September 14, 201114 yr Author یہاں سے اب کہیں لے چل خیالِ یار مجھے چمن میں راس نہ آئے گی بہار مجھے تیری لطیف نگاہوں کی خاص جنبش نے بنا دیا تیری فطرت کا رازدار مجھے میری حیات کا انجام اور کچھ ہوتا جو آپ کہتے کبھی اپنا جانثار مجھے بدل دیا ہے نگاہوں نے رخ زمانے کا کبھی رہا ہے زمانے پہ اختیار مجھے یہ حادثات جو ہیں اضطراب کا پیغام یہ حادثات ہی آئیں *گے سازگار مجھے عزیز اہلِ چمن کی شکائت بے سود فریب دے گی رنگینئی بہار مجھے
September 14, 201114 yr Author تروتازہ گلابوں کی صباحت لےکے چلتا ہے وہ کیسا شخص ہے کیسی نزاکت لے کے چلتا ہے بس اتنی بات پر چلتا نہیں ہے یہ کہیں پر بھی مرا اخبار کیوں حق و صداقت لے کے چلتا ہے ہمیں کیوں دھمکیاں دیتے ہو تم برخاست کرنے کی ہمارارزق کیا تم سے اجازت لے کے چلتا ہے مجھے اس شخص کی عصمت نظر آتی ہے خطرے میں سر _بازار جو نظروں میں دعوت لے کے چلتا ہے بہت مظلوم تو کہنا اسے مغرور مت کہنا انا کے خول میں جو بند ذلت لے کے چلتا ہے وہ محنت کش کہ جو ذوق_ ہنر مندی بھی رکھتا ہو وہ سمجھو ہاتھ میں خود اپنی قسمت لے کے چلتا ہے اسے دنیا کی کوئی بھی رکاوٹ کیسے روکے گی ارادے کی جو اک بھر پور قوت لے کے چلتا ہے دلوںکو جیتنا مقصود ہوتا ہے جسے انور وہ سب تیروکماں رکھ کر محبت لے کے چلتا ہے
September 14, 201114 yr Author اب تو یوں لگتا ہے جیسے تجھے دیکھا ہی نہ تھا جیسے بادل کبھی صحراؤں پہ برسا ہی نہ تھا اب تو دھند لانے لگے ہیں تیرے چہرے کے نقوش دونوں ہاتھوں میں اِسے جس طرح تھاما ہی نہ تھا ہم کو یہ زعم کہ ہم بھی ہیں محبّت کے خدا اور وہ شخص کہ شیشے میں اُترتا ہی نہ تھا آشنائی کی یہ ہلکی سی جھلک بھی کیوں ہے یوں گزر جاؤ کہ جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا تجھ کو کھو بیٹھے تو یاد آیا کہ تُو اپنا تھا تجھ کو پانے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا
September 14, 201114 yr Author کاش سمھتے وہ اس دل کی تڑپ کو تو یوں ان مجے تنہا کیا ہوتا انکی بے روہی بھی منظور تھی مجھے بس ایک بار مجکو سمجھ تو لیا ہوتا
September 14, 201114 yr Author بہت آئیں گے لوگ سمجھانے نہ رونا بناتے ہیں سب ہی افسانے نہ رونا وہ آزما کر بھی راضی نہیں ہے جو ہم بھی لگے آزمانے نہ رونا بہت بیتاب ہونگے آنکھوں میں آنسو مگر تم کسی بھی بہانے نہ رونا پی کر جام فرقت ہم جا رہے ہیں ساقی تم نہ رونا مے خانے نہ رونا بہت ہنس لئے تم اب جا رہا ہوں ہمیں یاد کر کے زمانے نہ رونا چلن ہے یہاں کا سب ساتھ چھوڑیں جو ٹوٹے یارانے پرانے نہ رونا میں برسوں سے پیاسا اور ہیں چند قطرے میرے لب پہ آ کر پیمانے نہ رونا جس راہگزر پہ چلا ہے تو مظہر کٹھن تو ہے پر دیوانے نہ رونا
