Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 17/10/22 in all areas

  1. استاد محترم جناب ڈاکٹر فیصل خاں صاحب آپکی توجہ درکار ھے؟.....
  2. سوری جینی کا سایزٔ تھا۔ ۳۴-۲۷-۳۲ 34-27-32 فگر تھا جینی کا۔ اور قد بھی ٹھیک تھا۔ میں نے جینی کا کس کیا ۔ اس کا فرسٹ ٹامٔ تھا اور کس کرنے سے ہی اس بات کا پتا چلا رھا تھا۔ ۔کچھ وقت جینی کے ساتھ گزرا کس کی جسم پر ھاتھ لگایا۔ اس سے آگے جینی نے جانے نہی دیا ۔ اس کے روم میٹ کے آنے کا وقت ھو گیا تھا۔ اس لیے ھم دونوں باتیں کرنے لگے۔ جینی اپنے بار باتنے لگی۔ اس کا کام تھا کے ایف سی پروایڑ تھی۔ کچھ وقت گزرا ھو گا اس کی روم میٹ آ گی۔ اور ساتھ میں کھانا بھی لے کر آئی تھی۔ اس کی دوست بھی پیاری تھی ۔ لیکن جینی سے کم ہی تھی ۔ اس کے بعد میں اجاذات لے کر اپنے روم کی طرف واپس چل پڑا۔ جینی سے فرسٹ ملاقات اچھی رہی ۔ پھدی نھی ملی لیکن امید تو تھی کے جلد ہی جینی میرے نیچے ھو گی۔ پھر کچھ دن کچھ بھی نھی ھوا توبا سے بات ھوتی تھی ۔ مجھ کو بہت مس کرتی تھی میں بھی اس کو بہت مس کرتا تھا پردیس میں رہنا کون سا آسان ھے اپنا اپ کو مارنا پڑتا ھے کچھ دن بعد پھر سے جینی کے روم جانے کا پلان بنا ۔ آج جاتے ہی میں نے جینی کو پکڑ لیا۔ جینی کوبیڈ پر گرا کر اس کو کس کرنا شروع کر دیا۔
  3. لڑکی کا نام جینی تھا ۔ تھوڑا سا اس کا تعارف کر دو ۔ قد5:8 اور سلم اور سمارٹ تھی۔ میرا جینی کی طرف دوستی کر کی وجہ اس کی جسم کی بناوٹ اور قد تھا۔ کیوں کہ یہ میرا آڈیل تھا۔ میں پورے وقت پر اس کہ روم کے باہر کھڑا تھا۔ بیل دی اور اس کے دو یا تین منٹ تک کسی نہ گیٹ نہی کھولا۔ میں جانے کا سوج ہی رھا تھا کہ جینی نے دروازہ کھولا۔ سوری فار وایٹ آئ ایم گڈنگ شاور سوری فار وایٹ۔ اب میں ساری باتیں اردو میں لکھتا ھوں جینی مجھ روم میں لے گی۔ میرے لیے پانی لے کر آئ اور ہم دونوں ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ کیا کام کرتے ھو کسی ملک سے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وقت تک میں نے انتظار کیا۔ اس کے بعد جینی کا ھاتھ پکڑ لیا۔ جینی نے کچھ بھی نہی کہا بس ایک بات بولی ۔ میں نے آج تک کبھی سکس نہی کیا۔ میں کنواری ھوں جینی کی بات سن کر مجھ کچھ حیرنی ھوئ۔ لیکن میں نے کچھ ذیادہ شو نہی کروایا۔ بس اتنا بولا کوئی بات نہی کسی نا کسی دن تو سکس کرنا ہی ھیں نا جب دل ھو بتا دینا۔ جینی بولی میں تم سے پیار کرنے لگی ھوں اس لیے میراجسم سارا کا سارا تمھارا ھے جب دل ھو میرے ساتھ کر لینا۔ لیکن کچھ بھی ھو جاۓ میں شادی نہی کر سکتی ۔ میں نے بھی بولا ٹھیک ھے پھدی نا دو ابھی لیکن کچھ پیار تو کر دو۔ اس بات پر اس نے کہا ٹھیک ھے۔
  4. Yar bahi update to jaldi da diya kro phala ki trha
  5. (22) میں نے اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس کھینچا اور ساتھ لپٹاتے ہوئے بولا:راجی تم بلکل بے فکر رہو اطمینان سے ان لمحات کا مزہ لو یہ کہتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹوں پر جھکتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔ جبکہ چھیمو نیچے سے میرا لن منہ میں لیکر چوپے لگانے لگی۔۔۔میرے ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے ہی راجی کے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا اور اس نے بھی بھرپور انداز میں میرا ساتھ دیتے ہوئے اپنے منہ کو کھول کر میری زبان کو ویلکم کیا اور میری زبان چوسنے لگی۔ ادھر نیچے سے چھیمو بڑے سٹائل سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔راجی نے آہستہ سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور اٹھ کر بیٹھتے ہوئے چھیمو کے چوپے دیکھنے لگی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھلی ہوئی تھیں۔۔۔اور وہ بڑی حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔میں بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے چھیمو کا منہ پکڑ کے اپنا لن اندر ڈال کر اس کے منہ کو بڑے پیار سے چودنے لگا۔ راجی کا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا اور اس کا دل چاہنے لگا کہ کاش یہ لن اس کے منہ میں آ جائے اور دھیرے دھیرے پیار سے اس کے منہ کو چودتا رہے۔ میں نے جیسے اس کے من کی بات پڑھ لی۔۔۔کیونکہ مجھے راجی کی آنکھوں میں لن کی بھوک واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔میں نے چھیمو کے منہ سے لن نکالا اور ہلکا سا رخ موڑتے ہوئے لن راجی کی طرف کیا تو لن اس کے ہونٹوں کے بلکل پاس آ گیا۔ اس کی خواہش پوری ہو رہی تھی۔۔۔اس نے بڑے پیار سے ہونٹوں سے میرے لن کی ٹوپی پر کِس کیا اور اپنا منہ کھول کر لن کو منہ میں لینے لگی۔ میرا موٹا لن اس کے منہ کو کھولتے ہوئے اس کے منہ میں گھستا چلا جا رہا تھا۔۔۔تب میں نے راجی کے سر کو اور بالوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور بڑے پیار سے اس کے منہ کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر جب میں نے لن باہر نکالا تو اس نے اپنے ہونٹوں کے ساتھ گرِپ کرتے ہوئے میرے لن کی ٹوپی کو جھکڑ لیا اور اپنی زبان کی نوک سے میرے لن کے سوراخ پر چھیڑخانی کرنے لگی۔۔۔لن کے سوراخ میں زبان کی نوک محسوس کرتے ہی میرے منہ سے سسکاری برآمد ہوئی۔ میں نے چھیمو کو دیکھتے ہوئے لن کی طرف اشارہ کیا تو وہ آگے بڑھ کر میرے لن کو سائیڈوں سے چاٹنے لگی۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کو راجی کے منہ سے باہر نکالا اور دونوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا کر ان کے منہ آپس میں ایسے جوڑ دیے۔ یوں لگتا تھا کہ وہ آپس میں کس کر رہی ہیں۔۔۔پھر میں نے اپنا لن دونوں کے ہونٹوں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے ہلتے ہوئے ان کے ہونٹوں کو چودنا شروع کر دیا۔۔۔پھر میں نے باری باری لن دونوں کے منہ میں ڈال کر دو دو گھسے لگانے شروع کر دیے۔ ایک بار جب میں نے لن چھیمو کے منہ سے باہر نکال کر راجی کے منہ میں ڈالا تو وہ اتنی بری طرح خوار ہو چکی تھی کہ لن کو منہ میں لیتے ہی وہ ماہر رنڈی کی طرح چوپے لگانے لگی۔ میں نے بھی زور لگا کر لن کو راجی کے حلق تک پہنچانا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن کی ٹوپی نے راجی کے حلق میں ڈبکی لگائی ایسا لگا کہ میں کسی اور ہی جہان میں آ گیا۔۔۔اس کا حلق اتنا نرم اور ملائم تھا کہ مانو جیسے لن کسی نرم،ملائم اور گرم پائپ میں پھنس گیا ہو۔ میں نے چار پانچ دفعہ راجی کے حلق تک لن پہنچایا اور پھر لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔ دل میں سوچا کہ بس اتنا بہت ہے کہیں اس کے حلق میں ہی نہ چھوٹ جاؤں اور باقی کا پروگرام دھرے کا دھرا رہ جائے۔۔۔اس لیے اب اصل کام پھدی اور گانڈ کی چدائی کی طرف آنا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے چھیمو کی طرف دیکھا تو وہ اپنے مموں کو دباتے ہوئے ٹانگیں کھول کر اپنی پھدی کو مسل رہی تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ میری طرف ہوس بھری نگاہوں سے دیکھتی جا رہی تھی۔ میں نے ٹانگیں کھول کر بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لی اور چھیمو کو اپنی طرف کھینچا۔ چھیمو اٹھی اور الٹی طرف منہ کر کے دھیرے دھیرے میرے لن پر بیٹھ گئی۔۔۔جبکہ راجی میری ٹانگوں کے درمیان الٹی لیٹ گئی۔ جیسے ہی چھیمو نے لن پھدی کے اندر لیکر اوپر نیچے ہونا شروع کیا تو راجی میرے لن کے ساتھ ساتھ چھیمو کی پھدی کو بھی چاٹنے لگی۔ میں بھی نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد چھیمو میرے اوپر سے اٹھی اور راجی کو اٹھا کر میرے لن پر بٹھا دیا۔۔۔اور خود راجی کی جگہ آ کر میرے لن کے ساتھ ساتھ راجی کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔ (23) میں اب نیچے سے زور زور سے دھکے مار رہا تھا جبکہ راجی کے اچھلنے کی رفتار بھی بڑھتی گئی۔ کچھ دیر بعد ہی راجی کا جسم اکڑنا شروع ہوا ساتھ ہی اس کی آنکھیں نیم بیہوشی کی کیفیت میں بند ہونے لگیں۔۔۔اس نے آگے ہو کر چھیمو کو پیچھے ہٹایا اور اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں اور پھدی سے میرے لن کو جھکڑتے ہوئے گانڈ اٹھا اٹھا کر زور زور سے میرے لن کو چودنا شروع کر دیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اس کی پھدی سے گرم گرم منی میرے لن پر گرنا شروع ہو گئی۔ راجی کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور اس کی ٹانگیں بری طرح سے کانپ رہی تھیں۔۔۔اچانک اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ نڈھال ہو کر وہیں اوندھی ہوتی چلی گئی۔ میں بھی لن کو پڑنے والے کھچاؤ کے سبب اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب چھیمو نے دیکھا کہ راجی پوری طرح سے فارغ ہو گئی ہے!!!تو اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور اٹھ کر سامنے موجود میز کے ساتھ جھک گئی اور اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مجھے بلانے لگی۔ ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو پکڑ کر مخالف سمتوں میں پوری طرح سے کھول دیا۔ میں نے چھیمو کا بلاوہ دیکھا تو اپنا لن راجی کی چپچپاتی پھدی سے باہر نکالا اور اٹھ کر چھیمو کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان رکھ کر اس کی کمر کر پکڑ لیا۔۔۔چھیمو کو جب میرا لن اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہوا تو بے اختیار مزے کی آہہہہہ اس کے منہ سے نکل گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اپنا لن ہلا ہلا کر اس کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑتا رہا۔۔۔تو چھیمو نے اپنی گانڈ تھوڑی سی اور باہر نکال دی۔ میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن پھک کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں گھس گیا۔ میں نے چھیمو کی کمر پکڑ کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چھیمو پہلے ہی بہت گرم ہو چکی تھی۔ میرے سٹارٹ لیتے ہی اس نے منہ سے سیییییی کی آواز نکالی اور بڑی تیزی سے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔میں نے دو منٹ تک اس کو اسی پوزیشن میں چودا۔۔۔وہ پہلے ہی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔ اور وہ پوری جان سے اپنی گانڈ کو میرے لن پر دباتے ہوئے بولی۔۔۔ہائےےےےے کمال ل ل میں گئییییییہی۔ ساتھ ہی اس کے جسم کو جھٹکے لگنے لگے اور اس کی پھدی سے نکلنے والی پھوار میں واضح اپنے لن پر گرتی ہوئی محسوس کر رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا چند سیکنڈ بعد جب وہ ٹھندی ہو گئی تو اس نے آگے ہو کر میرا لن باہر نکالا اور میرے پاؤں میں بیٹھتے ہی میرا لن جو کہ اس کی منی سے لتھڑا ہوا تھا اس کو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر صاف کرنے لگی۔ میں ابھی تک نہیں چھوٹا تھا جبکہ دونوں لڑکیاں اپنا پانی نکال چکی تھیں۔ اچانک جیسے میرے دماغ میں کلک سا ہوا تو مجھے کچھ یاد آ گیا۔ میں نے چھیمو کو پکڑ کر اٹھایا اور بازو سے کھینچے ہوئے بیڈ پر راجی کے پاس لے آیا جو کہ بیڈ پر لیٹی دو انگلیاں اپنی پھدی کے اندر باہر کر رہی تھی۔ میں نے چھیمو کو بیڈ پر لٹا کر راجی کو اس کے اوپر گھوڑی بننے کر کہا تو راجی اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔ چھیمو نیچے سے تھوڑا کھسک کر اپنا منہ اس کی پھدی کے عین نیچے لے آئی اور اس کی پھدی کے دانے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ راجی کے منہ سے سیییییی کہ آواز نکلی اور وہ اپنی گانڈ دبا دبا کر پھدی چٹوانے لگی۔ میں نے ایک تکیہ اٹھا کر چھیمو کے سر کے نیچے رکھا اور راجی کو کمر سے پکڑ کر تھوڑا گانڈ اوپر اٹھانے کو کہا۔۔۔اس نے اپنی گانڈ اوپر اٹھائی تو اس پوزیشن میں راجی کی گانڈ چِر کر باہر کی طرف کھل گئی۔ راجی کی گانڈ کا سوراخ ڈارک براؤن رنگ کا تھا۔۔۔سوراخ کافی کھلا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے کافی سارا تھوک راجی کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا اور اچھی طرح انگلی سے اس کی گانڈ کے سوراخ کو نرم کرنا شروع کر دیا۔ گانڈ کے سوراخ پر انگلی لگتے ہی راجی نے سر گھما کر میری طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آمادگی کے آثار نظر آئے۔۔۔اچھی طرح سے سوراخ نرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ایک گھٹنا چھیمو کے کندھے کے پاس بیڈ پر ٹکایا اور دوسرے پاؤں پر وزن سنبھالتے ہوئے اپنا لن راجی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن کی ٹوپی گانڈ کے اندر اترتی چلی گئی۔ آگے سے راجی کے منہ سے ہلکی سی اوں۔۔۔اوں۔ کی آواز نکلی۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔ اب راجی کی گانڈ کوئی کنواری تو تھی نہیں جہاں ٹائم لگتا۔۔۔اس لیے چند لمحوں کے بعد ہی پورا لن راجی کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔ حیرت کی بات تھی کہ ابھی بھی راجی کی گانڈ اندر سے ایسے ٹائٹ لگ رہی تھی کہ جیسے پہلے کبھی گانڈ کے اندر کچھ نہیں گیا۔ نیچے سے چھیمو نے راجی کی پھدی کو چومتے چاٹتے ہوئے اپنی تین انگلیاں اندر گھسائیں اور تیزی سے انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ چار منٹ کی بے درد چدائی کے بعد راجی مزے سے فل مدہوش آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔اگلے ہی منٹ میں راجی کی پھدی نے ہار مان لی اور پانی چھوڑنا شروع کر دیا تو اس کی گانڈ اور ٹائٹ ہوتی چلی گئی۔ جس سے مجھے اتنا مزہ آیا کہ چند سیکنڈ بعد ہی میرے منہ سے اوہ افففففف نکلا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔ یہ محسوس کرتے ہی راجی ایک دم آگے ہوئی اور میرا لن باہر نکل گیا۔ راجی بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوستے ہوئے چوپا لگانے لگی۔ اگلے سیکنڈ میں ہی میرے لن کی نسیں پھولنا شروع ہوئیں اور میں راجی کے منہ میں ہی فارغ ہو گیا۔ *************************
  6. 1 like
