-
(پیار پیار میں)
میرئ پوسٹ کیوں نہی ھو رہی۔
-
(پیار پیار میں)
جینی نے بہت ھی ذور کی سیُ۔۔۔۔ کی اور میرے لن کے اوپر پورا ھی لیٹ گی۔ کچھ دیر انتظار کر کے اپنے اپ کو ریلکس کیا اس کے بعد لن پر پھدی سے حملہ کر دیا ۔ جب جینی کو درد کا کوئی احساس نا رھا تو پھر تو جینی جنگلی بلی کی طرح پاگل ھو گی۔ اتنا ذور ذور سے اچھلنے لگی کے ۔ موموں کا ھلن اور ھی مزہ دے رھا تھا۔ کافی وقت جینی اپنی کنورای پھدی کی پیاس کو ٹھنڈا کرتی رھی۔ جب جینی کی پھدی نے اپنی پیاس کو بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اپنا سب سے پہلی چودائ کا پانی جو نکالا وہ میرے لن نے ہی نکالا ۔ جینی کے ساتھ ہی میں بہی ۔ او سوری کہنا تھا میرا لن بھی جینی کی پھدی کے ساتھ ہی فارغ ھو گیا۔ جب میں پھدی کے اندر سے لن نکالا تو اس پر میری اور جینی کی منی لگی ھوی تھی ۔ پھدی مرنے کے بعد مجھ کب سو گے کچھ یاد ہی نہی رھا۔ رات کو میری انکھ کھولی تو جینی بھی سو رھی تھی۔ بس جینی کا دیکھ کر میرا لن تو پھر سے کھڑا ھو گیا۔ جینی سوتی ھوئ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔ میں نے جینی کے موموں کو پھر سے منہ میں لے لیے۔ کچھ وقت میں ھی جینی بھی اٹھ گی۔ لکن اس نے مجھ کو منا نہی کیا۔ اور کرتی بھی تو میں نے کون سا چھوڑنا تھا ۔ بس لن نے پھدی دیکھی ہی تھی کہ پاگل کر دیا مجھ کو اس بار میں نے اوپر جا کر جینی کی لگس کو کھولا اور لن کو اندر کر دیا۔
-
(پیار پیار میں)
شکریا سرکار
-
(پیار پیار میں)
اس کے بعد بھی جینی سے کافی بار ملنے کا موقع ملا نہیں ملا تو بس پھدی نہی ملی تھی ابھی تک ایک دن کام سے آف تھی تو ھم دونوں نے مل کر سیر کا پروگرام بنایا۔ سمندر کے کنارے جانے کا پروگرام سیٹ ھوا۔ ھم دونوں مکررا وقت پر بس اڈاے پر پونچھے ۔ ادھر سے ھم دونوں کا سفر شروع ھوا۔ میں بھی اب وقت ہی پاس کر رہا تھا کیوں کہ پھدی تو جینی دے نہی رھا تھی۔ 2یا3 گھنٹے لگے ۔ ھم اپنی منزل پر پونچھ گے۔ ھوٹل میں روم اوکے کرویا اور گھو منے چلے گے ۔ سارا دن ھم مختلف جگہ پر گھو متے رھے اور رات کا کھانے کھا کر روم میں واپس آ گے۔ میرا تو کوئی پلان نہی تھا بس ادھر بھی پہلے کی طرح صرف اوپر اوپر سے کرنا ھو اور اپنا پانی نکال کر سو جاوں گا صرف یہ سوچا تھا۔ پر آج تو قسمت میں کچھ اور ہی لکھ تھا۔ میں پہلے کی طرح صرف اوپر سے ہی کر رھا تھا جینی کو مکمل کپڑوں سے آزاد کیا اور میں بھی فل ننگا تھا۔ میں لن کو اپنے ھاتھ سے پکڑ کر جینی کی چھوٹے چھوٹے لپس والی پھدی پر آرام سے رگڑ رھا تھا ۔ اور جینی کے بوبس کو چوس رھا تھا۔ آج جینی نے مکمل ویکس کر کی آ تھی ۔ جینی کے جسم پر ایک بھی بال نہی تھی ۔ جس طرح شادی پر دلہن اپنی پھدی کے بال صاف کر کے تیاری کر کے آتی ھیں اس طرح جینی بھی تیاری کر کے آ تھی۔ جینی کے بوبس سے بڑی پیاری خوشبو آ رھی تھی۔ کوئ اچھی سے پرفیوم تھی ۔ اور خوشبو ایسی تھی کے دل کر رھا تھا کے جینی کو کھا جانوں۔ کافی وقت اس پیار بھرے کاموں میں گزرگیا۔ جینی کا جسم اس طرح گرم ھو گیا تھا جسے اس کو بہت تیز بخار ھو پر یہ بخار نہی تھا۔ یہ جسم کی وہ آگ تھی جو کبھی ختم نہی ھو سکتی۔ اس اگ کو جتنا بھی بجھو یہ اور بھڑتی ھے۔ اور آج اتنی اگ لگی ھو تھی کہ مجھ نھی لگتا تھا کے پھدی مرنے کے بغیر یہ بجھ پاے گی۔ جینی بھی کافی گرم تھی ۔ اور بار بار لن کو پھدی کے اوپر رگڑرھی تھی۔ لیکن پھدی کہ اندر نھی کر رہی تھی۔ اس طرح کرتے ھوے بہت وقت گزر گیا۔ اور اب جینی سے برداشت نہی ھو رھا تھا۔ جینی نے مجھ نیچھ آنے کا بولا۔ اور میرا اوپر آ گی جینی سے اب کچھ بھی نہیں ھو رھا تھا بس لن کے اوپر اپنی پھدی کو رگڑ رھی تھی۔ اچانک جینی نے لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور آدھ لن۔ پھدی کے اندر لیا۔ اور کافی ذور سے سہ۔۔؟ کیا۔ اور اور اس کے بعد اگلی اپڈیٹ میں۔ جاری ھے۔👋💋💋💋
-
(پیار پیار میں)
اچانک جینی نے اپنا ھاتھ پھدی پر رکھ دیا اور اندر کرنے سے روک دیا۔ میں نے وجہ جاننا ضرورع سمجھا اور بولا کیا ھوا جینی اندر کیوں نہی کرنے دیا۔ جینی۔ بولی یہ پھدی تمھاری ھی ھے ۔پر ابھی رک جاو۔ کوئ اچھا موقع انے دو پھر لے لینا ۔ ابھی اوپر اوپر سے کر لو پلیز میں ابھی اندر لینے کے لیے تیار نھی ھوں۔ جینی نے پیارسے بولا دل تو تھا کہ آج ھی اس کنواری پھدی کو کھول کر پھدا بنا دوں ۔ پر میری عادات ھے کہ عورت کو رازی کر کے لو ۔ ذیادہ مزہ اتا ھے۔ میں نے لن پھدی سے تھوڑا دور کر لیا لیکن جینی بھی گرم تھی۔ کہتی لن کو پھدی کے اوپر رگڑرو اندر نا کرنا۔ اور اپنے آپ ہی لن پکڑ کر پھدی کے لپس پر رکھ دیا۔ پھدی کے لپس اتنے چھوٹے تھا لن کی ٹوپی رگڑنے سے لال ھو گی تھی تھوڑا وقت اس طرح کرنے کے بعد میں نے لن کو دونوں موموں کے درمیان رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا کیا کہ یہ کھیل بہت وقت سے چل رھا تھا اب میں فارغ ھونا چاہتا تھا اس لیے دونوں موموں کے سنڑ میں رگڑ کر فارغ کرنے کی کوشش کر رھا تھا۔ دو تین منٹ ایسے کرنے کہ بعد میری جان ہی نکل گی۔ مطلب میں فارغ ھو گیا۔ پھدی تو نھی ملی لیکن مزہ بہت آیا۔ اس کے بعد ھم دونوں نے شاور لیا ۔ شاور لیتے ھوے بھی بہت مستی کی اس کے بعد میں اپنے روم میں واپس آیا اور سو گیا۔
