Everything posted by DR KHAN
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
سلام سمیجو نے طلاق اس لیے دی کیونکہ اس کو اپنے ساتھ ساتھ زمان سمیجو کو بھی ملکہ کے ساتھ زیادتی کا موقع دینا تھا۔ اپنی بیوی کو ماموں کو دیتے دل نہیں مانا تو پہلے طلاق دی پھر زیادتی کا سوچا۔ یہ بھی عین ممکن تھا کہ جب وہ لوگ آ جاتے تو کوئی اور بھی زیادتی کا نشانہ بناتا۔ اداس پنچھی کے سوال کا جواب ہے کہ ابھی تو ابتدا ہے مظالم کی اور اس ناانصافی میں بھی پس منظر میں وڈیرے ہی ہیں۔ سمیجو برادری کی اس بے حسی کے پیچھے بھی وڈیروں کا خوف ہے کہ ان کا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں اور سزا مجبور عورت کو دی۔ اگر سمیجو برادری میں جرات ہوتی تو وڈیرے ماروی یا ملکہ کا کیا بگاڑ سکتے تھے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
سانول اس نظام کا ہوتے ہوئے بھی اس میں عام لوگوں کی طرح رچا بسا نہیں ہے۔ اس کا بختاور کی حکم عدولی کر کے محلہ کرنا، وڈیروں کے سامنے شرط رکھنا،اپنے لیے عورت مختص کرنا اور ایک وڈیری کے ساتھ تعلق رکھنا۔ وہ غلامانہ سوچ سے آزاد ہے۔ وہ ماہر لڑاکا ہے اس لیے لڑائی سے پہلے منت کرتا ہے کہ اس پہ حملہ نہ کیا جائے۔ اپنی اسی سوچ کی وجہ سے اس کو شکو کی معصومیت پہ ترس آ گیا۔ اسی سوچ نے ملکہ کی جان بچائی۔ اگر سلام ماروی کو قتل کر دیتا تو اس کو کم از کم یہ طعنہ تو سننے کو ملتا کہ اس کی بہن بدکردار تھی چاہے بعد میں قتل ہوئی۔ لوگ پھر بھی باتیں بناتے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
جناب پہلے دن سے یہ موڑ طے تھا۔ تبھی تو کھپرو کی ملکہ کی کہانی بننی تھی۔ اب ظلم ہے تو اس کی بغاوت بھی ہو گی۔یہی تو جناب کہانی ہے
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
کھپرو کی ملکہ جیسا کہ سلسلے کے سٹارٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس کہانی کے 200 صفحات فری سیکشن میں پوسٹ کیئے جائیں گے۔ ایک خوبصورت کہانی کا تعارفی ایڈیشن یہاں ختم ہوا۔ اب اس سے آگے کی یہ کہانی پریمیم سیریز سیکشن میں قسط وار اپلوڈ ہو گی۔ ہر قسط قریبا 100 صفحات کی ہو گی۔جسے ممبرز نئے سسٹم کی مطابق قسط کی پے منٹ کر کے پڑھ سکیں گے۔ ایک نیا سلسلہ بھی بہت جلد سٹارٹ کیا جائے گا۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
دل تھام لیں کیونکہ کھپرو کی ملکہ کی اس سیکشن کی آخری مکمل ہو چکی ہے اور پروف ریڈنگ کے بعد پوسٹ کر دی جائے گی۔ اس قسط میں جو ہو گا وہ آپ کو چونکا بھی دے گا اور رلا بھی دے گا۔ کمنٹس دیکھتے ہیں کہ کتنے اور کیسے آتے ہیں۔ ہم اسی کی بنیاد بھی سوچ سکتے ہیں کہ اس کو کہاں چلانا ہے، ابھی تک تو ہماری فری ٹریفک سے پیڈ بہتر ہے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
دراصل کئی بار کہانی اس قدر تیزی سے ٹائپ کی ہوتی ہے کہ ٹائپنگ کی کافی غلطیاں رہ جاتی ہیں۔ کوشش تو ہوتی ہے کہ لکھنے کے بعد پڑھ لی جائے مگر اکثر اس کا وقت نہیں ملتا کہ بغور پڑھا جا سکے۔ باقی بہرام کا کردار ایسا ہی تھا اور اتنا ہی تھا۔ کوئی بھی ایسا بندہ جس کو یہ معلوم ہو کہ فلاں لڑکی جس نے مجھے صرف بات کرنے پہ ذلیل کر کے رکھ دیا اور دوسری طرف وہ کسی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی ہے تو اس کا ردعمل ایسا ہی ہو سکتا ہے جیسا بہرام کا تھا۔ اس کے بلیک میلنگ یا زیادتی کی کوشش۔ بڑا باریک سا نقطہ ہے کہ سلام کو ملکہ کی لینے کی جلدی تھی اور اسے بیچ میں ڈسٹرب ہونے کا ڈر تھا۔ اس لیے وہ ماروی کو نیگ دے کر جان چھڑانا چاہتا تھا کہ تاکہ صبح تک پھر اس کے اور ملکہ کے بیچ کوئی رکاوٹ نہ ہو۔اس لیے وہ ماروی کو ڈھونڈنے نکلا،ایسے ہی باریک نقاط سے پوری پلاننگ سے کیا گیا کام بھی ناکام ہو جاتا ہے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
