Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

DR KHAN

Co Administrators
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by DR KHAN

  1. تعریف کا شکریہ۔ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ باذوق قارئین کے لیے کچھ میچور موضوع پر لکھوں۔ یہ کہانی کا ابتدائی حصہ ہے یعنی اصل کہانی کا صرف دس فیصد۔ کہانی تو ابھی یہاں سے شروع تک نہیں ہوئی۔ یہ تو صرف اتنا حصہ ہے کہ لوگ جان سکیں کہ کاشف ہے کون؟ اس نے کیا کیا اور کیسے کیا، یہ تو الگ داستان ہے۔
  2. قسط نمبر ۵ گرو جی ابھی تو کہانی کی ابتدا ہے۔ابھی تو سکندر سیکھنے کے مراحل میں ہے۔لڑکیوں بہت اور ایک سے بڑھ کر ایک ملیں گی۔ یہ گارنٹی ہے جناب۔ جناب مزید انتظار ترک کیجیے اور انجوائے کیجیے۔
  3. کہانی میں اب واقعی حرامی پن آتا جا رہا ہے۔بہت خوب ڈاکٹر خان ۔آپ کی یہ سیئریل بھی کافی غضب کی ہے۔ کہانی کا ابتدائی نام حرامی سوچا تھا۔مگر بعد میں اسے بدل کر ہوس کر دیا۔ ابھی تو سکندر نے حرامی پن کرنا سیکھا ہے اور دیکھ لیجیئے کہ حرامی پن کرنے سے منٹوں بعد ہی اسے زندگی کی پہلی لڑکی مل گئی۔ اب جلد ہی وہ چودنا بھی سیکھ جائے گا۔ ابھی اسے خاص معلوم نہیں ہے مگر جمیل بھی تو کبھی لاہور کی گلیوں اور سڑکوں کو گواچی گاں کی طرح دیکھتا تھا۔ اب دیکھیے۔۔۔۔وہ شہر کی مافیا پر راج کرنے کے پلان بنا رہا ہے۔ سکندر تو خود اپنی پیدائش کے متعلق مشکوک ہے کہ جائز بھی ہے یا نہیں۔انتظار کیجیے،جناب،سکندر بھی ایک نہ ایک دن حرامی پن میں پی ایچ ڈی کرے گا۔
  4. یہ سٹار پلس آئیڈیا اچھا ہے کہ کہیں دونوں کی ملاقات ہو جائے جیسے ایونجرز میں سارے ہیرو اکٹھے کر دیئے۔ اور ایک گھٹیا مووی میں بیٹ مین کی سپر مین سے مارکٹائی ہو گئی،اور نجانے کیا کیا تھرڈ ریٹ سسپنس ہالی وڈ والوں نے بنا دیئے کہ لگا کہ کسی سکول کے بچے نے یہ سکرپٹ بنایا ہے۔ خیر، جمیل اور کاشف لاشاری بنیادی طور پر ایک ہی معاشرے اور سسٹم میں ہیں۔ ان میں فرق ہے تو اس بات کا کہ جمیل کھلا سانڈ ہے۔ اس کو کسی قاعدے قانون کی کوئی فکر نہیں، وہ کسی چیز کی پروا نہیں کرتا۔ کاشف لاشاری نے ابھی تک تو کچھ کیا ہی نہیں۔اس نے پوری زندگی میں کوئی خلاف قانون کام تک نہیں کیا۔ کراٹے کے باوجود لڑائی جھگڑوں سے دور رہتا ہے۔ تنہائی پسند ہے اور سسٹم کا حصہ ہے۔ جمیل سسٹم کے خلاف چلتا ہے اور کاشف سسٹم میں رہ کر چلے گا۔ باقی ایکشن ہیرو نے ہر کہانی میں بنیادی کام تو مار کٹائی کرنا ہوتا ہے۔
  5. دیکھیں پولیس اور بلکہ فوج میں بھی ٹریننگ مختلف ہوتی ہے مختلف ٹریڈز یا ڈیپارٹمنٹ کی۔ہاں بنیادی ٹریننگ سب کی یکساں ہوتی ہے اور اسی میں دیکھ لیا جاتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے؟ جیسے فوج میں کوئی ڈاکٹر بھرتی ہوا ہے تو صرف بیسک ٹریننگ ملی ہو گی،اسے مکمل کامبیٹ ٹرین تو نہیں کیا ہو گا اور نہ ضرورت ہے۔ نہ ہی ڈاکٹر کر پائے گا،کیونکہ اس کی جسمانی حالت ایسی ہوتی تو ڈاکٹر کی بجائے فوجی ہی کیوں نہ بھرتی ہو جاتا۔ جیسے کوئی ایڈمنسٹریٹر ہے تو اس کو سخت ترین کامبیٹ ٹریننگ کی کیا ضرورت ہے؟ ہم سخت ترین ٹریننگ اس بندے کو دے سکتے ہیں جس میں اس کو کرنے کا حوصلہ بھی ہو۔ ایک انسان اچھا ایڈمن تو ہو مگر جسمانی لحاظ سے مضبوط نہ ہو تو پولیس ہارڈ کامبیٹ ٹریننگ اسے دینے کے چکر میں اچھے ایڈمن سے بھی جائے گی۔ کسی علاقے میں اگر امن ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہاں کا پولیس افسر بہترین فائٹر ہے ۔ بلکہ وہ بہترین ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح کسی ڈیپارٹمنٹ کا کام سیدھا سیدھا دہشت گردوں سے بھڑ جانا ہے تو وہاں ایڈمنسٹریٹر کی نہیں بلکہ فائٹر کی ضرورت ہو گی۔وہاں ایڈمنسٹریٹر کی ساری عقلمندی گولیوں کی بوچھاڑ میں کہیں گم ہو جائے گی۔ تو طے یہ کیا جاتا ہے کہ جو بھی کام مستقبل میں ان سے لینا ہو اسی کے مطابق بھرتی کی جائے اور اسی کے مطابق ان کو ٹرین کیا جائے۔ کوئی وائرلیس میں جاتا ہے،کوئی کمیونیکیشن میں، کوئی ایجوکیشن میں، کوئی ایڈمن میں، کوئی جیل میں، کوئی ائرپورٹ سیکیورٹی غرض سب کی قابلیت اور پرکھ کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک انتہائی بڑی خامی پولیس میں درجہ بندی ہے۔ سپاہی سپاہی ہی بھرتی ہوتا ہے اور افسر افسر ہی۔ پوری دنیا میں پولیس کی درجہ بندی نہیں ہے۔ انسان سپاہی بھرتی ہوتا ہے اور قابلیت کی بنا پر افسر بن جاتا ہے۔ ایلیٹ فورس اور دیگر اداروں کو اکثر اوقات فوج ہی ٹرین کرتی ہے۔یہ تو عام بات ہے۔
  6. یہ شکریہ ایسی لڑکی نے ادا کیا جو شوہر کے کہنے پر دوسرے مردوں کے پاس جاتی ہے۔ ایسے میں اس نے ایک بار اپنی خوشی سے اسے پاس بلا لیا جس نے اس پر کبھی احسان کیا۔ حالانکہ اس کا احسان روزی کے لیے مصیبت ہی بنا ہو گا مگر اسے یہ ادا اچھی لگی کہ کسی نے اپنا کیرئیر داؤ پر لگا کر اس کی خاطر اس کے شوہر کو پیٹ ڈالا۔ ویسے بھی اس کی اپنی خواہش بھی یہی ہو گی کہ وہ اسے پیٹ ڈالے مگر کسی اور کے ہاتھوں ہی سہی اس کی تمنا تو پوری ہوئی۔
  7. شکریہ جناب۔ میں نے خود ہی کوشش کی بیوروکریسی سے بھی قارئین کا تعارف کروایا جائے۔ پردیس میں جہاں فوج اور دہشت گردی میرا موضوع تھا،وہیں ہوس میں چھوٹے طبقے کی زندگی اور کاروبار کو میں نے لکھنے کی کوشش کی تھی۔ اس کہانی میں میرا ارادہ بیوروکریسی کو ٹارگٹ کرنے کا تھا۔ جناب ایڈمن نے پرزور اصرار کیا ہے کہ کچھ دنوں تک کہانی کو اس حد تک ضرور پوسٹ کیا جائے کہ قارئین کو گلہ شکوہ نہ رہے۔ اسی لیے میری بھی کوشش ہے کہ میں کہانی کو زیادہ سے زیادہ جلد اپڈیٹ کرتا رہوں۔ اسی لیے کوشش ہے کہ شام سے پہلے ایک ڈوز اور دی جائے۔
  8. بے فکر رہیے جناب۔ ہر کہانی کو وقت ملے گا۔(اگر مجھے وقت ملتا رہا تو۔) کسی نئے سلسلے کو شروع کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ قارئین کو یکسانیت سے بچایا جا سکے۔ ورنہ فورم کو کیا پڑی ہے کہ نئی نئی کہانیوں کا جتن کرے۔ دراصل جس طرح آپ کو پردیس اور ہوس پسند ہے،ہو سکتا ہے کسی کو کچھ اور چاہیے ہو۔ تو اس سلسلے میں ہم سب کی پسند کے مطابق ورائٹی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان دونوں کہانیوں کو بھی اپڈیٹ کیا جائے گا مگر بہار کی آمد کے ساتھ نئی ہوا کا جھونکا تو بنتا ہے نا۔ کیا خیال ہے جناب؟؟؟
  9. معاشرے کی ننگی سچائیاں کی داستان۔ اردو فن کلب کا نیا سلسلہ۔
  10. زبردست جناب۔ بہت اچھی کہانی تھی،مزا آ گیا۔
  11. میں آپ کو یہاں خوش آمدید کہتا ہوں۔ امید ہے آپ کا اچھا وقت گزرے گا۔
  12. میں آپ کو تہہ دل سے یہاں خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کی نئی شاعری کا منتظر ہوں۔
  13. بہت اچھا لگا یہ جان کر کہ صرف ہم ہی نہیں اور بھی لوگ ہیں جو وقت کا ضیاع کرتے ہیں۔
  14. یار کہانی میں کچھ ربط کی کمی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ کئی پیراگراف دہرائے گئے ہیں۔ یعنی کاپی پیسٹ میں کہیں غلطی ہو گئی ہے۔ میں دیکھتا ہوں اگر ایڈٹ ہو سکے تو۔ باقی اس فورم پر انسسٹ قطعی طور پر منع ہے۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.