Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

DR KHAN

Co Administrators
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by DR KHAN

  1. بھائی آج میں نے چار سلسلے اپڈیٹ کیے۔ کسی کے آٹھ،کسی کے سات اور کسی کے چار صفحات اپلوڈ کیے۔ سب کو تھوڑا تھوڑا سا اپڈیٹ کیا باقی کل۔
  2. اس کا جواب آپ کو جناب ایڈمن تفصیل سے فراہم کر دیں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ آہنی گرفت سے ابتدا کریں کیونکہ وہ مکمل ہے۔
  3. پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ ہماری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ کہانی کا مقصد سیکس نہ ہو بلکہ کوئی نہ کوئی سنجیدہ موضوع ہو۔ کوئی نفسیاتی مسلئہ، کوئی کوتاہی، کوئی غفلت، کوئی نظام یا کوئی سسٹم۔ سیکس کہانیوں میں ایکشن کا تڑکا بھی سب سے پہلے ہم نے ہی لگایا تھا اور اس کے بعد کافی سلسلے شروع ہوئے۔ بیوروکریسی پہ بھی سب سے پہلے ہم نے ہی لکھا اور آہنی گرفت مکمل ہو چکی ہے۔ گلی کوچوں کی نظرانداز کی جانے والی چیزوں کا متوسط طبقے کی ڈھکی چھپی ننگی سچائیوں کو ہم نے ہوس میں موضوع بنایا۔ اس بار ہم نے سندھ میں رائج وڈیرہ شاہی نظام پہ لکھا ہے۔ اگلا موضوع ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ یعنی سیکس سبھی میں ہے اور ہو گا مگر اس کو پیش کرنے کا انداز جدا ہو گا۔ جو جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔
  4. اصل میں کہانی کا ٹیمپو سلو نہیں ہے کہانی کے یہ ابتدائی مراحل ہیں۔ کہانی میں مختلف کردار یکجا ہو رہے ہیں۔ سب کی نفسیات، شخصیت اور کردار واضع ہو جائے گا۔ جیسے ملازماؤں کی حیثیت، وہ جنسی غلام ہیں اور اگر کوئی طاقتور اور جی دار مرد مل جائے تو اس کا بچہ پیدا کرنے کی مشین بھی ہیں۔ہاریوں کے ساتھ زورزبردستی کرنا تو نہایت عام بات ہے اور ان کی زندگیوں پہ حکمرانی کرنا حق سمجھا جاتا ہے۔ کسی کی بھی عزت محفوظ نہیں اور اپنے کھیل تماشوں کے لیے کسی کے بھی جسم کو بھنبھوڑا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرے گا کہانی کی ایک سمت بن جائے گی۔
  5. کسی کی کہانی کو لکھنے کے لیے اسکے ہر کردار کی نفسیات کو سمجھنا ہوتا ہے۔ جیسے سندھ میں یا اکثر دیہات میں برہنہ ہو کر سیکس کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ بتی بجائی جاتی ہے تاکہ بےحیائی کا کام بھی حیا سے کیا جائے۔ اسی طرح کئی عورتوں کی نفسیات میں کوئی عمل بےحیائی کی سند بن جاتا ہے۔ جیسے کروانا ٹھیک ہے بس روشنی میں گناہ ہوتا ہے۔یا وہ کر لے تو ٹھیک میں کروانے لگوں تو گناہ۔ اسی طرح وہ میرے کپڑے اتارے تو اس کا فعل،میں خود جو سیکس کے لیے ننگی کر دوں تو گناہ کبیرہ۔ اسی کہانی میں سدو سیکس پہ نہیں شرماتی مگر چومنے پہ اسے شرم آتی ہے۔
  6. جناب پسندیدگی کا شکریہ۔ ہماری اپنی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ جو لکھیں منفرد ہو،جامع ہو اور ایکسکلوزیو ہو۔ یقین مانیں کہ کسی موضوع پہ لکھنے سے پہلے ہمیں اس پہ ریسرچ کرنا ہوتی ہے،اس کو سمجھنا ہوتا ہے اور پھر جا کر مطلوبہ نتائج ملتے ہیں۔ باذوق قاری اس کو پسند کرتے ہیں مگر ابھی کئی حضرات ایسی آپ بیتی پسند کرتے ہیں جو بس سیکس پہ تکیہ کیے ہو۔ بہرحال ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ باذوق قاری ہمارے سبھی سلسلوں کو پسند کرتے ہیں۔
  7. نیو اپڈیٹ کچھ مستقل قاری حضرات ہی کمنٹ کرتے ہیں اکثر تو یونہی چلے جاتے ہیں۔ جناب خیر ہے کیا ہم کسی اور طرف دھیان دیں؟
  8. جناب ضرور آتا اگر کہیں گنجائش بنتی۔ فی الحال تو کہیں جگہ نہیں تھی مگر بےفکر رہیں ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
