Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے

چمن میں راس نہ آئے گی بہار مجھے

تیری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے

بنا دیا تیری فطرت کا رازدار مجھے

میری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا

جو آپ کہتے کبھی اپنا جانثار مجھے

بدل دیا ہے نگاہوں نے رخ زمانے کا

کبھی رہا ہے زمانے پہ اختیار مجھے

یہ حادثات جو ہیں اضطراب کا پیغام

یہ حادثات ہی آئیں *گے سازگار مجھے

عزیز اہلِ چمن کی شکائت بے سود

فریب دے گی رنگینئی بہار مجھے

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 300.1k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

تروتازہ گلابوں کی صباحت لےکے چلتا ہے

وہ کیسا شخص ہے کیسی نزاکت لے کے چلتا ہے

بس اتنی بات پر چلتا نہیں ہے یہ کہیں پر بھی

مرا اخبار کیوں حق و صداقت لے کے چلتا ہے

ہمیں کیوں دھمکیاں دیتے ہو تم برخاست کرنے کی

ہمارارزق کیا تم سے اجازت لے کے چلتا ہے

مجھے اس شخص کی عصمت نظر آتی ہے خطرے میں

سر _بازار جو نظروں میں دعوت لے کے چلتا ہے

بہت مظلوم تو کہنا اسے مغرور مت کہنا

انا کے خول میں جو بند ذلت لے کے چلتا ہے

وہ محنت کش کہ جو ذوق_ ہنر مندی بھی رکھتا ہو

وہ سمجھو ہاتھ میں خود اپنی قسمت لے کے چلتا ہے

اسے دنیا کی کوئی بھی رکاوٹ کیسے روکے گی

ارادے کی جو اک بھر پور قوت لے کے چلتا ہے

دلوںکو جیتنا مقصود ہوتا ہے جسے انور

وہ سب تیروکماں رکھ کر محبت لے کے چلتا ہے

  • Author

اب تو یوں لگتا ہے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا

جیسے بادل کبھی صحراؤں پہ برسا ہی نہ تھا

اب تو دھند لانے لگے ہیں تیرے چہرے کے نقوش

دونوں ہاتھوں میں اِسے جس طرح تھاما ہی نہ تھا

ہم کو یہ زعم کہ ہم بھی ہیں محبّت کے خدا

اور وہ شخص کہ شیشے میں اُترتا ہی نہ تھا

آشنائی کی یہ ہلکی سی جھلک بھی کیوں ہے

یوں گزر جاؤ کہ جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا

تجھ کو کھو بیٹھے تو یاد آیا کہ تُو اپنا تھا

تجھ کو پانے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا

  • Author

کاش سمھتے وہ اس دل کی تڑپ کو

تو یوں ان مجے تنہا کیا ہوتا

انکی بے روہی بھی منظور تھی مجھے

بس ایک بار مجکو سمجھ تو لیا ہوتا

  • Author

بہت آئیں گے لوگ سمجھانے نہ رونا

بناتے ہیں سب ہی افسانے نہ رونا

وہ آزما کر بھی راضی نہیں ہے

جو ہم بھی لگے آزمانے نہ رونا

بہت بیتاب ہونگے آنکھوں میں آنسو

مگر تم کسی بھی بہانے نہ رونا

پی کر جام فرقت ہم جا رہے ہیں

ساقی تم نہ رونا مے خانے نہ رونا

بہت ہنس لئے تم اب جا رہا ہوں

ہمیں یاد کر کے زمانے نہ رونا

چلن ہے یہاں کا سب ساتھ چھوڑیں

جو ٹوٹے یارانے پرانے نہ رونا

میں برسوں سے پیاسا اور ہیں چند قطرے

میرے لب پہ آ کر پیمانے نہ رونا

جس راہگزر پہ چلا ہے تو مظہر

کٹھن تو ہے پر دیوانے نہ رونا

📢 Post Your Ad Here
  • Author

تیری یادوں کو میں جلد سے جلد بھلا دونگا

نا عمر بھر پھر تجھے کبھی صدا دونگا

اور جو لکھے تھے کبھی تم نے قربتوں میں

غمِ دنیا کے لئے اس کو بھی جلا دونگا

آنکھوں کو بند کرونگا جب یاد آوگی تم

تیرے لئے میں خود کو ھر ایک سزا دونگا

میری چھپ چھاپ طبعیت کی پریشانی تو

میری خاموشی تو ھے سب کو یہ بتا دونگا

میرے رونے کا ھے آنداز تبسم جیسا

میں ہنس پڑا تو خوشی کو بھی میں ہرا دونگا

میں نے چھاہا تو کئی روٹھے مسکرادینگے

اُجڑے بہار کے پھولوں کو میں کھلا دونگا

پھر نا رکھونگا آپنے پاس کوئی کاغز کا کفن

فرشتوں کو ترے گھر کا میں پتہ دونگا

تو مئجھے پھول اس موسم کا اِبتدائی دیں

میں تجھے باغِ بہاراں ھرا بھرا دونگا

تو ھے ہرجائی تعرا نام نا لونگا ناراض

میں آپنے سینے میں یہ راز بھی چھُپا دونگا

  • Author

ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے

ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے

وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے

محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے

کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے

جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے

جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

  • Author

صلیبِ سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا

میں رہگزر تھا مجھے روند کے زمانہ گیا

گلیم اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق

بلکتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا

کسے خبر وہ روانہ بھی ہو سکا کہ نہیں

تمہارے شہر سے جب اس کا آب و دانہ گیا

میں ایک ڈولتا ساگر مجھے اٹھاتا کون

گھٹا اٹھا کے چلی تھی مگر چلا نہ گیا

  • Author

خود سے ہوا جُدا، تو مِلا مرتبہ تجھے

آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا مِلا تجھے؟

تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا تیر ہی بہت

لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے

تُو نے بھی خود کو مرکزِ عالم سمجھ لیا

لگ ہی گئی زمانے کی آخر ہوا تجھے

کیا قہر ہے کے رنگوں کے اس اژدہام میں

جُز رنگِ زرد اور نہ کچھ بھی مِلا تجھے

کہنے کو چند گام تھا یہ عرصئہِ حیات

لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا تجھے

  • Author

سياہي نے آخر كو دم توڑ ڈالا

شفق سے اجاگر ہوا ہے اجالا

دھندلكوں ميں اك جان سي آگئي ہے

فضا كس قدر دل نشيں ہو گئي ہے

چلي آ رہي ہے ہوا تازہ تازہ

ہر اك چيز عنوان ہے تازگي كا

شجر جھومتے ہيں عجب بے خودي ميں

نيا ولولہ ہے ہر اك پنكھڑي ميں

كئي پھول چٹخے، شگوفے كھلے ہيں

چمن بوئے گل سے مہكنے لگے ہيں

حسيں كھيتياں لہلہاتي ہيں ديكھو

كہ جشن سحر يوں مناتي ہيں ديكھو

پرندے بھي اب گيت گانے لگے ہيں

يہ وقتِ عمل ہے، بتانے لگے ہيں

عمل سے ہي تسخير ارض و سماں ہے

ظہور ِ سحر بھي عمل كا نشاں ہے

اٹھو خوابِ غفلت سے اے سونے والو

مقدر كو ہمت كا تابع بنا لو

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.