا اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیٹرا دن کی قندیل بجھا دی ہم نے آتشِ غم کے شرارے چن کر آگ زنداں میں لگا دی ہم نے رہ گئے دستِ صبا کمھلا کر پھول کو آگ پلا دی ہم نے آتشِ گل ہو کہ ہو شعلۂِ ساز جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے کتنے ادوار کی گم گشتہ نوا سینۂِ نَے میں چھپا دی ہم نے دمِ مہتاب فشاں سے ناصر آج تو رات جگا دی ہم نے
September 19, 201114 yr Author اُسے کہنا بظاہر تو ہوائیں بدلی بدلی ہیں چمن بھی بدلا بدلا ہے مگر دل میں تمھاری یاد کا موسم نہیں بدلا میری چاہت کے پھولوں کی ابھی خُوشبو نہیں بکھری میرے اندر تمھاری ذات کا احساس باقی ہے تمھارے دم سے میری زندگی کی سانس باقی ہے اُسے کہنا کہ موسم تو بدلتے ہیں یونہی کبھی موسم بدلنے سے یہ آنکھ نم نہیں ہوتی محبت کم نہیں ہوتی اُسے کہنا محبت کم نہیں ہوتی کہا اُس نے کہ شاخوں سے جُدا پھولوں کو کرنے کی ہواؤں کی جو سازش ہے اُسے اچھی نہیں لگتی فقط اِک پل کو جی چاہا اُسے اِتنا تو کہہ دوں آج محبت پھول کی ان پتّیوں سے بڑھ کے نازک تھی جِسے قدموں تلے اُس نے کبھی کا روند ڈالا ہے
September 19, 201114 yr Author ناز و انداز سے کہتا ہے کے جینا ہو گا زہر بھی دیتا ہے تو کہتا ہے کے پینا ہوگا اور جو پیتا ہوں تو کہتا ہے کے مرتا بھی نہیں اور جو مرتا ہوں تو کہتا ہے کے جینا ہوگا
Create an account or sign in to comment