جناب ایسے دکھ اور تکالیف ہی دراصل اس کہانی کو اس موڑ تک لے کر جائیں گے جہاں ہم نے اسے لے جانا پہلے دن سے طے کیا ہے۔ اگلی قسط تو آپ کو رلا دے گی۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
لیجیے جناب نئے سال کے پہلے دن کا تحفہ قبول کیجیے۔ اگر کہانی کا سنسنی خیز موڑ دو سو صفحات سے زیادہ اوپر بھی چلا گیا تو ہم اس کو بھی یہیں پوسٹ کر دیں گے۔ تاکہ آپ لوگوں کے لیے کہانی کو سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ انجوائے کیجیے
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
آج سارے دن میں بس تین صفحے لکھے جا سکے۔ کل بشرط زندگی یہ مکمل ہو جائے گی۔ یعنی اس کے دو سو صفحات مکمل ہو جائیں گے۔
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
بھائی یہ زیادتی ہم پانچ سال پہلے کر چکے ہیں جناب۔ اب کیا نظر ثانی کریں
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
فی الحال تو اس کی اپڈیٹ اسی سیکشن میں آئے گی۔ بعد میں اس کو پیڈ سیکشن میں موو کر دیا جائے گا۔ دو سو صفحات کے بعد یہ کہانی پیڈ سیکشن میں جائے گی۔ فری سیکشن میں تب شاید نئی کہانی ایڈ ہو جائے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
کہانی میں سبھی چیزیں شامل ہوں تو ہی اسے کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ جیسے حسین عورت وڈیروں کی کمزوری ہے اسی طرح زورآور مرد بھی ان کو خوب مرغوب ہیں۔ کہانی میں ہر کردار کا الگ الگ مقام ہے، جیسے ماروی ہے تو اسے معلوم ہے کہ اسے کس کام کے لیے بلوایا گیا ہے اور اگر وہ گئی تو کیا ہو گا۔ مگر اس کی انکار کی ہمت نہیں کیونکہ وہ نہ گئی تو جو کچھ ہو سکتا ہے اس کا سوچنا بھی اس کے لیے ممکن نہیں۔ میرا شادی کے بعد اتنے مردوں کے ساتھ سو چکی ہے کہ اب شوہر کے ساتھ ہمبستری محض کوفت اور الجھن کا باعث ہے۔ سسی نے جس طرح کیا اس کا راز راز نہیں رہا اور اندرون خانہ سینہ با سینہ چل رہا ہے۔فرزانہ کا کیا ہو گا یہ بھی الگ داستان ہو گی۔فرزند کھوڑو جیسے برے مرد کی بیوی ہونا اور جنسی طور پہ شدید برا محسوس کرنا عین فطری ہے،اوپر سے اولاد نہ ہونا، فرزانہ کے ایمان کو ڈگمگانے کے لیے بہت ہے۔
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
بہت شکریہ جناب ابن صفی بہت بڑے آدمی ہیں جناب۔ ہم ان کی خاک بھی نہیں۔ بس اتنی بساط ہے کہ آپ کو ہمارا لکھا ہوا بھا جاتا ہے۔ یہی کمائی ہے ہماری۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
سانول اور وڈیری والا معاملہ بھی ایک موقع پہ کھلے گا۔اس کا انتظار کیجیے۔اگر یہ واقعہ شامل کیا گیا ہے تو اس کے راز سے بھی پردہ اٹھے گا۔ بختاں کو اجازت نہیں ملی حقیقت میں یہ کہا گیا ہے کہ سانول کی بھوک کا خیال رکھا جائے تاکہ وہ خود سے شکار نہ کرنے نکل جائے۔اس بھوک میں عورت بھی شامل کی گئی ہے۔ دوسری بات جب سیکس کسی انتہا کی تکلیف دہ یاد کی طرح ہو تو اس کی رغبت اذیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بےشمار لڑکیاں جو کسی حادثے سے گزری ہوں وہ سیکس تو دور مرد کو دیکھ کر بھی گھبرا جاتی ہیں چاہے وہ باپ یا بھائی کیوں نہ ہو۔ یہ نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں۔ سیکس کا خاتمہ سبھی کے لیے یکساں طور پہ پرلطف ہو یہ ضروری نہیں ہے۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