-
(پیار پیار میں)
جینی نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔ کچھ وقت تک کافی ذور سے کس کرنے کے بعد جینی مجھ سے الگ ھوئ۔ اور میرے لیے پانی لے کر آئی پانی پیاکچھ وقت گزرنے کے بعد جینی کو پھر سے پکڑ لیا۔ اس بار میرا حملہ کافی جان دار تھا ۔ چند ہی منٹ میں ھم دونوں کپڑوں کی قید سے آزاد تھے۔ جینی بہت پیاری تھی۔ اور جسم بھی کافی سکسی تھا۔ ایک بھی نشان نہی تھا شیشہ کی طرح صاف جسم تھا جینی کے مامے بھی کمال کے تھے بلکل مناسب سے ۔ میں نے ایک مامہ پکڑا اور منہ میں لے لیا۔ پانچ سے دس منٹ تک میں صرف مامہ میرے منہ میں تھا اور کوئی بات یاد نہی تھی۔ اس کے بعد جینی میرے اوپر آئی اور میرے جسم پر کس کرنے لگی ایک ھاتھ سے لن کو پکڑ لیا اور دوسرے ھاتھ سے مجھ اتنی ذور سے پکڑ رکھا تھا کہ ۔ میں کدھر بھاگ نا جانوں۔ کافی وقت ھم ایسے ہی ایک دوسرے میں مزہ کرتے رھے۔ اس کے بعد میں اوپر آیا اور ٹانگوں کو اوپرکر کے لن پھدی کے اوپر رکھ کر اندر کرنے لگ ہی تھا کہ ۔ جاری ھے۔
-
(پیار پیار میں)
سوری جینی کا سایزٔ تھا۔ ۳۴-۲۷-۳۲ 34-27-32 فگر تھا جینی کا۔ اور قد بھی ٹھیک تھا۔ میں نے جینی کا کس کیا ۔ اس کا فرسٹ ٹامٔ تھا اور کس کرنے سے ہی اس بات کا پتا چلا رھا تھا۔ ۔کچھ وقت جینی کے ساتھ گزرا کس کی جسم پر ھاتھ لگایا۔ اس سے آگے جینی نے جانے نہی دیا ۔ اس کے روم میٹ کے آنے کا وقت ھو گیا تھا۔ اس لیے ھم دونوں باتیں کرنے لگے۔ جینی اپنے بار باتنے لگی۔ اس کا کام تھا کے ایف سی پروایڑ تھی۔ کچھ وقت گزرا ھو گا اس کی روم میٹ آ گی۔ اور ساتھ میں کھانا بھی لے کر آئی تھی۔ اس کی دوست بھی پیاری تھی ۔ لیکن جینی سے کم ہی تھی ۔ اس کے بعد میں اجاذات لے کر اپنے روم کی طرف واپس چل پڑا۔ جینی سے فرسٹ ملاقات اچھی رہی ۔ پھدی نھی ملی لیکن امید تو تھی کے جلد ہی جینی میرے نیچے ھو گی۔ پھر کچھ دن کچھ بھی نھی ھوا توبا سے بات ھوتی تھی ۔ مجھ کو بہت مس کرتی تھی میں بھی اس کو بہت مس کرتا تھا پردیس میں رہنا کون سا آسان ھے اپنا اپ کو مارنا پڑتا ھے کچھ دن بعد پھر سے جینی کے روم جانے کا پلان بنا ۔ آج جاتے ہی میں نے جینی کو پکڑ لیا۔ جینی کوبیڈ پر گرا کر اس کو کس کرنا شروع کر دیا۔