    Update 24 Thora hasi mazak mai din khtam hova us sy agly din sy ham ny apni plaining per kaam shru kr dia Dosri taraf papa mera pata lagany ki puri koshish kr rahy thy per us ko kuch pata nhi chal raha tha ham bhi apny plan k mutabik kaam kr rahy thy esi trhan 6 month guzr gay or ham apni manzil k boht kareb thy imran ko takrebn khali kar chuky thy or us k admion ko bhi khtam krty ja rahy thy es pury wakt mai mainy business bhi kia jo barta raha or itna barh gaya k puri business world mai badshah ka boht naam tha jis ki boht si companies thin per badshah kabhi khud kisi k samny nhi aya tha imran bhi pagalon ki trhan usy talash kar raha tha jis ny usy barbad kia Or sath hi wo badshah ki waja sy bhi prashan tha Q k badshah ny us ka sara busines bhi khtam kr dia tha ab wakt tha imran per final attack ka Main.atif ready ho Atif.es din ka to jab sy intzar tha ab mera badla pura ho ga Main.han ab kal imran ka last din hy Us rat main ali or baki logon k sath beta finak attack ki tyari kar raha tha Main.tum mai sy koi kisi shoter ko janta hy acha sniper Salem.han main janta hon 5 bandon ki aik team hy per Main.per kia Salem.per wo apni marzi sy kaam krty hain koi un ko force nhi kr sakta Main.hmmm ok kia un sy bat ho sakti hy abhi Salem.han ho sakti hy Main.ok un ko contect kro or milny k lia bulao abhi Salem.main keh deta hon Us k bad salem ny un ko call ki or milny k lia bulaya wo bari mushkil sy many milny k lia per maan gay aik ghanty bad wo mery samny thy L(Leader).bolo kis lia bulaya hy Main.mujhy aik aadmi ko marna hy or us k lia tumhri help chyiea L.kisy marna hy Main.imran ko janty ho L.kon imran Ali.imran ***** L.us harami ko to main khud marna chata hon Main.to kia tum mera sath do gy usy marny k lia L.han Q nhi Main.or aik bat L.kiaMain.agr mujhy tumhra kaam pasand aa gaya to tum ko kabhi kisi or k lia kaam krny ki zrorat nhi ho gi Admi.kia matlab Main.matlab k agr mujhy tumhra kaam pasand aa gaya to tum mery lia kaam kro gy tum ko har wo chez mily gi jis ki tum ko zrorat ho gi Aadmi2.matlab ham ko tumhri ghulami krni ho gi Ali.nhi ghulami nhi job L.thek hy mujhy manzor hy Main.ok Aadmi4.ya kia keh rahy ho bhai L.thek keh raha hon kab tak aisy kaam ķrty rahyn gy es trhan kanoon ki nazar mai bhi majrim ban rahy hain Aadmi2.thek hy jaisy ap ko thek lagy Main.ok ali tum pata lagao k imran kahan hy kal us ka akhri din hy Wait 4 next
  7. 1 like
    Bhai daily bada update dena possibal nahi hai phir bi aaj ek mega update aap k liye de diya hai
  8. دوستو ایک وقت میں دو سٹوری کو آگے بڑھا رھا ہوں اور ساتھ میں کاروباری گھرداری کی بھی ذمہ داری کو نبھانے کی وجہ سے اپڈیٹ میں تاخیر ھوجاتی ھے تو آپ ناراض مت ہونا ۔ شکریہ
  9. اچھی بات ہے کسی نے تو لکھنے کی ٹھانی۔ کہانی کا موضوع پرانا اور عام ہے مگر اب یہ رائٹر پر منحصر ہے کہ وہ کیسے اپنی تحریر سے اس عام سے موضوع کو خاص بناتا ہے کوشش کیجئیے گا کہ اپڈیٹ تواتر سے آتی رہے۔
  10. کہانی کئ ابتدا اچھی ہے اور ہمیں امید ہے کہ آگے بھی کہانی خوش اسلوبی سے چلے گی جیسے جیسے کہانی آگے جائے گی صورتحال واضع ہو جائے گی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.