September 11, 201114 yr Author کیا غمخوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو نہ لاوے تاب جو غم کی ،وہ میرا رازداں کیوں ہو وفا کیسی کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگ دل، تیرا سنگ آستاں کیوں ہو
September 11, 201114 yr Author تم میرے نام کے ساتھ منسوب رہو گے کبھی یہ حق جتانے پر بھی دل نہیں ملتے عمر تیاگ کر اپنی، ہنستی دان کرتے ہوئے کبھی خود کومٹانے پر بھی دل نہیں ملتے انا کے بُت کدے مسمار کر کے اپنے ہاتھوں سے کبھی خود کو گرانے پر بھی دل نہیں ملتے جو رنجش زخم دیتی ہے وصل کے کئی حوالوں کو کبھی اس کو بھلانے پر بھی دل نہیں ملتے کبھی جذبوں کی بارش میں خود کو بھگوتے ہوئے کبھی چاہت جتانے پر بھی دل نہیں ملتے کبھی مل جاتے ہیں دل لمحوں میں کبھی سانسوں کے جانے پر بھی دل نہیں ملتے۔
September 11, 201114 yr Author خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا جھُوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا دل لے کے مُفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں اُلٹی شکائیتیں ہوئیں، احسان تو گیا دیکھا ہے بُت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ ایمان کی تو بات ہے کہ ایمان تو گیا افشائے رازِ عشق میں گو ذِلّتیں ہوئیں لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا بزمِ عدو میں صورتِ پروانہ دل میرا گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
September 11, 201114 yr Author ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا میں چپ ہُوا تو زخم مرے بولنے لگے سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا خورشیدِ صبحِ نو کو شکایت ہے دوستو کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا ٹھرا ذرا تو آپ نے پا بستہ کہہ دیا دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن اس دورِ نا سزا نے جسے رستہ کہہ دیا دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری کانٹے ملے تو ان کو بھی گلدستہ کہہ دیا
September 11, 201114 yr Author لہجہ اپنا وہ بہت صاف رکھتا تھا منافقت میں کیا انصاف رکھتا تھا لوگوں نے بنادیا اُسں کومیرا مُنصف فیصلہ ہمیشہ جومیرے خلاف رکھتا تھا
September 11, 201114 yr Author “ تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے“ پھولوں کو یہ احساس ہوا کوئی اور بھی ان سے بہتر ہے کوئی اور بھی عنبر عنبر ہے کسی اور کے گرد بھی بھونرے ہیں جو اُس کو چاہ کر سنورے ہیں تیرے بالوں کو جو دیکھتی ہے وہ رات شرم سے مرتی ہے اور چپکے چپکے کہتی ہے وہ زلف بڑی ہی کالی ہے سب جگ سے وہ نرالی ہے تیری کاجل سے بھری آنکھوں کو ہرنی چھپ چھپ دیکھتی ہے اور من ہی من میں کُڑہتی ہے کہ کسی اور کے نین میں جادو ہے جو ہر ایک سے اب بے قابو ہے تیرے چہرے کو جب وہ دیکھتا ہے احسا س سے نظریں جھکا لے وہ وہ چاند جو رات چمکتا ہے ہر ٹوٹنے والے تارے سے بس ایک ہی بات وہ کہتا ہے “اک چاند زمین پہ رہتا ہے“
September 11, 201114 yr Author وہ فراقِ یار کی ایک شب گزرنی تھی ہم پہ گزر گئی ہے اُسی ایک رات میں ہم صنم کبھی مر مر کر جیا کیئے کبھی جی جی کر مرا کیئے وہ وصلِ یار کے تمام لمحے کبھی گلاب بن کر ملے مجھے کبھی عذاب بن کر ملے مجھے وہ لمحے جو پھول بن چکے تھے تیری یادوں* کی دھول بن گئے ہیں وہ لمحہ لمحہ عذاب ہوئے ہیں میری بے کسی کی کتاب ہوئے ہیں کہیں کوئی“ دیوارِ گریہ “ ملے جس سے لپٹ کے میں بھی رولوں وہ جو تیری نفرتوں کی گرد سی جم چکی ہے اپنے آنسووں سے میں بھی دھو لوں کہ نئی زندگی کا آغاز کر لوں اک نیا جہان آباد کرلوں جہاں فرقتوں کی کوئی بات نہ ہو جہاں نفرتوں کی کوئی رات نہ ہو جہاں جدائیوں کو کوئی ہاتھ نہ ہو کہ اب تو وہ فراقِ یار کی ایک شب گزرنی تھی ہم پہ گزر گئی ہے
September 11, 201114 yr Author چاند میری طرح پگلتا رہا نیند میں*ساری رات چلتا رہا جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا منہ پر بادل کی راکھ ملتا رہا میں تو پائوں*کے کانٹے چُنتی رہی اور راستہ بدلتا رہا رات گلیوں میں*جب بھٹکتی تھی کوئی تو ساتھ جو ساتھ چلتا رہا سرد رُت میں ، مُسافروں*کے لیے پیڑ بن کر الائو جلتا رہا موسمی بیل تھی میں*سُو کھ گئی وہ تناور درخت پھلتا رہا
September 11, 201114 yr Author مجھے انتظار تیرا رہا دلِ بے قرار تیرا رہا کیا ہی اچھا کیا صنم اب نا اعتبار تیرا رہا نہیں منتظر نہیں اب نہیں کوئی خاکسار تیرا رہا تو ہے رند مجھے تو رندی ملی بس خیال ہر بار تیرا رہا کیا خرم یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے نا کے اب قھار تیرا رہا
September 11, 201114 yr Author بارش اب بھی ہوتی ہے، میری یادیں بھگوتی ہے وہ لمحہ یاد ہے اب بھی ، بھلاؤں گا بھلا کیسے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر میری آنکھوں کو بوسہ دے کر کہا تھا تم نے اک پل کو یہ چاہت کے سبھی پیغام یہ برساتیں تمہارے نام وہ اِک تھا میرا اپنا، محبت سے بھرا سپنا ہاں بارش اب بھی ہوتی ہے میرے بنجر ہاتھوں کو دیکھ کر میرے ساتھ روتی ہے میری آنکھیں بھگوتی ہے
Create an account or sign in to comment