Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

بارشیں نہیں رُکتیں

بارشوں کے موسم میں

اُس کو یاد کرنے کی

عادتیں پُرانی ہیں

اب کی بار سوچا ہے

عادتیں بدل ڈالیں

پھر خیال آتا ہے

عادتیں بدلنے سے

بارشیں نہیں رُکتیں

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 299.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

یہ جُھکی جُھکی نظریں

یہ رُکا رُکا لہجہ

لب پہ بار بار آکہ

ٹُوٹتا ہُوا فقرہ

گرد میں اٹی پلکیں

دُھوپ سے تپا چہرہ

سر جُھکائے آیا ہے

اک عُمر کا بُھولا

دل ہزار کہتا ہے

ہاتھ تھام لُوں اس کا

چُوم لوں*یہ پیشانی

لوٹنے نہ دُوں*تنہا

کوئی دل سے کہتا ہے

سارے حرف جُھوٹے ہیں

اعتبار مت کرنا

اعتبار مت کرنا......!

  • Author

خزاں نے موسم گل پر جہاں بھي طنز کيا

کوئي کلي وہيں چپکے سے مسکرادي ہے

کھڑکياں کس نے کھول ديں گھر کي

روشني آرہي ہے باہر کي

در و ديوار کو مکان کہا

يہي اوقات رہ گئي گھر کي

يہ زندگي کے تضادات ہي تو ہيں شايد

کہ لمحہ لمحہ ہے اپنے وجود کي ترديد

ترے وجود کي جب سے تلاش ہے مجھ کو

ترا گماں بھي مري دسترس سے باہر ہے

جہل کے اس آشوب نوا ميں

چپ رہنا بھي ايک ہنر ہے

غم کے بادل ديدہ تر سے

جھوم رہنا بھي ايک ہنر ہے

خلوص ختم ہوا اعتبار ختم ہوا

خسارہ جس ميں تھا وہ کاروبار ختم ہوا

اس پر نہ قدم رکھنا کہ يہ راہ وفا ہے

سر شار نہيں ہو کہ گزر جائوگے لوگو

  • Author

کس طرح ياد کروں کيسے بھلاؤں تجھ کو

تو کوئی رسم نہيں ہے کے نبھاؤں تجھ کو

روز آنکھوں سے بکھرتا ہے نيا خواب کوئی

دل يہ کہتا ہے نا آنکھوں ميں سجاؤں تجھ کو

خوب ہوتے ہيں چاہت کے يہ ميٹھے رشتے

بھول کر بھی کبھی دشمن نا بناؤں تجھ کو

تيرے جانے پے مچلتا ہے بہت دل ليکن

ضبط اتنا ہے کے پھر بھی نا بلاؤں تجھ کو

زندگی کون سے تاروں کا فلک ہے فراز

کس طرح اپنا ستارہ ميں بناؤں تجھ کو

  • Author

زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے

بعض اوقات میری رُوح غضب کرتی ہے

جو تیری زُلف سے آتے ہُوں میرے آنگن میں

چاندنی ایسے اندھیروں کا اَدب کرتی ہے

اپنے انصاف کی زنجیر نہ دیکھو کہ یہاں

مفلسی ذہن کی فریاد بھی کب کرتی ہے؟

صحنِ گلشن میں ہَواؤں کی صدا غور سے سُن

ہر کلی ماتمِ صَد جشنِ طرب کرتی ہے

صرف دِن ڈھلنے پہ موقوف نہیں ہے دوست

زندگی زُلف کے سائے میں بھی شب کرتی ہے

📢 Post Your Ad Here
  • Author

اِسی امید پہ اب زندگی گزاروں گا

کبھی ملیں گے ترے پیار کے خزانے مجھے

مرے دُکھے ہوئے دل میں کِھلے گا صبر کا پُھول

قرار آئے گا آخر کسی بہانے مجھے

مجھے یقیں ہے کہ میرے بھی دن پھریں گے کبھی

کبھی تو آئے گا تُو بھی گلے لگانے مجھے

تُو بولتا ہے، تُو ہنستا ہے، کھیلتا ہے تُو

کوئی سنائے گا آ کر ترے فسانے مجھے

بس اک خوف ہے مجھ کو کہ برگِ خشک ہوں میں

گرا دیا جو کہیں شاخ سے ہوا نے مجھے

حیات و مرگ یہاں کس کے اختیار میں ہے

اگر دکھائی نہ صورت تری خدا نے مجھے

جو موت راہ میں دیوار بن گئی پیارے

جو تجھ سے ملنے کی مہلت نہ دی قضا نے مجھے

  • Author

جس پر تر ی نظر پڑی وہ نُور ہو گیا

ہر کام تیرے نام سے حضور ہو گیا

مشکل گھڑی میں جب لیا میں نے خدا کا نام

آ سا ن ہر و ہ کا م پھر ضر و ر ہو گیا

برکت تھی وہ خلیل کی، رضاخدا کی تھی