اچھا سوال ہے کہ بختاں کا کبھی دل کیوں نہیں چاہا کہ وہ کسی سے سیکس کرے جبکہ روز سیکس کرتے ہوئے دیکھنا۔ دراصل اس کے لیے سیکس کوئی سکون کا کام یا کوئی اچھا کام نہیں تھا۔ اس کے لیے سیکس بس کسی وڈیرے کی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کا نام ہے۔اس کے علاوہ اس کا پہلا سیکس بھی یقیناً خوشگوار نہیں ہو گا تو اس کا خود سے دل نہیں چاہا۔ نہ ہی کسی نے اس کو وڈیرے کی ملکیت سمجھ کر بستر میں لانے کی کوشش کی ہو۔ جوں جوں سیکس میں وقفہ بڑھتا جائے سیکس کی طلب میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ جو روز کسی کو بستر پہ ذلیل ہوتا دیکھے وہ سیکس دیکھ کر کر مشتعل ہونے کی بجائے متنفر ہو جائے گا۔ ویسے بھی روز سیکس دیکھنے والی کے لیے اس میں کیا چارم رہ جائے گا۔ جتنا ہم پورن دیکھ کر مشتعل ہوتے ہیں پورن بنانے والے تو نہیں ہوتے ہوں گے۔ کھوڑو خاندان کی دو حویلیاں ہیں، ایک جہاں سب رہتے ہیں اور ایک حویلی نواز کھوڑو نے کھیتوں کے کام کاج اور دیگر معاملات کے لیے الگ بنا رکھی ہے۔بیرونی مہمان بھی اسی حویلی میں بلائے جاتے ہیں اور جس حویلی میں خاندانی زنان خانہ ہے اس میں نہیں۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
دیکھیں کہانی کو یکسانیت سے بچانے کے لیے کئی کام کرنا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس قسط میں دیکھ لیجیے کہ محض ایک معمولی سا واقعہ کہ نوشاد کی اپنی چچی سے سرسری ملاقات اور رسمی علیک سلیک جس میں اس کی نگاہیں اس کے جوان جسم پہ بھٹکنے لگیں۔ یہ ایک جملے کا واقعہ ہے۔ مگر اس ایک واقعے پہ تین صفحات۔ مقصد کہانی کو جدا انداز میں پیش کرنا ہے۔ دوسری طرف شکو کی آنکھوں نے واقعہ بتانا ایک اہم چیز ہے کہ شکو نے دیکھا اور کیسا محسوس کیا۔سانول اور میرا کے احساسات سے کہیں زیادہ اہم اس لڑکی کے احساسات تھے جس کے لیے ابھی تک تو جنسی عمل شدید ترین اذیت اور ذلت کا باعث تھا۔ اس نے ایک لڑکی کو تکلیف جیسی کیفیت میں مبتلا ہو کر لطف لینے جیسی علامات ظاہر کرتے دیکھا۔
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
-
مجرِم یا۔۔۔
بھائی ہاتھ جڑوا لو پیر پکڑوا لو۔ یہ نہ بولو۔ اب مزید نہیں سہی جاتی۔ ایک کہانی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ پیڈ ممبران ناراض ہیں کہ اس کی اپڈیٹ زیادہ آتی ہے اور کہانی کا اصل رائیٹر ناراض ہے کہ ہم نے کہانی پہ قبضہ کیا ہے اور ہم ڈھولکی کی طرح ہر طرف سے بج رہے ہیں
-
کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن
دیکھیں ایک فطری سی بات ہے کہ کہانی کے کرداروں کی عملی شخصیت سے میل کھاتی ان کی جنسی قوت ہو گی۔ جیسے وڈیرہ فرزند بہت ظالم اور جابر ہے تو اس کی جنسی ترجیع بھی تکلیف دہ سیکس ہے۔وہ عورت کو اذیت میں مبتلا کر کے سیکس کرتا ہے۔ نواز کھوڑو شکار کو گھیر کے تسلی سے آرام آرام سے میٹھا بن بن کر زہر کی طرح ہے جس کا اثر دھیرے دھیرے چڑھتا ہے۔اس کی جنسی قوت بھی بہت منفرد ہو گی۔ سانول ایک پہلوان اور کھلاڑی ہے،اس کی جنسی قوت میں حقیقی مردانہ اوصاف ہوں گے، جس طرح ایک بہترین جسم کی مالک عورت سب کو لبھاتی ہے تو ایک بہترین جسم کا مالک مرد بھی عورتوں کو لبھاتا ہے۔ شہری بابو ترسے ہوئے تھے اور ان کا جنسی تجربہ محدود تھا،ان کو ہو گا بھی تو اکا دکا پیشہ ور عورتوں کا، تبھی تو وہ بستر میں خاص کمال نہیں دکھا سکے۔ اگر سب کو ایک جیسا دکھایا جائے تو کہانی کیسے بنے گی؟ جیسی بھولی داستان میں پہلے یہ عنصر غالب تھا کہ چاہے یاسر کی ماں کی عمر کی عورت ہو گی، یاسر کا لن لیتے ہی درد سے بلک اٹھے گی۔ یہ کہاں اور کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ پھر پورے پنڈ میں صرف اور صرف یاسر ہی وہ سورما ہے جو کسی کی لے سکتا ہے اور باقی سارا پنڈ حاجی اور کھسرا ہے یا کسی کو معلوم ہی نہیں کہ سیکس ہوتا کیا ہے؟ ہر لڑکی کنواری ہے اور سیل پیک ہے۔ یہاں تک کہ ایک لڑکا لڑکی کھیتوں میں سیکس کرنے گئے تو وہاں جا کر بھی لڑکے کا کھڑا نہیں ہو سکا ،یاسر کا ہو گیا اور اس نے لڑکی کی پیاس بجھائی۔مطلب واقعی؟؟؟؟؟