-
(پیار پیار میں)
لڑکی کا نام جینی تھا ۔ تھوڑا سا اس کا تعارف کر دو ۔ قد5:8 اور سلم اور سمارٹ تھی۔ میرا جینی کی طرف دوستی کر کی وجہ اس کی جسم کی بناوٹ اور قد تھا۔ کیوں کہ یہ میرا آڈیل تھا۔ میں پورے وقت پر اس کہ روم کے باہر کھڑا تھا۔ بیل دی اور اس کے دو یا تین منٹ تک کسی نہ گیٹ نہی کھولا۔ میں جانے کا سوج ہی رھا تھا کہ جینی نے دروازہ کھولا۔ سوری فار وایٹ آئ ایم گڈنگ شاور سوری فار وایٹ۔ اب میں ساری باتیں اردو میں لکھتا ھوں جینی مجھ روم میں لے گی۔ میرے لیے پانی لے کر آئ اور ہم دونوں ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ کیا کام کرتے ھو کسی ملک سے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ وقت تک میں نے انتظار کیا۔ اس کے بعد جینی کا ھاتھ پکڑ لیا۔ جینی نے کچھ بھی نہی کہا بس ایک بات بولی ۔ میں نے آج تک کبھی سکس نہی کیا۔ میں کنواری ھوں جینی کی بات سن کر مجھ کچھ حیرنی ھوئ۔ لیکن میں نے کچھ ذیادہ شو نہی کروایا۔ بس اتنا بولا کوئی بات نہی کسی نا کسی دن تو سکس کرنا ہی ھیں نا جب دل ھو بتا دینا۔ جینی بولی میں تم سے پیار کرنے لگی ھوں اس لیے میراجسم سارا کا سارا تمھارا ھے جب دل ھو میرے ساتھ کر لینا۔ لیکن کچھ بھی ھو جاۓ میں شادی نہی کر سکتی ۔ میں نے بھی بولا ٹھیک ھے پھدی نا دو ابھی لیکن کچھ پیار تو کر دو۔ اس بات پر اس نے کہا ٹھیک ھے۔
-
(پیار پیار میں)
لڑکی سے ملنے کا پروگرام تو بن گیا لیکن میرا ایک دوست سے بات کر لی کے میں اس کام سے جا رہا ھوں کوئ مسلہ تو نہی ھو گا۔ فلپانی لڑکی کا سن کر وہ کچھ پریشان ھو گیا اور مجھ ادھر نا جانے کا بولا۔ وجہ بھی کوئی نہیں بتا رہا تھا۔ میرے کافی بار پوچھنے پر بولا ۔ تم کو ایک بات بولو گا لیکن تم نے اس بات پر یقین نہی کرنا ھے اس لیے تم بس ادھر نا جانا۔ میں نے بھی اب دل میں ارادہ کر لیا جو بھی ھو جاۓ ۔اب تو جانا ہی ھے۔ میرے دوست کا نام راشد تھا۔ راشد بولا۔ یار میں ادھر یہ باتیں کافی بار سن رکھا ھے کے فلپانی لڑکیاں انسانوں کا گوشت کھاتی ھیں۔ اس لیے تم کو جانے سے مانا کر رھا تھا راشد کی بات سن کر مجھ کچھ عجیب لگا لیکن میرا جانا کا ارادہ اور بھی پاکا ھو گیا۔ راشد کو میں نے گولی دی اور اس لڑکی سے ملنے اس کے روم میں چلا گیا۔ جاری ھے۔
-
(پیار پیار میں)
