Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Featured Replies

  • Author

کیا غمخوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کو

نہ لاوے تاب جو غم کی ،وہ میرا رازداں کیوں ہو

وفا کیسی کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہرا

تو پھر اے سنگ دل، تیرا سنگ آستاں کیوں ہو

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 1.7k
  • Views 305.3k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Tum Kitni Achi Lagti Ho" Jb gehri socho me doby Tum holy holy chalti ho Jb tanhai k sholo me Tm rfta rfta jlti ho Jb bhegy bhegy mosm me Tm lamha lamha sochti ho Jb apni kaali ankho se Tm mujh

  • Silent Tear
    Silent Tear

    Aae khuda karde us shaks ke hawale mujhko, Ke apne seene se wo ek baar laga le mujhko, Bikhar gai hun mein toot kar kai tukroon mein, De usse taufeeq ke aake sambhale mujhko, Ya tu uska saath aata

  • Silent Tear
    Silent Tear

    koi ghazal suna ker kia karna yun bat barha ker kia kerna tum mere thay tum mere ho dunya ko bata ker kia karna tum ehad nibhao chahat se koi rasam nibha ker kia kerna tum khafa bhi ache lagte h

  • Author

تم میرے نام کے ساتھ منسوب رہو گے

کبھی یہ حق جتانے پر بھی دل نہیں ملتے

عمر تیاگ کر اپنی، ہنستی دان کرتے ہوئے

کبھی خود کومٹانے پر بھی دل نہیں ملتے

انا کے بُت کدے مسمار کر کے اپنے ہاتھوں سے

کبھی خود کو گرانے پر بھی دل نہیں ملتے

جو رنجش زخم دیتی ہے وصل کے کئی حوالوں کو

کبھی اس کو بھلانے پر بھی دل نہیں ملتے

کبھی جذبوں کی بارش میں خود کو بھگوتے ہوئے

کبھی چاہت جتانے پر بھی دل نہیں ملتے

کبھی مل جاتے ہیں دل لمحوں میں

کبھی سانسوں کے جانے پر بھی دل نہیں ملتے۔

  • Author

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

جھُوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

دل لے کے مُفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیں

اُلٹی شکائیتیں ہوئیں، احسان تو گیا

دیکھا ہے بُت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ

ایمان کی تو بات ہے کہ ایمان تو گیا

افشائے رازِ عشق میں گو ذِلّتیں ہوئیں

لیکن اُسے جتا تو دیا، جان تو گیا

گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکر

مجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا

بزمِ عدو میں صورتِ پروانہ دل میرا

گو رشک سے جلا تیرے قربان تو گیا

ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جا چکے

اب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

  • Author

ملتے ہی خود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا

محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا

میں چپ ہُوا تو زخم مرے بولنے لگے

سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا

خورشیدِ صبحِ نو کو شکایت ہے دوستو

کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا

چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا

ٹھرا ذرا تو آپ نے پا بستہ کہہ دیا

دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن

اس دورِ نا سزا نے جسے رستہ کہہ دیا

دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری

کانٹے ملے تو ان کو بھی گلدستہ کہہ دیا

  • Author

لہجہ اپنا وہ بہت صاف رکھتا تھا

منافقت میں کیا انصاف رکھتا تھا

لوگوں نے بنادیا اُسں کومیرا مُنصف

فیصلہ ہمیشہ جومیرے خلاف رکھتا تھا

  • Author

“ تیرے بھیگے بدن کی خوشبو سے“

پھولوں کو یہ احساس ہوا

کوئی اور بھی ان سے بہتر ہے

کوئی اور بھی عنبر عنبر ہے

کسی اور کے گرد بھی بھونرے ہیں

جو اُس کو چاہ کر سنورے ہیں

تیرے بالوں کو جو دیکھتی ہے

وہ رات شرم سے مرتی ہے

اور چپکے چپکے کہتی ہے

وہ زلف بڑی ہی کالی ہے

سب جگ سے وہ نرالی ہے

تیری کاجل سے بھری آنکھوں کو

ہرنی چھپ چھپ دیکھتی ہے

اور من ہی من میں کُڑہتی ہے

کہ کسی اور کے نین میں جادو ہے

جو ہر ایک سے اب بے قابو ہے

تیرے چہرے کو جب وہ دیکھتا ہے

احسا س سے نظریں جھکا لے وہ

وہ چاند جو رات چمکتا ہے

ہر ٹوٹنے والے تارے سے

بس ایک ہی بات وہ کہتا ہے

“اک چاند زمین پہ رہتا ہے“

  • Author

وہ فراقِ یار کی ایک شب

گزرنی تھی ہم پہ گزر گئی ہے

اُسی ایک رات میں ہم صنم

کبھی مر مر کر جیا کیئے

کبھی جی جی کر مرا کیئے

وہ وصلِ یار کے تمام لمحے

کبھی گلاب بن کر ملے مجھے

کبھی عذاب بن کر ملے مجھے

وہ لمحے جو پھول بن چکے تھے

تیری یادوں* کی دھول بن گئے ہیں

وہ لمحہ لمحہ عذاب ہوئے ہیں

میری بے کسی کی کتاب ہوئے ہیں

کہیں کوئی“ دیوارِ گریہ “ ملے

جس سے لپٹ کے میں بھی رولوں

وہ جو تیری نفرتوں کی

گرد سی جم چکی ہے

اپنے آنسووں سے میں بھی دھو لوں

کہ نئی زندگی کا آغاز کر لوں

اک نیا جہان آباد کرلوں

جہاں فرقتوں کی کوئی بات نہ ہو

جہاں نفرتوں کی کوئی رات نہ ہو

جہاں جدائیوں کو کوئی ہاتھ نہ ہو

کہ اب تو

وہ فراقِ یار کی ایک شب

گزرنی تھی ہم پہ گزر گئی ہے

  • Author

چاند میری طرح پگلتا رہا

نیند میں*ساری رات چلتا رہا

جانے کس دُکھ سے دل گرفتہ تھا

منہ پر بادل کی راکھ ملتا رہا

میں تو پائوں*کے کانٹے چُنتی رہی

اور راستہ بدلتا رہا

رات گلیوں میں*جب بھٹکتی تھی

کوئی تو ساتھ جو ساتھ چلتا رہا

سرد رُت میں ، مُسافروں*کے لیے

پیڑ بن کر الائو جلتا رہا

موسمی بیل تھی میں*سُو کھ گئی

وہ تناور درخت پھلتا رہا

  • Author

مجھے انتظار تیرا رہا

دلِ بے قرار تیرا رہا

کیا ہی اچھا کیا صنم

اب نا اعتبار تیرا رہا

نہیں منتظر نہیں اب نہیں

کوئی خاکسار تیرا رہا

تو ہے رند مجھے تو رندی ملی

بس خیال ہر بار تیرا رہا

کیا خرم یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے

نا کے اب قھار تیرا رہا

  • Author

بارش اب بھی ہوتی ہے، میری یادیں بھگوتی ہے

وہ لمحہ یاد ہے اب بھی ، بھلاؤں گا بھلا کیسے

میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر

میری آنکھوں کو بوسہ دے کر

کہا تھا تم نے اک پل کو

یہ چاہت کے سبھی پیغام

یہ برساتیں تمہارے نام

وہ اِک تھا میرا اپنا، محبت سے بھرا سپنا

ہاں بارش اب بھی ہوتی ہے

میرے بنجر ہاتھوں کو دیکھ کر

میرے ساتھ روتی ہے

میری آنکھیں بھگوتی ہے

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.