Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

DR KHAN

Co Administrators
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by DR KHAN

  1. میں نے سسٹم کو بغور دیکھا ہے اور آپ کی کوئی بھی پوسٹ پینڈنگ میں نہیں ہے۔آپ دوبارہ سے بھیجیں۔
  2. Abhi free hai. baad mein paid section mein move ki jai gi
  3. ارے جناب کہانی پڑھیے اور پھر جانیے کہ میں نے کس کو ٹارگٹ کیا ہے۔ میرا ٹارگٹ ابھی کسی پہ واضع نہیں۔ ہائی فائی کلاس اور لوئر مڈل کلاس سب کو میں نے موضوع بنایا ہے۔ کہانی کا مقصد ذہن کو کھولنا ہوتا ہے کسی کو نشانہ بنانا نہیں۔
  4. کالج کلز ۔۔۔اردو فن کلب کا نیا سلسلہ وار ناول ہے۔جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہو گا۔جسے 14 اگست 2021 کے موقعہ پر ڈاکٹر فیصل خان کے قلم سے فورم پر پوسٹ کیا جارہا ہے ۔ اس کی پہلی قسط فری سیکشن میں بطور تعارف مکمل کی جائے گی ۔ اور دوسری قسط سے یہ سیئریل ناول پیڈ فائل کے طور پر دستیاب ہو گا۔۔ فری ممبرز کو چونکہ اس سلسلہ تک رسائی حاصل نہیں ہو گی ۔ اسی لیئے اس کے کچھ صفحات بطور تعارف یہاں پوسٹ کیئے جا رہے ہیں۔اپنے کمنٹس سے ہمیں آگاہ کریں کہ آپ کو یہ سلسلہ کیسا لگا۔تمام ممبران کو فورم کی طرف سے جشن آزادی مبارک ہو۔
  5. بہت عمدہ جناب۔ بس ذرا فونٹ کا مسلئہ ہے کہ اس کو پڑھنا دشوار ہو رہا ہے۔ باقی کہانی زبردست ہے۔
  6. اس کے بعد دو اقساط شائع ہو چکی ہیں۔ ایڈمن آپ کو طریقہ کار بھیج دیں گے۔
  7. بہت جلد ہی آپ لوگوں کے سامنے کھپرو کی ملکہ کی نئی قسط شائع ہو گی۔ انتظار کیجیے نئی سنسنی خیز قسط کا۔
  8. میں کم و بیش دس سال سے لکھ رہا ہوں اور اب ایسا لگتا ہے کہ لکھنے کا مزید کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں ایک انتہائی مصروف انسان ہوں کیونکہ بےشمار پیشہ ورانہ مصروفیات ہیں مگر ایک سلسلہ اور لکھنے کا جو رشتہ بنا تھا، اس کو قائم رکھنا میں نے خود پہ ازخود فرض کر رکھا تھا۔ ہونے یہ لگا ہے کہ اتنی محنت اور اپنے آرام کے لیے مختص وقت سے گھڑیاں چرا کر جب میں کچھ لکھتا ہوں تو وہ ڈیٹا چوری کر کے دوسرے ممبران کو بیچا جاتا ہے۔ اب تو خود مجھے بھی بیچا جانے لگا کہ میں خرید لوں اگر پڑھنا چاہوں تو۔ ایسی چوری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ لکھنا ہی بند کر دیا جائے۔ان لوگوں کو جب نیا کچھ ملے گا نہیں تو کہانی آگے کیسے بڑھے گی؟ یوں ایک نہ ایک دن ان کا چرایا ڈیٹا بےسود ہو جائے گا۔ میں اس فورم کے لیے لکھ رہا ہوں اور لکھتا رہوں گا بس شئیر نہیں ہوگا جب تک کہ ہمیں ایس ممبران نہیں مل جاتے تو اردوفن کلب کے سب سے قریبی رفقا ہیں اور وہ ایسے چوری ڈیٹا کی بجائے یہیں پہ کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔تمام نیا ڈیٹا انہی سے شئیر کیا جائے گا۔ شکریہ
  9. ارے بھائی اتنا غصہ؟ کیا ہو گیا جناب؟ بات دراصل یہ ہے کہ جناب ایڈمن ان دنوں پردیس کی اپڈیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کل سے سفر میں ہیں ۔ میں اور وہ بھی فورم کی بجائے واٹس ایپ پہ رابطے میں ہیں۔ تاخیر کے لیے معذرت، پریشان مت ہوئیے، کہانی ملے گی اور اگر نہ ملی تو میں خادم ہوں آپ کا میں آپ کو کہانی دینے کا پابند ہوں۔
