September 14, 201114 yr Author بہت تکلیف دیتا ہے امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں یقیں پہ بے یقینی کا کہر کچھ ایسا چڑھتا ہے دکھائی کچھ نہیں دیتا،سجھائی کچھ نہیں دیتا دعا کہ لفظ ہونٹوں پر مسلسل کپکپاتے ہیں کسی خواہش کے اندیشے زہن میں دوڑ جاتے ہیں گماں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے مل نہ پائیں گے یہ گہرے زخم فرقت کے کسی سے سل نہ پائیں گے کبھی ایسا بھی ہو یارب دعائیں مان لیتا ہے تو کوئی معجزہ کردے تو ایسا کر بھی سکتا ہے میرے ہاتھوں کی جانب دیکھ انہیں تو بھر بھی سکتا ہے جدائی کی یہ تیکھی دھار دلوں کا خون کرتی ہے جدائی کی ازیت سے میرا دل اب بھی ڈرتا ہے جدائی دو گھڑی کی ہو تو کوئی دل کو سمجھائے جدائی چار پل کی ہو تو کوئی دل کو بہلائے جدائی عمر بھر کی ہو تو کیا چارہ کرے کوئی کہ اک ملنے کی حسرت میں بھلا کب تک جئے کوئی مرے مولا کرم کر دے تو ایسا کر بھی سکتا ہے میرے ہاتھوں کی جانب دیکھ انہیں تو بھر بھی سکتا ہے
September 14, 201114 yr Author یہ دشت ، وہ رہ صحرا بھی مجھ کو دیکھنے دو اب امتحاں کا نتیجہ بھی مجھ کو دیکھنے دو اس آئینے پہ تمہارا ہی اختیار سہی کبھی کبھی مرا چہرہ بھی مجھ کو دیکھنے دو تعین رہ وہ منزل مجھی کو کرنا ہے سو ، اپنی آنکھ سے رستہ بھی مجھ کو دیکھنے دو مرے ہی نام سے روشن ہیں بام و در جس کے اب اس مکاں کا نقشہ بھی مجھ کو دیکھنے دو شریک رنج سفر تم ضرور ہو لیکن کوئی تو خواب اکیلا بھی مجھ کو دیکھنے دو
September 14, 201114 yr Author مری ہستی عبادت ہو گئی ہے مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے تیرے آنے سے پہلے تھی قیامت تم آئے تو قیامت ہو گئی ہے سکونِ دل سے اس کا واسطہ کیا تری جس پر عنائت ہو گئی ہے سراغِ زندگی بخشا ہے جس نے اسی غم سے عقیدت ہو گئی ہے نہیں ہے دخل کچھ تیری جفا کا یونہی رونے کی عادت ہو گئی ہے وہ آئے غیر کو لے کر لحد پر مصیبت پر مصیبت ہو گئی ہے وہ کہتے ہیں واصف مر چکا ہے مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے
September 14, 201114 yr Author اسکو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق اے مرگ ناگہاں تیرا آنا بہت ہوا ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی اس سے ذرا ربط بڑھانا بہت ہوا اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا اب تک تو دل سے دل کا تعارف نہ ہو سکا مانا کے اس سے ملنا ملانا بہت ہوا کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل اے یاد یار تیرا ٹھکانا بہت ہوا لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر احمد فراز تجھ سے کہا نا بہت ہوا
September 14, 201114 yr Author بے چین بہت پھرنا گھبرائے ھوئے رہنا اک آگ سی جذبوں کی دھکائے ھوئے رہنا چھلکائے ھوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ھوئے رہنا اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے پردے میں چلے جانا شرمائے ھوئے رہنا اک شام سی کر رکھنا کاجل کے کرشمے سے اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ھوئے رہنا عادت ہی بنا لی ھے تم نے تو منیر اپنی جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ھوئے رہنا
Create an account or sign in to comment