September 11, 201114 yr Author بارشیں نہیں رُکتیں بارشوں کے موسم میں اُس کو یاد کرنے کی عادتیں پُرانی ہیں اب کی بار سوچا ہے عادتیں بدل ڈالیں پھر خیال آتا ہے عادتیں بدلنے سے بارشیں نہیں رُکتیں
September 11, 201114 yr Author یہ جُھکی جُھکی نظریں یہ رُکا رُکا لہجہ لب پہ بار بار آکہ ٹُوٹتا ہُوا فقرہ گرد میں اٹی پلکیں دُھوپ سے تپا چہرہ سر جُھکائے آیا ہے اک عُمر کا بُھولا دل ہزار کہتا ہے ہاتھ تھام لُوں اس کا چُوم لوں*یہ پیشانی لوٹنے نہ دُوں*تنہا کوئی دل سے کہتا ہے سارے حرف جُھوٹے ہیں اعتبار مت کرنا اعتبار مت کرنا......!
September 13, 201114 yr Author خزاں نے موسم گل پر جہاں بھي طنز کيا کوئي کلي وہيں چپکے سے مسکرادي ہے کھڑکياں کس نے کھول ديں گھر کي روشني آرہي ہے باہر کي در و ديوار کو مکان کہا يہي اوقات رہ گئي گھر کي يہ زندگي کے تضادات ہي تو ہيں شايد کہ لمحہ لمحہ ہے اپنے وجود کي ترديد ترے وجود کي جب سے تلاش ہے مجھ کو ترا گماں بھي مري دسترس سے باہر ہے جہل کے اس آشوب نوا ميں چپ رہنا بھي ايک ہنر ہے غم کے بادل ديدہ تر سے جھوم رہنا بھي ايک ہنر ہے خلوص ختم ہوا اعتبار ختم ہوا خسارہ جس ميں تھا وہ کاروبار ختم ہوا اس پر نہ قدم رکھنا کہ يہ راہ وفا ہے سر شار نہيں ہو کہ گزر جائوگے لوگو
September 13, 201114 yr Author کس طرح ياد کروں کيسے بھلاؤں تجھ کو تو کوئی رسم نہيں ہے کے نبھاؤں تجھ کو روز آنکھوں سے بکھرتا ہے نيا خواب کوئی دل يہ کہتا ہے نا آنکھوں ميں سجاؤں تجھ کو خوب ہوتے ہيں چاہت کے يہ ميٹھے رشتے بھول کر بھی کبھی دشمن نا بناؤں تجھ کو تيرے جانے پے مچلتا ہے بہت دل ليکن ضبط اتنا ہے کے پھر بھی نا بلاؤں تجھ کو زندگی کون سے تاروں کا فلک ہے فراز کس طرح اپنا ستارہ ميں بناؤں تجھ کو
September 13, 201114 yr Author زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے بعض اوقات میری رُوح غضب کرتی ہے جو تیری زُلف سے آتے ہُوں میرے آنگن میں چاندنی ایسے اندھیروں کا اَدب کرتی ہے اپنے انصاف کی زنجیر نہ دیکھو کہ یہاں مفلسی ذہن کی فریاد بھی کب کرتی ہے؟ صحنِ گلشن میں ہَواؤں کی صدا غور سے سُن ہر کلی ماتمِ صَد جشنِ طرب کرتی ہے صرف دِن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے دوست زندگی زُلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے
September 13, 201114 yr Author اِسی امید پہ اب زندگی گزاروں گا کبھی ملیں گے ترے پیار کے خزانے مجھے مرے دُکھے ہوئے دل میں کِھلے گا صبر کا پُھول قرار آئے گا آخر کسی بہانے مجھے مجھے یقیں ہے کہ میرے بھی دن پھریں گے کبھی کبھی تو آئے گا تُو بھی گلے لگانے مجھے تُو بولتا ہے، تُو ہنستا ہے، کھیلتا ہے تُو کوئی سنائے گا آ کر ترے فسانے مجھے بس اک خوف ہے مجھ کو کہ برگِ خشک ہوں میں گرا دیا جو کہیں شاخ سے ہوا نے مجھے حیات و مرگ یہاں کس کے اختیار میں ہے اگر دکھائی نہ صورت تری خدا نے مجھے جو موت راہ میں دیوار بن گئی پیارے جو تجھ سے ملنے کی مہلت نہ دی قضا نے مجھے
September 13, 201114 yr Author جس پر تر ی نظر پڑی وہ نُور ہو گیا ہر کام تیرے نام سے حضور ہو گیا مشکل گھڑی میں جب لیا میں نے خدا کا نام آ سا ن ہر و ہ کا م پھر ضر و ر ہو گیا برکت تھی وہ خلیل کی، رضاخدا کی تھی ا د نا سا اِ ک پہا ڑ کو ہِ طو ر ہو گیا تیر ا کرم ہوا جو ایک بار اس پہ تو بندہ تر ا غلا م پھر حضو ر ہو گیا آشفتہ حال تھا مگر تری جو ایک بار نظرِ کرم ہوئی تو غم بھی دور ہو گیا چہرہ ہمیں دِکھاتا جو اپنا کبھی کبھی اب ٹوٹ کر وہ آئینہ بھی چُور ہوگیا آئے گا وہ قریب کیوں ترے یہ تو بتا انسان جب تُو ہی خدا سے دور ہوگیا کر دے ہمیں معاف تُو مولا کریم ہے ہم سے کو ئی خطا اگر قصور ہوگیا
September 13, 201114 yr Author ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے زندگی کیوں مجھے قسطوں میں سزا دیتی ہے اب مرے دل کو بھٹکنے کا نہیں اندیشہ ہر نئی سوچ مجھے راہ دکھا دیتی ہے یہ سمجھ کر ہی تجھے دوست بنایا میں نے دوستی دل کی سیاہی کو مٹا دیتی ہے پیت میں دانہ نہیں ہے تو نہیں*غم اس کا خوش لباسی مرا ہر عیب چھپا دیتی ہے اپنی حاجت سے زیادہ نہ طلب کر کچھ بھی حرص انسان کو نظروں سے گرا دیتی ہے آدمی کوئی بھی ہو اس کی ذرا سی لغزش خاک میں ساری عبادت کو ملا دیتی ہے موسم ہجر میں *زخموں کی خموشی صابر آنے والے کسی طوفاں کا پتا دیتی ہے
September 13, 201114 yr Author غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں جو کناروں میں سمٹ جاۓ وہ دریا ہی نہیں اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے سب کا اس دور میں یہ حال ہے، میرا ہی نہیں برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینا ہی نہیں کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آۓ شاید آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اُٹھاۓ گزرا کوئی اس شہر میں سُستانے کو ٹھہرا ہی نہیں سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے خانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پر بت تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیب اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں
September 13, 201114 yr Author اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب مری نگاہ دھری رہی سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی
Create an account or sign in to comment