  10. کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا میں کرونا وائرس کو عالمی وبا کا درجہ دیا جا چکا ہے۔ کرونا وائرس سے ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی کرونا وائرس آ چکا ہے اور بدقسمتی سے ہم اس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ عوام میں سنجیدگی اور شعور کا فقدان ہے۔ یہ تھریڈ اس لیے شروع کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے متعلق معلومات کو یہاں شئیر کیا جائے تاکہ سبھی لوگ اس سے رہنمائی حاصل کر سکیں اور اپنے بچاؤ کی کوشش کریں۔ کرونا وائرس ایک وائرس ہے اور دنیا میں وائرس کی کوئی دوا نہیں ہوتی۔ وائرس کے خلاف جسم میں قدرتی طور پہ قوت مدافعت ہوتی ہے اور جسم خود سے اس سے صحت یاب ہو جاتا ہے۔ وائرس کے خلاف صرف ویکسین تیار ہوتی ہیں جن میں وائرس کمزور،غیر فعال یا مردہ حالت میں ہوتے ہیں۔ ان کو جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ جسم کو وائرس کے لیے تیار کرتے ہیں اور بیماری آنے سے قبل ہی جسم کو بیماری کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے پہ مجبور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ کمزور،مردہ یا غیر فعال ہوتے ہیں تو بیماری نہیں پیدا کرتے۔ کرونا کا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس ہے جو کہ کم و بیش ایک سو سال سے پایا جاتا ہے اور ہمیں فلو جیسی علامات سے دوچار کرتا ہے۔ جس سے ہم صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ وائرس بھی باہمی اختلاط سے اپنی ہیت تبدیل کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر پچھلی تمام اینٹی باڈیز غیر موثر ہو جاتی ہیں۔ جسم میں ان کے خلاف کوئی قوت مدافعت نہیں ہوتی تو جسم صحت یاب نہیں ہو پاتا۔ کرونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟ خوش قسمتی سے کرونا وائرس ہوا میں نہیں ہوتا،کم ازکم ابھی کی تحقیق سے یہی ثابت ہوا کہ کرونا رابطے سے پھیلتا ہے۔ رابطہ یعنی وائرس جسمانی رابطے سے ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو، ہاتھ ملانے،چھونے یا بیمار شخص کے لعاب،کھانسی یا چھینک کے چھینٹوں سے یہ ایک فرد سے دوسرے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے وائرس ایک ہاتھ سے دوسرے تک چلا جاتا ہے۔اگر ہاتھ کو دھو لیا جائے،قبل اس کے ہاتھ کو منہ ،ناک یا آنکھ تک لے جایا گیا ہو تو وائرس کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔ اسی طرح ایک متاثرہ شخص کی کھانسی کو اگر ماسک سے ڈھانپا ہوا ہو تو بھی وائرس منتقل ہونے سے بچ جائے گا۔ یہ کام کیونکہ مشکل ہے کیونکہ متاثرہ شخص کھانس کر یا چھو کر ہر چیز کو وائرس زدہ کر دے گا اور ان چیزوں کو جو جو چھوئے گا وہ بھی اس وائرس کو منتقل کر لے گا۔ اسی لیے سماجی رابطے سے گریز ہی اکلوتا حل ہے۔ جو جو فرد اپنے اندر کرونا والی علامات محسوس کرے وہ خود کو اکیلا کر لے تاکہ اس کی ترسیل کا باعث نہ بنے۔ جب سانس لینے میں دشواری محسوس ہونے لگے تو اس کا ٹیسٹ کروائیں۔ ہر انسان دن میں بار بار ہاتھ دھوئیں، ہاتھوں کو بیس سیکنڈ تک ملیں تب پانی بہائیں۔ہاتھوں کو منہ،آنکھ اور ناک سے دور رکھیں۔ سینی ٹائزر کا استعمال کریں۔ اگر دستیاب نہ ہو تو ڈیٹول،صابن،سرکہ اورسپرٹ کو مکس کر کے بنا لیں۔ سینی ٹائرز سے ہر اس سطح کو صاف کریں جہاں آپ کے ہاتھ لگتے ہوں جیسے دروازے کا ہینڈل، گاڑی کا سٹیرنگ،ہینڈل،گئیر اور دیگر ہر وہ جگہ جس پہ ہاتھ لگتے ہیں۔ عمومی طور پہ وائرس کسی سطح پہ زیادہ دیر یعنی چند منٹوں سے گھنٹوں تک ہی زندہ رہ پاتا ہے تو ایسی چیزوں کو بھی سینی ٹائزر سے صاف کریں۔ ہم ایک گنجان آباد ملک کے باشندے ہیں،اس لیے جہاں تک ممکن ہو خود کو اکیلا کر لینے ہی سے بچت ممکن ہے۔باہر سے آتے وقت ہاتھوں کو دھوئیں،جس جس چیز کو چھوا ہے،اس کو سینی ٹائز کریں، جو سامان لائے ہیں، اس کو صاف کریں۔بچوں کو چھونے سے گریز کریں۔بزرگوں سے فاصلہ کریں،ان کو محفوظ رکھیں۔ اجتماعات سے سختی سے گریز کریں۔ اس سلسلے میں کوئی سوال ہو تو یہاں پوچھ سکتے ہیں۔