رات تو چلوجس طرح بھی گزری ۔ کیوں کہ مجھ انیلہ پربہت غصہ تھا۔ جلدی ہی مجھ اس بات کا اساس ھو گیا کہ عورت کو ھم سے بھاری ھے۔ میں کیا کیا سوج کر آیا تھا پر ادھر تو کچھ بھی ہاتھ نہی لگا۔ صبح میں اٹھ کر اپنے گھر چلا گیا۔ مجھ غصہ تھا اس کوئی بات نہی کی۔ کہانی کچھ شورٹ کرتا ھوں۔ کیوں کہ اس رات کہ بعد میری زندگی بدل گی۔ میں نے دل سے اب ارادہ . کر لیا تھا اب عورتوں سے دور ہی رہناھے اس میں کافی حد تک میں کامیاب بھی رھا۔ انیلہ کہ گھر میں پھر کبھی نہی گیا میرے غصہ کی وجہ سے ھاتھ آئ پھدی چلی گی۔ اس بات کے بعد دو تین سال تک کوئی پھدی نہی ملی توبا سے پیار جاری تھا لیکن صر ف پیار حوس نہی۔ میں نے میڑک تک ہی تعلیم حاصل کی اس کے بعد میں دوست کے ساتھ ملک سے باہر چلا گیا۔ ادھر بھی سیٹ ھونے میں کچھ وقت لگ گیا مسقط آنے کے دو سال بعد ایک بار ایک فلپانی لڑکی ملی۔ سٹور میں ملاقات ھوئ اور اس سے تھوڑی سے بات ھو گی۔ دوستی ھو گی اور ملنے کا وقت بھی سب منٹوں میں ھو گیا۔ میرا ارادہ تو کویئ نہی تھا لیکن وہ پیاری ہی بہت تھی اس لیے دل مچل گیا۔ اور میں اس سے ملنے اس کے روم میں چلا گیا۔ جاری ھے ۔ پلیز اپنی راۓ بھی دیا کرو۔
-
(پیار پیار میں)
غصہ کی وجہ سے سو بھی نہی پا رہا تھا ۔ لیکن ایک بار میں ہی سب ارمان مٹی میں ملا دیے۔ کچھ وقت ایسے ہی پڑا رھا۔ پھر میں اٹھ کر انیلہ کے پاس آ گیا۔ اس کے بعد میں نے انیلہ کو اٹھایا۔ اس سے بات کی کہ کیاوجہ ھے۔ مجھ اپنے پاس کیوں نہی آنے دیتی۔ مجھ وجہ بول دو ۔ اور کچھ بھی نہی چھاۓ۔ انیلہ بولی۔ دیکھو تم بہت اچھے لڑکے ھو اور تم مزہ بھی بہت دیتے ھو ۔ لیکن میری کچھ مجبوری ھے ۔ میں بھی تم کو بہت پسند کرتی ھوں۔ بس کچھ بات ایسی ھے۔ ابھی سو جاو۔ وقت انے پر سب کچھ ھو گا ابھی نہی۔ جاری ھے
-
(پیار پیار میں)
رات کو جب میں انیلہ کے گھر سونے کے لیے گیا۔ دل کر رھا تھا کہ آج کی رات کچھ ایسا کرنا ھے کہ انیلہ میری لن کی غلام بن جاۓ۔ لیکن یہ اتناایزی نہیں تھا۔ پھر بھی امید تو تھی۔ کچھ وقت تو صرف ھم دونوں کے درمیان باتوں کے علاوہ کچھ نہی ھوا۔ مجھ میں بھی اتنی ہمت نہی تھی۔ جب انیلہ نے لایٹا اوف کروا دی۔ اس کہ بعد مجھے کچھ امید تو تھی۔ لیکن آ ج بھی انیلہ کوئ لفٹ نہی کروا رہی تھی۔ کچھ وقت تو میں نے انتظار کیا۔ اس کہ بعد میں اٹھا اور انیلہ کہ پاس چلا گیا۔ انیلہ سونے کی تیاری کر رہی تھی۔ مجھ دیکھ کر بولی پلیز مجھ کچھ مت کہنا۔ میری کچھ مجبوری ھے اس لیے ۔ میں کچھ بھی کر نہی سکتی۔ مجھ آج غصہ تو آیا لیکن میں نے کوئ بات نہی کی اور میں اپنی چارپائ پر جا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔اور آخر مجھ سوناہی پڑا۔