  9. دیکھیں کہانی لکھنا ایک بڑا مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ کوئی بھی رائیٹر اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ مصروفیات سے وقت نکال کر نجانے کتنی سطریں یا صفحات لکھتا ہے اور وہ اس نے کیسے لکھے ہوتے ہیں وہ وہی جانتا ہے۔ ایسے میں جب اول تو کمنٹ ہی نہ ہو اور جو ہوں وہ بھی صرف اور صرف اپڈیٹ کرنے کے لیے اصرار کرتے ہوں یا طعنے دینے کے لیے تو رائیٹر سوچتا ہے کہ مجھے کیا ضرورت ہے محنت کر کے باتیں سننے کی۔ چھوڑو اسے اور بس کہانیاں پڑھنے پہ اکتفا کرو۔ میں دس سال میں کم و بیش پچاس ایسے رائیٹرز کو جانتا ہوں جو کہانیاں لکھنا ترک کر چکے ہیں۔ صرف ایک یا دو ایسے ہیں جو سالوں سے مستقل مزاجی سے لکھ رہے ہیں۔ باقی سبھی غائب ہو چکے۔ اس لیے اگر کوئی اپنی سہولت کے مطابق لکھ سکے تو بہت اچھی بات ہے۔ نہ لکھ سکے تو ہماری طرف سے اس کو کوئی سرزنش نہیں ہے۔ کیونکہ ہم انجان ہیں کہ وہ کن مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ ممبران کو بھی نامناسب الفاظ اور القابات سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
  10. آپ کے طویل تبصرے کا بہت شکریہ۔ سب سے پہلے تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ آپ نے کم از کم دس سال پرانی کہانی کا حوالہ دیا جو میں نے لکھی تھی۔وہ تین کہانیاں کے نام سے سلسلہ تھا۔ اس میں سندھ پہ دو کہانیاں تھیں،ایک ونی کی جانے والی لڑکی پہ لکھی گئی تھی کہ جسے ایک عورت کے شوہر کے قتل کے عوض اس کے ایک سالہ بیٹے سے بیاہ دیا جاتا ہے۔ وہ گزربسر کرنے کے لیے اپنی بہو سے جسم فروشی کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ دوسری کہانی تھی جس میں ایک لڑکی اپنے منگیتر کے ساتھ دیکھی جاتی ہے اور تصور یہ کیا جاتا ہے کہ وہ دونوں زنا کاری کر رہے تھے، جس کی تصدیق کے لیے وڈیرہ پورے گاؤں کے سامنے اس کا کنوارہ پن ختم کر کے گواہی دیتا ہے کہ اس پہ لگا الزام جھوٹا تھا۔ یہ کہانی ہم نے اسی لیے لکھی ہے کہ سندھی کہانیوں یا سندھ کے پس منظر کی کہانیاں کم ہیں۔ پردیس میں تو سندھ کا تفصیلی ذکر ہے مگر عام کہانیوں میں کم وبیش میں سندھ کی ہوتی ہے۔ باقی ہم یہ مہینوں والا سلسلہ بھی ختم کر رہے ہیں اور اپڈیٹ کی ایک مقررہ مقدار کے مطابق اس کی ایک قیمت ہو گی جسے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔ باقی ہر وڈیرے کا کردار جدا ہے اور آپ سبھی کو یقیناً یہ سلسلہ پسند آئے گا۔ یہ سلسلے جوا ہوتے ہیں، ہم نے پردیس،ہوس،آہنی گرفت کا جوا کامیابی سے جیتا ہے تو ہمارے کچھ سلسلے قارئین کو اچھے نہیں بھی لگے۔ مگر ظاہر ہے ہمیں نت نئی چیزوں کو ٹرائی تو کرنا ہی ہے۔
  11. آج ہماری سیریل آہنی گرفت مکمل ہو گئی ہے اور اس کی آخری اپڈیٹ پوسٹ کی جا چکی ہے۔ اس کی جگہ اب کپیرو کی ملکہ لے لے گی۔ امید ہے قاری اس کو پسند کریں گے۔
  12. کہانی میں اب تک صرف وڈیروں کا تعارف ہوا تھا۔ کئی مختلف وڈیرے دکھائے گئے سب کی فطرت جدا مگر کچھ عادات ایک جیسی تھیں جیسا کہ دوسروں کی زندگیوں کو اپنی ملکیت سمجھنا۔ کوئی جابر ہو کر جابر تھا تو کوئی مکار ہو کر تو کوئی مہربان ہو کر۔ دھیرے دھیرے کہانی بڑھے گی تو سب راز فاش ہوں گے۔
  13. نیو اپڈیٹ بڑی مشکل سے ایک اپڈیٹ لکھ پایا ہوں
  14. میں اس کی اپڈیٹ ایک ساتھ لکھوں گا۔ بیس سے آگے میں مکمل اسی کی اپڈیٹس دوں گا۔ اس وقت آہنی گرفت پہ کام کر رہا ہوں۔اس کی اپڈٹ دے کر ہم نے اس کی اپڈیٹس ہی دینی ہیں۔ پچھلا پورا ہفتہ بہت مصروف گزرا ہے۔اس ہفتے امید ہے کہ کام سمیٹ لوں گا۔
  15. آج میں نے لکھنا شروع کیا ہے۔ امید ہے کہ شام تک میں کسی نہ کسی سلسلے کی ایک اپڈیٹ دے دوں گا۔
  16. جس جگہ انصاف ختم ہو جائے اس جگہ غربت اور ظلم جنم لیتا ہے اور یہی ہماری ثقافت کی تنزلی ہے۔ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کی تاریخ تو یہی ہے۔
  17. پردیس کی اپڈیٹس کے بعد اس کی اپڈیٹ ہو گی
  18. جناب 13 صفحے بھولی داستان کے بھی پوسٹ کیے ہیں
  19. ایک بات میں یہاں بیان کر دوں کہ سندھی زبان میں میرا ہاتھ کچھ تنگ ہے۔ ہمارے قاری دوست عمرو عیار اور عرفان جانی میری مدد کر رہے ہیں۔جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔ اگر کہیں مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے یا کوئی لفظ میں غلط معنی میں استعمال کر جاؤں تو میری تصحیح فرما دیں۔ شکریہ۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.