  11. جمعے کو پردیس کی اپڈیٹ کرنے کے بعد ہم آہستہ آہستہ باقی سلسلوں پہ بھی کام کریں گے۔
  12. میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ حالات خاصے بدل چکے ہیں۔ اب یہ ممکن نہیں رہا کہ کسی کو بھی اٹھا لیں اور زیادتی کر دیں۔ مگر یہ ضرور ہے کہ طاقتور کی طرف سے کمزور کے ساتھ ایسی ناانصافی ہر جگہ ہوتی ہے۔ اس کا شہر یا گاؤں ،سندھ یا پنجاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں نے کہانی کو سندھ کے پس منظر میں بہت پرانے وقت میں دکھایا ہے جب تعلیم شعور اور آگاہی نہیں تھی۔ وڈیرہ نظام عروج پہ تھا،کہانی کے اختتام پہ آپ وڈیرہ شاہی نظام میں دراڑیں محسوس کریں گے۔ انسانی حقوق کی پامالی ہمارے ہاں بہت کامن سا معاملہ ہے اور اس کی پامالی پڑھے لکھے سلجھے لوگوں سے بھی سرزد ہوتی ہے کیونکہ ہم شاید حقوق کو سمجھتے بھی ٹھیک سے نہیں ہیں۔ کہانی میں ہم نے کئی چیزیں بڑھا چڑھا اور غیرمعمولی بھی ظاہر کی ہوتی ہیں کیونکہ چھوٹے کینوس پہ سب کچھ پینٹ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر برا ہو رہا ہے تو ایک ہی انسان کے ساتھ اور اگر ہو رہا ہے تو بھی ایک ہی انسان کے ساتھ لگاتار اور لمبی قطار در قطار واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ مشکل کہانی ہے اور چونکہ کردار مختلف ہیں تو ان کو ایک جگہ یکجا کرنا اور ان سب کا آپس میں کوئی تعلق نہ ہوتے ہوئے بھی تعلق کی گنجائش بنا کر لکھنا مشکل کام ہے۔ مگر ہم کوشش کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جس معیار کا ہم نے سوچا ہے وہ بنا بھی پائیں۔
  13. بھائی ابھی تو میں نے مشکل سے دس صفحے لکھے ہوں گے۔ 100 میں وقت لگے گا اور جلد ہی پوسٹ کروں گا۔
  14. یہ ایک راز ہے کہ ماروی کا کیا ہوا؟ وہ کہاں گئی اور اس کا کیا ردعمل ہو گا۔ اس کا ذکر اگلی قسط میں ہو گا اور ایک جملہ جو کبھی رجو نے کہا تھا اس کی بنا پہ آپ جان سکتے ہیں کہ ماروی کے کہاں ہونے کے امکانات ہیں۔ جس وقت زمان سمیجو اور سلام سمیجو یہ کام کر رہے تھے،غلام سمیجو منظر عام سے غائب تھا اور تب آیا جب ملکہ فرار ہوئی۔ ان سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔
  15. کیونکہ وہ بہرام کو قتل کر چکے تھے اور اگر بہرام کے ساتھ ماروی کا نام جوڑتے تو بدنام ہوتے،اگر نوشاد کا نام جوڑتے تو کھوڑو دشمن ہو جاتے اور بہرام کا قتل ناحق ہو جاتا۔ اس لیے بہرام کے قتل کا جواز ملکہ اور بہرام کا جھوٹا معاشقہ بنایا گیا
  16. ارے جناب اگر میں اتنا آگے کا نہیں سوچوں گا تو آپ کیوں میری کہانی پڑھنا چاہیں گے۔ اس لیے کہانی کو قاری کی سوچ سے بالکل مختلف ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کم از کم دس سے بارہ اقساط آگے تک سوچنے کے بعد لکھنا ہوتا ہے۔ اب کہانی لکھنے سے پہلے ہی کل کی قسط میری ذہن میں تھی۔ بس واقعات اور کرداروں کو یکجا کرنا تھا اور ان کو اس نہج پر لانا تھا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.