-
(پیار پیار میں)
جب تک آپ ساتھ والے کو نہیں سمجھو گے۔ سکس کا مزہ نہیں اتا۔ انیلہ سب کے سامنے بہت ہی اہتیات کرتی تھی انیلہ نے ایف۔اے کیا ھوا تھا۔ پھدی کے ساتھ ساتھ مجھ پڑھائی میں بھی کافی سہولت ھو گی۔ ایک بار کرنے کے بعد ایک ماہ تک مجھ اپنے قریب نہی آنے دیا۔ وجہ کوئی بھی نہیں تھی۔ بس انیلہ کی مرضی نہی تھی۔ ایک دن میں سبق یاد کر رہا تھا۔ انیلہ کاشوھر گھر آیا۔ کیوں کہ میں روز ہی آتا تھا اس لیے میراعلم تھا ان کہ میں گھر ٹیوشن کہ لیا آتا ھوں۔ مختصر یہ کہ ان کی کسی رشتہ دار کے ھاں فوتگی ھو گی تھی ۔ وہ ادھر جا رہے تھے۔ مجھ انیلہ نے اپنے شوھر کے سامنے بولا۔ بھائ۔ آپ آج کی رات ادھر رک جانے میرے شوھر کس دوسرے شہر جا رہے ھیں۔
-
(پیار پیار میں)
فارغ ھونے کے بعد کچھ وقت تو مجھ کو حوش ہی نا رہی میں کچھ دیر کے لیے سو ہی گیا تھا۔ اس کہ بعد مجھ انیلہ نے اٹھایا کہ اب تم اپنے گھر جاؤ۔ میں بھی جلدی سے اٹھا اور فریش ھو کر جانے کو تیار ھو گیا۔ جانے سے پہلے انیلہ سے بات کی۔ جی مزہ آیا کہ نہی۔ انیلہ۔۔۔جی بہت مزہ آیا مجھ اتنی ذیادہ کی توقو نہی تھی۔ پھر بھی بہت مزہ آیا۔ ایک بات یاد رکھنا ۔ میں نے اپنا جسم تم کو دیا مجھ غلط نا سمجھنامیں کوئی بھی ایسی لڑکی نہی ھوں اور میرے شوہر کے بعد تم دوسرے مرد ھو۔ بس اس دن ھم ایک دوسرے کے قریب آ گے۔ ھے تو غلط لیکن تم مجھ اچھے لگے ھو اس لیے میں نے یہ سب کر لیا۔ اب میری عزت کو کبھی بھی کسی کے سامنے نا کھولنا۔ اور جب دل کر میرے گھر آ جانا ۔ یہ ایسا کرو تم ڈویشن کا کہوں گھر پر اور اس طرح تم روز میرے گھر آ سکوں گے۔ اس طرح کی کچھ اور باتوں کرنے کے بعد میں اپنے گھر آ گیا۔ گھر پر بات کی اور مجھ اجازات بھی مل گی۔ اب میں ھر روز انیلہ کہ گھر جاتا۔ مستی تو روز کرتے تھے لیکن پھدی نہی مل رہی تھی۔ انیلہ نے یہ بات پہلے ہی کلیر کر دی تھی کہ ھر روز نہی کبھی کبھی کیا کرنے گے۔ مجھ اچھا تو نہی لگا لیکن بات مانے لی۔
-
(پیار پیار میں)