September 14, 201114 yr Author تیری یادوں کو میں جلد سے جلد بھلا دونگا نا عمر بھر پھر تجھے کبھی صدا دونگا اور جو لکھے تھے کبھی تم نے قربتوں میں غمِ دنیا کے لئے اس کو بھی جلا دونگا آنکھوں کو بند کرونگا جب یاد آوگی تم تیرے لئے میں خود کو ھر ایک سزا دونگا میری چھپ چھاپ طبعیت کی پریشانی تو میری خاموشی تو ھے سب کو یہ بتا دونگا میرے رونے کا ھے آنداز تبسم جیسا میں ہنس پڑا تو خوشی کو بھی میں ہرا دونگا میں نے چھاہا تو کئی روٹھے مسکرادینگے اُجڑے بہار کے پھولوں کو میں کھلا دونگا پھر نا رکھونگا آپنے پاس کوئی کاغز کا کفن فرشتوں کو ترے گھر کا میں پتہ دونگا تو مئجھے پھول اس موسم کا اِبتدائی دیں میں تجھے باغِ بہاراں ھرا بھرا دونگا تو ھے ہرجائی تعرا نام نا لونگا ناراض میں آپنے سینے میں یہ راز بھی چھُپا دونگا
September 14, 201114 yr Author ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ! تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے
September 14, 201114 yr Author صلیبِ سنگ پہ لکھا مرا فسانہ گیا میں رہگزر تھا مجھے روند کے زمانہ گیا گلیم اوڑھ کے آئے تھے رات کے قزاق بلکتی شام سے سب دھوپ کا خزانہ گیا کسے خبر وہ روانہ بھی ہو سکا کہ نہیں تمہارے شہر سے جب اس کا آب و دانہ گیا میں ایک ڈولتا ساگر مجھے اٹھاتا کون گھٹا اٹھا کے چلی تھی مگر چلا نہ گیا
September 14, 201114 yr Author خود سے ہوا جُدا، تو مِلا مرتبہ تجھے آزاد ہو کے مجھ سے مگر کیا مِلا تجھے؟ تھا مجھ کو تیرا پھینکا ہوا تیر ہی بہت لفظوں کا اہتمام بھی کرنا پڑا تجھے تُو نے بھی خود کو مرکزِ عالم سمجھ لیا لگ ہی گئی زمانے کی آخر ہوا تجھے کیا قہر ہے کے رنگوں کے اس اژدہام میں جُز رنگِ زرد اور نہ کچھ بھی مِلا تجھے کہنے کو چند گام تھا یہ عرصئہِ حیات لیکن تمام عمر ہی چلنا پڑا تجھے
September 14, 201114 yr Author سياہي نے آخر كو دم توڑ ڈالا شفق سے اجاگر ہوا ہے اجالا دھندلكوں ميں اك جان سي آگئي ہے فضا كس قدر دل نشيں ہو گئي ہے چلي آ رہي ہے ہوا تازہ تازہ ہر اك چيز عنوان ہے تازگي كا شجر جھومتے ہيں عجب بے خودي ميں نيا ولولہ ہے ہر اك پنكھڑي ميں كئي پھول چٹخے، شگوفے كھلے ہيں چمن بوئے گل سے مہكنے لگے ہيں حسيں كھيتياں لہلہاتي ہيں ديكھو كہ جشن سحر يوں مناتي ہيں ديكھو پرندے بھي اب گيت گانے لگے ہيں يہ وقتِ عمل ہے، بتانے لگے ہيں عمل سے ہي تسخير ارض و سماں ہے ظہور ِ سحر بھي عمل كا نشاں ہے اٹھو خوابِ غفلت سے اے سونے والو مقدر كو ہمت كا تابع بنا لو
Create an account or sign in to comment