Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

ہر کوئي دل کي ہتھيلي پہ ہے صحرا رکھے

کس کو سيراب کرے وہ کسے پياسا رکھے

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا

اے مري جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

ہم کو اچھا نہيں لگتا کوئي ہم نام تيرا

کوئي تجھ سا تو پھر نام بھي تجھ سا رکھے

دل بھي کہ اس شخص سے وابستہ ہے

جو کسي اور کا ہونے دے نہ اپنا دکھے

قناعت ہے اطاعت ہے کے چاہت فراز

ہم تو راضي ہيں وہ جس حال میں جيسا رکھے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.4k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو

ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے

موسم جو سنديسہ لايا اس کو پڑھ تو لو

سن تو لو وہ راز جو پياسا ساحل کہتا ہے

آتي جاتي لہروں سے کيا پوچھ رہي ہے ريت؟

بادل کي دہليز پہ تارے کيونکر بيٹھے ہيں

جھرنوں نے اس گيت کا مکھڑا کيسے ياد کيا

جس کے ہر اک بول ميں ہم تم باتيں کرتے ہيں

راہ گزر کا مومسم کا ناں بارش کا محتاج

وہ دريا جو ہر اک دل کے اندر رہتا ہے

کھا جاتا ہے ہر اک شعلے وقت کا آتش دن

بس اک نقش محبت ہے جو باقي رہتا ہے

آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو

ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے

  • Author

کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو

بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے

يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو

نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں

بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے

کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو

ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے

ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو

طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے

فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو

  • Author

دنیا سے جڑا رہ کر مجھے کیا ہے ملا

تیری نظریں تو اب مجھ پر پڑتی ہی نہیں

سوچا تھا بہت کچھ اپنے سفر کے لیے

مگر امیر کارواں کی رمق مٹتی ہی نہیں

یوں تو کہلاؤں گا میں پاگل آخر

پر کس سے کہوں میرا کوئی دنیا میں نہیں

تدبیریں تو سب جا رہی ہیں خالی

پر اس کے سوا خالی کوئی مہ خانہ ہی نہیں

  • Author

آذادی کو سمجھتا ہوں نعمت پر

آذادی دل کا نہیں ہوں دائی میں

جتنی چاہے کر لے مجھہ سے نفرت

اس نفرت کا کیا کرے یہ پرند سحر ہونے تک

📢 Post Your Ad Here
  • Author

سرِ مقتل بھی صدا دی ہم نے

دل کی آواز سنا دی ہم نے

پہلے اک روزنِ در توڑا تھا

اب کے بنیاد ہلا دی ہم نے

پھر سرِ صبح وہ قصہ چھیٹرا

دن کی قندیل بجھا دی ہم نے

آتشِ غم کے شرارے چن کر

آگ زنداں میں لگا دی ہم نے

رہ گئے دستِ صبا کمھلا کر

پھول کو آگ پلا دی ہم نے

آتشِ گل ہو کہ ہو شعلۂِ ساز

جلنے والوں کو ہوا دی ہم نے

کتنے ادوار کی گم گشتہ نوا

سینۂِ نَے میں چھپا دی ہم نے

دمِ مہتاب فشاں سے ناصر

آج تو رات جگا دی ہم نے

  • Author

اُسے کہنا

بظاہر تو ہوائیں

بدلی بدلی ہیں

چمن بھی بدلا بدلا ہے

مگر

دل میں

تمھاری یاد کا موسم نہیں بدلا

میری چاہت کے پھولوں کی

ابھی خُوشبو نہیں بکھری

میرے اندر تمھاری ذات کا

احساس باقی ہے

تمھارے دم سے میری زندگی کی

سانس باقی ہے

اُسے کہنا

کہ موسم تو بدلتے ہیں

یونہی کبھی

موسم بدلنے سے

یہ آنکھ نم نہیں ہوتی

محبت کم نہیں ہوتی

اُسے کہنا

محبت کم نہیں ہوتی

کہا اُس نے

کہ شاخوں سے

جُدا پھولوں کو کرنے کی

ہواؤں کی جو سازش ہے

اُسے اچھی نہیں لگتی

فقط اِک پل کو جی چاہا

اُسے اِتنا تو کہہ دوں آج

محبت

پھول کی ان پتّیوں سے

بڑھ کے نازک تھی

جِسے قدموں تلے اُس نے

کبھی کا روند ڈالا ہے

  • Author

ناز و انداز سے کہتا ہے کے جینا ہو گا

زہر بھی دیتا ہے تو کہتا ہے کے پینا ہوگا

اور جو پیتا ہوں تو کہتا ہے کے مرتا بھی نہیں

اور جو مرتا ہوں تو کہتا ہے کے جینا ہوگا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.