اچانک انیلہ میرے اوپر آئی اور میرے پیٹ پر بیٹھ گی۔ کچھ وقت تو انیلہ اوپر بیٹھی رہی اور اپنی پھدی کو میرے پیٹ پر رگڑتی رہی۔ اس کے بعد انیلہ نے لن کو ھاتھ سے پکڑ کر چیک کیا۔ کیوں کہ میری ابھی اتنی عمر نہی تھی اس لیے لن کا سایز نرمل ہی تھا۔ ۵ انچ تو ھو گا ۔ انیلہ کو شاید لن اچھا نہیں لگا کیوں کہ انیلہ کا کچھ چہرہ اتر گیا تھا ۔ لکن پھر اس نے کچھ بھی ایسا شو نہیں کروایا۔ لن پر تھوک لگا کر لن کے اوپر اپنی پھدی رگڑنی شروع کر دی۔ پھدی کے اوپر ہلکے ہلکے بال تھے ۔ جو کہ لن کی ٹوپی پر چوب رہے تھے۔ لیکن سواد بھی بہت آ رھا تھا۔ انیلہ بولی اب سکون ھے۔ یا کچھ اور بھی مزہ کرنا ھے۔ جی آج تو فل مزہ کرنا ھے۔ پھدی بھی لینی ھے اور تمھارے ممے بھی چوسنے ھیں۔ میری بات سن کر انیلہ مسکرا دی۔ اچھا جی پھدی لے لو گے؟ مجھ تو لگتا ھے کہ تم پھدی کے اوپر رکھتے ہی فارغ ھو جاو گے۔ انیلہ کی بات سے مجھ بھی اچھا تو نہیں لگی ۔ میں نے اس کا جواب کچھ ایسا دیا کہ پھدی پر جو لن رکھا کر مجھ تنگ کر رہی تھی۔۔ ایک ہی جھٹکے میں سارا لن پھدی کے اندر کر دیا۔ انیلہ بھی اس حملے کہ لیے تیار نہیں تھی۔ اس کی کافی ذور سے ایک اہ ہ ہ۔ نکلی ۔اور میرے لن اوپر ہی بیٹھ گی۔ اب مجھ فل جوش چڑا ھوا تھا۔ کیوں کہ انیلہ نے بات غلط کی تھی۔ اب وہ مجھ ھلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔ کچھ وقت تو تڑپتی رہی اس کے بعد جب لن اور پھدی نے ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کر لیا۔ انیلہ لن کے اوپر نیچے ھونا شروع کر دیا۔پہلے آہستہ سے پھر کچھ ٹائم کے بعد فل سپیڈ سے شروع ھو گی۔ کافی وقت اس پوزیشن میں کرنے کہ بعد انیلہ کا پانی نکل گیا۔ اور ساتھ لیٹ کر اپنی سانس درست کرنے لگی۔ انیلہ تو فارغ ھو گی تھی۔ لیکن میں ابھی تک فارغ نہیں ھوا تھا۔ میں بھی انیلہ کے اوپر چڑھا گیا۔ ابھی لن پھدی پر رکھا ہی تھا کہ انیلہ نے پھدی پرھاتھ رکھا دیا۔ اور بولی مجھ تھوڑا سا گرم تو کر لو بس پھدی وچ لن پین دی جلدی اے۔ میں نے ایک طرف کا مما منہ میں لیا۔ چوسنا شروع کر دیا۔ سایز ۳۴کے ممے کافی نرم تھے۔ کافی وقت انیلہ کو گرم کرنے میں لگا۔ انیلہ کی پھدی کافی صاف تھی۔ گوری چٹی ۔ بال تھے لیکن پھر بھی کافی پیاری تھی۔ جب گرمی چڑ ھی گی۔ تو انیلہ نے اوپر انے کا اشارہ کیا۔ میں بھی اس انتظار میں تھا۔ پھدی پر اور لن پر تھوک لگا کر اندر کر دیا ۔ اور ارام سے جھٹکے لگنے شروع کر دیے۔ میری بھی بس ھو چکی تھی ۔ لن بھی اب کسی بھی وقت ہار مان سکتا تھا ۔ اس لیے میں نے بھی فل ذور لگاناشروع کر دیا اور پھدی کے اندر ہی فارغ ھو گیا۔
Najamg
Darmat Members
-
Joined
-
Last visited