ا د نا سا اِ ک پہا ڑ کو ہِ طو ر ہو گیا

تیر ا کرم ہوا جو ایک بار اس پہ تو

بندہ تر ا غلا م پھر حضو ر ہو گیا

آشفتہ حال تھا مگر تری جو ایک بار

نظرِ کرم ہوئی تو غم بھی دور ہو گیا

چہرہ ہمیں دِکھاتا جو اپنا کبھی کبھی

اب ٹوٹ کر وہ آئینہ بھی چُور ہوگیا

آئے گا وہ قریب کیوں ترے یہ تو بتا

انسان جب تُو ہی خدا سے دور ہوگیا

کر دے ہمیں معاف تُو مولا کریم ہے

ہم سے کو ئی خطا اگر قصور ہوگیا

  • Author

ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے

زندگی کیوں مجھے قسطوں میں سزا دیتی ہے

اب مرے دل کو بھٹکنے کا نہیں اندیشہ

ہر نئی سوچ مجھے راہ دکھا دیتی ہے

یہ سمجھ کر ہی تجھے دوست بنایا میں نے

دوستی دل کی سیاہی کو مٹا دیتی ہے

پیت میں دانہ نہیں ہے تو نہیں*غم اس کا

خوش لباسی مرا ہر عیب چھپا دیتی ہے

اپنی حاجت سے زیادہ نہ طلب کر کچھ بھی

حرص انسان کو نظروں سے گرا دیتی ہے

آدمی کوئی بھی ہو اس کی ذرا سی لغزش

خاک میں ساری عبادت کو ملا دیتی ہے

موسم ہجر میں *زخموں کی خموشی صابر

آنے والے کسی طوفاں کا پتا دیتی ہے

  • Author

غمِ دل حیطۂ تحریر میں آتا ہی نہیں

جو کناروں میں سمٹ جاۓ وہ دریا ہی نہیں

اوس کی بوندوں میں بکھرا ہوا منظر جیسے

سب کا اس دور میں یہ حال ہے، میرا ہی نہیں

برق کیوں ان کو جلانے پہ کمر بستہ ہے

مَیں تو چھاؤں میں کسی پیڑ کے بیٹھا ہی نہیں

اک کرن تھام کے میں دھوپ نگر تک پہنچا

کون سا عرش ہے جس کا کوئی زینا ہی نہیں

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آۓ شاید

آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

بوجھ لمحوں کا ہر اک سر پہ اُٹھاۓ گزرا

کوئی اس شہر میں سُستانے کو ٹھہرا ہی نہیں

سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم

تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں

موتی کیا کیا نہ پڑے ہیں تہِ دریا لیکن

برف لہروں کی کوئی توڑنے والا ہی نہیں

اس کے پردوں پہ منقش تری آواز بھی ہے

خانۂ دل میں فقط تیرا سراپا ہی نہیں

حائلِ راہ تھے کتنے ہی ہوا کے پر بت

تو وہ بادل کہ مرے شہر سے گزرا ہی نہیں

یاد کے دائرے کیوں پھیلتے جاتے ہیں شکیب

اس نے تالاب میں کنکر ابھی پھینکا ہی نہیں

  • Author

اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی

اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی

کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئنہ، اسے کیا خبر

کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی

میں اسیر شام قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل

سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب مری نگاہ دھری رہی

سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا

مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہم سفری رہی

وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے

کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی

ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اڑا چکے

وہی چاک پیرہنی رہا وہی خوئے دربدری رہی

وہی خواب خواب حکایتیں وہی خالد اپنی روایتیں

وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہنری رہی

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.